امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

آثاراجتماعی شفاعت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

آثاراجتماعی شفاعت
تحریر:سید محمد حسین طباطبایی
مترجم: یوسف حسین عاقلی

سماجی اصول یہ بتاتے ہیں کہ انسانی معاشرہ ہرگز اپنی حیات کی حفاظت اور اپنے وجود کے تسلسل پر قادر نہیں ہے، سوائے ان قوانین کے جو خود معاشرے کی نظر میں معتبر سمجھے جائیں، تاکہ وہ قوانین معاشرے کے حالات پر نظر رکھیں اور افرادِ معاشرہ کے اعمال پر حکومت کریں۔ اور یقیناً ایسا قانون ہونا چاہیے جو معاشرے کی فطرت اور افرادِ معاشرہ کی غریزہ سے پھوٹتا ہو اور معاشرے میں موجود شرائط کے مطابق وضع کیا گیا ہو، تاکہ تمام طبقات اپنی اجتماعی صورت حال کے مطابق زندگی کی کمال کی جانب اپنا راستہ طے کرسکیں۔ نتیجتاً معاشرہ تیزی سے کمال کی جانب گامزن ہو اور اس راستے میں مختلف طبقات اپنے اعمال اور مختلف اثرات کے تبادلے اور اجتماعی عدالت قائم کر کے ایک دوسرے کی ترقی اور پیشرفت میں مددگار بنیں۔

دوسری جانب یہ بات مسلم ہے کہ یہ تعاون اور اجتماعی عدالت اسی وقت قائم ہوتی ہے جب اس کے قوانین دونوں طرح کے مادی اور معنوی مصالح و منافع کے مطابق وضع ہوں اور قوانین کی وضعیت میں معنوی مفادات کا بھی خیال رکھا جائے (کیونکہ انسان کی مادی اور معنوی سعادت پرندے کے دو پروں کی مانند ہے جن کے بغیر وہ اُڑان نہیں بھر سکتا۔ اگر انسان میں معنوی کمالات جیسے اخلاقی فضائل نہ ہوں اور نتیجتاً افراد کے اعمال صالح نہ بنیں تو یہ ایسا ہے جیسے پرندہ ایک پر سے اڑان بھرنا چاہے)۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہی اخلاقی فضائل ہیں جو راستی، درستی، عہد کی پاسداری، خیرخواہی اور سینکڑوں دوسرے صالح اعمال کو وجود میں لاتے ہیں۔

اور چونکہ معاشرے کے نظام کے لیے وضع کیے جانے والے قوانین اور احکام اعتباری اور غیر حقیقی ہوتے ہیں اور اپنے آپ میں اپنا اثر نہیں رکھتے (کیونکہ انسان کی سرکش اور آزادی طلب فطرت ہمیشہ قانون کی قید سے بھاگنا چاہتی ہے)، لہٰذا ان قوانین کے اثرات کی تکمیل کے لیے جزائی احکام کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان قوانین کے تحفظ اور محافظت کا فریضہ انجام دے سکیں اور نہ چاہیں کہ ایک طرفہ وسوسہ پرست لوگ ان سے تجاوز کریں اور دوسری طرفہ لوگ ان میں سہل انگاری اور بے اعتنائی برتیں۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت (خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہو) جتنی مقررہ جزائی ضابطوں پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں مضبوط ہوگی، معاشرہ اپنے سفر میں اتنا ہی کم رکے گا اور افراد اپنے راستے سے کم بھٹکیں گے اور اپنے مقصد سے کم محروم رہیں گے۔

اس کے برعکس، حکومت جتنی کمزور ہوگی، معاشرے میں اتنا ہی زیادہ افراتفری پھیلے گی اور معاشرہ اپنے راستے سے منحرف ہوتا چلا جائے گا۔ لہٰذا اسی وجہ سے ان تعلیمات میں سے ایک جو معاشرے میں مضبوطی سے قائم ہونی چاہیے وہ جزائی احکام کی تلقین اور تذکیر ہے، تاکہ سب جان لیں کہ قانون کی خلاف ورزی پر انہیں کس قسم کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز افراد کے دلوں میں قوانین پر ایمان پیدا کرنا ہے۔ اور ایک اور چیز یہ ہے کہ نادانی، قانون شکنی اور رشوت ستانی کے ذریعے جزا کے حکم سے نجات کی امید دلوں میں راہ نہ پائے اور اس امید پر سختی سے روک لگائی جائے۔

یہی وجہ تھی کہ دنیا نے مسیحیت کے خلاف قیام کیا اور اسے ناقابل قبول قرار دیا، کیونکہ اس مذہب میں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے خود کو سولی پر قربان کرکے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ اور لوگوں کو یہ تلقین کی گئی کہ اگر آپ آئیں اور ان کے نمائندوں سے بات کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ آپ کو روزِ قیامت کے عذاب سے بچائیں، تو وہ نمائندہ آپ کی اس شفاعت کا وسیلہ بنے گا۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا دین انسانیت کی بنیادوں کو منہدم کر دیتا ہے اور انسانی تمدن کو پیچھے کی طرف دھکیل کر وحشت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جھوٹے اور ظالم متدینین میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں سوائے اس کے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنے دین کی حقانیت کا دم بھرتے ہیں اور روزِ قیامت مسیح کی شفاعت کی بات کرتے ہیں، لہٰذا انہیں کسی بھی عمل سے کوئی خوف نہیں رہتا، برخلاف دوسرے لوگوں کے جن کے افکار میں باہر سے کوئی چیز یا تعلیمات داخل نہیں ہوئیں اور وہ اپنی سادہ فطرت اور خداداد غریزہ پر قائم رہے ہیں اور اپنی فطری احکام کو ایسی تعلیمات کے ذریعے باطل نہیں کرتے جو دوسرے فطری احکام کو باطل کرتی ہوں۔ اور وہ یقینی طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ ایسے ہر قانون کی خلاف ورزی جو انسانیت اور انسانی معاشرے کی فلاح کا تقاضا کرتا ہے، قبیح اور ناپسندیدہ ہے۔

اور بسا اوقات بحث کرنے والے لوگوں میں سے ایک گروہ اسلامی شفاعت کے مسئلے کو بھی، اس خوف سے کہ کہیں یہ اسی قسم کی بدصورت قانون شکنی کے مطابق نہ ہو جائے، تاویل کرتا ہے اور اس کے لیے ایسا مفہوم بناتا ہے جس کا شفاعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ شفاعت کا مسئلہ قرآنِ مجید میں صراحتاً موجود ہے اور اس بارے میں وارد شدہ روایات متواتر ہیں۔

اور خدا کی قسم! نہ تو اسلام نے شفاعت کو اس معنی میں ثابت کیا ہے جسے ہمارے بیان کردہ آقاؤں نے بنایا ہے جس کا شفاعت سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی اس شفاعت کو قبول کیا ہے جو قانون شکنی یعنی ایک مضحکہ خیز اور بدصورت مسئلے کے مطابق ہے۔

یہاں پر وہ عالم جو اسلامی معارف دینیہ میں بحث کرنا چاہتا ہے اور جو کچھ اسلام نے تشریح کیا ہے اسے ایک صالح معاشرے اور مثالی ریاست کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے، اسے تمام اصولوں اور قوانین کا مجموعی طور پر حساب لگانا چاہیے جو معاشرے پر منطبق ہوتے ہیں۔ نیز یہ جاننا چاہیے کہ انہیں معاشرے کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔ اور شفاعت کے مسئلے کے بارے میں یہ معلوم کرنا چاہیے: اولاً شفاعت اسلام میں کس معنی میں ہے؟ ثانیاً یہ شفاعت جس کا وعدہ دیا گیا ہے، کس مقام اور کس وقت پر واقع ہوگی؟ اور ثالثاً دیگر اسلامی معارف میں اس کا کیا مقام ہے؟

اگر وہ اس طریقے پر عمل کرے تو سمجھ جائے گا کہ اولاً وہ شفاعت جسے قرآن نے ثابت کیا ہے، یہ ہے کہ مومنین یعنی مرضیٰ والے دین کے حاملین، روزِ قیامت جاویدان طور پر دوزخ کی آگ میں نہیں رہیں گے، البتہ جیسا کہ ہم نے کہا، اس شرط کے ساتھ کہ انہوں نے اپنے رب کو مرضیٰ والے ایمان اور حق دین کے ساتھ دیکھا ہو۔ پس یہ وعدہ جو قرآن نے دیا ہے مشروط ہے، مطلق نہیں (لہٰذا کوئی بھی شخص اس بات کا یقین نہیں رکھ سکتا کہ اس کے گناہ شفاعت کے ذریعے معاف ہو جائیں گے، اور وہ ایسا یقین حاصل نہیں کر سکتا)۔

اس کے علاوہ، قرآن کریم اس معنی کی گواہی دیتا ہے: کہ ہر کوئی ان دو شرائط کو اپنے اندر برقرار نہیں رکھ سکتا، کیونکہ ایمان کو باقی رکھنا بہت مشکل ہے اور گناہوں، خاص طور پر کبیرہ گناہوں، اور خصوصاً گناہوں کی تکرار اور تسلسل کے باعث اس کی بقا عظیم خطرے میں ہے۔ ہاں! انسان کا ایمان ہمیشہ کھائی کے کنارے پر ہوتا ہے، کیونکہ اس کے منافی امور ہمیشہ اسے تباہی کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔

اور چونکہ ایسا ہے، لہٰذا ایک مسلمان ہمیشہ اس خوف میں رہتا ہے کہ کہیں وہ اپنی نجات کے سب سے قیمتی سرمایے کو کھو نہ دے، اور اس امید میں بھی رہتا ہے کہ وہ توبہ اور کوتاہیوں کی تلافی کے ذریعے اسے محفوظ رکھ سکے۔ پس ایسا شخص ہمیشہ خوف و رجا کے درمیان رہتا ہے، اور اپنے خدا کی عبادت خوف کے ساتھ بھی کرتا ہے اور امید کے ساتھ بھی۔ نتیجتاً وہ اپنی زندگی میں بھی اعتدال کی حالت میں، مایوسی جو کہ سستیوں کا منبع ہے، اور شفاعت پر اطمینان جو کہ کوتاہیوں اور کاہلیوں کا سبب ہے، کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ نہ تو وہ مکمل طور پر مایوس ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مطمئن، نہ تو وہ اس مایوسی کے برے اثرات میں گرفتار ہوتا ہے اور نہ ہی اس اطمینان کے برے اثرات میں۔

اور ثانیاً وہ سمجھ جاتا ہے کہ اسلام نے ایسے سماجی قوانین مقرر کیے ہیں جو انسان کے مادی پہلوؤں کو بھی تحفظ دیتے ہیں اور اس کے معنوی پہلوؤں کو بھی۔ یہاں تک کہ ان قوانین نے فرد اور معاشرے کی تمام حرکات و سکنات کو محیط کر لیا ہے اور ان قوانین کے ہر ایک مادے کے لیے اس کے مناسب سزا اور جزا مقرر کی ہے۔ اگر وہ گناہ حقوق العباد سے متعلق ہے تو دیت (معاوضہ) ہے، اور اگر حقوق دینی و الہی سے متعلق ہے تو حدود اور تعزیرات مقرر کی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک فرد کو مکمل طور پر سماجی فوائد سے محروم کر دیا گیا ہے، ملامت، مذمت اور تقبیح کے لائق سمجھا گیا ہے۔

اور پھر ان احکام کے تحفظ کے لیے ایک حکومت قائم کی اور اولی الامر مقرر کیا۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر تمام افراد کو ایک دوسرے پر مسلط کیا اور حق حکمرانی دیا، تاکہ ایک فرد (خواہ وہ معاشرے کے نچلے طبقے سے ہی کیوں نہ ہو) دوسرے فرد (خواہ وہ معاشرے کے اعلیٰ طبقے سے ہی کیوں نہ ہو) کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر سکے۔

اور پھر اس تسلط کو دینی دعوت کی روح پھونک کر زندہ رکھا ہے، کیونکہ دینی دعوت جو کہ امت کے علما کا فرض ہے، آخرت میں عقاب و ثواب کے انذار و تبشیر پر مشتمل ہے۔ اور اس طرح معاشرے کی تربیت کی بنیاد مبداء و معاد کے معارف کی تلقین پر قائم کی ہے۔

یہی وہ چیز ہے جو اسلام کے دینی تعلیمات کا ہدف ہے، خاتم الانبیاءؐ اسے لے کر آئے، اور آپؐ کے زمانے میں بھی اس کی آزمائش ہوئی اور آپؐ کے بعد بھی۔ اور خود آپؐ نے اپنی نبوت کے دوران اس پر عمل کیا، حتیٰ کہ اس میں ایک بھی کمزوری کا نقطہ نظر نہیں آیا۔ آپؐ کے بعد بھی ایک مدت تک ان احکام پر عمل ہوتا رہا۔ البتہ بعد میں یہ غاصب بنی امیہ کے حکمرانوں اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں کھلونا بن گیا۔ اور انہوں نے اپنے استبداد، دین کے احکام کے ساتھ کھیل، الہی حدود اور دینی سیاستوں کو باطل کر کے دین مبین اسلام کی رونق گھٹا دی، یہاں تک کہ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ جیسا ہم جانتے ہیں، اسلام کی لائی ہوئی تمام آزادیاں ختم ہو گئیں اور ایک مغربی تمدن حقیقی اسلامی تمدن کی جگہ لے بیٹھا۔ اور مسلمانوں میں اسلام کے دین سے صرف اتنا ہی باقی رہا جتنا کہ پیالہ خالی کرنے کے بعد اس میں نمی رہ جاتی ہے۔

اور یہی واضح کمزوری جو دین کی سیاست میں پیدا ہوئی اور یہی ارتجاع اور پیچھے ہٹنا جو مسلمانوں نے کیا، باعث بنا کہ وہ فضائل و فواضل کے اعتبار سے تنزل پذیر ہو کر اخلاقی اور عملی انحطاط کا شکار ہو گئے اور یکسر لہو و لعب، شہوات اور برے کاموں کے دلدل میں ڈوب گئے۔ نتیجتاً اسلام کے تمام قلعے ٹوٹ گئے اور ایسے گناہ ان میں ظاہر ہوئے جن سے بے دین لوگ بھی شرماتے ہیں۔

یہی انحطاط کی وجہ تھی، نہ کہ بعض دینی معارف جو کہ انسان کی دنیا و آخرت کی زندگی میں اس کی سعادت کے علاوہ کوئی اثر نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس حنیف دین کے احکام اور معارف پر عمل پیرا ہونے میں مدد فرمائے۔

اور وہ اعدادوشمار جن کا انہوں نے ذکر کیا (فرض کرتے ہوئے کہ وہ درست ہیں)، ان متدینین کی آبادی سے لیے گئے ہیں جو سرپرست سے محروم تھے اور ایسی حکومت کے زیر اثر نہ تھے جو ان میں دین کے معارف و احکام کو مکمل طور پر نافذ کرتی۔ لہٰذا حقیقت میں یہ اعدادوشمار ایک ایسی بے دین قوم سے لیے گئے ہیں جو دین کا نام لیے ہوئے تھی، برخلاف اس بے دین قوم کے جو غیر دینی سماجی تعلیم و تربیت رکھتی تھی جس کا ضامنِ اجراء موجود تھا، یعنی ایسی سرپرستی رکھتی تھی جو سماجی قوانین کو ان میں مکمل طور پر نافذ کرتی تھی اور ان کی اجتماعی صلاح کو محفوظ رکھتی تھی۔ پس یہ اعدادوشمار ان کے مقصد پر کوئی دلالت نہیں کرتے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک