شعائر کی تعظیم
-
- شائع
-
- مؤلف:
- حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ کاظم البھادلی- ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- اقتباس از کتاب:معين الخطباء(محاضرات في العقيدة والأخلاق)جلد۱
شعائر کی تعظیم
حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ کاظم البھادلی- ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ (سورہ حج، آیت: 32)
(اور جو کوئی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دل کے تقوٰی سے ہے)
شعائر کا مفہوم:
لفظ ’’شعائر‘‘ ’’شعیرہ‘‘ کی جمع ہے۔ لغت میں اس کا معنی ’’علامت‘‘ ہے۔ اصطلاح میں ہر وہ چیز جو دین کے معالم (نشانیوں) کے احیاء سے تعلق رکھتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی طرف رغبت دلائی ہو، ’’شعیرہ‘‘ کہلاتی ہے۔
قرآن کریم میں لفظ ’’شعائر‘‘ صریحاً چار مقامات پر آیا ہے:
سورہ بقرہ، آیت 158: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِاللَّهِ﴾
(بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں)
2. سورہ مائدہ، آیت 2: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَاللَّهِ﴾
(اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو)
3. سورہ حج، آیت 32: ﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾
4. سورہ حج، آیت 36: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِاللَّهِ﴾
(اور ہم نے اونٹنیوں کو تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا)
آیت زیر بحث (سورہ حج، آیت 32) میں اللہ تعالیٰ نے شعائر کی تعظیم کو دلوں کے تقوٰی سے قرار دیا ہے۔ بعض علماء نے اس سے مراد تمام فرائض الٰہیہ لیے ہیں۔ امام قرطبی نے ’’احکام القرآن‘‘ میں لکھا ہے کہ شعائر سے مراد وہ تمام عبادتیں ہیں جنہیں اللہ نے لوگوں کے لیے علامت (علامتِ دین) بنایا۔ خلاصہ یہ کہ شعیرہ اور شعائر سے مراد دین کی اشاعت، اللہ کے نور کو پھیلانا اور اسے بلند کرنا ہے۔
آیت زیر بحث کے تین محور ہیں:
1. تعظیم کا مطالبہ۔
2. تعظیم کا موضوع یعنی ’’شعائر اللہ‘‘۔
3. تعظیم کا نتیجہ یعنی تقوٰی، جو قلب کی صفائی اور واجب کے ادراک سے پیدا ہوتا ہے۔
پہلے محور کے مطابق ہر انسان پر فرض ہے کہ وہ اللہ کے اس حکم (یا ترغیب) کو عام کرے اور شعائر کی تعظیم و اقامت میں اس طرح عمل کرے جیسے دوسرے احکام الٰہیہ مثلاً روزہ و نماز میں کرتا ہے۔ جس طرح رمضان کے روزے کی بجا آوری پر ثواب اور مخالفت پر سخت عقاب ہے، اسی طرح شعائر کی تعظیم و اقامت میں بھی یہی معاملہ ہے۔ باقی آیات، جیسے
﴿لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَاللَّهِ﴾
میں شعائر اللہ کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ آیات حج کے سیاق میں نازل ہوئی ہیں، لیکن ان کا حکم عام ہے؛ کیونکہ قرآن کریم کی مثال ایسی ہے جیسے دن رات، سورج چاند ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ شعائر کی تعیین و اقامت کو شارع مقدس نے عرف پر چھوڑا ہے، جب تک کہ کوئی ممانعت نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے لفظ ’’شعائر‘‘ کو وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔ مقدس اردبیلی نے ’’مجمع الفائدۃ والبرہان‘‘ میں فرمایا: ’’نقل ہوا ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی قبور کے تجدید (مرمت) کو قبر کے تازہ ہونے کی مکروہیت سے مستثنیٰ کیا گیا ہے؛ کیونکہ ائمہ کی قبور کی تجدید شعائر اللہ کی تعظیم اور ثواب عظیم کے حصول کا باعث ہے۔‘‘
بلکہ بعض فقہا نے ضعیف الایمان شخص پر ہجرت کو واجب قرار دیا ہے اگر وہ شعائر اسلام کو ظاہر کرنے سے عاجز ہو۔ اس میں کسی خاص مصداق کی تحدید نہیں کی گئی، بلکہ اسے عرف پر چھوڑا گیا ہے۔ مثلاً حاکم جائر کا نماز جمعہ و جماعت یا زکاۃ ادا کرنے سے منع کرنا، شعائر کے اظہار میں ضعف کی مثالیں ہیں۔