زندگی کے اخراجات
-
- شائع
-
- مؤلف:
- محقق ارجمند سید مجتبی حسینی مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
- ذرائع:
- گلشن احكام
زندگی کے اخراجات
سوال نمبر٣٦٨: اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو نفقہ نہ دے یا کم دے ،تو بیوی کس طرح سے اپنے نفقہ کو پورا کر سکتی ہے ؟
امام خمینی،آیة اللہ بہجت،آیة اللہ فاضل: سب سے پہلے وہ حاکم شرع کے پاس رجوع کرے ، اگر حاکم شرع تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو کچھ عادل افراد کے سامنے اپنا مسئلہ رکھے اور اس طرح سے شوہر کو نفقہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔
اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اپنی زندگی کے اخراجات کو شوہر کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے نکال لے ۔ (۱)
آیة اللہ تبریزی،آیة اللہ سیستانی،آیة اللہ صافی،آیة اللہ مکارم اور نوری:
امکان کی صورت میں اپنی زندگی کے اخرجات کو شوہر کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے نکال لے ۔(۲)
آیة اللہ وحید:امور حسبیہ کے ذمہ دار افراد کے ذریعہ شوہر کو نفقہ کی ادائیگی پر ملزم کیاجائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنی زندگی کے اخرجات کو شوہر کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے نکال لے البتہ احتیاط واجب کی بنیاد پر یہ کام حاکم شرع کی اجازت سے ہو۔(۳)
نوٹ: آیت اللہ سیستانی اور آیت اللہ مکارم شیر ازی کے فتووں کے مطابق مذکورہ صورت میں شوہر کے مال میں تصرف حکم شرع کی اجازت سے ہونا چاہئے۔
۱- توضیح المسائل مراجع،م۲۴۱۶۔
۲- حواله مذكور،م۲۴۱۶آیت الله نوری، توضیح المسائل،م۲۴۱۲۔
۳۔ آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۲۴۸۰۔