امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

محرم و امام حسین ( ع)کےبارے میں چند احادیث

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  
محرم و امام حسین ( ع)کےبارے میں چند احادیث

ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
حدیث ۱  
اِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ علیه السّلام حَرارَةً فی قُلُوبِ الْمُؤ منینَ لا تَبْرَدُ اَبَداً. (جامع احادیث الشیعه، ج ۱۲، ص ۵۵)  
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی وجہ سے مومنین کے دلوں میں ایک حرارت اور گرمی ہے جو کبھی ٹھنڈی اور خاموش نہیں ہوتی۔
---
حدیث ۲  
الحسن و الحسین امامان قاما او قعدا . ( بحار الانوار ۴۳/۲۹۱ و ۴۴/۲)  
حسن اور حسین ہر حال میں امام اور پیشوا ہیں؛ چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں۔
---
حدیث ۳  
ان الحسین باب من ابواب الجنة . ( احقاق الحق ۹/۲۰۲)  
بے شک حسین علیہ السلام جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں۔
---
حدیث ۴  
من عائده ، حرم الله علیه رایحة الجنة. (بحار الانوار ۳۵/۴۰۵ و احقاق الحق ۹/۲۰۲)  
جو کوئی ان (حسین) سے عناد رکھے گا، خداوند اس پر جنت کی خوشبو حرام فرما دے گا۔
---
حدیث ۵  
ان الحسین بن علی فی السماء اکبر منه فی الارض. (عیون اخبار الرضا ۱/۶۰ و بحار الانوار ۳۶/۲۰۴)  
یقیناً حسین بن علی علیہ السلام آسمان میں زمین سے والاتر ہیں۔
---
حدیث ۶  
حسین منی و أنا من حسین احب الله من احب حسینا حسین سبط من الاسباط .
 ( ذخائر العقبی /۱۲۴ و کتاب سنن ترمذی ۲/۳۰۷ و کتاب کنزالعمال ۶/۲۲۱ و ۷/۱۰۷ کتاب الفصول المهمة /۱۷۱ و کتاب فضائل الخمسة ۳/۲۶۴-۲۶۲)  
حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں؛ حسین کا دوست خدا کا محبوب ہے؛ حسین امتوں میں سے ایک امت ہیں۔
---
حدیث ۷ (حریم پاک)  
... و هی اطهر بقاع الارض واعظمها حرمة و إنها لمن بطحاء الجنة 
( بحار الانوار، ج ۹۸، ص ۱۱۵ و نیز کتاب کامل الزیارات، ص ۲۶۴)  
کربلا زمین پر پاک ترین جگہ اور احترام کے لحاظ سے سب سے بڑی جگہ ہے اور حق یہ ہے کہ کربلا جنت کے فرشوں میں سے ہے۔
---
حدیث ۸ (شوق زیارت)  
لو یعلم الناس ما فی زیارة قبر الحسین ( علیه السلام ) من الفضل ، لماتوا شوق 
( ثواب الاعمال، ص ۳۱۹؛ نقل از کتاب کامل الزیارات)  
اگر لوگ جانتے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں کتنی فضیلت ہے تو شوق زیارت سے مر جاتے۔
---
حدیث ۹ (ستاره سرخ محشر)  
تزهر أرض کربلا یوم القیامة کالکوکب الدری وتنادی انا ارض الله المقدسة الطیبة المبارکة التی تضمنت سید الشهداء و سید شباب اهل الجنة .
 ( ادب الطف، ج ۱، ص ۲۳۶، به نقل از کتاب کامل الزیارات، ص ۲۶۸)  
زمین کربلا، روز قیامت، مروارید کی طرح چمکے گی اور ندا دے گی کہ میں خدا کی مقدس زمین ہوں، پاک اور بابرکت زمین جس نے سید الشہداء اور جنت کے نوجوانوں کے سردار کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔
---
حدیث ۱۰ (زیارت مداوم)  
زوروا کربلا و لا تقطعوه فاءن خیر أولاد الانبیاء ضمنته...
 ( کامل الزیارات، ص ۲۶۹)  
کربلا کی زیارت کرو اور اس عمل کو جاری رکھو، کیونکہ کربلا نے انبیاء کی بہترین اولاد کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔
---
حدیث ۱۱ (کربلا حرم امن)  
ان الله اتخذ کربلا حرما آمنا مبارکا قبل ان یتخذ مکة حرم
 ( کامل الزیارات، ص ۲۶۷ بحار، ج،۹۸، ص ۱۱۰)  
بیشک خدا نے کربلا کو مکہ کو حرم قرار دینے سے پہلے ایک امن اور بابرکت حرم بنایا۔
---
حدیث ۱۲ (سفر نور)  
من سره ان یکون علی موائد النور یوم القیامة فلیکن من زوار الحسین بن علی ( علیهما السلام ) 
( وسائل الشیعه، ج ۱۰، ص ۳۳۰، بحار الانوار، ج ۹۸، ص ۷۲)  
جو کوئی روز قیامت نور کی دسترخوانوں پر بیٹھنا پسند کرتا ہے اسے امام حسین علیہ السلام کے زائرین میں سے ہونا چاہیے۔
---
حدیث ۱۳ (زیارت سے شهادت تک)  
لا تدع زیارة الحسین بن علی علیهما السلام و مر أصحابک بذلک یمد الله فی عمرک و یزید فی رزقک و یحییک الله سعیدا و لا تموت الا شهیدا 
 ( وسائل الشیعه، چ ۱۰ ص۳۳۵)  
امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو ترک نہ کرو اور اپنے دوستوں اور یاروں کو بھی اسی کی سفارش کرو! تاکہ خدا تمہاری عمر دراز کرے اور روزی میں اضافہ کرے اور خدا تمہیں سعادت کے ساتھ زندہ رکھے اور تم مرتے نہیں مگر شہید ہو کر۔
---
حدیث ۱۴ (شیعہ ہونے کا نشان )  
من لم یأت قبر الحسین ( علیه السلام ) و هو یزعم انه لنا شیعة حتی یموت فلیس هو لنا شیعة و ان کان من اهل الجنة فهو من ضیفان اهل الجنة .
( کامل الزیارات، ص ۱۹۳، بحار الانوار، ج ۹۸ ص۴)  
جو کوئی امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت نہ کرے اور یہ خیال رکھے کہ وہ ہمارا شیعہ ہے اور اسی حال اور خیال میں مر جائے تو وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے اور اگر وہ اہل جنت میں سے بھی ہو تو وہ اہل جنت کے مہمانوں میں سے ہوگا۔
---
حدیث ۱۵ (حدیث محبت)  
من اراد الله به الخیر قذف فی قلبه حب الحسین ( علیه السلام ) و زیارته و من اراد الله به السوء قذف فی قلبه بغض الحسین ( علیه السلام ) و بغض زیارته 
 ( وسائل الشیعه، ج ۱۰ ص ۳۸۸، بحار الانوار، ج ۹۸، ص۷۶)  
جو بھی خدا کی خیرخواہی کا مستحق ہو، خدا اس کے دل میں حسین (ع) کی محبت اور ان کی زیارت کی محبت ڈال دیتا ہے، اور جو خدا کی بدخواہی کا مستحق ہو، اس کے دل میں حسین (ع) کی کینہ اور ان کی زیارت کا غصہ ڈال دیتا ہے۔
---
حدیث ۱۶ (زیارت عاشورا)  
من زار الحسین ( علیه السلام ) یوم عاشورا وجبت له الجنة ( اقبال الاعمال، ص۵۶۸)  
جو کوئی امام حسین علیہ السلام کی روز عاشورا زیارت کرے، جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے۔
---
حدیث ۱۷ (تربت شفا بخش)  
و لا تأخذوا من تربتی شیئا لتبرکوا به فأن کل تربة لنا محرمة الا تربة جدی الحسین بن علی علیهما السلام فأن الله عزوجل جعلها شفاء لشیعتنا و أولیائنا . ( جامع الاحادیث الشیعه، ج ۱۲، ص۵۳۳)  
میری قبر کی مٹی میں سے کچھ نہ اٹھاؤ تاکہ اس سے تبرک حاصل کرو، کیونکہ ہم پر ہر مٹی کی تربت حرام ہے سوائے میرے جد حسین (ع) کی تربت کے، خداوند متعال نے صرف کربلا کی تربت کو ہمارے شیعیان اور دوستوں کے لیے شفا قرار دیا ہے۔
---
حدیث ۱۸  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کی سانس ہماری مظلومیت کی وجہ سے غمگین ہونے کی حالت میں چلے، وہ ذکر اور تسبیح ہے۔( نفس المهموم شیخ عباس قمی (ره))  
---
حدیث ۱۹  
امام صادق علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے ایک گریہ کرنے والے سے فرمایا:
 رَحِمَ‏اللَّهُ دَمْعَتَک ....
 خدا تمہارے ان آنسوؤں پر رحمت نازل فرمائے۔( اشک حسینی سرمایه شیعه به نقل از کامل الزیارات)  
---
حدیث ۲۰  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے جد (امام حسین) کا گریہ کرنے والا اپنی جگہ سے نہیں اٹھتا مگر اس حال میں کہ وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
( الکسیر العبادات به نقل از منتخب)  
---
حدیث ۲۱  
حضرت زہرا علیہا السلام نے فرمایا: جب میرے حسین پر گریہ کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے، تو میں بھی جنت میں داخل ہو جاؤں گی۔ ( اشک حسینی سرمایه شیعه به نقل از البکا ص ۸۶)  
---
حدیث ۲۲  
حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا کو حیا آتی ہے کہ وہ حسین ابن علی علیہ السلام پر گریہ کرنے والے کو عذاب دے۔ ( اشک حسینی سرمایه شیعه به نقل از البکا ص ۹۴)  
---
حدیث ۲۳  
حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام حسین علیہ السلام ہمیشہ اپنے زائرین، گریہ کرنے والوں اور عزاداری منعقد کرنے والوں پر رحمت کی نظر رکھتے ہیں۔( الکسیر العبادات به نقل از منتخب)  
---
حدیث ۲۴  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کے لیے ایک مقررہ ثواب ہے، سوائے اس آنسو کے جو ہمارے لیے بہایا جائے (جس کا ثواب خدا کے پاس ہے)۔ ( الکسیر العبادات فی اسرار الشهادات ص ۹۹)  
---
حدیث ۲۵  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے جد حسین علیہ السلام جب اپنے گریہ کرنے والوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور اپنے جد، والد، والدہ اور بھائی سے کہتے ہیں کہ وہ بھی ان گریہ کرنے والوں اور عزاداری منعقد کرنے والوں کے لیے استغفار کریں۔( الکسیر العبادات به نقل از منتخب)  
---
حدیث ۲۶  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت امام حسین علیہ السلام غمگین اور اندوہناک حالت میں شہید ہوئے، اور خدا پر مناسب ہے کہ کوئی غمگین اور اندوہناک شخص ان کی زیارت کو نہ جائے مگر یہ کہ خداوند تعالیٰ اسے خوش اور شادمان اس کے گھر والوں کی طرف لوٹائے۔ ( کامل الزیارات باب ۳۹)  
---
حدیث ۲۷  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو کوئی ہماری یاد میں آنکھوں سے آنسو بہائے، خدا اس کے چہرے پر آگ کو حرام کر دے گا۔( الکسیر العبادات به نقل از کتاب کامل الزیارات)  
---
حدیث ۲۸  
امام باقر علیہ السلام نے علقمہ کو زیارت عاشورا سکھانے کے بعد فرمایا: جو کوئی یہ زیارت پڑھے (دور سے یا قریب سے) اور حسین علیہ السلام پر نوحہ کریں اور اپنے گھر والوں کو حکم دیں کہ وہ بغیر تقیہ کے حسین علیہ السلام پر گریہ کریں اور اپنے گھر میں جزع و فزع کا اظہار کرتے ہوئے عزاداری منعقد کریں اور ایک دوسرے کو مصیبت حسین علیہ السلام پر تعزیت دیں، تو میں خدا کے نزدیک اس کا ضامن ہوں کہ اس کے لیے ہزار حج، ہزار عمرہ اور ہزار غزوہ کا ثواب لکھا جائے گا۔( الکسیر العبادات فی اسرارالشهادات ص ۹۱)  
---
حدیث ۲۹  
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ایسے حسین پر گریہ کرنے والے گریہ کریں، کیونکہ ان پر گریہ بڑے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔( العیون العبری)  
---
حدیث ۳۰  
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے پسر شبیب! جب بھی کسی چیز پر گریہ کرو تو مصیبت حسین بن علی علیہ السلام پر گریہ کرو۔( العیون العبری)  
---
حدیث ۳۱  
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: بے شک روز حسین نے ہماری آنکھوں کو زخمی اور ہمارے آنسوؤں کو جاری کر دیا ہے اور ہمارے عزیز کو کربلا میں ذلیل کیا گیا ہے اور ہمیں قیامت تک محنت اور بلا کا وارث بنا دیا ہے۔( العیون العبری)  
---
حدیث ۳۲  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: چار ہزار پریشان حال اور گرد آلود فرشتے قیامت تک اس حضرت پر گریہ کریں گے۔( کامل الزیارات باب ۲۷)  
---
حدیث ۳۳  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت فاطمہ علیہا السلام ان لوگوں پر نظر رحمت فرماتی ہیں جو آپ میں سے سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کو جاتے ہیں اور خداوند منّان سے ان کے لیے ہر خیر اور بھلائی کا سوال کرتی ہیں، خبردار! ان کی زیارت میں بے رغبتی نہ کرو کیونکہ جو خیر اس زیارت میں ہے وہ شمار کرنے سے زیادہ ہے۔( کامل الزیارات باب ۲۷)  
---
حدیث ۳۴  
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعیوں کو قبر حسین ابن علی علیہ السلام کی زیارت کا حکم دو، کیونکہ ان کی زیارت رزق کو زیادہ اور عمر کو طولانی کرتی ہے اور ان امور کو دفع کرتی ہے جو بدی اور شر کو لے کر آتے ہیں۔( کامل الزیارات باب ۶۱)  
---
حدیث ۳۵  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو کوئی قبر حسین علیہ السلام کی زیارت نہ کرے، وہ بڑی خیر سے محروم رہ جاتا ہے اور اس کی عمر سے ایک سال کم ہو جاتا ہے۔( کامل الزیارات باب ۶۱ حدیث سوّم)  
---
حدیث ۳۶  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زائرین امام حسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے خدا کے مسافرو! تمہیں بشارت ہو کہ تم میرے ساتھ جنت میں ہم رکاب ہو گے۔( کامل الزیارات باب ۶۲)  
---
حدیث ۳۷  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد نے میرے جد سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: جو کوئی اس حضرت کی زیارت صرف خدا کے لیے اور قربت الٰہی کی نیت سے کرے، خداوند متعال اسے گناہوں سے آزاد کر دے گا اور اسے اس طرح پاک کر دے گا جیسے وہ نوزاد ہے جسے ماں نے جنم دیا ہے۔( کامل الزیارات باب ۶۲)  
---
حدیث ۳۸  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: زائر امام حسین علیہ السلام روز قیامت سو افراد کی شفاعت کرے گا جو سب کے سب اہل دوزخ تھے اور دنیا میں مسرفین میں سے تھے۔( کامل الزیارات باب ۶۲)  
---
حدیث ۳۹  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو کوئی تربت امام حسین علیہ السلام کی تسبیح اپنے ساتھ رکھے، خدا اسے ذاکر اور تسبیح کرنے والا شمار کرے گا، چاہے وہ اس کے ساتھ ذکر نہ بھی کرے۔( خاک بهشت به نقل از بحار ج ۸۵)  
---
حدیث ۴۰  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تربت حسین علیہ السلام پر سجدہ ساتوں پردوں کو چاک کر کے ختم کر دیتا ہے۔( خاک بهشت به نقل از مصباح المتهجد)  
---
حدیث ۴۱  
شیخ دیلمی فرماتے ہیں: امام صادق علیہ السلام خداوند تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع ظاہر کرنے کے لیے تربت امام حسین علیہ السلام کے علاوہ کسی اور پر سجدہ نہیں کرتے تھے۔( خاک بهشت به نقل از ارشاد القلوب)  
---
حدیث ۴۲  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خاک قبر امام حسین علیہ السلام ہر درد کی شفا ہے، وہ تربت سب سے اعلیٰ دوا ہے۔( خاک بهشت به نقل از کتاب کامل الزیارات)  
---
حدیث ۴۳  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خاک حرم امام حسین علیہ السلام ہر درد کی شفا اور ہر خوف سے امان ہے۔( خاک بهشت به نقل از کتاب کامل الزیارات)  
---
حدیث ۴۴  
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنے بچوں کے منہ کو تربت سے لگاؤ (یا تربت چوساؤ) کیونکہ یہ امنیت کا سبب ہے اور ان کے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔( خاک بهشت به نقل از کتاب کامل الزیارات)  
---
حدیث ۴۵  
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میت کو دفن کرتے ہو اور اس کا سر مٹی پر رکھتے ہو تو اس کے چہرے کے سامنے اور سر کے نیچے تربت (خاک قبر امام حسین علیہ السلام) کی مہر کیوں نہیں رکھتے؟
( خاک بهشت به نقل از وسایل  الشیعہ)  

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک