امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

کیا امام حسین (علیہ السلام) کا سر مبارک شام لے جایا گیا تھا؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5
کیا امام حسین (علیہ السلام) کا سر مبارک شام لے جایا گیا تھا؟
سوال:  
الشيخ محمّد صنقور
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
شیخنا الجلیل! کچھ لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ امام حسین (ع) کا سر مبارک شام، یزید بن معاویہ کے پاس لے جایا گیا تھا، اور کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور یہ صرف شیعوں کی افتراپردازی ہے۔ اس پر آپ کا کیا جواب ہے؟
جواب:  
میں اس مسئلے پر گفتگو نہ کرتا، اگر آپ نے سوال نہ پوچھا ہوتا، کیونکہ یہ اتنے واضح حقائق میں سے ہے کہ جس کا انکار کوئی شخص جو اپنی عزت نفس کا خیال رکھتا ہو، نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس تاریخی واقعے کا انکار صرف ابن تیمیہ جیسے چند ہی لوگوں نے کیا ہے(1)، اور وہ اس طرح اپنے علمی ذوق اور تاریخی واقعات سے واقفیت کی کمی، یا اپنے دلوں میں موجود عقدوں اور بغض کی انتہا کو ظاہر کرتے ہیں۔
بہرحال، میں آپ کے سامنے اہل سنت کے علما اور مورخین کے بعض اقوال پیش کر رہا ہوں، نہ کہ شیعوں کے، کیونکہ یہ منکرین شیعوں کی روایات کو قبول نہیں کرتے۔ اور میں نے متون میں زمانی ترتیب کا خیال نہیں رکھا۔
---
پہلا قول:  
امام حافظ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "تاریخ الخلفاء" میں لکھا ہے:  
"جب حسین (ع) اور ان کے بھائیوں کو قتل کر دیا گیا تو ابن زیاد نے ان کے سروں کو یزید کے پاس بھیجا۔ پہلے تو ان کے قتل پر خوش ہوا، پھر جب مسلمانوں نے اس (یزید) سے اظہار بیزاری کیا اور لوگ اس سے متنفر ہو گئے (تو یزید کو ندامت ہوئی)، اور لوگوں کا اس سے متنفر ہونا ان کے حق میں تھا"(2)۔
آپ دیکھیں گے کہ سیوطی نے اس خبر کو بالکل مسلمہ انداز میں بیان کیا ہے، باوجود اس کے کہ ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جو کچھ نقل کرتے ہیں، اس پر کوئی تبصرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے صرف اتنا ہی نہیں کہا، بلکہ یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے یزید سے اظہار بیزاری کیا اور لوگ اس سے متنفر ہو گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مسلمانوں میں مشہور تھا۔ پھر انہوں نے یزید سے بیزاری اور نفرت کو مسلمانوں کے حق میں قرار دیا(3)۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یزید کو جس چیز سے ندامت ہوئی، وہ لوگوں کی نفرت اور بیزاری تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یزید کو حسین (ع) کے قتل میں کوئی حرج نظر نہیں آیا، اور جس چیز نے اسے پریشان کیا وہ لوگوں کا غصہ اور نفرت تھی، اور یہ ہر حکمران کو برا لگتا ہے، کیونکہ ہر حکمران لوگوں کی اپنے ساتھ رضامندی چاہتا ہے، البتہ اللہ کی رضامندی متقی مومن چاہتے ہیں۔
دوسرا قول:  
ابو حنیفہ بن داؤد الدینوری نے اپنی کتاب "الاخبار الطوال" میں لکھا ہے:  
"پھر ابن زیاد نے علی بن حسین اور جو ان کے ساتھ حرم میں تھے، انہیں تیار کیا اور زجر بن قیس، محقن بن ثعلبہ اور شمر بن ذی الجوشن کے ساتھ یزید بن معاویہ کے پاس بھیجا۔ پس وہ چلے یہاں تک کہ شام پہنچے اور دمشق شہر میں یزید بن معاویہ کے پاس داخل ہوئے، اور ان کے ساتھ حسین کا سر بھی داخل کیا، پھر انہوں نے اسے پھینک دیا"(4)۔
یہ قول جو دینوری نے ذکر کیا ہے، ابن زیاد کے وفد کی بدتمیزی کی سطح کو ظاہر کرتا ہے، اور اس سے بھی زیادہ برا یزید کا خاموش رہنا اور انہیں ڈانٹنا نہ تھا، جبکہ وہ انہیں اپنے سامنے حسین (ع) کا سر پھینکتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
تیسرا قول:  
ابن حجر نے اپنی کتاب "الصواعق المحرقة" میں ذکر کیا ہے:  
"جب ابن زیاد نے حسین اور ان کے ساتھیوں کے سروں کو اتارا تو انہیں آل حسین کی اسیر خواتین کے ساتھ یزید کے پاس روانہ کیا۔ جب وہ اس (یزید) کے پاس پہنچیں تو کہا جاتا ہے کہ اس نے حسین پر رحم کیا اور ابن زیاد سے ناراضگی ظاہر کی اور ان کا سر اور ان کے باقی بیٹوں کو مدینہ بھیجا۔ اور سبط بن جوزی وغیرہ کہتے ہیں: مشہور یہ ہے کہ اس نے اہل شام کو جمع کیا اور چھڑی سے سر پر ضربیں لگانے لگا۔ اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس نے پہلا کام ظاہر کیا اور دوسرے (برے فعل) کو چھپایا، اس دلیل سے کہ اس نے ابن زیاد کو خوب ترقی دی یہاں تک کہ اسے اپنی بیویوں کے پاس بھی داخل کیا۔
ابن جوزی کہتے ہیں: "تعجب تو اس بات پر ہے کہ یزید نے حسین کے دانتوں پر چھڑی ماری اور آل نبی (ص) کو اونٹوں کی پشت پر رسیوں سے باندھ کر لے جایا گیا اور عورتوں کے سر اور چہرے کھلے تھے" اور اس نے ان کے برے فعل کی کچھ دوسری باتیں بھی ذکر کیں..."(4)۔
آپ دیکھتے ہیں کہ یہ قول اس بات میں صریح ہے کہ سر مبارک اور حسین کی اسیر خواتین کا یزید کے پاس شام میں لے جانا ایک مسلمہ امر ہے، اور اختلاف صرف اس ردعمل میں ہے جو یزید نے ظاہر کیا۔ پھر نص سے پتہ چلتا ہے کہ مشہور قول کے مطابق یزید نے اہل شام کو جمع کیا اور حسین کے دانتوں پر چھڑی مارنے لگا۔
اور مشہور قول کے مقابلے میں دو گروہ ہیں: پہلے گروہ نے دعویٰ کیا کہ یزید نے حسین پر رحم کیا اور ابن زیاد سے ناراضگی ظاہر کی۔ دوسرے گروہ نے بتایا کہ اس نے لوگوں کے سامنے رحم کا اظہار کیا اور دوسرے برے فعل کو چھپایا، یعنی وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یزید نے حسین کے دانتوں پر چھڑی ماری، البتہ یہ سب کے سامنے نہیں تھا۔ یہی اس کے قول "اور دوسرے کو چھپایا" کا مطلب ہے، کیونکہ مصنف کی ترتیب کے مطابق دوسرا قول مشہور قول ہے۔ البتہ تیسرا قول مشہور قول کے اس دعوے کا انکار کرتا ہے کہ اس نے اہل شام کو جمع کرنے کے بعد ایسا کیا۔
 
اس طرح دوسرا گروہ (جو مشہور ہے) اور تیسرا گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ یزید نے حسین کے دانتوں پر چھڑی ماری، اور ان کے درمیان اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ کیا یزید نے اہل شام کو جمع کرنے کے بعد ایسا کیا تھا یا اس نے اپنے خصوصی مجلس میں اور اپنے خاص آدمیوں کے سامنے ایسا کیا تھا(4)۔
پھر تیسرا گروہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یزید نے اپنے برے فعل کو چھپایا اور حسین (ع) پر رحم کا اظہار کیا، اس نے پہلے گروہ کے اس دعوے کا انکار کیا کہ یزید نے ابن زیاد سے ناراضگی ظاہر کی، اور کہا: اگر واقعی اس نے ابن زیاد سے ناراضگی ظاہر کی ہوتی تو اسے اتنی ترقی کیوں دیتا یہاں تک کہ اسے اپنی بیویوں کے پاس بھی داخل کیا؟
پھر ابن حجر نے اپنے بیان کے آخر میں(4) یہ بتایا کہ ابن جوزی نے یزید کے حسین کے دانتوں پر چھڑی مارنے اور آل نبی (ص) کو اونٹوں کی پشت پر رسیوں سے باندھ کر لے جانے پر تعجب کا اظہار کیا۔
چوتھا قول:  
ابن حجر نے اپنی کتاب "الصواعق المحرقة" میں یہ بھی ذکر کیا ہے:  
"جان لو کہ اہل سنت کا یزید بن معاویہ اور اس کے بعد اس کے ولی عہد کے کفر کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے کہا کہ وہ کافر ہے، اس لیے کہ سبط بن جوزی وغیرہ کہتے ہیں: مشہور ہے کہ جب اس کے پاس حسین رضی اللہ عنہ کا سر آیا تو اس نے اہل شام کو جمع کیا اور چھڑی سے اس کے سر پر مارنے لگا، اور زبعرى کے اشعار پڑھنے لگا: 'کاش میرے بزرگ بدر میں موجود ہوتے...' وہ مشہور اشعار، اور ان میں دو اشعار کا اضافہ کیا جن میں صریح کفر ہے۔ اور ابن جوزی نے اپنے پوتے سے جو بیان کیا ہے، کہتے ہیں: تعجب ابن زیاد کے حسین سے لڑنے پر نہیں، بلکہ تعجب یزید کی بے حسی پر ہے اور اس نے چھڑی سے حسین کے دانتوں پر مارا اور آل رسول اللہ (ص) کو اسیر بنا کر اونٹوں کی پشت پر لے جایا، اور اس نے ان کے برے فعل کی کچھ دوسری باتیں بھی ذکر کیں جو اس سے مشہور ہیں... پھر کہا: اس کا مقصد صرف رسوائی اور سر دکھانا تھا۔ کیا خوارج اور باغیوں کے ساتھ ایسا کرنا جائز ہے؟ انہیں کفن دیا جاتا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور انہیں دفن کیا جاتا ہے؟ اگر اس کے دل میں جاہلیت کی عداوتیں اور بدری کینے نہ ہوتے تو جب سر اس کے پاس پہنچتا تو اس کی عزت کرتا، اسے کفن دیتا، دفن کرتا اور آل رسول اللہ کے ساتھ احسان کرتا۔" ختم شد(5)... پھر ابن حجر نے دوسری جماعت کے قول کو نقل کیا جو اس کے کفر کی نفی کرتی ہے، پھر کہا: "اس کے بارے میں ثابت اور سیدھا طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں توقف کیا جائے اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، کیونکہ وہ پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے اور دلوں کے پوشیدہ رازوں اور ضمیروں کے خیالات سے باخبر ہے، لہٰذا ہم ہرگز اس کے کفر کا فیصلہ نہیں کریں گے، کیونکہ یہ زیادہ بہتر اور زیادہ محفوظ ہے، اور اس قول پر کہ وہ مسلمان تھا، تو وہ فاسق، شریر، شرابی اور ظالم تھا..."(6)۔
آپ دیکھتے ہیں کہ یہ قول بھی اس بات میں صریح ہے کہ سر مبارک اور حسین کی اسیر خواتین کا یزید کے پاس شام میں لے جانا ایک مسلمہ امر ہے، اور اہل سنت کے علما کے درمیان اختلاف صرف اس کے کفر اور عدم کفر پر ہے، اس کے فاسق ہونے اور یہ کہ وہ شریر، شرابی اور ظالم تھا، کے بعد جیسا کہ ابن حجر نے اپنے بیان کے آخر میں بتایا(6)۔
اور جو چیز اہل سنت کے علما کے درمیان سر مبارک کے شام لے جانے کے تسلیم کرنے کے دعوے کی تصدیق کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ دوسری جماعت جس نے اس کے کفر کی نفی کی، اس نے اس کے کفر نہ ہونے پر یہ دلیل دی کہ جب یزید نے حسین (ع) کا سر دیکھا تو اس نے رحم کیا اور حسین کی اسیر خواتین کے ساتھ احسان کیا، اور یہ اس واقعے کے وقوع پذیر ہونے سے فارغ ہونے کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ کہ حسین (ع) کا سر واقعی یزید کے پاس لے جایا گیا تھا، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ جماعت اس بات سے دلیل لیتی کہ کفر کا موجب ہی اصلاً واقع نہیں ہوا، اور حسین (ع) کا سر یزید کے پاس نہیں لے جایا گیا تھا۔ پھر وہ کیسے چھڑی سے حسین کے دانتوں پر مار سکتا ہے اور کفر پر مبنی اشعار پڑھ سکتا ہے؟
چونکہ اس جماعت کے پاس واقعے کا انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اس لیے اس نے اس بات سے دلیل پکڑی جو کہی گئی تھی (اور جو مشہور کے خلاف تھی) کہ یزید نے حسین (ع) پر رحم کیا اور ابن زیاد سے ناراضگی ظاہر کی، لیکن یہ جماعت اس بات سے غافل رہی کہ یہ دلیل پکڑنے کے قابل نہیں تھی، کیونکہ اس کی بطلان واضح ہے۔ اس لیے کہ یزید کا ابن زیاد سے ناراضگی ظاہر کرنا کیا معنی رکھتا ہے، جبکہ حال یہ ہے کہ اس نے اسے صرف کوفہ ہی نہیں، بلکہ پورے عراق کا عامل بنا کر رکھا(7) اور اسے خوب قربت دی؟ اگر یہ بات صحیح ہے کہ اس نے ابن زیاد کو برا بھلا کہا، تو یہ نفاق کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اسے برا بھلا کہنا اور برے فعل پر انکار کرنا، پھر اسے عراق کی ولايت پر باقی رکھنا اور اسے خوب قربت دینا، کسی معنیٰ کی بات نہیں۔
اور کیا اس قدر تعظیم کا مستحق ہے ایسا عامل جس نے یہ بے نظیر موبِقہ (مہلک جرم) کیا ہو، جبکہ یزید خود اس کے ساتھ ملی ہوا نہ ہو؟ خاص طور پر جب ہم اس طرف توجہ کریں کہ یزید حسین (ع) کے واقعے سے پہلے ابن زیاد سے ناراض تھا(8) اور اسے بصرہ سے معزول کرنے کا ارادہ کر چکا تھا(8)، پھر اس نے اسے کوفہ کی ولايت بھی عطا کر دی، تو یہ کیا تھا! (یقیناً یہ صورت حال بہت قابل توجہ ہے)۔
ہم یہاں ان دلائل کو پیش کرنے کے لیے نہیں بیٹھے جو یزید کے حسین کے قتل میں ملوث ہونے کو ثابت کرتے ہیں، اور جو کوئی چاہے وہ ہماری کتاب "قراءة في مقتل الحسين" کا رجوع کر سکتا ہے، ہم نے وہاں ان میں سے بعض دلائل کا جائزہ لیا ہے۔
پانچواں قول:  
ابن اثیر نے اپنی کتاب "الکامل في التاريخ" میں ذکر کیا ہے:  
"پھر ابن زیاد نے حسین (ع) کا سر اور ان کے ساتھیوں کے سروں کو زحر بن قیس کے ساتھ شام، یزید کے پاس بھیجا، اور اس کے ساتھ ایک جماعت تھی، اور کہا جاتا ہے: شمر کے ساتھ اور اس کے ساتھ ایک جماعت تھی۔ اور اس نے عورتوں اور بچوں کو بھیجا، جن میں علی بن حسین بھی تھے۔ ابن زیاد نے ان کے ہاتھوں اور گردنوں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں اور انہیں اونٹوں کی پشت پر لاد کر لے جایا۔ راستے میں علی بن حسین نے ان سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ وہ شام پہنچے... پھر اس (یزید) نے لوگوں کو اجازت دی تو وہ اس کے پاس داخل ہوئے اور سر اس کے سامنے تھا، اور اس کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے وہ اس کے منہ پر مار رہا تھا، پھر کہا: یہ اور ہم ویسے ہی ہیں جیسے حصین بن حمام نے کہا:
ہماری قوم نے ہمیں انصاف دینے سے انکار کیا تو ہم نے انصاف لے لیا، ہمارے دائیں ہاتھوں کی تلواروں سے جو خون ٹپکا رہی تھیں
انہوں نے معزز مردوں کی کھوپڑیاں پھاڑ ڈالیں، جو ہمارے خلاف تھے اور انہوں نے ہی زیادہ ظلم کیا تھا
اس پر ابوبُرزہ اسلمی نے اس سے کہا: 'کیا تو اپنی چھڑی سے حسین کے منہ پر مار رہا ہے؟ قسم اللہ کی! تیری چھڑی نے ان کے منہ میں وہ جگہ پائی جہاں میں نے رسول اللہ (ص) کو بوسہ لیتے دیکھا تھا۔ سن لے، اے یزید! تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ابن زیاد تیرا سفارشی ہو گا، اور یہ آئے گا اور محمد اس کے سفارشی ہوں گے۔' پھر وہ کھڑا ہوا اور واپس چلا گیا"(9)۔
آپ دیکھتے ہیں کہ یہ قول بھی باقیہ اقوال کی طرح ہمارے لیے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سر مبارک اور حسین (ع) کی اسیر خواتین کو شام میں یزید کے پاس لے جایا گیا تھا، اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یزید نے لوگوں کے سامنے چھڑی سے حسین (ع) کے منہ پر مارا، اور اپنی تلواروں پر اکڑ کر چلا جو خون ٹپکا رہی تھیں، اور یہ کہ انہوں نے اسے ان لوگوں سے انتقام دلایا جنہوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی، اور یہ کہ ان تلواروں نے ایسے مردوں کی کھوپڑیاں پھاڑ دیں جنہوں نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اس پر ظلم کیا!! (معاذ اللہ)۔
چھٹا قول:  
ابو الفرج الملطی کہتے ہیں: "پھر اس نے (ابن زیاد نے) ان کا سر (حسین کا سر) اور ان کے بیٹوں کو یزید بن معاویہ کے پاس بھیجا، تو اس نے اپنی عورتوں اور بیٹیوں کو حکم دیا کہ انہیں مسجد کے چبوترے پر کھڑا کیا جائے جہاں قیدیوں کو کھڑا کیا جاتا تھا تاکہ لوگ انہیں دیکھیں"(10)۔ اور اس کے قریب ہی یافعی شافعی نے اپنی کتاب "مرآۃ الجنان" میں ذکر کیا ہے(11)۔
ساتواں قول:  
ابو المؤید اخطب خوارزم نے اپنی کتاب "مقتل الحسين" میں ذکر کیا ہے:  
"جب قیدی مدینہ (یعنی دمشق شہر) پہنچے تو انہیں 'توما' نامی دروازے سے داخل کیا گیا، پھر انہیں لایا گیا یہاں تک کہ انہیں جامع مسجد کے چبوترے پر کھڑا کر دیا گیا جہاں قیدیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے"(12)۔ اور ابن العماد نے "شذرات الذہب" میں کہا: "... اور ان کا سر اور ان کے گھر والے اور زین العابدین ان کے ساتھ قیدیوں کی طرح دمشق لے جایا گیا"(13)۔
اور ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب "تہذیب التہذیب" میں کہا: "جب وہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے پاس اہل شام میں سے جو تھے، انہیں جمع کیا پھر وہ اس کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے اسے مبارکباد دی..."(14)۔ اور شمس الدین ذہبی کی "تاریخ الاسلام" میں ہے: "علی بن حسین نے یزید سے کہا: 'قسم اللہ کی! اگر رسول اللہ (ص) ہمیں زنجیروں میں جکڑے دیکھ لیتے تو وہ ہمیں زنجیروں سے چھڑانا پسند کرتے...' سنہ 60ھ کے واقعات(15)۔
اور ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" میں ابن عساکر سے نقل کیا ہے کہ حسین (ع) کا سر دمشق میں تین دن تک نصب (ٹانگا) رہا(16)۔ اور ابو المؤید اخطب خوارزم نے "مقتل الحسين" میں بھی یہی ذکر کیا ہے(17)۔
اور ابو بکر الدواداری نے "کنز الدرر" میں نقل کیا ہے: کہ حسین (ع) کا سر دمشق میں کئی دنوں تک نصب رہا(18)، اور یافعی شافعی نے بھی "مرآۃ الجنان" میں یہ ذکر کیا ہے(11)، اور "تاريخ ابن الوردی" میں ہے: "یزید نے حسین کا سر اپنے سامنے رکھوایا اور عورتوں اور بچوں کو حاضر کیا"(19)۔
آٹھواں قول:  
ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" میں ذکر کیا ہے:  
"رہا یزید کے بارے میں مشہور بات جو تمام روایات میں ہے، تو وہ یہ ہے کہ جب سر اس کے سامنے رکھا گیا تو اس نے اہل شام کو جمع کیا اور چھڑی سے اس پر مارنے لگا اور ابن زبعرى کے اشعار پڑھنے لگا:
کاش میرے بزرگ بدر میں موجود ہوتے خزرج (قبیلے) کے نیزوں کی چوٹ سے گھبراہٹ دیکھتے
ہم نے سرداروں کو قتل کر دیا اور بدر کے قتل کو برابر کر دیا
شعبی کہتے ہیں: یزید نے ان میں دو اشعار کا اضافہ کیا:
ہاشم (قبیلہ) نے بادشاہی سے کھیل کیا، نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی
میں خندف میں سے نہیں ہوں اگر میں نے انتقام نہ لیا احمد کے بیٹوں سے جو کچھ انہوں نے کیا
مجاہد نے کہا: اس نے نفاق کیا"(20)۔
اور ابن جوزی نے زہری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: جب سر آئے تو یزید اپنے جیرون (دمشق کے قریب ایک پہاڑی علاقہ) کے مقام پر تھا تو اس نے اپنے لیے یہ شعر کہے:
جب وہ قافلے (حسین کے قیدی) نظر آئے اور وہ سورج جیرون کی چوٹیوں پر چمکے
پھر کوا بولا تو میں نے کہا: چلا جا یا نہ چلا جا، میں نے تو قرض خواہ سے اپنے قرض چکا دیے(22)
اور ابو المؤید اخطب خوارزم نے "مقتل الحسين (ع)" میں مجاہد تک ایک متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے: "... تو اس کے بعض ہم نشینوں نے اس سے کہا: اپنی چھڑی اٹھا لے، قسم اللہ کی! میں گنتی نہیں کر سکتا کہ میں نے محمد (ص) کے ہونٹوں کو کتنی بار تیری چھڑی کی جگہ پر بوسہ لیتے دیکھا ہے(23) تو یزید نے کہا:
اے فراق کے کوے! جو چاہے کہہ لے، تو تو صرف اس چیز پر نوحہ کرتا ہے جو ہو چکی
ہر بادشاہت اور نعمت زائل ہونے والی ہے اور زمانے کی بیٹیاں ہر چیز سے کھیلتی ہیں
کاش میرے بزرگ بدر میں موجود ہوتے خزرج (قبیلے) کے نیزوں کی چوٹ سے گھبراہٹ دیکھتے
وہ خوشی سے کھڑے ہو جاتے اور للکارتے پھر کہتے: اے یزید! تو نہ رُک
میں خندف میں سے نہیں ہوں اگر میں نے انتقام نہ لیا احمد کے بیٹوں سے جو کچھ انہوں نے کیا
ہاشم (قبیلہ) نے بادشاہی سے کھیل کیا، نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی(24)
مجاہد نے کہا: ہمیں نہیں معلوم کہ اس شخص نے اس قول کے سوا کبھی نفاق کیا ہو(25)۔
اور ابو عبد اللہ حافظ نے کہا: ہم نے ایک اور روایت روایت کی ہے جس میں 'لست من خندف' کی جگہ 'لست من عتبہ' ہے(26)۔
ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ"(27) میں کہا: "اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ(28) میں 'ریّا' کے بارے میں جو یزید بن معاویہ کی دایہ تھی، ذکر کیا ہے: کہ جب حسین کا سر یزید کے سامنے رکھا گیا تو اس نے ابن زبعرى کا شعر پڑھا، یعنی اس کا قول:
کاش میرے بزرگ بدر میں موجود ہوتے خزرج (قبیلے) کے نیزوں کی چوٹ سے گھبراہٹ دیکھتے
پھر اسے دمشق میں تین دن تک نصب کیا گیا۔" رجوع کریں "شذرات الذہب في أخبار من ذهب" از ابن العماد الحنبلی الدمشقی(29)۔
نواں قول:  
اور ابو بکر الدواداری نے "کنز الدرر" میں کہا: "اور اہل تاریخ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب سر یزید بن معاویہ کے پاس پہنچا تو اس کے سامنے رکھا گیا، اس نے چھڑی سے اس کے دانتوں پر مارا... اور مشہور اشعار پڑھے جو راویوں نے اپنی تاریخوں میں نقل کیے ہیں، جن میں سے 'کاش میرے بزرگ بدر میں موجود ہوتے' ہے... یہ پانچ اشعار ہیں، جن میں سے دو تو یہ ہیں اور تین اشعار ایسے ہیں جنہیں لکھنا جائز نہیں اور نہ ہی انہیں سننا جائز ہے..."(30)۔
اور ابو المؤید اخطب خوارزم نے "مقتل الحسين" میں کہا ہے کہ حاکم نے کہا: "یزید بن معاویہ نے جو اشعار پڑھے، وہ عبد اللہ بن زبعرى کے ہیں، انہوں نے انہیں 'احد' کے دن پڑھا تھا جب نبی (ص) کے چچا حمزہ اور مسلمانوں کی ایک جماعت شہید ہوئی تھی، اور یہ ایک طویل قصیدہ ہے۔" پھر اس نے قصیدے کا متن نقل کیا، اور یہ واقعہ اور اشعار ابن اعثم نے "الفتوح"(31) اور ابن جوزی نے "المنتظم"(32) میں بھی نقل کیے ہیں۔
دسواں قول:  
طبری نے ذکر کیا ہے: "کہا گیا: جب یزید بن معاویہ بیٹھا تو اس نے اہل شام کے سرداروں کو بلایا اور انہیں اپنے ارد گرد بٹھایا، پھر اس نے علی بن حسین اور حسین کے بچوں اور عورتوں کو بلوایا تو وہ اس کے پاس داخل ہوئے اور لوگ دیکھ رہے تھے۔ تو یزید نے علی سے کہا: 'تمہارے باپ نے میرے ساتھ رشتہ داری توڑی، میرے حق کو نہیں پہچانا، اور مجھ سے میرے اقتدار کا مقابلہ کیا، پس اللہ نے اس کے ساتھ وہ کچھ کیا جو تم نے دیکھا'"(33)۔
اور ایک دوسرے مقام پر کہا: "کہا گیا: جب یزید نے حسین کا سر دیکھا... پھر کہا: 'کیا تم جانتے ہو یہ کہاں سے آیا؟ میرے باپ علی ان کے باپ سے بہتر ہیں، اور میری ماں فاطمہ ان کی ماں سے بہتر ہیں، اور میرے نانا رسول اللہ ان کے نانا سے بہتر ہیں، اور میں ان سے بہتر ہوں اور اس معاملے کا زیادہ حق رکھتا ہوں... قسم ہے! یہ (مصیبت) ان کی فقہ (سمجھ) کی وجہ سے آئی ہے، اور انہوں نے نہیں پڑھا:
 ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [آل عمران: 26]"(34)(35)۔
گیارھواں قول:  
ابن جوزی نے "المنتظم" میں ذکر کیا ہے: جب حسین کا سر ابن زیاد کے پاس پہنچا تو وہ اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی سے اس کے سامنے والے دانت پر مارنے لگا... پھر زفر بن قیس کو بلایا گیا، اور اس نے اسے حسین کا سر اور اس کے ساتھیوں کے سر یزید کے پاس بھیجے۔ جب وہ یزید کے پاس داخل ہوا تو اس نے کہا: 'تمہارے پیچھے کیا ہے؟' اس نے کہا: 'اے امیر المومنین! اللہ کی فتح اور نصرت کی بشارت ہو۔'
 
مصنف کتاب (ابن جوزی) کہتے ہیں: جب یزید بیٹھا تو اس نے سر کو اپنے سامنے رکھوایا اور چھڑی سے اس کے منہ پر مارنے لگا اور کہنے لگا:
وہ ہمارے خلاف تھے اور ظلم کرنے والے تھے، ہم ان کی کھوپڑیاں پھاڑ دیں گے
پھر اس نے ابوبرزہ کی خبر نقل کی، پھر اس نے قبیصہ بن ذویب الخزاعی سے سند کے ساتھ نقل کیا، انہوں نے کہا: حسین کا سر لایا گیا، جب یزید کے سامنے رکھا گیا تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی سے اسے مارا، پھر کہا:
وہ ہمارے خلاف تھے اور ظلم کرنے والے تھے، ہم ان کی کھوپڑیاں پھاڑ دیں گے
پھر کہا: ہمیں علی بن عبید اللہ بن الزغوانی نے خبر دی، اور انہوں نے اپنی سند کو مجاہد تک پہنچایا، انہوں نے کہا:
حسین بن علی کا سر لایا گیا، اور یزید بن معاویہ کے سامنے رکھا گیا، تو اس نے یہ دو اشعار پڑھے:
کاش میرے بزرگ بدر میں موجود ہوتے خزرج (قبیلے) کے نیزوں کی چوٹ سے گھبراہٹ دیکھتے
پھر وہ خوشی سے کھڑے ہو جاتے اور للکارتے پھر مجھ سے کہتے...
مجاہد نے کہا: اس نے ان اشعار میں نفاق کیا، پھر قسم اللہ کی! اس کے لشکر میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچا جس نے اسے چھوڑ نہ دیا ہو۔
پھر کہا: سیرت کے علما نے کہا: پھر یزید نے علی بن حسین اور حسین کے بچوں اور عورتوں کو بلوایا، وہ اس کے پاس داخل کیے گئے... اور اس نے حسین کا سر عمرو بن سعید بن العاص (جو مدینہ میں اس کا عامل تھا) کے پاس بھیجا۔" [المنتظم في تاريخ الأمم والملوك، ج5، ص241، 244]
 
اسی طرح اور بھی بہت سے اقوال ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حسین (ع) کا سر مبارک یزید کے پاس لے جایا گیا اور یزید نے اس سر مبارک کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے اپنی چھڑی سے مارا، لیکن ہم نے طوالت کے خوف سے ان کا ذکر نہیں کیا۔ اور اگر آپ چاہیں تو ہماری کتاب "قراءة في مقتل الحسين (ع)"(36) میں جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے اور اس کی توثیق کی ہے، اس کا رجوع کر لیں۔
 
والحمد لله ربِّ العالمين(37)۔
۔۔۔
حوالہ جات:
• 1. كتاب (رأس الحسين) لمؤلفه ابن تيمية تحقيق الدكتور السيد الجميلي الطبعة الأولى 1406هـ - 1985 م، نشر دار الكتاب العربي- بيروت - لبنان.
• 2. a. b. تاريخ الخلفاء - جلال الدين السيوطي- ص 208/ تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 10 ص 94/ سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 3 ص 317/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 388/ البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 254.
• 3. الأخبار الطوال - داوود الدينوري- ص 385/ العوالم، الإمام الحسين (ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 430/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 351/ الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج 4 ص 83/ الوافي بالوفيات - الصفدي - ج 14 ص 127/ البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 208.
• 4. a. b. c. الصواعق المحرقة - ابن حجر - ص 301 ونقل هذا المضمون بتعبير مختلف في مصادر عديدة، راجع كتاب مثير الأحزان - ابن نما الحلي - ص 79 و بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 45 ص 132 و شرح نهج البلاغة - ابن أبي الحديد - ج 19 ص 307 و الوافي بالوفيات - الصفدي - ج 15 ص 14 وغيرها.
• 5. الصواعق المحرقة- ابن حجر- ص330.
• 6. a. b. الصواعق المحرقة- ابن حجر- ص330-331.
• 7. الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج 4 ص 131/ تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 22 ص 144/ كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 136/ الإصابة - ابن حجر - ج 2 ص 70/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 258/ سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 3 ص 306/ تهذيب الكمال - المزي - ج 6 ص 423/ تهذيب التهذيب - ابن حجر - ج 2 ص 302/ البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 164/ كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 36.
• 8. a. b. تهذيب الكمال - المزي - ج 6 ص 423/ تهذيب التهذيب - ابن حجر - ج 2 ص 302/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 258.
• 9. الكامل في التاريخ- ابن الأثير-ج3 ص447/ الأخبار الطوال - الدينوري - ص 260/ تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 18 ص 445/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 351.
• 10. تاريخ مختصر الدول - أبو الفرج الملطي ص111.
• 11. a. b. مرآة الجنان - اليافعي الشافعي - ج1 ص109.
• 12. مقتل الحسين ? الخوارزمي - ج2 ص 69.
• 13. شذرات الذهب - ابن العماد ج1 ص 275.
• 14. تهذيب التهذيب - ابن حجر- ج2 ص 304.
• 15. تاريخ الإسلام - الذهبي - ج 5 ص 18/ مقاتل الطالبيين - أبو الفرج الأصفهانى - ص 80/ شرح الأخبار - القاضي النعمان المغربي - ج 3 ص 268/ المعجم الكبير - الطبراني - ج 3 ص 104/ تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 70 ص 15/ الجوهرة في نسب الإمام علي وآله - البري - ص 45.
• 16. البداية والنهاية ? ابن كثير - ج8 ص222.
• 17. مقتل الحسين - الخوارزمي - ج2 ص 69.
• 18. كنز الدرر - أبو بكر الدواداري - ج4 ص94.
• 19. تاريخ ابن الوردي - ابن الوردي- ج1 ص232.
• 20. البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 209/ مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 261/ كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 129/ اللهوف في قتلى الطفوف - السيد ابن طاووس - ص 105/ كشف الغمة - ابن أبي الفتح الإربلي - ج 2 ص 230.
• 21. تذكرة الخواص - سبط بن الجوزي - ص 253.
• 22. وذكرها ابن عساكر وابن الدمشقي بسند مختلف راجع تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 70 ص 24 و جواهر المطالب في مناقب الإمام علي(ع) - ابن الدمشقي - ج 1 ص 15.
• 23. تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 68 ص 96/ أسد الغابة - ابن الأثير - ج 5 ص 381/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 293/ الوافي بالوفيات - الصفدي - ج 12 ص 264.
• 24. مقتل الحسين - الخوارزمي ج2 ص 58.
• 25. كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 129.
• 26. كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 129/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 45 ص 133/ العوالم، الإمام الحسين(ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 433.
• 27. البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 222.
• 28. تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 69 ص 159.
• 29. البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 222/ جواهر المطالب في مناقب الإمام علي (ع) - ابن الدمشقي - ج 2 ص 299.
• 30. كنز الدرر - أبو بكر الدواداري - ج4 ص93.
• 31. كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 241.
• 32. المنتظم - ابن الجوزي- ج5 ص343.
• 33. تاريخ الطبري ? الطبري- ج4 ص 352/ البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 211/ كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 130/ الدر النظيم - إبن حاتم العاملي - ص 565.
• 34. القران الكريم: سورة آل عمران (3)، الآية: 26، الصفحة: 53.
• 35. تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 355/ العوالم، الإمام الحسين (ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 432/ الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج 4 ص 85/ مقتل الحسين (ع) - أبو مخنف الأزدي - ص 217.
• 36. قراءة في مقتل الحسين (ع) (دراسة وتحليل) - الشيخ محمد صنقور- الطبعة الاولى1420هـ.
• 37. المصدر : موقع سماحة الشيخ محمد صنقور حفظه الله.
 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک