مراجع تقلید واجتهاد
-
- شائع
-
- مؤلف:
- محقق:ڈاکٹر میر محمد علی(اعلی اللہ مقامہ)
- ذرائع:
- ماخوذ از کتاب: مراجع تقلید واجتهاد
مراجع تقلید واجتهاد
تشیع کے علم و دانش کے کارواں کے رہنماؤں میں قد آور شخصیتیں نظر آتی ہیں جن کا تعلق علوم قرآنی ، حدیث، سیرت، رجال، فقه تفسیر تاریخ علم کلام صرف ونحو، فلکیات اور جدید علوم سے ہے۔
علامہ ابن حسن نجفی نے تقلید و اجتہاد میں ۳۴۰ ھ سے ۱۴۱۵ھ کے عرصہ پر محیط ۱۴۲ مجتہدین کی فہرست دی ہے۔ سید آل محمد مہر جائسی نے گوہر یگانہ میں نواب اربعہ سے لیکر ۱۳۰۰ھ تک ۲۵ منتخب علماء وفقہا کی فہرست دی ہے اس میں برصغیر ہند کے علما بھی شامل ہیں۔
استاد شہید مرتضی مطہری نے رسالہ توحید میں ( علم فقہ مترجم ابو جواد ) ۳۶ اہم فقہاء ومحدثین کا تذکرہ کیا ہے۔ متذکرہ بالا ماخذوں سے ۲۸ علماء کی فہرست ترتیب دی گئی ہے جو بطور ضمیمہ شامل ہے۔
متذکرہ فہرست سے عیاں ہوتا ہے کہ ہمارے حوزہ ہائے علمیہ دنیوی علائق ، و انقلابات کے باوجود بلا وقفہ اپنا کام کرتے رہے اور علم و دانش کی امانت کو گزشتہ ۱۴ سو سال میں نسلاً بعد نسل منتقل کر رہے ہیں یہ وصل قول اور تسلسل فکر کا سرمایہ ہے جو ہر راہ سے معصوم تک پہنچتا ہے اور یہی تشیع کا امتیاز ہے۔ تشیع کے علمی سفر پر نظر ڈالیں تو کئی قد آور شخصیتیں نظر آتی ہیں جنہوں نے اس کا روانِ علم کی قیادت کی ہے۔ دور اجتہاد جاری ہے اور ظہور امام تک رہیگا۔
مختصر کوائف مراجع تقلید و علما
ضمیمہ:
انتظار امام مہدی علیہ السلام اور تشیع کا سفرعلم و دانش
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت/صدی کے دیگر واقعات
تیسری صدی ہجری:
نائب اول، مدت نیابت (260-295ھ)
۱-عثمان بن سعید ۔۔۔295
نائب دوم، آغاز نیابت صفر 305ھ مدت نیابت (295–305ھ)
2- محمد بن عثمان بن سعید۔۔۔305
صدی کے دیگر واقعات
وفات امام بخاری 356 ھ
ولادت امام ترمذی 376ھ
الخوارزمی؛ صفر بر تحقیق 205 بیت الحکمہ بغداد 210 ھ
چوتھی صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
3- علی بن بابویہ ۔۔۔329
والد شیخ صدوق، امام عصرؑ سے دو فرزندوں کی بشارت
نائب سوم، مدت نیابت (305-320)
4- حسین بن روح ۔۔۔320
عریضہ مختلف زبانوں سے واقف
5- ابو الحسن محمد سمری ۔۔۔339
نائب چہارم، مدت نیابت (320-329)
آخری نائب، غیبت کبریٰ کا آغاز 329 ھ
6- محمد بن یعقوب کلینی۔۔۔329
کافی 20 برس محنت ۔ 16199 ۔ احادیث مجموعہ صحاہ ستہ سے زیادہ ؛ محدد ملت
7- ابو جعفر محمد بن علی بن حسین (شیخ صدوق۔۔۔381-305
من لا یحضره الفقیه، 19044 احادیث ؛ حروف تہجی کی ترتیب ؛ امالی صدوق 214 کتابیں ۔
8- شیخ مفید ؛ ابو عبد اللہ محمد بن نعمان۔۔۔336-413
علم کلام ؛ فقہ ؛ مقنعہ؛استاد سید رضی؛ سید مرتضی ؛تصانیف 100 سے زیادہ ؛قبر پر مرثیہ (امام زمانہ)
صدی کے دیگر واقعات
وفات نسائی 303 ھ
ولادت بو علی سینا 370 ھ
جامعہ الازہر مصر کی بناء 350 ھ
وفات بو علی سینا 468 ھ
پانچویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
9- سید مرتضی علم الہدی (علی بن حسین )۔۔۔ 355- 672
جامع شخثصیت انتظار شافی؛ ذریعہ؛دیوان 20 اشاعت ؛80ہزار کتابویوں کا مطالعہ
10 – شیخ الطائفہ طوسی (محمد بن حسن طوسی )۔۔۔ 385 -470
تہذیب الاحکام؛(13950)
اس صدی کے دیگر واقعات
فتح اندلس 411 ھ
وفات بوعلی سینا 468 ھ
تبصار؛5511 فقہ؛ اصول ؛ حدیث؛ تفسیر؛ نہایہ ؛ مبسوط؛ الخلاف ۔
ساتویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
11- نصیرالدین طوسی (محقق طوسی)۔۔ 597-672
منطق؛ہیئت؛جغرافیہ؛تجرید الکلام؛مراغاہ میں رضدگان تعمیر کرائی ؛4لاکھ کتابیں فقہ؛ اصول؛کلام؛منطق؛100
12- علامہ حلی ( حسن بن یوسف بن علی بن مطہر)۔۔۔ 648-726
کتابیں ارشاد؛تذکرہ الفقہاء؛ قواعد؛ مجد ملت جعفریہ
صدی کے دیگر واقعات
وفات امام غزالی505 ھ
وفات شیخ عبدالقادر530ھ
قرآن کاپہلا لاطینی ترجمہ535 ھ ؛ فخرالدین رازی543ھ- یورپ پہلی کتاب مشین پریس 534ھ
آٹھویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
13- شہید اول ( شمس الدین محمد بن جمال الدین مکی)۔۔۔ 734-786
اللمعہ الدمشقیہ ؛ جھوٹے الزامات ؛ قید شام سزائے موت
دسویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
14- شہید ثانی (شیخ زین الدین)۔۔۔ 901-966
فقہ، اصول ، فلسفہ، طب ، نجوم، اللمعہ کی شرع ، بہت سفر کئے ، خواب میں شہادت کی بشارت ، تقیہ میں عمر بسر کی قسطنطنیہ ، جرم تشیع ،سزائے موت
15- مقدس اردبیلی ( احمد بن محمد)۔۔۔ ۔۔993
شاهان صفویہ کے ہمعصر، امام عصر زیارت کا شرف، شرح ارشاد" مجمع برہان، دایان مناره اردبیلی، بایاں منارہ علامه حلی ( نجف اشرف)
16- شیخ بہاوالدین (حر عاملی )۔۔۔ 953-1031
ادیب، شاعر، فلسفی، انجینئر، فقیه طبیب مجدد مذہب جعفری ، زبده صمدية ، اربعین، حیات القلوب شرح کافی، زاد المعاد، تلانده، ملا صدرالدین ، علامه مجلسی
17- شہید ثالث (قاضی سید نوراللہ بن شریف الدین مرعشی شوشتری)۔۔۔ 956-1019
مذہب اربعہ کی فقہ میں ماہر، اکبر کے زمانہ کے قاضی ، جہانگیر کا دور، احقاق الحق، بجواب ابطال الباطل، مجالس المومنين سزائے موت ، دشمنوں کی سازش
گیارہویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
18- مجلسی اول ( محمد بن باقر بن محمد تقی) ۔۔۔1110-1037
بحار الانوار تمام احادیث شیعہ کا مجموعہ درس سے ۱۰۰۰ علماء فارغ۔
۱۹۔ محدث جزائری ( نعمت الدین عبد الله )۔۔۔ ۱۱۱۲_۱۰۵۰
علامہ مجلسی کے شاگرد - بحار الانوار کی تالیف میں مجلسی کی مدد کی۔ شرح تہذیب
( ۱۲ جلد) شرح استبصار، (۲) جلد ) انوارنعمانیہ، زہر الربیع ، روضہ کی تعمیر نو پسر سیداحمد علی ، پسر مفتی طیب آغا
بارہویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
۲۰ - شهید رابع ( شیخ محمد تقی)۔۔۔ ۱۲۶۳
۲۱ ۔ مہدی بحر العلوم۔۔۔۱۲۱۲-۱۱۵۴
۲۲۔ وحید بهبهانی( محمد باقر بن محمد اکمل ) ۔۔۔1208
بابیت کے خلاف کفر کا فتویٰ ؛ فقیه صاحب کرامت نزد یک بدرجه عصمت اخباریت کے خلاف جدو جہد ، متعد د شاگرد اجتہاد کا دفاع
صدی کے دیگر واقعات
قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ ۱۱۴۵ھ
وفات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 1172 ھ
تیرہویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
۲۳ -شیخ جعفر کاشف العظا۔۔۔1228
کشف الغطا ، فقہ اصل اصول شیعہ جواہر الکلام، شیعہ انسائیکلو پیڈیا محقق کی شرائع کی شرح ۵۰ جلد ۲۰ ہزار صفحہ ۳۰ سال خاتم الفقهاء المجتهدین
۲۴ -شیخ محمد حسن ۔۔۔ ۱۲۶۶
فقہ اصل اصول
۲۵۔ شیخ مرتضی انصاری۔۔۔ 1281
شیعہ جواہر الکلام، شیعہ انساء کلو پیڈیا محقق کی شرائع کی شرح ۵۰ جلد ۲۰ ہزار صفحہ ۳۰ سال خاتم الفقهاء المجتهدین ، رسائل مکاسب ، فقہ، اصول
صدی کے دیگر واقعات
وفات شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ۱۲۲۹ھ
چوہویں صدی
نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت
۲۶- کاظم خراسانی۔۱۳۲۹-۱۲۵۵ھ
علم اصول ۔ کفایة الصول، مشرویت کا فتوی ۱۲ سو افراد درس ، ۲۰۰ مجتہد ، عصر آخرکے فقہا، ابوالحسن اصفہانی، سید حسین بروجروی تلامذہ
27- میرزا محمد حسین شرازی (میرزا شیرازی بزرگ) ۔۔۔1312 ھ
22سال وہ مرجع رہے ؛ تمباکو حرام قراردیکر رژیم معاہدہ منسوخ کردیاآخوند خراسانی سے علمی مقابلہ ؛ علم اصول میں جدید نظریات؛ موجودہ دور کے بہت سے فقہاء آپ ہی کے شاگرد ہیں ؛ تنزیہ الامہ حکومت در اصل ؛فارسی؛ مشروطیت اور اس کی اسلامی بنیادوں کی دفاع کی ۔
28- میرزا حسین نائینی ۔۔۔1355ھ
صدی کے دیگر واقعات
انہدام جنت البقیع 1344 ھ
عصر حاضر کے دیگر مراجع
بروجردی 1381 ھ/ محسن حکیم1390ھ/اراکی 1415ھ/خوئی 1413ھ/ خمینی 1409 ھ/ گلپائیگانی 1414ھ/ سیستانی /اور عصر حاضر کے دیگرمجتہدین
صدی کے دیگر واقعات
انقلاب ایران 1980
ایران عراق جنگ 1981-1988
عراق کویت جنگ 1991
عراق امریکہ جنگ 2004 م
کوائف علمائے برصغیر
۱-سید دلدار علی : ( غفران مآب )
(۱۱۶۶ - ۱۳۳۵ - مطابق ۱۷۵۳ - ۱۸۳۰ء)
برصغیر کے علماء میں پہلے نامور عالم جو تحصیل علم کے لئے عراق گئے ، پیدائش نصیر آباد لکھنو میں پہلی مرتبہ نماز جماعت و جمعہ کی بنیاد ڈالی ، اساتذہ، سید غلام حسین ، باقر بیبانی ، بحر العلوم ، مهدی شهرستانی ۳۰ کتا ہیں : " عماد الاسلام" غفران ماب امام باڑہ کی تعمیر ۔
۲-مفتی اعظم سید محمد عباس (۱۲۲۴-۱۳۰۶ مطابق ۱۸۰۹ء- ۱۸۸۹)
حکومت اودہ کے چیف جسٹس بھی رہے ، علمی حلقوں میں استاد الکل فی الکل کے لقب سے موسوم تھے، شاگرد، سید حامد حسین ، ناصر الملت، نجم الملت ، میرا نہیں، متعد دعلوم میں تصانیف ، روائج القرآن، ترصیح الجواہر۔
۳-سید حامد حسین (۱۳۴۴-۱۳۰۶ مطابق ۱۴۳۰-۱۸۸۱)
عبقات الانوار ، تحفہ اثنا عشری کا جواب، شہید ثالث کے مزار کی تعمیر ، حدیث ، رجال و مناقب کی جامع انسائیکلو پیڈیا۔
۴-سید نجم الحسن ( نجم العلما ) (۱۲۷۹- ۱۳۵۷ مطابق ۱۸۶۲-۹۳۸)
تفسیر،حدیث، فقہ، اصول ، ادب بیت عراق کے علماء کے اجازہ حاصل کئے، المحاسن، پردہ ، ہزاروں خوط ، لکھنو ایجی ٹیشن میں حصہ لیا، دیوان،اشعار، مدرسہ ناظمیہ ، مدرسۃ الواعظین کا قیام۔
۵-سید ناصر حسین (ناصر الملت ) ( ۱۲۸۴-۱۳۶۱ مطابق ۱۸۶۴ -۱۹۴۲)
پوری زندگی تصانیف میں گزاری ، اصل کام عبقات الانوار ہے، تحفہ اثنا عشری کے باب الامامت کا جواب، شمس العلماء-
۶-علامہ حائری (سید علی) (۱۲۸۸ -۱۳۶۱ مطابق ۱۸۷۶ -۱۹۴۱)
لاہور کے عظیم المرتبت عالم و مجتہد ، تفسیر نور مع التنزیل ۔۱۳ پارے والد کے باقی انہوں نے مکمل کی۔ تصانیف ۵۰ کتابیں اور رسائل ۔
۷-سید غلام حسین (۱۲۷۰-۱۳۵۲ مطابق ۱۸۵۳-۱۹۳۳)
والد سید اشرف حسین، متعددا جازوں کے حامل تھے۔ پائے کے خطیب شمس الہدایہ۔
۸-سید محمدباقر (باقر العلوم ) ابن ابوالحسن رضوی مجتہد (۱۳۹۵-۱۳۴۲م -- ۱۸۲۸- ۱۹۲۸)
عظیم المرتبت عالم، مجتہد مولانا ابو الحسن ( ابو صاحب) کے فرزند، اساتذہ آقائے شریعت صحیح فتح اللہ
اصفہانی، سید محمدکاظم طباطبائی محمد کاظم یزدی ، شاگرد مولانا سید حسن، راحت حسین گوپال پوری، سید محمدرضا، مدرس اعلی موسسه سلطان المدارس ، تصانیف صوب الریم اللہ وتر غائب۔
۹-عصر حاضر کے دیگر علماء:
سید العلما میرن صاحب (۱۸۵۶)
ابوالحسن میرن صاحب (1922)
میرا قلیچ بیگ (۱۹۲۹)
سبط حسن جائسی (۱۹۳۰)
سید نثار حسین ( 1951)
کلب حسین (کبن) (۱۹۶۳ء)
حافظ کفایت حسین (۱۹۶۸ء)
سید محمد دہلوی (1971)
علامہ رشید ترابی (1973)
مجتبی حسین کا مونپوری (۱۹۷۴ء)
انیس الحسنين (1975)
حوالے :
گوہر ینگانہ ؛ سید آل محمد جائس ؛ محفوظ بک ایجنسی کراچی ؛مترجم سید حسن امداد ؛2 تقلید اور اجتہاد علامہ ابن حسن نجفی ادارہ تمدّن اسلام؛کراچی ؛3 علم فقہ استاد شہید مرتضی مطہری ؛مترجم ابوجواد ؛رسالہ توحید۔
سید مرتضی حسین مطلع انوار، تذکرہ شیعہ افاضل و علما کبار، برصغیر پاک و ہند، خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی۔
التماس سورہ فاتحہ :
کریم علی انڑ ابن محمد خان انڑ، ابوطالب ترابی ابن علامہ رشید ترابی اعلیٰ اللہ مقامہ