امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

عید فطر اور عید قرباں کی نماز

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

عید فطر اور عید قرباں کی نماز
مسئلہ 1869: عید فطر اورعید قرباں کی نماز امام علیہ السلام کے زمانہٴ حضور میں واجب ہے اور لازم ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھی جائے اور ہمارے زمانے میں جب کہ امام علیہ السلام غائب ہیں ، مستحب ہے جماعت اور فرادیٰ دونوں طرح پڑھی جا سکتی ہے۔

عید فطر اور عید قرباں کی نماز کا وقت

مسئلہ 1870: عید فطر اور عید قرباں کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب سے ظہر تک ہے۔

مسئلہ 1871: مستحب ہے کہ نماز عید قرباں کو سورج چڑھنے کے بعد اور عید فطر میں مستحب ہے کہ سورج چڑھنے کے بعد افطار کریں ، زکوٰۃ فطرہ دیں اور اس کے بعد نماز عید فطر پڑھیں۔

عید فطر اورعید قرباں کی نماز پڑھنے کا طریقہ
مسئلہ 1872: عید فطر اورعید قرباں کی نماز دو رکعت ہے ؛ اس طرح سے کہ نماز کے شروع میں تکبیرۃ الاحرام کہے اور ہر رکعت میں حمد و سورہ پڑھنے کے بعد چند تکبیر کہی جائے گی اور تکبیروں کے درمیان قنوت پڑھا جائے گا، ان تکبیر اور قنوت میں سے احتیاط واجب کی بنا پر تین تکبیر اور ان کے درمیان دو قنوت لازم ہے اور تیسری تکبیر کے بعد احتیاط واجب کی بنا پر ایک اور تکبیر رکوع سے پہلے کہی جائے ، اس بنا پر مجموعی طور پر تکبیر کی تعداد ہر رکعت میں چار ہے ، گرچہ بہتر ہے پہلی رکعت میں پانچ تکبیر اور ان کے درمیان چار قنوت اور دوسری رکعت میں چار تکبیر اور ا ن کے درمیان تین قنوت پڑھا جائے اور اس صورت میں تکبیروں اور قنوتوں کے علاوہ ایک اور تکبیر رکوع سے پہلے کہنا احتیاط کی بنا پر لازم ہے۔

قابلِ ذکر ہے بقیہ نماز یعنی رکوع ، دو سجدہ ، تشہد اور سلام دو رکعتی نماز کی طرح انجام دئے جائیں گے۔

مسئلہ1873: نماز عید فطر اور قربان کے قنوت میں جو بھی دعا یا ذکر پڑھیں کافی ہے ؛ لیکن بہتر یہ ہے کہ اس دعا کو پڑھیں: "اللّهُمَّ اَهْلَ الكِبْریاءِوَالعَظَمَةِ، وَاَهْلَ الْجُودِ وَالْجَبَرُوتِ، وَاَهْلَ العَفْوِ وَالرَّحْمَةِ، وَاَهْلَ التَّقْوىٰ وَالمَغْفِرَةِ، اَسْأَلُكَ بِحَقِّ هذَا الیَوْمِ، الَّذِى جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمین عیداً، وَلِمُحَمَّدٍ صلَّى ‏اللهُ علیه و ‏آله و سَلَّمَ ذُخْراً وَمَزیداً، اَنْ تُصَلِّیَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاَنْ تُدْخِلَنی فی كُلِّ خَیْرٍ اَدْخَلْتَ فیهِ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَاَنْ تُخْرِجَنِى مِنْ كُلِّ سُوءٍ اَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُكَ عَلَیْهِ وَعَلیْهِمْ، اللّهُمَّ اِنّی اَسْأَلُكَ خَیْرَ ما سَأَلَكَ بِهِ عِبادُكَ الصّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ عِبادُكَ الصّالِحُونَ"[171]

مسئلہ 1874: اگر نماز عید میں ایک سجدہ بھول جائے اور اس کے بجالانے کا وقت گزر گیا ہو تو لازم ہے کہ نماز کے بعد اسے بجالائے اور اسی طرح اگر ایسا کام جس کے لیے یومیہ نماز میں سجدہٴ سہو لازم ہے پیش آئے تو لازم ہے کہ دوسجدہٴ سہو بجالائے۔

مسئلہ 1875: اگر نماز گزار نماز عید کی تکبیر یا قنوت کی تعداد میں شک کرے تو اگر اس کا محل گزر گیا ہے تو اپنے شک کی پرواہ نہ کرے؛ لیکن اگر محل میں ہے تو کم پر بنا رکھے ، چنانچہ بعد میں معلوم ہو کہ تکبیر یا قنوت میں اضافہ کیا ہے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔
________________________________________
[171] بعض نسخوں میں دوسرے "الصّالحون" کی جگہ " المخلَصون" یا "المخلِصون" ذكر ہوا ہے۔

نماز عید فطر اورعید قرباں کو جماعت سے پڑھنے کے احکام
مسئلہ 1876: امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانے میں اگر نماز عید فطر اور قربان جماعت سے بجالائی جائے احتیاط لازم ہے کہ نماز کے بعد دو خطبہ پڑھا جائے اور ان دو خطبوں کو پڑھنے کا طریقہ نماز جمعہ کے خطبوں کی طرح ہے اور لازم ہے کہ دو خطبوں کے درمیان تھوڑا بیٹھے اور بہتر ہے کہ عید فطر کے خطبے میں زکوٰۃ فطرہ کے احکام اور عید قرباں کے خطبے میں قربانی کے احکام بیان کرے ان دونوں خطبوں کا نماز سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے اور ماموم کا خطبوں میں حاضر ہونا واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 1877: نماز عید میں بھی دوسری نمازوں کی طرح ماموم پر لازم ہے کہ حمد و سورہ کے علاوہ نماز کے بقیہ اذکار کو خود بھی پڑھے۔

مسئلہ 1878: اگرماموم ایسے وقت پہونچے جب امام کچھ تکبیروں کو کہہ چکا ہو تو امام کے رکوع میں جانے کے بعد لازم ہے کہ ان تکبیر اور قنوت کو جو امام کے ساتھ نہیں بجالایا ہے خود بجالائے اور خود کو امام کے رکوع میں پہونچائے اور اگر قنوت میں ایک مرتبہ "سبحان الله" یا "الحمد لله" یا اس کے مانند کہے کافی ہے اور اگر فرصت نہ ہوتو فقط تکبیروں کو کہے اور اگر اتنی مقدار میں بھی فرصت نہ ہوتو کافی ہے کہ امام کی متابعت و پیروی کرتے ہوئے رکوع میں جائے۔

مسئلہ 1879: اگر انسان عید کی نماز میں اس وقت پہونچے جب امام رکوع میں ہے تو نیت کرکے نماز کی پہلی تکبیر اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں جا سکتا ہے۔

عید فطر اور عید قرباں کی نماز کے مستحبات

فقہائے عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے بعض مقامات کو نماز عید فطر اورعید قرباں میں مستحب شمار کیا ہے (جو آئندہ مسائل میں ذکر کئے جائیں گے)۔

مسئلہ 1880: عید کی نماز میں مخصوص سورہ نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سورہٴ شمس اور دوسری رکعت میں سورہٴ غاشیہ پڑھے ، یا پہلی رکعت میں سورہٴ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہٴ شمس پڑھے۔

مسئلہ 1881: مستحب ہے عید کی نماز صحرا میں پڑھی جائے لیکن مکہ میں مسجد الحرام میں پڑھنا مستحب ہے۔

مسئلہ 1882: مستحب ہے کہ افراد پیدل ، پابرہنہ اور وقار کے ساتھ عید کی نماز میں جائیں اور نماز سے پہلے غسل کریں اور سفید عمامہ سر پر باندھیں۔

مسئلہ 1883: مستحب ہے کہ انسان عید کی نماز میں زمین پر سجدہ کرے اور تکبیروں کے کہتے وقت ہاتھوں کو بلند کرے اور حمد و سورہ کو بلند آواز سے پڑھے خواہ نماز گزار امام جماعت ہو یا فرادیٰ نماز پڑھ رہا ہو۔

مسئلہ 1884: شبِ عید فطر مغرب اور عشا کی نماز کے بعد ، عید فطر کے دن نماز صبح کے بعد اور نماز عید فطر کے بعد مستحب ہے کہ انسان ان تکبیروں کو کہے: "اَللّهُ‏ أَكْبَرُ، اللّهُ‏ اَكْبَرُ، لا اِلهَ إلَّا اللّهُ‏ وَاللّهُ‏ أَكْبَرُ، اللّه‏ اَكْبَرُ وَلِلّهِ‏ الحَمْدُ، اللّهُ اَكْبَرُ عَلى ما هَدانا"

مسئلہ 1885: مستحب ہے انسان نماز عید قرباں میں دس نماز کے بعد کہ جس میں سے پہلی عید کے دن کی نماز ظہر اور آخری بارہ ذی الحجہ کی نماز صبح ہے، ان تکبیروں کو جو اس سے قبل مسئلے میں بیان ہوئیں پڑھے اور ان کے بعد کہے: "اللّهُ‏ اَكْبَرُ عَلى ما رَزَقَنا مِنْ بَهیمَةِ الأَنْعامِ، وَالحَمْدُ للّه‏ عَلى ما أَبْلانا "

لیکن اگر عید قرباں میں منیٰ میں ہو مستحب ہے پندرہ نماز کے بعد کہ جس میں سے پہلی عید قرباں کے دن نماز ظہر اور آخری 13 ذی الحجہ کی صبح کی نماز ہے۔ ان تکبیروں کو کہے۔

مسئلہ 1886: احتیاط مستحب ہے کہ عورتیں نماز عید میں جانے سے پرہیز کریں البتہ یہ احتیاط ضعیف عورتوں کے لیے نہیں ہے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک