امام محمد تقی الجواد علیہ السلام
-
- شائع
-
- مؤلف:
- آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای- ترجمہ:حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی
- ذرائع:
- ماخوذ از کتاب: ۲۵۰ سالہ انسان
امام محمد تقی الجواد علیہ السلام
طویل المیعاد منصوبہ بندی پر مبنی منظم” اور ہمہ گیر جدوجہد”:
امام جواد علیہ السلام دیگر معصوم ائمہ علیہم السلام کی طرح ہمارے لئے نمونۂ عمل اور اسوۂ حسنہ ہیں۔
اللہ کے اس بندۂ صالح کی مختصر زندگی کفر و طغیان کے خلاف جہاد میں بیت گئی۔
آپ نوجوانی میں امت مسلمہ کے رہبر منصوب ہوئے۔
آپ نے کچھ ہی سالوں کے دوران خدا کے دشمنوں کے ساتھ مختصر لیکن جامع جہاد کیا یہاں تک کہ ۲۵ سال کی عمر میں یعنی جوانی میں ہی آپ کا وجود خدا کے دشمنوں کےلئے ناقابلِ برداشت بن گیا اور انہوں نے آپ کو زہر دےکر شہید کیا۔
جس طرح ہمارے دیگر ائمہ علیہم السلام میں سے ہر ایک نے اپنے جہاد کے ذریعے اسلام کی افتخار آمیز تاریخ میں ایک ایک ورق کا اضافہ کیا اسی طرح اس عظیم امام نے ابھی اسلام کے ہمہ گیر جہاد کے ایک اہم گوشے کو عملی جامہ پہنا کر ہمارے لیے ایک درسِ عمل کا اہتمام کیا۔
وہ بڑا سبق یہ ہے کہ جب ہم منافق اور ریاکار قوتوں کے مقابلے میں کھڑے ہوں تو ہمت سے کام لیں اور ان قوتوں کےمقابلے میں عوام کی ہوشیاری کو بروئے کار لائیں۔ اگر دشمن کھل کر دشمنی کرے نیز اگر وہ غلط دعویٰ یا ریاکاری کا مظاہرہ نہ کرے تو اس سے نمٹنا آسان تر ہے۔
لیکن جب مامون عباسی جیسا دشمن، اسلام کی حمایت اور تقدس کا لبادہ اوڑھ لے تو اس کی شناخت لوگوں کےلئے مشکل بن جاتی ہے۔
ہمارے دور میں بلکہ تاریخ کے تمام ادوار میں مقتدر قوتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جب وہ لوگوں کے ساتھ براہ راست مقابلے سے عاجز آجائیں تو ریاکاری اور نفاق کا ہتھکنڈا استعمال کریں۔ امام علی بن موسی الرضا صلوات اللہ علیہ اور امام جواد صلوات اللہ علیہ نے کوشش کی کہ وہ مامون کے چہرے سے مکر و فریب اور دکھاوے کے نقاب کو ہٹا دیں جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
( ۱۸/۷/۱۳۵۹ھ ش)۔
یہ بزرگ ہستی استقامت کی علامت ہیں۔
اس عظیم انسان نے اپنی مختصر زندگی مکمل طورپر عباسی خلیفہ مامون کی ریاکار اور دھوکہ باز حکومت کے خلاف جدوجہد میں گزاری اور ہرگز ایک قدم پسپائی اختیار نہیں کی۔
آپ نے تمام مشکل حالات کا پامردی سے مقابلہ کیا اور مزاحمتی جدوجہد کے تمام ممکنہ طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقابلے کا سلسلہ جاری رکھا۔
آپ وہ پہلی شخصیت تھے جس نے بطور آشکار آزاد مکالمے اور مناظرے کی رسم کی بنیاد رکھی۔
آپ نے مامون عباسی کے دربار میں علماء، دین کے غلط دعویداروں اور معروف چہروں کے ساتھ پیچیدہ ترین مسائل کے بارے میں استدلالی بحث و گفتگو کی۔
یوں آپ نے اپنی علمی وفکری برتری اور اپنے دعوے کی حقانیت کو ثابت کیا۔
آزادانہ بحث و گفتگو ہمارا اسلامی ورثہ ہے۔ائمہ ہدیٰ کے دور میں آزاد بحث و گفتگو کا سلسلہ رائج تھا۔امام جواد علیہ السلام کے دور میں آپ کے حکیمانہ طرز عمل کے طفیل یہ سلسلہ مزید شفاف ہو گیا۔
( ۲۵/۲/۱۳۶۰ھ ش)۔