صلہ رحم کرنے کی اجازت اور شوہر کی رضامندی
-
- شائع
-
- مؤلف:
- محقق ارجمند سید مجتبی حسینی مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
- ذرائع:
- گلشن احكام
صلہ رحم کرنے کی اجازت
سوال نمبر٣٧٩: اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو صلہ رحم کرنے سے جیسے ماں باپ سے ملنے سے منع کرے تو بیوی کا کیا فریضہ ہے ؟ کیاا سکی اجازت کے بغیر وہ انھیں دیکھنے جا سکتی ہے؟
تمام مراجع :نہیں ، شوہر کی اجازت کے بغیر والدین سے ملنے نہیں جا سکتی اور صلہ رحم صرف ملاقات ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ ٹیلیفون کے ذریعہ حال چال پوچھ کر اور SMS اور خط بھیج کر بھی صلہ رحم کی جاسکتی ہے ۔ (۱)
شوہر کی رضامندی
س٣٨٠: کیا صرف عورت کے لئے اتنا علم ہونا کافی ہے کہ شوہر اسکے باہر نکلنے پر راضی ہے یا اسے چاہیے کہ شوہر سے اجازت لے؟
تمام مراجع :اگر اسے شوہر کے راضی ہونے کا علم ہے تو کافی ہے الگ سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ (۲)
۱- آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۶۳۲؛ امام، تحریرالوسیله، ج۲، فصل فی القسم و النشوز و استفتاءات، ج۳، سؤالات متفرقه، س۹۰، صافی، هدایة العباد،ج۲، فصل فی القسم و النشوز، تبریزی، استفتاءت، س۲۱۸۹و۱۵۲۰،صراة النجاة، ج۵، س۶۵۲؛سیستانی، منهاج الصالحین، ج۲، الفصل الثامن، م۳۳۸؛ و sistani org .، صله رحم، س۱ و۲ و دفتر:آیت الله بهجت، وحید،مكارم، نوری و خامنهای۔
۲- آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱، س۱۶۳۵؛ بهجت، توضیح المسائل، متفرقه، م۱۸؛ مكارم، توضیح المسائل، م۲۰۶۲؛ نوری، استفتاءات، ج۲،س۶۸۷اور دفاتر تمام مراجع۔