امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی مختصر حالات زندگی

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

حسن بن علی بن ابی طالب (3-50ھ) امام حسن مجتبیؑ کے نام سے مشہور شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ کی مدت امامت دس سال (40-50ھ) پر محیط ہے۔ آپ تقریبا 7 مہینے تک منصب خلافت پر فائز رہے۔ اہل سنت آپ کو خلفائے راشدین میں آخری خلیفہ مانتے ہیں۔

آپ حضرت علیؑ و حضرت زہراؑ کے پہلے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔ تاریخی شواہد کی بنا پر پیغمبر اکرمؐ نے آپ کا اسم گرامی حسن رکھا اور حضورؐ آپ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے 7 سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔

شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل و مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کسا میں سے تھے جن کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے جس کی بنا پر شیعہ ان ہستیوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔ آیہ اطعام، آیہ مودت اور آیہ مباہلہ بھی انہی ہستیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دقعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں عطا کیا۔ اسی بخشش و سخاوت کی وجہ سے آپ کو "کریم اہل بیت" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 بار پیدل حج کیا۔

خلیفہ اول اور دوم کے زمانے میں آپ کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص بات تاریخ میں ثبت نہیں ہوئی ہے۔ خلیفہ دوم کی طرف سے خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں آپ بطور گواہ حاضر تھے۔ خلیفہ سوم کے دور میں ہونے والی بعض جنگوں میں آپ کی شرکت کے حوالے سے تاریخ میں بعض شواہد ملتے ہیں۔ حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کی بغاوت کے دوران امام علیؑ کے حکم سے آپ ان کے گھر کی حفاظت پر مأمور ہوئے۔ امام علیؑ کی خلافت کے دروان آپ اپنے والد کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اور جنگ جمل و جنگ صفین میں اسلامی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے۔

21 رمضان 40ھ میں امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔ معاویہ نے آپ کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور شام سے لشکر لے کر عراق کی طرف روانہ ہوا۔ امام حسنؑ نے عبید اللہ بن عباس کی سربراہی میں ایک لشکر معاویہ کی طرف بھیجا اور آپؑ خود ایک گروہ کے ساتھ ساباط کی طرف روانہ ہوئے۔ معاویہ نے امام حسن کے سپاہیوں کے درمیان مختلف افواہیں پھیلا کر صلح کیلئے میدان ہموار کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ ایک خارجی کے حملہ کے نتیجے میں آپؑ زخمی ہوئے اور علاج کیلئے آپ کو مدائن لے جایا گیا۔ اسی دوران کوفہ کے بعض سرکردگان نے معاویہ کو خط لکھا جس میں امامؑ کو گرفتار کر کے معاویہ کے حوالے کرنے یا آپ کو شہید کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ معاویہ نے کوفہ والوں کے خطوط امامؑ کو بھیج دیئے اور آپ سے صلح کرنے کی پیشکش کی۔ امام حسنؑ نے وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے اور خلافت کو معاویہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ معاویہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوگا، اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے گا اور تمام لوگوں خاص کر شیعیان علیؑ کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا۔ لیکن بعد میں معاویہ نے مذکورہ شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ معاویہ کے ساتھ ہونے والی صلح کی وجہ سے بعض شیعہ آپ سے ناراض ہوگئے یہاں تک کہ بعض نے آپ کو "مذلّ المؤمنین" (مؤمنین کو ذلیل کرنے والے) کا خطاب دیا۔

صلح کے بعد آپ سنہ 41ھ میں مدینہ واپس آ گئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہاں مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی و اجتماعی طور پر بلند مقام و منزلت کے حامل تھے۔

معاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کی بعنوان ولی عہد بیعت لینے کا ارادہ کیا تو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ کیلئے سو دینار بھیجے تاکہ وہ امام کو زہر دے کر شہید کرے۔ کہتے ہیں کہ آپؑ زہر سے مسموم ہونے کے 40 دن بعد شہید ہوئے۔ ایک قول کی بنا پر آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفن ہونے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگوں نے اس کام سے منع کیا، یوں آپ کو بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

آپؑ کی احادیث اور مکتوبات کا مجموعہ نیز آپ کے 138 راویوں کے اسماء مسند الامام المجتبیؑ نامی کتاب میں جمع کئے گئے ہیں۔

مختصر تعارف
حسن بن علی بن ابی‌ طالب امام علیؑ و حضرت فاطمہؑ کے بڑے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔[1] آپ کا نسب بنی ‌ہاشم اور قریش تک منتہی ہوتا ہے۔[2]

نام، کنیت اور القاب
"حَسَن" عربی زبان میں نیک اور اچھائی کے معنی میں ہے اور یہ نام پیغمبر اکرمؐ نے آپ کیلئے انتخاب کیا تھا۔[3] بعض احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے یہ نام خدا کے حکم سے رکھا تھا۔[4] حسن اور حسین عبرانی زبان کے لفظ "شَبَّر" اور "شَبیر"(یا شَبّیر)،[5] کے ہم معنی ہیں جو حضرت ہارون کے بیٹوں کے نام ہیں۔[6] اسلام حتی عربی میں اس سے پہلے ان الفاظ کے ذریعے کسی کا نام نہیں رکھا گیا تھا۔[7]

آپؑ کی کنیت "ابو محمد" اور "ابو القاسم" ہے۔[8] آپ کے القاب میں مجتبی (برگزیدہ)، سَیّد (سردار) اور زَکیّ (پاکیزہ) مشہور ہیں۔[9] آپ کے بعض القاب امام حسینؑ کے ساتھ مشترک ہیں جن میں "سیّد شباب اہل الجنۃ"، "ریحانۃ نبیّ اللہ"[10] اور "سبط" ہیں۔[11] پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے: "حسن" اسباط میں سے ایک ہیں"۔[12] آیات و روایات کی رو سے "سبط" اس امام اور نَقیب کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کی نسل اور خدا کی طرف سے منتخب ہو۔[13]

امامت
حسنؑ بن علیؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ 21 رمضان سنہ 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد امام بنے اور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔[14] شیخ کلینی (متوفی 329 ھ) نے اپنی کتاب کافی میں امام حسنؑ کے منصب امامت پر نصب کئے جانے سے مربوط احادیث کو جمع کیا ہے۔[15] ان روایات میں سے ایک کے مطابق امام علیؑ نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی اولاد اور شیعہ شخصیات کے سامنے اس کتاب اور تلوار کو اپنے فرزند امام حسنؑ کو عطا فرمایا جو امامت کی نشانی سمجھی جاتی تھی اور اس کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اپنے بعد آپ کے فرزند حسن بن علیؑ کو اپنا جانیشن اور وصی مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔[16] ایک اور حدیث کے مطابق امام علیؑ نے کوفہ تشریف لے جانے سے پہلے امامت کی مذکورہ نشانیوں کو ام سلمہ کے حوالے فرمایا جسے امام حسنؑ نے کوفہ سے واپسی پر ام سلمہ سے اپنی تحویل میں لیا تھا۔[17] شیخ مفید (متوفی 413 ھ) نے کتاب ارشاد میں تحریر کیا ہے کہ حسن بن علیؑ اولاد و اصحاب کے درمیان اپنے والد کے جانشین و وصی ہیں۔[18] اسی طرح آپؑ کی امامت پر رسول خدا سے نقل ہونے والی بعض احادیث بھی صراحتا دلالت کرتی ہیں: اِبنای ہذانِ امامان قاما او قَعَدا (ترجمہ: میرے یہ دونوں بیٹے (حسنؑ اور حسینؑ) تمہارے امام ہیں چاہے یہ قیام کریں یا صلح۔)»[19] اسی طرح حدیث ائمہ اثنا عشر[20] سے بھی آپ کی امامت پر استدلال کیا جاتا ہے۔[21] امام حسنؑ اپنی امامت کے ابتدائی مہینوں میں جس وقت آپ کوفہ میں تشریف رکھتے تھے، منصب خلافت پر بھی فائز تھے لیکن بعد میں معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد خلافت سے دستبردار ہوئے اور خلافت سے کنارہ کشی کے بعد اپنی زندگی کے آخری ایام تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔

انگوٹھی کا نقش
امام حسن مجتبیؑ کی انگوٹھی کے دو نقش منقول ہیں: الْعِزَّۃُ لِلَّہِ؛[22] اور حَسْبِی اللَّہُ۔[23]

بچپن اور جوانی کا زمانہ
مشہور قول کی بنا پر آپ کی تاریخ ولادت 15 رمضان سنہ 3 ہجری ہے۔[24] لیکن بعض منابع میں آپ کی تاریخ ولادت سنہ 2 ہجری بھی لکھا گیا ہے۔[25] آپ مدینہ میں پیدا ہوئے۔[26]، پیغمبر اکرمؐ نے آپ کے کان میں اذان دی [27] اور ولادت کے ساتویں روز ایک گوسفند ذبح کر کے آپ کا عقیقہ کیا۔[28]

بعض منابع کے مطابق امام علیؑ نے پیغمبر اکرمؐ کے توسط سے آپ کا نام "حسن" رکھنے سے پہلے اپنے بیٹے کا نام حمزہ[29] یا حرب[30] رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جب رسول خدا نے امام علی سے سوال کیا کہ اپنے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے تو آپ نے فرمایا میں اس کام میں خدا اور اس کے رسول پر پہل نہیں کرونگا۔[31]

بچپن اور نوجوانی
آپ کے بچپن اور نوجوانی کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات میسر نہیں۔[32] آپ نے صرف آٹھ سال سے بھی کم عرصہ اپنے نانا رسول خداؐ کی زندگی کو درک کیا[نوٹ 1]اس بنا پر آپ کا نام پیغمبر اکرمؑ کے اصحاب کے آخری طبقے میں ذکر کیا جاتا ہے۔[33]

آپؑ اور آپ کے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کی بے پناہ محبت کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت منابع میں بہت سے واقعات ذکر ہوئے ہیں۔[34]

آپ کی زندگی کے اس دور کا اہم ترین واقعہ اپنے والدین، بھائی اور نانا رسول خداؐ کے ہمراہ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ ہونے والے مباہلے میں شرکت اور آیہ مباہلہ میں موجود لفظ "اَبناءُنا" کا مصداق بننا ہے۔[35] سید جعفر مرتضی کے بقول آپؑ بیعت رضوان میں بھی موجود تھے اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ آپ نے بھی حضورؐ کی بیعت کی۔[36] قرآن کی بعض آیات آپ اور اصحاب کساء کے دوسرے ارکان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔[37] کہا جاتا ہے کہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے نانا رسول خداؐ کی مجالس میں شرکت فرماتے اور جو کچھ حضورؐ پر وحی ہوتی اس بارے میں اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراؑ کو مطلع کرتے تھے۔[38]

سلیم بن قیس (متوفی پہلی صدی کے اواخر) نے نقل کیا ہے کہ رسول خداؐ کی رحلت کے بعد ابوبکر نے جب خلافت پر قبضہ کیا تو حسن بن علی اپنے والد امام علی، والدہ حضرت فاطمہ اور بھائی امام حسینؑ کے ساتھ رات کو انصار کے گھروں میں جاتے تھے اور ان کو حضرت علیؑ کی مدد کرنے کی دعوت دیتے تھے۔[39] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ آپ منبر رسول پر ابوبکر کے بیٹھنے کے مخالف تھے اور اس حوالے سے اپنی نارضایتی کا اظہار کرتے تھے۔[40]

جوانی
امام حسنؑ کے ایام جوانی سے متعلق معلومات انتہائی محدود ہیں، کتاب الامامۃ و السیاسۃ کے مطابق خلیفہ دوم کے حکم سے حسن بن علیؑ خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں گواہ کے عنوان سے حاضر ہوئے۔[41]

اہل سنت کے بعض منابع میں آیا ہے کہ حسنینؑ سنہ 26 ہجری کو جنگ افریقیہ[42] اور سنہ 29 یا سنہ 30 ہجری کو جنگ طبرستان[43] میں شریک تھے۔ البتہ ان احادیث کی صحت و سقم سے متعلق محدثین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ان احادیث کے سندی اعتراضات اور ائمہ معصومین کی جانب سے فتوحات کی مخالفت پر مبنی طرز زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض علماء من جملہ جعفر مرتضی عاملی نے ان احادیث کو جعلی قرار دیا ہے اور اپنی بات کی تائید میں امام علیؑ کی طرف سے حسنینؑ کو جنگ صفین میں شرکت کی اجازت نہ دینے کو بطور شاہد پیش کیا ہے۔[44] ویلفرد مادلونگ کہتے ہیں کہ امام علیؑ اپنے فرزند کو عالم جوانی میں جنگی امور سے آشنا کرکے ان امور سے متعلق آپ کے تجربات میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔[45] بعض علماء کا خیال ہے کہ حسنین کا خلفاء کے دور میں مختلف فتوحات میں شامل ہونا امت اسلامی کی مصلحت اور امام علیؑ کو اسلامی معاشرے کے گوشہ و کنار سے آگاہ کرنے نیز لوگوں کو اہل بیتؑ سے آشنا کرنے کیلئے تھا۔[46]

آپ کی زندگی کے اس دور سے متعلق نقل ہونے والے دیگر اہم واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ عثمان کے خلاف حضرت علیؑ کی خدمت میں شکایت لے آتے ہیں اس موقع پر امام علیؑ نے اپنے فرزند امام حسنؑ کو عثمان کے پاس بھیجا۔[47] بعض منابع میں آیا ہے کہ عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں لوگوں نے ان کے خلاف بغاوت کی، ان کے گھر کو محاصرے میں لے لیا، ان پر پانی بند کر دیا اور آخر کار انہیں قتل کر دیا۔ ان تمام واقعات میں امام حسنؑ اپنے بھائی امام حسینؑ اور دیگر جوانان بنی ہاشم کے ساتھ امام علیؑ کے حکم سے عثمان کے گھر کی حفاظت پر مأمور تھے۔[48] قاضی نعمان مغربی (متوفی 363ھ) جو کتاب دلائل الامامۃ کے مصنف بھی ہیں کے بقول جب باغیوں نے عثمان پر پانی بند کر دیا تو امام حسنؑ اپنے والد امام علیؑ کے حکم پر عثمان کے گھر پانی پہنچاتے تھے۔[49] بعض منابع میں اس واقعے میں آپ کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔[50]

زوجات اور اولاد

امام حسنؑ کی زوجات کی تعداد کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ تاریخ میں آپ کی صرف 18 زوجات کا نام درج ہے،[51] ان کی تعداد 250،[52]200،[53]90[54] اور 70[55] تک بیان کی گئی ہیں۔

بعض منابع میں آپ کو شادی اور طلاق کی کثرت کی وجہ سے "مِطلاق" (بہت زیادہ طلاق دینے والا) کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔[56] اس کے علاوہ آپ کی بعض کنیزیں بھی تھیں جن سے آپ صاحب فرزند بھی تھے۔[57]

البتہ آپ کو "مطلاق" کہنے والی بات کو بعض پرانے اور معاصر منابع میں تاریخی، سندی اور مضمون کے اعتبار سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔[58]

مادلونگ کے بقول پہلا شخص جس نے یہ مشہور کیا تھا کہ امام حسنؑ کی زوجات کی تعداد 90 ہیں، وہ "محمد بن کلبی" تھا اور یہ تعداد "مدائنی" (225ھ) کی جعلیات میں سے تھی۔ اس کے باوجود خود کلبی نے آپ کی گیارہ زوجات کا نام لیا ہے جن میں سے 5 کا امام کی زوجات میں سے ہونا بھی مشکوک ہے۔[59] قرشی اس خبر کو بنی عباس کے سادات حسنی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات میں شمار کرتے ہیں۔[60]

آپ کی اولاد کی تعداد میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیخ مفید نے آپ کی اولاد کی تعداد 15 ذکر کی ہے۔[61]

زوجات    اولاد
جعدہ    ...
ام بشیر    زید، ام الحسن و ام الحسین
خولہ    حسن مثنی
حفصہ    ...
ام اسحاق    حسین، طلحہ و فاطمہ
ہند    ...
نَفیلہ یا رَملہ    عمر، قاسم و عبداللہ
بعض دیگر زوجات    
عبدالرحمن، ام عبداللہ، ام سلمہ و رقیہ
طبرسی نے امام حسنؑ کی اولاد کی تعداد 16 بتاتے ہوئے ابوبکر کو بھی آپ کی اولاد میں شمار کیا ہے جو واقعہ عاشورا میں شہید ہوئے تھے۔[62]

نسل امام حسن

نسل امام حسنؑ حسن مثنی، زید، عمر اور حسین اثرم سے چلی ہے۔ حسین اور عمر کی نسل کچھ عرصہ بعد ختم ہوئی اور صرف حسن مثنی اور زید بن حسن کی نسل باقی رہی،[63] جنہیں سادات حسنی کہا جاتا ہے۔[64] آپ کی نسل سے بہت ساری شخصیات نے دوسری اور تیسری صدی کے دوران بنی عباس کی حکومت کے خلاف مختلف سیاسی اور سماجی تحریکوں کی قیادت کی اور اسلامی دنیا کے مختلف گوشہ و کنار میں مختلف حکومتیں قائم کی ہیں۔ یہ شخصیات بعض علاقوں میں شُرَفاء کے نام سے معروف‌‌ تھیں۔[65]

خاندان رسالتؐ

امام علی کا دور خلافت اور کوفہ میں قیام
امام حسن مجتبیؑ امام علیؑ کے چار سالہ دور خلافت میں شروع سے لے کر آخر تک اپنے والد گرامی کے ساتھ رہے۔[66] کتاب الاختصاص کے مطابق حسن بن علیؑ نے لوگوں کی طرف سے امام علیؑ کی بعنوان خلیفہ بیعت کرنے کے بعد اپنے والد کے حکم سے ممبر پر جا کر لوگوں سے خطاب فرمایا۔[67] وقعۃ صفین نامی کتاب کے مطابق امام علیؑ کے کوفہ آنے کے پہلے دن سے ہی حسن بن علی بھی اپنے والد کے ساتھ کوفہ میں قیام پذیر ہوئے۔[68]

جنگ جمل میں

ناکثین کی عہد شکنی اور بغاوت کے بعد امام علیؑ لشکر لے کر ان کا مقابلہ کرنے کیلئے روانہ ہوئے۔ راستے میں امام حسنؑ نے امام علیؑ کو اس جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی۔[69] [نوٹ 2]شیخ مفید (متوفی 413 ھ) کے مطابق امام حسنؑ اپنے والد کی طرف سے عمار بن یاسر اور قیس بن سعد کے ساتھ کوفہ جا کر لوگوں کو امام علیؑ کے لشکر میں شامل ہونے کیلئے آمادہ کرنے پر مأمور ہوئے۔[70] آپ نے کوفہ میں لوگوں سے خطاب کیا اور امام علیؑ کے فضائل اور آپ کے مقام و منزلت نیز ناکثین (طلحہ‌ و زبیر) کی عہد شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوگوں کو امام علیؑ کی مدد کرنے کی درخواست کی۔[71]

جنگ جمل میں جب عبداللہ بن زبیر نے امام علیؑ پر عثمان کے قتل کی تہمت لگائی تو امام حسنؑ نے ایک خطبہ دیا جس میں عثمان کے قتل میں طلحہ اور زبیر کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کیا۔[72] امام حسن مجتبیؑ اس جنگ میں لشکر اسلام کے دائیں بازو کی سپہ سالاری کر رہے تھے۔[73] ابن شہر آشوب سے منقول ہے کہ امام علیؑ نے اس جنگ میں اپنا نیزہ محمد حنفیہ کو دیا اور عائشہ کی اونٹنی کو مار دینے کا حکم دیا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے اس کے بعد امام حسنؑ نے اس کام کی ذمہ داری سنبھالی اور عائشہ کی اونٹنی کو زخمی کرنے میں کامیاب ہوئے۔[74] بعض منابع میں آیا ہے کہ جنگ جمل کے بعد امام علیؑ علیل ہوئے اس موقع پر آپ نے بصرہ میں نماز جمعہ پڑھانے کی ذمہ داری امام حسنؑ کے سپرد کی۔ آپ نے نماز جمعہ کے خطبے میں اہل بیتؑ کے مقام و منزلت اور ان کے حق میں کوتاہی کرنے کے برے انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔[75]

جنگ صفین میں

جنگ صفین میں امام علیؑ کا امام حسنؑ کے بارے میں ارشاد
اس جوان کو [جنگ کے قصد سے] روکو کہیں یہ میری کمر نہ توڑ دیں۔ مجھے خوف ہے کہ کہیں موت ان دونوں (حسنؑ اور حسینؑ) کو اپنی آغوش میں نہ لے لیں جس سے رسول خداؐ کی نسل منطقع ہو جائے گی۔

نہج البلاغۃ، ترجمہ شہیدی، ص۲۴۰.
نصر بن مزاحم (متوفی 212 ھ) کے بقول امام حسنؑ نے صفین کی طرف لشکر کے روانہ ہونے سے قبل ایک خطبہ دیا جس میں لوگوں کو جہاد کی ترغیب دی۔[76] بعض احادیث کے مطابق جنگ صفین میں آپ اپنے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ لشکر کے دائیں بازو کی سپہ سالاری کر رہے تھے۔[77] اسکافی (متوفی 240 ھ) نقل کرتے ہیں کہ جب حسنؑ بن علیؑ کا جنگ کے دوران لشکر شام کے کسی بزرگ سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے امام حسنؑ کے ساتھ لڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا میں نے رسول خداؐ کو اونٹ پر سوار ہو کر میری طرف آتے دیکھا اور آپ ان کے آگے اسی اونٹ پر سوار تھے۔ میں نہیں چاہتا رسول خداؐ سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ آپ کا خون میرے گردن پر ہو۔[78]

کتاب وقعۃ صفین میں آیا ہے کہ عبیداللہ بن عمر (فرزند خلیفہ دوم) نے حسن بن علیؑ سے ملاقات میں آپ کو اپنے والد کی جگہ خلافت قبول کرنے کی پیشکش کی کیونکہ قریش علیؑ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ امام حسنؑ نے جواب میں فرمایا: خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کی بعد فرمایا: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم آج یا کل مارے جاؤگے اور شیطان نے تمہیں دھوکا دیا ہوا ہے۔ مذکورہ کتاب کے مطابق عبیداللہ بن عمر اسی جنگ میں مارا گیا۔[79] جنگ کے خاتمے اور حکمیت کے واقعے پر بعد امام حسنؑ نے اپنے والد ماجد کے حکم سے لوگوں سے خطاب فرمایا۔[80]

صفین سے واپسی پر راستے میں امام علیؑ نے اخلاقی تربیتی موضوع پر مشتمل ایک خط اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام لکھا،[81] جو نہج البلاغہ میں مکتوب نمبر 31 کے عنوان سے آیا ہے۔[82]

کتاب "الاستیعاب" میں آیا ہے کہ حسن بن علیؑ نے جنگ نہروان میں بھی شرکت کی۔[83]

اس دور سے متعلق دیگر واقعات میں سے ایک امام علیؑ کی وصیت کے تحت آپ کی جانب سے انجام پانے والے فلاحی امور جیسے وقف اور صدقات وغیرہ کی نگرانی آپؑ بعد امام حسنؑ کے سپرد کیا جانا ہے۔[84] کافی کے مطابق یہ وصیت 10 جمادی الاول سنہ 37ھ کو لکھی گئی۔[85] بعض احادیث میں آیا ہے کہ امام علیؑ اپنی زندگی کے آخری ایام میں معاویہ کے ساتھ مقابلہ کیلئے دوبارہ تیاری کر رہے تھے جس میں آپ نے اپنے بیٹے امام حسنؑ کو اپنی فوج کے دس ہزار نفری کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔[86]

خلافت کا مختصر دور
امام حسن مجتبیؑ 21 رمضان سنہ 40ھ[87] کو اپنے والد کی شہادت کے بعد 6 سے 8 مہینے تک خلافت کے عہدے پر فائز رہے۔[88] اہل سنت پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ایک حدیث کی رو سے آپ کو خلفائے راشدین میں سے آخری خلیفہ جانتے ہیں۔[89] آپ کی خلافت عراق کے لوگوں کی بیعت اور دوسرے مناطق کی حمایت سے شروع ہوئی۔[90] لیکن شام والوں نے معاویہ کی قیادت میں اس بیعت کی مخالفت کی۔[91] معاویہ لشکر لے کر شام سے اہل عراق کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے روانہ ہوا۔[92] آخر کار یہ جنگ امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان صلح نیز خلافت کو معاویہ کے سپرد کرنے کے ساتھ اختتام ہوا یوں معاویہ خلافت بنی امیہ کا پہلا خلیفہ بن گیا۔[93]

مسلمانوں کی بیعت اور اہل شام کی مخالفت
شیعہ اور اہل سنت منابع کے مطابق امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد سنہ 40ھ کو مسلمانوں نے حسن بن علیؑ کی بعنوان خلیفہ بیعت کی۔[94] بلاذری (متوفی 279ھ) کے مطابق عبید اللہ بن عباس پیکر امام علیؑ کو دفن کرنے بعد لوگوں کے درمیان آئے اور آپ کی شہادت سے لوگوں کو باخبر کرتے ہوئے کہا: آپ ایک شایستہ اور بردبار جانشین ہماری درمیان چھوڑ کر گئے ہیں۔ اگر چاہیں تو ان کی بیعت کریں۔[95] کتاب الارشاد میں آیا ہے کہ 21 رمضان جمعہ کے دن صبح کو حسن بن علیؑ نے مسجد میں ایک خطبہ دیا جس میں اپنے والد کی شایستگی اور فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ اپنی قرابتداری، اپنی ذاتی کمالات نیز اہل بیت کے مقام و منزلت کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بیان فرمایا۔[96] آپ کی تقریر کے بعد عبداللہ بن عباس اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں سے یوں مخاطب ہوا: اپنے نبی کے بیٹے اور اپنے امام کی جانشین کی بیعت کریں۔ اس کے بعد لوگوں نے آپ کی بعنوان خلیفہ بیعت کی۔[97] منابع میں آپ کی بیعت کرنے والوں کی تعداد 40 ہزار سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔[98] بعض منابع کے مطابق قیس بن سعد بن عبادہ جو لشکر امام علیؑ کے سپہ سالار تھے نے سب سے پہلے امام حسنؑ کی بیعت کی۔[99]

حسین محمد جعفری اپنی کتاب تشیع در مسیر تاریخ میں کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کے بہت سارے اصحاب جو اس وقت کوفہ میں مقیم تھے، نے امام حسنؑ کی بیعت کی اور انہیں بطور خلیفہ قبول کیا۔[100] جعفری بعض قرائن و شواہد کی بنا پر کہتے ہیں کہ مکہ و مدینہ کے مسلمان بھی حسن بن علیؑ کی بیعت میں عراق والوں کے ساتھ موافق تھے اور صرف آپ کو اس مقام کیلئے سزاوار جانتے تھے۔[101] وہ کہتے ہیں کہ یمن اور فارس کے لوگوں نے بھی اس بیعت کی تائید کی تھی یا کم از کم اس کے مخالف نہیں تھے۔[102]

بعض منابع میں آیا ہے کہ بیعت کے وقت بعض شرائط کا بھی ذکر کیا گیا تھا، کتاب "الامامۃ و السیاسۃ" کے مطابق انہی شرائط کے ضمن میں جسن بن علیؑ نے لوگوں سے کہا: آیا میری اطاعت کرنے کی بیعت کرتے ہو؟۔ آیا جس سے میں جنگ کروں اس سے جنگ اور جس سے میں صلح کروں اس سے صلح کروگے؟ لوگ ان باتوں کو سننے کے بعد شک و تردید میں پڑ گئے اور حسین بن علیؑ کے پاس گئے تاکہ ان کی بیعت کی جائے، لیکن آپ نے فرمایا: میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں جب تک میرے بھائی حسنؑ زندہ ہیں تم لوگوں سے بیعت نہ کروں۔ اس کے بعد لوگ دوبارہ حسن بن علیؑ کے پاس لوت آئے اور ان کی بیعت کی۔[103] طبری (متوفی 310ھ) کہتے ہیں: قیس بن سعد نے بیعت کرتے وقت یہ شرط رکھی کہ آپ کتاب خدا اور سنت پیغمبر پر عمل کریں گے اور ان لوگوں سے جنگ کریں گے جو مسلمانوں کا خون حلال سمجھتے ہیں۔ لیکن امام حسنؑ نے صرف کتاب خدا اور سنت رسول پر عمل پیرا ہونے کی شرط کو قبول کیا اور دوسری شرط کو پہلے شرط سے ماخوذ قرار دیا۔[104] اس طرح کے مختلف واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ امام حسنؑ ایک صلح پسند اور جنگ‌ گریز شخصیت کے مالک تھے اور آپ کی سیرت اپنے والد گرامی اور بھائی امام حسینؑ سے مختلف تھی۔[105]

رسول جعفریان معتقد ہیں کہ ان شرائط کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حسن بن علیؑ ابتداء سے ہی جنگ کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ ان شرائظ کو ذکر کرنے کا اصلی مقصد اسلامی معاشرے کے رہبر اور پیشوا کے حق حاکمیت کو زندہ کرنا تھا تاکہ آئندہ پیش آنے والے مسائل میں آزادی کے ساتھ تصمیم گیری کر سکیں۔ اسے کے علاوہ خلافت پر فائز ہونے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آپ معاویہ کے ساتھ جتگ کرنے پر زیادہ مصر تھے۔[106] بعد احادیث میں آیا ہے کہ امام حسنؑ کے خلافت پر فائز ہونے کے بعد سب سے پہلا اقدام سپاہیوں کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ تھا۔[107]

معاویہ کے نام امام حسنؑ کے خط کا ایک حصہ
جب پیغمبر اکرمؐ رحلت فرما گئے تو عربوں نے ان کی جانشینی پر اختلاف کھڑا کیا، قریشیوں نے کہا: ہم پیغمبرؐ کے ہم قوم اور رشتہ دار ہیں لہذا ان کی جانشینی پر ہم سے اختلاف سزاوار نہیں۔ عربوں نے قریش والوں کی اس دلیل کو قبول کیا لیکن جب ہم نے قریش والوں سے وہی کہا جو انہوں نے دوسرے عربوں سے کہا تھا تو انہوں نے عربوں کے بر خلاف ہمارے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا۔ اے معاویہ آج اس منصب کی طرف تمہاری نظریں اٹھنے سے سب کو حیرت میں ڈھوبنا چاہئے کیونکہ تم اس کا اہل ہی نہیں ہو، تم اسلام مخالف ایک گروہ سے تعلق رکھتے ہو، قریش میں رسول خداؐ کے سب سے بدترین دشمن تم ہو۔ جب حضرت علیؑ شہید ہوئے تو مسلمانوں نے خلافت میرے حوالے کئے ہیں۔ پس باطل سے ہاتھ اٹھا کر میری بیعت کرو اور تم خود اس بات کو اچھی طرح جانتے ہو کہ اس منصب کیلئے خدا کے نزدیک میں سب سے زیادہ سزاوار ہوں۔
ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دار المعرفہ، ص۶۴۔

امام حسنؑ کے نام معاویہ کے خط کا ایک حصہ
اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ تہذیب، امت اسلام کی مصلحت اندیشی، سیاست، اور مال و دولت جمع کرنے نیز دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مجھ سے بہتر اور طاقتور ہوتے تو میں آپ کی بیعت کرتا لیکن چونکہ میں ایک طولانی مدت تک بر سر اقتدار رہنے کی وجہ سے زیادہ باتجریہ اور سیاستمدار ہوں نیز عمر کے لحاظ سے بھی میں آپ سے بڑا ہوں پس سزاوار ہے کہ آپ میری حاکمیت کو قبول کریں۔
ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دار المعرفہ، ص۶۷۔

معاویہ کے ساتھ جنگ اور صلح
امام حسنؑ کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ معاویہ کے ساتھ جنگ تھا جو صلح پر اختتام پذیر ہوا۔[108] جب عراق کے مسلمانوں نے امام حسنؑ کی بیعت کی تو دوسرے اسلامی مناطق من جملہ حجاز، یمن اور فارس[109] والوں نے اس بیعت کی تائید اور حمایت کی لیکن شام والوں نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے معاویہ کی بیعت کی۔[110] معاویہ شام والوں کی اس بیعت کو قانونی اور شرعی شکل دینے کا ارادہ رکھتا تھا جسے وہ اپنی تقاریر اور امام حسنؑ کے ساتھ ہونے والے خط و کتابت میں برملا اظہار کرتا تھا۔[111] معاویہ جو عثمان کے قتل کے بعد خلافت کیلئے پر طول رہا تھا،[112] لشکر لے کر شام سے عراق کی طرف روانہ ہو گیا۔[113] تاریخی قرائن و شواہد کے مطابق امام حسنؑ نے اپنے والد کی شہادت اور عراق والوں کی آپ کے ہاتھ پر بعنوان خلیفہ بیعت کرنے کے 50 دن تک جنگ یا صلح کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔[114] لیکن جب آپ کو معاویہ کے شام سے حرکت کرنے کی خبر دی گئی تو آپ بھی لشکر لے کر کوفہ سے راونہ ہو گئے اور عبیداللہ بن عباس کی سربراہی میں ہراول دستہ معاویہ کی طرف روانہ کیا۔[115]

دونوں فوجوں کے درمیان جنگ
دونوں فوجوں کے درمیان پہلے تصادم کے بعد جس میں معاویہ کے سپاہیوں کو شکست ہوئی، معاویہ نے رات کی تاریکی میں عبیداللہ کو یہ پیغام بھیجا کہ حسن بن علیؑ نے مجھے صلح کرنے کی پیشکش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ خلافت میرے حوالے کریں گے۔ ساتھ ساتھ معاویہ نے عبیدالله کو ایک میلین درہم دینے کا بھی وعدہ دیا یوں عبیدالله معاویہ کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بعد قیس بن سعد نے لشکر کی کمانڈ سنبھالی۔[116] بلاذری (متوفی 279 ھ) کے مطابق عبیداللہ کے معاویہ کی طرف جانے کے بعد معاویہ اس خیال سے کہ اب امام حسنؑ کا لشکر کمزور ہو گیا ہے، ان پر بھر پور حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن امام کے سپاہیوں نے قیس کی قیادت میں شامیوں کو شکست دی۔ معاویہ نے قیس کو بھی عبیداللہ کی طرح لالچ دے کر اسے بھی راستے سے ہٹانا چاہا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوا۔[117]

ساباط میں امام کی صورت حال
امام حسنؑ بعض سپاہیوں کے ساتھ ساباط تشریف لے گئے۔ شیخ مفید کے مطابق امام حسنؑ نے لوگوں کو آزمانے کیلئے ایک خطبہ دیا جس میں فرمایا: "میں تمہارے حق میں جدائی اور تفرقہ کی نسبت وحدت اور ہمدلی کو بہتر سمجھتا ہوں جسے تم لوگ پسند نہیں کرتے ...؛ جو تدبیر میں نے تمہارے لئے سوچا ہے وہ اس تدبیر سے بہتر ہے جسے تم نے انتخاب کیا ہے۔ ..."

امام کے ان کلمات کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا پس حسن بن علیؑ معاویہ کے ساتھ صلح کرکے خلافت معاویہ کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی بہانے بعض لوگوں نے امام کے خیمے پر حملہ کیا اور اسے غارت کرنا شروع کیا یہاں تک کہ امامؑ کی جائے نماز تک کو بھی آپ کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ کر لے گئے۔[118] لیکن یعقوبی (متوفی 292 ھ) کے مطابق اس حادثے کی علت یہ تھی کہ معاویہ نے مذاکرات کیلئے چند لوگوں کو امام حسنؑ کے پاس بھیجا تھا۔ یہ لوگ جب امام کے پاس سے واپس آئے تو بلند آواز میں لوگوں تک آواز پہنچاتے ہوئے ایک دوسرے سے کہنا شروع کیا: خدا نے فرزند رسول خدا کے توسط سے مسلمانوں کے خون کی حفاظت فرمائی اور فتنہ کو خاموش کیا اور حسن بن علیؑ نے صلح کو قبول کیا۔ جب باتیں امام کے سپاہیوں نے سنی تو وہ غصے میں آگئے اور امام کے خیمے پر حملہ آور ہوئے۔[119] اس واقعے کے بعد امامؑ کے اصحاب نے آپ کی حفاظت اپنے ذمے لئے لیکن رات کی تاریکی میں ایک خارجی[120] آپ کے قریب آیا اور کہا: اے حسن آپ مشرک ہو گئے ہیں جس طرح آپ کے والد علی بن ابی طالب مشرک ہو گئے تھے؛ یہ کہہ کر اس نے ایک خنجر سے امام پر وار کیا جس سے امام کی ران زخمی ہوئی اور آپ گھوڑے سے زمین پر گر پڑے۔[121] وہاں سے آپ کو مدائن لے جایا گیا جہاں پر آپ زخم ٹھیک ہونے تک سعد بن مسعود ثقفی کے گھر مقیم رہے۔[122]

معاویہ اور امام حسنؑ کے درمیان جنگ آخر کار صلح کی قرارداد پر طرفین کے دستخط کے اختتام پذیر ہوئی۔ رسول جعفریان کے مطابق لوگوں کی جنگ سے خستگی، زمانے کا تقاضا اور شیعوں کی حفاظت امام حسنؑ کو صلح قبول کرنے پر مجبور کیا۔[123] اس قرارداد کے مطابق خلافت کو معاویہ کے سپرد کیا گیا۔[124]

معاویہ سے صلح کا واقعہ

امام حسنؑ نے معاویہ کی موجودگی میں ایک خطبے میں فرمایا:
معاویہ بن صخر نے یہ گمان کیا ہوا ہے کہ میں انہیں خلافت کی نسبت اپنے سے سزوار سمجھتا ہوں۔ وہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ خدا کی قسم قرآن اور احادیث رسول خدا میں اس منصب کیلئے تمام لوگوں سے زیادہ ہم سزاوار ہیں، لیکن ہم اہل بیتؑ، پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد سے مظلوم واقع ہوئے ہیں۔ خدا ہم اور ہمارے اوپر ظلم کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے۔
مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۱۰، ص۱۴۲.

شام اور عراق کے سپاہیوں کے درمیان ہونے والی جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی امام حسنؑ مورد حملہ قرار پاکر زخمی ہوئے جس کی وجہ سے آپ کو مداوا کے لئے مدائن لے جایا گیا۔[125] مدائن میں امام حسنؑ کے معالجے کے دوران کوفہ کے بعض سرکردگان نے مخفیانہ طور پر معاویہ کو خط کے ذریعے حمایت اور اطاعت کا وعدہ دیا۔ انہوں نے معاویہ کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور انہیں وعدہ دیا کہ حسن بن علیؑ کو قتل کر دیں گے یا ان کے حوالے کر دیں گے۔[126] شیخ مفید (متوفی 413 ھ) کے مطابق جب امام حسنؑ کو کوفہ والوں کی غداری اور عبید الله بن عباس کے معاویہ کے ساتھ مل جانے کی خبر ملی اور دوسری طرف سے اپنے سپاہیوں کی سستی اور کاہلی کا مشاہدہ کیا تو آپ کو یہ اندازہ ہوا کہ اہل شام اور معاویہ کے عظیم لشکر کے مقابلہ صرف آپ کے حقیقی پیروکاروں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا جن کی تعداد دشمن کے مقابلے میں بہت تھوڑی تھی۔[127] زید بن وہب جہنی نقل کرتے ہیں کہ امام حسنؑ نے مدائن میں قیام کے دوران ان سے فرمایا: "خدا کی قسم اگر میں معاویہ کے ساتھ جنگ کروں تو یہ عراق والے میری گردن پکڑ کر مجھے معاویہ کے حوالے کر دیں گے۔ خدا کی قسم اگر باعزت طریقے سے معاویہ کے ساتھ صلح کرنا معاویہ کے ہاتھوں اسیر ہو کر قتل ہونے یا میرے اوپر منت چڑھا کر میرے قتل سے صرف نظر کرکے ہمیشہ کیلئے بنی ہاشم کو رسوا کرنے سے بہتر ہے۔"[128]

معاویہ کی جانب سے صلح کی پیشکش
یعقوبی کے مطابق معاویہ کی طرف سے جنگ کو صلح کے ذریعے خاتمہ دینے کیلئے مختلف حربے بروی کار لایا گیا ان میں سے ایک یہ تھا کہ ایک طرف سے اس نے اپنے جاسوسوں کو امام حسن کے سپاہیوں کے درمیان بھیج کر یہ شایع کرنا شروع کیا کہ قیس بن سعد بھی معاویہ کے ساتھ جا ملے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سے اس نے اپنے بعض جاسوسوں کو قیس کے سپاہیوں کے درمیان بھیج کر یہ شایع کرنا شروع کیا کہ امام حسنؑ نے صلح کی پیشکش کو قبول کیا ہے۔[129] اسی طرح معاویہ نے کوفیوں کی جانب سے اپنی حمایت میں لکھے گئے خطوط کو امام حسنؑ کی طرف بھیجا اور آپؑ کو صلح کی پیشکش کی۔ شیخ مفید کے مطابق امام حسنؑ کو اگرچہ معاویہ پر اعتماد نہیں تھا اور آپ اس کی چالاکیوں سے بخوبی آگاہ تھے لیکن آپ کو صلح کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آیا۔[130] بعض تاریخی منابع میں آیا ہے کہ معاویہ نے سفید کاغذ پر مہر اور دستخط کر کے امام حسنؑ کی خدمت میں بھیجا تاکہ صلح کے شرائط امام اپنی مرضی کے مطابق تعیین کریں۔[131] امام حسنؑ نے درپیش صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے صلح اور جنگ کے حوالے سے لوگوں سے رائ طلب فرمائی۔ اس موقع پر سب نے "البقیة البقیة" کا نعرہ بلند کر کے صلح کی پیشکش کو قبول کرنے کی حامی بھر لی۔[132] یوں امام حسنؑ نے صلح کو قبول فرمایا جس کی تاریخ 25 ربیع‌الاول سنہ 41 ہجری قمری ہے۔[133] جبکہ بعض منابع میں ربیع الاخر یا جمادی الاولی[134] کی 25 تاریخ ذکر ہوئی ہے۔

صلح کے مندرجات
اس صلح نامے کے مندرجات کے بارے میں مختلف اقوال موجود ہیں۔[135] من جملہ بعض موارد یہ ہیں:

خلافت معاویہ کے سپرد کی جائیگی اس شرط کے ساتھ کہ وہ قرآن و سنت اور خلفائے راشدین کی سیرت پر عمل پیرا ہوگا۔
معاویہ اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے گا۔
شیعیان حیدر کرار سمیت تمام لوگوں کو امن و امان اور سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔[136]
شیخ صدوق کہتے ہیں کہ امام حسنؑ نے خلافت معاویہ کے حوالے کرتے وقت اس شرط پر اس کی بیعت فرمائی کہ اسے امیر المؤمنین کہہ کر نہ پکارا جائے۔[137]

بعض منابع میں آیا ہے کہ امام حسنؑ نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ معاویہ کے بعد خلافت خود امامؑ کی طرف منتقل ہوگی اس کے علاوہ معاویہ 5 میلین درہم امام حسنؑ کو دے گا۔[138] بعض محققین کا خیال ہے کہ ان دو شرطوں کو امام حسنؑ کے نمائندے نے اضافہ کیا تھا جسے امام حسنؑ نے قبول نہیں کیا اور ان دو شرطوں کے بارے میں فرمایا معاویہ کے بعد خلافت کا مسئلہ مسلمانوں کے باہمی مشورت سے حل و فصل ہوگا اور معاویہ کو بیت المال میں اس طرح کے تصرف کا بھی کوئی حق حاصل نہیں ہے۔[139] بعض مورخین کا خیال ہے کہ مال دینے کی شرط خود معاویہ یا اس کے نمائندے نے رکھی تھی۔[140]

خلافت سے ظاہری طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کے باوجود شیعیان حیدر کرار آپ کو امام مانتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض شیعہ حضرات کو اس صلح پر اعتراض بھی تھا لیکن پھر بھی آپ کی امامت کے منکر نہیں تھے۔[141]

امام حسنؑ:
اے لوگو! اگر مشرق سے مغرب تک ڈھونڈو گے تو میں اور میرے بھائی کے علاوہ کسی کو نہیں پاؤگے جس کا نانا رسول خداؐ ہو۔ بتحقیق معاویہ ایک ایسی چیز (خلافت) میں جو میرا مسلمہ حق ہے، میری مخالفت پر اتر آیا ایسے میں میں نے امت کی مصلحت کی خاطر اپنے حق سے چشم پوشی کی۔

ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۳۴.
منابع میں آیا ہے کہ امام حسنؑ کی طرف سے صلح قبول کرنے پر آپ کے بعض پیروکاروں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔[142] یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اس کام پر آپ کی سرزنش بھی کی اور بعض آپ کو "مذلّ المؤمنین" (مؤمنین کو ذلیل و خوار کرنے والا) کہہ کر پکارنے لگے۔[143] امامؑ نے اس حوالے سے ہونے والے اعتراضات اور سوالات کا جواب دیتے ہوئے "امام" کی اطاعت کے ضروری ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صلح کے علل و اسباب کو بعینہ صلح حدیبیہ کے علل و اسباب بیان کرتے ہوئے اس کام کو حضرت خضر اور حضرت موسی کی داستان میں حضرت خضر کے کاموں کی طرح قرار دیا جہاں حضرت موسی ان کاموں کے فلسفے سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کاموں پر اعتراض کرتے ہیں۔[144]

متعدد تاریخی منابع میں آیا ہے کہ معاویہ نے اس صلح کے مندرجات پر عمل نہیں کیا۔[145] اور حجر بن عدی سمیت بہت سارے شیعوں کو قتل کر ڈالا۔[146] تاریخ میں آیا ہے کہ معاویہ صلح کے بعد کوفہ چلا گیا اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: میری طرف سے رکھے گئے تمام شرائط کو واپس لیتا ہوں اور جو وعدہ دیا تھا ان سب کی خلاف ورزی کرونگا۔[147] اسی طرح اس نے مزید کہا: میں نے تم لوگوں سے نماز، روزہ اور حج کی انجام دہی کی خاطر جنگ نہیں کیا بلکہ تم لوگوں پر حکومت کرنے کیلئے میں نے جنگ کی ہے۔[148]

مدینہ میں دینی مرجعیت
حسن بن علیؑ معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد کوفہ کے بعض شیعوں کی طرف سے کوفہ میں رہنے کی درخواست کے باوجود مدینہ واپس تشریف لے گئے۔[149] اور اپنی زندگی کے آخری ایام تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔ اس دوران آپؑ نے صرف مکہ[150] اور شام[151] کا سفر کیا۔ کتاب الارشاد میں آیا ہے کہ امام حسن مجتبیؑ امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپؑ کی وصیت سے مختلف امور من جملہ وقف اور صدقات کے متولی بھی تھے۔[152]

مرجعیت علمی
مدینے میں لوگوں کی ہدایت اور تعلیم و تربیت کی خاطر امام حسنؑ کی طرف سے برگزار ہونے والے علمی محافل کا تذکرہ مختلف منابع میں ملتا ہے۔ ابن سعد (متوفی 230 ھ)، بلاذری (متوفی 279 ھ) اور ابن عساکر (متوفی 571 ھ) نقل کرتے ہیں کہ حسن بن علیؑ صبح کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے جس کے بعد سورج نکلنے تک عبادت میں مشغول رہتے تھے اس کے بعد مسجد میں حاضر بزرگان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بحث و گفتگو کرتے تھے۔ ظہرین کی نماز کے بعد بھی آپ کی یہی روٹین ہوتی تھی۔[153] کتاب الفصول المہمۃ میں بھی آیا ہے کہ حسن بن علیؑ مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے اور لوگ آپ کے ارد گرد حلقہ بنا کر مختلف موضوعات پر آپ سے سوال کرتے تھے جس کا آپ جواب دیتے تھے۔[154]

مذکورہ تمام باتوں کے باوجود مہدی پیشوایی کے مطابق حسن بن علیؑ مدینہ میں قیام کے دوران لوگوں کی طرف سے عدم توجہ کی بنا پر ایک طرح سے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے اس وقت کا معاشرہ اخلافی تنزلی کا شکار ہوا۔[155]

سماجی مقام و منزلت
بعض تاریخی منابع سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسنؑ کو اس وقت کے سماج میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ ابن سعد (متوفی 230 ھ) کہتے ہیں کہ جب لوگ حج کے موقع پر حسن بن علیؑ کو دیکھتے تو ان سے متبرک ہونے کے لئے ان کی طرف ہجوم لے جاتے تھے یہاں تک کہ حسین بن علیؑ بعض دوسرے افراد کی مدد سے لوگوں کو آپ سے دور کرتے تھے۔[156] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ ابن عباس بزرگان صحابہ[157] اور عمر کے لحاظ سے آپ سے بڑے ہونے کے باوجود حسن بن علیؑ کے گھوڑے پر سوار ہوتے وقت ان کے لئے گھوڑے کی رکاب پکڑتے تھے۔[158]

سیاست سے دوری اور معاویہ کا ساتھ نہ دینا
امام حسنؑ کے کوفہ سے خارج ہونے کے بعد خوارج میں سے ایک گروہ معاویہ سے جنگ کے لئے نخیلہ نامی مقام پر جمع ہوا۔ معاویہ نے امام حسنؑ کے نام ایک خط میں آپ سے واپس آکر خوارج سے جنگ کرنے کی درخواست کی۔ امامؑ نے معاویہ کی اس درخواست کو رد کرتے ہوئے ان کے خط کے جواب میں فرمایا: اگر اہل قبلہ میں سے کسی سے جنگ کرنا تھا تو سب سے پہلے تمہارے ساتھ جنگ کرتا۔[159] اسی طرح حوثرہ اسدی کی قیادت میں خوارج کے ایک اور گروہ نے معاویہ کے خلاف قیام کیا تو معاویہ نے پھر وہی درخواست دہرائی اس کے جواب میں امامؑ نے بھی وہی جواب دہراتے ہوئے معاویہ سے لڑنے کو زیادہ سزاوار قرار دا۔[160]

بعض احادیث میں آیا ہے کہ امام حسن مجتبیؑ نے نہ فقط معاویہ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اس کے بہت سارے اقدامات پر اعتراض بھی فرمایا کرتے تھے لیکن ان سب کے باوجود آپ معاویہ کی جانب سے بھیجے گئے تحفے تحائف کو قبول فرماتے تھے۔[161] ان تحائف کے ساتھ معاویہ سالانہ ایک میلین درہم[162] یا ایک لاکھ دینار[163] تک امام حسنؑ کی خدمت میں ارسال کرتے تھے۔ اس رقم سے کبھی اپنے قرضہ جات کو ادا کرنے کے بعد بقیہ رقم کو اپنے ماتحت افراد اور رشتہ داروں میں تقسیم فرماتے تھے۔[164] اور کبھی ان تمام تحائف کو دوسرں میں تقسیم کرتے تھے۔[165] بعض ایسی احادیث بھی موجود ہیں جن کی بنا پر حسن بن علیؑ معاویہ کی طرف سے بھیجے گئے تحائف کو بھی قبول نہیں کرتے تھے۔[166] یوں اس قسم کے احادیث کی وجہ سے بعض لوگوں میں شک و تردید[167] ایجاد ہوتے اور چہ بسا ان سے متعلق کلامی اعتبار سے بعض بحث و مباحثے بھی وجود میں آتے تھے۔ مثلا سید مرتضی معاویہ سے مال دریافت کرنے اور ان سے صلہ رحمی کو امام حسنؑ کے لئے جایز بلکہ لوگوں پر زبردستی مسلط ہونے والے حکمرانوں سے لوگوں کے اموال کو واپس لینا ضروری ہونے کے عنوان سے اسے واجب بھی سمجھتے تھے۔[168]

بنی امیہ کا برتاؤ
منابع میں بنی امیہ کی طرف سے امام حسنؑ کے ساتھ روا رکھنے والے برے سلوک کا تذکرہ ملتا ہے۔[169] اسی طرح کتاب احتجاج میں امام حسنؑ اور معاویہ اور اس کے کارندں کے ساتھ ہونے والے بعض مناظرات بھی نقل ہوئی ہیں۔ ان مناظرات میں آپؑ اہل بیت کے مقام و منزلت کا دفاع اور اپنے دشمنوں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے تھے۔[170]

شہادت اور تشییع کا واقعہ
بہت سارے شیعہ اور اہل سنت منابع میں آیا ہے کہ امام حسنؑ کو زہرا دے کر شہید کیا گیا۔[171] بعض منابع کے مطابق آپ کو شہادت سے پہلے کئی بار زہر سے مسموم کیا گیا تھا لیکن ہر بار آپ کو موت سے نجات ملی تھی۔[172]


ائمہ بقیع کے مزارات سنہ 1308 ہجری قمری میں
آخری دفعہ آپ کو مسموم کئے جانے کے بارے میں جس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی، شیخ مفید کہتے ہیں کہ جب معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی جانشینی کے لئے لوگوں سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا تو اس نے جعدہ بنت اشعث بن قیس (زوجہ امام حسن) کے پاس ایک لاکھ درہم بھیجا اور اسے یہ وعدہ بھی دیا کہ حسن بن علیؑ کو مسموم کرنے کے عوض ان کی یزید کے ساتھ شادی کی جائیگی۔[173] جعدہ کا نام حسن بن علیؑ کے قاتل کے عنوان سے اہل سنت میں بھی آیا ہے۔[174] مادلونگ معتقد ہیں کہ یزید کی جانشینی کا مسئلہ اور اس سلسلے میں معاویہ کی جد و جہد، امام حسنؑ کو مسموم کرنے میں معاویہ کے ملوث ہونے اور اس کام میں جعدہ کی خدمات حاصل کرنے کی تائید کرتی ہے۔[175] بعض منابع میں ہند (زوجہ امام حسن)[176] یا آپ کے خادموں میں سے ایک[177] کو امام حسنؑ کو مسموم کرنے کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام حسنؑ اس واقعے کے 3 دن[178] یا 40 دن[179] یا دو ماہ[180] بعد شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔

کہا جاتا ہے کہ امام حسن مجتبیؑ کی شہادت پر پورا شہر مدینہ گریہ و زاری اور غم و اندوہ میں ڈھوب گیا۔[181] یہ بھی نقل ہوا ہے کہ جس وقت آپ کو قبرستان بقیع میں دفن کیا جا رہا تھا تو اس وقت بقیع لوگوں سے کھچا کھچ بھر گیا تھا اور مدینہ کے بازار 7 دن تک بند رہے۔[182] اہل سنت بعض منابع میں آیا ہے کہ عربوں کی پہلی ذلت و رسوائی حسن بن علیؑ کی وفات تھی۔[183]

پیغمبر اکرمؐ کے پہلو میں دفنانے سے ممانعت
بعض منابع میں آیا ہے کہ امام حسنؑ نے اپنے بھائی امام حسینؑ کو وصیت کی تھی کہ آپ کو اپنے نانا رسول خداؐ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔[184] ایک اور قول میں آیا ہے کہ حسن بن علیؑ نے اس بارے میں اپنی زندگی میں عائشہ بات کرکے ان کی موافقت بھی لی تھی۔[185] کتاب "انساب الاشراف" کی نقل کے مطابق جب مروان بن حکم کو اس وصیت کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے معاویہ کو اس بارے میں اطلاع دی اور ان سے اس کام کو روکنے کی سخت سفارش کی۔[186]


قبور ائمہ بقیع کا ایک منظر
لیکن شیخ مفید (متوفی 413 ھ)، طبرسی (متوفی 548 ھ) اور ابن شہر آشوب (متوفی 588 ھ) کے مطابق امام حسن مجتبیؑ نے وصیت کی تھی ان کی تابوت کو تجدید عہد کی خاطر قبر پیغمبرؐ لے جایا جائے پھر اپنی نانی فاطمہ بنت اسد کے پہلوں میں دفن کیا جائے۔[187] اس قول میں آیا ہے کہ حسن بن علیؑ نے سفارش کی تھی کہ ان کی تشییع اور دفن کے دوران کسی بھی جھگڑے اور فساد سے پرہیز کیا جائے[188] تاکہ کسی کا ناحق خون نہ بہایا جائے۔[189]

جب بنی ہاشم امام حسن مجتبیؑ کے تابوت کو قبر پیغمبرؐ پر لے گئے تو مروان نے بنی امیہ کے بعض دوسرے افراد کے ساتھ اسلحہ اٹھا کر ان کا راستہ روک لیا تاکہ آپ کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن ہونے نہ دیا جائے۔[190] ابوالفرج اصفہانی (متوفی 356ھ) لکھتے ہیں کہ عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر آئی اور بنی امیہ کو اس کام سے منع کرنے کا مطالبہ کیا۔[191] لیکن بلاذری کی نقل میں آیا ہے کہ جب عائشہ نے دیکھا کہ فساد برپا ہوا ہے اور عنقریب یہ جھگڑا خونریزی میں تبدیل ہوگا، اس موقع پر انہوں نے کہا: یہ گھر میرا گھر ہے اور میں اس میں کسی کو دفن ہونے نہیں دونگی۔[192] نقل ہوا ہے کہ مروان نے کہا ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ عثمان شہر سے باہر دفن ہوا ہو اور حسن بن علیؑ پیغمبرؐ کے پہلو میں دفن ہو جائے۔[193][نوٹ 3] بنی ہاشم اور بنی امیہ میں لڑائی ہونے والی تھی[194] لیکن امام حسینؑ نے اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق جھگڑے سے منع کیا۔ یوں امام حسنؑ کا جنازہ بقیع لے جایا گیا اور فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔[195]

ابن شہر آشوب کی روایت میں آیا ہے کہ بنی امیہ نے امام حسن مجتبیؑ کے جنازے کی طرف تیر چلائے۔ اس نقل کے مطابق امام حسن کے جنازے سے 70 تیر نکالے گئے۔[196]

تاریخ شہادت
تاریخی منابع میں امام حسنؑ کی شہادت کے سال میں اختلاف پایا جاتا ہے اور 49 یا 50 یا 51 سنہ ہجری ذکر کیا گیا ہے۔[197] اس کے علاوہ اس سلسلے میں مزید اقوال بھی موجود ہیں۔[198] بعض محققین بعض قرائن و شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے سنہ 50 ہجری کو صحیح قرار دیتے ہیں۔[199]

شیعہ منابع میں آپ کی شہادت کو صفر کے مہینے میں قرار دیتے ہیں[200] لیکن اکثر اہل سنت منابع میں ربیع الاول[201] کا تذکرہ ملتا ہے۔[202]

اسی طرح شیعہ منابع میں شہادت کے دن کے حوالے سے بھی مختلف اقوال ہیں: شیخ مفید[203]، شیخ طوسی[204] (متوفی 460ھ)، طبرسی[205] (متوفی 548ھ) اور ابن شہرآشوب[206] (متوفی 588ھ) 28 صفر کو آپ کی شہادت کا دن قرار دیتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں شہید اول (متوفی 786) 7 صفر[207] اور کلینی آخر صفر کو آپ کی شہادت کا دن قرار دیتے ہیں۔[208] "یداللہ مقدسی" ان اقوال کی سند میں تحقیق کے بعد 28 صفر کو معتبر قرار دیتے ہیں۔[209]

ایران میں 28 صفر کو پیغمبر اسلامؐ کی وفات اور امام حسنؑ کی شہادت کے عنوان سے سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے اور اس دن اس حوالے سے عزاداری ہوتی ہے۔ لیکن بعض ممالک من جملہ عراق میں 7 صفر کو امام حسنؑ کی شہادت کے عنوان سے عزاداری کرتے ہیں۔ حوزہ علمیہ نجف میں پرانے زمانے سے 7 صفر کو امام حسنؑ کی شہادت کا دن قرار دیتے ہیں اور حوزہ علمیہ قم میں بھی شیخ عبدالکریم حائری کے دور میں 7 صفر کو اس سلسلے میں عزاداری کرتے تھے۔[210]

آپ کی تاریخ شہادت میں اختلاف کی وجہ سے آپ کی عمر میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اس سلسلے میں بعض نے 46 سال[211] بعض نے 47 سال[212] اور بعض نے 48 سال[213] ذکر کی ہیں۔

فضائل اور خصوصیات
یعقوبی (متوفی 292 ھ) کے مطابق حسن بن علیؑ شکل و شمائل اور سیرت میں رسول خداؐ سے بہت زیادہ شباہت رکھتے تھے۔[214] آپ درمیانے قد اور گھنے محاسن کے مالک تھے[215] اور سیاہ رنگ سے خضاب کرتے تھے۔[216] اسلامی منابع میں آپ کے انفرادی و اجتماعی فضایل کا تذکرہ ملتا ہے۔

انفرادی خصوصیات
آپ کی انفرادی خصوصیات کے حوالے سے منابع میں مختلف احادیث نقل ہوئی ہیں:

پیغمبر اکرمؐ آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے
بہت ساری احادیث میں آیا ہے کہ رسول خداؐ اپنے نواسے حسن بن علیؑ کو بہت چاہتے تھے۔ منقول ہے کہ پیغمبر اکرمؐ امام حسنؑ کو اپنے کاندھوں پر سوار کر فرماتے تھے: خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں پس تو بھی اسے دوست رکھ۔[217] بعض اوقات جب پیغمبر اکرمؐ نماز جماعت میں سجدہ میں چلے جاتے تو امام حسنؑ حضورؐ کی پشت پر سوار ہوتے تھے اس وقت پیغمبر اکرمؐ اس وقت تک سجدے سے سر نہیں اٹھاتے تھے جب تک امام حسنؑ خود آپؐ کی پشت سے نیجے نہ اترتے، جب صحابہ سجدوں کے طولانی ہونے کے بارے میں پوچھتے تھے تو حضورؐ فرماتے تھے میں چاہتا تھا کہ حسن خود اپنی مرضی سے میری پشت سے نیچے اتر آئے۔[218]

فرائد السمطین نامی کتاب میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ آپ کے بارے میں فرماتے تھے: وہ بہشت کے جوانوں کے سردار اور میری امت پر خدا کی حجت ہیں... جو بھی ان کی پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہے اور جو اس سے روگردانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔[219]

آپ کے بارے میں قرآن کی چند آیتیں
حسن بن علیؑ، پیغمبر اکرمؐ کی اہل بیت میں سے ہیں جن کے بارے میں مفسرین کے مطابق قرآن کی بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ من جملہ ان میں آیت اطعام ہے، شیعہ اور اہل سنت بہت سی احادیث کے مطابق یہ آیت اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے اور چونکہ امام حسنؑ اہل بیت میں سے ہیں اس بنا یہ آیت آپ کی فضیلت بھی شمار ہوگی۔[220] اسی طرح بہت سارے مفسرین احادیث سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آیت مودت بھی پیغمبر اکرمؐ کی اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے۔[221] یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کا اجر مودت اہل بیت کو قرار دیتے ہیں۔ آیت مباہلہ جو پیغمبر اکرمؐ کا نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے وقت نازل ہوئی، اس واقعے میں امام حسنؑ اور آپ کے بھائی امام حسینؑ کو "اَبناءنا" کے مصادیق میں جانا جاتا ہے۔[222]

اسی طرح آیہ تطہیر اصحاب کسا کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک امام حسن مجتبیؑ ہیں اور یہ آیت اہل بیتؑ کی عصمت پر بھی دلالت کرتی ہے۔[223]

پیدل حج
امام حسن مجتبیؑ نے کئی بار پیدل حج ادا فرمائی۔ آپ سے منقول ہے کہ فرماتے تھے مجھے اپنے پروردگار سے شرم آتی ہے کہ اس سے ملاقات کروں حالنکہ اس کے گھر کی طرف قدم نہ اٹھایا ہو۔[224] کہا جاتا ہے کہ آپ نے 15[225] یا 20[226] یا 25[227] دفعہ پیدل حج ادا فرمائی۔ حالانکہ بہترین اونٹ آپ کے اختیار میں ہوتے تھے۔[228]

آپ کی بردباری زبان زد عام تھی
اسلامی منابع میں آپ کی بردباری کی وجہ سے آپ کو "حلیم" کا نام دیا گیا ہے۔[229] بعض اہل سنت منابع میں آیا ہے کہ مروان بن حکم جو آپ کا سرسخت دشمن ہونے اور آپ کو پیغمبر اکرمؐ کے پہلو میں دفنانے نہ دینے کے باوجود آپ کی تشییع جنازہ میں شرکت کر کے آپ کی تابوت کو کاندھا دیا۔ جب اس حوالے سے اس پر اعتراض کیا گیا کہ تم زندگی میں انہیں تنگ کرتے تھے ابھی کیوں ان کے تابوت کو کاندھا دے رہے ہو تو اس نے کہا میں نے ایک ایسی شخصیت کو تنگ کیا ہوں جس کی بردباری پہاڑ کی مانند تھی۔[230] کہا جاتا ہے کہ شام کے ایک باشندے نے جب امام حسنؑ کو دیکھا تو آپ کی شان میں گستاخی کی۔ جب وہ شخص خاموش ہوا تو امام حسن مجتبیؑ نے اسے سلام کیا اور مسکراتے ہوئے فرمایا: لگتا ہے کہ تم اس شہر میں اجنبی ہو۔ تمہاری جو بھی خواہش ہو میں اسے پورا کرونگا۔ اس پر وہ شخص روتے ہوئے کہنے لگا خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کس کے سپرد کرنا ہے (یعنی وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ امام حسنؑ پیغمبر اکرمؐ کے فرزند ہیں اور خدا کو معلوم تھا کہ نبوت کو کس خاندان میں قرار دینا تھا)۔[231]

سماجی خصوصیات
آپ کی عبادت سے متعلق آیا ہے
جب آپ وضو کرنے لگتے تو آپ کے ہاتھ پیر لرزنے لگتے اور آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوجاتا تھا... جب مسجد کے دروازے پر پہنچتے تھے تو فرماتے تھے: اے احسان کرنے والی ذات! گناہگار تیری درگاہ میں آیا ہے پس میری خطاؤوں کو اپنی نیکیوں کے مقابلے میں نظر انداز فرما۔

ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۴۔
منابع میں آپ کی بعض سماجی خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے:

سخاوت اور لوگوں کی مدد کرنے میں شہرت رکھتے تھے
اسلامی منابع میں شیعوں کے دوسرے امام کو بخشنے والا اور کشادہ دل کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اسی لئے آپ "کریم"، "سخیّ" اور"جواد" کے نام سے مشہور تھے۔[232]

منابع میں آبا ہے کہ آپ نے دو دفعہ اپنی پوری جمع پونجی خدا کی راہ میں بخش دیا اور تین دفعہ اپنی جائداد کا نصف حصہ غریبوں میں تقسیم فرمایا۔[233] مناقب ابن شہر آشوب میں آیا ہے کہ امام حسنؑ کی شام سفر کے دوران معاویہ نے بہت سارا مال آپ کی خدمت میں بھیجا۔ جب آپ معاویہ کے پاس سے باہر تشریف لائے تو ایک خادم نے آپ کے جوتے کی مرمت کی۔ امام نے وہ سارا مال اس خادم کو بخش دیا۔[234]

کہا جاتا ہے ہے کہ امام حسنؑ نے ایک دفعہ کسی شخص کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ "خدایا مجھے دس ہزار درہم عطا فرما"، اس موقع پر آپ گھر تشریف لے گئے اور مذکورہ مبلغ اس شخص کے لئے ارسال فرمایا۔[235]

کہا جاتا ہے کہ آپ کی اسی بخشندگی کی وجہ سے آپ کو "کریم اہل بیت" کا لقب دیا گیا تھا۔[236] لیکن احادیث میں ایسی کوئی تعبیر نہیں آئی ہے۔

لوگوں کی مالی مدد کے حوالے سے بھی مختلف واقعات نقل ہوئی ہیں، اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آپ دوسروں کی حاجت روائی کیلئے اعتکاف اور طواف کو ناتمام چھوڑ کر چلے جاتے تھے اور اس کام کی علت بیان کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کی ایک حدیث کی طرف اشارہ فرماتے تھے جس میں آپؐ نے فرمایا: جو شخص کسی مؤمن بھائی کی ضروریات پوری کرے تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو سالوں سال خدا کی عبادت میں مشغول ہے۔[237]

ماتحتوں کے ساتھ فروتنی سے پیش آتے تھے
کہا جاتا ہے کہ ایک دن مسکینوں کے قریب سے آپ کا گذر ہوا جو خشک روٹی کے ٹکڑے کھا رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو آپ کو دعوت دی تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر تناول فرمائے۔ آپ گھوڑے سے نیچے آئے اور ان کے پاس بیٹھ کر ان کے ساتھ غذا تناول فرمایا اور سب سیر ہو گئے۔ اس کے بعد ان مسکینوں کو اپنی دولت سرا آنے کی دعوت دی اور انہیں کھانا اور لباس عطا فرمایا۔[238]

نیز منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ کے کسی خادم سے کوئی خطا سر زد ہونے کی وجہ سے وہ سزا کا مستحق قرار پایا۔ اس خدمتکار نے امام حسنؑ سے کہا: "و العافین عن الناس" اس پر آپؑ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ خدمتکار نے مزید کہا: "و الله یحب المحسنین" امام حسن مجتبی نے فرمایا: میں نے تمہیں خدا کی راہ میں آزاد کر دیا اور تمہاری مزدوری کے دو برابر تمہیں بخش دیتا ہوں۔[239]

معنوی میراث

مسند الامام المجتبی، امام حسنؑ کے کلمات کا مجموعہ
امام حسنؑ سے مختلف موضوعات پر نقل ہونے والی احادیث کی تعداد تقریبا 250 احادیث تک پہنچتی ہیں۔[240] ان احادیث میں سے ایک حصہ خود امامؑ کی اپنی احادیث ہیں جبکہ دوسرا حصہ ان احادیث پر مشتمل ہے جنہیں آپ نے پیغمبر اکرمؐ، امام علیؑ اور حضرت فاطمہ زہرا(س) سے نقل کیا ہے۔[241]

کتاب مسند الامام المجتبی(ع) میں آپ کے کلمات اور خطوط کو جمع کیا گیا ہے۔ ان کلمات میں آپ کے خطبات، نصیحتیں، گفتگو، دعائیں، مناظرے اور فقہی اور اعتقادی مسائل کو ان کے اسناد کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔[242] بلاغۃ الامام الحسن نامی کتاب میں بھی ان احادیث کو آپ سے منسوب اشعار کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔

احمدی میانجی نے کتاب مکاتیب الائمۃ میں امام حسنؑ سے مربوط 15 خطوط کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے 6 خطوط آپؑ نے معاویہ کے نام، 3 خطوط زیاد بن ابیہ کے نام، ایک خط اہل کوفہ کے نام اور ایک خط حسن بصری کے نام تحریر فرمائے ہیں۔[243] اسی طرح میانجی نے امام حسینؑ، محمد حنفیہ، قاسم بن حسن اور جنادۃ بن ابی امیہ کے نام امام حسنؑ کی (7) وصیتوں کا تذکرہ بھی کیا ہے۔[244]

عزیزاللہ عطاردی نے امام حسنؑ سے احادیث نقل کرنے والے 137 راویوں کا نام ذکر کیا ہے۔[245] شیخ طوسی نے بھی آپؑ کے اصحاب کے عنوان سے 41 افراد کا نام ذکر کیا ہے۔[246]

امام حسنؑ کے کلام سے اقتباس
لوگوں کے ساتھ اس طرح برتاؤ رکھو جس طرح تم اپنے ساتھ برتاؤ کے خواہاں ہو۔[247]
کسی سے دوستی اور بھائی چارہ قائم نہ کرو مگر یہ کہ جان لو کہ یہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔[248]
جس نے بھی سلام سے پہلے کلام کیا اس کا جواب مت دو۔[249]
ایک شخص کے جواب میں جس نے حق اور باطل کے درمیان فاصلے کے بارے میں سوال کیا تھا، فرمایا: حق اور باطل کے درمیان (4) انگلیوں کا فاصلہ ہے، جو کچھ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ حق ہے اور تمہاری کانوں سے بہت ساری باتیں سنے کو ملیں گے جو باطل ہیں۔[250]
کتابیات

"سبط النبی کانفرنس" میں پیش کئے گئے مقالات (3) جلدوں میں شایع ہو چکے ہیں۔
تفصیلی مضمون: امام حسن سے متعلق کتابوں کی فہرست
امام حسنؑ کے بارے میں بہت ساری کتابیں اور مقالات لکھے گئے ہیں۔ "کتاب‌ شناسی امام مجتبیؑ" کے عنوان سے لکھے گئے مقالے میں مختلف زبانوں من جملہ فارسی، عربی، ترکی اور اردو زبان میں لکھی گئی تقریبا 130 کتابوں کا نام لیا ہے۔[251]

آپؑ کے بارے میں لکھی گئی بعض اہم کتابیں درج ذیل ہیں:

أخبار الحسن بن على، تحریر سلیمان بن احمد طبرانى‏ (متوفی 360 ھ)
الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، تحریر جعفر مرتضی عاملی
حیاۃ الامام الحسن بن علی، تحریر باقر شریف قرشی
صلح الحسن، تحریر راضی آل یاسین
زندگانی امام حسن، تحریر ہاشم رسولی محلاتی
الحسن بن علی دراسۃ و تحلیل، تحریر کامل سلیمان
الإمام الحسن و نہج البناء الاجتماعی، تحریر حسن موسى الصفار
حلیم اہل البیت، تحریر موسى محمد علی
اسی طرح "سبط النبی کانفرنس" میں پیش کئے گئے مقالات (3) جلدوں میں شایع ہو چکے ہیں۔

حوالہ جات
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۵۔
 ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ھ، ج۱، ص۳۸۳۔
 ابن حنبل، المسند، دار صادر، ج۱، ص۹۸، ۱۱۸؛ کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۶، ص۳۳ـ۳۴
 ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ھ،ج۳، ص۳۹۷؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ھ، ج۱۰، ص۲۴۴۔
 ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ھ، ج۴، ص۳۹۳؛ زبیدى، تاج العروس، ۱۴۱۴ھ، ج۷، ص۴۔
 ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵، ج۱۳، ص۱۷۱۔
 ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸ء، ج۶، ص۳۵۷؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، بیروت، ج۲، ص۱۰۔
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۲۹؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳شمسی، ج‏۴۴، ص۳۵۔
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۲۹۔
 ابن صباغ مالکی، الفصول المہمۃ، ۱۴۲۲ھ، ج۲، ص۷۵۹۔
 قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۴۸۔
 ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ھ، ج۱، ص۴۹۰۔
 ری شہری، دانشنامہ امام حسین، ۱۳۸۸شمسی، ج۱، ص۴۷۴-۴۷۷۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۱۵۔
 کلینی، کافی، ج۱، ۱۳۶۲شمسی، ص۲۹۷-۳۰۰۔
 کلینی، کافی، ج۱، ۱۳۶۲شمسی، ص۲۹۸۔
 کلینی، کافی، ج۱، ۱۳۶۲شمسی، ص۲۹۸۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۷۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۳۰۔
 شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ۱۳۹۵ھ، ج۱، ص۲۵۳۔
 طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ھ، ج۱، ص۴۰۷؛ شوشتری، احقاق الحق، ۱۴۰۹ھ، ج۷، ص۴۸۲۔
 عزت و قدرت اللہ کے لئے ہے: کلینی، الکافی، ج6 ص474۔صدوق، عیون اخبار الرضا، ج2 ص56۔
 خدا ہی میرے لئے کافی ہے: کلینی، وہی ماخذ، ص473۔
 کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱ھ، ج۱، ص۴۶۱؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ھ، ج۲، ص۵۳۷۔
 کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۱، ص۴۶۱؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۳۹۰شمسی، ج۶، ص۳۹
 مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۵؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۳۹۰شمسی، ج۶، ص۴۰
 ابن حنبل، مسند، دار صادر، ج۶، ص۳۹۱؛ ترمذی، سنن الترمذی، ۱۴۰۳ھ، ج۳، ص۳۶؛ ابن بابویہ، علی بن حسین، الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، ۱۳۶۳شمسی، ج۲، ص۴۲
 نسائی، سنن النسائی، دار الکتب العلمیۃ، ج۴، ص۱۶۶؛ کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۶، ص۳۲-۳۳؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۰۶ق، ۱۴۰۶ھ، ج۴، ص۲۳۷
 ابن عساکر، تاریخ مدینۃ الدمشق، ج۱۳، ص۱۷۰
 حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۰۶ق، ج۳، ص۱۶۵
 ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ھ، ج۱۰، ص۲۳۹-۲۴۴؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳شمسی، ج۳۹، ص۶۳۔
 مہدوی دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۰۴۔
 ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۶۹۔
 مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج‏۴۳، ص۲۶۱-۳۱۷؛ ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۰۳ھ، ج۵، ص۳۲۳-۳۲۲؛ احمد بن حنبل، المسند، دار صادر، ج۵، ص۳۵۴؛ ابن حبان، صحیح ابن حبان، ۱۹۹۳ء، ج۱۳، ص۴۰۲؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۰۶ھ، ج۱، ص۲۸۷۔
 ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸ء، ج۶، ص۴۰۶ـ۴۰۷؛ شیخ صدوق، عون اخبار الرضا، ۱۳۶۳شمسی، ج۱، ص۸۵؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۱۶۸۔
 عاملی، الصحیح من السیرۃ النبی الأعظم، ۱۴۲۶ھ، ج۲۱، ص۱۱۶۔
 زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ھ، ذیل آیہ ۶۱ آل عمران؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۰۵ھ، ذیل آیہ ۶۱ سورہ آل عمران،احمد بن حنبل، دار صادر، مسند احمد، ج ۱، ص۳۳۱؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن، ۱۴۱۹ھ، ج۳، ص۷۹۹؛ شوکانی، فتح القدیر، عالم الکتب، ج۴، ص۲۷۹۔
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۷۔
 سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی‏، ۱۴۰۵ھ، ص۶۶۵ و ۹۱۸۔
 بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ھ، ج۳، ص۲۶-۲۷؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ھ، ج۱۰، ص۳۰۰۔
 ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۱، ص۴۲۔
 ابن خلدون، العبر، ۱۴۰۱ھ، ج۲، ص۵۷۳-۵۷۴۔
 طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ھ، ج۴، ص۲۶۹۔
 جعفر مرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، دار السیرۃ، ص۱۵۸۔
 http://www۔iranicaonline۔org/articles/hasan-b-ali
 زمانی، حقایق پنہان، ۱۳۸۰شمسی، ص۱۱۸-۱۱۹۔
 ابن عبد ربہ، العقد الفرید، دار الکتب العلمیہ، ج۵، ص۵۸-۵۹۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ھ، ج۵، ص۵۵۸-۵۵۹
 قاضی نعمان، المناقب و المثالب، ۱۴۲۳ھ، ص۲۵۱؛ طبری، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ھ، ۱۶۸۔
 دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار الصادر، ج۲، ص۲۶۲۔
 حقایق پنہان، پژوہشی در زندگانی سیاسی امام حسن، ص۳۳۹-۳۴۰؛ قرشی، حیاۃ الإمام الحسن بن على،۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۴۵۵-۴۶۰
 ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌ طالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۳۰۔
 مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج۵، ص۷۴
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ھ، ج۳، ص۲۵
 مجلسی، بحار الانوار، بیروت ۱۳۶۳شمسی، ج۴۴، ص۱۷۳
 ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۷ھ، ج۱۰، ص۲۹۰ و ۳۰۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ھ، ج۳، ص۲۵؛ کلینی، الکافى، ۱۳۶۲شمسی، ج۶، ص۵۶۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ھ، ج۳، ص۷۳۔
 مہدوی دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۰۹۔
 مادلونگ، جانشینى محمد، ۱۳۷۷شمسی، ص۵۱۴-۵۱۵۔
 قرشی‏، حیاۃ الامام الحسن بن على، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۴۵۳-۴۵۴۔
 المفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۰۔
 طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ھ، ج۱، ص۴۱۶۔
 المجدی فی أنساب الطالبیین، ص۲۰۲۔
 الأنساب، ج‌۴، ص۱۵۹۔
 یمانی، موسوعۃ مکۃ المکرمہ، ۱۴۲۹ھ، ج۲، ص۵۸۹۔
 دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۰۴.
 شیخ مفید، الاختصاص، ۱۴۱۳ھ، ص۲۳۸.
 نصر بن ‌مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ھ، ص۶.
 طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ھ، ج۴، ص۴۵۸؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳شمسی، ج۳۲، ص۱۰۴.
 شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ھ، ص ۲۴۴ و ۲۶۱.
 شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ھ، ص۲۶۳.
 ابن أعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ھ، ج‏۲، ص۴۶۶-۴۶۷؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ھ، ص۳۲۷.
 شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ھ، ص۳۴۸؛ ذہبی، تاریخ الإسلام‏، ۱۴۰۹ھ، ج۳، ص۴۸۵.
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۲۱.
 مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ھ، ج۲، ص۴۳۱، شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۸۲؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ھ، ج۱، ص۵۳۶.
 نصر بن ‌مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ھ، ص۱۱۳-۱۱۴.
 ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱، ج۳، ص۲۴؛ ابن شهر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۱۶۸.
 اسکافی، المعیار و الموازنۃ، ۱۴۰۲ق، ص ۱۵۰ - ۱۵۱.
 نصر بن‌ مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص۲۹۷ - ۲۹۸.
 ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۱، ص۱۵۸؛ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۱۹۳.
 سید رضی، نہج البلاغۃ، ترجمہ شہیدی، ۱۳۷۸شمسی، ص۲۹۵.
 محمدی، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، جدول اختلاف نسخ انتہای کتاب، ۱۳۶۹شمسی، ص۲۳۸.
 ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ھ، ج‏۳، ص۹۳۹.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۷.
 کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۷، ص۴۹.
 ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۹۳-۹۴؛ قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ق، ج‏۳ ، ص۴۴۴.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۔
 منابع میں معاویہ کو خلافت تفویض کرنے کی تاریخ 25 ربیع‌الاول (مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۶۔) یا ربیع الاخر یا جمادی الاولی(ذہبی، تاریخ الاسلام، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۵۔) سنہ 41ھ ثبت ہے۔
 مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۹؛ مقدسى، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج۵، ص۲۳۸؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۶، ص۲۵۰۔
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۸-۱۶۱۔
 ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۸، ص۲۱۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۴، ص۲۸۶۔
 جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۴۷-۱۴۸۔
 یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۱۴؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ق، ج۵، ص۱۵۸؛ مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۶۔
 بلاذری، انساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۸۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۷-۹؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۶۲۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۸-۹۔
 مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۵۸، ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الأصحاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۸۵،دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار صادر، ج۲، ص۲۸۹، نویری، نہایۃ الأرب، ۱۴۲۳ق، ج۲۰، ص۲۲۹۔
 طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ق، ج۵، ص۱۵۸۔
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۸
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۸-۱۶۰
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۱
 ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۸۴۔
 طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۵۸۔
 http://www۔iranicaonline۔org/articles/hasan-b-ali، جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۲ش، ص ۱۶۱۔
 جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۳۲۔
 ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۰۸ق، ص۶۴
 ہاشمى نژاد، درسى كہ حسین بہ انسان‌ہا آموخت، ۱۳۸۲ش، ص۴۰۔
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۱۔
 ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۸، ص۲۱۔
 ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دار المعرفہ، ص۶۷ بہ بعد؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۲۵ بہ بعد۔
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۱۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۴، ص۲۸۶۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۲۹
 ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۷۱۔
 ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۷۳-۷۴۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۳۸۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱۔
 یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۱۴۔
 دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۱۷۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۳۵۔
 جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۴۸-۱۵۵۔
 آل یاسین، صلح الحسن، ۱۴۱۲ق، ص۲۵۹-۲۶۱۔
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۳۵.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳.
 طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۲۹۰.
 یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۱۴.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳-۱۴.
 بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۴۲.
 ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۶۸.
 مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۶.
 ذہبی، تاریخ الاسلام، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۵.
 آل یاسین، صلح الحسن، ۱۴۱۲ق، ص۲۵۸-۲۵۹.
 آل یاسین، صلح الحسن، ۱۴۱۲ق، ص۲۵۹-۲۶۱.
 شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۲۱۲.
 مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۵۸.
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۸۰-۱۸۱.
 جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۶۲.
 جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۸۵.
 مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۴، ص۲۹.
 بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۴۵ و ۴۸.
 شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۲۱۱.
 مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۶۰؛ امین، اعیان الشیعة، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۲۷.
 طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ش، ج۵، ص۲۷۵.
 مقدسى، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج۵، ص۲۳۷.
 ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۸، ص۱۳۱.
 ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۱۶.
 ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۸، ص۳۷؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۳، ص۳۳۱.
 ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۱۸.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۷.
 ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۹۷؛ بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینة دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۴۱.
 ابن صباغ مالکی، الفصول المہمۃ، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۷۰۲.
 پیشوایی، تاریخ اسلام، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۴۴۰.
 ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ۴۰۶.
 ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ق، ج‏۹۳۵.
 عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۳۹.
 ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ش، ج‏۳، ص۴۰۹.
 اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۳۶.
 مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۴، ص۴۱.
 قاضی عبد الجبار، تثبیت دلائل النبوۃ، دار المصطفی، ج۲، ص۵۶۷.
 موصلی، مناقب آل محمد، ۱۴۲۴ق، ص۹۳.
 قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۳۸-۲۳۹.
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۸.
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۸.
 ری شہری، دانشنامہ امام حسین، ۱۳۸۸، ج۳، ص۳۸-۳۹.
 سید مرتضی، تنزیہ الأنبیاء، الشریف الرضی، ج۱، ص۱۷۳-۱۷۴.
 ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۸.
 طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۲۷۰-۲۸۴.
 مفید، الارشاد، ۱۴۱۴، ج۲، ص۱۵؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۰۸ق، ص۸۰-۸۱؛ مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۷؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۳۵ و ۳۵۲.
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۵۵؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۰۸ق، ص۸۱
 المفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۵
 بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۵۵؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۸، ص۴۳؛ مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیہ، ج۶، ص۵.
 مادلونگ، جانشینی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۴۵۳. (منبع اصلی: Madelung, The Succession T0 Muhamad, p.331)
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۵۹.
 ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۳۵.
 مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۷.
 ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۴۱؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۵؛ ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۹.
 ابن خلکان، وفیات الاعیان ۱۳۶۴ش، ج۲، ص۶۶.
 ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۴۲؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۹۱.
 ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۵۱-۳۵۲.
 ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۵۳؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۹۵؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق. ج۵، ص۲۷۹.
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۰-۶۲؛ دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۲۱؛ شیخ طوسی، امالی، ۱۴۱۴ق، ص۱۶۰.
 ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ق، ج‏۱، ص۳۸۸؛ حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ۱۴۲۷ق، ج۳، ص۵۱۷.
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۲.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۷؛ طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۱۴؛ ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۴۴.
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۰-۶۲.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۷.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۸.، بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۴-۶۵؛ دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۲۱؛ شیخ طوسی، امالی، ۱۴۱۴ق، ص۱۶۰-۱۶۱.
 ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفہ، ص۸۲
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۱.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۸-۱۹؛ ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۴۴.
 شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۸.
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۴-۶۵؛ دینوری، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۲۱؛ شیخ طوسی، امالی، ۱۴۱۴ق، ص۱۶۰-۱۶۱.، شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۸-۱۹؛ ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۴۴.
 ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۴۴.
 بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۴؛ کلینی، کافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۴۶۱ و ۴۶۲؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۵؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ۳۶۱؛ دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار صادر، ج۲، ص۲۹۳؛ ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الأصحاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۸۹.
 مقدسی، بازپژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان،۱۳۹۱ش، ص۲۶۰.
 مقدسی، بازپژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان،۱۳۹۱ش، ص۲۵۵-۲۵۹.
 کلینی، کافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۴۶۱ ؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۵؛ طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۰۳؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۴۸۶.
 بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۶؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ۳۶۱؛ دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار صادر، ج۲، ص۲۹۳؛ ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الأصحاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۸۹.
 مقدسی، یداللہ، بررسی و نقد گزارش ہای تاریخ شہادت امام حسن مجتبیؑ، ۱۳۸۹ق، ص۹۴-۹۵.
 شیخ مفید، مسار الشیعۃ، قم، ۴۶-۴۷.
 شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۷۹۰.
 طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۰۳.
 ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۹.
 شہید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۷.
 کلینی، کافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۴۶۱.
 مقدسی، یداللہ، بررسی و نقد گزارش ہای تاریخ شہادت امام حسن مجتبیؑ، ۱۳۸۹ق، ص۱۰۹-۱۱۰.
 مرکز تخصصی ائمہ اطہار، خبرگزاری مہر
 مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ۳۶۱؛ دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار صادر، ج۲، ص۲۹۳.
 کلینی، کافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۴۶۱ و ۴۶۲؛؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ۳۶۱؛ دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار صادر، ج۲، ص۲۹۳؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۴۸۶.
 المفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۵؛ ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۹.
 یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۲۶.
 ابن شهر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۸
 ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۱۴.
 ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۶۱۔
 مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۳، ص۲۹۴۔
 حموی شافعی، فرائد السمطین، ۱۴۰۰ق،ج۲، ص۳۵۔
 مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۶ش، ج۵، ص۳۵۴۔
 طبرسی، مجمع البیان، دار المعرفہ، ج۹، ص۴۳-۴۴؛
 زمخشری، تفسیر الکشاف، ۱۴۱۵ق، ذیل آیہ ۶۱ آل عمران؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۰۵ق، ذیل آیہ ۶۱ آل عمران؛ بیضاوی، تفسیر انوار التنزیل و اسرار التأویل، ۱۴۲۹ق،‌ ذیل آیہ ۶۱ آل عمران۔
 شیخ مفید، المسائل العُکبریۃ، ۱۴۱۳ق، ص۲۷؛ طباطبائی، المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۶، ص۳۰۹-۳۱۳۔
 عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۴۲؛ ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۴۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۹۔
 عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۴۲؛ ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۴؛ کلینی، الکافى، ۱۳۶۲ش، ج۶، ص۴۶۱۔
 ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۴۴؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۱۶۔
 ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۴۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۹۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶؛ ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۹۰۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۷؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ۳۵۴۔
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۹۔
 یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۲۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶؛ ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۹۰۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۹؛ ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۹۰۔
 ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۴، ص۱۸۔
 اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۲۳۔
 کیوں امام حسنؑ کو کریم اہل بیت کہا جاتا ہے؟
 ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۴۸-۲۴۹؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۹۴، ص۱۲۹۔
 ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۳۔
 مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۳، ص۳۵۲۔
 پیشوایی، تاریخ اسلام، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۴۴۰.
 مہدوی دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۱۲.
 عطاردی، مسند الإمام المجتبى، ۱۳۷۳ش، ص۴۸۳-۷۳۳.
 میانجی، مکاتیب الائمۃ، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۱۱-۵۸.
 میانجی، مکاتیب الائمۃ، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۵۰-۸۰.
 عطاردی، مسند الإمام المجتبى، ۱۳۷۳ش، ص۷۳۵-۷۹۰.
 شیخ طوسی، رجال الطوسی، ۱۴۱۵ق، ص۹۳-۹۶.
 کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ۵۲۱.
 مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۷۵، ص۱۰۵-۱۰۶.
 کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۳۸.
 ابن شہر آشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۳.
 کتاب شناسی امام مجتبی اور کتاب شناسی امام حسن
 حسن بن علی 3 ہجری کو متولد ہوئے (کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۱، ص۴۶۱) اور پیغمبر اکرم نے 11 ہجری کو وفات پائی۔(ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ھ، ج۲، ص۲۰۸۔)
 یہ درخواست مختلف عبارات کے ساتھ منابع میں موجود ہے (نمونے کے طور پر مراجعہ فرمائیں: طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ھ، ج۴، ص ۴۵۶ و ۴۵۸؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳شمسی، ج۳۲، ص۱۰۴.) لیکن بعض معاصر محققین اسے جعلی قرار دیتے ہیں۔ سید جعفر مرتضی نے کتاب تحلیلى از زندگانى سیاسى امام حسن مجتبى، ص۲۴۰ پر، باقر شریف قرشی نے کتاب حیاۃ الإمام الحسن بن على، ج۱، ص۳۹۴ پر اور ہاشم معروف حسنی نے کتاب سیرۃ الأئمۃ الاثنی عشر، ج۲، ص۴۸۹ پر اسے جعلی قرار دیا ہے۔ بعض احادیث کے مطابق امام علیؑ نے امام حسنؑ کے جواب میں فرمایا میں اس انتظار میں نہیں رہوں گا تاکہ وہ مجھے دھوکے دے کر شکست دیں۔ اسی طرح آپ نے طرف مقابل کی عہد شکنی اور پیغمبر اکرمؐ کے دور سے لے کر اب تک آپ کا حق غصب کرنے کی طرف اشارہ کیا۔ (مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳شمسی، ج۳۲، ص۱۰۴.)
 بنی امیہ امام علیؑ پر عثمان کے قتل میں ملوث ہونے کی تہمت لگاتے تھے۔ (ابن اعثم کوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۵۲۷؛ ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۳، ص۱۶۵)
مآخذ
ابن ابی اثلج، تاریخ الائمہ، در مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الائمہ، چاپ محمود مرعشی، قم: کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1406۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، بہ کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ 1379ق۔
ابن اثیر، اسد الغابہ، بیروت: دارالکتاب العربی۔
ابن اعثم کوفی، احمد، الفتوح، بیروت، 1411۔
ابن بابویہ، علی بن حسین، الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، قم 1363ش۔
ابن سعد، الطبقات الکبری، چاپ احسان عباس، بیروت 1968-1977
ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، تحقیق لجنہ من اساتذہ النجف الاشرف، نجف: مکتبہ الحیدریہ، 1376۔
ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، قم۔
ابن صوفی، علی، المجدی فی انساب الطالبیین، بہ کوشش احمد مہدوی دامغانی، قم: 1409ق/1989م۔
ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، چاپ ماجد بن احمد عطیہ، بیروت 1420ق۔
ابن عبدالبر، یوسف، الاستیعاب، بہ کوشش علی محمد بجاوی، بیروت، 1412ق۔
ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت، 1415ـ1421۔
ابن عنبہ، احمد، عمدۃ الطالب، بہ کوشش محمد حسن آل طالقانی، نجف: 1380ق/19601م۔
ابن قتیبہ،الامامۃ والسیاسۃ، بہ کوشش طہ محمد زینی، قاہرہ، مؤسسۃ الحلبی۔
ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسیہ، المعروف بتاریخ الخلفاء، چاپ علی شیری، بیروت 1410/1990
ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ، 1960
ابن حنبل، احمد، مسند الامام احمد بن حنبل، بیروت: دار صادر۔
اربلی، کشف الغمہ، ناشر مجمع جہانی اہل بیتؑ 1426ق۔
اصفہانی، ابو الفرج، مقاتل الطالبیین، چاپ احمد صقر، بیروت 1408ق۔
اصفہانی،ابو الفرج، مقاتل الطالبیین، نجف 1385ق۔
الامین، السید محسن، اعیان الشیعۃ، حققہ و اخرجہ السید محسن الامین، بیروت: دار التعارف للمطبوعات، 1418ق/1998م۔
البخاری، سہل، سر السلسلۃ العلویۃ، بہ کوشش محمد صادق بحرالعلوم، نجف: 1381ق/1962م۔
الزمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج1، قم، نشر البلاغہ، الطبعۃ الثانیۃ، 1415 ق۔
الطبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بی‌تا
الطوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، تہران، 1390۔
العاملی، جعفر مرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، قم، 1363ش۔
العطاردی، عزیزاللہ، مسند الامام المجتبی، قم: عطارد، 1373ش۔
القاب الرسول و عترتہ، در مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الائمہ۔
القرشی، موسوعۃ سیرۃ اہل البیت، ج10(الامام الحسن بن علیؑ، تحقیق: مہدی باقر القرشی، قم: دار المعروف، 1430ق/2009م۔
المحمودی، نہج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ، ج7، نجف: 1385ق/1965م۔
مسعودی، علی بن حسین، كتاب التنبیہ والاشراف، چاپ دخویہ، لیدن 1894
مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، چاپ شارل پلّا، بیروت 1965-1979
المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ خراسانی انتشارات علمیہ اسلامیہ 1380
المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، بیروت، 1414۔
المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، سعید بن جبیر، 1428ق
المفید، الجمل، ناشر مکتب الاعلام الاسلامی، 1371
بخاری، صحیح بخاری، ناشر دارالفکر
بلاذری، احمد، انساب الاشراف، بہ کوشش محمد باقر محمودی، بیروت، 1394ق۔
بلاذری، انساب الاشراف، بیروت: دار التعارف، 1397ق۔
ترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، چاپ عبد الوہاب عبداللطیف، بیروت، 1403/1983۔
جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، انتشارات انصاریان 1381
جوہری، احمد، السقیفہ و فدک، بہ کوشش محمد ہادی امینی، تہران، 1401ق/1981م۔
جوینی، فرائد السمطین، مؤسسہ المحمودی بیروت، 1980 م۔
حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، چاپ یوسف عبدالرحمان مرعشلی، بیروت 1406۔
خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایۃ الکبری، بیروت، 1406/1986
راضی یاسین، صلح الحسن، ترجمہ سید علی خامنہ‌ای، انتشارات گلشن چاپ سیزدہم 1378
رسائل الامام حسنؑ، بہ کوشش زینب حسن عبد القادر، قاہرہ، 1411ق/1991م۔
زمانی، احمد، حقایق پنہان، قم: دفتر تبلیعات اسلامی، چ 3، 1380۔
سیوطی، تاریخ الخلفاء، بی‌جا بی‌تا
سیوطی، جلال الدین، تاریخ الخلفاء، تحقیق: لجنۃ من الادباء، توزیع ‌دار التعاون عباس احمد الباز، مکۃ المکرمۃ۔
شوشتری، محمد تقی، رسالۃ فی تواریخ النبی، قم1423۔
شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیہ، قم 1412ـ1414۔
شہیدی، سید جعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تہران: مرکز نشر دانشگاہی، 1390ش۔
شیخ صدوق، امالی، انتشارات کتابخانہ اسلامی1362
شیخ صدوق، امالی، ترجمہ کمرہ‌ای 1363
شیخ صدوق، علل الشرایع، نجف، 1385ـ1386ق۔
شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، ترجمہ آقا نجفی۔
طبرسی، الاحتجاج انتشارات اسوہ 1413 ہ‍۔ق
عاملی، جعفر مرتضی، تحلیلی از زندگی امام حسن مجتبی، مترجم: سپہری، انتشارات دفتر تبلیغات، 1376
عقیقی بخشایشی، عبدالرحیم، چہاردہ نور پاک، تہران: 1381ش۔
علی بن ابراہیم قمی، تفسیر قمی، ناشر مکتبۃ الہدی نجف۔
قرشی، باقر شریف، الحیاۃ الحسن، ترجمہ فخر الدین حجازی، انتشارات بعثت، 1376۔
قرشی، باقر شریف، حیاۃ الامام الحسن بن علیؑ: دراسۃ و تحلیل، بیروت: 1413ق/1993م۔
کلینی، اصول کافی، دارالحدیث
كلینی، محمد بن یعقوب، الكافی، چاپ علی اكبر غفاری، بیروت 1401
مالقی، محمد، التمہید و البیان، بہ کوشش محمدیوسف زاید، قطر، 1405ق۔
مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار (ط - بیروت)،
مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، بیروت: مؤسسہ الوفا، 1403۔
مجموعہ مقالات ہمایش بین‌‌المللی سبط النبی، قم: مجمع جہانی اہل بیت، 1393۔
مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب۔
مقدسی، مطہر بن طاہر، مطہر البدء و التاریخ، قاہرہ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیہ۔
مقدسی، مطہر بن طاہر، کتاب البدء و التاریخ، چاپ کلمان ہوار، پاریس، 1899-1919۔
منتخب فضائل النبی و اہل بیتہ علیہم السلام من الصحاح الستۃ و غیرہا من الکتب المعتبرۃ عند اہل السنۃ، تقدیم: محمد بیومی مہران، بیروت: الغدیر، 1423/2002۔
نسائی، احمد بن علی، سنن النسائی، بشرح جلال‌ الدین سیوطی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ۔
نرم افزار جامع الاحادیث، نسخہ 3/5 مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور
نرم افزار نور السیرہ 2، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور۔
یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمد ابراہیم آیتی انتشارات علمی و فرہنگی 1362
Madelung, W۔, The Succession to Muhammad, Cambridge,
 1977۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک