اہل سنت حضرات جن اہم باتوں کے متعلق شیعوں پر تنقید کرتے یں ان میں سے ایک نماز جمعہ کو اہمیت نہ دینا ہے، البتہ بعض افراط سے کام لیتے ہوئے نماز جمعہ کو اہمیت نہ دینے پر شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں اور اس کی دلیل میں رسول خدا(ص) کی حدیث نقل کرتے ہیں: آںحضرت(ص) نے فرمایا:
جو بھی تین ہفتہ نماز جمعہ میں شرکت نہ کرے وہ اسلام سے بیزار ہے۔
یا یہ کہ : حضرت سے سوال کیا گیا جو نماز کو ترک کرتا ہے اس کا انجام کیا ہوگا؟ آںحضرت(ص) نے فرمایا: وہ دوزخ میں ہے۔(الموطا، ج ۱، ص۱۱۱)
لیکن شیعوں کے درمیان اختلاف ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) کی غیبت کے زمانے میں نماز جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ فقہاء دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں، ایک گروہ ہر زمانے میں نماز جمعہ کے وجوب کا قائل ہے تو دوسرا معتقد ہےکہ نماز جمعہ صرف اس صورت واجب ہے جب اس کے شرائط فراہم ہوں اور ان شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ عادل حاکم نماز جمعہ برقرار کرے۔
یہاں پر یہ کہنا ضروری ہوگا کہ جناب خالصی حرم امام موسی کاظم(ع) (کاظمین بغداد) میں نماز جمعہ پڑھاتے تھے۔ اور مجھے شیعہ ہونے کے پہلے سے ہی اچھے لگتے تھے چنانچہ میں کبھی کبھی نجف یا کربلا سے نماز جمعہ میں شرکت کی غرض سے بغداد جاتا تھا اور جناب خالصی کی شجاعت پر تعجب کرتا تھا کہ آپ نماز جمعہ کو واجب نہ جاننے والوں کی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے اور نہایت ہی اچھے ڈھنگ سے نماز ادا کرتے تھے اور وہ زمانہ 1968ء کا تھا میں دیکھتا تھا