امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

ظلم کرنے سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

ظلم کرنے سے  کیسے  بچا  جاسکتا ہے؟ 
  درج بالا وجوہات سے واضح  ہوتا ہے  کہ  انسان  ظلم  مختلف اخلاقی  بیماریوں   کی وجہ سے  انجام  دیتا ہے۔  ان  بیماریوں میں جہل قوت عقلیہ کی لالچ،احتیاج  اور خود پرستی  قوت   شہو انیہ کی اور عجز و ناتوانی،  حسد  اور انتقامی جذبہ قوت غضبیہ  کی بیماریاں  ہیں۔ اسلام  انسان  کو ان خامیوں  اور اخلاقی برائیوں سے   پاک  ہونے  کا حکم  دیتا ہے ، اور  اس بارے  میں  ضروری  تعلیم اور ہدایت   بھی فراہم کرتا ہے، جن کی تفصیل   اسلامی اخلاق  میں موجود  ہیں۔  اسلام  جہل ونادانی کو ایک بڑی عیب گردانتا ہے، اور اسے زائل  کرنے کیلئے حصول علم  پر زور دیتا ہے۔ اسی طرح  اسلام  اپنے اور اپنے اہل و عیال  کی تامین حیات  کیلئے محنت کرکے  دولت کمانے کا حکم دیتا ہے، اور ساتھ ہی  امور معاش  میں میانہ  روی  کا حکم دیتا ہے اور  اسراف  و تبذیر  سے سختی کے ساتھ روکتا ہے، تاکہ انسان  کسی  کا محتاج  نہ بنے۔  یوں ہی اسلام  خود پرستی، حسد، کینہ  اور انتقام جوئی جیسی اخلاقی  برائیوں  سے شدت کے ساتھ مقابلہ  کرنے کی تلقین  کرتا ہے۔
 مختصر یہ کہ ظلم  متعدد اخلاقی  بیماریوں کی وجہ سے   واقع ہوتا ہے، اس لئے  ظلم کرنے سے بچنے کے لیے انسان کو اپنے اندر شعور، ضبطِ نفس اور اخلاقی بصیرت پیدا کرنی ہوتی ہے۔جو لوگ  خدا نخواستہ  دوسروں  پر  ظلم  کے مر تکب  ہورہے ہوں ، انہیں  چاہئے کہ اپنے اندر جھانک  کر دیکھیں  کہ درج بالا   اخلاقی بیماریوں  میں سے  کون سی بیماری یا بیماریوں  میں  وہ مبتلا ہے، جو اسے ظلم  پر ابھارتی ہیں۔ اس کے بعد ظلم  سے  توبہ  کرنے کے ساتھ ان اخلاقی  بیماریوں کا علاج بھی کریں،  تاکہ وہ آیندہ  ظلم جیسی  برائی سے  محفوظ  رہ سکے۔   
 ظلم سے  باز رہنے  کیلئے چند مؤثر اور عملی طریقے  حسب  ذیل ہیں:
۱۔  اخلاقی اور دینی تربیت حاصل کرنا : اللہ کے خوف، آخرت کا یقین اور جواب دہی کے احساس کو مضبوط کریں ۔ اس کے ساتھ قرآن و حدیث میں ظلم کی مذمت کے بارے  میں  بیان  شدہ تعلیمات پر غور انسان کو ظلم سے روکتا ہے۔
۲۔  اپنے نفس کا محاسبہ: روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور دیکھیں  کہ  کیا میں نے کسی کے حق پر ڈاکا ڈالا یا کیا میں نے کسی کو تکلیف دی وغیرہ ۔ اگر کوئی غلطی کی  ہے  تو فوراً توبہ کریں اور اصلاح کریں۔
۳۔ غصے پر قابو پانا: زیادہ تر ظلم غصے کے وقت ہوتا ہے۔اس لئے غصے  کو قابو  میں  رکھنے  کیلئے  کام  کریں ۔ چند لمحے خاموش رہنا، جگہ بدل لینا، پانی پینا، یہ سب  غصے کو کنٹرول  کرنے کیلئے نبی  اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سنتیں ہیں اور بہت مفید ہیں۔
۴۔ دوسروں کے حقوق سمجھنا:  ماں باپ، بہن بھائی، شوہر بیوی، ہمسایے، ملازم، شاگرد، استاد،  غرض ہر کسی کے شرعی اور اخلاقی حقوق ہیں۔جب حقوق واضح ہوں، تو ان کی خلاف ورزی ظلم کہلاتی ہے، اس لیے خودبخود احتیاط پیدا ہوتی ہے۔
۵۔  خود کو دوسروں کی جگہ رکھ کر سوچنا:’’اگر مجھ پر ایسا کیا جاتا تو مجھے کیسا محسوس ہوتا؟‘‘یہ احساس ظلم سے بچاتا ہے اور نرم دلی پیدا کرتا ہے۔
۶۔ طاقت اور اختیار کے نشے سے بچنا : اکثر ظلم اُس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے اختیار یا عہدے کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس کا علاج  یہ  ہے  کہ ذمہ داری کو امانت سمجھیں اور  طاقت واختیار  کو خدمت کا ذریعہ۔اس کے ساتھ  اپنے اوپر اللہ  تعالی  کی نگرانی  کو یاد  رکھیں  اور یہ  سوچیں  کہ   دنیا  دار امتحان  ہے  اور  طاقت و اختیار دیکر  اللہ  تعالی  ہمارا  امتحان  لے  رہا ہے ،اور امتحان  میں  کامیابی اسی وقت  ممکن  ہے  جب  اس قوت و اختیار  کے استعمال  میں  عدل و انصاف   سے  کام  لیا جائے ، یہاں  تک کہ اپنے دشمنوں  کے ساتھ  بھی  کوئی زیادتی  نہ کرے ۔
۷۔ عدل و انصاف کی عادت پیدا کرنا :  انسان  کو چاہئے  کہ چھوٹی باتوں میں بھی انصاف کریں،  گھر میں، بچوں کے ساتھ، ملازم کے ساتھ، حتیٰ کہ کھیل میں بھی۔ جو شخص چھوٹے معاملات میں عادل ہوتا ہے وہ بڑے معاملات میں بھی ظلم سے بچ جاتا ہے۔
۸۔ بُرے دوستوں اور ماحول سے بچنا : ظلم کی عادت اکثر صحبت سے لگتی ہے۔ اگر ایسا  ہو تو ایسے لوگوں سے دور رہیں جو دوسروں کا حق کھاتے ہیں، بددیانتی کرتے ہیں یا کمزوروں کو دباتے ہیں۔
۹۔ عاجزی اور انکساری اپنانا : تکبر ظلم کی جڑ ہے۔ متکبر انسان دوسروں کو کمتر سمجھ کر ان کے ساتھ ناپسندیدہ رویہ اختیار کرتا ہے۔اگر ایسا  ہے  تو  ہر قیمت  پر تکبر  کا علاج  کریں ۔اس کے ساتھ  تواضع و انکساری   اپنائیں ، کیونکہ یہ دو صفات انسان  کو  ظلم  وزیادتی  سے  بچاتی ہیں ۔  
۱۰۔ غلطی پر فوراً معافی مانگنا : اگر کبھی کسی سے زیادتی ہو جائے تو فوراً معافی مانگ کر اصلاح کریں۔ یہ عادت انسان کو دوبارہ ظلم کرنے سے روکتی ہے۔
۱۱۔ اسراف  و تبذیر سے  بچنا  اور بچت  کی عادت ڈالنا : ظلم کرنے کی ایک  وجہ تنگ دستی اور  غربت  ہے ۔ اس  لئے انسان  کو چاہئے  کہ امور معاش کیلئے  جو بھی  کام   کرے  اسے  محنت، دیانت داری  اور ذمہ داری کے ساتھ انجام  دے ، یوں  وہ  کبھی   بھی بے روزگار  نہیں  ہوگا ۔   یہ بھی حقیقت  ہے  کہ تنگ دستی  صرف  آمدن  میں  کمی  کی  وجہ سے  نہیں  ہوتی  بلکہ  فضول خرچیوں  کی  وجہ سے  بھی  ہوتی ہے ۔ تجربہ سے ثابت  ہے  کہ اگر گھر میں  میاں  بیوی  اور  بچے  باہمی مشورے  سے  غیر  ضروری اخراجات   نہ کرنے اور  بچت  کرنے  کا  ایک منصوبہ  شروع  کریں  تو   تنگ دستی  سے  نجات  مل جاتی  ہے ۔ یوں  انہیں  دھوکہ و فریب  کے ذریعے  پیسے  بٹورنے، قرض لیکر  ادا نہ کرنے  اور اپنے سے کمزور  افراد  کے حقوق دبانے کی  ضرورت  ہی  نہیں  پڑتی ، اس  لئے  وہ  ان  سے  محفوظ  رہتے  ہیں ۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک