امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سوانح حیات

1 ووٹ دیں 01.0 / 5

علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سوانح حیات
حضرت علیؑ مردوں میں سب سے پہلے حضرت محمدؐ پر ایمان لائے۔[16] آپ شیعوں کے پہلے امام[17] اور اہل سنت کے چوتھے خلیفہ ہیں۔

ولادت سے ہجرت تک
امام علیؑ 13 رجب 30 عام الفیل بروز جمعہ (23 سال قبل از ہجرت) خانہ کعبہ کے اندر متولد ہوئے۔[18] کعبہ میں آپ کی ولادت کی روایت کو شیخ صدوق، شیخ مفید سید رضی، قطب راوندی و ابن شہرآشوب سمیت تمام شیعہ علماء اور حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی، ابن جوزی حنفی، ابن صباغ مالکی، حلبی اور مسعودی سمیت بیشتر سنی علماء متواتر (مسَلَّمہ) سمجھتے ہیں۔[19]

6 برس کی عمر میں (ہجرت سے 17 سال پہلے) جب مکہ میں قحط پڑا تو آپ کو آنحضرت کے گھر جبکہ آپ کے بھائی جعفر کو عباس بن عبد المطلب کے گھر جانا پڑا چونکہ آپ کے والد ابو طالب اس وقت اپنے کثیر العیال خانوادے کا خرچ اٹھانے سے قاصر تھے۔[20] امام علی نے اپنے ایک خطبہ میں اس دور میں آنحضرت کے نیک سلوک کی طرف اشارہ کیا ہے۔[21]

بعثت پیغمبر کے بعد (ہجرت سے 13 سال قبل) مردوں میں آپ و عورتوں میں حضرت خدیجہ سب سے پہلے آنحضرت پر ایمان لائیں۔[22] آپ اس وقت دس برس کے تھے اور پیغمبر کے ہمراہ مخفیانہ طور پر مکہ کے اطراف کے پہاڑوں میں نماز پڑھا کرتے تھے۔[23] جب آنحضرت نے علنی طور پر دعوت اسلام شروع کی اور حکم ہوا کہ اپنے اعزا کو اسلام کی دعوت دیں جسے دعوت ذو العشیرہ یا واقعہ یوم الدار کہتے ہیں، میں آپ نے آنحضرتؐ کی حمایت کی اور انہوں نے آپ کو اپنا بھائی، وصی و جانشین قرار دیا۔[24] ہجرت سے 6 سال قبل جب مسلمانوں کو مشرکین مکہ نے شعب ابی طالب میں محصور کر دیا اور ان کی خرید و فروش، آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی، اس عرصہ میں حضرت ابو طالب نے بارہا آنحضرت کی جگہ پر آپؑ کو سلایا۔[25] محاصرہ ختم ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد ہجرت سے تین سال پہلے جب آپ 19 سال کے تھے تو والد کے سایہ سے محروم ہو گئے۔[26] حضرت ابو طالب کے بعد حالات مسلمانوں کے لئے بدتر ہو گئے اور آنحضرت نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا۔ شب ہجرت میں جب آپ کی عمر 23 تھی، آپ مشرکین کی پیغمبر اکرم کے قتل کی سازش سے آگاہ ہونے کے باوجود ان کی جگہ پر سوئے۔ یہ شب لیلۃ المبیت کے نام سے مشہور ہے۔[27] آپ چند روز کے بعد آنحضرتؐ کے پاس جمع امانتوں کو واپس کرکے ایک گروہ کے ساتھ حضرت فاطمہ و فاطمہ بنت اسد کے ہمراہ مدینہ گئے۔[28]

ہجرت کے بعد
مدینہ ہجرت کرتے وقت آنحضرت نے مقام قبا میں تقریبا 15 دن تک رک کر حضرت علی اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد کا انتظار کیا۔[29] مدینہ میں مسجد النبی کی تعمیر کے بعد آنحضرتؐ نے اپنے پہلے خطبے میں مہاجرین و انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور حضرت علی کو اپنا بھائی بنایا۔[30] سنہ 2 ہجری میں مسلمانوں و مشرکین کے درمیان جنگ بدر پیش آئی۔ دشمن کی فوج کے بہت سے افراد جن میں سردار بھی شامل تھے، حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہوئے۔[31] جنگ بدر کے بعد[32] آپ نے 25 برس کی عمر میں حضرت فاطمہ سے شادی کی[33] جبکہ ان کے اور بھی طلبگار تھے۔[34] آنحضرت نے بذات خود صیغہ عقد جاری کیا۔[35]

سنہ 3 ہجری مین مشرکین نے جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لئے جنگ احد مسلمانوں پر تحمیل کی۔[36] آپ ان افراد میں سے تھے جنہوں کے جنگ کو ترک نہیں کیا اور آنحضرت کا دفاع کرتے رہے۔[37] نقل ہوا ہے کہ اس جنگ میں آپ کو 16 زخم لگے۔[38] شیخ کلینی و طبری کے مطابق، یہ مشہور جملہ: سَیفَ اِلّا ذوالفَقار، لا فَتی اِلّا عَلیّ اس جنگ میں حضرت جبرئیل نے آپ کی مدح میں کہا ہے۔[39] اسی سال آپ کے بڑے بیٹے امام حسن کی ولادت ہوئی۔[40] سنہ 4 ہجری میں جب آپ کی عمر 27 سال تھی، آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات ہوئی۔[41] آپ کے دوسرے فرزند امام حسین کی ولادت اسی سال میں ہوئی۔[42]

سنہ 5 ہجری میں جنگ خندق پیش آئی[43] اور حضرت علی کی شجاعت کی وجہ سے عمرو بن عبدود کے قتل پر اس کا خاتمہ ہوا۔[44] اسی سال آپ کی بیٹی حضرت زینب کی ولادت ہوئی۔[45] سنہ 6 ہجری میں آنحضرت و کفار کے درمیان صلح حدیبیہ ہوئی، جس کی کتابت آپ نے کی۔[46] اسی سال آپ کی دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم کی ولادت ہوئی۔[47] اس سال کے ماہ شعبان میں آنحضرت نے سریہ فدک و یہودیوں کے سرکوبی کے لئے آپ کو منتخب کیا۔[48] سنہ 7 ہجری میں جنگ خیبر پیش آئی۔[49] اس جنگ میں آپ پرچم داروں میں سے تھے[50] اور آپ ہی کے پرچم تلے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔[51] سنہ 8 ہجری 31 برس کی عمر میں فتح مکہ کے موقع پر آپ فوج کے سرداروں میں سے تھے[52] اور آپ نے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑنے آنحضرت کی نصرت کی۔[53]

سنہ 9 ہجری میں جنگ تبوک پیش آئی۔ آنحضرت نے پہلی بار حضرت علی کو مدینہ میں اپنے جانشین و اپنے خانوادے کی محافظت پر مامور کیا۔ یہ واحد جنگ ہے جس میں امیر المومنین نے شرکت نہیں کی۔[54] مشرکین کی طرف سے پھیلائی گئی افواہ کے بعد آپ نے خود کو آنحضرت تک پہچایا اور انہیں اس ماجرا سے آگاہ کیا۔ آنحضرت نے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو حضرت موسی سے تھی۔[55] یہ قول حدیث منزلت کے نام سے مشہور ہے۔[56] اسی سال آپ کو آنحضرت نے مکہ کے مشرکین کے اجتماع میں آیات برائت کے ابلاغ کے لئے مقرر کیا[57] اور آپ نے روز عید الاضحی بعد از ظہر ان آیات کو ابلاغ کیا۔[58] 24 ذی الحجہ سنہ 9 ہجری[59] میں آنحضرت نے علی، فاطمہ حسن و حسین کے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کا اعلان کیا۔[60] سنہ 10 ہجری میں آنحضرت نے حضرت علی کو اہل یمن کو دعوت اسلام دینے کے لئے وہاں بھیجا۔[61] اسی سال آنحضرت حج کے لئے تشریف لے گئے۔[62] حضرت علی یمن سے روانہ ہوئے اور مکہ میں آپ ؐ سے ملحق ہو گئے۔[63] آنحضرت نے حج سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر آپ کو اپنا وصی و جانشین قرار دیا۔[64] یہ واقعہ غدیر خم کے نام سے مشہور ہے، اس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی۔

رحلت پیغمبر اکرمؐ کے بعد
سنہ 11 ہجری میں آنحضرت ؐ نے وفات پائی۔[65] شیعوں کے مطابق، حضرت علی رحلت پیغمبر کے بعد 24 سال کی عمر میں امامت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ امام علی آنحضرت کی تکفین و تجہیز میں مشغول تھے کہ ایک گروہ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنا دیا۔ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بعد ابتداء میں حضرت علی نے ان کی بیعت نہیں کی[66] لیکن بعد میں آخرکار بیعت کر لی۔[67] شیعوں کا ماننا ہے کہ یہ بیعت اجباری تھی[68] اور شیخ مفید کا ماننا ہے کہ امام علی نے ہرگز بیعت نہیں کی۔[69] [70] شیعوں کے مطابق، خلیفہ کے ساتھیوں نے امام علی سے بیعت لینے کے لئے ان کے گھر پر حملہ کیا[71] جس میں حضرت فاطمہ زخمی ہوئیں اور ان حمل ساقط ہو گیا۔[72] اسی زمانہ میں حضرت ابوبکر نے باغ فدک کو غصب کر لیا[73] اور حضرت ان کا حق لینے کے لئے اٹھے۔[74] حضرت فاطمہ گھر پر ہونے والے حملے کے بعد مریض ہو گئیں اور کچھ عرصہ کے بعد سنہ 11 ہجری میں شہید ہو گئیں۔[75]

سنہ 13 ہجری میں حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی۔[76] ان کی وصیت کے مطابق عمر بن خطاب خلیفہ بنے۔[77] سنہ 14 ہجری محرم میں حضرت عمر ساسانیوں سے جنگ کے لئے مدینہ سے خارج ہوئے اور صرار نامی مقام پر پڑاو ڈالا۔ انہوں نے امام علی کو مدینہ میں اپنی جگہ قرار دیا تا کہ وہ خود اس جنگ کی فرماندہی اپنے ذمے لیں۔ لیکن بعض صحابہ و امام علی سے مشورہ کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور سعد بن ابی وقاص کو جنگ کے لئے بھیجا۔[78] معادی خواہ نے ابن اثیر سے منقول قول سے استناد کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ دوسری خلافت کے زمانہ میں اس کے ابتدائی سالوں کے بعد سے منصب قضاوت کے مالک تھے۔[79] [80] سنہ 16 ہجری یا سنہ 17 ہجری میں[81] امام علی کے مشورے کو حضرت عمر نے قبول کرکے پیغمبر کی مدینہ ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا۔[82] [83] سنہ 17 ہجری[84] میں عمر فتح بیت المقدس کے لئے شام روانہ ہو گئے اور امام علی کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دیا۔[85] [86] اسی سال[87] عمر نے اصرار اور دھمکی سے علی و فاطمہ کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی۔[88] [89] سنہ 18 ہجری میں ایک بار پھر عمر نے شام کے سفر میں امام علی کو مدینہ میں اپنا جانشین معین کیا۔[90] عمر نے حملے کے بعد اور مرنے سے پہلے سنہ 23 ہجری[91] میں اپنے بعد خلافت کے لئے ۶ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔[92] جس میں حضرت بھی شامل تھے۔[93] اس میں انہوں نے عبد الرحمن بن عوف کو تعیین کنندہ شخص کا درجہ دیا۔ عبد الرحمن نے پہلے امام علی سے چاہا کہ کتاب خدا و سنت پیغمبر و سیرت شیخین پر عمل کی شرط پر خلافت کو قبول کر لیں لیکن آپ نے سیرت شیخین کو قبول نہیں کیا اور جواب دیا کہ میں اپنے علم و استعداد و اجتہاد سے کتاب خدا و سنت پیغمبر پر عمل کروں گا۔[94] اس کے بعد عبد الرحمن نے عثمان کو ان شرطوں کے ساتھ خلافت کی دعوت دی انہوں نے قبول کر لیا تو انہیں خلافت مل گئی۔[95] [96] [97]

معادی خواہ ابن جوزی کی کتاب المنتظم سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں: حضرت علی سنہ 24 ہجری میں بھی قضاوت کے منصب پر فائز تھے۔[98] سنہ 25 ہجری میں[99] حضرت عثمان نے قرآن کی جمع آوری و تدوین کا حکم دیا۔[100] سیوطی نے امام علی سے نقل کیا ہے کہ تدوین و جمع آوری قرآن کا کام ان کے مشورہ پر انجام دیا گیا ہے۔[101] [102] سنہ 26 ہجری میں آپ کے پانچویں فرزند عباس بن علی کی ولادت ہوئی۔[103] سنہ 35 ہجری میں مدینہ میں لوگوں نے ناراض ہو کر عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔[104] امام علی محاصرہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھے۔[105] معادی خواہ نے اس سفر کو ینبع کی طرف ذکر کیا ہے جو حضرت عثمان کی خواہش پر ہوا تھا۔[106] اہل سنت مصادر کے مطابق امام علی نے حسنین کو خلیفہ کی حفاظت پر مامور کیا تھا[107] لیکن آخرکار شورشیوں نے انہیں قتل کر ڈالا[108] اور ان کے قتل کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا رخ کیا تا کہ وہ خلافت کو قبول کر لیں۔[109]

دوران حکومت
حضرت علی ماہ ذی الحجہ سنہ 35 ہجری میں قتل عثمان کے بعد خلیفہ بنے۔[110] [111] عثمان کے بعض قریبیوں اور بعض اصحاب پیغمبر جنہیں قاعدین کہا جاتا ہے،[112] کے علاوہ مدینہ میں موجود تمام صحابہ نے آپ کی بیعت کی۔[113] آپ نے اپنی خلافت کے دو دن بعد اپنے اولین خطبے میں عثمان کے زمانہ مین ناحق قبضہ کئے گئے اموال[114] کو واپس کرنے اور بیت المال کی عادلانہ تقسیم کا حکم دیا۔[115] سنہ 36 ہجری میں طلحہ و زبیر نے آپ کی بیعت کو توڑ دیا اور مکہ میں عائشہ کے ساتھ ملحق ہو گئے[116] جو خون عثمان کا انتقام لینے کے لئے اٹھی تھیں، اس کے بعد انہوں نے بصرہ کی سمت حرکت کی۔[117] اس طرح جنگ جمل، آپ سے ہونے والی[118] اور مسلمانوں کی پہلی داخلی جنگ ہوئی[119] جو امام علی و ناکیثن (بیعت توڑنے والے) کے درمیان بصرہ میں ہوئی۔[120] طلحہ[121] و زبیر[122] اس جنگ میں مارے گئے اور عائشہ کو مدینہ واپس بھیج دیا گیا۔[123] آپ پہلے بصرہ گئے اور آپ نے وہاں عمومی معافی کا اعلان کیا[124] اور رجب سنہ 36 ہجری میں کوفہ گئے اور اسے مرکز خلافت قرار دیا۔[125] اسی سال امام نے معاویہ کو بیعت حکم دیا اس کے انکار کے بعد آپ نے اسے شام کی حکومت سے معزول کر دیا۔[126] ماہ شوال سنہ 36 ہجری میں آپ نے شام پر لشکر کشی کی۔[127] صفین کے علاقہ میں جنگ صفین سنہ 36 ھ کے اواخر اور سنہ 37 ہجری کے اوائل میں واقع ہوئی۔[128] معادی خواہ کا ماننا ہے کہ ماہ صفر سنہ 37 ھ کے برخلاف جسے طبری و ابن اثیر نے ذکر کیا ہے، اوج جنگ سنہ 38 ہجری میں ہوئی ہے۔[129] [130] جب امام علی کی فوج جنگ جیت رہی تھی[131] تو معاویہ کی فوج نے عمرو عاص کی چال سے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا تا کہ وہ ان کے درمیان حکم کرے۔[132] امام نے مجبوری میں اپنی فوج کے باغیوں کے فشار کے تحت حکمیت کو قبول کر لیا اور ان کے اجبار کی وجہ سے ابو موسی اشعری کو حکم قرار دیا۔[133] لیکن حکمیت کو قبول کرنے کے کچھ ہی دیر بعد امام پر نئے اعتراضات ہونے لگے۔[134] بعض لوگوں نے سورہ مائدہ کی آیت 44 و سورہ حجرات کی آیت 9 سے استدلال کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور حکمیت قبول کرنے کو کفر مانتے ہوئے اس سے توبہ کیا۔[135] تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے کچھ دیر پہلے امام کو حکمیت کے لئے مجبور کیا تھا۔[136] انہوں نے امام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کفر سے توبہ کریں اور معاویہ کے ساتھ ہوئے وعدہ کو نقض کریں۔ لیکن امام نے نقض حکمیت کو قبول نہیں کیا[137] اور کہا حکمین کے قرآن کے مطابق حکم نہ کرنے صورت میں جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے۔[138]

حکمیت کے وقت ابو موسی اشعری نے امام علی و معاویہ دونوں کو خلافت سے معزول کر دیا۔[139] نگاه کریں: ابن ابی ‏الحدید، شرح نهج البلاغة، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۲۵۵. اس کے بعد عمرو عاص نے معاویہ کو خلافت پر باقی رکھا۔[140] حکمیت کے بعد[141] [142] امام کے ماننے والوں میں سے ایک گروہ نے اس بات کی مخالفت کی اور اسے دین سے برگشت سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان میں شک کیا۔[143] اس دوران ایک گروہ جو خوارج کی بنیادی افراد میں سے تھے انہوں نے قبول حکمیت کو کفر کہا اور وہ سپاہ امام سے جدا ہو گئے اور کوفہ کے بجائے حرورا چلے گئے۔[144]

خوارج کے اعتراضات صفین کے 6 ماہ بعد تک جاری رہے۔ اسی وجہ سے امام نے عبد اللہ بن عباس اور صعصعہ بن صوحان کو ان کے پاس گفتگو کے لئے بھیجا لیکن ان لوگوں نے ان دونوں کی بات نہیں سنی اور لشکر میں واپس آنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے۔ اس کے بعد امام نے ان سے کہا کہ وہ بارہ افراد کا انتخاب کر لیں اور امام بھی بارہ افراد کے ہمراہ ان سے گفتگو کے لئے بیٹھے۔[145] امام نے ان کے سرداروں کے خطوط بھی لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مومنین کی طرف لوٹ آئیں لیکن عبد اللہ بن وہب نے صفین کا تذکرہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ علی دین سے خارج ہو چکے ہیں انہیں توبہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد بھی امام نے بارہا قیس بن سعد و ابو ایوب انصاری جیسے افراد کو ان کے پاس بھیجتے رہے، انہیں اپنی طرف بلاتے رہے اور انہیں امان بھی دی[146] اور جب ان کے تسلیم ہونے سے مایوس ہو گئے تو ٓآپ نے چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ آپ نے تاکید کہ کوئی بھی جنگ شروع نہیں کرے گا اور آخر میں نہروان والوں نے جنگ شروع کی۔[147] آغاز جنگ کے ساتھ ہی نہایت سرعت سے تمام خوارج قتل یا زخمی ہوگئے، زخمیوں میں سے چار سو افراد کو ان کے گھر والوں کے حوالے کیا گیا۔ امام کے لشکر میں سے دس سے بھی کم افراد شہید ہوئے۔ نہروان میں خوارج میں سے دس سے کم افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے ان میں سے ایک عبد الرحمن بن ملجم مرادی،[148] قاتل امام بھی تھا۔ ابن ملجم مرادی نے آپ کو 19 رمضان سنہ 40 ہجری فجر کے وقت کوفہ میں اپنی شمشیر سے زخمی کیا اور آپ اس کے دو روز بعد 21 رمضان میں 63 برس کی عمر میں شہید ہوئے اور مخفیانہ طور پر دفن ہوئے۔[149]
---
حوالہ جات:
۔
 نسائی، السنن الکبری، ۵:‎ ۱۰۷؛ ابن ابی‌ الحدید، شرح نهج‌ البلاغہ، ۱:‎ ۱۵؛ آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، ۶۵؛ ابن ابی‌ الحدید، شرح نهج‌ البلاغہ، ۱:‎ ۳۰۔
 مفید، الارشاد، ۱:‎ ۲۔
 مفید، الارشاد، ج 1، ص 5 (کتب خانہ اہل بیتؑ میں موجود سی ڈی، نسخۂ دوئم)۔
 امینی، ج 6، ص 21-23۔
 ابن هشام، السیرة النبویہ، ۱:‎ ۱۶۲۔
 شہیدی، ترجمہ نهج‌ البلاغہ، ۲۲۲۔
 مصاحب، دایرة المعارف فارسی، ۲:‎ ۱۷۶۰۔، شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۳۔
 معادی خواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۶۴۔، مصاحب، دایرة المعارف فارسی، ۲:‎ ۱۷۶۰۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۸۰۔
 شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۴۔
 قنوات، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۹۹۔
 شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۴؛۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۱۵۵-۱۵۸؛ مصاحب، دایرة المعارف فارسی، ۲:‎ ۱۷۶۰۔
 رجبی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۶۱۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۱۸۸۔
 عاملی، الصحیح، ۵:‎ ۶۰؛ قنوات، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۶۶؛ شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۶۔
 ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبین، ۵۹۔
 طبری، تاریخ طبری، ۲:‎ ۴۱۰۔
 ابن سعد، طبقات الکبری، ۸:‎ ۱۶؛ قزوینی، فاطمة الزهراء، ۱۹۲۔
 ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌ طالب، ۳:‎ ۳۵۰۔
 شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۶۔
 شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۱۴۔
 مصاحب، دایرة المعارف فارسی، ۲:‎ ۱۷۶۰۔
 طبری، تاریخ طبری، ۳:‎ ۱۰۲۷؛ کلینی، کافی، ۱۱۰؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۲:‎ ۱۰۷۔
 کلینی، کافی، ۱:‎ ۴۶۱؛ طبری، تاریخ طبری، ۲:‎ ۵۳۷؛ مفید، الارشاد، ۲:‎ ۵۔
 این جوزی، تذکرة الخواص، ۶۔
 یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ۲:‎ ۲۴۶؛ دولابی، الذریة الطاهرة، ۱۰۲؛ طبری، تاریخ طبری، ۲:‎ ۵۵۵؛ مفید، الارشاد، ۲:‎ ۲۷۔
 ابن هشام، السیرة النبویہ، ۳:‎ ۲۲۴؛ طبری، تاریخ طبری، ۲:‎ ۵۶۴۔
 واقدی، المغازی، ۲:‎ ۴۷۱-۷۷۰؛ ابن هشام، السیرة النبویہ، ۳:‎ ۲۳۷-۲۳۴؛ طبری، تاریخ طبری، ۲:‎ ۵۷۴-۶۷۳؛ مفید، الارشاد، ۱۰۹-۹۸؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱:‎ ۳۸۲-۳۷۹۔
 ابن اثیر، اسد الغابہ، ۶:‎ ۱۳۲؛ کحالہ، اعلام النساء، ۲:‎ ۹۱۔
 ابن هشام، السیرة النبویہ، ۲:‎ ۷۷۶۔
 ذهبی، اعلام النبلاء، ۳:‎ ۵۰۰؛ دخیل، اعلام النساء، ۲۳۸۔
 طبری، تاریخ طبری، ۲:‎ ۶۴۲۔
 ابن هشام، السیرة النبویہ، ۳:‎ ۳۵۵-۳۴۲؛ ابن حبیب، کتاب المحبر، ۱۱۵۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۶۷۴۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۶۷۸۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۷۸۹۔
 ابن طاووس، الطرائف، ۱:‎ ۸۰۔
 مفید، الارشاد، ۱:‎ ۱۵۶؛ ابن هشام، السیرة النبویہ، ۴:‎ ۱۶۳۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر بعثت)، ۹۲۶۔
 ابن حنبل، مسند، ۱:‎ ۲۷۷؛ ابن حنبل، مسند، ۳:‎ ۴۱۷؛ ابن حنبل، مسند، ۷:‎ ۵۱۳؛ بخاری، صحیح بخاری، ۵:‎ ۱۲۹؛ مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ۲:‎ ۱۸۷۰-۱۸۷۱؛ تزمذی، سنن ترمذی، ۵:‎ ۶۳۸، ۶۴۰-۶۴۱؛ نسائی، سنن نسائی، ۶۱-۵۰؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۳:‎ ۱۳۴-۱۳۳؛ طبری، الریاض النضرة، ۳:‎ ۱۱۹-۱۱۷؛ ابن کثیر، البدایة و النهایة، ۵:‎ ۸-۷؛ هیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ۹:‎ ۱۱۰؛ عینی، عمدة القاری، ۱۶:‎ ۳۰۱؛ سیوطی، تاریخ الخلفاء، ۱۶۸؛ سیوطی، الدر المنثور، ۳:‎ ۲۳۶، ۲۹۱؛ متقی، کنز العمال، ۱۳:‎ ۱۶۳، ۱۷۲-۱۷۱؛ میر حامد حسین، عبقات الانوار، ۲:‎ ۵۹-۲۹؛ شرف‌ الدین، المراجعات، ۱۳۰؛ حسینی میلانی، نفحات الازهار، ۱۸:‎ ۴۱۱-۳۶۳۔
 رجبی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۲۰۹۔
 شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۲۱۱۔
 ابن شهر آشوب، مناقب، ۳:‎ ۱۴۴۔
 مکارم شیرازی، نفسیر نمونہ، ۲:‎ ۵۸۲؛ رجبی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۲۱۳۔
 عاملی، سیره النبی، ۴:‎ ۳۱۹۔
 طبری، تاریخ طبری، ۳:‎ ۱۴۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ۲:‎ ۱۳۱؛ واقدی، المغازی، ۳:‎ ۱۰۸۹۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۷۔
 عیاشی، کتاب التفسیر، ۱:‎ ۴۔
 شهیدی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۲۱۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۸۵۔
 مجلسی، بحار الانوار، ج۲۸، ص۲۹۹؛ مجلسی، مرآة العقول، ج۵، ص۳۲۰۔
 دینوری، الامامة والسیاسة، ۱:‎ ۳۰-۲۹؛ مسعودی، مروج الذهب، ۱:‎ ۶۴۶. طبری، تاریخ طبری، ج۴، ص ۱۳۳۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج ۱، ص ۵۸۶ ـ ۵۸۷۔
 شيخ مفيد، الفصول المختاره، ص ۴۰ و ۵۶ به بعد۔
 فاطمی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۴۰۷۔
 جوهری بصری، السقیفة و فدک، ۱۴۱۳ق، ص۷۲ و ۷۳۔
 طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۶ق، ج۱، ص۱۰۹۔
 استادی، دانشنامہ امام علیؑ، ۸:‎ ۳۶۶۔
 مجلسی، بحار الانوار، دار الرضا، ج۲۹، ص۱۲۴۔
 طبری امامی، دلائل الامامة، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۴۔
 یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۱۳۶-۱۳۸؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۴۱۹-۴۲۰؛ ابن حبان، کتاب الثقات، ۱۳۹۳ق، ج۲، ص۱۹۱، ۱۹۴۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۳۲۲و۳۳۱۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۳۷۹۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۴۴۱۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۳۴۸۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۴۵۳۔
 یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۱۴۵۔
 مسعودی، مروج الذهب، ۴:‎ ۳۰۰؛۔
 بلاذری، ص۱۳۹۔
 طبری،ج۵، ص۲۵۱۹-۲۵۲۰۔
 معادی خواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۴۷۵-۴۷۶۔
 نویری، نهایہ الارب، ۱۴۲۳ق، ج۱۹، ص۳۴۷۔
 کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۵، ص۳۴۶؛ طوسی، تهذیب الاحکام، ۱۳۶۴ش، ج۸، ص۱۶۱؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۹۷؛ مفید، المسائل العکبریہ، ۱۴۱۴ق، ص۶۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۲۰ق، ص۱۸۹۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۴۹۶۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۵۱۳۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (گسترش قلمرو خلافت اسلامی)، ۵۴۰۔
 ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۳۴۴۔
 سیوطی، تاریخ الخلفا، ۱۴۱۳ق، ص۱۲۹۔
 ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۶ق، ج۳، ص۷۱۔
 دینوری، الامامة والسیاسة، ۱:‎ ۴۶-۴۴۔
 زرکلی، الاعلام، ۴، ۲۱۰۔
 ابن عبد البر، الاستیعاب، ۳، ۱۰۴۴۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (روزگار عثمان)، ۱۴۶۔
 معرفت، التمهید، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۴۳-۳۴۶۔
 معرفت، التمهید، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۳۸و۳۳۹۔
 معرفت، التمهید، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۴۱۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (روزگار عثمان)، ۵۱۵۔
 زجاجی کاشانی، سقای کربلا، ۱۳۷۹ش، ص۸۹-۹۰؛ امین، اعیان الشیعه، ۱۴۰۶ق، ج۷، ص۴۲۹۔
 دینوری، امامت و سیاست، ۶۱۔
 دینوری، امامت و سیاست، ۵۸-۵۷۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (روزگار عثمان)، ۷۷۳۔
 دینوری، امامت و سیاست، ۵۸-۵۷، ۶۴۔
 ابن عبد البر، الاستیعاب،۔
 نک: ابن مزاحم، وقعة صفین/ترجمہ، ص:۲۷۱۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۴۹۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر علوی)، ۱:‎ ۵۸۔
 جودکی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ص۱۵-۱۶۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۴۹۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۵۳۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۵۴۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۶۴۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۶۶۔
 طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۸ش، ص۴۲۔
 دلشاد تهرانی، سودای پیمان‌شکنان، ۱۳۹۴ش، ص۱۴۔
 بلاذری، جمل من أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ش، ج۳، ص۴۱؛ حموی‌، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ذیل کلمه «خُرَیبَة»؛ سمعانی، الأنساب، ۱۴۰۰ق، ج۱۲، ص۱۸۰۔
 دینوری، اخبار الطوال، ۱۵۰۔
 طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۹۷۰م، ج۴، ص۵۱۱۔
 مسعودی، مروج الذهب، ۲:‎ ۳۷۰۔
 ملکی میانجی، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ صص۱۳-۱۴۔
 دینوری، اخبار الطوال، ۱۵۴۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر علوی)، ۱:‎ ۲۳۳-۲۳۶۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر علوی)، ۲:‎ ۹۱۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر علوی)، ۱:‎ ۱۹۴۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر علوی)، ۱:‎ ۱۹۴-۱۹۷۔
 معادیخواه، تاریخ اسلام (عصر علوی)، ۱:‎ ۲۱۱-۲۱۲۔
 جعفری، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۲۱۳-۲۱۴۔
 جعفری، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۲۱۰-۲۱۱۔
 جعفری، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۲۱۱-۲۱۶۔
 جعفری، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۲۱۶-۲۱۷۔
 بلاذری، انساب الأشراف، ج۲، ص۳۴۹۔
 جعفری، دانشنامہ امام علیؑ، ۹:‎ ۲۱۶-۲۱۷۔
 بلاذری، انساب الأشراف، ج۲، ص۳۵۹۔
 بلاذری، انساب الأشراف، ج۲، ص۳۴۹۔
 امین، اعبان‌الشیعہ، ۱:‎ ۵۱۱۔
 نگاه کریں: ابن ابی ‏الحدید، شرح نهج البلاغة، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۲۵۶۔
 نگاه کنید به: ابن ابی ‏الحدید، شرح نهج البلاغة، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۲۵۶۔
 نصر بن مزاحم، وقعة صفین، ۱۴۰۴ق، ص۴۸۴؛ ابن قتیبة الدینوري، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۱۰۴؛ بلاذري، انساب الأشراف، ج۳، ص۱۱۰۔
 سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، ج۵، ص۷۵۔
 نصر بن مزاحم، وقعة صفین، ۱۴۰۴ق، ص۴۸۴؛ بلاذری، انساب الأشراف، ج۳، ص۱۱۱-۱۱۲۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۵۲۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۷۰۔
 دینوری، اخبار الطوال، ۲۱۰۔
 بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۷۳-۳۷۵۔
 المفید، الارشاد، ج۱، ص۹ (نسخہ موجود در لوح فشرده کتابخانہ اهل بیت، نسخہ دوم)۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک