نتیجہ یہ ہوا کہ صحیح بخاری اور مسلم میں اس حدیث کا کوئی وجود نہیں ہے تاکہ ان دونوں میں مذکور ’’ حدیث منزلت‘‘ سے تعارض کر سکے اور جن کتابوں میں اس کا وجود ہے ان کے محققین نے اس کے ضعیف ہونے کی تصریح کر دی ہے۔
شاید ابن تیمیہ نے یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ کوئی محقق اس کی کتاب کو پڑھ کر صحیح بخاری اور مسلم کے ساتھ اس کا مقائسہ کرے گاپھر اس کی دھوکہ دہی اور جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دے گا۔
ابن تیمیہ نے اپنی اس عبارت میں حضرت امیر المؤمنین(ع) کی ذات گرامی پر جو طعنہ زنی کی ہے اور جو ناروا باتیں آپ(ع) کے حق میں روا رکھی ہیں، ہم ان کے بارے میں کچھ کہے بغیر اس کے جواب کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ بہترین حاکم اور فیصلہ کرنے والا ہے۔
اعور واسطی کا نظریہ
ابن تیمیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اعور واسطی نے بھی شیعوں کی ردّ میں بہت ساری باتیں لکھی ہیں۔ یہ اہل سنت کے ہاں ، یوسف اعور واسطی کے نام سے مشہور ہے۔ شیعوں کی ردّ میں لکھے گئے ایک رسالے میں یہ پلید ناصبی لکھتا ہے: اگر مان لیا جائے کہ حدیث منزلت سے مقام خلافت ثابت ہوتا ہے تو اس میں فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا؛ کیونکہ ہارون(ع) کی خلافت کے دوران فتنہ و فساد اور مؤمنین کے مرتد ہونے کے سوا کچھ نہیں تھا، اس زمانے میں بنی اسرائیل گوسالہ پرست ہوگئے ۔ اسی طرح علی(ع) کی خلافت کے دوران فتنہ و فساد اور جمل و صفین میں مسلمانوںکے قتل کے سوا کچھ اور پیش نہ آیا۔ [!]
کیا اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہارون(ع) کی خلافت کے دوران بنی اسرائیل کا گوسالہ پرستی کرنا ، ہارون کی خلافت و جانشینی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ؟