7%

پیغمبر(ص) تبرک اور احترام کو جائز سمجھتے ہیں!

بعض منکرین کا یہ کہنا کہ متبرک چیزوں سے برکت حاصل کرنا بدعت ہے اور اس کے موجد بعض اصحاب یا تابعین ہیں۔ اس مقولہ کا فریب نہ کھانا چاہئے۔ اس لیے کہ یا تو وہ حقائق سے نا بلد ہیں یا پھر نئے مذہب وہابیت کی وجہ سے تعصب کرتے ہیں۔

مذہب وہابیت خود بدعت سے اور کیا ہی بڑی بدعت ہے! یہ کیسا مذہب ہے جو ایک جھوٹے اور باطل شبہ کی بنیاد پر مسلمانوں پر شرک کی تہمت لگاتا ہے؟

رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب کو متعدد مقامات پر برکت حاصل کرنے کو جائز قرار دیا ہے اور اس کی موافقت فرمائی ہے بلکہ اسے تو مستحب جانا ہے۔ لہذا صحابہ آںحضرت(ص) کے بعد ان کی چیزوں سے تبرک حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے۔

بخاری نے اپنی صحیح میں آدم سے نقل کیا ہے کہ شعبہ نے کہا کہ حکم نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے سنا ابو جحیفہ نے کہا:

ایک گرم دن میں  ظہر کے وقت رسول خدا(ص) ہمارے پاس تشریف لائے، پانی لایا گیا کہ حضرت(ص) وضو فرمائیں، آںحضرت(ص) نے وضو کیا، آںحضرت(ص) کے وضو کرنے کے بعد بہت سے لوگوں نے اس پانی کو لیا اور اپنے سر اور چہرے پر ملا۔

پیغمبر(ص) نے ظہر کی نماز دو رکعت اور عصر کی نماز دو رکعت پڑھی جب کہ آںحضرت(ص) کے سامنے عصا رکھا ہوا تھا، ابوموسی کہتے ہیں: پیغمبر(ص) نے