منگیتر کا نفقہ
-
- شائع
-
- مؤلف:
- محقق ارجمند سید مجتبی حسینی مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
- ذرائع:
- گلشن احكام
منگیتر کا نفقہ
سوال نمبر٣٧٠: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نکاح کے بعدرخصتی ہونے تک دلہن اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہے ایسی صورت میں کیاا س کا نفقہ بھی شوہر کے ذمہ ہے؟
امام خمینی، آیة اللہ بہجت،آیة اللہ خامنہ ای،آیة اللہ صافی، آیة اللہ فاضل،آیة اللہ مکارم،آیة اللہ نور ی :مذکورہ بالا صورت میں اگر بیوی شوہر کی جنسی ضرورتوں کو پورا کرتی ہو تو اسکا نفقہ شوہر پر واجب ہے۔ (۱)
آیة اللہ تبریزی اور آیة اللہ وحید: نہیں ، ایسی صورت میں نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں ہے ۔ (۲)
آیة اللہ سیستانی : اگروہ کسی ایسے شہر میں زندگی گزار رہی ہو جہاں معمول یہ ہے کہ لڑکی کا نفقہ اسکے گھر والے ادا کرتے ہوں تو شوہر کے ذمہ کچھ نہیں ہے ۔ ورنہ نفقہ کی ادائیگی شوہر کا فریضہ ہے۔(۳)
نوٹ: اگراس مدت میں دلہن کے طلب کرنے پر شوہر نفقہ ادا نہ کر ے تو (ان حضرات کے فتووں کے مطابق جو کہتے ہیں کہ بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے ) عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ اُس دوران میں نہ دئے گئے نفقہ کی قیمت کو شوہر سے مطالبہ کرے۔
۱ ۔ امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،النفقات،۱۹؛ آیت الله صافی،هدایة العباد،ج۲،م۱۹؛تبریزی،منهاج الصالحین، ج۲،م۱۴۱۸؛وحید،منها ج الصالحین،ج۳،م۱۴۱۸؛فاضل، جامع المسائل، ج۲،س۱۳۱۰؛سیستانی، منها ج الصالحین،ج۳،م۴۳۳ و دفتر آیت الله خامنهای ، نوری، مكارم و بهجت۔
۲- آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۳۳۳؛امام خمینی،استفتاءات،ج۳،احكام نفقه، س۱۴،نوری، استفتاءات،ج۲،س۶۶۲؛فاضل،جامع المسائل،ج۲،س۱۳۱۲؛ مكارم ، استفتاءات،ج۲،س۱۰۵۱و ج۱،س۸۳۹و دفتر : آیت الله بهجت و خامنهای۔
۳- آیت الله تبریزی،منها ج الصالحین،ج۲، م۱۳۹۹و آیت الله وحید، منها ج الصالحین، ج۳،م۱۳۹۹۔
۴۔ آیت الله سیستانی، منها ج الصالحین، ج۳،م۴۱۵۔