امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

شیعہ تربتِ حسینی کی تعظیم کیوں کرتے ہیں؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5
شیعہ تربتِ حسینی کی تعظیم کیوں کرتے ہیں؟
سید عبداللہ الغریفی
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
اصلِ اعتراض:
شاید یہ کہا جائے کہ شیعہ تربتِ حسینی کے ساتھ تعظیم کے بعض رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، جیسے بوسہ لینا، دیکھ بھال کرنا اور احترام  و تعظیم کرنا اور مقدس جاننا۔۔۔۔ یہ اس طرزِ عمل کی نوعیت کے بارے میں شک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
اعتراض کا جواب:
پہلی بات:
 یہ رویے کوئی ناجائز عمل نہیں ہیں، ورنہ تمام مسلمان قرآن، کعبہ اور حجرِ اسود کے ساتھ احترام، دیکھ بھال اور بوسہ لینے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تو کیا کہا جائے گا کہ وہ قرآن، کعبہ اور حجرِ اسود کی عبادت کرتے ہیں؟
دوسری بات:
 شیعہ جب تربت کو بوسہ دیتے ہیں، تو درحقیقت وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے نواسے امام حسین (علیہ السلام) سے عشق و محبت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔
تیسری بات: 
شیعہ سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی پیروی کرتے ہیں، کیونکہ آپ ہی وہ پہلی شخصیت ہیں جس نے اس پاکیزہ تربت کو بوسہ دیا، جیسا کہ متعدد احادیث نے اس بات کی تصدیق کی ہے:
1- حاکم نیشاپوری نے ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ:
عن أم سلمة رضي الله عنها أنّ رسول الله (ص) اضطجع ذات ليلة للنوم فاستيقظ وهو حائر، ثم اضطجع فرقد ثم استيقظ وهو حائر دون ما رأيت به المرة الأولى ثم اضطجع فاستيقظ وفي يده تربة حمراء يقبلها، فقلت ما هذه التربة يارسول الله؟
قال: أخبرني جبريل (ع) أنّ هذا يقتل بأرض العراق للحسين، فقلت لجبريل أرني تربة الأرض التي يقتل بها فهذه تربتها. .. .
(ثم قال الحاكم): "هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (البخاري ومسلم) ولم يخرجاه".[1]
 
 رسول اللہ (ص) ایک رات سونے کے لیے لیٹے، پھر پریشان ہو کر بیدار ہوئے، پھر لیٹ کر سوئے، پھر بیدار ہوئے اور پہلی مرتبہ سے زیادہ پریشان تھے، پھر لیٹے، پھر بیدار ہوئے تو ان کے ہاتھ میں ایک سرخ مٹی تھی جسے وہ بوسہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کون سی مٹی ہے؟ آپ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے بتایا کہ یہ (حسین) عراق کی سرزمین میں قتل کیا جائے گا۔ میں نے جبرائیل سے کہا: مجھے وہ مٹی دکھا دے جس زمین پر وہ قتل کیا جائے گا، تو یہ وہی مٹی ہے۔
(ثم قال الحاكم): "هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (البخاري ومسلم) ولم يخرجاه".
(پھر حاکم نے کہا): "یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر ہے، اور انہوں نے اسے تخریج نہیں کیا۔"
2- احمد بن حنبل نے ام سلمہ یا عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی (ص) نے فرمایا: 
وروى أحمد بن حنبل  عن أم سلمة أو عائشة أنّ النبي (ص) قال: "لقد دخل علي البيت ملك لم يدخل علي قبلها فقال لي أنّ ابنك هذا حسينا مقتول، وإن شئت أريتك من تربة الأرض التي يقتل بها، قال: فأخرج تربة حمراء".[2]
"میرے پاس ایک فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس نہیں آیا تھا، اس نے مجھ سے کہا: تمہارا یہ بیٹا حسین مقتول ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ مٹی دکھا دوں جس زمین پر وہ قتل کیا جائے گا۔ راوی کہتا ہے: تو اس نے سرخ مٹی نکالی۔"
3- حافظ ہیثمی نے علی (ع) سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا:
3 وروى الحافظ الهيثمي عن علي (ع) قال: دخلت على النبي (ص)  ذات  يوم وإذا عيناه تذرفان، قلت: يا نبي الله أغضبك أحد ما شأن عينيك تفيضان، قال: بل قام من عندي جبريل (ع) فحدثني أنّ الحسين يقتل بشط الفرات قال فقال: هل لك أن أشمك من تربته؟ قلت: نعم، قال فمد يده فقبض قبضة من تراب فأعطانيها، فلم أملك عيني أن فاضتا. [3]
 میں ایک دن نبی (ص) کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ آپ کی آنکھوں کا بہنا کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ابھی جبرائیل میرے پاس سے گیا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ حسین دریائے فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس کی مٹی سونگھا دوں؟ میں نے کہا: ضرور۔ راوی کہتا ہے: تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مٹی کی ایک مٹھی بھر کر مجھے دی، چنانچہ میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ رکھ سکا اور آنکھیں بہہ پڑیں۔
(قال الحافظ الهيثمي):  رواه أحمد وأبو يعلى والبزار والطبراني ورجاله ثقات.
(حافظ ہیثمی نے کہا): اسے احمد، ابویعلی، بزار اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں۔
4- طبرانی نے ام سلمہ سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: 
وروى الطبراني عن أم سلمة قالت: اضطجع رسول الله (ص) ذات يوم فاستيقظ وهو حائر النفس وفي يده تربة حمراء يقبلها، فقالت: ما هذه التربة يا رسول الله؟  قال: أخبرني جبرئيل أنّ هذا يقتل بأرض العراق (للحسين) فقلت لجبريل: أرني تربة الأرض التي يقتل بها فهذه تربتها[4] [5]
رسول اللہ (ص) ایک دن لیٹے ہوئے تھے، پھر پریشان ہو کر بیدار ہوئے اور ان کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے وہ بوسہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون سی مٹی ہے؟ آپ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے بتایا کہ یہ (حسین) عراق کی سرزمین میں قتل کیا جائے گا، میں نے جبرائیل سے کہا: مجھے وہ مٹی دکھا دے جس زمین پر وہ قتل کیا جائے گا، تو یہ وہی مٹی ہے۔ 
5- سیوطی [6] نے نبی (ص) کے حسین (ع) کے قتل کی خبر دینے کے بارے میں تقریباً بیس احادیث نقل کی ہیں، جو اہل سنت کے بڑے ثقہ اور مشہور راویوں (جیسے حاکم، بیہقی، ابونعیم اور ان کے ہم عصر) سے ام سلمہ، ام فضل، عائشہ، ابن عباس اور انس بن مالک (رسول اللہ کے خاص خادم) کے ذریعے مروی ہیں۔ یہ سب اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جبرائیل رسول اللہ (ص) پر جو مٹی لے کر آئے تھے... [7] [8]
حوالہ جات:
۱-المستدرك على الصحيحين ج 4 / 398.
۲- مسنده ج 6 / 294.
۳-۴-مجمع الزوائد ج9 / 190. الكبير.
۵-الخوئي: البيان ص524.
۶-الخصائص الكبرى.
۷- محمد الحسين كاشف الغطاء: الأرض والتربة الحسينية ص94.
۸- المصدر: سماحة السيد عبدالله الغريفي حفظه الله کی ویب سائٹ

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک