اواخر کے چند برسوں میں خصوصا ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کےبعد شیعوں کے متعلق کافی بحث چھڑ گئی ہے اور اس وقت مغربی پروپیگنڈہ اور عالمی ذرائع ابلاغ نے خصوصا ایرانی شیعوں کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے، ان کو کبھی خدا نے دیوانے اور کبھی قاتل و دہشت گرد کہتے ہیں اور یہی صفات لبنانی شیعوں کے لیے بھی بیان کرتے ہیں اس لیے کہ انھوں نے بیروت میں امریکی اور غربی منابع پر حملہ کر کے اسے ختم کر ڈالا تھا۔ اسی طرح ان صفات سے دنیا کےتمام شیعوں کو نواز دیا گیا اور اسے سے بھی بالاتر دنیا میں جتنی اسلامی تحریکیں تھیں انھیں بھی یہ القاب دیدیئے گئے، گرچہ ان میں اکثریت سنیوں کی ہے اور شیعوں سے ان کا کوئی ربط نہیں ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ اوع اسلام دشمنوں کے ان جھوٹے خیالی پروپگنڈوں کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لیے کہ ممکن ہے ہر دشمن، دوست بن جائے لیکن زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب بعض مسلمان شیعوں کے متعلق اس طرح کی بات کرتے ہیں اور بلا دلیل و برہان ، بغیر کسی تحقیق و جستجو کےدوسروں کی کہی ہوئی باتیں دہراتے ہیں۔
اگر چہ ہم نے اپنی کتاب ( الشیعہ ہم اہل السنہ) ( شیعہ ہی اہل سنت ہیں) میں شیعوں کی حقیقی تعریف پیش کی ہے۔ لیکن یہاں بھی شیعوں کے متعلق خدا اور رسول(ص) کے ارشادات کا ایک گوشہ پیش کررہے ہیں۔ پھر ہم موافق و مخالف علماء اور دانشوروں کی باتوں کو سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہوں گے۔