امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

اہل بیت امام حسین علیہ السلام کے لیے کیسے عزاداری کرتے تھے؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

اہل بیت امام حسین علیہ السلام کے لیے کیسے عزاداری کرتے تھے؟
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
منبع: پایگاه فکر و فرهنگ مبلغ
روز عاشورا، اس سے پہلے کہ امام حسین علیہ السلام شہید ہوں، خود انہوں نے شہدائے کربلا کے لیے مختصر عزاداری کی۔
 دوسرے الفاظ میں، شاید خود امام پہلے شخص تھے جنہوں نے شہدائے کربلا کے لیے عزاداری کی۔
ان دنوں عزاداری کی مجالس میں انحراف کی آسیب شناسی، عزاداری کی شکل اور اس قسم کے موضوعات پر بہت بحثیں ہوتی ہیں۔ 
کچھ لوگ تعصب رکھتے ہیں اور عزاداری کے روایتی طریقوں اور پرانی رسم و رواج کو پسند کرتے ہیں۔
 دوسرے کچھ لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ عزاداری کی شکل کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے اور اسے جدید بنایا جانا چاہیے۔ 
تیسرا گروہ ان دو گروہوں کے درمیان راستہ اختیار کرتا ہے اور نیم جدید اور نیم روایتی عزاداری یا ان دو شکلوں کے درمیان کسی چیز پر یقین رکھتا ہے۔

انہی بحثوں اور نظریات کے نتیجے میں، ہم یہاں اصل سرچشمے کی طرف جانا چاہتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ ائمہ اطہار علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے بعد اپنے جد امجد کے لیے کیسے عزاداری کی۔
 کیا وہ عزاداری کرتے تھے یا نہیں؟
 ہمیشہ کی طرح تاریخ نے اس اہم اور سننے کے قابل تفصیل کے بارے میں کنجوسی کی ہے، لیکن جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں وہ ان روایات کا خلاصہ ہے 
جو ائمہ علیہ السلام کے اپنے جد شریف کے لیے عزاداری کے انداز سے نقل ہوئی ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کے لیے عزاداری کی تاریخ واقعہ کربلا کے وقوع سے بھی پہلے تک جاتی ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے لمحے سے لے کر جب بھی، جہاں بھی اور کسی بھی بہانے سے ممکن ہوا، اس امام کی شہادت اور واقعہ کربلا کو یاد کرتے اور اپنی امت کی بے وفائی کے بارے میں فرماتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسین علیہ السلام کی مشکلات بیان کرتے ہوئے کبھی آنسو بہاتے اور لوگوں کو بھی رلاتے۔ 
آپ غمگینی سے فرماتے: "اے لوگو! تم ان کے لیے روتے ہو لیکن ان کی مدد نہیں کرتے؟"
 اور پھر دعا کرتے: "خدایا! تو ان کا یاور ہو۔"

امام حسین علیہ السلام کا شہدائے کربلا کے لیے عزاداری
روز عاشورا، اس سے پہلے کہ امام حسین علیہ السلام شہید ہوں، خود انہوں نے شہدائے کربلا کے لیے مختصر عزاداری کی۔ دوسرے الفاظ میں، شاید خود امام پہلے شخص تھے جنہوں نے شہدائے کربلا کے لیے عزاداری کی۔
اس دن امام حسین علیہ السلام ہر شہید کے پاس آتے، ان کی تعریف میں کچھ فرماتے اور روتے۔
امام نے اپنی بیٹی سکینہ کو کچھ اشعار بھی سکھائے تھے تاکہ وہ مدینہ میں شیعیوں کو سنائیں۔ اس بزرگ خاتون نے اپنے والد کی زبان سے آہستہ سے کہا:
شِیعَتِی مَهْمَا شَرِبْتُمْ مَاءً عَذْباً فَاذْکُرُونِی ...
اے میرے شیعیو! جب بھی تم میٹھا پانی پیو تو مجھے یاد کرو۔
امام حسین علیہ السلام نے آخری لمحات میں جب امام سجاد علیہ السلام سے رخصت ہوئے تو ان سے فرمایا:
 "اے میرے بیٹے! میرے شیعیوں کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ میرے والد (یعنی رسول اللہ) کا بیٹا غریب ہو کر شہید ہوا، اس کے لیے ندبہ اور گریہ کرو۔ تو میرے اہل بیت میں میرا جانشین اور اطاعت واجب امام ہے، میرے اہل بیت کی پناہ گاہ تو ہی ہے... اجازت دے کہ وہ اپنے عزیزوں کے لیے تیرے پاس گریہ کریں اور تو بھی ان کے لیے گریہ کرے۔"

امام سجاد علیہ السلام

امام سجاد علیہ السلام جو کربلا میں موجود تھے اور قریب سے اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کی شہادت دیکھ چکے تھے، ہمیشہ کربلا کے عزادار تھے۔ امام عزاداریوں میں پیش آنے والی بدعات اور خرافات کی مخالفت کرتے اور چاہتے تھے کہ عاشورا کی حقیقت لوگوں پر روشن ہو۔

امام سجاد علیہ السلام روضہ خوانی کرتے، کربلا کا ذکر کرتے، روتے اور دوسروں کو رلاتے۔ ایک دن ایک شخص نے امام سے کہا: "میں آپ پر فدا ہوں یا ابن رسول اللہ! آپ کتنا روتے ہیں؟ 
مجھے ڈر ہے کہ آپ خود کو ہلاک نہ کر لیں!
" امام نے جواب دیا: "یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، ان میں سے ایک غائب ہو گیا۔ وہ شدتِ غم سے اندھے ہو گئے، حالانکہ ان کا بیٹا یوسف علیہ السلام زندہ تھا۔ لیکن مَیں نے اپنے والد، بھائی، چچا اور اپنے اہل بیت کے سترہ افراد اور اپنے والد کے کچھ ساتھیوں کو دیکھا کہ انہیں ذبح کیا گیا اور وہ اپنے خون میں لت پت تھے، پس میرا غم اور اندوہ کیسے ختم ہو سکتا ہے؟"
امام صادق علیہ السلام نے امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: "امام (سجاد) نے چالیس سال تک اپنے والد کے لیے گریہ کیا۔ اس عرصے میں دن کو روزہ رکھتے اور رات کو عبادت کرتے۔ افطار کے وقت جب کھانا لایا جاتا تو آنسو بہاتے اور فرماتے:

قُتِلَ ابْنُ رَسُولِ اللّٰهِ جَائِعاً، قُتِلَ ابْنُ رَسُولِ اللّٰهِ عَطْشَاناً
رسول اللہ کے بیٹے کو بھوکا مارا گیا، رسول اللہ کے بیٹے کو پیاسا مارا گیا۔

امام یہ جملہ فرماتے اور روتے یہاں تک کہ کھانا اور پانی ان کے آنسوؤں کے ساتھ مل جاتا۔

امام باقر علیہ السلام

امام باقر علیہ السلام محرم کے مہینے میں امام حسین علیہ السلام کے لیے مجلس عزا برپا کرتے۔ انہی مجالس میں سے ایک میں کمیت نامی شاعر نے مداحی شروع کی۔ جب وہ اس جملے پر پہنچا:

قَتِیلٌ بِالطَّفِّ ...

وہ شخص جو طف (کربلا اور اس کے اطراف کے علاقے) میں قتل ہوا۔
تو امام باقر علیہ السلام بہت زیادہ روئے اور فرمایا: 
"اے کمیت! اگر ہمارے پاس سرمایہ ہوتا تو ہم اس شعر کے صلے میں تمہیں دیتے؛ لیکن تمہارا اجر وہی دعا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسان بن ثابت کے بارے میں فرمائی کہ تم ہمیشہ اہل بیت کی دفاع کی وجہ سے روح القدس کی تائید حاصل کرو گے۔"

امام صادق علیہ السلام

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
 "عاشورا کے بعد بنی ہاشم کی کسی عورت نے سرمہ نہیں لگایا اور نہ خضاب کیا۔ بنی ہاشم کے کسی گھر سے کھانا پکانے کا دھواں نہیں اٹھا یہاں تک کہ ابن زیاد ہلاک ہو گیا۔ ہم خونین فاجعہ عاشورا کے بعد ہمیشہ آنکھوں پر اشک رکھتے ہیں۔"

جب محرم آتا تو شیعہ امام صادق علیہ السلام کے گھر جاتے اور عزاداری کرتے۔ 
امام علیہ السلام فرماتے:
 "جان لو کہ حسین علیہ السلام اپنے پروردگار کے ہاں زندہ اور روزی پانے والے ہیں، وہ اپنے عزاداروں کو دیکھتے ہیں اور ان کے نام، ان کے باپوں کے نام اور جنت میں ان کے لیے تیار کردہ مقام سے سب سے زیادہ واقف ہیں۔"

امام شاعروں سے کہتے تھے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں مرثیہ سرائی کریں۔ 
زید الشحام کہتے ہیں: ایک دن ہم امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گئے۔ جعفر بن عثمان آیا اور امام کے قریب بیٹھ گیا۔ 
امام نے اس سے فرمایا: "اے جعفر!
 مَیں نے سنا ہے کہ تم میرے جد حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہتے ہو، اپنا کوئی شعر سناؤ۔"
 جعفر نے شعر پڑھا تو سب رو پڑے۔ امام نے جعفر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: "مقرب فرشتوں نے تمہاری باتیں سنیں اور روئے، جس طرح ہم روئے۔ جو شخص حسین علیہ السلام کے لیے شعر کہے، خود روئے اور دوسروں کو رلائے، خدا اس پر جنت واجب کر دیتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ جو شخص حسین علیہ السلام کے لیے نوحہ کا ایک شعر پڑھے اور پچاس لوگوں کو رلائے، اس کے لیے جنت ہے؛ اور جو تیس کو رلائے، اس کے لیے جنت ہے؛ اور جو بیس کو رلائے، اس کے لیے جنت ہے؛ اور جو دس کو رلائے، اس کے لیے جنت ہے؛ اور جو ایک کو رلائے، اس کے لیے جنت ہے؛ اور جو خود روئے، اس کے لیے جنت ہے؛ اور جو رونے کا انداز کرے (خود کو گریہ زدہ کرے)، اس کے لیے بھی جنت ہے۔"

جعفر بن قولویہ نے داؤد رقی سے سنداً روایت کیا کہ میں امام ششم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے پانی پیا اور رونے لگے اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور فرمایا:
 "اے داؤد! خدا قاتل حسین علیہ السلام پر لعنت کرے۔ کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو پانی پیے اور حسین علیہ السلام کو یاد کرے اور ان کے قاتل پر لعنت بھیجے مگر یہ کہ خدا اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھے، ایک لاکھ گناہ مٹائے، ایک لاکھ درجات بلند کرے اور ایسا ہے گویا اس نے ایک لاکھ بندے آزاد کیے، اور خدا اسے روز قیامت سیراب کر کے محشور کرے گا۔"

امام کاظم علیہ السلام

امام کاظم علیہ السلام عباسی خلفاء مثلاً منصور دوانیقی اور ہارون کے زمانے میں بہت مشکل حالات میں تھے۔ جب امام جیل میں نہیں ہوتے تھے تب بھی ہارون انہیں زیرِ نظر رکھتا تھا اور اسے ڈر تھا کہ کہیں حکومت ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ لیکن امام مواقع سے فائدہ اٹھاتے تاکہ عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی یاد زندہ رکھیں۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے تھے کہ جب محرم شروع ہو جاتا تو میرے والد (امام کاظم) پر کبھی کوئی ہنستے ہوئے نہیں دیکھتا تھا۔ وہ ہمیشہ غمگین رہتے یہاں تک کہ عشرہ عاشورا گزر جاتا۔ جب دسواں دن آتا تو یہ انتہائی غم اور مصیبت کا دن ہوتا اور فرماتے: "یہ وہ دن ہے جس میں میرے جد حسین علیہ السلام کو قتل کیا گیا۔"

امام رضا علیہ السلام

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: 
"روز مصیبت حسین علیہ السلام نے ہماری آنکھوں کو تھکا اور مجروح کر دیا اور ہمارے اشک کو بہا دیا۔ ہمارے عزیز اس غم انگیز سرزمین میں مصیبت میں گرفتار ہوئے، اس دن کی مصیبتیں ایسی ہیں کہ ہمیں ہمیشہ کے لیے غمگین اور داغ دار کر دیا ہے۔"

دعبل خزاعی، شاعر اہل بیت علیہ السلام، کہتے ہیں: 
محرم میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی خدمت میں گیا۔ امام اپنے اصحاب کو کربلا اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں بتا رہے تھے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو فرمایا:

"مَرْحَباً بِکَ یَا دِعْبِلُ، مَرْحَباً بِکَ یَا نَاصِرَنَا بِیَدِکَ وَ لِسَانِکَ"

خوش آمدید اے دعبل! خوش آمدید اے ہمارے دست و زبان سے مدد کرنے والے!

پھر مجھے اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا: 
"اے دعبل! مَیں پسند کروں گا کہ تم کوئی شعر سناؤ۔ یہ دن ہم اہل بیت کے غم کے دن ہیں اور ہمارے دشمنوں کی خوشی کے ایام ہیں۔ اے دعبل! جو شخص ہماری مصیبت اور جو کچھ دشمنوں نے ہم پر کیا، اس پر روئے اور رلائے، خدا اسے ہمارے ساتھ محشور کرے گا۔" پھر امام اٹھے اور ہمارے اور اہل حرم کے درمیان پردہ ڈالا اور انہیں پردے کے پیچھے بٹھا دیا تاکہ وہ اپنے جد کی مصیبت پر گریہ کریں۔

امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: "اے دعبل! حسین علیہ السلام کے لیے مرثیہ پڑھو، کیونکہ تم جب تک زندہ ہو، ہمارے مددگار ہو۔ اس کام سے ہماری مدد کرو اور اس میں کوتاہی نہ کرو۔" دعبل کہتے ہیں: میرے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور مَیں نے امام حسین علیہ السلام کی رثا میں شعر پڑھنا شروع کر دیا۔

امام رضا علیہ السلام نے اس بارے میں یہ بھی فرمایا: "محرم وہ مہینہ ہے جس میں جاہلیت کے لوگ خونریزی کو حرام سمجھتے تھے، مگر اسی مہینے میں ہمارا خون بہایا گیا، ہماری حرمت پامال کی گئی، ہمارے بچوں اور عورتوں کو اسیر کیا گیا، ہمارے خیموں کو آگ لگائی گئی اور جو کچھ ان میں تھا لوٹ لیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمارے بارے میں وصیت کو انہوں نے پامال کیا۔ روز شہادت حسین علیہ السلام نے ہماری آنکھوں کو خون آلود اور ہمارے اشک کو جاری کر دیا، ہمارے عزیزوں کو سرزمین کرب و بلا میں ذلیل کیا اور قیامت تک ہم پر غم اور بلا گزر گئی۔ لازم ہے کہ ایسے حسین پر گریہ کرنے والے گریہ کریں، کیونکہ ان پر گریہ بڑے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"

آخری چار اماموں کے دور میں محرم کی عزاداری

امام جواد علیہ السلام کے زمانے میں جب تک معتصم خلیفہ نہیں بنا تھا، شیعہ امام کے گھر آتے اور وہاں اہل بیت علیہم السلام کی عزاداری کی مجلس منعقد ہوتی تھی۔ محرم کے مہینے میں عزاداریاں دوسرے مہینوں سے زیادہ ہوتی تھیں۔ لیکن معتصم کے زمانے میں امام جواد علیہ السلام زیرِ نظر تھے اور شیعہ بھی خلیفہ کے افسروں کے دباؤ میں تھے۔

امام ہادی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام اور ابتدائی دورِ امامت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف میں عزاداری خفیہ طور پر منعقد ہوتی تھی۔

روایت میں نقل ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام ظہور اور غیبت دونوں حالتوں میں اپنے جد کی مصیبت پر گریہ کرتے ہیں۔ وہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں فرماتے ہیں:

"اگر زمانے نے مجھے (یاری سے) موخر کر دیا اور تمہاری مدد سے دور رہا اور مَیں موجود نہ تھا کہ تمہارے دشمنوں سے جنگ کروں اور تمہارے بدخواہوں سے پیکار کروں، تو مَیں ہر صبح و شام تم پر اشک بہاؤں گا اور اشک کی بجائے تمہاری مصیبت پر آنکھوں سے خون بارش کروں گا اور اس ماجرے پر درد بھرے دل سے حسرت کی آہ کھینچوں گا۔ پس سلام ہو ان پیاسے اور خشک ہونٹوں پر۔ سلام ہو اس شخص پر جسے اس کے زخموں کے خون سے غسل دیا گیا۔ اور سلام ہو اس شخص پر جسے نیزوں اور تلواروں کے جاموں سے شہادت کا شربت پلایا گیا۔"

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک