امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

عید سعید فطر کی فضیلت اور اعمال

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

عید سعید فطر کی فضیلت اور اعمال
فطر اور فطور کا معنی کھانے پینے کا ہے، کھانے پینے کے آغاز کرنے کو بھی کہا گیا ہے

شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے ،پورے عالم اسلام میں اس دن اجتماعی طور پر نماز عید پڑھی جاتی ہے ، اس دن کو عید فطر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن کھانے پینے کی محدودیت ختم ہو جاتی ہے مؤمنین دن میں افطار کرتے ہیں۔
فطر اور فطور کا معنی کھانے پینے کا ہے، کھانے پینے کے آغاز کرنے کو بھی کہا گیا ہے ۔ جب کبھی کھانے پینے سے دوری کرنے کے بعد جب دوبارہ کھانا پینا شروع کیا جاۓ تو اسے افطار کہتے ہیں اور اسی لۓ رمضان المبارک میں دن تمام ہونے اور مغرب شرعی ہونے پر روزہ کھولنے کو افطار کہا جاتا ہے ۔
روایات میں اس دن کے بارے میں فضائل اور اعمال ذکر ہوئے ہیں جنہیں قارئیں کے لئے مختصر طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
پیغمبر اسلام (ص) نے اس دن کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: ’’اذا کان اول یوم من شوال نادی مناد :

الكافي عن جابرعن الإمام الباقرعليه السلام :قالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه و آله : «إذا كانَ أوَّلُ يَومٍ مِن شَوّالٍ نادى مُنادٍ : أيُّهَا المُؤمِنونَ ، اُغدوا إلى جَوائِزِكُم» .
ثُمَّ قالَ : يا جابِرُ جَوائِزُ اللّهِ لَيسَت بِجَوائِزِ هؤُلاءِ المُلوكِ ، ثُمَّ قالَ : هُوَ يَومُ الجَوائِزِ‘‘الكافي : ج ۴ ص ۱۶۸ ح ۳ و ص ۶۸ ح ۶ نحوه

جب شوال کا پہلا دن ہوتا ہے ، آسمان سے منادی نداء دیتا ہے : 

اے مؤمنو! اپنے تحفوں کی طرف دوڑ پڑو ، اس کے بعد فرمایا: اے جابر ! خدا کا تحفہ بادشاہوں اور حاکموں کے تحفوں کی طرح نہیں ہے ۔ پھرفرمایا" شوال کا پہلا دن خدا کی جانب سے تحفوں کا دن ہے ۔
امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے عید فطر کے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:
“اے لوگو!

یہ دن وہ ہے جس میں نیک لوگ اپنا انعام حاصل کرتے ہیں اور برے لوگ ناامید اور مایوس ہوتے ہیں اوریہ دن قیامت کے دن سے بہت زیادہ شباہت رکھتا ہے اس لۓ گھر سے نکلتے وقت اس دن کو یاد کرو جس دن قبروں سے نکال کرخدا کی کی بارگاہ میں حاضر کۓ جاؤ، نماز میں کھڑے ہونے کے وقت خدا کے سامنے کھڑے ہونے کو یاد کرو اور اپنے گھروں میں واپس آنے میں اس وقت کو یاد کرو جس وقت بہشت میں اپنی منزلوں کی طرف لوٹو گے۔ اے خدا کے بندو ! سب سے کم چیز جو روزہ دار مردوں اور خواتین کو رمضان المبارک کےآخری دن عطا کی جاتی ہے وہ فرشتے کی بشارت و خوشخبری ہے جو صدا دیتا ہے :
اے اللہ کے بندوں مبارک ہو! جان لے تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئے گئے ہیں اب اگلے دن کے بارے میں ہوشیار رہنا کہ کیسے گذارو گے ۔‘‘
عید فطر کے لئے اعمال ذکر ہوئے ہیں جنہیں انجام دینے کے بارے میں معصومین علیہم السلام نے بہت تاکید فرمائی ہے۔
حضرات معصومینؑ کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عید فطر اعمال اور عبادات کا انعام حاصل کرنے کا دن ہے اس لۓ مستحب ہے کہ اس دن بہت زیادہ دعا کی جائے ، خدا کی یاد میں رہا جائے ، لاپرواہی نہ کی جائے اور دنیا اور آخرت کی نیکی طلب کی جائے ۔
عید کی نماز کے قنوت میں پڑھتے ہیں :
اللّٰهُمَّ أَهْلَ الْكِبْرِياءِ وَالْعَظَمَةِ، وَأَهْلَ الْجُودِ وَالْجَبَرُوتِ، وَأَهْلَ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ، وَأَهْلَ التَّقْوىٰ وَالْمَغْفِرَةِ، أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هٰذَا الْيَوْمِ الَّذِى جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمِينَ عِيداً، وَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ذُخْراً وشَرَفاً وَمَزِيداً أَنْ تُصَلِّىَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُدْخِلَنِى فِى كُلِّ خَيْرٍ أَدْخَلْتَ فِيهِ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُخْرِجَنِى مِنْ كُلِّ سُوءٍ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أجْمَعِين . اللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عِبادُكَ الصَّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِكَ فِيهِ مِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ عِبادُكَ الصَّالِحُونَ.
بار الھا ! اس دن کے واسطے جسے مسلمانوں کیلۓ عید اور محمد صلی اللہ علیہ والہ کیلۓ شرافت ، کرامت اور فضیلت کا ذخیرہ قرار دیا ہے ۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد و آل محمد پر درود بھیج اور مجھے اس خیر میں شامل فرما جس میں محمد و آل محمد کو شامل فرمایا ہے اور مجھے ہر بدی سے نکال دے جن سے محمد و آل محمد کو نکالا ۔ ان پر آپ کا درود وسلام ہو، خدایا تجھ سے وہی کچھ مانگتا ہوں جو تیرے نیک بندے تجھ سے مانگتے ہیں ، اور تجھ سے ان چیزوں سے پنا ہ مانگتا ہوں کہ جن سے تیرے مخلص بندے پناہ مانگتے تھے ۔
صحیفہ سجادیہ میں امام زین االعابدین علیہ السلام کی ماہ مبارک رمضان اور عید فطر کے استقبال کیلۓ اس طرح سے دعا ذکر ہوئی ہے:
اللَّهُمَّ وَ مَا أَلْمَمْنَا بِهِ فِی شَهْرِنَا هَذَا مِنْ لَمَمٍ أَوْ إِثْمٍ، أَوْ وَاقَعْنَا فِیهِ مِنْ ذَنْبٍ، وَ اکتَسَبْنَا فِیهِ مِنْ خَطِیئَةٍ عَلَى تَعَمُّدٍ مِنَّا، أَوْ عَلَى نِسْیانٍ ظَلَمْنَا فِیهِ أَنْفُسَنَا، أَوِ انْتَهَکنَا بِهِ حُرْمَةً مِنْ غَیرِنَا، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اسْتُرْنَا بِسِتْرِک، وَ اعْفُ عَنَّا بِعَفْوِک، وَ لَا تَنْصِبْنَا فِیهِ لِأَعْینِ الشَّامِتِینَ، وَ لَا تَبْسُطْ عَلَینَا فِیهِ أَلْسُنَ الطَّاعِنِینَ، وَ اسْتَعْمِلْنَا بِمَا یکونُ حِطَّةً وَ کفَّارَةً لِمَا أَنْکرْتَ مِنَّا فِیهِ بِرَأْفَتِک الَّتِی لَا تَنْفَدُ، وَ فَضْلِک الَّذِی لَا ینْقُصُ.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اجْبُرْ مُصِیبَتَنَا بِشَهْرِنَا، وَ بَارِک لَنَا فِی یوْمِ عِیدِنَا وَ فِطْرِنَا، وَ اجْعَلْهُ مِنْ خَیرِ یوْمٍ مَرَّ عَلَینَا أَجْلَبِهِ لِعَفْوٍ، وَ أَمْحَاهُ لِذَنْبٍ، وَ اغْفِرْ لَنَا مَا خَفِی مِنْ ذُنُوبِنَا وَ مَا عَلَنَ.
اللَّهُمَّ اسْلَخْنَا بِانْسِلَاخِ هَذَا الشَّهْرِ مِنْ خَطَایانَا، وَ أَخْرِجْنَا بِخُرُوجِهِ مِنْ سَیئَاتِنَا، وَ اجْعَلْنَا مِنْ أَسْعَدِ أَهْلِهِ بِهِ، وَ أَجْزَلِهِمْ قِسْماً فِیهِ، وَ أَوْفَرِهِمْ حَظّاً مِنْهُ.
اللَّهُمَّ وَ مَنْ رَعَى هَذَا الشَّهْرَ حَقَّ رِعَایتِهِ، وَ حَفِظَ حُرْمَتَهُ حَقَّ حِفْظِهَا، وَ قَامَ بِحُدُودِهِ حَقَّ قِیامِهَا، وَ اتَّقَى ذُنُوبَهُ حَقَّ تُقَاتِهَا، أَوْ تَقَرَّبَ إِلَیک بِقُرْبَةٍ أَوْجَبَتْ رِضَاک لَهُ، وَ عَطَفَتْ رَحْمَتَک عَلَیهِ، فَهَبْ لَنَا مِثْلَهُ مِنْ وُجْدِک، وَ أَعْطِنَا أَضْعَافَهُ مِنْ فَضْلِک، فَإِنَّ فَضْلَک لَا یغِیضُ، وَ إِنَّ خَزَائِنَک لَا تَنْقُصُ بَلْ تَفِیضُ، وَ إِنَّ مَعَادِنَ إِحْسَانِک لَا تَفْنَى، وَ إِنَّ عَطَاءَک لَلْعَطَاءُ الْمُهَنَّا.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اکتُبْ لَنَا مِثْلَ أُجُورِ مَنْ صَامَهُ، أَوْ تَعَبَّدَ لَک فِیهِ إِلَى یوْمِ الْقِیامَةِ.

خداوند متعال ہم سب کو اس دن نیک اعمال کرنے اور معصیت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک