امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

سو مرتبہ ، تکبیر، تسبیح، تحمید اور تہلیل کہنے کا ثواب

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام)نے فرمایا ۔کچھ غُرباء حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوکر عرض کرنے لگے ، یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ثروتمندوں کے پاس مال ودولت ہے جس سے غلام آزاد کرسکتے ہیں لیکن ہم خالی ہاتھ ہیں ۔ ان کے پاس پیسے ہیں لہذا وہ حج پر جاسکتے ہیں لیکن ہم نہیں جاسکتے ۔ ان کے پاس اس قدر مال ہے کہ صدقہ دے سکیں لیکن ہم خالی ہاتھ ہیں ۔ ان کے پاس اتنا کچھ ہے کہ اسلحہ خرید کر جہاد کر سکیں ، ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔ جو شخص سو مرتبہ تکبیر (الله اکبر ) کہے تو یہ سو غلام آزاد کرنے سے برتر ہے ۔جو سو مرتبہ تسبیح (سبحان الله ) کہے تو یہ حج پر سو اونٹ لے جانے سے بڑھکر ہے ۔ جو شخص سو مرتبہ تمحید (الحمد لله) کہے تو یہ میدان جنگ میں زین ، رکاب اور جنگی ہتھیاروں سے لیس ایک سو گھوڑے لے جانے سے زیادہ بڑا کام ہے ۔ اور جو شخص سو مرتبہ لاالہ الاالله کہے تو اسکا عمل تمام لوگوں کے اعمال سے برتر ہے مگر یہ کہ جو سو مرتبہ سے زیادہ کہے۔ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جب اس حدیث کا ثروتمند لوگوں کو علم ہوا تو وہ لوگ بھی یہی کچھ بجالائے۔ غرباء دوبارہ بارگاہ رسالت میں آکر عرض کرنے لگے ، اے رسول خدا آپ نے جو کچھ فرمایا تھا اسکا ثروتمندوں کو بھی علم ہو گیا ہے وہ لوگ بھی یہ اعمال بجا لاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا یہ خدا کا احسان ہے خدا جسے چاہتا ہے احسان مند بناتا ہے اور الله صاحب فضل اور عظمت والا ہے ۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک