3%

 ہیں تو مسکراتے ہیں قہقہ بلند نہیں کرتے جو کچھ مقدر میں ہے اس پر راضی ہوتے ہیں غصہ آئے تو سر ںہیں اٹھاتے، ہوائے نفس ان پر غلبہ نہیں پاتے بخل ان پر غالب نہیں آتا، جس سے وابسطہ نہیں ہے اس کی طمع نہیں کرتے ، لوگوں سے کچھ جاننے کے لیے ملتے ہیں، خاموش رہتے ہیں تاکہ سلامت رہیں پوچھتے ہیں تاکہ سمجھیں۔ عمل کرتے ہیں تاکہ خیرلیں اگر کوئی کہے کہ اسے فلان  ضرورت ہے ( یعنی خواہش نفسانی کا اظہار کرے) تو توجہ نہیں کرتے جابروں سے بات نہیں کرتے  اگر ان کے ہاتھوں پر زیادتی کی جائے تو صبر کرتے ہیں یہاں تک کہ خدا ہی اس کا انتقام لے ان کا نفس ان کے ہاتھوں مشقت میں ہے اور لوگ اس سے راحت میں ہیں اس نے اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اپنے نفس کو تکلیف میں جبکہ لوگوں نے آرام میں رکھا ہوا ہے اگر کسی سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ تو زہد وپاکیزگی کی وجہ سے اور جن سے قریب ہوتے ہں تو نزم مزاجی اور نرم دلی کی وجہ سے ان کی کسی سے دوری غرور یا تکبر کی وجہ سے نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا قریب ہونا کسی مکر و فریب کی وجہ سے ہے بلکہ یہ اپنے سے پہلے والے اہل خیر کی اقتدار کرتے ہیں یہ آنے والوں کے لیے نیکو کاری میں رہبر ہیں۔

جناب امیر(ع) نے یہاں تک فرمایا تو یہ سن کر ھمام(رح) نے چیخ بلند کی اور وفات پاگئے امیرالمومنین(ع) نے فرمایا میں اسی خوف سے تردد کر رہا تھا پھر آپ(ع) نے حکم دیا کہ ھمام(رح) کی تجہیز و تکفین کریں اور  نماز جنازہ ادا کریں۔ جناب امیر(ع) نے ارشاد فرمایا کہ نصیحتیں اپنے اہل پر ایسا ہی اثر کرتی ہیں، ایک شخص نے یہ سن کر کہا کہ آپ(ع) پر خود ایسا اثر کیوں نہیں ہوتا آپ(ع) نے فرمایا، وائے ہو تم پر موت کا ایک دن معین ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس کا ایک سبب ہوتا ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتا یہ بات جو تمہاری زبان پر شیطان نے جاری کی ہے دوبارہ مت دہرانا۔

غدیر خم میں آںحضرت(ص) کا فرمان

۳ـ          ابو سعید خدری(رح) کہتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے غدیر کے روز منادی کو حکم دیا کہ وہ با جماعت نماز کے لیے ندا دے جب لوگ اکھٹے ہوگئے تو آںحضرت(ص) نے جناب امیر(ع) کا ہاتھ تھاما