امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

خط اور نقطہ وغیرہ علم عرفان میں کس معنی میں آتے ہیں، اور اس روایت " انا النقطۃ تحت الباء " کے کیا معنی ہیں؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

نقطه تحت با :: عرفان ابجد،اسرار حروف و اعداد در قرآن کریم
سوال
خط اور نقطہ وغیرہ علم عرفان میں کس معنی میں آتے ہیں، اور اس روایت " انا النقطۃ تحت الباء " کے کیا معنی ہیں؟
ایک مختصر

علم عرفان میں ، اعداد، حروف، اور اشکال وغیرہ ایک رمزی زبان کے طور پر عالم کے غیبی حقایق کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

 "نقطہ" سے مراد خداوند متعال کی وحدت حقیقیہ ہے کہ اس وحدت کی تصویر انسان کے دل کی گہرائیوں میں قرار دی گئی ہے۔ اس لحاظ سے انسان کامل عالم کا قطب اور مرکز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ خداوند متعال کی وحدت حقیقیۃ کا خلیفہ ہے اور یہ حضرت علی )ع( کا کلام ہے کہ فرمایا: "انا النطقطۃ تحت الباء " یہ اشارہ اسی جانب ہے۔
تفصیلی جوابات

۱۔ عرفان میں علم عدد اور حروف

 علم اعداد اور حروف قدیم زمانے سے ہی عرفانی مکاتب فکر کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ اس نکتے کی یاد آوری ضروری ہے کہ  ان علوم سے عرفاء کی مراد ہمارے عمومی تصور سے مافوق ہے۔ حقیقت میں اعداد ، حروف اور اشکال وغیرہ عالم کے غیبی حقایق کو  بیان کرنے کے لیے راز کی صورت میں استعمال کئے جاتے ہیں۔

عرفانی علم حروف اور اعداد کے بارے میں وسیع گفتگو ہے، اور کبھی ان علوم کو اپنی اصلی حقیقت سے الگ کرکے اور ان میں تحریف کرنے کے بعد خرافات اور قدیم اور جدید  جادو کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

 حرف درویشان بدزدد مرد و زن

تا بخواند بر سلیمی زان فسون[1]

 )درویشوں کی باتوں کو پست لوگوں نے چرایا تا کہ صحیح لوگوں پر اس کا جادو چلائیں(

 بے شک عرفاء کی نظر میں ان علوم کی حقیقت کا ایک خاص تقدس اور احترام ہے ، محی الدین بن عربی نے اپنی کتاب " الدر المکنون" میں لکھا ہے:

"حروف خداوند متعال کے خزانے ہیں اور ان میں خداوند متعال کے اسماء ، علم ، امر ، صفات اور قدرت کے راز پوشیدہ ہیں"۔ [2]

اس بات کی یاد آوری ضروری ہے کہ عرفان میں علم عدد کا علم حروف سے ایک بے واسطہ ربط ہے ، کیونکہ اس نظریہ کے مطابق ھر حرف کا ھر عدد کے ساتھ ایک خاص رابطہ ہے۔ اعداد حروف و کلمات کی روح جانے جاتے ہیں۔

 نزد اھل خرد و اھل عیان ،

حرف جسم و عدد اوست چو جان[3]

) اھل فکر اور حقیقت کی نظر میں حروف جسم اور عدد اس کی جان ہے۔ (

ھندسی شکلیں اور مسائل بھی ، اعداد کے نمود اور ان کے درمیان نسبتوں کے علاوہ کچھ اور نہیں ہیں جو خطوط اور اشکال کی صورت میں ظاھر ہوئے ہیں۔

عرفانی ادب میں ان اصطلاحات کے کچھ نمونے موجود ہیں جو ما فوق طبیعی اور غیبی مطالب کو بیان کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ تاکہ اس راہ کا سالک ایک محسوس اسلوب کے ذریعے ان حقایق کے ساتھ رابطہ برقرار کرے اور آہستہ آہستہ فکری اور نظری فہم کا درجہ حاصل کرکے شہودی ، غیبی اور باطنی مطالب کی جانب منتقل ہوجائے۔

 ابن عربی کتاب" انشاء الدوائر" کے مقدمے میں رقمطراز ہیں:

"خداوند سبحان نے اشیاء کے حقایق کو عینا میرے لیے نمایاں کردیا ہے اور مجھے ان حقایق اور ان کے درمیان موجود روابط اور نسبتوں سے مکاشفات کے ذریعے آگاہ کیاہے۔  میں نے چاہا انہیں حس اور اشکال کی صورت میں بیان کروں تا کہ ان لوگوں کےلئے، جن کی بصیرت ان امور کو درک کرنے سے کمزور اور قاصر ہے قابل فہم بناوں۔ [4]

عرفان میں نقطہ کے معنی

 اس رمزی زبان کا ایک نمونہ اصطلاح " نقطہ " کا استعمال ہے ، جس کی جانب اکثر عرفاء نے اپنے نثری اور نظمی آثار میں اشارہ کیا ہے ، اصطلاح " خال" بھی عرفانی اشعار میں "نقطہ وحدت " کی دوسری تعبیر ہے۔

 شبستری کی " گلشن راز " میں اس اصطلاح کی شرح یوں آئی ہے۔

بر آن رخ نقطہ خالش محیط است

کہ در اصل و مرکز دور محیط است[5]

)اس رخ پر جس پر خال کے نقطہ نے احاطہ کیا ہے اصل و مرکز اس احاطہ کا اطراف ہے(

اس بیت کی شرح میں کہا گیا ہے۔

خال)یا نقطہ (سے مراد خداوند متعال کی حقیقی وحدت ہے اور دور محیط سے وجود اور ھستی مراد ہے پس وحدت حقیقیہ، خداوند متعال کا غیر منفک جزء ہے جو وجود کا مرکز اور دائرہ ہے ، بہ الفاظ دیگر، خال کا نقطہ جو وحدت کا استعارہ ہے معشوق کے چہرے پر جو ذات حق کا استعارہ ہے،سے وابستہ ہے  اور وہ قابل تجزیہ نہیں ہے اس لحاظ سے وحدت حقیقی مرکز اور عالم وجود دائرہ کے اصل کی مانند ہے ، نقطہ خال جو کہ وحدت ہے اور دایرہ وجود عالم ملک اور ملکوت کی صورت میں ہے یعنی دونوں عالم کی ھستی اور وجود ، وحدت حقیقی کے وجود سے قائم ہے اس طرح نقطہ وحدت جو  عالم میں دائرہ کا مرکز ہے ، انسانی نفس ناطقہ اور انسان کے قلب کی صورت میں ظاھر ہوا ہے۔

 اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ انسانی دل کا سویدا )گہرائی( جو وجود کا سب سے مرکزی نقطہ ہے وحدت حقیقی خداوند کا آئینہ دار ہے۔

 ندانم خال اوعکس دل ماست

و یا دل عکس خال روی زیباست

 ز عکس خال او دل گشت پیدا

 و یا عکس دل آنجا شد ھویدا

دل اندر روی او یا اوست در دل

 بہ من پوشیدہ شد این کار مشکل[6]

[ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا خال میرےحسن دل کی تصویر ہے ، یا دل کی خوبصورتی خال کی تصویر ہے

اس کے خال کی تصویر سے میرا دل آشکار ہوا یا میرے دل کی تصویر وہاں پر واضح ہوئی

کیا دل اس کے اندر ہے یا وہ دل میں ہے، میرے اوپر یہ مشکل کام پوشیدہ رہا ہے][7]

اس بنا پر "نقطہ " خداوند سبحان کی وحدت حقیقیہ کا راز ہے اور اس وحدت حقیقیہ کی تصویر انسان کے دل میں رکھی گئی ہے اور اس لحاظ سے " انسان کامل" عالم امکان کا قطب اور مرکز قرار پایا ہے کیونکہ وہ خداوند متعال کی وحدت حقیقیۃ کا خلیفہ ہے۔

حدیث "انا النقطۃ تحت الباء" کے معنی

 حدیث " نقطہ " کی اصطلاح کا استعمال اور اس کے مشابہ تعبیرات حروف اور اعداد وغیرہ میں غیبی معانی کو بیان کرنے کےلئے، روایات میں بھی بیان کی گئی ہیں اور اس میں سب سے واضح حضرت علی )ع( کا قول ہے کہ فرمایا: ان کل ما فی العالم فی القرآن و کل ما فی القرآن باجمعہ فی فاتحۃ الکتاب، و کل ما فی الفاتحۃ فی البسملۃ و کل ما فی البسملۃ فی الباء و انا النقطۃ تحت الباء "[8]

جو کچھ عالم میں موجود ہے وہ قرآن میں موجود ہے اور جو کچھ قرآن میں موجود ہے وہ سورہ حمد میں موجود ہے جو کچھ سورہ حمد میں موجود ہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں موجود اور جو کچھ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں موجود ہے وہ "باء" میں موجود ہے اور میں باء کا نقطہ ہوں۔

اس روایت میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو کچھ عالم میں موجود ہے اس کی حقیقت قرآن میں جمع ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں پورا قرآن سمیٹا ہوا ہے۔

گزشتہ مطالب اور عرفان میں نقطہ کی اصطلاح ، نیز اس مقدمہ کو مد نظر رکھ کر کہ "انسان کامل"، "قرآن تکوینی" [9] ہے اور دوسری جانب عالم ھستی انسان کامل کی تفصیل ہے ) کیونکہ انسان عالَم صغیر ہے اور عالَم ،انسان کبیر ہے"[10]۔ پس حضرت علی )ع( کی روایت کے معنی یوں بیان کئے جاسکتے ہیں کہ میں وہ انسان کامل ہوں جس کا قلب و دل نقطہ وحدت حقیقہ الہیہ کا آئینہ ہے اور قرآن تکوینی کا مرکز ہے کیونکہ حضرت علی)ع(  نقطہ تحت الباء بسم اللہ الرحمن الرحیم ہیں اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پورے قرآن کا حامل ہے۔

"نقطہ تحت الباء " کے بارے میں یہ کہنا مناسب ہے کہ تحت الباء قوس نزول میں نقطہ کے تنزل ) جسے دوسری اصطلاح میں حقیقت محمدیہ کہتے ہیں ( کی طرف اشارہ ہے۔ [11]

سید حیدر آملی " نقطہ" کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:

اس لئے اس حقیقت کا نام نقطہ رکھا گیا ہے کہ یہ حقیقت عالَم  ھستی میں پہلا موجود متعین ہے جو اپنے تعین کی وجہ سے دوسرے تعینات کی پیدایش کا سبب ہے، جیسے نقطہ "باء" جو ایسا پہلا نقطہ ہے کہ جس نے "الف" کو، جس کی کوئی اسم اور رسم اور حد نہیں تھی ، "باء" کی شکل میں متعین کیا ۔ "باء" وہی " الف" ہے جس نے نقطہ کی وجہ سے "باء" کے تعین کا جامہ پہنا ہے ، امیر المومنین )ع( کا یہ کلام جس میں فرمایا: انا النقطۃ تحت الباء" اسی مطلب کی طرف اشارہ ہے. جیسے کہ نقطہ "باء" الف کے تعین کا اور اس کی پیدایش کا سبب ہوا ہے امیر المومنین )ع( بھی اسی نقطے کے مانند عالم میں ، وجود کے تعین کا سبب بنے ہیں اور حضرت علی )ع( کا یہ بیان کہ فرمایا :" لو شئت  لاوقرت سبعین بعیرا من تفسیر فاتحۃ الکتاب " اسی نکتے کی طرف اشارہ  ہے۔ اور اس کے معنی بھی یہی ہیں ۔یا دوسری حدیث میں فرمایا: "العلم نقطۃ کثرھا جھل الجھلاء"، علم ایک نقطہ جس کو جاھلوں کے جھل نے زیادہ کیا ہے۔ ان ہی معانی کی طرف اشارہ ہے۔اور عارفوں کے کلام کا بھی یہی مطلب ہے جو انھوں نے فرمایا:"ظھر الوجود من باء بسم اللہ الرحمن الرحیم" [12]

 یہاں پر ملا صدرا کے بعض مطالب جو انہوں نے نقطہ باء کی حقیقت کے بارے میں بیان کئے ہیں ، کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ان مقامات میں سے جو "سائر الی اللہ" کے لیے عبودیت کے قدم سے حاصل ہوتے ہیں، وہ مقام ہے کہ وہ اپنے عینی مشاھدہ سے پورے قرآن بلکہ پورے نازل شدہ صحیفوں اور سب موجودات کو باء بسم اللہ  کے نقطہ کے تحت  دیکھتا ہے ۔۔۔۔اس صورت میں  وجود بھی اپنے آپ کو اسی نقطے کے تحت جو باء بسم اللہ ہے، مشاھدہ کرتا ہے ہم قرآن کے حروف سے صرف اس کی سیاھی اور اس کا سواد مشاھدہ کرتے ہیں ، کیونکہ ہم ظلمت اور سیاھی کے عالم میں پلے ہیں ، جو مداد کا مادہ ہے اسے دیکھتے ہیں کیونکہ مدرِک اور مدرَک ہمیشہ ایک جنس سے ہیں چنانچہ آنکھ  صرف رنگوں کو دیکھتی ہے اور حس  صرف محسوسات کو سمجھ لیتی ہے اور خیال صرف متخیلات کا تصور کرتا ہے اور عقل صرف معقولات کو پہچان سکتی ہے اسی طرح نور صرف نور کے ذریعے ہی ادراک ہوسکتا ہے پس مافوق طبیعی موجودات محض نور ہیں وہ صرف بصیرت کی آنکھ  کے نور سے دیکھے جاسکتے ہیں ، اور )جس کے لیے خدا نور قرار نہیں دیتا ہے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے (

 "جو اس دنیا میں اعمی ہوگا وہ آخرت میں اعمی ہوگا" ، پس ہم اپنی آنکھ کی سیاھی سے صرف قرآن کا سواد دیکھتے ہیں اورجب ہم  اس وجود مجازی اور اس خطے سے جس کے لوگ ظالم ہیں باہر آئیں اور رسول[ص] کی جانب مہاجرت کریں اور نشات صوری حسی اور خیالی اور وھمی اور  عقل سے مرجائیں اور اپنے وجود سے خدا کے کلام کے وجود میں محو ہوجائیں تو محو و اثبات کے مرحلے میں داخل ہوں گے اور موت سے دوبارہ زندگی جاوداں میں پہنچ جائیں گے تو اس کے بعد قرآن کی صرف سیاھی نہیں دیکھیں گے بلکہ جو کچھ  قرآن سے دیکھیں گے وہ سفیدی اور نور اور محض نور دیکھیں گے۔ [13]

علم اعداد اور علوم غریبہ کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل عناوین ملاحظہ  ہوں:

 سوال نمبر ۱۰۶۲ )سائٹ : ۱۱۳۷(

 

[1]  مثنوی معنوی ، دفتر اول ، ص۱۸۔

[2]  منقول از ، حسن زادہ آملی ، تفسیر سدرۃ المنتھی ،  تفسیر بسم اللہ الرحمن الرحیم

[3]  شیخ بھایی ، ایضا

[4] فان اللہ سبھانہ لما عفتنی حقای الاشیائ علی ما ھی علیہ فی ذواتھا  و اطلعنی کشفا علی حقائق نسبتھا و اضافاتھا اردت ان ادخلھا فی قالب التشکل الحسی۔۔۔ لیتضح لمن کل بصرہ عن ادراکھا و لم تسبح دراری افکارہ فی افلاکھا" محی الدین ابن عربی ، انشاء الدوائر ، ص ۴ ، طبع لیدن ،

[5]  شبستری ، شیخ محمود ، گلشن راز ، ص ۷۴ ، انتشارات صفی علی شاہ ، ۱۳۷۸ ش۔

[6]  سویدا نقطہ سیاہ جو  کہ دل پر ہے،  دھخدا۔

[7]  شبستری ، شیخ محمود ، گلشن راز ایضا۔

[8]  بروجردی سید حسین، تفسیر الصراط المستقیم ، ج ۳، ص ۱۱۸، موسسہ انصاریان، ق، ۱۴۱۶ھ فی شرح توحید الصدوق للقاضی سعید القمی س ۳۲ ، مافی معناہ بتفاوت یسیر۔

[9]  "قرآن تکوینی " اور "قرآن تدوینی" کے بارے میں آثار حسن زادہ آملی کو ملاحظہ کیجئے۔

[10]  مھدی رضوانی پور اصول و مبانی تاویل قرآن از دیدگاہ امام خمینی۔

[11]  مستنبط ، سید احمد ، القطرہ ج ۱،ص ۱۷۷۔

[12]  و )تسمی ھذہ الحقیقۃ الکلیۃ ایضا( بالنقطۃ لانھا اول نقطۃ تعیں بھا الوجود المطق، و سمی بالوجود المضاف ، و ذلک کالنقطۃ  "الباء" مثلا، فانھا اول نقطۃ تعین بھا "الالف" فی مظاھرہ " ۱۰" الحروفیۃ و صار باء۔ و لھذا قال امیر المومنین ، علیہ السلام، " انا النقطۃ تحت الباء " "۲" و قال " لو شئت لاوقرت سبعین بعیرا مں باء بسم اللہ الرحمن الرحیم"  و قال " العلم نقطۃ کثرھا جھل الجھلاء" و قال بعض العارفین : " بالباء ظھر الوجود و بالنقطۃ تمیز العابد عن المعبود" و قال الآخر " ظھر الوجود مں باء بسم اللہ الرحمن الرحیم و امثال ذلک کثیرہ فی ھذا الباب ، ق قد بسطنا الکلام فی تفسیرھا و تحقیقھا فی رسالتنا المسماۃ ب"منتخب التاویل فی بیان کتاب اللہ و حروفہ و کلماتہ و آیاتہ" آملی ، سید حدیر ، نقد النقود، ص ۶۹۵ وزارت فرھنگ و آموزش عالی طبع اول ۱۳۶۸ ش۔

[13]  صدر المتالہین ، مفاتیح الغیب ص ۲۱ ، موسسہ تحقیقات فرھنگی۔

 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک