امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

کتاب من لا یحضرہ الفقیہ

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

کتاب من لا یحضرہ الفقیہ مکتب تشیع میں احادیث کی ایک بنیادی کتاب جانی جاتی ہے اور اسے کتب اربعہ میں سے شمار کیا جاتا ہے۔

کسی شخص کی فقیہ تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں پیش آنے والے شرعی مسائل کی جواب دہی کیلئے شیخ صدوق نے صحیح اور موثق احادیث کی بنیاد پر اس کتاب کو تالیف کیا۔
من لا یحضر الفقیہ شیخ صدوق کی اہم ترین تالیفات میں سے شمار ہوتی ہے۔ کتاب کی تالیف میں ابتدائی صدیوں کے شیعہ فقہا کی روش کی مانند صرف آئمہ طاہرین کی روایات کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں کافی کے برعکس صرف فقہی احکام سے متعلق 6000 ہزار احادیث اکٹھی کی گئی ہیں۔ یہ کتاب شروع سے ہی شیعہ فقہا کی نظر میں بہت اہمیت کی حامل رہی ہے اور اس پر کئی شروحات لکھی گئیں جن میں مجلسی اول کی روضۃ المتقین معروف ترین شرح سمجھی جاتی ہے۔
شیخ صدوق نے اس کتاب میں حریز بن عبداللہ سجستانی، شیخ اجل حلبی، علی بن مہزیار اہوازی، احمد بن محمد بن عیسی، ابن ابی عمیر، برقی و حسین بن سعید اہوازی کی کتابوں سے احادیث کا استخراج اور جمع آوری کی ہے۔

مؤلف
شیخ صدوق
اس کتاب کے مؤلف شیخ صدوق کے لقب سے معروف محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی (305-381 ھ) ہیں جو چوتھی صدی کے بزرگ ترین شیعہ علما میں سے سمجھے جاتے ہیں اور حدیثی رجحان کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ آپکے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ نے 300 کتابیں تالیف کیں جن میں سے اکثر اس وقت ہماری دسترس میں نہیں ہیں۔ مذکورہ کتاب کے علاوہ معانی الاخبار، عیون الاخبار، خصال، علل الشرائع اور صفات الشیعہ آپ کی اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔
موضوع
اس کتاب میں شیخ صدوق نے فقہی اور شرعی احکام سے متعلق آئمہ طاہرین کی روایات اپنے اعتقاد کے مطابق صحیح اور معتبر کی صورت میں جمع کیں ہیں۔
اہمیت
شیخ صدوق کے اہم ترین آثار میں من لا یحضر الفقیہ کو گنا جاتا ہے اور علمائے تشیع کے نزدیک چار حدیثی مجموعوں میں سے ایک ہے نیز ہر عام و خاص کے نزدیک اس کتاب کو ایک مرجع اور ماخذ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بہت سے علما نے اس کتاب کی شرحیں اور حاشیے لکھیں۔ اس کتاب کا فارسی زبان میں ترجمہ موجود ہے۔ شیخ صدوق کے موجود آثار میں سے من لا یحضر الفقیہ شیعہ مذہب کے فقہی اور احکام کی ایک جامع کتاب ہے۔ شیخ صدوق کے دیگر آثار عام طور پر موضوعی اعتبار سے مرتب ہیں جن میں اس موضوع سے متعلق روایات کی جمع آوری کی گئی ہے۔
اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ شیخ صدوق کی دیگر تالیفات کی نسبت اس کتاب میں مذکور مطالب کے متعلق زیادہ اعتماد اور اطمینان پایا جاتا ہے۔
شیخ صدوق نے اس کتاب کے مقدمے میں یوں تحریر کیا ہے:
یہ بات میرے پیش نظر تھی کہ جن روایات کی بنا پر میں فتوا دیتا ہوں اور حکم شرعی بیان کرتا ہوں انہیں اکٹھا کروں
اور ان روایات کے بارے میں میرا یہ اعتقاد ہے کہ یہ میرے اور خدا کے درمیان حجت ہیں نیز میں نے ان روایات کو مشہور اور مورد اعتماد کتابوں سے نقل کیا ہے۔[1]
اس لحاظ سے یہ کتاب اگرچہ روائی سمجھی جاتی ہے لیکن شیخ صدوق نے اسے ایک فقہی کتاب کہا ہے تا کہ مسائل شرعی میں ان کی روایات پر عمل کر سکیں۔ شیخ صدوق کے دیگر آثار میں ایسی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہے کہ جسکی تمام روایات کی صحت کو شیخ صدوق نے اپنے ذمہ لیا ہو۔ البتہ مقنعہ نامی کتاب میں موجود مطالب صحت اور اعتبار کے لحاظ سے کسی حد تک من لا یحضر الفقیہ کی مانند ہے جیسا کہ اس کے متعلق شیخ صدوق نے کہا:
اس کتاب میں میں نے موثق اور مورد اعتماد مشائخ علما اور فقہا کی بنیادی کتابوں سے احادیث نقل کی ہیں۔[2]
روش
شیخ صدوق نے اسے فقہی کتاب کے عنوان سے تحریر کیا تا کہ مسائل شرعیہ میں ان پر عمل کیا جا سکے لیکن اس کی روش ابتدائی صدیوں کے شیعہ علما کی روش کے مطابق ہے کہ جس میں علما صرف آئمہ طاہرین سے حدیث کے نقل کرنے پر اکتفا کرتے تھے اور حدیث کے ہمراہ کسی قسم کی کوئی بات اپنی جانب سے تحریر نہیں کرتے تھے چونکہ وہ کلام آئمہ کو مرکز وحی سے متصل اور معدن حکمت سمجھتے تھے۔
وسعت بحث
فقہ کے مختلف ابواب کا بیان اور ابحاث کی وسعت اس کتاب کی ایک اور خصوصیت ہے جو اسے دیگر تالیفات سے ممتاز کرتی ہے۔ فقہی ابحاث میں سے چند ایک عناوین درض ذیل ہیں:
پانی کی اقسام، ان کی طہارت و نجاست
نماز کے شرائط اور اسکے واجبات جیسے غسل، وضو و تیمم
میت کے احکام
نماز کے احکام
قضاوت کے احکام
مکاسب
حج کے احکام
میراث کے احکام
....
تعداد ابواب اور احادیث
من لا یحضر الفقیہ چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ابواب اور احادیث کی تعداد میں اختلاف ہے۔ محدث نوری اس کے متعلق لکھتے ہیں:
اس کتاب میں احادیث کی تعداد 5963 ہے جن میں سے 2050 حدیثیں مرسل ہیں۔[3]
محدث بحرانی کہتے ہیں:
من لا یحضر الفقیہ 4 جلدوں پر مشتمل ہے جس کے ابواب کی تعداد 636 یا 666 ہے اور احادیث کی تعداد 5668 ہے۔[4]
شیخ صدوق کے فتاوا اور کتاب میں مذکور ہونے والی روایات میں مشابہت کی کثرت اور احادیث مرسل کی وجہ سے تعداد احادیث میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
کتب حدیث سے موازنہ
اہم حدیثی کتب    مصنف    متوفی    تعداد احادیث    توضیحات
المحاسن
احمد بن محمد برقی
274 ھ    تقریباً 2604    مختف عناوین کا مجموعۂ احادیث
کافی
محمد بن یعقوب کلینی
329 ھ    تقریباً 16000    اعتقادی، اخلاقی آداب اور فقہی احادیث
من لا یحضر الفقیہ
شیخ صدوق
381 ھ    تقریباً 6000    فقہی
تہذیب الاحکام
شیخ طوسی
460 ھ    تقریباً 13600    فقہی احادیث
الاستبصار فیما اختلف من الاخبار
شیخ طوسی    460 ھ    تقریباً 5500    احادیث فقہی
الوافی
فیض کاشانی
1091 ھ    تقریباً 50000    حذف مکررات کے ساتھ کتب اربعہ کی احادیث کا مجموعہ اور بعض احادیث کی شرح
وسائل الشیعہ
شیخ حر عاملی
1104 ھ    35850    کتب اربعہ اور اس کے علاوہ ستر دیگر حدیثی کتب سے احادیث جمع کی گئی ہیں
بحار الانوار
علامہ مجلسی
1110 ھ    تقریباً 85000    مختلف موضوعات سے متعلق اکثر معصومین کی روایات
مستدرک الوسائل
مرزا حسین نوری
1320 ھ    23514    وسائل الشیعہ کی فقہی احادیث کی تکمیل

سفینہ البحار
شیخ عباس قمی
1359ھ    10 جلد    بحار الانوار کی احادیث کی الف ب کے مطابق موضوعی اعتبار سے احادیث مذکور ہیں
مستدرک سفینہ البحار
شیخ علی نمازی
1405 ھ    10 جلد    سفینۃ البحار کی تکمیل

جامع احادیث الشیعہ
آیت اللہ بروجردی
1380 ھ    48342    شیعہ فقہ کی تمام روایات

میزان الحکمت
محمدی ری شہری
معاصر    23030    غیر فقہی 564 عناوین
الحیات
محمد رضا حکیمی
معاصر    12 جلد    فکری اور عملی موضوعات کی 40 فصل
تالیف کا سبب
شیخ صدوق کا من لا یحضر الفقیہ تالیف کرنے کا سبب صحیح اور مورد اعتماد احادیث کو اکٹھا کرنا تھا۔[5]
شیخ صدوق نے بلخ نامی شہر کے ایک سید بنام شریف ابو عبد اللہ محمد بن حسین معروف نعمت کی درخواست اس کتاب کو تالیف کیا۔
اس شخص نے محمد بن زکریا رازی کی علم طب کے عنوان پر کتاب من لا یحضر الطبیب کی طرز پر کتاب تالیف کرنے کی درخواست کی کہ وہ علم فقہ میں ان افراد کیلئے ایک کتاب تحریر کریں کہ جو علما اور فقہا تک رسائی نہ رکھتے ہوں تا کہ ایسے اشخاص اس کتاب کی طرف رجوع کر کے اپنے احکام شرعی کو انجام دے سکیں پس اسی لئے شیخ صدوق نے اس کتاب کا نام کتاب من لا یحضر الفقیہ جس کا معنی ہے: ایسے شخص کیلئے کتاب جس کے پاس فقیہ موجود نہ ہو یا اس شخص کی کتاب جس کے پاس فقیہ نہ ہو۔[6]
کتاب کے مصادر
شیخ صدوق نے اپنی کتاب من لا یحضره الفقیہ میں حریز بن عبداللہ سجستانی، شیخ اجل حلبی، علی بن مہزیار اہوازی، احمد بن محمد بن عیسی، ابن ابی عمیر، شیخ برقی اور حسین بن سعید اہوازی جیسے متقدمین علما کی کتابوں سے احادیث کو نقل کیا ہے۔
کافی سے موازنہ
کتب اربعہ میں سے مطالب اور روایات کی جامعیت کے لحاظ سے غیبت صغرا کے زمانے میں محمد بن یعقوب کلینی کی لکھی ہوئی کتاب کافی ہے۔
من لا یحضرہ الفقیہ میں صرف فقہی اور شرعی احکام بیان ہوئے ہیں جیسا کہ مصنف نے خود اس کی تالیف کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا:
میں نے اسے صرف فقہ کیلئے تالیف کیا ہے۔[7]
جبکہ کافی میں فقہی احکام کے علاوہ دیگر موضوعات کے متعلق بھی احادیث کی جمع آوری کی گئی ہے۔ من لا یحضر الفقیہ میں احادیث کی سند کو اختصار کی بنا پر ذکر نہیں کیا گیا جبکہ کلینی نے شیخ صدوق اور شیخ طوسی بر خلاف احادیث کی تمام اسناد کو ذکر کیا ہے۔
شروحات اور تعلیقے
روضۃ المتقین
ابھی تک 23 کے قریب من لا یحضر الفقیہ پر شرحیں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں سے اکثر اس وقت مفقود اور ہماری دسترسی میں نہیں ہیں یا وہ صرف ابھی تک خطی نسخے کے طور پر محفوظ ہیں اور چاپ نہیں ہوئی ہیں ان میں سے چند ایک کے نام ذکر کئے جاتے ہیں:
روضہ المتقین فی شرح اخبار الائمہ المعصومین (ع): مجلسی اول نے اس میں احادیث کی اسناد ذکر کی ہیں۔ اگر کسی حدیث کی سند صحیح نہیں تھی تو اس کی جگہ شیخ کلینی یا شیخ طوسی کی روایت کی جانب اشارہ کیا ہے۔ یہ شرح عربی زبان میں لکھی گئی ہے۔
معاہد التنبیہ فی شرح کتاب من لا یحضره الفقیہ: ابو جعفر محمد بن جمال¬ الدین ابو منصور حسن بن زین¬ الدین شہید ثانی کی تالیف ہے۔
معراج النبیہ فی شرح کتاب من لا یحضره الفقیہ: محدث بحرانی کی تالیف ہے۔
التعلیقۃ السجادیۃ: مراد بن علیخان تفرشی کا اس پر لکھا گیا حاشیہ ہے۔
حاشیہ سید احمد بن زین¬ العابدین علوی عاملی۔
حاشیہ امیر محمد باقر بن محمد حسینی داماد۔
حاشیہ شیخ محمد علی بن محمد بلاغی۔
حاشیہ شیخ محمد بن علی بن یوسف بن سعید بحرانی۔
حاشیہ علی اکبر غفاری۔
الوافی: صدر المتألہین شیرازی کے داماد ملا محسن فیض کاشانی کی تالیف ہے جو حقیقت میں کتب اربعہ کے مجموعہ ہے۔ نیز جس میں احادیث مکرر کو حذف اور احادیث مشترک کو ایک جگہ ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ احادیث کی توضیح میں مطالب بیان ہوئے ہیں۔
ترجمے:
اللوامع القدسیہ یا لوامع صاحبقرانی: مجلسی اول نے شاه عباس صفوی ملقب بہ صاحب قران کیلئے لکھا اور سنہ 1322- 1324 قمری میں چھپا۔
متن و ترجمہ کتاب من لا یحضره الفقیہ: یہ کتاب 6 جلدوں میں علی اکبر غفاری، صدر بلاغی و محمد جواد غفاری کے ذریعے ترجمے اور شرح کی صورت میں لکھی گئی۔
گزیده کتاب من لا یحضره الفقیہ: محمد باقر بہبودی نے اسے ترجمے کی صورت میں خلاصہ کیا ہے۔
چاپ
چاپ سنگی، لکهنو ہندوستان ، سنہ 1306 ھ، 6 جلد رحلی
چاپ سنگی، تبریز سنہ 1324 ھ، 1 جلد رحلی
چاپ سنگی، تہران سنہ 1345 ھ، 1 جلد رحلی
چاپ حروفی، نجف سنہ 1371 ھ، 4 جلد وزیری
چاپ حروفی، تہران، سنہ 1376 ھ، 1 جلد رحلی
چاپ حروفی، تہران، سنہ 1392 ھ، 4 جلد وزیری
چاپ حروفی، قم، سنہ 1413 ھ، 4 جلد وزیری

حوالہ جات
1.    - شیخ صدوق، کتاب من لا یحضره الفقیہ، ج۱، ص۳
2.    -شیخ صدوق، المقنعہ ص5
3.     -شیخ صدوق، کتاب من لا یحضره الفقیہ، ج۴، صص۵۳۸-۵۳۹، تعلیقہ
4.    - بحرانی، ص۳۹۵
5.    - نظری
6.    - امین، ج۱، ص۱۲۲
7.    - شیخ صدوق، کتاب من لا یحضره الفقیہ، ج۴، ص۱۸۰
مآخذ
امین، سید محسن، أعیان الشیعہ،‌ دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۴۰۶ق.
بحرانی، یوسف، لولوة‌ البحرین، نجف، دار النعمان، ۱۳۸۶ق.
شیخ صدوق، المقنع، مؤسسہ امام ہادی، قم، ۱۴۱۵ق.
شیخ صدوق، کتاب من لا یحضره الفقیہ، تصحیح: علی اکبر غفاری، دفتر انتشارات اسلامی، قم، چ: دوم، ۱۴۱۳ق.
نظری، محمود، پژوہشی درباره کتاب من لا یحضره الفقیہ، مجلہ مسجد، شماره ۳۴، سال ۱۳۷۶.

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک