امام باقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا-قسط -۳
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا:
مؤرخ ذاکر حسین تاریخ اسلام ج1 ص42 میں لکھتے ہیں کہ:
عبد الملک بن مروان نے 75 ھ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی صلاح سے اسلامی سکہ جاری کیا، اس سے پہلے روم و ایران کا سکہ اسلامی ممالک میں بھی جاری تھا۔
اس واقعہ کی تفصیل علامہ دمیری کے حوالہ سے یہ ہے کہ:
ایک دن علامہ کسائی سے خلیفہ ہارون رشید عباسی نے پوچھا کہ اسلام میں درہم و دینار کے سکے، کب اور کیونکر رائج ہوئے انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجرا خلیفہ عبد الملک بن مروان نے کیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے ناواقف ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کے اجراء اور ایجادکی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، ہارون الرشید نے کہا کہ بات یہ ہے کہ زمانہ سابق میں جو کاغذ وغیرہ ممالک اسلامیہ میں مستعمل ہوتے تھے وہ مصر میں تیار ہوا کرتے تھے، جہاں اس وقت نصرانیوں کی حکومت تھی، اور وہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب پر تھے وہاں کے کاغذ پر جو ضرب یعنی (ٹریڈمارک) ہوتا تھا، اس میں بزبان روم (اب،ابن،روح القدس لکھا ہوا تھا ،
فلم یزل ذلک کذالک فی صدر الاسلام کلہ بمعنی علوما کان علیہ،
اور یہی چیز اسلام میں جتنے دور گذرے تھے سب میں رائج تھی یہاں تک کہ جب عبد الملک بن مروان کا زمانہ آیا، تو چونکہ وہ بڑا ذہین اور ہوشیار تھا، لہذا اس نے ترجمہ کرا کے گورنر مصر کو لکھا کہ تم رومی ٹریڈ مارک کو موقوف و متروک کر دو، یعنی کاغذ کپڑے وغیرہ جو اب تیار ہوں ان میں یہ نشانات نہ لگنے دو بلکہ ان پر یہ لکھوا دو
"شہد اللہ انہ لا الہ الا ہو"
چنانچہ اس حکم پر عمل درآمد کیا گیا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کا جن پر کلمہ توحید ثبت تھا، رواج پایا تو قیصر روم کو بے انتہا ناگوار گزرا اس نے تحفہ تحائف بھیج کر عبد الملک بن مروان خلیفہ وقت کو لکھا کہ کاغذ وغیرہ پر جو"مارک" پہلے تھا، وہی بدستور جاری کرو، عبد الملک نے ہدایا لینے سے انکار کر دیا اور سفیر کو تحائف و ہدایا سمیت واپس بھیج دیا اور اس کے خط کا جواب تک نہ دیا قیصر روم نے تحائف کو دوگنا کر کے پھر بھیجا اور لکھا کہ تم نے میرے تحائف کو کم سمجھ کر واپس کر دیا، اس لیے اب اضافہ کر کے بھیج رہا ہوں اسے قبول کر لو اور کاغذ سے نیا"مارک" ہٹا دو، عبد الملک نے پھر ہدایا واپس کر دیا اور مثل سابق کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد قیصر روم نے تیسری مرتبہ خط لکھا اور تحائف و ہدایا بھیجے اور خط میں لکھا کہ تم نے میرے خطوط کے جوابات نہیں دئیے ،اور نہ میری بات قبول کی اب میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے اب بھی رومی ٹریڈ مارک کو از سرنو رواج نہ دیا اور توحید کے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے تو میں تمہارے رسول کو گالیاں، سکہ درہم و دینار پر نقش کرا کے تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کر دوں گا اور تم کچھ نہ کر سکو گے دیکھو اب جو میں نے تم کو لکھا ہے، اسے پڑھ کر ارفص جبینک عرقا،
اپنی پیشانی کا پسینہ صاف کرو اور جو میں کہتا ہوں اس پر عمل کرو تا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ محبت قائم ہے بدستور باقی رہے۔
عبد الملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کو پڑھا تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ، ہاتھ کے طوطے اڑ گئے اور نظروں میں دنیا تاریک ہو گئی اس نے کمال اضطراب میں علماء فضلاء اہل الرائے اور سیاست دانوں کو فورا جمع کر کے ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ کوئی ایسی بات سوچو کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یا سراسر اسلام کامیاب ہو جائے، سب نے سر جوڑ کر بہت دیر تک غور کیا لیکن کوئی ایسی رائے نہ دے سکے جس پر عمل کیا جا سکتا:
"فلم یجد عند احد منہم رایا یعمل بہ"
جب بادشاہ ان کی کسی رائے سے مطمئن نہ ہو سکا تو اور زیادہ پریشان ہوا اور دل میں کہنے لگا میرے پالنے والے اب کیا کروں ابھی وہ اسی تردد میں بیٹھا تھا کہ اس کا وزیر اعظم"ابن زنباع" بول اٹھا، بادشاہ تو یقینا جانتا ہے کہ اس اہم موقع پر اسلام کی مشکل کشائی کون کر سکتا ہے ، لیکن عمدا اس کی طرف رخ نہیں کرتا، بادشاہ نے کہا"ویحک من" خدا تجھے سمجھے، تو بتا تو سہی وہ کون ہے ؟ وزیر اعظم نے عرض کی:
"علیک بالباقر من اہل بیت النبی"
میں فرزند رسول امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف اشارہ کر رہا ہوں اور وہی اس آڑے وقت میں تیرے کام آ سکتے ہیں ،
عبد الملک بن مروان نے جونہی آپ کا نام سنا قال صدقت کہے لگا خدا کی قسم تم نے سچ کہا اور صحیح رہبری کی ہے۔
اس کے بعد اسی وقت فورا اپنے عامل مدینہ کو لکھا کہ اس وقت اسلام پر ایک سخت مصیبت آ گئی ہے اور اس کا دفع ہونا امام محمد باقر کے بغیر ناممکن ہے، لہذا جس طرح ہو سکے انھیں راضی کر کے میرے پاس بھیجدو، دیکھو اس سلسلہ میں جو مصارف ہوں گے، وہ بذمہ حکومت ہوں گے۔
عبد الملک نے درخواست طلبی، مدینہ ارسال کرنے کے بعد شاہ روم کے سفیر کو نظر بند کر دیا، اور حکم دیا کہ جب تک میں اس مسئلہ کو حل نہ کر سکوں اسے پایہ تخت سے جانے نہ دیا جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں عبد الملک بن مروان کا پیغام پہنچا اور آپ فورا عازم سفر ہو گئے اور اہل مدینہ سے فرمایا کہ چونکہ اسلام کا کام ہے لہذا میں تمام اپنے کاموں پر اس سفر کو ترجیح دیتا ہوں، الغرض آپ وہاں سے روانہ ہو کرعبد الملک کے پاس جا پہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پریشان تھا،اس لیے اسے نے آپ کے استقبال کے فورا بعد عرض مدعا کر دیا، امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا:
"لایعظم ہذا علیک فانہ لیس بشئی"
اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادر و توانا قیصر روم کو اس فعل قبیح پر قدرت ہی نہ دے گا اور پھر ایسی صورت میں جب کہ اس نے تیرے ہاتھوں میں اس سے عہدہ برآ ہونے کی طاقت دے رکھی ہے بادشاہ نے عرض کی یابن رسول اللہ وہ کونسی طاقت ہے جو مجھے نصیب ہے اور جس کے ذریعہ سے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اسی وقت حکاک اور کاریگروں کو بلاؤ اور ان سے درہم و دینار کے سکے ڈھلواؤ اور ممالک اسلامیہ میں رائج کر دو، اس نے پوچھا کہ ان کی کیا شکل و صورت ہو گی اور وہ کس طرح ڈھلیں گے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ سکہ کے ایک طرف کلمہ توحید دوسری طرف پیغمر اسلام کا نام نامی اور ضرب سکہ کا سن لکھا جائے اس کے بعد اس کے اوزان بتائے آپ نے کہا کہ درہم کے تین سکے اس وقت جاری ہیں ایک بغلی جو دس مثقال کے دس ہوتے ہیں دوسرے سمری خفاف جو چھ مثقال کے دس ہوتے ہیں تیسرے پانچ مثقال کے دس ،یہ کل 21 مثقال ہوئے اس کو تین پر تقسیم کرنے پر حاصل تقسیم 7 مثقال ہوئے، اسی سات مثقال کے دس درہم بنوا، اور اسی سات مثقال کی قیمت سونے کے دینارتیارکر جس کا خوردہ دس درہم ہو، سکہ کا نقش چونکہ فارسی میں ہے اس لیے اسی فارسی میں رہنے دیا جائے ، اور دینار کا سکہ رومی حرفوں میں ہے لہذا اسے رومی ہی حرفوں میں کندہ کرایا جائے اور ڈھالنے کی مشین (سانچہ) شیشے کا بنوایا جائے تا کہ سب ہم وزن تیار ہو سکیں۔
عبد الملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلوا لیے اور سب کام درست کر لیا اس کے بعد حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ اب کیا کروں ؟ "امرہ محمد بن علی" آپ نے حکم دیا کہ ان سکوں کو تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کر دے، اور ساتھ ہی ایک سخت حکم نافذ کر دے جس میں یہ ہو کہ اسی سکہ کو استعمال کیا جائے اور رومی سکے خلاف قانون قرار دیئے گئے اب جو خلاف ورزی کرے گا اسے سخت سزا دی جائے گی ، اور بوقت ضرورت اسے قتل بھی کیا جا سکے گا۔
عبد الملک بن مروان نے تعمیل ارشاد کے بعد سفیر روم کو رہا کر کے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ ہم نے اپنے سکے ڈھلوا کر رائج کر دیے اور تمہارے سکہ کو غیر قانونی قرار دے دیا اب تم سے جو ہو سکے کر لو۔
سفیر روم یہاں سے رہا ہو کر جب اپنے قیصر کے پاس پہنچا اور اس سے ساری داستان بتائی تو وہ حیران رہ گیا، اور سر ڈال کر دیر تک خاموش بیٹھا سوچتا رہا، لوگوں نے کہا بادشاہ تو نے جو یہ کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے پیغمبرکو سکوں پر گالیاں کندا کرا دوں گا اب اس پر عمل کیوں نہیں کرتے اس نے کہا کہ اب گالیاں کندا کر کے کیا کروں گا اب تو ان کے ممالک میں میرا سکہ ہی نہیں چل رہا اور لین دین ہی نہیں ہو رہا۔
حیواة الحیوان دمیری