حضرت امام صادق علیہ السلام پیغمبر اکرم(ص) سے روایت فرماتے ہیں کہ خدا نے فرمایا ہے:
''مَنْ أَهٰانِ لِی وَلِیّاً فَقَدْ أَرْصَدَ لِمُحٰارَبَتِْ،وَمٰا تَقَرَّبَ اِلََّ عَبْد بِشَْئٍ أَحَبَّ اِلََّ مِمّٰا افْتَرَضَتْ عَلَیْهِ ،وَاِنَّهُ لَیَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنّٰافِلَةِ حَتّٰی اُحِبَّهُ فَاِذٰا أَحْبَبْتُهُ ،کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِیْ یَسْمَعْ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِهِ وَ لِسٰانَهُ الَّذِیْ یَنْطِقُ بِهِ وَ یَدَهُ الَّتِ یَبْطُشُ بِهٰا،اِنْ دَعٰانِْ أَجَبْتُهُ وَ اِنْ سَأَلْتَنِْ أَعْطَیْتُهُ'' (1)
کوئی بھی بندہ مجھ سے اس چیز کے ذریعے مقرب نہیں ہو سکتا جو میرے نزدیک ان واجبات سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر واجب کی ہیں اور وہ نوافل کے ذریعے میرا مقرب ہوتاہے تا کہ وہ میرا محبوب بن جائے اور جب میں اسے دوست رکھتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کی زبان جاتا ہوں جس سے وہ بولتاہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ اعمال قدرت کرتا ہے۔اگر وہ مجھے پکارے تو میں اس کا جواب دوں گا اور اگر مجھ سے کسی چیز کی درخواست کرے تو اسے وہ عطاکروں گا۔
اس حدیث میں ذکر ہونے والے تمام امور خدا کے تقرّب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔اس بناء پر آسمانی آوازوں کو سننا ، ملکوتی چہروں کو دیکھنا، اسرا رو رموز الٰہی کو جاننا،مشکل امور کودست قدرت حق سے انجام دینا، دعاؤں کا مستجاب ہونا، یہ سب ایسی عنایات ہیں جو بارگاہ خدا اور اہلبیت اطہار علیھم السلام کے مقرّب افراد اور ان لوگوں کے شامل حال ہوتی ہیں جن سے خدا واہلبیت علیھم السلام محبت کرتے ہوں۔
--------------
[1]۔ بحار الانوار:ج75ص155، اصول کافی:3522