تفسير راہنما جلد ۶

 تفسير راہنما 0%

 تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 736

 تفسير راہنما

مؤلف: آيت الله ہاشمى رفسنجاني
زمرہ جات:

صفحے: 736
مشاہدے: 10273
ڈاؤنلوڈ: 1014


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5 جلد 6 جلد 7 جلد 8 جلد 9 جلد 10 جلد 11
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 736 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 10273 / ڈاؤنلوڈ: 1014
سائز سائز سائز
 تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد 6

مؤلف:
اردو

جہاد:احكام جہاد ،۱; جہاد ترك كرنے كى جائز صورت ۱; جہاد سے فرار كى سزا، ۲، ۴;دشمنوں سے جہاد ،۱

جہنم:جہنم كا برا ہونا ۳; موجبات جہنم ۲، ۴، ۵

جہنمى لوگ: ۴، ۵

خدا كے مغضوب افراد:۲خدا كے مغضوب افراد كى سزا ۵

عذاب:اہل عذاب ۲

آیت ۱۷

( فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاء حَسَناً إِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ )

پس تم لوگوں نے ان كفار كو قتل نہيں كيا بلكہ خدا نے قتل كيا ہے اور پيغمبر آپ نے سنگريزے نہيں پھينكے ہيں بلكہ خدا نے پھينكے ہيں تا كہ صاحبان ايمان پر خوب اچھى طرح احسان كردے كہ وہ سب كى سننے والا اور سب كا حال جاننے والا ہے (۱۷)

۱_ جنگ بدر ميں اہل ايمان كى فتح و كاميابى اور كفار كے ہلاك ہونے كى اصلى و بنيادى وجہ، الہى امداد اور نصرت تھي_

فلم تقتلوهم و لكن الله قتلهم

جملہ ''فلم تقتلوهم '' ان آيات پر متفرع ہے كہ جن ميں جنگ بدر ميں الہى امداد و نصرت كا ذكر ہوا ہے، يعنى جنگ بدر كے حوادث اور امداد الہى كى جانب (معمولى سي) توجہ سے ظاہر ہوتاہے كہ در حقيقت يہ خداوند ہے كہ جس نے مشركين كو ہلاك كيا ہے اور انھيں شكست دى ہے_

۲_ جنگ بدر ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى فاتحانہ حركت اور طرز عمل در حقيقت، فعل الہى تھا_

فلم تقتلوهم و لكن الله قتلهم و ما رميت

''رَمي'' كا معنى پھينكنا ہے اور ہوسكتاہے يہاں ان تمام جنگى سرگرميوں كے بارے ميں كنايہ ہو كہ جو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انجام دے رہے تھے_

۴۸۱

۳_ جنگ بدر كى فتح ميں خداوند اپنا اصلى عمل دخل بيان كرتے ہوئے، اس جنگ كے مجاہدين كو اس فتح كى كاميابى پر غرور و تكبر سے بچنے كا راستہ دكھارہا ہے_فلم تقتلوهم ...و ما رميت إذ رميت

مذكورہ آيت كہ جس ميں مؤمنين كى فتح كو ارادہ خداوند كا نتيجہ كہا گيا ہے، كا مقصد يہ ہے كہ جنگ بدر كے مجاہدين بدر كى فتح كو خدا وند كى جانب سے ايك نعمت سمجھيں اور اسے اپنى طاقت كا نتيجہ نہ سمجھيں تا كہ غرور و تكبر ميں مبتلا نہ ہوں _

۴_ انسان اپنے افعال ميں نہ تو ارادہ الہى سے مستقل اور آزاد ہے اور نہ ہى اپنے افعال انجام دينے پر اس كى جانب سے مجبور ہے_و ما رميت إذ رميت و لكن الله رمى

چونكہ ايك طرف سے فعل پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف نسبت دى گئي ہے اور دوسرى جانب وہى فعل خداوند سے منسوب كيا گيا ہے، اس سے پتہ چلتاہے كہ انسان اپنے افعال ميں نہ تو كامل استقلال ركھتاہے اور نہ ہى اپنے افعال انجام دينے پر مجبور ہے_

۵_ انسان كے افعال، خود اس كى جانب منسوب ہونے كے ساتھ ساتھ خداوند كى جانب بھى منسوب ہيں _

و ما رميت إذ رميت و لكن الله رمى

۶_ اچھے و شاءستہ اعمال بجا لانے كيلئے انسانى توفيق ميں خداوند كے بنيادى عمل دخل كى طرف توجہ كرنے كى ضرورت_

فلم تقتلوهم و لكن الله قتلهم و ما رميت إذ رميت و لكن الله رمى

۷_ جنگ بدر ميں مجاہدين كى فتح ،بلند مرتبہ مقاصد كى حامل تھى من جملہ خداوند كى طرف سے اہل ايمان كى آزماءش بھى مطلوب تھي_و ليبلى المؤمنين منه بلاًء حسناً

''ليبلي''، ''ليمحق الكفرين'' كى مانند ايك محذوف علت پر عطف ہے اور يہ دونوں''رمى ليمحق الكفرين و ليبلى المؤمنين'' يہ بھى قابل ذكر ہے كہ مندرجہ بالا مفہوم ميں ''ابلاء'' كے معنى ميں ليا گيا ہے_

۸_ جنگ بدر ميں مجاہدين كى فتح، اہل ايمان كيلئے خداوند كى جانب سے ايك خاص اور (اچھي) نعمت تھي_

ليبلى المؤمنين منه بلاء حسناً

۴۸۲

مندرجہ بالا مفہوم ميں ''ابلاء'' نعمت عطا ہونے كے معنى ميں ليا گيا ہے_

۹_ خداوند، اہل ايمان كو نعمت اور خوشحال كنندہ امور عطا كركے ان كى آزماءش كرتاہے_

و ليبلى المؤمنين منه بلاء حسناً

۱۰_ خداوند متعال، انسانوں كے اعمال و كردار كى كيفيت و حقيقت معلوم كرنے كيلئے، ان كى آزماءش نہيں كرتا_

ليبلى المؤمنين ...إن الله سميع عليم

انسانوں كى آزماءش كا تذكرہ كرنے كے بعد، خداوند كى على الاطلاق دانائی (عليم) و شنوائی (سميع) كا بيان ہوسكتاہے اس وجہ سے ہو كہ انسانوں كى آزماءش كا مقصد ان كى حالت و كيفيت معلوم كرنا نہيں _

۱۱_ خداوند كا سميع اور عليم ہونا ہى ،مؤمنين كى امداد اور انكى دعا قبول ہونے كا بنيادى سبب ہے_

إذ تستغيثون ...إن الله سميع عليم

مندرجہ بالا مفہوم اس بناء پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب جملہ''إن الله ...'' آيہ نہم كى جانب ناظر ہو_

استغاثہ:استغاثہ كا قبول ہونا ۱۱

اللہ تعالى :اللہ تعالى كا ارادہ۴; اللہ تعالى كا امتحان ۷،۹;اللہ تعالى كا سميع ہونا ۱۱; اللہ تعالى كا علم ۱۱; اللہ تعالى كى امداد۱; اللہ تعالى كى نعمات ۸; اللہ تعالى كے افعال ۲،۳،۵

امتحان:امتحان كے وسائل ۹; نعمت كے ذريعے امتحان ۹

انسان:انسان كا اختيار ۴; انسان كا عمل ۴، ۵، ۶; انسانوں كا اختيار ۱۰

اہداف:مقدس اہداف ۷

جبر و اختيار: ۴خودپسندي:خود پسندى سے اجتناب ۳

عمل:عمل كا منشاء ۲، ۴، ۵

غزوہ بدر:غزوہ بدر كا قصہ ۱; غزوہ بدر كى فتح ۳; غزوہ بدر كى فتح كے اسباب ۲; غزوہ بدر كے مجاہدين ۳; مجاہدين بدر كى فتح ۱، ۸;مجاہدين غزوہ بدر كى فتح ۷

قريش:مشركين قريش كا قتل ۱;مشركين قريش كى شكست كے اسباب ۱

كاميابي: كاميابى كا منشاء ۶

۴۸۳

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى فتح ۲

مؤمنين:مؤمنين كا استغاثہ ۱۱; مؤمنين كا امتحان ۷، ۸; مؤمنين كى امداد ۱۱; مؤمنين كى فتح كے اسباب ۱; نعمات مؤمنين ۸

آیت ۱۸

( ذَلِكُمْ وَأَنَّ اللّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ )

يہ تو يہ احسان ہے اور خدا كفار كے مكر كو كمزور بنانے والا ہے(۱۸)

۱_ خدا اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مقابلہ اور جنگ كرنے والے كفار كا انجام ،رسوائی اور شكست ہے_ذلكم

''ذلكم'' ايك محذوف مبتدا كى خبر ہے اور جنگ بدر ميں مشركين كى ذلت آميز شكست كى طرف اشارہ ہے_يعنى ''الأمر ذلكم'' مطلب يہى ہے كہ جو بيان كيا گيا ہے_

۲_ مؤمنين كى فتح و كامرانى ميں خداوند كے بنيادى كردار اورمقابلے ميں آنے والے كفار كے بُرے انجام كى طرف اہل ايمان كو توجہ كرنے كى ضرورت_ذلكم

''ذلكم'' ميں حرف ''كم'' اہل ايمان كى طرف خطاب ہے، يعنى اے اہل ايمان ، جنگ كرنے والے مشركين كى سرنوشت اور انجام وہى ہے كہ جو بيان كيا گيا ہے_

۳_ خداوند ہميشہ محارب مشركين كے مقابلے ميں اہل ايمان كا پشت پناہ اور مددگار ہے_

يہ اس احتمال كى بناء پر كہ ''ذلكم'' خداوند كى طرف سے جنگ بدر جيسے مواقع كى مانند اہل ايمان كى مدد كى طرف اشارہ ہو_

۴_ كفار كے حيلوں كو كمزور كرنا ہي، سنت الہى ہے_ذلكم و إن الله موهن كيد الكفرين

''إن الله ...'' ايك محذوف مبتدا كى خبر ہے يعنى''و الأمر إن الله ...''

اجتماعى نظم و ضبط:اجتماعى نظم و ضبط كے اسباب ۲

اللہ تعالى :

۴۸۴

اللہ تعالى كے افعال ۲; اللہ تعالى كے سنن ،۳، ۴

ايمان:ايمان كے آثار ۳

تاريخ:تاريخ سے عبرت ۲

جہاد:مشركين سے جہاد ۳

فتح:فتح كا سبب ۲

كفار:كفار كا انجام ۱، ۲; كفار كى رسوائی ۱; كفار كى شكست۱ ;كفار كے مكر و فريب كا كمزور ہونا ۴

محاربين:حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ محاربہ كرنے والے ۱; خداوند كے ساتھ محاربہ كرنے والے ۱

مؤمنين:مؤمنين كا سہار ا، ۳; مؤمنين كى امداد ۳; مؤمنين كى فتح ۲;مؤمنين كى ذمہ دارى ۲

آیت ۱۹

( إِن تَسْتَفْتِحُواْ فَقَدْ جَاءكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُواْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَإِن تَعُودُواْ نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئاً وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ )

اگر تم لوگ فتح چاہتے ہو تو يہ فتح آگئي اور اگر تم جنگ سے باز آجاؤ تو اس ميں تمھارے لئے بھلائی ہے اور اگر دوبارہ ايسا كردگے توہم بھى پلٹ كر آرہے ہيں اور تمھارا گروہ كتنا ہى بڑا كيوں نہ ہو كام آنے والا نہيں ہے اور اللہ ہميشہ صاحبان ايمان كے ساتھ ہے(۱۹)

۱_ خداوند كى جانب سے جنگ بدر ميں موجود كفار كا استہزاء_إن تستفتحوا فقد جائكم الفتح و إن تنتهوا فهو خير لكم

جملہ ''إن تستفتحوا فقد جاء كم الفتح'' جنگ بدر ميں مشركين كى ذلت آميز شكست كے بعد مشركين سے ايك قسم كے استہزاء كو بيان كررہاہے_

۲_ مشركين قريش جنگ بدر سے پہلے بارگاہ خداوند ميں دين حق كے حاميوں كى فتح كيلئے دعا كرنے لگے_

إن تستفتحوا فقد جاء كم الفتح

جملہ ''ان تستفتحوا فقد'' جنگ بدر سے پہلے مشركين كى دعا كى طرف اشارہ ہے چونكہ وہ اپنى حقانيت كے زعم ميں خداوند سے دعا مانگتے تھے كہ ''دين حق'' كے حاميوں كو اس جنگ ميں فتح حاصل ہو_

۴۸۵

۳_ جنگ بدر ميں مؤمنين كى فتح، اہل ايمان كى حقانيت پر ايك حجت اور كفار كيلئے ايك عبرت و تنبيہ تھي_

إن تستفتحوا فقد جاء كم الفتح

''الفتح'' سے مراد جنگ بدر ميں اہل ايمان كى فتح ہے، اورجملہ ''فقد جاء كم الفتح'' مشركين كى اسى تمنا كا جواب ہے كہ جس ميں وہ دين حق كے حاميوں كى فتح و كاميابى كے خواہاں تھے_

۴_ انسانوں كى بھلائی اور صلاح، خدا اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ مخالفت سے پرہيز كرنے ميں ہے_

و إن تنتهوا فهو خير لكم

۵_ اسلامى جنگيں كفار كا شر اور فتنہ دور كرنے كيلئے ہيں نہ كہ ان پر (اسلامي) عقيدہ مسلط كرنے كيلئے_ *

إن تنتهوا فهو خير لكم

۶_ جنگ بدر كے شكست خوردہ كفار كو دوبارہ جنگ كى طرف پلٹنے كى صورت ميں خداوند كى جانب سے ايك دفعہ پھر شكست كا ذائقہ چكھا نے كى دھمكي_و إن تعودوا نعد

۷_ مسلمانوں كو جنگ كا آغاز نہيں كرنا چاہيئے_و إن تعودوا نعد

۸_ كفر و شرك كى قوتيں جتنى بھى زيادہ ہوں ، اہل ايما ن كو شكست دينے كى طاقت نہيں ركھتيں _

و لن تغنى عنكم فئتكم شيئاً و لو كثرت

۹_ كفر و شرك كى قوتوں كى طاقت جتنى بھى زيادہ ہو خداوند كے مقابلے ميں ہيچ اور بے اثر ہے_

و لن تغنى عنكم فئتكم شيئاً و لو كثرت و إن الله مع المؤمنين

۱۰_ افواج اور لشكر كى كثرت، فتح و كامرانى كا باعث نہيں بنتي_و لن تغنى عنكم فئتكم شيئاً و لو كثرت و ان الله مع المؤمنين

۱۱_ كفار كے مقابلے ميں خداوند مؤمنين كا مددگار اورحامى ہے_و لن تغنى عنكم ...و إن الله مع المؤمنين

اللہ تعالى :اللہ تعالى كى امداد۱۱; اللہ تعالى كى دھمكى ۶; اللہ تعالى كى طرف سے استہزاء ۱; اللہ تعالى كى قدرت۹; اللہ تعالى كے ساتھ مبارزہ ترك كرنا ۴; اللہ تعالى كے نواہى ۷

انسان:انسانى مصالح ۴ ايمان:ايمان كے آثار ۸

جنگ:جنگ كا آغاز كرنے سے اجتناب ۷; جنگ ميں طاقت كى كثرت ۱۰

۴۸۶

جہاد:احكام جہاد ۷ ۸; فلسفہ جہاد ۵; كفار سے جہاد ۱،۱

خير (بھلائی ):بھلائی كرنے كے مواقع ۴

دين:حاميان دين كى فتح ۲ /عبرت:عبرت كے عوامل ۳

عقيدہ:عقيدہ مسلط كرنا ۵

غزوہ بدر:غزوہ بدر كا قصہ ۲، ۶; غزوہ بدر كے مجاہدين كى فتح ۳; غزوہ بدر ميں كفار ۱، ۶

فتح:فتح كى دعا ۲; فتح كے علل و اسباب ۱۰

قريش:مشركين قريش كى دعا ۲; مشركين قريش كى شكست ۶

كفار:كفار كا استہزا، ۱; كفار كا عجز ۸، ۹; كفار كو تنبيہ ۳; كفار كو دھمكى ۶; كفار كى سازش كا توڑ ۵; كفار كى قدرت ۹;كفار كى كثرت ۸

مجاہدين:مجاہدين كى امداد ،۱۱

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف مبارزہ ترك كرنا ۴

مسلمان:مسلمانوں كى ذمہ داري۷

مشركين:مشركين اور حق ۲; مشركين كا عجز ۸، ۹; مشركين كى قدرت ۹

مؤمنين:حقانيت مؤمنين ۳; مؤمنين كى امداد،۱۱; مؤمنين كى شكست ناپذيرى ۸

آیت ۲۰

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ) .

ايمان والو اللہ و رسول كى اطاعت كرو اور اس سے روگردانى نہ كرو جب كہ تم سن بھى رہے ہو(۲۰)

۱_ اہل ايمان كا فريضہ ہے كہ وہ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اطاعت كريں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نافرمانى سے پرہيز كريں _

ى أيها الذين ء امنوا أطيعو الله و رسوله و لا تولوا عنه

۲_ خدا اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرامين كى حقيقت ايك ہى ہے، اور خداوند كى پيروي، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پيروى اور اطاعت سے مربوط ہے_اطيعوا الله و رسوله و لا تولوا عنه

چونكہ جملہ ''و لا تولوا عنہ'' (رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے فرامين سے اعراض نہ كرو) پہلے جملے ''أطيعوا الله و رسولہ'' كيلئے تاكيد

۴۸۷

اور توضيح ہے اور اس جملہ ميں فقط پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اعراض كا تذكرہ ہے اس سے دو نكتے حاصل ہوتے ہيں : ايك يہ كہ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرامين كى حقيقت ايك ہى ہے ،دوسرا يہ كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اطاعت د ر حقيقت خداوند ہى كى اطاعت ہے_

۳_ مؤمنين كو (ہر وقت) خداوند اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دستورات سے تخلف كرنے كا خطرہ لاحق ہوتاہے (لہذا وہ) تنبيہ اور ياد دہانى كے محتاج ہيں _ى أيها الذين ء امنوا ...و لا تولوا عنه

۴_ خداوند كى حمايت اور نصرت ہميشہ ان مؤمنين كو حاصل ہوتى ہے كہ جو خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مطيع ہوں اور اس كے احكام و دستورات سے تخلف نہ كريں *و إن الله مع المؤمنين ...أطيعو الله و رسوله و لا تولوا عنه

مذكورہ آيت ہوسكتاہے، گذشتہ آيت ميں موجود كلمہ ''المؤمنين'' كا بيان ہو_

يعنى حمايت كا وعدہ (إن الله مع المؤمنين ) ان مؤمنين سے مخصوص ہے كہ جو خدا اوراس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دستورات كى نافرمانى نہيں كرتے_

۵_ دشمنان دين سے جنگ كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے منہ موڑنے كى حرمت_

أطيعو الله و رسوله و لاتولوا عنه و ا نتم تسمعون

اس لحاظ سے كہ اس سورہ كے اس حصہ كى آيات جنگ اور دشمنان دين كے ساتھ مبارزے سے وابستہ ہيں لہذا جملہ ''أطيعوا'' اور ''و لا تولوا عنہ'' كا مطلوبہ مصداق، دشمنان دين كے ساتھ مبارزے و جنگ كے بارے ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دستورات اور فرامين سے منہ موڑنا ہے_

۶_ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرامين و احكام كو سننے كے بعد ، انھيں نظر انداز كرنا ايك ناپسنديدہ اور عقل و خرد سے بعيد فعل ہے_لا تولوا عنه و ا نتم تسمعون

بعد والى آيت كے قرينے سے ،سننے سے مراد سمجھنا اور اذعان (يقين) كرنا ہے_اور جملہ حاليہ ''و ا نتم تسمعون'' روگر دانى سے پرہيز اور اطاعت كے لزوم پر ايك دليل كے بيان كى حيثيت ركھتاہے، يعنى تم لوگ خود خدا اور پيغمبر اكرم كے فرامين كو سنتے ہو اور ان پر يقين ركھتے ہوپھر كس طرح ان سے منہ موڑ سكتے ہو_

۷_ الہى فرائض سے آگاہي، ان كے مقابلے ميں

۴۸۸

انسان كى مسؤليت كى شرائط ميں سے ہے_و لا تولوا عنه و ا نتم تسمعون

مندرجہ بالا مفہوم ميں جملہ حاليہ''و ا نتم تسمعون'' كو ''أطيعوا'' اور''لا تولوا'' كيلئے قيد كے طور پر لايا گيا ہے_

اجتماعى نظم و ضبط:اجتماعى نظم و ضبط كا طريقہ ۳

اللہ تعالى :اللہ تعالى كى اطاعت۱، ۲، ۴; اللہ تعالى كى نافرمانى ۵، ۶;اللہ تعالى كى نصرت ۴; اللہ تعالى كے اوامر ۲،۳،۶

انسان:انسان كى ذمہ داري۷

تكليف (فريضہ):تعلق تكليف كى كيفيت ۷; تكليف كا علم ۷

جہاد:احكام جہاد ۵; جہاد ترك كرنے كى حرمت ۵; دشمنوں كے ساتھ جہاد ۵

عصيان (نافرماني):عصيان سے اجتناب ۱، ۴; حرام عصيان ۵

علم:علم كے آثار ۷

عمل:جاہلانہ عمل ۶

مؤمنين:مؤمنين كو تنبيہ ۳; مؤمنين كى امداد ۴;مؤمنين كى مسؤليت ۱; مؤمنين ميں لغزش ۳

محرمات: ۵

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عصيان ۵، ۶;محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اطاعت ۱، ۲، ۴; محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اوامر ۲، ۳، ۶

آیت ۲۱

( وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لاَ يَسْمَعُونَ )

اور ان لوگوں حيسے نہ ہوجاؤ جو يہ كہتے ہيں كہ ہم نے سنا حالانكہ وہ كچھ نہيں سن رہے ہيں (۲۱)

۱_ ايمان پر عمل كے بغير، اس كا اظہار كرنے سے خداوند كا نہى كرنا_و لا تكونوا كالذين قالوا سمعنا و هم لا يسمعون

۴۸۹

۲_ اپنے اقرار اور تعہّدات كى پابندى انسان كيلئے ضرورى ہے_و لا تكونوا كالذين قالوا سمعنا و هم لا يسمعون

اقرار:اقرار پر عمل، ۲

اللہ تعالى :اللہ تعالى كے نواہي۱۰

ايمان:ايما ن اور عمل ۱; ايمان كا اظہار ،۱

عہد :عہد وفا كرنا ۲

آیت ۲۲

( إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ )

اللہ كے نزديك بدترين زمين پر چلنے والے وہ بہرے اور گونگے ہيں جو عقل سے كام نہيں ليتے ہيں (۲۲)

۱_ خداوند كے نزديك بدترين چلنے والے وہ (انسان) ہيں كہ جو حق بات نہيں سنتے، حق پر مبنى معارف بيان نہيں كرتے اور دينى حقائق كو سمجھنے سے عاجز ہيں _إن شرالدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون

''الصم'' اور ''البكم'' جيسے كلمات، بالترتيب ''الأصم'' (بہرے) اور ''الأبكم'' (گونگے) كى جمع ہے ''الذين لا يعقلون''، ''إن'' كى تيسرى ''خبر'' ہے_ يہ بھى قابل ذكر ہے كہ اس كا ''الصم'' اور ''البكم'' كيلئے صفت ہونا بھى محتمل ہے_

۲_ جو لوگ دينى حقائق نہيں سنتے وہى بہرے ہيں ، جو

لوگ دينى حقائق كو بيان نہيں كرتے وہى گونگے ہيں اور معارف الہى كو درك نہيں كرتے وہى عقل و خرد سے عارى ہيں _

إن شر الدواب عند الله الصم و البكم الذين لا يعقلون

۳_ حق كوسننا، اسے بيان كرنا اور معارف دين كو درك كرنا ہى بارگاہ الہى ميں انسانى قدر وو منزلت كا معيار سمجھے جاتے ہيں _إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون

كلمہ ''دواب'' كا معنى چلنے والے جانور ہے اور

۴۹۰

اس كا اشارہ ان افراد كى طرف ہے كہ جو حيوانات كى مانند ہيں اوروہ اس قابل بھى نہيں كہ ان كو انسان كہا جائیے_

۴_ جو لوگ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اطاعت نہيں كرتے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرامين سے گريز و اعراض كرتے ہيں اور اس كے ساتھ ساتھ ايمان كا دعوى بھى كرتے ہيں تو وہى لوگ بدترين حيوان ہيں _

يأيها الذين ء امنوا أطيعوا الله ...إن شر الدواب عند الله الصم البكم

۵_ جو انسان دينى حقائق كو قبول نہيں كرتے وہ انسانى قدر و منزلت بھى نہيں ركھتے_

إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون

۶_عن علي عليه‌السلام فى قوله: ''إن شر الدواب عند الله '' قال هم الكفار (۱)

امام عليعليه‌السلام سے منقول ہے كہ آيہ مجيدہ''شر الدواب عند ...'' ميں ''شر الدواب'' (بدترين چلنے والے) سے مراد كفار ہيں _

ارزش:ارزش كا معيار ۳

اللہ تعالى :اللہ تعالى كى نافرماني۴

انسان:بدترين انسان ; كرامت انسان ۳

انسانيت:ارزش انسانيت سے عارى لوگ ۵

ايمان:مدعيان ايمان ۴

تبليغ:تبليغ (دين) سے اعراض كرنے والوں كا گونگاپن ۲

حق:ادراك حق سے عارى لوگ ۱; كتمان حق ۱

حق كو رد كرنے والے:حق كو رد كرنے والوں كا بہراپن ۲; حق كو رد كرنے والوں كى قدر و منزلت نہ ہونا ۵

حق كو قبول كرنا:حق قبول كرنے كى قدر و منزلت ۳

حق كو قبول نہ كرنا:حق كو قبول نہ كرنے كے آثار ۱

دين:تبليغ دين ۳; تبليغ دين سے اعراض ۲; تعليمات دين كا ادراك۲، ۳

____________________

۱) الدرالمنثور ج/۴ ص ۴۳_

۴۹۱

زمين پر چلنے والے حيوا ن:زمين پر چلنے والے بدترين حيوانات ۱، ۴

عقل:عقل سے خالى افراد ۲

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نافرمانى ۴

آیت ۲۳

( وَلَوْ عَلِمَ اللّهُ فِيهِمْ خَيْراً لَّأسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعْرِضُونَ )

اور اگر خدا ان ميں كسى خير كو ديكھتا تو انھيں ضرور سناتا اور اگر سنا بھى ديتا تو يہ منھ پھر ليتے اور اعراض سے كام ليتے (۲۳)

۱_ استعداد اور لياقت ركھنے والے انسانوں كو دينى معارف سمجھانا، سنت خدا ہے_و لو علم الله فيهم خيراً لأسمعهم

۲_ كفار اور منافقين كا حق (بات) نہ سننا، ان ميں معارف الہى كو قبول كرنے كى استعداد نہ ہونے كى علامت ہے_

و لو علم الله فيهم خيراً لأسمعهم

گذشتہ آيت كے قرينے سے ''خير'' سے مراد معارف الہى كو قبول كرنے كى استعداد ہے_

۳_ ہر با استعداد موجود سے فيض الہى كا دريغ نہ كيا جانا، سنت الہى ہے_و لو علم الله فيهم خيراً لاسمعهم

۴_ كمال اور خير كى استعداد ركھنے والے لوگ، خداوند كى خاص ہدايت اور معارف دين كو قبول كرنے كى توفيق كے حامل ہوتے ہيں _و لو علم الله فيهم خيراً لاسمعهم

چونكہ خداوند نے دينى معارف تمام انسانوں كيلئے بيان كيئے ہيں اور سب كے كانوں تك يہ پيغام پہنچاياہے اس سے معلوم ہوتاہے كہ اس آيت ميں ''اسماع'' سے مراد خداوند كى خاص ہدايت و توفيق ہے كہ جو فقط خاص استعداد اور لياقت ركھنے كو شامل ہے_

۵_ كمال اور بھلائی كى لياقت و استعداد سے محروم لوگ، اس قابل نہيں كہ خداوند كى خصوصى ہدايت اور معارف دين كو قبول كرنے كى توفيق كے حامل بن سكيں _و لو علم الله فيهم خيراً الأسمعهم

۶_ كمال اور بھلائی كى استعداد سے محروم لوگ اگر چہ خداوند كى خصوصى ہدايت كے مشمول ہوتے ہيں (ليكن وہ خود) اس سے روگردانى اور دورى اختيار كرتے ہيں _و لو أسمعهم لتولوا و هم معرضون

۴۹۲

''أسمعهم'' كى مفعولى ضمير سے مراد وہى لوگ ہيں كہ جن كى توصيف جملہ ''و لو علم ...'' سے كى گئي ہے_ بنابراينجمله''و لو اسمعهم ...'' كا معنى يوں ہوتاہے ''و لو أسمع الذين ليس فيہ خيراً'' يعنى اگر خداوند اپنى خاص ہدايت ان لوگوں كے شامل حال كرے كہ جن ميں بھلائی و خير نہيں ''

۷_ خداوند كى طرف سے انسانوں كو ان كى استعداد اور لياقت كے مطابق فيض پہنچايا جاتاہے_

و لو علم الله فيهم خيراً لأسمعهم و لو أسمعهم لتولوا و هم معرضون

خداوند نے اس آيت ميں اپنى ہدايت اور توفيق كو انسانوں كى لياقت و استعداد پر مبتنى كيا ہے لہذا طبعى بات ہے كہ اس (ہدايت و توفيق) كى مقدار بھى لياقت و استعداد سے وابستہ ہے_

۸_ استعدادا ور تاثير كا زمينہ ہموار نہ ہونے كى صورت ميں ہدايت و ارشاد كا ضرورى نہ ہونا_و لو علم الله فيهم خيراً لاسمعهم جيسا كہ خداوند متعال، خير و بھلائی سے محروم افراد كو اپنى خصوصى ہدايت سے نہيں نوازتا ہم اس سے يہ نتيجہ اخذ كرسكتے ہيں كہ مكلفين پر بھى تأثير و استعداد كا زمينہ نہ ہونے كى صورت ميں ارشاد و ہدايت كرنا ضرورى نہيں _

استعداد:استعداد سے محروم افراد كا حق كو قبول نہ كرنا ۶; استعداد كے آثار ۷; استعدا د كے حامل افراد ۴; استعداد كے مراتب ۷;كمال سے محروم افراد۵

اللہ تعالى :اللہ تعالى كا فيض ۲; اللہ تعالى كى خاص ہدايت ۴،۵،۶; اللہ تعالى كى سنن ۳; اللہ تعالى كے فيض كا نظام ۷

انسان:مستعد انسان ۱

بے استعدادي:بے استعدادى كى نشانياں ۲

توفيق:توفيق سے بہرہ مند ہونا ۴; توفيق سے محروميت ۵

حق كو قبول نہ كرنے والے لوگ: ۶

خير (بھلائی ):خير و بھلائی سے محروم لوگ ۵_۶

دين:دين كا قبول كرنا ۱، ۲، ۴، ۵; دينى تعليم ۱

كفار:كفار كا حق (بات) نہ سننا ۲/منافقين:منافقين كا حق پر كان نہ دھرنا ۲

ہدايت:زمينہ ہدايت ۸;شرائط ہدايت ۸; ہدايت سے محروميت ۵

۴۹۳

آیت ۲۴

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ )

اے ايمان والو اللہ و رسول كى آواز پر ليك كہو جب وہ تمھيں اس امر كى طرف دعوت ديں جس ميں تمھارى زندگى ہے اور ياد ركھو كہ خدا انسان اور اس كے دل كے درميان حائل ہوجاتا ہے اور تم سب اسى كى طرف حاضر كئے جاؤ گے(۲۴)

۱_ اہل ايمان كا فريضہ ہے كہ وہ خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت كو قبول كريں _

ىا أيَّها الذين ء امنوا استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم

۲_ خدا اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تعليمات و فرامين اور دين خدا انسان كى حقيقى حيات كا باعث ہيں _

يأيها الذين ء امنوا استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم لما يحييكم

''لما يحييكم'' ميں ''ما'' سے خداوند اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تمام تعليمات و فرامين اور دينى معارف مراد ہيں _

۳_ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تعليمات سے روگردان انسان، حقيقى انسانى حيات سے محروم ہوتے ہيں _

يأيها الذين ء امنوا استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم لمايحييكم

۴_ حقيقى ايمان كا لازمہ ہے كہ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت كو قبول كيا جائیے_يأيها الذين ء امنوا استجيبوا لله و للرسول

مسلمانوں كو صفت ايمان كے ساتھ مخاطب كرنا اور پھر خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرامين پر لبيك كہنے كے حكم سے مندرجہ بالا مفہوم اخذ ہوتاہے_

۵_ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعض دستورات اور فرامين، ايمانى معاشرے كيلئے زندگى بخش اور بنيادى حيثيت كے دستورات ہيں _*إذا دعاكم لما يحييكم

اگر جملہ شرطيہ ''إذا دعاكم ...'' مفہوم ركھتا ہو تو يہ جملہ اپنے منطوق اور مفہوم كے ہمراہ دو قسم كے دستور بيان كررہاہے، ايك پورے ايمانى معاشرے كيلئے بنيادي، اساسى اور حيات بخش دستورات مثلاً، حكومتى مسائل ولايت و غيرہ دوم وہ دستورات اور احكام كہ جو انفرادى حيثيت ركھتے ہيں اور معاشرے كى كلى حيثيت ان سے مربوط نہيں _

۶_ حقيقى زندگى كى طرف انسانوں كى ہدايت كرنے كيلئے خدا اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت، ايك ہى حقيقت كى حامل

۴۹۴

ہے_ىا أيها الذين ء امنوا استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم لما يحييكم

۷_ حق سے روگردان كفار كے خلاف مبارزہ اور جہاد، حقيقى ايمانى معاشرے كى حيات كا باعث ہے_

يأيها الذين ء امنوا استجيبوا لله و للرسول

مذكورہ آيت كا جنگ اور مبارزے كے سياق ميں واقع ہونا ظاہر كرتاہے كہ ''ما يحييكم'' كيلئے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك اہل، ايمان كو دشمنان دين كے خلاف جنگ كى دعوت دينا ہے_

۸_ خداوند، انسان اور اسكے قلب كے درميان حائل ہوجاتاہے_و اعلموا أن الله يحول بين المرء و قلبه

۹_ خداوند، انسان كے دل سے زيادہ اس كے قريب ہے_و اعلموا إن الله يحول بين المرء و قلبه

۱۰_ خداوند، خود انسان سے زيادہ، اسكے دل كے قريب ہے_و اعلموا أن الله يحول بين المرء و قلبه

انسان اور اس كے دل كے درميان خداوند كے حائل ہونے كا ايك لازمہ وہى ہے كہ جو مندرجہ بالا مفہوم ميں بيان ہوا ہے_

۱۱_ انسانى قلب (يعنى اسكے افكار) خداوند كے اختيار ميں ہے_و اعلموا ان الله يحول بين المرء و قلبه

چونكہ خداوند انسان اورا سكے قلب كے درميان حائل ہے، پس حقيقت يہ ہے كہ جو بھى فكر و انديشہ انسانى قلب ميں وارد ہوگا اسے خداوندہى كے ذريعے وارد ہونا ہے، اس كا مطلب يہ ہے كہ انسان كے افكار و خيالات خداوند كے اختيار ميں ہيں _

۱۲_ خداوند، انسان كے تمام افكار اور خيالات سے آگاہ ہے_و اعلموا ان الله يحول بين المرء و قلبه

۱۳_ تمام افكار اور خيالات پر علم خداوند كے محيط ہونے كى طرف توجہ، خدا اور اسكے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت كو قبول كرنے اور نفاق سے بچنے كا راستہ ہموار كرتى ہے_لا تكونوا كالذين قالوا سمعنا و هم لا يسمعون ...و اعلموا ان الله يحول

۱۴_ تمام انسان، چاہيں يا نہ چاہيں وہ فقط خداوند كى طرف محشور ہونگے_و أنه إليه تحشرون

''تحشرون'' پر ''إليہ'' كا مقدم ہونا حصر پر دلالت كرتاہے، اور فعل ''تحشرون'' كا مجھول آنا، اس بات كى حكايت كررہاہے كہ خداوند كى طرف محشور ہونے ميں انسان كا كوئي اختيار نہيں ہے (وہ چاہے يا نہ چاہے اسے خداوند ہى كى طرف جاناہے)

۴۹۵

۱۵_ بارگاہ الہى ميں انسانوں كے زبردستي، حشر كى جانب ان كى توجہ سے، خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت قبول كرنے اور اس كى جانب انسانوں كے رجحان كا زمينہ ہموار ہوتاہے_يأيها الذين ء امنوا استجيبوا ...و أنه إليه تحشرون

''استجيبوا ...'' كے بعد خداوند كى جانب، انسانوں كے حشر كو بيان كرنے كا مقصد، خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت قبول كرنے كيلئے راستہ ہموار كرناہے_

۱۶_عن أبى عبدالله عليه‌السلام فى قول الله تبارك و تعالى : ''و اعلموا ان الله يحول بين المرء و قلبه'' فقال: يحول بينه و بين أن يعلم أن الباطل حق (۱)

حضرت امام صادقعليه‌السلام سے آيہ مجيدہ ''و اعلموا أن الله يحول بين المرء و قلبہ'' كے بارے ميں منقول ہے كہ خداوند انسان اور اس كے قلب كے درميان حائل ہوجاتاہے تا كہ وہ باطل كو حق نہ سمجھنے لگے_

۱۷_عن أبى عبدالله عليه‌السلام فى قوله: ''يحول بين المرء و قلبه'' قال: هو ان يشتهى الشيء بسمعه و بصره و لسانه و يده اما ان هو غشى شيئا مما يشتهى فإنه لا ياتيه إلا و قلبه منكر لا يقبل الذى ياتى يعرف أن الحق ليس فيه (۲)

حضرت امام صادقعليه‌السلام سے اس قول خدا''يحول بين المرء و قلبه'' كے بارے ميں منقول ہے كہ اس سے مراد يہ ہے كہ انسان اپنے كان، آنكھ، زبان اور رہاتھ كے ذريعے (كسى ناروا عمل كو انجام دينے كي) خواہش كرتاہے، اگر وہ اس خواہش كے مطابق عمل انجام دے تو اس كا دل اس كے ہمراہ نہيں ہوتا اور اس عمل كو پسند نہيں كرتا اور جانتاہے كہ اس كام ميں حق (بھلائی ) نہيں _

احكام:اجتماعى احكام: ۵

اللہ تعالى :

____________________

۱) محاسن برقى ج/۱ ص ۲۳۷، ح/۲۰۵ ب ۲۳; بحار الانوار، ج۵ ، ص۲۰۵، ح۴۱_

۲) تفسير عياشى ج/۲ ص ۵۲، نورالثقلين ج/۲ ص ۱۴۲ ح/۵۵_

۴۹۶

اللہ تعالى كا علم ۱۲،۱۳; اللہ تعالى كا قرب ۸،۹،۱۰; اللہ تعالى كى دعوت ۵،۶; اللہ تعالى كى دعوت كو قبول كرنا ۱،۴،۱۳،۱۵; اللہ تعالى كے اختيارات ۱۱; اللہ تعالى كے اوامر۲; اللہ تعالى كے اوامر سے اعراض۳

انبياء:دعوت انبياء ۶; دعوت انبياء كو قبول كرنا ۴

انسان:انسان كا انجام ۱۴; انسان كا قہراً محشور ہونا ۱۴، ۱۵;

انسان كى حقيقى حيات ۲; انسان كے افكار ۱۱، ۱۲، ۱۳;قلب انسان ۸، ۹، ۱۰، ۱۱

ايمان:ايمان كے آثار ۴

تكليف(فريضہ):تكليف (فرائض) پر عمل كا زمينہ ۱۳

جہاد:جہاد كے آثار ۷; كفار سے جہاد ۷

حق:حق كى قبوليت كا زمينہ ۱۳، ۱۵

حيات:حقيقى حيات سے محروميت ۳;حقيقى حيات كي

جانب ہدايت ۶; حقيقى حيات كے علل و اسباب ۵، ۷; مراتب حيات ۳، ۷

دين:تعليمات دين ۲; تعليمات دين سے اعراض ۳;فلسفہ دين ۲

علم:علم كے آثار ۱۳، ۱۵

كفار:حق ناپذير كفار ۷

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :اوامر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۲;اوامر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اعراض ۳; دعوت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۵، ۶; دعوت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قبول كرنا ۱، ۴، ۱۳، ۱۵

معاشرہ :دينى معاشرہ ۷

مؤمنين:مؤمنين كى ذمہ دارى ۱

نفاق:نفاق سے اجتناب ۱۳

۴۹۷

آیت ۲۵

( وَاتَّقُواْ فِتْنَةً لاَّ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمْ خَآصَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ )

اور اس فتنہ سے بچو جو صرف ظالمين كو پہنچنے والا نہيں ہے اور ياد ركھو كہ اللہ سخت ترين عذاب كا مالك ہے(۲۵)

۱_ بعض گناہوں اور مظالم كے برے اثرات فقط گناہگار اور ظالم پر مرتب ہوتے ہيں اور بعض دوسرے گناہ اور مظالم گناہ گار اور بے گناہ سب كواپنى لپيٹ ميں لے ليتے ہيں _و اتقوا فتنة لا تصيبنّ

۲_ ايمانى معاشرے ميں كيئےئے بعض گناہ اور مظالم، سب لوگوں (گناہ كے مرتكب اور غير مرتكب يعنى ظالم و غير ظالم) كے عذاب الہى ميں مبتلا ہونے كا باعث بنتے ہيں _و اتقوا فتنة لا تصيبنّ الذين ظلموا منكم خاصة

''لا تصيبنّ'' ميں ''لا'' نافيہ اور''خاصةً''، ''الذين'' كيلئے حال ہے اور فتنہ كيلئے جملہ''لا تصيبنّ الذين ...توضيح اور تبيين ہے_

''اتقاء فتنة'' سے مراد اس كے عامل سے پرہيز ہے كہ جو ''ظلموا'' كے قرينے سے ''ظلم و ستم'' ہے، بنابرايں آيت كا معنى يہ ہوگا، اے اہل ايمان ان گناہوں سے پرہيز كرو جو ايك عظيم فتنے كا موجب بنتے ہيں ، يہ وہ فتنہ ہے كہ جو نہ صرف گناہگار كے دامن گير ہوتاہے بلكہ جن كے شعلے تمام لوگوں كو اپنى لپيٹ ميں لے ليتے ہيں _

۳_ اہل ايمان كا فريضہ ہے كہ وہ ہر اس فتنے كا مقابلہ كريں كہ جس كے شعلے پورے معاشرے كو اپنى لپيٹ ميں لے ليتے ہيں _و اتقوا فتنة لا تصيبنّ الذين

جيسا كہ گذر چكاہے، مذكورہ بحث ميں فتنے كا سبب و عامل گناہ اور ظلم ہے، اور ''ظلموا منكم'' كے مطابق اس گناہ و ظلم كے مرتكب، معاشرے كے بعض لوگ ہيں بنابراين مخاطبين كى نسبت، اتقاء كا امر (اتقوا فتنةً ) مختلف ہوگا، يعنى گناہگاروں اور ظالموں كو گناہ و ظلم سے پرہيز كرنے كا امر ہے اور جو لوگ گناہ و ظلم كا ارتكاب نہيں كرتے، انھيں اس كے ارتكاب كو روكنے كا امر ہے_

۴۹۸

۴_ مؤمنين كا فريضہ ہے كہ وہ ان گناہوں سے بچنے ميں زيادہ سے زيادہ كوشش كريں كہ جن كے بُرے اثرات پورے ايمانى معاشرے پر مرتب ہوتے ہيں _واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة

يہ واضح ہے كہ انسان كوكسى بھى قسم كا گناہ نہيں كرنا چاہيئے، لہذا ان گناہوں كے ارتكاب سے نہى كہ جن كا فتنہ عظيم اور عمومى ہے اس بات كى حكايت كرتاہے كہ يہاں ايسے گناہوں سے بچنے كى بہت زيادہ تأكيد كى جارہى ہے_

۵_ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زندگى بخش اور بنيادى دستورات و احكام سے خلاف ورزي، سب كو اپنى لپيٹ ميں لينے والے فتنوں اور پورے دينى معاشرے پر نازل ہونے والے شديد عذاب كا باعث بنتاہے_

إذا دعاكم لما يحييكم ...و اتقوا فتنة لا تصيبنّ الذين ظلموا منكم خاصة

گذشتہ آيت كے قرينے سے ظلم و ستم (ظلموا) كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك، خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حيات بخش اور اساسى دستورات و احكام كى خلاف ورزى كرنا ہے_

۶_ عذاب الہى كى شدت كى جانب توجہ، گناہوں اور مظالم سے بچنے كا مقدمہ بنتى ہے_و اتقوا فتنة ...و اعلموا أن الله شديد العقاب

۷_ خداوند كى عقوبتيں اور عذاب، شديد اور سہمگين ہيں _أن الله شديد العقاب

اجتماعى كنٹرول: ۳، ۵اجتماعى كنٹرول كے اسباب ۶

اسماء و صفات:شديد العقاب ۷

اللہ تعالى :اللہ تعالى كا عذاب۶،۷; اللہ تعالى كى نافرماني۵

انبياء:انبياء كى نافرمانى ۵;اوامر انبياء ۵

بے گناہ لوگ:بے گناہوں كا عذاب ميں مبتلا ہونا ۲

ظلم:اجتماعى ظلم كے آثار، ۱، ۲; انفرادى ظلم كے آثار،۱ ; ظلم سے اجتناب كا زمينہ ۶

عذاب:نزول عذاب كے اسباب ۲، ۵

علم:علم كے آثار ۶

فساد:اجتماعى فساد كے آثار ۳; اجتماعى فساد كے خلاف

۴۹۹

مبارزہ ۳ ;فساد پيدا ہونے كے اسباب ۵

گناہ:اجتماعى گناہ كے آثار ۱، ۲، ۴; انفرادى گناہ كے آثار ،۱; گناہ سے اجتناب ۴; گناہ سے اجتناب كا زمينہ ۶ ;مراتب گناہ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اوامر ۵; محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نافرمانى كرنا ۵

معاشرہ:دينى معاشرہ ۲، ۳، ۴، دينى معاشرے كى ابتلاء ،۵

مؤمنين:مؤمنين كى ذمہ داري

آیت ۲۶

( وَاذْكُرُواْ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ )

مسلمانو اس وقت كو ياد كرو جب تم مكہ ميں قليل تعداد ميں اور كمزور تھے _ تم ہر آن ڈرتے تھے كہ لوگ تمھيں اچك لے جائیں گے كہ خدا نے تمھيں پناہ دى اور اپنى مدد سے تمھارى تائی د كى _ تمھيں پاكيزہ روزى عطا كى تا كہ تم اس كا شر يہ ادا كرو(۲۶)

۱_ مسلمان مدينہ كى جانب ہجرت كرنے سے پہلے، عسكرى قوت كى كمى اور افرادى قلت كى وجہ سے ناتوان حالت ميں دشمنوں كے تسلط ميں تھے_و اذكروا إذ أنتم قليل مستضعفون فى الارض

كلمہ ''قليل'' كو ''قليلون'' كى جگہ بطور مفرد لانا، اہل ايمان كى قوت ميں كمى اور افراد كى قلت پر ايك قسم كى تاكيد ہے، يہ بھى قابل ذكر ہے كہ مفسرين نے مذكورہ آيت كو مكہ ميں مسلمانوں كى حالت اور موقعيت اور مدينہ كى طرف ان كى مہاجرت كے بارے ميں ايك مؤازنہ قرار ديا ہے_

۲_ مسلمان، مدينہ كى طرف ہجرت سے پہلے ہميشہ دشمنوں كے ہاتھوں گرفتار ہونے اور ان كے ذريعہ ہلاك ہونے سے ہراساں رہتے تھے_تخافون أن يتخطفكم الناس

''تخطف'' كا مطلب سرعت كے ساتھ پكڑنا ہے، اور آيت ميں ہوسكتاہے نابودى اور غلبے كے بارے ميں كنايہ ہو، فعل مضارع ''تخافون'' اس حالت كے استمرار كو بيان كررہاہے_

۳_ كفار قريش كا ظلم و ستم اور زور ازورى جيسى نفسيات كا

۵۰۰