آپ کے بعض علمی ارشادات اور عبادات-قسط-۵
آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات:
علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ: جابرجعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملا تو آپ نے فرمایا اے جابر میں دنیا سے بالکل بے فکر ہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا، اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا چھوڑی ہوئی سواری اتارا ہوا کپڑا اور استعمال کی ہوئی عورت ہے مومن دنیا کی بقا سے مطمئن نہیں ہوتا اور اس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نور خدا اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا مومن کو تقوی اختیار کرنا چاہئے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بیدار رکھتا ہے سنو دنیا ایک سرائے فانی ہے، نزلت بہ وارتحلت منہ " اس میں آنا جانا لگا رہتا ہے آج آئے اور کل گئے اور دنیا ایک خواب ہے جو کمال کے مانند دیکھی جاتی ہے اور جب جاگ اٹھے تو کچھ نہیں ...
آپ نے فرمایا تکبر بہت بری چیز ہے ، یہ جس قدر انسان میں پیدا ہو گا اسی قدر اس کی عقل گھٹے گی ، کمینے شخص کا حربہ گالیاں بکنا ہے۔
ایک عالم کی موت کو ابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کریں آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشا جاتا ہے اور جس رخسار پر آنسو جاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے۔
خدا کے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو چاہئے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔
دعا سے قضا بھی ٹل جاتی ہے ۔ نیکی بہترین خیرات ہے۔
بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے، اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آئے ، یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اور دوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خود عمل نہ کرے ، صرف دوسروں کو تعلیم دے۔
جو خوشحالی میں ساتھ دے اور تنگ دستی میں دور رہے ، وہ تمہارا بھائی اور دوست نہیں ہے۔
مطالب السؤل ص272
علامہ شبلنجی نے لکھا ہے کہ:
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ:
جب کوئی نعمت ملے تو کہو الحمد للہ اور جب کوئی تکلیف پہنچے تو کہو"لاحول و لا قوة الا باللہ" اور جب روزی تنگ ہو تو کہو استغفر اللہ ۔
دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، جتنی محبت تمہارے دل میں ہو گی ، اتنی ہی تمہارے بھائی اور دوست کے دل میں بھی ہو گی
تین چیزیں خدا نے تین چیزوں میں پوشیدہ رکھی ہیں :
1 ۔ اپنی رضا اپنی اطاعت میں ،کسی فرمانبرداری کو حقیر نہ سمجھو شاید اسی میں خدا کی رضا ہو۔
2 ۔ اپنی ناراضی اپنی معصیت میں کسی گناہ کو معمولی نہ جانو تو شاید خدا اسی سے ناراض ہو جائے۔
3 ۔ اپنی دوستی یا اپنے ولی ، مخلوقات میں کسی شخص کو حقیر نہ سمجھو، شاید وہی ولی اللہ ہو۔
نور الابصار ص 131
اتحاف ص93
احادیث آئمہ میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں انسان کو جتنی عقل دی گئی ہے اسی کے مطابق اس سے قیامت میں حساب و کتاب ہو گا۔
ایک نفع پہنچانے والا عالم ستر ہزار عابدوں سے بہتر ہے ، عالم کی صحبت میں تھوڑی دیر بیٹھنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے خدا ان علماء پر رحم و کرم فرمائے جو احیاء علم کرتے اور تقوی کو فروغ دیتے ہیں۔
علم کی زکوة یہ ہے کہ مخلوق خدا کو تعلیم دے جائے ۔ قرآن مجید کے بارے میں تم جتنا جانتے ہو اتنا ہی بیان کرو۔
بندوں پر خدا کا حق یہ ہے کہ جو جانتا ہوا سے بتائے اور جو نہ جانتا ہو اس کے جواب میں خاموش ہو جائے ۔ علم حاصل کرنے کے بعد اسے پھیلاو، اس لیے کہ علم کو بند رکھنے سے شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔
معلم اور متعلم کا ثواب برابر ہے ۔ جس کی تعلیم کی غرض یہ ہو کہ وہ علماء سے بحث کرے ، جہلا پر رعب جمائے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے وہ جہنمی ہے ، دینی راستہ دکھلانے والا اور راستہ پانے والا دونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابر ہیں۔ جو دینی راستہ دکھلانے والا اور راستہ پانے والا دونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابر ہیں۔
جو دینیات میں غلط کہتا ہو اسے صحیح بنا دو، ذات الہی وہ ہے، جو عقل انسانی میں نہ سما سکے اور حدود میں محدود نہ ہو سکے ۔
اس کی ذات فہم و ادراک سے بالاتر ہے خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، خدا کی ذات کے بارے میں بحث نہ کرو، ورنہ حیران ہو جاؤ گے ۔ اجل کی دو قسمیں ہیں ایک اجل محتوم، دوسری اجل موقوف، دوسری سے خدا کے سوا کوئی واقف نہیں، زمین حجت خدا کے سوا کوئی واقف نہیں ، زمین حجت خدا کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی۔
امت بے امام کی مثال بھیڑ کے اس گلے کی ہے، جس کا کوئی بھی نگران نہ ہو۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ روح ہوا کی مانند متحرک ہے اور یہ ریح سے مشتق ہے ، ہم جنس ہونے کی وجہ سے اسے روح کہا جاتا ہے یہ روح جو جانداروں کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ، وہ تمام ریحوں سے پاکیزہ تر ہے۔
روح مخلوق اور مصنوع ہے اور حادث اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی ہے۔
وہ ایسی لطیف شئی ہے جس میں نہ کسی قسم کی گرانی اور سنگینی ہے نہ سبکی، وہ ایک باریک اور رقیق شئی ہے جو قالب کثیف میں پوشیدہ ہے، اس کی مثال اس مشک جیسی ہے جس میں ہوا بھر دو، ہوا بھرنے سے وہ پھول جائے گی لیکن اس کے وزن میں ا ضافہ نہ ہو گا۔ روح باقی ہے اور بدن سے نکلنے کے بعد فنا نہیں ہوتی، یہ نفخ صور کے وقت ہی فنا ہو گی۔
آپ سے خداوند عالم کے صفات بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا، کہ وہ سمیع و بصیر ہے اور آلہ سمع و بصر کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے، رئیس معتزلہ عمر بن عبید نے آپ سے دریافت کیا کہ:
مَنْ يُحَالُ عَلَيْهِ غَضَبِي"
ابو خالد کابلی نے آپ سے پوچھا کہ قول خداوند کہ:
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا"
میں، نور سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ:
وَاللَّهُ نُورُ الْأَئِمَّةِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ"
خدا کی قسم نور سے ہم آل محمد مراد ہیں۔
آپ سے دریافت کیا گیا کہ:
"يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ"
سے کون لوگ مراد ہیں آپ نے فرمایا وہ رسول اللہ ہیں اور ان کے بعد ان کی اولاد سے آئمہ ہوں گے،
انہیں کی طرف آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے جو انہیں دوست رکھے گا اور ان کی تصدیق کرے گا وہی نجات پائے گا اور جو ان کی مخالفت کرے گا جہنم میں جائے گا، ایک مرتبہ طاؤس یمانی نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ وہ کونسی چیز ہے جس کا تھوڑا استعمال حلال تھا اور زیادہ استعمال حرام، آپ نے فرمایا کہ وہ نہر طالوت کا پانی تھا، جس کا صرف ایک چلو پینا حلال تھا اور اس سے زیادہ حرام پوچھا وہ کون سا روزہ تھا جس میں کھانا پینا جائز تھا، فرمایا وہ جناب مریم کا روزہ صمت تھا جس میں صرف نہ بولنے کا روزہ تھا ، کھانا پینا حلال تھا، پوچھا وہ کون سی شئی ہے جو صرف کرنے سے کم ہوتی ہے بڑھتی نہیں، فرمایا کہ وہ عمر ہے ۔ پوچھا وہ کون سی شئی ہے جو بڑھتی ہے گھٹتی نہیں ، فرمایا وہ سمندر کا پانی ہے ، پوچھا وہ کونسی چیز ہے جو صرف ایک بار اڑی پھر نہ اڑی، فرمایا وہ کوہ طور ہے جو ایک بار حکم خدا سے اڑ کر بنی اسرائیل کے سروں پر آ گیا تھا۔ پوچھا وہ کون لوگ ہیں جن کی سچی گواہی خدا نے جھوٹی قرار دی، فرمایا وہ منافقوں کی تصدیق رسالت ہے جو دل سے نہ تھی۔
پوچھا بنی آدم کا 3/1 حصہ کب ہلاک ہوا، فرمایا ایسا کبھی نہیں ہوا، تم یہ پوچھو کہ انسان کا 4/1 حصہ کب ہلاک ہوا تو میں بتاؤں کہ یہ اس وقت ہوا جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا، کیونکہ اس وقت چار آدمی تھے آدم، حوا، ہابیل اور قابیل ، پوچھا پھر نسل انسانی کس طرح بڑھی فرمایا جناب شیش سے جو قتل ہابیل کے بعد بطن حوا سے پیدا ہوئے۔
آپ کی عبادت گذاری اور آپ کے عام حالات
آپ آباؤ اجداد کی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ساری رات نماز پڑھنی اور سارا دن روزہ سے گزارنا آپ کی عادت تھی آپ کی زندگی زاہدانہ تھی، بورئیے پر بیٹھتے تھے ہدایا جو آتے تھے اسے فقراء و مساکین پر تقسیم کر دیتے تھے غریبوں پر بے حد شفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ،صبر و شکر غلام نوازی صلہ رحم وغیرہ میں اپنی آپ نظیر تھے آپ کی تمام آمدنی فقراء پر صرف ہوتی تھی آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اور انہیں اچھے نام سے یاد کرتے تھے۔
کشف الغمہ ص95
آپ کے ایک غلام افلح کا بیان ہے کہ ایک دن آپ کعبہ کے قریب تشریف لے گئے، آپ کی جیسے ہی کعبہ پر نظر پڑی آپ چیخ مار کر رونے لگے میں نے کہا کہ حضور سب لوگ دیکھ رہے ہیں آپ آہستہ سے گریہ فرمائیں ارشاد کیا، اے افلح شاید خدا بھی انہیں لوگوں کی طرح میری طرف دیکھ لے اور میری بخشش کا سہارا ہو جائے، اس کے بعد آپ سجدہ میں تشریف لے گئے اور جب سر اٹھایا تو ساری زمین آنسوؤں سے تر تھی۔
مطالب السؤل ص 271