امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت-قسط-۴

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت:
کسی معصوم کی علمی حیثیت پر روشنی ڈالنی بہت دشوار ہے ، کیونکہ معصوم اور امام زمانہ کو علم لدنی ہوتا ہے، وہ خدا کی بارگاہ سے علمی صلاحیتوں سے بھرپور متولد ہوتا ہے،حضرت امام محمد باقر علیہ السلام چونکہ امام زمانہ اور معصوم ازلی تھے اس لیے آپ کے علمی کمالات، علمی کارنامے اور آپ کی علمی حیثیت کی وضاحت ناممکن ہے تا ہم میں ان واقعات میں سے مستثنی لکھتا ہوں کہ جن پر علماء عبور حاصل کر سکے ہیں۔

 علامہ ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ:

حضرت کا خود ارشاد ہے کہ" علمنا منطق الطیر و اوتینا من کل شئی "

 ہمیں طائروں تک کی زبان سکھا گئی ہے اور ہمیں ہر چیز کا علم عطا کیا گیا ہے۔

 مناقب شہر آشوب ج5 ص11

روضة الصفاء میں ہے کہ:

خدا کی قسم ہم زمین اور آسمان میں خداوند عالم کے خازن علم ہیں اور ہم یہ شجرہ نبوت اور معدن حکمت ہیں ، وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اور حسد کرتے ہیں،

لسان الواعظین میں ہے کہ ابو مریم عبد الغفار کا کہنا ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوا کہ:

1 ۔ مولا کونسا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا کہ: جس سے اپنے برادر مومن کو تکلیف نہ پہنچے۔

2 ۔ کونسا خلق بہتر ہے ؟  فرمایا صبر اور معاف کر دینا۔

3 ۔ کون سا مومن کامل ہے ؟  فرمایا جس کااخلاق بہتر ہو۔

4 ۔ کون سا جہاد بہتر ہے ؟ ، فرمایا جس میں اپنا خون بہہ جائے۔

5 ۔ کونسی نماز بہتر ہے  ؟، فرمایا جس کا قنوت طویل ہو،

6 ۔ کون سا صدقہ بہتر ہے ؟، فرمایا جس سے نافرمانی سے نجات ملے،

7۔ بادشاہان دنیا کے پاس جانے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟، فرمایا میں اچھا نہیں سمجھتا، پوچھا کیوں ؟ فرمایا کہ اس لیے کہ بادشاہوں کے پاس کی آمد و رفت سے تین باتیں پیدا ہوتی ہیں :

 1 ۔ محبت دنیا،
2 ۔فراموشی مرگ،
3 ۔ قلت رضائے خدا۔
پوچھا پھر میں نہ جاؤں ، فرمایا میں طلب دنیا سے منع نہیں کرتا، البتہ طلب معاصی سے روکتا ہوں ۔
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ:

 یہ مسلمہ حقیقت ہے اور اس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم و زہد اور شرف میں ساری دنیا سے فوقیت لے گئے ہیں۔ آپ سے علم القرآن، علم الآثار، علم السنن اور ہر قسم کے علوم ، حکم، آداب وغیرہ کے مظاہرہ میں کوئی نہیں ہوا، بڑے بڑے صحابہ اور نمایاں تابعین، اور عظیم القدر فقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے آپ کو آنحضرت (ص) نے جابر بن عبد اللہ انصاری کے ذریعہ سے سلام کہلایا تھا، اور اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ یہ میرا فرزند"باقر العلوم" ہو گا، علم کی گتھیوں کو سلجھائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔

اعلام الوری ص157،

علامہ شبلنجی نے لکھا ہے کہ:

 علم دین، علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن و علم السیرت و علوم و فنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدر امام محمد باقر علیہ السلام سے ظاہر ہوئے، اتنے امام حسین اور امام حسین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہر نہیں ہوئے ۔

 کتاب الارشاد ص 286

نورالابصار ص 131

ارجح المطالب ص447

ابن حجر مکی نے لکھا ہے کہ:

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات اور کمالات و احسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہو گئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہو اور جس کی طینت و طبیعت فاسد ہو گئی ہو، کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا، اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقر العلوم" علم کے پھیلانے والے اور جامع العلوم ہیں، آپ کا دل صاف، علم و عمل روشن و تابندہ نفس پاک اور خلقت شریف تھی، آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔

عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اور گہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اور عاجز و ماندہ ہیں، آپ کے ہدایات و کلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے۔

صواعق محرقہ ص120

ابن خلکان لکھتے ہیں کہ:

 امام محمد باقر علامہ زمان اور سردار کبیر الشان تھے۔ آپ علوم میں بڑے تبحر اور وسیع الاطلاق تھے۔

 وفیات الاعیان ج1 ص450

 ذہبی لکھتے ہیں کہ:

 آپ بنی ہاشم کے سردار اور متبحر علمی کی وجہ سے باقر مشہور تھے، آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اور آپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔

 تذکرة الحفاظ ج1 ص111

علامہ شبراوی نے لکھا ہے کہ:

 امام محمد باقر کے علمی تذکرے دنیا میں مشہور ہوئے اور آپ کی مدح و ثناء میں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہنی نے یہ تین شعر لکھے ہیں:

ترجمہ : جب لوگ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہیں تو پورا قبیلہ قریش اس کے بتانے سے عاجز رہے گا، کیونکہ وہ خود محتاج ہے اور اگر فرزند رسول امام محمد باقر کے منہ سے کوئی بات نکل جائے تو بے حد و حساب مسائل و تحقیقات کے ذخیرے مہیا کر دیں گے یہ حضرات وہ ستارے ہیں جو ہر قسم کی تاریکیوں میں چلنے والوں کے لیے چمکتے ہیں اور ان کے انوار سے لوگ راستے پاتے ہیں۔

 الاتحاف ص 52

تاریخ الآئمہ ص413

علامہ ابن شہر آشوب کا بیان ہے کہ صرف ایک راوی محمدبن مسلم نے آپ سے تیس ہزارحدیثیں روایت کی ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۱۱) ۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک