امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

ثقافت اور تہذیب کا شعبہ

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

ثقافت اور تہذیب کے شعبے میں جدید غلامی ایک نہایت پیچیدہ مگر گہرائی میں پیوست حقیقت ہے جو انسانی معاشروں کی شناخت، طرزِ زندگی، اور فکری رویوں کو ایک خاص سمت میں ڈھالنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ تہذیب کسی قوم کی تاریخی وراثت، روایات، اخلاقی اقدار، زبان، مذہبی عقائد، اور فکری اسلوب کا مجموعہ ہوتی ہے، لیکن جب استعماری قوتیں یا عالمی طاقتیں کسی قوم کو اپنے اثر و رسوخ میں رکھنا چاہتی ہیں تو وہ سب سے پہلے اس کی ثقافتی اور تہذیبی شناخت کو مسخ کرتی ہیں۔ جدید غلامی کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ غلامی کا شکار قوم کو اس بات کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک نفسیاتی اور تہذیبی غلامی میں جکڑی جا چکی ہے۔ وہ اسی کو اپنی ترقی اور جدیدیت سمجھتی ہے جو درحقیقت اسے اپنی اصل شناخت سے محروم کرنے کی ایک منظم سازش ہوتی ہے۔

ثقافتی غلامی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ مغربی طرزِ زندگی کو ایک ترقی یافتہ ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ہر وہ ثقافتی عنصر جو مقامی یا روایتی ہو، اسے دقیانوسی، پسماندہ، اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ لباس، طرزِ گفتار، معاشرتی رسومات، اور روزمرہ زندگی کے معمولات تک کو مغربی انداز میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ لوگ اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ جائیں اور وہ ایک ایسی مصنوعی زندگی گزارنے لگیں جو حقیقت میں ان کے تاریخی پس منظر سے مطابقت نہیں رکھتی۔ شادی بیاہ کے طریقے، خاندانی نظام، میل جول کے اصول، اور حتیٰ کہ کھانے پینے کی عادات تک اس نوآبادیاتی ذہنیت کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں، جہاں لوگ اپنی مقامی اور مذہبی ثقافت کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں اور ایک ایسی طرزِ زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو بیرونی طاقتوں کی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتا ہے۔

زبان کے میدان میں جدید غلامی کی سب سے بڑی شکل یہ ہے کہ ایک قوم کو اس کی مادری زبان سے کاٹ کر کسی اور زبان کا محتاج بنا دیا جاتا ہے۔ زبان کسی بھی تہذیب کی بنیاد ہوتی ہے اور جب کسی قوم کی زبان کو اس کے علمی، فکری، اور ثقافتی اظہار کے لیے ناکافی یا غیر ضروری قرار دے دیا جائے، تو اس کے فکری زوال کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ آج ترقی پذیر ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ ان کے تعلیمی، سائنسی، اور سماجی ادارے غیر ملکی زبانوں پر منحصر ہو چکے ہیں اور اگر کوئی شخص اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا چاہے تو اسے کم تر سمجھا جاتا ہے۔ یہ زبان کی سطح پر غلامی کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں لوگ اپنی ہی زبان کو کمتر اور کسی دوسری زبان کو برتر مان لیتے ہیں، اور یوں رفتہ رفتہ وہ علمی، فکری، اور تہذیبی طور پر ایک غیر محسوس غلامی میں جکڑے چلے جاتے ہیں۔

فنونِ لطیفہ اور تفریح کے میدان میں جدید غلامی کی ایک اور بھیانک شکل نظر آتی ہے جہاں فلم، موسیقی، تھیٹر، اور دیگر تفریحی ذرائع کو ایک خاص تہذیبی ایجنڈے کے تحت تشکیل دیا جاتا ہے۔ عالمی میڈیا کے ذریعے وہ مواد تخلیق کیا جاتا ہے جو مغربی طرزِ زندگی کو مثالی اور ترقی یافتہ دکھاتا ہے جبکہ روایتی، مذہبی، اور مشرقی اقدار کو دقیانوسی اور فرسودہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ فلموں، ڈراموں، اور موسیقی کے ذریعے انسانوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں اس راہ پر ڈالا جاتا ہے جہاں وہ فکری طور پر غیر محسوس انداز میں استعمار کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی بن جاتے ہیں۔ آج ترقی پذیر ممالک میں نوجوان نسل مغربی طرزِ زندگی، فیشن، موسیقی، اور تفریحی ذرائع کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ اسے اپنی تہذیب اور ثقافت غیر اہم اور پسماندہ محسوس ہوتی ہے۔

خاندانی نظام میں جدید غلامی کی ایک اور خطرناک صورت یہ ہے کہ روایتی اور مذہبی اقدار کو اس حد تک کمزور کر دیا جاتا ہے کہ خاندان کا بنیادی ڈھانچہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان رشتے، شوہر اور بیوی کے درمیان تعلقات، اور خاندانی اجتماعیت کو انفرادیت، آزادی، اور خود مختاری کے نام پر اس انداز میں متاثر کیا جاتا ہے کہ خاندانی روایات اور اقدار اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھتی ہیں۔ آج مغرب میں جو خاندانی بحران دیکھنے کو مل رہا ہے، وہی ترقی پذیر ممالک میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ معاشرتی استحکام کو متزلزل کیا جا سکے اور افراد کو ریاستی یا عالمی قوتوں کا مکمل محتاج بنا دیا جائے۔

تہذیبی غلامی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تاریخی شعور کو مٹا دیا جاتا ہے اور اقوام کو ان کی اصل تاریخ سے دور کر کے ایک ایسی تاریخ پڑھائی جاتی ہے جو استعماری قوتوں کے بیانیے کے مطابق ہو۔ آج بہت سے ممالک میں اپنی ہی تاریخ کو اس نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی اور قوم کی تاریخ ہو، کیونکہ تاریخی شعور کو اس نہج پر بدلا گیا ہے کہ وہ اپنی فتوحات، تہذیبی روایات، اور فکری عظمت پر شرمندہ محسوس کرنے لگے ہیں۔ جب کسی قوم کا تاریخی شعور کمزور کر دیا جائے تو وہ خود اپنی تہذیب کو حقیر سمجھنے لگتی ہے اور یوں وہ استعماری طاقتوں کے ایجنڈے کے لیے ایک آسان شکار بن جاتی ہے۔

جدید غلامی کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسے آزادی اور ترقی کے نام پر مسلط کیا جاتا ہے۔ آج لوگ اس بات کو محسوس ہی نہیں کرتے کہ وہ کس طرح مغربی تہذیب کے اصولوں کو اپنی زندگی میں نافذ کر رہے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایسا کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ذہن سازی اس انداز میں کی جا چکی ہوتی ہے کہ وہ لاشعوری طور پر ایک مخصوص تہذیبی ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ میڈیا، تعلیم، اور تفریح کے ذرائع کے ذریعے انہیں ایسا مواد دیا جاتا ہے جو ان کے اندر اپنی ثقافت اور تہذیب کے خلاف بیزاری پیدا کرے اور وہ بیرونی اقدار کو اپنانے میں فخر محسوس کریں۔

ثقافتی اور تہذیبی غلامی کی سب سے بڑی مثال نوآبادیاتی دور میں برصغیر، افریقہ، اور لاطینی امریکہ کی اقوام پر مسلط کی جانے والی مغربی طرزِ زندگی ہے، جہاں مقامی زبانوں، لباس، رسوم و رواج، اور مذہبی و اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال کر استعماری طاقتوں نے اپنی ثقافت کو برتر بنا کر پیش کیا۔ برصغیر میں برطانوی راج کے دوران تعلیمی نصاب کو اس انداز میں ڈھالا گیا کہ ہندوستانی باشندے اپنی تاریخ کو حقیر سمجھنے لگیں۔

 لارڈ میکالے کی مشہور تقریر (1835) اس کی واضح مثال ہے، جس میں کہا گیا کہ ایک ایسا تعلیمی نظام متعارف کرایا جائے جو ہندوستانیوں کو ذہنی طور پر انگریز بنا دے، تاکہ وہ اپنے ہی لوگوں پر حکمرانی کے لیے موزوں ہو جائیں ("Minute on Indian Education", Thomas Babington Macaulay, 1835)۔

زبان کے میدان میں جدید غلامی کی سب سے بڑی علامت یہ دیکھی جا سکتی ہے کہ نوآبادیاتی حکمرانوں نے ترقی پذیر ممالک میں اپنی زبان کو لازمی قرار دیا اور مقامی زبانوں کو کم تر ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ الجیریا میں فرانسیسی حکمرانی کے دوران عربی زبان کو سرکاری سطح پر ممنوع قرار دے کر فرانسیسی کو نافذ کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج الجیریا کے کئی طبقات فرانسیسی زبان کے بغیر سرکاری اور تعلیمی امور انجام نہیں دے سکتے (Frantz Fanon, "The Wretched of the Earth", 1961)۔

مغربی طرزِ زندگی کو ایک ترقی یافتہ ماڈل کے طور پر پیش کرنے کا عمل میڈیا اور تفریحی ذرائع کے ذریعے مسلسل جاری ہے۔

 ہالی وڈ کی فلموں میں مغربی لباس، طرزِ زندگی، اور انفرادی آزادی کو مثالی بنا کر دکھایا جاتا ہے، جبکہ مشرقی، اسلامی، اور روایتی اقدار کو دقیانوسی اور قدامت پسند ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب "Orientalism" (1978) میں تفصیل سے بیان کیا کہ کس طرح مغربی میڈیا اور علمی حلقے مشرق کو ایک پسماندہ، غیر ترقی یافتہ، اور جامد تہذیب کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاکہ مغربی استعمار اور ثقافتی تسلط کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

خاندانی نظام میں جدید غلامی کی مثال مغربی معاشرتی ڈھانچے کے نفوذ میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں انفرادیت اور خودمختاری کے نام پر خاندانی اجتماعیت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ مغربی ماڈل کے تحت طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں، اور بوڑھے والدین کے لیے نرسنگ ہومز کا رواج ایسے عوامل ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں بھی تیزی سے پھیلائے جا رہے ہیں۔

 یونیسف اور عالمی بینک کی رپورٹس میں ذکر ملتا ہے کہ مغربی اثر و رسوخ کے باعث مشرقی ممالک میں خاندانی نظام کے روایتی ڈھانچے میں واضح کمزوری دیکھنے کو مل رہی ہے (World Bank, "World Development Report", 2012)۔

تاریخی شعور کو مٹانے کی سب سے نمایاں مثال یہ ہے کہ آج کئی اسلامی اور مشرقی ممالک میں تعلیمی نصاب میں مقامی اور اسلامی تاریخ کی جگہ مغربی تاریخی بیانیہ غالب آ چکا ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے سقوط کے بعد ترکی میں کمال اتاترک نے تعلیمی نصاب کو مکمل طور پر سیکولر کر دیا، عربی رسم الخط کو ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیار کیا، اور اسلامی تاریخ کو پسِ پشت ڈال کر یورپی طرزِ تاریخ نویسی کو اپنایا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترک قوم آہستہ آہستہ اپنی اسلامی شناخت سے بیگانہ ہوتی چلی گئی (Bernard Lewis, "The Emergence of Modern Turkey", 1961)۔

میڈیا کے ذریعے جدید غلامی کی ایک اور شکل یہ ہے کہ فلموں، ڈراموں، اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر مغربی نظریات اور طرزِ زندگی کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نوجوان نسل اسے اپنی ترقی کا معیار سمجھنے لگے۔

 نیٹ فلکس اور ہالی وڈ کی فلموں میں ایک خاص بیانیہ چلایا جاتا ہے جس میں اسلامی ثقافت، حجاب، اور روایتی خاندانی نظام کو دقیانوسی دکھایا جاتا ہے، جبکہ آزاد خیالی اور مادر پدر آزادی کو ترقی کا نشان قرار دیا جاتا ہے۔ یہ نظریاتی جنگ محض تفریح کے دائرے تک محدود نہیں بلکہ یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے نصاب اور میڈیا میں آنے والی خبروں کے ذریعے بھی مسلط کی جاتی ہے (Noam Chomsky, "Manufacturing Consent", 1988)۔

ثقافتی غلامی کے ان تمام پہلوؤں سے نکلنے کا واحد راستہ شعور اور آگہی پیدا کرنا ہے۔

 زبان کی سطح پر خود مختاری کے لیے ضروری ہے کہ علمی، سائنسی، اور فکری مواد اپنی زبان میں تیار کیا جائے، جیسا کہ چین اور جاپان نے کیا، جس کی وجہ سے وہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود اپنی ثقافت پر قائم رہے۔ میڈیا میں متبادل بیانیہ قائم کرنے کے لیے اسلامی اور مشرقی اقدار کو جدید ذرائع ابلاغ میں مؤثر طریقے سے پیش کرنا ہوگا، تاکہ نوجوان نسل کو اپنے اصل تہذیبی ورثے سے جوڑا جا سکے۔

 تاریخ کی درستگی کے لیے تعلیمی نصاب میں اپنی اصل روایات، علمی ورثے، اور تہذیبی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہوگا تاکہ مشرقی اقوام احساسِ کمتری سے نکل کر اپنی حقیقی شناخت کو پہچان سکیں۔ جب تک ان عملی اقدامات کو اپنایا نہیں جاتا، ثقافتی اور تہذیبی غلامی کا تسلط مزید بڑھتا رہے گا اور اقوام اپنی زبان، تاریخ، اور فکری آزادی سے ہمیشہ محروم رہیں گی۔

ثقافتی اور تہذیبی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم شعور اور آگہی پیدا کرنا ہے۔ جب تک لوگ اپنی تاریخ، زبان، اور تہذیب کی اصل حقیقت کو نہیں پہچانیں گے، وہ اس غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔

 اپنی زبان میں علمی اور فکری پیداوار کو فروغ دینا، روایتی اور دینی اقدار کو جدید چیلنجز کے مطابق پیش کرنا، اور استعماری بیانیے کے خلاف ایک متبادل تہذیبی بیانیہ قائم کرنا ہی اس غلامی سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ جب تک یہ اقدامات نہیں کیے جائیں گے، ثقافتی اور تہذیبی غلامی کا شکنجہ مزید سخت ہوتا چلا جائے گا، اور اقوام اپنی شناخت، خود مختاری، اور فکری آزادی سے ہمیشہ محروم رہیں گی۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک