پانچویں امام نے پانچ خلیفوں کا دور دیکھا-قسط-۹
پانچویں امام نے پانچ خلیفوں ( اسلامی بادشاہوں )کا دور دیکھا:
1 - ولیدبن عبد الملک 86-96ھ۔
2 - سلیمان بن عبدالملک 96-99 ھ۔
3 - عمر بن عبد العزیز 99-101ھ۔
4 - یزید بن عبد الملک 101-105 ھ۔
5 - ہشام بن عبد الملک 105-125 ھ۔
مذکورہ اسلامی ممالک کے حاکموں ( خلیفوں) میں عمر بن عبد العزیز جو کہ نسبتاً انصاف پسند اور خاندان رسول ﷲ کے ساتھ نیکی کے ساتھ رفتار کرنے والا منفرد اسلامی بادشاہ (خلیفہ) تھا جس نے معاویہ علیہ ہاویہ کی سنت یعنی" معصوم دوم ، امام اول اور خلیفہ چہارم حضرت علی ابن ابیطالب کے نام 69 سال تک خطبوں میں لعنت کہنے کی شرمسار بدعت اور گناہ کبیرہ کو ممنوع کیا۔
پانچویں امام اور پہلی اسلامی دانشگاہ کے بانی حضرت محمد باقر علیہ السلام سے اصحاب پیغمبر اسلام میں سے جابر بن عبد ﷲ انصاری اور تابعین میں سے جابر بن جعفی، کیسان سجستانی، اور فقہا میں سے ابن مبارک، زہری، اوزاعی، ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور زیاد بن منزر نہدی وغیرہ آپ سے علمی استفادہ کرتے رہے۔ معروف اسلامی مورخوں جیسے طبری، بلاذری، سلامی، خطیب بغدادای، ابو نعیم اصفہانی و مولفات و کتب جیسے موطا مالک، سنن ابی داوود، مسند ابی حنیفہ، مسند مروزی، تفسیر نقاش، تفسیر زمخشری جیسی صد ہا کتابوں میں پانچویں امام کی دریای علم کے دُرّ بے بہا باتیں جگہ جگہ نقل کی گئی ہیں اور جملہ قال محمد بن علی یا قال محمد الباقر دیکھنے کو ملتا ہے۔
ابن شھر آشوب ج 4 ص 195
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا قائم کردہ اسلامی مرکز علم (یونیورسٹی) میں سے مایہ ناز علمی شخصیتیں فقہ، تفسیر اور دیگر علوم میں تربیت حاصل کر گئے، جیسے محمد بن مسلم، زرارہ بن اعین، ابو بصیر ، بُرید بن معاویہ عجلی، جابر بن یزید، حمران بن اعین اور ہشام بن سالم قابل ذکر ہیں۔
پانچویں امام نے دوسرے آئمہ کی مانند اپنی زندگی کو نہ صرف عبادت اور علمی مصروفیت میں بسر کیا بلکہ زندگی کے دوسرے کاموں میں بھی سرگرم تھے، جبکہ کچھ سادہ لوح مسلمان جیسے محمد بن مُنکَدِر ایسے اعمال کو امام کی دنیا پرستی تصور کرتے تھے ، موصوف کہتا ہے کہ:
" امام کا کھیت میں زیادہ کام کرتے ہوئے دیکھنے کی وجہ سے میں نے اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ حضرت دنیا کے پیچھے پڑے ہیں لہٰذا میں نے سوچا کہ ایک دن انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی نصیحت کروں گا، چنانچہ میں نے ایک دن سخت گرمی میں دیکھا کہ محمد بن علی زیادہ کام کرنیکی وجہ سے تھک چکے تھے اور پسینہ جاری تھا میں آگے بڑھا اور سلام کیا اور کہنے لگا اے فرزند رسول آپ مال دنیا کی اتنی کیوں جستجو کرتے ہیں ؟ اگر اس حال میں آپ پر موت آ جائے تو کیا کرینگے ؟ آپ نے فرمایا یہ بہترین وقت ہے کیونکہ میں کام کرتا ہوں تا کہ میں دوسروں کا محتاج نہ رہوں اور دوسروں کی کمائی سے نہ کھاوں، اگر مجھ پر اس حالت میں موت آئے تو میں بہت خوش ہونگا، چونکہ میں خدا کی اطاعت و عبادت کی حالت میں تھا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام دیگر آئمہ ہدی کے مانند تمام علوم و فنون کے استاد تھے۔ ایک دن خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے امام کو اپنی ایک فوجی محفل میں شرکت کی دعوت دی، جب امام وہاں پہنچے وہاں فوجی افسران سے محفل سجی ہوئی تھی، کچھ فوجی افسران تیر کمانوں کو ہاتھوں میں لیے ایک مخصوص نشانے پر اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے، چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
"جب ہم دربار میں پہنچے تو ہشام نے احترام کیا اور کہا آپ نزدیک تشریف لائیں اور تیر اندازی کریں میرے والد گرامی نے فرمایا میں بوڑھا ہو چکا ہوں لہذا مجھے رہنے دے، ہشام نے قسم کھائی میں آپ سے ہاتھ اٹھانے والا نہیں ہوں۔ میرے والد بذرگوار نے مجبور ہو کر کمان پکڑی اور نشانہ لیا تیر عین نشانہ کے وسط میں جا کر لگا آپ نے پھر تیر لیا اور نشانہ پر جا کر تیر مارا جو پہلے تیر کو دو ٹکڑے کر دیئے اور اصل نشانہ پر جا لگا آپ تیر چلاتے رہے یہاں تک کہ 9 تیر ہو گئے ہشام کہنے لگا بس کریں اے ابو جعفر آپ تمام لوگوں سے تیر اندازی میں ماہر تر ہیں"۔
آخر میں امام محمد باقر کی جابر بن جعفی کو کی گئی وصیت کا مختصر حصہ آپ کے لیے کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہوئے امید کرتا ہوں امام کے اقوال ہمارے لیے مشعل راہ اور نمونہ عمل ثابت ہوں گے:
میں تمہیں پانچ چیزوں کے متعلق وصیت کرتا ہوں:
1- اگر تم پر ستم ہو تو تم ستم نہ کرنا۔
2- اگر تمہارے ساتھ خیانت ہو تم خائن نہ بنو ۔
3- اگر تم کو جھٹلایا گیا تو تم غضبناک نہ ہو۔
4- اگر تمہاری تعریف ہوئی تو خوشحال نہ ہو اگر تمہاری مذمت ہوئی تو شکوہ مت کرو۔ تمہارے متعلق لوگ جو کہتے ہیں اس پر غور کرو۔ پس اگر واقعاً ویسے ہی ہو جیسا لوگ خیال کرتے ہیں ۔ تو اس صورت میں اگر تم حق بات سے غضبناک ہوئے تو یاد رکھو خدا کی نظر سے گر گئے۔ اور خدا کی نظر سے گرنا لوگوں کہ نظر میں گرنے سے کہیں بڑی مصیبت ہے۔ لیکن اگر تم نے اپنے کو لوگوں کے کہنے کے بر خلاف پایا تو اس صورت میں تم نے بغیر کسی زحمت کے ثواب حاصل کیا۔
5- یقین جانو! تم میرے دوستوں میں صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہو کہ اگر تمام شہر کے لوگ تم کو برا کہیں اور تم غم نہ ہو، اور سب کے سب کہیں تم نیک ہو تو شادمان نہ ہو، اور لوگوں کے برائی کرنے پر خوف زدہ مت ہو، اس لیے کہ وہ جو کچھ کہیں گے اس سے تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا ، اور اگر لوگ تمہاری تعریف کریں جبکہ تم قرآن کی مخالفت کر رہے ہو بھر کس چیز نے تم کو فریفتہ کر رکھا ہے؟ بندہ مومن ہمیشہ نفس سے جہاد میں مشغول رہتا ہے تا کہ خواہشات پر غالب ہو جائے اور اس امر کیلئے اہتمام کرتا ہے۔
حضرت امام محمد باقر 411ھ میں خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے حکم پر زہر دے کر شہید کر دیئےگئے۔ آپ 57 سال تک وحی الہی کی ترجمانی کرتے رہے۔ آپ کے بعد آٹھویں معصوم اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق آپکی جانشینی پر فائز ہوئے اور آپ کے قائم کردہ اسلامی مرکز علم کو وسعت عطا کر کے اسلام ناب محمدی کی توضیع و تفسیر بیان فرمائی اور دینی محفل میں قال الصادق قال الصادق کی گونج سنائی دی اور امام جعفر صادق کی بتائی ہوئی اسلام کی تشریح پر چلنے والوں کو جعفری کہا گیا۔
خداوند ہمیں ان علوم کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین.....