امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام باقرعلیہ السلام اور جابر بن عبد اللہ انصاری کی ملاقات-قسط-۲

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام اور جابر بن عبد اللہ انصاری کی باہمی ملاقات:
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت محمد مصطفی ص نے اپنی ظاہری زندگی کے اختتام پر امام محمد باقر کی ولادت سے تقریبا 46 سال قبل جابر بن عبد اللہ انصاری کے ذریعہ سے امام محمد باقر علیہ السلام کو سلام کہلایا تھا، امام علیہ السلام کا یہ شرف اس درجہ ممتاز ہے کہ آل محمد میں سے کوئی بھی اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔

مطالب السؤل ص 272

مورخین کا بیان ہے کہ سرور کائنات ایک دن اپنی آغوش مبارک میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو پیار کر رہے تھے کہ ناگاہ آپ کے صحابی خاص جابر بن عبد اللہ انصاری حاضر ہوئے حضرت نے جابرکو دیکھ کر فرمایا، اے جابر! میرے اس فرزند کی نسل سے ایک بچہ پیدا ہو گا جو علم و حکمت سے بھرپور ہو گا،اے جابر تم اس کا زمانہ پاؤ گے،اور  اس وقت تک زندہ رہو گے جب تک وہ سطح ارض پر آ نہ جائے۔

اے جابر! دیکھو، جب تم اس سے ملنا تو اسے میرا سلام کہہ دینا، جابر نے اس خبر اور اس پیشین گوئی کو کمال مسرت کے ساتھ سنا، اور اسی وقت سے اس بہجت آفرین ساعت کا انتظار کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ چشم انتظار پتھرا گیں اور آنکھوں کا نور جاتا رہا۔ جب تک آپ بینا تھے ہر مجلس و محفل میں تلاش کرتے رہے اور جب نور نظر جاتا رہا تو زبان سے پکارنا شروع کر دیا، آپ کی زبان پر جب ہر وقت امام محمد باقر کا نام رہنے لگا تو لوگ یہ کہنے لگے کہ جابرکا دماغ ضعف پیری کی وجہ سے از کار رفتہ ہو گیا ہے لیکن بہرحال وہ وقت آ ہی گیا کہ آپ پیغام احمدی اور سلام محمدی پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

راوی کا بیان ہے کہ: ہم جناب جابر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں امام زین العابدین علیہ السلام تشریف لائے، آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام بھی تھے امام علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند سے فرمایا کہ چچا جابر بن عبد اللہ انصاری کے سر کا بوسہ دو، انہوں نے فورا تعمیل ارشاد کیا، جابر نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ ابن رسول اللہ آپ کو آپ کے جدنامدار حضرت محمد مصطفی ص نے سلام فرمایا ہے۔
حضرت نے کہا اے جابر ان پر اور تم پر میری طرف سے بھی سلام ہو، اس کے بعد جابر بن عبد اللہ انصاری نے آپ سے شفاعت کے لیے ضمانت کی درخواست کی، آپ نے اسے منظور فرمایا اور کہا کہ میں تمہارے جنت میں جانے کا ضامن ہوں۔

صواعق محرقہ ص 120

وسیلہ النجات ص 338

مطالب السؤل 373

شواہدالنبوت ص 181

 نور الابصار ص 143

رجال کشی ص 27

تاریخ طبری ج3 ،ص 96

مجالس المومنین ص 117

علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ آنحضرت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:

"ان بقائک بعد رویتہ یسیر"

کہ اے جابر میرا پیغام پہنچانے کے بعد بہت تھوڑا زندہ رہو گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

مطالب السؤل ص 273

سات سال کی عمر میں امام محمد باقر (ع) کا حج خانہ کعبہ:
علامہ جامی نے لکھا ہے کہ:
راوی بیان کرتا ہے کہ میں حج کے لیے جا رہا تھا، راستہ پرخطر اور انتہائی تاریک تھا، جب میں لق و دق صحرا میں پہنچا تو ایک طرف سے کچھ روشنی کی کرن نظر آئی میں اس کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ ناگاہ ایک سات سال کا لڑکا میرے قریب آ پہنچا، میں نے سلام کا جواب دینے کے بعد اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں کا ارادہ ہے، اور آپ کے پاس زاد راہ کیا ہے اس نے جواب دیا، سنو میں خدا کی طرف سے آ رہاہوں اور خدا کے طرف سے آ رہا ہوں اور خدا کی طرف جا رہا ہوں، میرا زاد راہ "تقوی" ہے میں عربی النسل، قریشی خاندان کا علوی نزاد ہوں، میرا نام محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ہے، یہ  کہہ کر وہ دونوں سے غائب ہو گئے اور مجھے پتہ نہ چل سکا کہ آسمان کی طرف پرواز کر گئے یا زمین میں سما گئے۔
شواہد النبوت ص 183

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک