امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مہدی علیہ السلام ابو طالب کی ذریت سے ہیں

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

مہدی علیہ السلام  کنانی ،قرشی  اور ہاشمی  ہیں

قتادہ سے  مروی ہے :  میں  نے سعید  بن مسیب  سے پوچھا : کیا مہدی  برحق ہے ؟

کہا :  وہ برحق ہے ۔

میں نے  پوچھا : اس کا تعلق  کس سے ہے ؟

کہا : کنانہ  سے ۔

میں نے پوچھا :  پھر کس سے ؟ 

بولا : قریش  سے ۔

میں نے پوچھا :   پھر کس سے ؟

 بولا : بنی ہاشم سے  ۔

(دیکھئے عقد الدرر ،ص ۴۲۔۴۴ ،باب اول ، نیز مستدرک  الحاکم  ،ج۴،ص  ۵۵۳ اور مجمع الزوائد  ،ج۷،ص  ۱۱۵ )

اس روایت کی رو سے  مہدی علیہ السلام  کنانی ،قرشی اور ہاشمی  ہیں  اور  ان القاب میں کوئی  منافات نہیں ہے کیونکہ  ہر ہاشمی  کا تعلق قریش  سے ہے اور ہر قریشی  کا تعلق کنانہ سے ہے  اس لئے کہ قریش  سے مراد  نضر  بن کنانہ  ہے جس پر تمام  نسب شناسوں  کا اتفاق ہے ۔

مہدی علیہ السلام عبد المطلب کی نسل سے ہیں

ابن ماجہ  نے  انس بن مالک  سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :

 ہم عبد المطلب  کی اولاد   یعنی  میں ،حمزہ ،علی ، جعفر، حسن،حسین اور مہدی  جنتیوں کے سردار ہیں ۔

(سنن ابن ماجہ ،ج۲،ص ۱۳۶۸،ح ۴۰۸۷،باب  خروج المہدی ،مستدرک الحاکم  ،ج۳،ص  ۱۱۲  نیز  سیوطی کی جمع الجوامع ،ج۱ ،ص  ۸۵۱)

مہدی علیہ السلام ابو طالب کی ذریت  سے ہیں

سیف  بن عمیرہ سے مروی ہے :  میں  ابو جعفر  منصور  کے پاس موجود  تھا ۔اس نے مجھ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا :  اے سیف  بن عمیرہ !  ایک منادی آسمان  سے ابو طالب  کی  نسل  کے ایک  مرد  کا نام  لے کر ضرور  پکارے گا ۔

میں نے کہا : اے امیر المومنین!  آپ کے قربان جاؤں !

 کیا  آپ اسے نقل کر رہے ہیں ؟

منصور نے کہا :ہاں،قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے اپنے کانوں سے اسے سنا ہے۔

میں نے کہا:  اے امیر المومنین ! میں نے اس سے قبل یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔

بولا :اے سیف ! یقیناً  یہ بر حق ہے۔ جب ایسا ہوگا تو ہم سب سے پہلے  لبیک کہیں گے ۔ یاد رکھو کہ ہمارے چچازادوں میں سے ایک  مرد کو  اس آواز کے ذریعے پکارا  جائے گا۔

 میں نے کہا : کیا فاطمہ کی اولاد میں  سے ایک مرد کو ؟ بولا : ہاں اے سیف ! اگر میں اسے ابو جعفر محمد بن علی کی زبانی  نہ سن چکا ہوتا تو اگر سارے اہل زمین  مل کر  مجھ سے یہ حدیث  بیان کرتے تب  بھی میں  اسے قبول  نہ کرتا لیکن  محمد بن علی  کی  تو بات ہی اور ہے ۔

(دیکھئے مقدسی شافعی کی عقد الدرر ، ۱۴۹ ۔۱۵۰ ، باب چہارم )

یہ حدیث صاف صاف بتا رہی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا تعلق ابوطالب کی نسل سے ہے۔

مہدیؑ اہل بیت کا ایک فرد ہے :

 ابو  سعید خدریؓ سے مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

 قیا مت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک زمین ظلم  وستم سے پر نہ ہوجائے ۔ پھر میری ذریت  یا میرے اہل بیت  کا ایک فرد  خروج کرے گا  اور اسے عدل و انصاف سے  اس طرح پر کرے گا  جس طرح  وہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی ۔

(مسند احمد ۳/۴۲۴۔ح۱۰۹۲۰ نیز مسند ابی یعلی،۲/۲۷۴،ح ۔۹۸۷)

 

اس قسم کی  بات عبداللہ نے  رسول کریم  صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم سے یوں نقل  کی ہے:

 قیامت اس وقت تک برپا نہیں  ہوگی جب  تک میرے اہل بیت  کا ایک  مرد جس کا نام  میرے  نا م کی طرح  ہوگا  حکومت  کی باگ ڈور نہ سنبھالے ۔

(دیکھئے  مسند البزاز  ،ج۱،ص  ۲۸۱، مسند احمد ،ح۳۷۶۱، سنن ترمذی  ،ج۴،ص  ۵۰۵، باب  ۵۲،  ح  ۲۲۳۰ ،معجم الکبیر  ،ج۱۰،ص  ۱۳۵، ح  ۱۰۲۲۱،(مختصر  اختلاف کے ساتھ )،  تاریخ بغداد ج۴،ص ۳۸۸، عقد الدرر  ص ۳۸،باب  ۳،  مطالب السؤول ،ج۲ ،ص  ۸۱، نیز   محمد  نوفلی  قرشی گنجی  شافعی  کی  البیان فی اخبار صاحب الزمان ،ص۹۱،فرائد السمطین ،ج۲،ص  ۳۲۷، ح ۵۷۶، الدرّ المنثور  ،ج۶،ص  ۵۸ ،جمع الجوامع ،ج۱،ص  ۹۰۳،  کنز العمال ،ج۱۴،ص  ۲۷۱،ح  ۳۸۶۹۲،برہان المتقی ،ص ۹۰ ،باب  ۲،ح  ۴۔ نیزحاکم  نیشاپوری کی المستدرک ،ج۴،ص۵۷۷نیز  عقد الدرر ،ص ۳۶،باب  ۱ ، موارد الضمآن، ص ۴۶۴،ح ۱۸۷۹ ،۱۸۸۰، مقدمہ ابن خلدون  ،ص ۲۵۰، فصل  ۵۳،جمع الجوامع ،ج۱،ص ۹۰۲، کنزالعمال  ،ج ۱۴، ص  ۲۷۱،ح ۳۸۶۹۱، ینابیع المودۃ ،ص  ۴۳۳،باب  ۷۳)

علی علیہ السلام نے  رسول اللہ  صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا  ہے کہ  آنحضرت  نے فرمایا : مہدی ہم اہل بیت کا  ایک فرد ہے ۔ اللہ اس کے  معاملے کو ایک  رات میں سنوارے گا ۔

(ابن ابی شیبہ ،ج ۸،ص ۶۷۸، ح ۱۹۰، الفتن: ابن حماد اور  مسند احمد  ،ج۱،ص  ۸۴ ، تاریخ البخاری  ،ج۱،ص  ۳۷۱، ح ۹۹۴، سنن ابن ماجہ ،ج۲،ص  ۱۳۶۷، باب ۳۴،ح  ۴۰۸۵، مسند ابو یعلیٰ ،ج۱ ،ص  ۳۵۹، ح۴۶۵،حلیۃ الاولیاء ،ج۳ص۱۷۷نیز  ابن عدی کی الکامل ،ج۷،۲۶۴۳،الفردوس ،۴،ص ۲۲۲،ح ۶۶۱۹، نیز   محمد  نوفلی  قرشی گنجی  شافعی  کی البیان فی اخبار صاحب الزمان ،ص۱۰۰،عقد الدرر،ص۱۸۳،باب ۶،العلل المتناہیۃ ،ج۲،ص ۲۸۵۶،ح ۱۴۳۲،فرائد السمطین ،ج۲،ص ۳۳۱،ح ۵۸۳،میزان الاعتدال ،ج۴،ص ۳۵۹، ح ۹۴۴۴، مقدمہ ابن خلدون ،ج۱،ص ۳۹۶،باب  ۵۳ ، تہذیب الکمال ،ج ۱۱،ص ۱۵۲،ح ۲۹۴، عرف السیوطی الحاوی،ج۲،ص ۲۱۳، الدر المنثور ،ج۶،ص ۵۸،جمع الجوامع ،ج۱،ص ۴۴۹، الجامع الصغیر ،ج۲،ص ۶۷۲،ح۹۲۴۳،ابن حجر کی الصواعق المحرقہ ،ص ۱۶۳،باب  ۵۱۱، فصل ۱، کنز العمال  ،ج۱۴،ص ۲۶۴،ح۳۸۶۶۴،برہان التقی ،ص  ۸۷،باب ۱،ح ۴۳ اور صفحہ ۸۹،باب ۲،ح۱، مرقاۃ المفاتیح ،ج۹،ص ۳۴۹،مختصر اختلاف کے ساتھ  نیز  فیض القدیر ،ج۶،ص ۲۷۸،ح ۹۲۴۳ )

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک