آپ(ص) کی تکذیب کرے اسکا خون حلال ہے پیغمبر(ص) نے فرمایا اےعلی(ع) جان لو کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا تیرا فیصلہ حکم خدا کے مطابق ہے لیکن دوبارہ ایسا مت کرنا۔
۳ـ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ کس کی گوہی وول کی جائے ور کس کی گوہی قول نہکی جائے ، امام(ع) نے فرمایا اے علقمہ جو شخص فطرت اسلام پر ہو اس کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے علقمہ کہتے ہیں میں نے پوچھا کیا گناہ گار کی گواہی بھی قابل قبول ہے تو فرمایا اگر قبول نہیں کرو گے تو پھر صرف انبیاء(ع) اور اوصیا(ع) ہی گواہی دیں گے جو کہ معصوم ہیں اور جب تک گناہ گار کے گناہ کو آنکھوں سے خود نہ دیکھو لو یا دو ایسے آدمی جوکہ اہل عدالت اور آبرومدن ہوں گواہی نہ دیں یقین مت کرو ور وہ شخص جسکا گناہ چھپا ہوا ہے( یعنی اس کے گناہ کے گواہ نہیں) کے گناہ کی غیبت جو کوئی بھی کرے گناہ گار ہے اور خدا سے کٹ گیا ہےاور شیطان سے پیوستہ ہے میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت کیا اور مجھ سے بیان کیا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی کسی مومن کی غیبت کرے گا تو خدا ان دونوں کو بہشت میں اکھٹا نہیں کرے گا اور جو کوئی کسی ایسی برائی کو کسی مومن کی طرف منسوب کرے جو اس میں نہ ہو تو ان دونوں کے درمیان سے عصمت قطع ہوجائے گی یہ غیبت کرنے والا ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور یہ کیا برا انجام ہے، علقمہ نےکہا اے فرزند رسول(ص) لوگ ہمیں بڑے گناہوں سے منسوب کرتے ہیں ہمارے دل ان سے تنگ ہیں، فرمایا اے علقمہ لوگوں کی پسند کو اپنی کمزوری سمجھ اور اپنی زبان کو کمزوری کی وجہ سے ضبط کر تم کس طرح بچ سکتے ہو اس چیز سے کہ جس سے پیغمبران خدا نہ بچ سکے اور نہ اس کے رسول اور نہ اس کی حجتیں کیا یوسف(ع) کو زنا سے متہم نہیں کیا گیا، اور کیا ایوب(ع) کو مصیبت میں مبتلا ہونے پر گناہ سے متہم نہیں کیا گیا، داؤد(ع) کو متہم نہ کیا گیا کہ ایک پرندے کے پیچھے گئے یہاں تک کہ اوریا کی بیوی کو دیکھا اور اس کے عاشق ہوگئے اور اس کے شوہر کو تابوت کے آگے بھیجا یہاں تک کہ قتل ہوگئے اور اس کی بیوی سے شادی کرلی کیا موسی(ع) کو متہم نہ کیا کہ عنین (نامرد) ہے اور ان کو آزار دیا مگر خدا نے انکو ان تمام سے بری کیا یہ تمام پیغمبر