امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

اولیت اسلام

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

اولیت اسلام

آپ اوائل عمر سے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ساتھ رہے، انہی کی آغوش میں پرورش پائی،اور انہی کے عقائد و نظریات پر اپنے عقائد و نظریات کی بنیاد رکھی اور کبھی کفر و شرک سے واسطہ ہی نہیں رہا۔ چنانچہ احمد بن زینی دحلان لکھتے ہیں :

لم یتقدم من علی رضی الله عنه شرک ابدًا لانه کان مع رسول الله صلی الله علیه وسلم فی کفالته کاحد اولاده وتبعه فی جمیع اموره“ ( سیرت نبویہ ص ۱۷۷)

یعنی امیرالمؤمنین علیہ السلام کو کبھی شرک سے سابقہ نہیں پڑا، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تربیت و کفایت میں ان کی اولاد کی مثل رہے۔ اور تمام امور میں انہی کی پیروی کرتے تھے۔

اور سب سے پہلے آپ ہی آنحضرت پر ایمان لائے۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں :

انا اول من اسلم مع النبی ۔( تاریخ خطیب بغدادی ج ۴ ص ۲۳۳)

سب سے پہلے میں نے نبی اکرم کی آواز پر اسلام قبول کیا۔

انس بن مالک کہتے ہیں :

اوحی الی رسول الله یوم الاثنین و صلی علی یوم الثلاثاء ۔( مستدرک حاکم ۳۹ ص ۱۱۲)

یعنی پیر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور منگل کے دن علی علیہ السلام نے نماز پڑھی۔

مجاہد کا قول ہے :اول من صلی علی و هو ابن عشر سنین ۔( طبقات ابن سعدج ۳ ص ۳۱)

یعنی سب سے پہلے حضرت علی نے نماز پڑھی اس وقت آپ کی عمر دس سال تھی۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دوسرے فضائل و امتیازات کی ماننداس امتیاز کو بھی مخدوش اور کم اہمیت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام بچوں اور نابالغوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ جبکہ بالغوں اور مردوں میں سب سے پہلے ابو بکر نے اسلام قبول کیا۔حالانکہ تاریخ اسے تسلیم نہیں کرتی کہ وہ بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے، بلکہ ان سے پہلے کافی لوگ اسلام لاچکے تھے۔ چنانچہ محمد بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے والد سعد ابن ابی وقاص سے دریافت کیا کہ:

أ کان ابوبکر اوّلکم اسلامًا فقال: لااسلم قبله اکثر من خمسین ۔

( تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۰)

یعنی کیا آپ لوگوں میں سے سب سے پہلے ابوبکر اسلام لائے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بلکہ پچاس سے زیادہ آدمی ان سے پہلے اسلام لا چکے تھے۔

اس کے علاوہ کبھی یہ شبہہ ایجاد کر کے آپ اولیت اسلام جیسی فضیلت کو کم اہمیت قرار دینے کی سعی اور یہ کہہ کہ سبقت کا پلہ سبک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ علی علیہ السلام صغیر السن( کم سن )و نابالغ تھے۔ انہوں نے صرف اپنے مربی کے زیر اثر اسلام قبول کیا۔ اس میں اگر سبقت ہو بھی تو یہ باعث امتیاز و فضیلت نہیں ہو سکتی، کیونکہ کم سنی کا اسلام علم و تحقیق پر مبنی نہیں بلکہ بزرگوں کی پیروی و تحقیق کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ البتہ جن لوگوں نے بعد از بلوغ اسلام قبول کیا ان کیا اسلام تحقیق اور حقیقت اسی پر مبنی تھا، اور تقلیدی اسلام سے تحقیقی اسلام کا درجہ بلند ترہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بلوغ لحاظ احکام شرعیہ اور فقہیہ سے ہوتا ہے۔ اور ایمان کا تعلق امور عقلیہ سے ہے۔ جس میں عقل شعور کا اعتبار ہوتا ہے یعنی اگرچہ حضرت علی فقہ کی نظر میں بلوغ تک نہیں پہنچے تھے۔ یعنی پندرہ سال کے نہیں ہوئے تھے اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ چنانچہ کبھی فقہی طور پر نابالغ ، بالغ مردوں سے زیادہ با فہم، باشعور اور عاقل ثابت ہوتا ہے۔

چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

و آتیناه الحکم صبیًا

یعنی ابھی وہ بچے ہی تھے کہ ہم نے انہیں حکم و فہم سلیم عطا کیا۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ انہوں نے گہوارے کے اندر سے کہا :

انی عبدالله آتانی الکتاب وجعلنی نبیًا

یعنی میں اللہ کا بندہ ہو، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔

یہاں عقلی بلوغ اپنے عروج پر نظر آتا ہے، حالانکہ فقہی بلوغ کی منزل ابھی دور تھی۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی اگرچہ فقہی اعتبار سے نابالغ تھے۔ لیکن عقلی اور شعوری طور پر بلوغ کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے۔ لہٰذا یہ اعتراض بھی وارد نہیں ہے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک