الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)19%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209973 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

لیکن اللہ نے ان کی کوششوں کوناکام بنادیا(۱) یوں وہ اپنے مکر وفریب کے جال میں خود پھنس کررہ گئے کیونکہ حق صبح کی طرح روشن اور شرافت ونجابت وپاکیزگی اور عصمت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سورج کی طرح تابناک ہے_

___________________

۱_ قابل ذکر ہے کہ سلمان رشدی نے بھی استعماری طاقتوں کی پشت پناہی اور سازش کے سائے میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق میں تاریخی بے ادبی کرتے ہوئے شیطانی آیات نامی کتاب لکھی_ اس کتاب میں ان بے بنیاد روایات اور افسانوں سے بھی مدد لی گئی ، تمام باطل قوتیں حق کو مسخ کرنے کیلئے متحد ہوئیں لیکن علیعليه‌السلام کے لال روح اللہ خمینی بت شکن کے ایک جملے نے عصر حاضر کے شیاطین کے مکر و فریب کو خاک میں ملا دیا _( مترجم)

۱۰۱

تیسری فصل

شعب ا بوطالب تک کے حالات

۱۰۲

حضرت حمزہعليه‌السلام کے قبول اسلام کی تاریخ میں اختلاف

کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے بعثت کے دوسرے سال اسلام قبول کیا، کبھی یہ کہتے ہیں کہ ارقم کے گھر میں حضوراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تشریف فرما ہونے کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ دونوں باتیں آپس میں منافات رکھتی ہیں کیونکہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعثت کے تیسرے سال کے اواخر میں ارقم کے گھر تشریف لے گئے تھے_ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ عمر سے تین روز قبل مسلمان ہوئے جبکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر سے نکلے_ اور اس میں بھی واضح تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعثت کے تیسرے سال کے اواخر میں صرف ایک ماہ کیلئے حضرت ارقم کے گھر میں رہے (جیساکہ کہا گیا ہے ...اور آئندہ اس کا بھی ذکرہوگاکہ حضرت عمر حضرت حمزہ کے اسلام لانے کے کئی سال بعد اسلام لائے)_

حضرت حمزہ کا قبول اسلام

ابن ہشام اور دوسروں نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ہجرت حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا یعنی بعثت کے تقریبا چھٹے سال_ ہم بھی اسی قول کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تو (جیساکہ مقدسی کہتا ہے) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور مسلمانوں کو تقویت حاصل ہوئی_ یہ بات مشرکین پر گراں گزری چنانچہ انہوں نے عداوت اوردوری اختیار کرنے کے بجائے دوسری راہ اختیار کی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مال و انعام کی لالچ دینے لگے_

۱۰۳

انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حسین لڑکیوں سے شادیوں کی بھی پیشکش کی_(۱) یہ پیشکش ہجرت حبشہ کے بعد کی بات ہے جیساکہ سیرت ابن ہشام سے ظاہر ہے _نیز حضرت حمزہ اعلانیہ دعوت شروع ہونے کے بعد مسلمان ہوئے جب حضرت ابوطالب اور قریش کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد قریش نے دشمنی اور ایذا رسانی کا راستہ اپنایا_

بہرحال حضرت حمزہ کا قبول اسلام ایک سنگ میل کی صورت اختیار کرگیا جس کے بارے میں قریش نے سوچا بھی نہ تھا _اس واقعے سے حالات کی کایا پلٹ گئی اور قریش کی قوت پرکاری ضرب لگی_ ان کے خطرات میں اضافہ ہوا اوران کی سرکشی ومنہ زوری کو لگام لگ گئی(۲) _

ایک دفعہ ابوجہل کوہ صفا کے پاس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے نزدیک سے گزرا ،اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت دی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا کہا ، نیز اسلام کی عیب جوئی اور امر رسالت کی برائی کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کی_ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے کوئی بات نہیں کی_

حضرت حمزہعليه‌السلام شکاری تھے شکار سے لوٹتے تو پہلے خانہ کعبہ جاکر طواف کیا کرتے اور وہاں موجود افراد سے سلام وکلام کرتے اور پھر گھر لوٹتے تھے_ اس دفعہ حضرت حمزہعليه‌السلام شکار سے لوٹے ہی تھے کہ ایک عورت نے ابوجہل کی طرف سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے ادبی کے بارے میں انہیں بتایا_ حضرت حمزہ غضبناک ہوکر سیدھے مسجد الحرام آئے تو انہوں نے ابوجہل کو لوگوں کے ساتھ بیٹھے پایا _وہ اس کی طرف بڑھے ، جب قریب پہنچے تو اپنی کمان اٹھائی اور زور سے اس کے سر پردے ماری جس سے ابوجہل کا سر پھٹ گیا _پھر انہوں نے کہا اے ابوجہل کیاتم اس شخص کی ملامت کرتے ہو؟ لو میں اس کے دین پرہوں اور وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے، اگر تم میں طاقت ہے تو آؤ میرا مقابلہ کرو_ان باتوں سے قبل ابوجہل نے ان کے سامنے عاجزی دکھائی اور گڑ گڑانے لگا لیکن انہوں نے قبول نہ کیا _بنی مخزوم کے افراد ابوجہل کی حمایت کیلئے کھڑے ہوگئے اور حضرت حمزہ سے کہا:'' ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے'' _حضرت حمزہ نے کہا: '' کیوں

___________________

۱_ البدء و التاریخ ج۴ص ۱۴۸_۱۴۹ اور یہی بات سیرت ابن ہشام سے بھی ظاہر ہے جس نے حضرت حمزہ کے قبول اسلام کا ذکر کرنے کے بعد ان امور کا بھی تذکرہ کیا ہے_

۲_ ملاحظہ ہو : کنز العمال ج ۱۴ ص ۴۸ ابن عساکر اور بیہقی کی الدلائل النبوة سے_

۱۰۴

نہ بدلوں میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں_اور ان کا قول حق ہے_ خدا کی قسم میں اس دین سے بازنہیں آؤں گا اگر تم سچے ہوتو مجھے روک کر دیکھو''_

ابوجہل نے کہا: '' ابوعمارہ (حمزہ) کومت چھیڑو کیونکہ واقعاً میں نے اس کے بھتیجے کو ناروا گالی دی تھی''_ مقدسی کہتا ہے کہ جب حضرت حمزہ مسلمان ہوئے تو اس سے اسلام اور مسلمانوں کی حیثیت مضبوط ہوئی(۱) اور نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہایت خوشی ہوئی_

قریش نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قوت پکڑ گئے ہیں، بنابریں آپ کو گالی گلوچ دینے سے باز آگئے_ حضرت حمزہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے عرض کیا: '' بھتیجے اپنے دین کا کھلم کھلا پرچار کرو، خدا کی قسم مجھے یہ منظور نہیں کہ میں اپنے سابقہ دین پر باقی رہوں خواہ مجھے پوری دنیا ہی کیوں نہ مل جائے''(۲) _ حضرت حمزہ کو قریش کے تمام جوانوں پر برتری حاصل تھی اور وہ سب سے زیادہ غیور تھے_(۳)

حمزہ کا قبول اسلام جذباتی فیصلہ نہ تھا

بظاہربلکہ حقیقت میں بھی انہوں نے اسلام کو معرفت کے ساتھ قبول کیا تھا _کیونکہ آپ کے مذکورہ قول (کہ میرے لئے واضح ہوگیا ہے کہ وہ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور ان کا قول حق ہے) سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے فقط جذبات سے مغلوب ہوکر اسلام قبول نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے اقوال وکردار کے قریبی مشاہدے کی بنا پر پہلے سے ہی اطمینان حاصل کرلیا تھا_

ان کا یہ کہنا کہ کیا تم اس کو برا بھلا کہتے ہو جبکہ میں بھی اس کے دین پر ہوں اس بات کا واضح طور پرشاہد ہے کہ وہ پہلے سے ہی اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن حالات کے پیش نظراسے پوشیدہ رکھ رہے تھے تاکہ یوں وہ مسلمانوں اوراسلام کی بہتر حمایت کرسکیں ،کیونکہ مسلمان قریش کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور

___________________

۱_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۹۸_

۲_ ملاحظہ ہو : تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۷۲و ص ۷۳اور السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۱۲_

۳_ ملاحظہ ہو : تاریخ الامم و الملوک ج ۲ ص ۷۲_

۱۰۵

کتنے ہی لوگ ایسے تھے جنہیں مزید روحانی تربیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ مشرکین کے مقابلے میں ان مشکل حالات سے عہدہ بر آہوسکتے_

ابوجہل نے بزدلی کیوں دکھائی؟

یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ مشرکین کاسرغنہ ابوجہل اس دن اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ موجود تھا اور انہوں نے اس کی حمایت کیلئے آمادگی بھی ظاہرکی تھی لیکن اس کے باوجود ابوجہل نے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے شیر کا سامنا کرنے میں عاجزی اوربزدلی دکھائی_ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت حمزہ کی مردانگی، قوت، غیرت اور شجاعت سے آگاہ تھا_وہ حضرت حمزہ کے عزم وارادے اور عقیدے کی راہ میں جذبہ قربانی کا مشاہدہ کررہا تھا_

دوسری طرف سے اسے تو فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے دشمنی تھی اوراس کی وجہ حب دنیا اور اپنے مفادات کی حفاظت تھی اور وہ موت کا طلبکار نہ تھا ،بلکہ موت سے بچنا چاہتا تھا _وہ موت کو اپنے لئے سب سے بڑا خسارہ سمجھتا تھا لیکن حضرت حمزہ دین کی راہ میں موت کو کامیابی گردانتے تھے ،پس ان کیلئے کوئی وجہ نہ تھی کہ موت سے ڈرتے یا اسے شہد کی طرح شیرین نہ سمجھتے_

تیسری وجہ یہ تھی کہ ابوجہل، بنی ہاشم کامقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ بنی ھاشم کے درمیان اس کے بہت سے حامی موجود تھے_ اگر وہ ان کے ساتھ لڑتا توخاندان اور قبائلی تعصب کے نتیجے میں ان لوگوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا جو اس کے ہم خیال اور ہم عقیدہ تھے_ بنی ہاشم قبائلی طرزفکر کی بنا پر حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑسکتے تھے اگرچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے دین پر نہ تھے، عربوں کی سماجی ومعاشرتی پالیسیاں بھی اسی طرزفکر کی تابع ہوتی تھیں _چنانچہ ابولہب کے علاوہ باقی بنی ہاشم نے حضرت ابوطالب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور حفاظت کریں گے_بلکہ ان حالات میں اگر ابوجہل حضرت حمزہ کے خلاف کوئی اقدام کرتا تو اس سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - کو تقویت ملتی اور

۱۰۶

بہت سے بنی ہاشم، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے یا قومی جذبہ کے تحت دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے اور یہ بات ابوجہل کو کسی صورت گوارا نہ تھی_

ان تمام حالات اور نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے اللہ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر (حمزہ) کے مقابلے میں ذلت آمیز خاموشی میں ہی عافیت جانی_

خلاصہ یہ کہ دنیوی زندگی سے ابوجہل کی محبت یا اس کی بزدلی وغیرہ (جس کے باعث وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بنی ہاشم کی مخالفت کو مضر سمجھتا تھا) کے نتیجے میں اس نے ذلت وپستی پر مبنی موقف اپنایا _یوں اللہ نے باطل کا سرنیچاکیا اور حق کا سر اونچا_

عَبَسَ وَ تَوَلّی ؟

مورخین نے فسانہ غرانیق کے بعد ایک اور واقعے کا تذکرہ کیا ہے جس کے بارے میں '' عبس وتولی'' والی سورت نازل ہوئی یہ سورت، سورہ نجم کے بعد نازل ہوئی ہے_

اس قصے کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قریش کے بعض رؤساکے ساتھ مصروف گفتگوتھے _یہ لوگ صاحبان مال وجاہ تھے_ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم آیا وہ نابینا تھا اس نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قرآن کی آیت سننی چاہی اورعرض کیا: '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مجھے وہ چیزیں سکھایئےواللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سکھائی ہیں ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس سے بے رخی کی اور ترشروئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے رخ موڑ لیا _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی بات کو نا پسند کرتے ہوئے ان رؤسا کی طرف متوجہ ہوئے جن کو مسلمان بنانے کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شوق تھا _اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں:( عبس وتولی ان جائه الاعمی_ و ما یدریک لعله یزکی_ او یذکر فتنفعه الذکری_ اما من استغنی_ فانت له تصدی و اما من جائک یسعی_ و هو یخشی_ فانت عنه تلهی _) (سورہ عبس، آیت ۱_۱۰)

۱۰۷

یعنی اس نے منہ بسور لیا اور پیٹھ پھیرلی کہ ان کے پاس ایک نابینا آگیا اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ نفس ہوتا یا نصیحت حاصل کرلیتا تو نصیحت اس کے کام آتی لیکن جو مستغنی بنا بیٹھا ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرکوئی ذمہ داری نہیں ہے اگروہ پاکیزگی اختیار نہ کرے لیکن جو شخص آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دوڑ کرآیا ہے اور خوف الہی بھی رکھتا ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے بے رخی کرتے ہیں_

ایک روایت میں ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کا آنا پسند نہ آیا اور سوچا کہ یہ قریشی خیال کریں گے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروکار اندھے، غلام اور بیچارے لوگ ہی ہیں ،پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منہ بسور لیا

حَكَمْ سے منقول ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کسی فقیر یا غریب سے منہ نہیں موڑا اور کسی امیر کو اہمیت نہیں دی_ ابن زید نے کہا ہے اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ وحی کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو ضرور چھپاتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں نازل ہوئی_(۱) پس ابن زید نے اس واقعے کی شدت قباحت کی بناپر رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف کی ہے کہ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس واقعہ کے بہت زیادہ قبیح ہونے کے باوجود بھی اسے نہیں چھپایا ہے _

غیرشیعہ مفسرین ومحدثین کامذکورہ واقعے کے متعلق بنیادی طور پراتفاق ہے_ لیکن ہمارے نزدیک یہ ایک جعلی کہانی ہے جس کا صحیح ہونا ممکن نہیں_ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

الف: اسناد کا ضعیف ہونا، کیونکہ تمام اسانید کی انتہاء یا تو عائشےہ، انس اور ابن عباس پرہوتی ہے جن میں سے کسی نے اس واقعے کا اپنی آنکھ سے خود مشاہدہ نہیں کیا کیونکہ اس وقت یا تو وہ بچے تھے یا ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے _(۲) یا ابومالک(۳) حکم ابن زید، ضحاک، مجاہد اور قتادہ پر منتہی ہوتی ہیں حالانکہ یہ سب تابعی ہیں _بنابریں روایت مقطوعہ ہے اور اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے_

___________________

۱_ رجوع کریں: مجمع البیان ج ۱۰ص ۴۳۷المیزان از مجمع و تفسیر ابن کثیر ج ۴ص ۴۷۰ از ترمذی و ابویعلی، حیات الصحابہ ج ۲ص ۵۲۰تفسیر طبری ج ۳۰ص ۳۳_۳۴ و در منثور ج ۶ص ۳۱۴_۳۱۵ نیز دیگر غیر شیعی تفاسیر_ ان تمام تفاسیر میں اس حوالے سے آپ مختلف روایات کا مشاہدہ کریں گے_ بطور مثال آخر الذکر کا مطالعہ کریں_

۲_ رجوع کریں: الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _ ۳_ بظاہر اس سے مراد ابومالک الاشجعی ہیں جو تفسیر و روایت میں مشہور اور تابعی ہیں _

۱۰۸

ب:عبارات والفاظ کا اختلاف(۱) یہاں تک کہ ایک ہی راوی سے منقول الفاظ میں اختلاف ہے چنانچہ ایک روایت میں حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس مشرکین کے رؤسا میں سے ایک شخص حاضر تھا_

دوسری روایت میں حضرت عائشہ ہی سے مروی ہے کہ عتبہ اور شیبہ حاضر تھے_

تیسری روایت میں حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس مجلس میں قریش کے کئی بزرگان موجود تھے جن میں ابوجہل اور عتبہ ابن ربیعہ وغیرہ تھے_

نیز ابن عباس سے منقول ایک روایت میں ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام ، عتبہ، اپنے چچا عباس اور ابوجہل کے ساتھ مصروف گفتگو تھے لیکن ابن عباس ہی سے منسوب تفسیر میں مذکور ہے کہ وہ افراد عباس، امیہ بن خلف، صفوان بن امیہ اور ...تھے_قتادہ سے کبھی امیہ ابن خلف کانام نقل ہوا ہے اورکبھی ابی ابن خلف کا_

بقول مجاہد قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار موجود تھا_ دوسری روایت میں مجاہد سے منقول ہے کہ عتبہ ابن ربیعہ اور امیہ ابن خلف موجود تھے_

ان باتوں کے علاوہ خود روایات میں بھی اختلاف ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا؟ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے الفاظ کیاتھے؟ اور ابن ام مکتوم کے الفاظ کیاتھے؟ یہاں ہم اسی قدر گفتگو پر اکتفا کرتے ہیں_ جو مزید تحقیق کا طالب ہو وہ متعلقہ کتابوں کا مطالعہ اور موازنہ کرے_

ج:مذکورہ آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کا آیت میں تذکرہ ہوا ہے اس کی عادت، اور طبیعت ہی یہ تھی کہ وہ امیروں پر توجہ دیتا تھا اگرچہ کافرہی کیوں نہ ہوں اور فقیروں کی اصلاح پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا اگرچہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس قسم کی صفات وعادات کے مالک نہ تھے_

___________________

۱_ الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸_۱۵۹_

۱۰۹

نیز فقیروں کے ساتھ ترشروئی اور بے اعتنائی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عادات میں شامل نہ تھیں اگرچہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیونکر اپنے چاہنے والوں اور مومنین کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے؟(۱) جبکہ اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کے بارے میں فرمایا ہے:( بالمومنین رؤوف رحیم ) (۲)

بلکہ آپ کی عادت ہی یہ تھی کہ فقیروں کے ساتھ مل بیٹھتے اور ان پر توجہ دیتے_ یہاں تک کہ یہ بات اشراف قریش کو پسند نہ آئی اور ان پر شاق گزری _ قریش کے بعض بزرگوں نے توحضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان غریبوں کو دورہٹادیں تاکہ اشراف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کریں_ یہ سن کر عمرنے ان بیچاروں کو دور کرنے کا اشارہ کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( ولاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة والعشی یریدون وجهه ) (۳) یعنی ان لوگوں کو دورنہ ہٹاؤ جو صبح وشام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی مرضی کے طالب رہتے ہیں_

نیز خداوند نے اس سورہ سے قبل نازل ہونے والے سورہ قلم میں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف میں فرمایا ہے کہ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خُلق عظیم کے مرتبے پر فائز ہیں''_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیونکر مذکورہ عمل کے مرتکب ہوسکتے تھے جو اس آیت کے منافی ہو اور جس پر خدا کی طرف سے (نعوذ باللہ ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملامت ومذمت ہو؟ کیا خدا (نعوذ باللہ ) اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق سے بے خبر تھا؟ یا یہ کہ باخبر ہونے کے باوجود کسی مصلحت کے تحت ایسا فرمایا _خدا ہمیں گمراہی سے بچائے، آمین_

د:مذکورہ آیات میں ارشاد ہوا ہے:( وما علیک الا یزکی ) یعنی اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے توتم پر کوئی ذمہ داری نہیں _یہ خطاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے نہیں ہوسکتا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو لوگوں کی ہدایت اور ان کو

___________________

۱_ رجوع کریں: الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸، المیزان ج ۲۰ص ۲۰۳، تنزیہ الانبیاء ص ۱۱۹، مجمع البیان ج ۱ص ۴۳۷_

۲_ سورہ توبہ، آیت ۱۲۸_

۳_ رجوع کریں: الدر المنثور ج ۳ص ۱۲_۱۳ بظاہر یہ آیت ہجرت حبشہ سے قبل اتری کیونکہ راویوں میں ابن مسعود بھی ہے یا مہاجرین تک صلح کی افواہ پہنچنے اور ان کی مکہ واپسی کے بعد اتری_ یاد رہے کہ اس مقام پر حضرت عمر کا تذکرہ غلط ہے کیونکہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے_ وہ ہجرت مدینہ سے کچھ مدت پہلے ہی مسلمان ہوئے، جس کا ذکر آئندہ ہوگا_

۱۱۰

پاکیزہ کرنے کیلئے ہی مبعوث ہوئے تھے، پھر یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داری کیوں نہ ہو؟ بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلی ذمہ داری ہی یہی تھی_ ارشاد الہی ہے( هو الذی بعث فی الامیین رسولا منهم یتلو علیهم آیاته و یزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة ) (۱) یعنی خدا نے ہی امیوں کے درمیان، انہی میں سے ایک کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنا کر بھیجا جو ان کیلئے آیات الہی پڑھ کرسناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور کتاب وحکمت سکھاتا ہے_ بنابریں کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کواس بات کی ترغیب دے کہ لوگوں کے ایمان سے بے رغبت ہوجائیں؟(۲)

ھ:آیہ انذار( وانذر عشیرتک الاقربین واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ) (۳) (جو سورہ عبس سے دوسال قبل نازل ہوئی ہے) میں ارشاد ہوا ہے ''اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئےور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اتباع کرنے والے مومنین کے سامنے اپنے کندھوں کو جھکایئے_ تو کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھول گئے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مومنین کے آگے شانے جھکانے کا حکم ہوا تھا؟ اگر ایسا ہو تو پھراس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اور بھی بہت ساری باتوں کو نہ بھولے ہوں؟ اور اگر بھولے نہیں تو پھراس صریحی حکم کی عمداً مخالفت کیوں فرمائی؟(۴)

و: آیت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ آیت میں مخاطب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی ذات ہے _بلکہ خداوند عالم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو اس شخص کے متعلق خبر دی ہے جس نے( عبس و تولی ان جاء ه الاعمی ) اندھے کے آنے کی وجہ سے ترشروئی اختیار کرکے منہ پھیر لیا _ پھر خدا نے اس منہ بنانے والے کو مخاطب ہوکر کہا :( و ما یدریک لعله یزکی ) تمہیں کیا پتہ ہوسکتاہے کہ وہ پاکیزہ دل ہو_

ز:علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے کہ ترجیح وعدم ترجیح کا معیار، امیری یا فقیری نہیں بلکہ اعمال صالحہ، اخلاق

___________________

۱_ سورہ بقرة آیت ۱۲۹

۲_ تنزیہ الانبیاء ص ۱۱۹

۳_ سورہ شعراء آیت ۲۱۴و ۲۱۵

۴_ المیزان ج ۲۰ ص ۳۰۳

۱۱۱

حسنہ اور صفات عالیہ کی موجودگی یا عدم موجودگی ہے اور یہ ایک عقلی حکم ہے جس کی تائید دین حنیف نے کی ہے پھر حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس حکم کی مخالفت کیسے کرسکتے ہیں اور کیونکر ایک کافر کو اس کے مال وجاہ کی بنا پر کسی مومن پر ترجیح دے سکتے ہیں؟ کیا اسلام نے اس سے منع نہیں کیا؟ کیا عقل اور ضمیر کے نزدیک یہ عمل غیرمنطقی اور قبیح نہیں ہے؟(۱)

اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلئے ایسا کیا تھا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان مشرکین سے ایمان کی توقع رکھتے تھے_ یوں دین کو تقویت مل جاتی اور یہ مستحسن کام ہے کیونکہ دین کی راہ میں انجام پایا ہے_تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات قرآن کی آیات صریحہ کے خلاف ہے_ آیات کی رو سے مذکورہ فرد کی مذمت اسلئے ہوئی ہے کیونکہ وہ اس امیر پر اس کی امارت کے باعث توجہ دے رہا تھا اور اس فقیر سے اس کی فقیری کے باعث بے توجہی برت رہا تھا_

نیز اگر یہ بات درست ہوتی تو پھر لازم تھا کہ قرآن اس کے جذبہ دینی اور وظیفہ شناسی کو سراہتا نہ یہ کہ اس کی مذمت وتوبیخ کرتا_

بالآخر ہم یہ اشارہ کرتے چلیں کہ بعض لوگوں نے کہا ہے: ''ممکن ہے یہ کہا جائے کہ آیت میں خطاب کلی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا جب بھی کسی فقیر کو دیکھتے تو منہ بسورکر رخ پھیر لیتے'' اس کا جواب یہ ہے کہ :

۱_ یہ قول اس بات کے مخالف ہوجائے گا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک دفعہ پیش آیا اور اس کا تکرار نہیں ہوا_

۲_ اگر تمام ناداروں سے منہ پھیر لینے کا ذکر مقصود ہے تو پھر اندھے کا ذکر کیوں آیا ہے ؟

۳_ کیا یہ صحیح ہے کہ یہ فعل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی عادت میں شامل ہو؟

___________________

۱_ المیزان ج۲۰ ص ۳۰۴ کی طرف رجوع کریں_

۱۱۲

جرم کسی اورکا:

مذکورہ باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ ان آیات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نہیں بلکہ کوئی اور شخص مراد ہے اور اس حقیقت کی تائید حضرت امام صادقعليه‌السلام سے منقول اس روایت سے ہوتی ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، عبداللہ ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو فرماتے تھے مرحبا مرحبا خدا کی قسم کہ اللہ کبھی بھی تیرے بارے میں میری ملامت نہیں کرے گا _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے ساتھ لطف ومہربانی اور احسان فرماتے تھے یہاں تک کہ وہ اسی لئے کثرت شرمندگی کی بنا پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا تھا_(۱)

اس بیان سے اس شخص کی مذمت کاپہلو نکلتا ہے جو ابن ام مکتوم کے معاملے میں مذکورہ مخالفت کا مرتکب ہوا تھا اور اس احتمال کی مکمل نفی ہوجاتی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ایسا فعل سرزد ہوا ہو جو قابل سرزنش ہو_ اگر خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سرزنش کی ہوتی تو یہ نفی بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہے_

لیکن خیانت کاروں کے ہاتھوں اس بات میں تحریف ہوئی ہے اور انہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے تھے، مرحبا اس کیلئے جس کے بارے میں خدانے میری ملامت کی، رجوع کریں درالمنثور اور دیگر کتب تفسیر کی طرف، لیکن حقیقت وہی ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے_

ایک سوال کا جواب

سوال: جب مذکورہ آیت میں مقصود کوئی اور ہو تو پھر خدانے (فانت لہ تصدی) (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں) نیز (فانت عنہ تلہی) (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے بے رخی کررہے ہیں)کیوں کہا؟_ ان دو عبارتوں سے یہی ظاہر ہے کہ ایک شخص کی طرف توجہ اور دوسرے سے بے رخی کرنے والا شخص جس کا ذکر آیت میں ہوا ہے،دینی جذبے سے سرشار تھا اور اسی جذبے کے پیش نظر اس نے ایک طرف توجہ دی اور دوسری طرف بے رخی اختیار کی_

___________________

۱_ تفسیر البرہان ج۳ ص ۴۲۸ تفسیر نور الثقلین ج/ ۵ ص ۵۰۹ مجمع البیان ج۱۰ ص ۴۳۷_

۱۱۳

جواب: آیات میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کہ مذکورہ توجہ خدا کی طرف دعوت دینے کیلئے تھی_ ممکن ہے کہ اس توجہ کی وجہ کوئی دنیوی مقصد ہو مثلا لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا یا عزت حاصل کرنا وغیرہ_ رہی بات ارشاد الہی کی کہ (لعلہ یزکی) (شاید وہ پاکیزگی اختیار کرلے) تو اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کام اس مخاطب کے ہاتھوں انجام پائے بلکہ ممکن ہے اس مجلس میں حاضر کسی اور کے ہاتھوں یہ کام مکمل ہو مثلا رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا کسی اور کے ذریعے_

اس کے علاوہ اگر ہم فرض کریں کہ وہ شخص تبلیغ دین کی غرض سے ان امیروں کی طرف توجہ دے رہا تھاتب بھی یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بارے میں نہیں کیونکہ تبلیغ رسول خدا کے ساتھ مخصوص نہیں چنانچہ ان لوگوں کے بقول آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ ایک اور شخص بھی اس تبلیغ پر توجہ دیتا تھا چنانچہ اس کے ذریعے کچھ لوگ مسلمان ہوئے (بشرطیکہ یہ بات درست ہو)_

درست روایت

یہاں صحیح روایت وہ معلوم ہوتی ہے جو حضرت امام صادقعليه‌السلام سے مروی ہے_ اس حدیث کے مطابق یہ آیات ایک اموی کے بارے میں نازل ہوئیں جو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حاضر تھا_ اتنے میں ابن ام مکتوم آیا، اموی نے اسے گنداسمجھتے ہوئے تیوری چڑھائی اور سمٹ کر بیٹھ گیا نیز اس سے منہ پھیر لیا پس ان آیات میں خدانے اس کا قصہ بیان کیا اور اس کی مذمت کی_(۱)

واضح رہے کہ شروع میں آیات کا خطاب اس شخص کی طرف نہ تھا بلکہ خدا نے اس کے بارے میں غائب کا صیغہ استعمال کیا اور فرمایا اس نے منہ بسورا اور رخ پھیر لیا کیونکہ اس کے پاس ایک نابینا آیا پھر اچانک اسے مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے (وما یدریک) (یعنی تجھے کیا معلوم ...)_

لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ شروع میں خدا نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہو (اس شخص کے بارے میں) اورپھر

___________________

۱_ مجمع البیان ج ۱۰ص ۴۳۷و تفسیر البرہان ج ۲ص ۴۲۸و تفسیر نور الثقلین ج ۵ص ۵۰۹ _

۱۱۴

خطاب کا رخ خود اس شخص کی طرف پھیردیاہو لیکن پہلا احتمال ذوق سلیم کی رو سے مناسب تر اور لطیف تر معلوم ہوتا ہے_

جناب عثمان پر الزام

بعض روایات میں عثمان پر الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ ابن ام مکتوم اور حضرت عثمان کے درمیان واقع ہوا_(۱)

لیکن ہم اسے مشکوک سمجھتے ہیں کیونکہ حضرت عثمان نے دیگر مہاجرین کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی تھی پھر کیونکر مکے میں یہ واقعہ پیش آسکتا تھا؟ ممکن ہے اس کا جواب یہ دیاجائے کہ بقولے تیس سے زیادہ مہاجر دو ماہ بعد حبشہ سے واپس لوٹے (جن کا ذکر ہوچکا ہے) ان میں حضرت عثمان بھی تھے_(۲)

بہرحال حضرت عثمان یا بنی امیہ کے کسی فرد پر الزام، معصوم نبی پر الزام کے مقابلے میں آسان سی بات ہے_(۳) کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اس قسم کے افعال کسی صورت میں بھی سرزد نہیں ہوسکتے لیکن بعض لوگ معصوم نبی پر اس قسم کی تہمت لگانے کو رواسمجھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اس قسم کے الزامات سے پاک ومنزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں_

___________________

۱_ تفسیر قمی ج ۲ص ۴۰۵، تفسیر البرہان ج ۴ص ۴۲۷، تفسیر نور الثقلین ج ۵ص ۵۰۸

۲_ سیرت ابن ہشام ج ۲ص ۳

۳_ ہم حضرت عثمان کی بعض صفات کو اس آیت کے مطابق بھی پاتے ہیں جیساکہ عثمان اور عمار کے قصے سے ظاہرہوتا ہے جب مدینے میں مسجد کی تعمیر جاری تھی تو اس دوران حضرت عمار حضرت علیعليه‌السلام کے رجز کو حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرنے کیلئے دہرا رہے تھے_ رجز یہ تھا:

لایستوی من یعمر المساجدا

یدا ب فیھا قائما و قاعداً

و من یری عن التراب حائدا

اس واقعہ کا ذکر آئندہ ہوگا _ انشاء اللہ

۱۱۵

دشمنان دین کا اس مسئلے سے سوء استفادہ

یہاں اس بات کی طرف اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض متعصب عیسائیوں نے عبس وتولی والے قصے کی آڑمیں ہمارے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی ہے_(۱) لیکن اللہ اپنے نور کو کامل کرتا ہے اگرچہ ان کافروں کو ناگوار گزرے ہم بھی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ جعلی اور باطل چیزیں ہیں جن کے لئے خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے _

مزید دروغ گوئیاں

انہی لوگوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آئے اورآپ کو عمار، صہیب، بلال اور خباب جیسے غریب مسلمانوں کے پاس تشریف فرما دیکھا_ تو ان کو حقیر سمجھا اور خلوت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' عرب کے وفود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آتے رہتے ہیں اور ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں _ پس جب وہ آجائیں تو ان کو یہاں سے اٹھادیں'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے_

انہوں نے کہا اس بات کا تحریری طور پر وعدہ کریں، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کاغذ مانگا اور حضرت علیعليه‌السلام سے لکھنے کیلئے کہا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( و لاتطرد الذین یدعون ربهم بالغداة و العشی یریدون وجهه ما علیک من حسابهم من ...) (۲) یعنی جولوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں اور اسی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے دور نہ کیجئے گا_ پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ کاغذ دور پھینک دیا انہیں بلایا اور انہی کے ساتھ بیٹھ گئے_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عادت ہی یہ ہوگئی کہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے جب بھی اٹھنا چاہتے تو خود اٹھ جاتے اور انہیں وہیں بیٹھا ہوا چھوڑ دیتے_ اس سلسلے میں خدا نے یہ آیت نازل کی( واصبر

___________________

۱_ رجوع کریں: الھدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۵۸ _

۲_ سورہ الانعام، آیت ۵۲ _

۱۱۶

نفسک مع الذین یدعون ربهم بالغداة والعشی یریدون وجهه ولا تعد عیناک عنهم ) (۱) (اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر پر آمادہ کر جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں، خبردار کہ تمہاری آنکھیں ان کی طرف سے پھرنے نہ پائیں) اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ اس وقت تک بیٹھے رہتے تھے جب تک وہ خود پہلے اٹھ نہ جاتے، بعض روایات میں ہے کہ ان کا مقصود ابوذر وسلمان تھے_(۲)

ان بے بنیاد باتوں کی نفی عبداللہ ابن ام مکتوم کے واقعے میں مذکور بیانات سے ہی ہو جاتی ہے_ لہذا یہاں ہم تکرار کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، علاوہ ازیں کئی ایک روایات کے مطابق پوری سورہ انعام مکے میں بیک وقت نازل ہوئی_(۳)

اس صورت میں یہ آیات کیونکر مذکورہ مناسبت سے مدینہ میں اتریں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ پوری سورت کا ایک ساتھ اترنا اس بات کے منافی نہیں کہ مذکورہ آیات اس خاص مناسبت سے اتری ہوں تویہ بات بھی نا قابل قبول ہے کیونکہ پوری سورت ہجرت سے قبل (لیکن انصار کے قبول اسلام کے بعد) ایک ساتھ اتری، جب یہ سورت اتری تو اسماء بنت یزید انصاریہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی(۴) جبکہ فرض یہ ہے کہ آیت مدینے میں نازل ہوئی_

اس کے علاوہ عبس وتولی والا واقعہ ہی اس بات کے اثبات کیلئے کافی ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس قسم کے کاموں سے باز رہتے خصوصاً اس صورت میں کہ اگر کوئی غیر معصوم شخص بھی ایسے عمل کا ارتکاب کرے تو اس کی مذمت کی جاتی ہے_

___________________

۱_ سورہ کہف آیت ۲۸_

۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ص۱۴۶_۳۴۵، و مجمع البیان ج ۴ ص ۳۰۵ ،۳۰۶_ و البدایة و النہایة ج ۶ ص ۵۶و کنز العمال ج ۱ص ۲۴۵و ج۷ص ۴۶ابن ابی شیبہ و ابن عساکرسے نیز الدر المنثور (مذکورہ آیات کی تفسیر میں متعدد مآخذ سے)_

۳_ رجوع کریں: المیزان ج ۷ص ۱۱۰ _

۴_ الدر المنثور ج ۳ ص ۲۲_

۱۱۷

یہاں ہم اس بات کابھی اضافہ کرتے ہیں کہ سلمان تو مدینے میں مسلمان ہوئے نیز ابوذر بھی مسلمان ہونے کے فوراً بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جدا ہوکر عسفان میں مکہ والوں کے قافلوں کی گزرگاہ پر رہنے لگے تھے (جس کا ذکر ہو چکا ہے)_

بظاہر مشرکین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان غریب مسلمانوں کو اپنے پاس نہیں بٹھائیں، اس سلسلے میں انہوں نے حضرت ابوطالب سے بھی بات کی اور حضرت عمر نے بھی اس بات کو تسلیم کرنے کا اشارہ کیا( جیساکہ نقل ہوا ہے)_ پس سورہ انعام کی یہ آیات ان لوگوں کے ردمیں نازل ہوئیں _

ان آیات میں اس بات کا تذکرہ نہیں کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی رائے کو قبول کیاہو جیساکہ مذکورہ روایات کا دعوی ہے _یہاں ہم روایات کے درمیان موجوداختلاف، ان کے کمزور پہلوؤں اوران لوگوں کے باطل خیالات کو بیان کرنے سے احتراز کرتے ہیں اور ابن ام مکتوم کے واقعے میں جو کچھ عرض کیا ہے، اسی پر اکتفا کرتے ہیں_البتہ یہ اضافہ بھی کرتے چلیں کہ آیت '' ولا تطرد الذین یدعون ربہم ...'' کا ظاہر پر یہی بتاتا ہے کہ یہ ڈانٹ ان لوگوں پر پڑی ہے جن سے یہ کام سرزد ہوا ہے اور '' ما علیک من حسابہم من شی ...'' کے قرینہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے مہربانی اور لطف فرماتے ہوئے اپنی نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان لوگوں سے علیحدہ رکھا ہے _

حضرت عمر بن خطاب کا قبول اسلام

کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے تین روز بعد بعثت کے چھٹے سال حضرت عمر مسلمان ہوئے_ وہ اپنی تلوار لیکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض اصحاب کی تلاش میں نکلے تھے جن کی تعداد چالیس کے قریب تھی_ وہ کوہ صفا کے قریب ارقم کے گھر میں جمع تھے_ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام بھی تھے جو حبشہ نہیں گئے تھے_ راستے میں نعیم بن عبداللہ سے حضرت عمر کی ملاقات ہوئی اس کے پوچھنے پر

۱۱۸

حضرت عمر نے بتایا کہ وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنا چاہتے ہیں

نعیم نے سمجھایا کہ اگر وہ ایسا کرے تو بنی عبد مناف کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا_ نیز یہ بھی بتایا کہ تمہارے بہنوئی اور بہن نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے_ یہ سن کر حضرت عمر ان کی طرف چل پڑے وہاں پر حضرت خباب بن ارت ،ان کو سورہ طہ کی تعلیم دے رہے تھے_ جب حضرت عمر کی آہٹ سنائی دی تو حضرت خباب ایک کوٹھڑی میں چھپ گئے اور فاطمہ بنت خطاب نے صحیفے کو اپنی ران کے نیچے چھپالیا_

حضرت عمر گھرمیں داخل ہوئے اور مختصر سی گفتگو کے بعد اپنے بہنوئی پر ٹوٹ پڑے اور بہن کا سر زخمی کردیا_ اس وقت حضرت عمر کی بہن نے بتادیا کہ وہ دونوں مسلمان ہوچکے ہیں وہ جو چاہے کرے_ حضرت عمرنے جب اپنی بہن کو خون آلود دیکھا تو اپنے طرز عمل پر پشیمان ہوئے اور نوشتہ قرآن کو طلب کیا ،لیکن اس نے نہیں دیا یہاں تک کہ حضرت عمرنے اپنے خداؤں کی قسم کھائی کہ وہ اسے واپس کردے گا _اس وقت ان کی بہن نے کہا تم مشرک اور نجس ہو نیز تم غسل جنابت بھی نہیں کرتے ہو جبکہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں _یہ سن کر حضرت عمر اٹھے اور غسل (یا وضو) کیاپھر اس نوشتہ کی ابتداء سے کچھ حصہ پڑھا اور (حضرت عمر کو لکھنا پڑھنا آتا تھا) پڑھنے کے بعد اسے پسند کیا _اتنے میں حضرت خباب نے آکر یہ خبردی کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے حق میں دعاکی ہے کہ خدا یا اس کے یا ابوجہل کے ذریعے اسلام کی تقویت فرما_

حضرت عمرنے کہا کہ وہ انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس لے جائیں تاکہ اسلام قبول کرسکیں_ چنانچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف نکلے، دروازہ کھٹکھٹایا، ایک شخص نے دروازے کے شگاف سے باہر نگاہ کی_جب عمر کو تلوار سجائے دیکھا تو سہم کر واپس ہوا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو خبردی_

یہ سن کر حضرت حمزہ نے کہا اسے آنے دو اگر وہ بھلائی کی تلاش میں آیا ہے تو ہم بخل نہیں کریں گے لیکن اگر وہ برے ارادے سے آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اس کاکام تمام کردیں گے_ یوں انہیں اجازت ملی اور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف آئے اور کمرے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی_ حضرت عمرنے کہا کہ وہ تو مسلمان ہونے کیلئے آیا ہے_ یہ سن کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تکبیر بلندکی اور مسلمانوں نے بھی ایسی تکبیر کہی جسے مسجد الحرام میں

۱۱۹

بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سن لیا_

اس کے بعد حضرت عمرنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے درخواست کی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم باہر نکل کر اعلانیہ اپنا کام شروع کریں_ حضرت عمر کہتے ہیں ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوصفوں کے درمیان باہرنکالا ایک صف میں حضرت حمزہ تھے اور دوسری صف میں میں تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر غبار تھا جس طرح پسنے والے آٹے کا غبار ہوتا ہے _پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے، میں نے قریش پر نظر کی وہ اتنے دل شکستہ ہوئے کہ اس قدر پہلے کبھی نہ ہوئے تھے_ اس دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عمر کو فاروق کالقب دیا_

ایک اور روایت کے مطابق قریش نے مل کر مشورہ کیا کہ کون حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرے، حضرت عمر نے کہا یہ کام میں کروں گا پھر وہ اپنی تلوارگردن میں لٹکائے نکل پڑے کہ راستے میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے ملاقات ہوگئی_ ان کے درمیان لے دے ہوئی یہاں تک کہ دونوں نے اپنی تلواریں سونت لیں_ اتنے میں حضرت سعد نے حضرت عمر کو اس کی بہن کے مسلمان ہونے کی خبر سنائی_

تیسری روایت کی رو سے مسلمان باہر نکلے حضرت عمر ان کے آگے آگے یہ کہہ رہے تھے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ _جب قریش نے حضرت عمر سے ان کے پیچھے موجود افراد کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے ان کو دھمکی دی کہ اگر ان میں سے کسی نے کوئی غلط حرکت کی تو وہ تلوار سے حملہ کریں گے _ پھر وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے آگے ہوئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طواف فرمارہے تھے اور عمر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاطت کررہے تھے پھر حضوراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز ظہراعلانیہ طور پر پڑھی_

چوتھی روایت میں ہے کہ جن دنوں مسلمانوں پر بہت زیادہ تشدد ہو رہا تھا تو حضرت عمر مسلمان ہوئے اور وہ اپنے خالو ابوجہل کے پاس گئے (جیسا کہ ابن ہشام کہتا ہے البتہ ابن جوزی کا کہنا ہے کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ عمر کا خالو ابوجہل نہیں بلکہ عاص بن ہاشم تھا ) حضرت عمرنے اسے خبردی کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں یہ سن کراس نے دروازہ بندکردیا حضرت عمر قریش کے دوسرے سردار کے پاس گئے تو وہاں بھی یہی ہوا _ حضرت عمرنے سوچا یہ بات مناسب نہیں کہ دوسرے مسلمانوں پرتشدد ہو لیکن مجھے کوئی نہ مارے، چنانچہ انہوں نے

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ آیت مقداد اور زبیر کے بارے میں اتری تھی_ جب وہ خبیب کی لاش سولی سے اتارنے مکہ گئے تھے_(۳)

۵) آیت میں اس شخص کی تعریف ہوئی ہے جو اپنی جان کو راہ خدا میں فدا کرے نہ اس شخص کی جو اپنا مال قربان کرے جبکہ صہیب والی روایت مؤخر الذکر سے متعلق ہے نہ کہ اول الذکر کے متعلق_

۶)جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں فقط صہیب نے ہی راہ خدا میں اپنا مال نہیں دیا تھا لہذا یہ اعزاز فقط ان کے ساتھ کیسے مختص ہوسکتا ہے_

۷) یہی لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ہجرت کے بعد حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی مہاجر مکے میں نہ رہا مگر وہ جو کسی کی قید میں یا کسی مشکل میں مبتلا تھے_(۴)

۸) وہ روایت جو کہتی ہے کہ صہیب بوڑھے تھے اور مشرکین کیلئے بے ضرر تھے خواہ ان کے ساتھ ہوں یا دوسروں کے ساتھ، وہ صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ صہیب کی وفات سنہ ۳۸ یا ۳۹ ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی_(۱) بنابریں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۳۱ یا ۳۲ سال بنتی ہے_ اس لحاظ سے وہ اپنی جوانی کے عروج پر تھے اورانکی عمر وہ نہ تھی جو مذکورہ جعلی روایت بتاتی ہے_

یہ ساری باتیں ان تضادات کے علاوہ ہیں جو صہیب سے مربوط روایات کے درمیان موجود ہیں_علاوہ ازیں ان روایات میں سے بعض میں صہیب کے حق میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہوا _نیز یہ روایات یا تو خود صہیب سے ہی مروی ہیں یا ایسے تابعی سے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا زمانہ نہیں دیکھا مثال کے طور پر عکرمہ، ابن مسیب اور ابن جریح_ ہاں فقط ایک روایت ابن عباس سے مروی ہے جو ہجرت سے صرف تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے_

___________________

۱_ سیرہ حلبی ج ۳ ص ۱۶۸ _

۲_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۳ اور سیرہ مغلطای ج ۳۱ _

۳_ الاصابة ج ۲ ص ۱۹۶ _

۳۲۱

یاد رہے کہ صہیب کا تعلق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حکمراں طبقے کے حامیوں اور امیرالمؤمنینعليه‌السلام علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے تھا_ وہ اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (علیھم السلام) سے عداوت رکھتا تھا_(۱) شاید صہیب کی ہجرت کے ذکر سے ان کا مقصد یہ ہو کہ جو فضیلت صرف حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کے لئے ہی ثابت ہے اسے صہیب کے لئے بھی ثابت کریں یوں وہ ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے شیطانوں نے انہیں یہ مکھن لگا یا کہ علیعليه‌السلام تو خسارے میں رہے جبکہ آپعليه‌السلام کے دشمن فائدے میں رہے_

ہ:رہا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ سورہ بقرہ مدنی ہے_ اگر وہ آیت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہوتی تو اس سورہ کو مکی ہونا چاہیئے تھا_ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مذکورہ آیت شب ہجرت ہی اتری تھی (جب حضرت علیعليه‌السلام بستر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوئے تھے) تو ظاہر ہے کہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غار میں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی نہ تھا_ بنابر ایں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مدینہ پہنچ کر وہاں ساکن ہونے سے پہلے نزول آیت کے اعلان کا موقع ہی نہ مل سکا_ اس کے بعد مناسب موقعے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے چچازاد بھائی اور وصی کی اس عظیم فضیلت کے اظہار کی فرصت ملی_ اس لحاظ سے اگر اس آیت کو مدنی اور سورہ بقرہ کا جز سمجھ لیا جائے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ جبکہ سورہ بقرہ ،جیساکہ سب جانتے ہیں ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا_اس کے علاوہ اگر کسی مکی آیت کو کسی مدنی سورہ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے کیا؟

ادھر حلبی کا یہ بیان کہ یہ آیت دوبار نازل ہوئی، ایک بے دلیل بات ہے بلکہ مذکورہ دلائل اس بات کی نفی کرتے ہیں_

ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدائے تعالی نے واقعہ غار میں حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا جیساکہ

___________________

۱_ رجوع کریں قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۳۵_۱۳۷ (حالات صہیب) _

۳۲۲

''شواھد النبوة'' نامی کتاب میں یوں منقول ہے: ''جب اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی اجازت دی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیلعليه‌السلام سے پوچھا میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ حضرت جبرئیلعليه‌السلام نے کہا ابوبکر صدیق''_(۱)

لیکن ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ:

الف: حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دینے کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے_ اس کے سبب اور وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں_

کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ غار ثور میں ہوا (جیساکہ یہاں ذکر ہوا) اور کوئی کہتا ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معراج کے سفر سے واپس آکر لوگوں کو بیت المقدس کے بارے میں بتایا اور حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب ملا_(۲)

تیسرے قول کے مطابق بعثت نبوی کے دوران جب حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب حاصل ہوا_(۳)

چو تھا قول یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آسمانوں کی سیر فرمائی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں بعض جگہوں پر حضرت ابوبکر کا لقب ''صدیق'' لکھا ہوا دیکھا(۴) پھر نہیں معلوم کون سی بات صحیح ہے_

ب: ہمارے ہاں متعدد روایات موجود ہیں جو سند کے لحاظ سے صحیح ''یا حسن'' ہیں_ ان کا ذکر دسیوں مآخذ میں موجود ہے_ یہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ ''صدیق'' سے مراد امیر المؤمنین علیعليه‌السلام ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر_ ان میں سے چند ایک کاہم یہاں ذکر کرتے ہیں_

۱) امام علیعليه‌السلام سے سند صحیح (امام بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق) کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ''میں خدا کا بندہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھائی ہوں، میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میرے بعد اس بات کا دعوی کوئی

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۳، شواہد النبوة سے اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ _

۲،۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ اور ج ۱ ص ۲۷۳ وغیرہ واقعہ معراج میں اس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے بعض مآخذ کا بھی_

۴ _ کشف الاستار ج۳ ص ۱۶۳، مسند احمد ج ۴ ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۱ ، تہذیب التہذیب ج۵ ص ۳۸ اور الغدیر ج۵ ص ۳۲۶ ، ۳۰۳ از تاریخ الخطیب_

۳۲۳

نہ کرے گا مگر وہ جو سخت جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی ہے''_(۱)

بظاہر حضرت علیعليه‌السلام کی مراد یہ ہے کہ آپعليه‌السلام سن رشد کو پہنچنے کے بعد اور بعثت سے قبل کے زمانے سے اسلام کے عام ہونے اور'' فاصدع بما تؤمر '' والی آیت کے نزول تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ دین حنیف کے مطابق عبادت کرتے تھے_ یوں ابن کثیر کایہ کہنا کہ'' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھتے؟ لہذا یہ بات بالکل نامعقول ہے''(۲) باطل ہوجاتا ہے_

۲) قرشی نے شمس الاخبار میں ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے شب معراج حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق اکبر کا لقب دیا_(۳)

۳) ابن عباس سے منقول ہے کہ صدیق تین ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام_ ان میں سے تیسرا سب سے افضل ہے_

اسی مضمون سے قریب قریب وہ روایت ہے جو سند حسن کے ساتھ ابولیلی غفاری سے منقول ہے جیساکہ

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ و تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے میں نیز الاوائل ج ۱ ص ۱۹۵، فرائد السمطین ج ۱ ص ۲۴۸ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور ج ۱ ص ۳۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶، الخصائص (نسائی) ص ۴۶ (ثقہ راویوں سے) سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۴ (صحیح سند کے ساتھ) تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶، الکامل (ابن اثیر) ج ۲ ص ۵۷، ذخائر العقبی ص ۶۰ از خلفی و الارحاد و المثانی (خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ کوپرلی لائبریری) و معرفة الصحابة (مصنفہ ابونعیم خطی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای) ج ۱ تذکرة الخواص ص ۱۰۸ (ازاحمد در مسندالفضائل) حاشیہ زندگی نامہ امام علیعليه‌السلام (تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق محمودی) ج ۱ص ۴۴_۴۵ نقل از کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ورق نمبر ۱۵۵الف کنزالعمال ج ۱۵ ص ۱۰۷ (طبع دوم) از ابن ابی شیبہ و نسائی و ابن ابی عاصم (السنة میں) و عقیلی و حاکم و ابونعیم نیز عقیلی کی کتاب الضعفاء ج ۶ صفحہ نمبر ۱۳۹ سے علاوہ ازیں معرفة الصحابة (ابونعیم) ج ۱ ورق نمبر ۲۲ الف و تہذیب الکمال (مزی) ج ۱۴ ورق نمبر ۱۹۳ ب اور از تفسیر طبری، مسند احمد (الفضائل میں حدیث نمبر ۱۱۷ ) سے وہ احقاق الحق ج ۴ ص ۳۶۹ اسی طرح میزان الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۷ ج ۲ ص ۱۱ اور ۲۱۲ سے، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ میں مذکورہ مآخذ میں سے کئی ایک نیز ریاض النضرة ص ۱۵۵_۱۵۸ اور ۱۲۷ سے منقول ہے نیز مراجعہ ہو اللآلی المصنوعة ج۱ ص ۳۲۱_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶ _

۳_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳_۳۱۴_

۳۲۴

سیوطی نے بھی اس کی تصریح کی ہے_(۱) اسی طرح حسن بن عبد الرحمان بن ابولیلی سے بھی منقول ہے_(۲)

بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا صدیقین کو فقط تین افراد میں منحصر کرنا اس بات کے منافی ہے کہ حضرت ابوبکر کو بھی صدیق کانام دیا جائے_ اس طرح سے تو تین کی بجائے چار ہوجائیں گے یوں حصر غلط ٹھہرے گا_

۴) معاذہ کہتی ہیں ''میں نے علیعليه‌السلام سے (بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے )سنا کہ انہوں نے فرمایا:''میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میں ابوبکر کے مسلمان ہونے سے پہلے مومن تھا اور ابوبکر کے قبول اسلام سے پہلے اسلام لا چکا تھا''(۳) بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپعليه‌السلام حضرت ابوبکر کے لوگوں کے درمیان معروف ہونے والے

___________________

۱_ جامع الصغیر ج ۲ ص ۵۰ از کتاب معرفة الصحابة (ابونعیم) ابن نجار، ابن عساکر و صواعق محرقہ (مطبوعہ محمدیہ) ص ۱۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۵۵، شواہدالتنزیل ج ۲ ص ۲۲۴ و ذخائرالعقبی ص ۵۶ و فیض القدیر ج ۴ ص ۱۳۷، تاریخ ابن عساکر حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۸۲ اور ج ۱ ص ۸۰، کفایہ الطالب ص ۱۲۳_۱۸۷ اور ۱۲۴، الدرالمنثور ج ۵ ص ۲۶۲ از تاریخ بخاری، ابوداؤد، ابونعیم، دیلمی، ابن عساکر اور رازی (سورہ مومن کی تفسیر میں)، منافب خوارزمی ص ۲۱۹ و مناقب امام علی (ابن مغازلی) ص ۲۴۶_۲۴۷ و معرفة الصحابة (ابونعیم) قلمی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای، نیز کفایة الطالب کے حاشیہ میں کنز العمال (ج۶ ص ۱۵۲) سے بواسطہ طبرانی، ابن مردویہ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۲ و گذشتہ مآخذ میں سے چند ایک کا محمودی نے تاریخ ابن عساکر میں امام علیعليه‌السلام کے حالات زندگی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، رجوع کریں ج ۱ ص ۷۹_۸۰، مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے منقول ہے نیز از سیف الیمانی المسلول ص ۴۹ و الفتح الکبیرج ص ۲۰۲ و غایة المرام ص ۴۱۷ _۶۴۷و مناقب علی امام احمد کی کتاب الفضائل میں حدیث نمبر ۱۹۴_۲۳۹ نیز مشیخ-ة البغدادیة (سلفی) ورق نمبر ۹ ب اور ۱۰ ب و الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ مذکورہ مآخذ سے نیز حاشیہ شواہد التنزیل از الروض النضیر ج ۵ ص ۳۶۸ سے منقول ہے_

۲_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۲۱۹ _

۳_ ذخائر العقبی ص ۵۶ از ابن قتیبہ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، انساب الاشراف (محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) ج ۲ ص ۱۴۶ و الآحاد المثانی (قلمی نسخہ نمبر ۲۳۵ کتابخانہ کوپرلی) البدایة و النہایة ج ۷ ص ۳۳۴، المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۳_۷۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ جو گزشتہ مآخذ میں سے بعض نیز ابن ایوب اور عقیلی سے بواسطہ کنز العمال ج ۶ ص ۴۰۵ چاپ اوّل مروی ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۳ ص ۱۲۲ از استیعاب ج ۲ ص ۴۶۰ و از مطالب السئول _ ص ۱۹ (جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اکثر اوقات اس بات کا تکرار فرماتے تھے)، نیز الطبری ج ۲ ص ۳۱۲ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ اور ۱۵۷ اور عقد الفرید ج ۲ ص ۲۷۵ سے_ ابن عباس اور ابویعلی غفاری والی بات کے بارے میں رجوع کریں_ الاصابة ج ۴ ص ۱۷۱ اور اس کے حاشیے الاستیعاب ج ۴ ص ۷۰ ۱ اور میزان الاعتدال ج ۲ ص ۳ اور ۴۱۷ کی طرف_

۳۲۵

لقب کی نفی کرنا چاہتے ہیں_

۵) حضرت ابوذر اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا :''ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو علیعليه‌السلام سے یہ فرماتے سنا کہ انت الصدیق الاکبر وانت الفاروق الذی یفرق بین الحق والباطل یعنی تمہی صدیق اکبر ہو اور تمہی حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے والے فاروق ہو''_(۱) اسی روایت سے تقریبا مشابہ روایت ابولیلی غفاری سے مروی ہے_

۶) حضرت ابوذراور حضرت سلمان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کا ہاتھ پکڑکرفرمایا:'' یہ سب سے پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لے آیا_ یہی شخص سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا_ صدیق اکبر یہی ہے اوریہی اس امت کا فاروق ہے جو حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرے گا''_(۲)

۷) ام الخیر بنت حریش نے صفین میں ایک طویل خطبے میں امیرالمومنینعليه‌السلام کو ''صدیق اکبر'' کے نام سے یاد کیا ہے_(۳)

۸) محب الدین طبری کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق کانام دیا_(۴)

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، فرائد السمطین ج ۱ ص ۱۴۰ نیز تاریخ ابن عساکر (حالات زندگی امام علیعليه‌السلام باتحقیق محمودی) ج ۱ ص ۷۶_۷۸ (کئی ایک سندوں کے ذریعہ سے) اس کے حاشیے جاحظ کی کتاب عثمانیہ کے جواب میں (جو اس کے ساتھ مصر میں چھپی ہے) اسکافی سے ص ۳۹۰ پر منقول ہے_ نیز رجوع کریں اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۳۲۴ وملحقات احقاق الحق ج ۴ ص ۲۹_۳۱ اور ۳۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ از حاکمی و از شمس الاخیار (قرشی) ص ۳۰ و از المواقف ج ۳ ص ۲۷۶ و از نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۵ و از حموینی

۲_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۰۲ از طبرانی اور بزار، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ و ج۱۰ ص۴۹ از بزار اور کفایة الطالب ص ۱۸۷ بواسطہ ابن عساکر، شرح نہج البلاغة( معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور اکمال کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ بیہقی، ابن عدی، حذیفہ، ابوذر اور سلمان سے منقول نیز الاستیعاب ج۲ ص ۶۵۷ والاصابہ ج۴ ص ۱۷۱ سے بھی منقول ہے _

۳_ العقد الفرید مطبوعہ دار الکتاب ج ۲ ص ۱۱۷، بلاغات النساء ص ۳۸، الغدیر ج۲ ص۳۱۳ میں ان دونوں سے نیز صبح الاعشی ج ۱ ص ۲۵۰ اور نہایة الارب ج ۷ ص ۲۴۱ سے نقل کیا گیا ہے_

۴_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۳۲۶

۹) خجندی کا کہنا ہے کہ وہ (حضرت علیعليه‌السلام ) یعسوب الامہ اور صدیق اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے_(۱)

۱۰) ایک اور روایت میں مذکور ہے ''پس عرش کے اندر سے ایک فرشتہ انہیں جواب دیتا ہے اے انسانو یہ کوئی مقرب فرشتہ نہیں نہ کوئی پیغمبراور نہ عرش کو اٹھانے والا ہے_ یہ تو صدیق اکبر علیعليه‌السلام ابن ابیطالب ہیں ...''(۲)

۱۱) قرآن کی آیت (اولئک ہم الصدیقون) حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں نازل ہوئی_ اسی طرح (الذی جاء بالصدق وصدق بہ) والی آیت نیز( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین ) والی آیت بھی حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہیں_(۳)

۱۲) انس کی ایک روایت میں مذکور ہے ''واما علیعليه‌السلام فہو الصدیق الاکبر''(۴)

یعنی حضرت علیعليه‌السلام ہی صدیق اکبر ہیں_

گذشتہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ''صدیق'' کا لقب امام علیعليه‌السلام ہی کے ساتھ مختص ہے کسی اور کیلئے اس کا اثبات ممکن نہیں_

علاوہ ان باتوں کے علامہ امینی نے ''الغدیر'' کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۲۱، ۳۳۴اور ۳۵ نیز ساتویں جلد کے صفحہ نمبر ۲۴۴، ۲۴۵ اور ۲۴۶ پر ایسی روایات کا تذکرہ کیا ہے جن کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق کہلائے گئے ہیں_ اس کے بعد جواباً حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے میں

___________________

۱_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۲_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۳۴ چاپ دوم_

۳_ بطور مثال رجوع کریں : شواھد تنزیل ج ۱ ص ۱۵۳_۱۵۴_۱۵۵ ، اور ج ۲ ص ۱۲۰ اس کے حاشیوں میں متعدد مآخذ مذکور ہیں_ نیز حالات امام علیعليه‌السلام در تاریخ دمشق بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۴۱۸ اور اس کے حاشیے ملاحظہ ہوں_ نیز مناقب ابن مغازلی ص ۲۶۹، غایة المرام ص ۴۱۴، کفایة الطالب ص ۳۳۳، منہاج الکرامة (حلی)، دلائل الصدق (شیخ مظفر) ج ۲ ص ۱۱۷، درالمنثور ج ۵ ص ۳۲۸ اور دسیوں دیگر مآخذ_

۴_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۳۲ _

۳۲۷

کسی قسم کاشک باقی نہیں رہتا کیونکہ بڑے بڑے ناقدین اور محدثین مثال کے طور پر ذہبی، خطیب، ابن حبان، سیوطی، فیروز آبادی اور عجلونی وغیرہ نے ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کی تصدیق کی ہے_ جو حضرات اس مسئلے سے آگاہی کے خواہشمند ہوں وہ الغدیر کی طرف رجوع کریں جس میں تحقیق کی پیاس بجھانے اورشبہات کا ازالہ کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے_

یہ القاب کب وضع ہوئے؟

بظاہر یہ اور دیگر القاب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی چوری ہوئے یہاں تک کہ امیرالمومنین امام علیعليه‌السلام منبر بصرہ سے یہ اعلان کرنے اور بار بار دہرانے پر مجبورہوئے کہ آپ ہی صدیق اکبر ہیں نہ کہ ابوبکر اور جوبھی اس لقب کا دعویدار ہو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے لیکن طویل عرصے تک امت کے اوپر حکم فرما اور ان کے افکار واہداف پر مسلط رہنے والی سیاست کے باعث یہ القاب انہی افراد کیلئے استعمال ہوتے رہے اور کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس عمل سے روکتی یا کم از کم مثبت اور پرامن طریقے سے اس پر اعتراض کرتی_

دو سواریاں

کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کو ہجرت کرنا شروع کی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی خدا کی طرف سے اجازت کی امید رکھتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی جان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے وقف کردی اور آٹھ سو درہم میں دو سواریاں خریدیں_ (وہ ایک مالدار شخص تھے) اور انہیں چار ماہ(۱) یا چھ ماہ(۲) تک (اختلاف اقوال کی بنا پر) پھول کے پتے یا درختوں کے جھاڑے ہوئے پتے کھلاتے رہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الوفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷ ، الثقات (ابن حبان) ج۱ ص ۱۱۷ ، المصنف (عبدالرزاق) ج۵ ص ۳۸۷ اور بہت سے دیگر مآخذ _ حضرت ابوبکر کے صاحب مال ہونے کے متعلق مراجعہ ہو سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۱۲۸_

۲_ نور الابصار ص ۱۶ از الجمل ( علی الھزیمہ) و کنز العمال ج۸ ص ۳۳۴ از بغوی( سند حسن کے ساتھ عائشہ سے)_

۳۲۸

پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں سواریاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیش کیں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیمت اداکئے بغیر ان کو لینے سے انکار کیا_ لیکن ہماری نظر میں چار ماہ یا چھ ماہ تک سواریوں کو چارہ کھلاتے رہنے والی بات صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اپنی ہجرت سے فقط تین ماہ قبل اصحاب کو ہجرت کا حکم دیا تھا_ بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحقیق کی رو سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےہجرت سے اڑھائی مہینے قبل ایسا کیا(۱) ، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیعت عقبہ ہجرت سے دوماہ اور چند دن پہلے ہوئی تھی(۲) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو اس کے بعد ہجرت کا حکم دیا جیساکہ معلوم ہے_ بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی طرف سے اصحاب کو ہجرت کا حکم ملنے کے بعد چھ یا چار ماہ تک حضرت ابوبکر کیونکر ان سواریوں کو پالتے رہے؟

۲) ایک روایت صریحاً کہتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے تین اونٹ خریدے اور اریقط بن عبداللہ کو مزدوری دیکر ان اونٹوں کو غار سے نکلنے کی رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں بھیجا_(۳) البتہ ممکن ہے انہوں نے یہ اونٹ حضرت ابوبکر سے خریدے ہوں اور ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اریقط کے ہمراہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے پاس بھیجے ہوں_

حقیقت حال

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے قیمت ادا کئے بغیر حضرت ابوبکر سے وہ سواریاں نہیں لیں تو انہیں اس میں خلیفہ اول کی سبکی نظر آئی_ اس کے مقابلے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے اس کے بدلے حضرت ابوبکر کیلئے یہ فضیلت تراشی کہ وہ اس قدر طویل عرصے تک ان سواریوں کو چارہ کھلاتے رہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۸۳اور ۱۷۷ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۵_ ۵۵_

۲_ سیرة مغلطای ص ۳۲ وفتح الباری ج ۷ ص ۱۷۷ نیز ملاحظہ ہوالثقات لابن حبان ج ۱ ص ۱۱۳ و غیرہ _

۳_ تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۱۳۸ (امام علیعليه‌السلام کے حالات میں محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) اور در منثور نیز تیسیر المطالب ص۷۵ البتہ اس میں آیاہے کہ آپعليه‌السلام نے تین سواریاں کرایہ پر لیں_

۳۲۹

ان معروضات کی روشنی میںیہ معلوم ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان دو سواریوں کو خریدنا یا امیرالمؤمنین کا تین سواریاں خریدنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خرچے پر سفر کیا نہ کہ اپنے خرچے پر_

خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابوبکر کے گھرکے عقبی دروازے سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوگئے جیساکہ سیرت ابن ہشام وغیرہ میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے(۱) _ بخاری میں مذکور ہے کہ (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت ابوبکر کے پاس گئے اور وہاں سے غار ثور کی طرف روانہ ہوئے)(۲) _

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ:

۱_ حلبی نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے: ''زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے گھرسے ہی (غار کی طرف) روانہ ہوئے'' _(۳)

۲_ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر آئے تو حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے ہوئے پایااور حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی روانگی سے مطلع کیا اور فرمایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بئر میمون (ایک کنویں کا نام) کی طرف چلے گئے ہیں_ پس وہ راستے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے_ بنابریں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں ابوبکر کے گھر کے عقبی دروازے سے غار کی طرف روانہ ہوئے ہوں؟ اور وہ بھی ظہر کے وقت؟

۳_ان تمام باتوں سے قطع نظر ساری روایات کہتی ہیں کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے دروازے پر صبح تک بیٹھے رہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کے ابتدائی حصّے کی تاریکی میں ان کے درمیان سے نکل گئے جبکہ حضرت علیعليه‌السلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے رہے_ یہ اس بات کے منافی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت خارج ہوئے_

۴_ یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کے گھر سے خارج ہوئے ہوں جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ۱۰۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۴ و البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸_

۲_ ملاحظہ ہو: تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۱۵۳ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۰ نیز بخاری، ارشاد الساری ج۶ ص ۱۷ کے مطابق_ ۳_ سیرة حلبیة ج ۲ ص ۳۴ عن سبط ابن الجوازی_

۳۳۰

کہ کھوجی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قدموں کے نشانات دیکھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچا تو کہنے لگا یہاں سے ایک اور شخص بھی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مل چکا ہے بلکہ بعض حضرات نے تو صریحاً یہ کہا ہے کہ مشرکین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ابوبکر ابن قحافہ کے نشان قدم تھے_(۱) وہ یونہی چلتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے_

ان عرائض سے معلوم ہوتا ہے کہ در منثور اور السیرة الحلبیة میں منقول یہ بات درست نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس رات انگلیوں کے بل چلتے رہے تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشان ظاہر نہ ہوں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاؤں گھس گئے_ (گویا مسافت اس قدر زیادہ تھی) اور حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھالیا یہاں تک کہ غار کے دھانے تک پہنچ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتارا_ ایک اور روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اونٹ جدعاء پر سوار ہوکر حضرت ابوبکر کے گھر سے غار تک گئے_(۲)

قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش

کہتے ہیں کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ (کی گرفتاری) کیلئے سو اونٹوں اور حضرت ابوبکر کیلئے بھی اس قدر اونٹوں کی شرط رکھی(۳) _ جاحظ وغیرہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے_

اسکافی معتزلی نے اس کا جواب یوں دیا ہے ''قریش حضرت ابوبکر کی گرفتاری کے واسطے مزید سو اونٹوں کا نذرانہ کیوں پیش کرتے حالانکہ انہوں نے اس کی التجائے امان کو ٹھکرایا تھا_اور وہ قریش کے درمیان بے یار ومددگار تھے_ وہ ان کے ساتھ جو چا ہتے کرسکتے تھے_ بنابریں یا تو قریش دنیاکے احمق ترین افراد تھے یا عثمانی ٹولہ روئے زمین کی تمام نسلوں سے زیادہ جھوٹا اور سب سے زیادہ سیہ رو تھا_ اس واقعے کا ذکر نہ سیرت کی کسی کتاب میں ہے نہ کسی روایت میں نہ کسی نے اسے سنا تھا اور نہ ہی جاحظ سے قبل کسی کو اس کی خبر تھی''_(۴)

___________________

۱_ بحارالانوار ۱۹ ص ۷۴ از الخرائج نیز رجوع کریں ص ۷۷ اور ۵۱ ، اعلام الوری ص ۶۳ و مناقب آل ابیطالب ج ۱ ص ۱۲۸ اور تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۶ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ سیرت حلبی ج ۲ص ۳۴ _۳۸ اور تارخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۸ والدر المنثور_

۳_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۹_

۴_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج۱۳ ص ۲۶۹_

۳۳۱

یہاں ہم اس بات کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ جب (ان لوگوں کے بقول) حضرت ابوبکر کے قبیلے نے پہلے ان کی حمایت کی تھی تو اب ان کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ نیز جب وہ قریش کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے (اس بات کا ذکر حبشہ کی طرف ابوبکر کی ہجرت کے حوالے سے گزر چکا ہے) تو پھر قریش والے ان کیلئے سو اونٹوں کی شرط کیوں رکھنے لگے جس طرح خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے سو اونٹوں کی شرط رکھی تھی؟ قریش نے حضرت ابوبکر کی کڑی نگرانی کیوں نہیں کی اورانکے پیچھے جاسوس کیوں نہیں چھوڑے یا جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر شبخون مارنے کی کوشش کی تھی ان پر بھی شبخون مارنے کیلئے افراد روانہ کیوں نہ کئے؟ اسی طرح قریش حضرت ابوبکر کے پیچھے اس قدر دولت کیونکر داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ وہ شخص جس کے باعث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے چنگل سے نکل گئے تھے، علیعليه‌السلام تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان بے خطر رہ رہے تھے اور کسی شخص نے انہیں چھیڑا اور نہ ہی کسی قسم کی نا خوشگوار گفتگو کی_ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی منزلت کو بلند کر کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہمدوش قرار دینا ہے اور ساتھ ساتھ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حضرت علیعليه‌السلام کے سونے کے سارے اثرات کو مٹانا ہے تاکہ حضرت ابوبکر کی عظمت اور منزلت کے سامنے حضرت علیعليه‌السلام کی طرف کسی کی توجہ ہی مبذول نہ ہو_

تا صبح انتظار کیوں

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مشرکین نے شب ہجرت صبح تک انتظار کیوں کیا؟ اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ دیوار پھلانگنے کا تھا_ لیکن گھر سے ایک عورت چیخی_ یہ سن کر ان میں سے کسی نے کہا''اگر لوگ کہیں کہ ہم نے اپنی چچا زاد بہنوں کے گھر کی دیوار پھاند لی ہے تو یہ عربوں کے درمیان شرمناک بات ہوگی_(۱)

یا شاید اس کی وجہ یہ ہو (جیساکہ کہا گیا ہے) کہ ابولہب رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل پر راضی نہ تھا کیونکہ اس میں

___________________

۱_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۸، الروض الانف ج۲ ص ۲۲۹ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۲۷ مع حاشیہ اور ملاحظہ ہو: تاریخ الہجرة النبویہ (ببلاوی) ص ۱۱۶_

۳۳۲

عورتوں اور بچوں کو خطرہ تھا(۱) _ ممکن ہے کہ ان دونوں باتوں کے پیش نظر انہوں نے صبح تک انتظار کیا ہو_ یا اس لئے بھی کہ لوگ (دن کی روشنی میں) دیکھ لیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سارے قبائل نے ملکر قتل کیا ہے یوں یہ بات بنی ہاشم کے خلاف ایک بہانہ ہوتی اور بنی ہاشم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا انتقام نہ لے سکتے(۲) _

حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات

کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر روانہ ہوئے تو اپناسارا مال جو پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم پر مشتمل تھا ساتھ لے کر چلے_ ان کے والد ابوقحافہ (جن کی بینائی چلی گئی تھی) اپنے بیٹے کے اہل خانہ کے پاس آئے اور کہا خدا کی قسم میں تو یہ مشاہدہ کررہا ہوں کہ اس نے اپنے مال اور اپنی جان کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ان کی بیٹی اسماء بولی :'' نہیں بابا وہ ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ کرگئے ہیں'' _ (اسماء کہتی ہے) پس میں نے کچھ پتھر اٹھائے اور ان کو گھرکے ایک روشن دان میں رکھا جہاں میرا بابا اپنا مال رکھتا تھا _پھر میں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑکر کہا اے بابا اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ_ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا:'' کوئی بات نہیں اگر اس نے تمہارے لئے یہ چھوڑا ہے تو اچھا کیا ہے_ یہ تمہارے لئے کافی ہوگا حالانکہ واللہ اس نے ہمارے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ بوڑھے کو تسلی دوں''_(۳)

یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ کو خدا پرستی کے جرم میں ایذائیں دی جاتی تھیں_ پس حضرت ابوبکر نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر غار میں تھے تو عامر ابوبکر کی دودھ دینے والی بکریاں لیکر ان کے پاس آیا تھا وہ ان کو چراتا تھا_ اور شام کو ان کے پاس آتا تاکہ ان کیلئے دودھ دوہ لے_

___________________

۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۵۰_

۲_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۸ _ ۲۶_

۳_ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۳، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۷۹ و الاذکیاء از ابن جوزی ص ۲۱۹، حیات الصحابة ج۲ ص ۱۷۳_۱۷۴، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۵۹ طبری اور احمد سے نقل کیا ہے_ ابن اسحاق کے علاوہ اس کے سارے راوی صحیح بخاری والے راوی ہیں اور ابن اسحاق نے بھی خود اپنے کانوں سے سننے پر تاکید کی ہے_

۳۳۳

ادھر اسماء بنت ابوبکر شام کے وقت ان کیلئے مناسب کھانا لیکر آتی تھی(۱) _

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر چالیس ہزار درہم خرچ کئے_ ایک جگہ دینار کا لفظ آیا ہے(۲) _ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی ہم نشینی اور مدد کے ذریعے میرے اوپر اتنا احسان نہیں کیا جس قدر ابوبکر نے کیا اور اتنا مجھے کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے_یہ سن کر حضرت ابوبکر رو پڑے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اور میرا مال کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سوا کسی اور کیلئے ہیں؟(۳)

یا یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے ابوبکر سے زیادہ اپنے مال یا اہل کے ذریعے مجھ پر احسان نہیں کیا اور ایک اور روایت میں مذکور ہے مجھ پر کسی نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے ابوبکر سے زیادہ احسان نہیں کیا_ اگر اللہ کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو دوست منتخب کرتا_ لیکن اسلام والی برادری اور محبت موجود ہے_ تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیئے گئے سوائے حضرت ابوبکر کے دروازے کے(۴) _

حدیث غار میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم نے ان دونوں کیلئے جلدی میں زاد راہ تیار کیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں ان کیلئے کھانے کا سامان رکھا_ واقدی کہتے ہیں اس دستر خوان میں ایک پکی ہوئی بکری تھی_ اسماء بنت ابوبکر نے اپنا کمربند پھاڑکر اس کے دو حصے کئے_ ایک حصے سے تھیلی کا منہ بند کیااور دوسرے حصے سے پانی کی مشک کا منہ بند کیا_ اسی وجہ سے اسے ذات النطاقین کا لقب ملا(۵) _

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ و التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷ ، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ والتراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۳_ ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲ و لسان المیزان ج۲ ص ۲۳ ، اس کے دیگر مآخذ کا ذکر بعد میں ہوگا_

۴_ مراجعہ ہو صحیح بخاری ( مطابق ارشاد الساری) ج۶ ص ۲۱۴، ۲۱۵ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، الجامع الصحیح (ترمذی )ج۵ ص ۶۰۸ ، ۶۰۹ ، نیز عامر بن فہیرہ والی حدیث سے قبل کی حدیث میں مذکور منابع_

۵_سیرت حلبیہ ج۲ ص ۳۳ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و ۳۳۰_

۳۳۴

ترمذی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی بیٹی دی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دار ہجرت (مدینہ) پہنچایا اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہے_ ایک اور روایت میں مذکور ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کا ہم پر کوئی حق تھا اسے ہم نے ادا کردیا سوائے ابوبکر کے جس کا ہمارے اوپر حق ہے اور قیامت کے دن اللہ اسے اس کی جزا دے گا_(۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ یہ ساری باتیں مشکوک ہیں بلکہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں_

۱_ عامر بن فہیرہ

ابن اسحاق واقدی اور اسکافی وغیرہ کا کلام اس بارے میں ذکر ہوچکا کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر کا آزاد کردہ غلام نہ تھا_ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی اس کو خرید کر آزاد کیا تھانہ کہ حضرت ابوبکر نے_

۲_ نابینا ابوقحافہ

جو روایت یہ کہتی ہے کہ اسماء نے اس جگہ پتھر رکھے تھے جہاں اس کا باپ اپنا مال رکھتا تھا تاکہ ابوقحافہ اس کو چھو کر مطمئن ہوجائے، اس روایت کی نفی درج ذیل امور سے ہوتی ہے_

الف: فاکہی ابن ابوعمر کہتا ہے کہ سفیان نے ابوحمزہ ثمالی سے ہمارے لئے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار کی طرف روانہ ہوئے تو میں جستجو کی غرض سے نکلا کہ شاید کوئی مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بتائے_ پس میں حضرت ابوبکر کے گھر آیا_ وہاں میں نے ابوقحافہ کو پایا وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا لئے میری طرف بڑھا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ یہ کہتے ہوئے میری طرف دوڑا'' یہ ان گمراہوں میں سے ہے جس

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے سلسلے میں تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۲۳ _ ۳۳۰ سیرت حلبی ج۲ ص ۳۲،۳۳،۴۰اور ۳۹، الجامع الصحیح (ترمذی) ج۵ ص ۶۰۹، السیرة النبویة ( ابن ہشام) ج۲، صحیح بخاری باب ہجرت ، فتح الباری ج۷ صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، الدرالمنثور والفصول المہمة ( ابن صباغ) ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ، لسان المیزان ج/۲ ص ۲۳ اور البدایة والنہایة ج۵ ص ۲۲۹ و مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۲ از طبرانی اور الغدیر _ان کے علاوہ بہت سارے دیگر مآخذ موجود ہیں جن کے ذکر کی گنجائشے نہیں ، ان کی طرف رجوع کریں_

۳۳۵

نے میرے بیٹے کو میرا مخالف بنا دیا ہے''_(۱)

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابوقحافہ اس وقت تک نابینا نہ ہوا تھا_ اس حدیث کی سندبھی ان لوگوں کے نزدیک معتبر ہے_

ب: ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ حضرت ابوبکر نے کس وجہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑا_ ان پر حضرت ابوبکر کی طرف سے یہ کیسا ظلم تھا؟ نیز ابوقحافہ (جو ان کے بقول نابینا تھا) کو کہاں سے علم ہوا کہ وہ سارا مال ساتھ لے کر چلے گئے تھے جو وہ یہ کہتا: ''اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ہے''؟

ج: یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسماء نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟ کیا وہ اس وقت زبیر کی بیوی نہ تھی؟ اور کیا اس نے زبیر کے ساتھ پہلے ہی مدینہ کی طرف ہجرت اختیار نہ کی تھی؟ کیونکہ اس وقت مکہ میں حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کسی مشکل یا مصیبت میں مبتلا تھے_اس وقت حضرت ابوبکر کی بیویاں کہاں گئی تھیں؟

۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے

رہایہ دعوی کہ اسماء شام کے وقت کھانا لیکر غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر کے پاس جاتی تھی نیز اس نے ان دونوں کیلئے زاد سفر تیار کیا تھا اور اسی نے ان کیلئے دو سواریاں بھیج دی تھیں، اس طرح اس کو ذات النطاقین کا لقب ملا تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں_

اولًا: یہ کہ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر کے چلے جانے کے تین دن بعد تک بھی کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جن نے اپنے اشعار میں اس کا اعلان کیا تو لوگوں کو علم ہوا _ اگر کوئی یہ کہے کہ تین دن سے مراد غار سے خارج ہونے کے بعد والے تین دن ہیں_ تو یہ بھی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۶۰ _۲۶۱ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قحافہ کی نظر میں اس کا بیٹا دین سے نکلا ہوا انسان تھا اور یہ کہ حضرت ابوبکر عبداللہ و غیرہ کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ روایت اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے _

۳۳۶

درست نہیں، کیونکہ ان لوگوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ غار سے خارج ہونے کے دو دن بعد ان کو علم ہوا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ چلے گئے ہیں_(۱) حلبی شافعی نے اسی طرح ذکر کیا ہے_ اور اس کی صحت وسقم کی ذمہ داری خود اسی کی گردن پر ہوگی_

مغلطای کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکے سے خارج ہونے کا علم حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو نہ تھا چنانچہ وہ دونوں غار ثور میں داخل ہوئے_(۲)

ثانیاً: منقول ہے کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام ہی نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سامان خورد و نوش غار تک پہنچاتے تھے(۳)

بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو پیغام بھیجا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے زاد راہ اور سواری کا بندوبست کریں_ چنانچہ حضرت علیعليه‌السلام نے اس کی تعمیل میں سواری اور زاد راہ کا بندوبست کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ارسال کی_ ادھر حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا تو اس نے زاد سفر اور دو سواریاں بھیجیں یعنی اس کے اور عامر بن فہیرہ کیلئے جیساکہ روایت میں مذکور ہے اور شاید حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے یہ سواری بھی خرید لی ہو_(۴) جیساکہ حضرت علیعليه‌السلام نے شوری والے دن اسی بات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے غار میں کھانا بھیجتا تھا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبروں سے مطلع کرتا تھا؟ وہ بولے:'' نہیں''_(۵)

یہاں سے یہ قول بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابوبکر غار میں ان دونوں کے پاس مکہ کی خبریں پہنچایا کرتا تھا_(۶)

___________________

۱_ السیرة الحلبی ج ۲ ص ۵۱_

۲_ سیرت مغلطای ص ۳۲ _

۳_ تاریخ دمشق (حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی) ج ۱ ص ۱۳۸ نیز اعلام الوری ص ۱۹۰ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۸۴ از اعلام الوری نیز تیسیر المطالب فی امالی الامام علی بن ابی طالب ص ۷۵__

۴_ اعلام الوری ص ۶۳ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۰ اور ص ۷۵ از اعلام الوری و از خرائج و از قصص الانبیاء _

۵_ احتجاج طبرسی ج ۱ ص ۲۰۴ _

۶_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۹، سیرت ابن ہشام اور کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۱۰ از بغوی اور ابن کثیر _

۳۳۷

ثالثاً: نطاق اور نطاقین والی حدیث بھی ایک طرف سے تو اختلاف روایات کا شکار ہے(۱) اور دوسری طرف سے مقدسی نے پہلے قول کو ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے'' کہا جاتا ہے کہ جب چادر والی آیت اتری تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمربند پر ڈالا اور اس کے دو برابر حصے کر دیئے_ ایک حصے سے اپنا سر چھپا لیا''_(۲)

یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماء نے حجاج سے کہا میرے پاس ایک کمربند تھی جس کے ذریعے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کھانے کو بھڑوں سے محفوظ رکھتی تھی اور عورتوں کیلئے ایک کمربند کی بھی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہی ہے_(۳)

حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث

حدیث باب اور ابوبکر سے دوستی والی حدیث''لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا '' (اگر مجھے کسی سے دوستی کرنی ہوتی تو ابوبکر کو دوست بنالیتا) کے سلسلے میں ہم تفصیلی گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ (ابن ابی الحدید) معتزلی کے بیان کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_ اس نے کہا '' ان احادیث کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے مریدوں نے اپنے پیر کی شان میں احادیث گھڑی ہیں مثال کے طور پر'' لوکنت متخذا خلیلا '' والی حدیث _انہوں نے یہ حدیث، بھائی چارے والی حدیث کے مقابلے میں گھڑی ہے_ نیز سد ابواب والی حدیث جو درحقیقت حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں تھی لیکن حضرت ابوبکر کے پرستاروں نے اس کو ابوبکر کے حق میں منتقل کردیا''_(۴)

علاوہ ازیں یہ حدیث ان کی نقل کردہ اس حدیث کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے

___________________

۱_ اس تضاد کے بعض پہلوؤں سے آگاہی کیلئے الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیے پر) ج ۴ ص ۲۳۳ کی طرف رجوع کریں _

۲_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۷۸ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۳۳ _

۴_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۱ ص ۴۹ و الغدیر ج ۵ ص ۳۱۱ _

۳۳۸

ابوبکر کو اپنا دوست چن لیا تھا جیساکہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے_(۱) اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کس کو ما نیں اور کس کو نہ مانیں؟

سد ابواب والی حدیث کے بارے میں شاید ہم کسی مناسب جگہ پر بحث کریں_ اسی طرح دوستی والی حدیث کے بارے میں حدیث مواخاة پر بحث کے دوران گفتگو ہوگی انشاء اللہ تعالی_

۵_ حضرت ابوبکر کی دولت

حضرت ابوبکر کی دولت اور ان کی چالیس ہزار درہم یا دینار نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر خرچ کرنے وغیرہ کے بارے میں عرض ہے کہ اسماء اور ابوقحافہ کے درمیان ہجرت کے دوران ہونے والی مذکورہ گفتگو اور دیگر باتوں کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں گزشتہ پانچ صفحوں میں ذکر شدہ عرائض کے علاوہ ہم درج ذیل نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

الف: وہ حدیث جس میں مذکور تھا کہ ''اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے جتنا احسان ابوبکر نے مجھ پر کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا اوریہ کہ ہمارے ساتھ احسان کرنے والے ہرفرد کا حق ہم نے ادا کردیا ہے سوائے ابوبکر کے جس کے احسان کا بدلہ خدادے گا'' یہ حدیث درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:

۱_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہما کی فدا کاریوں، مالی قربانیوں اور راہ اسلام میں ان کی امداد نیز جان مال اور اولاد کے ذریعے آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بدلہ کب دیا ؟ اسلام کی راہ میں ان دونوں نے جس قدر مال خرچ کیا اور قربانی دی کیاوہ تمام دوسرے انسانوں کی طرف سے اسلام کی راہ میں دی گئی قربانیوں اور دولت سے زیادہ نہ تھی؟ اس کے علاوہ اس دین کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کی واضح خدمات تھیں جن سے سوائے کسی سرکش اور ضدی دشمن کے کوئی انکار نہیں کرسکتا_

___________________

۱_ ریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۶ ،ارشاد الساری ج۶ ص ۸۶ از حافظ السکری ، الغدیر ج۸ ص ۳۴ مذکورہ دونوں مآخذ سے و از کنز العمال ج۶ ص۱۳۸_۱۴۰ طبرانی اور ابونعیم سے_

۳۳۹

۲_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر منت والی حدیث بھی عجیب ہے کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں کسی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت خدیجہعليه‌السلام بلکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے اموال موجود تھے_(۱) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہجرت کے وقت تک ان کو مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے اور شروع شروع میں حضرت ابوطالب کا بوجھ کم کرنے کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کا بھی خرچہ برداشت کرتے تھے_ منقول ہے کہ حضرت عمر نے اسماء بنت عمیس کی سرزنش کی اور کہا کہ مجھے تو ہجرت نصیب ہوئی لیکن تجھے نصیب نہیں ہوئی_ اسماء نے جواب دیا ''تم لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مال کے ساتھ اپنے بھوکوں کو کھلانے اور اپنے جاہلوں کی ہدایت میں مشغول تھے''_ اس کے بعد اسماء نے اس کی شکایت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے دو ہجرتوں سے سر افراز ہوئے جبکہ ان لوگوں نے فقط ایک ہجرت کی ہے_(۲)

۳_ یہاں یہ بتانا کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ ایک یا دو اونٹ ہجرت کے وقت قیمت کے بغیر قبول نہ فرمائے اور قیمت کی ادائیگی بھی فوراً کی، جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سخت ترین حالات سے دوچار تھے_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس مقام پر حضرت ابوبکر کاہدیہ قبول نہ فرمایا تو یہی حال حضرت ابوبکر کی طرف سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مال خرچ کرنے کے بارے میں مروی دیگر روایات کا بھی ہے_

۴_ ان باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے مکہ میں کوئی لشکر ترتیب نہیں دیا اور نہ کوئی جنگ کی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لشکر کی تیاری نیز سواریوں اور سامان حرب پر وسیع پیمانے پر خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عیش وعشرت پر بھی مال خرچ نہ فرماتے تھے_

___________________

۱_ ابتدائے بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابوطالب شعب ابوطالب میں بنی ہاشم پر اپنا مال خرچ کرتے تھے_ رہی بات حضرت خدیجہعليه‌السلام کی دولت تو وہ اپنی شہرت کی بنا پر محتاج بیاں نہیں حضرت خدیجہ کے اموال کے بارے میں ابن ابی رافع کا کلام پہلے گزر چکا ہے_

۲_ رجوع کریں : الاوائل ج ۱ ص ۳۱۴ و البدایة و النہایة ج ۴ ص ۲۰۵ از بخاری و صحیح بخاری ج ۳ ص ۳۵ مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ، صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۷۲، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۶ از ابونعیم اور طیالسی نیز رجوع کریں فتح الباری ج ۷ ص ۳۷۲ اور مسند احمد ج ۴ ص ۳۹۵ اور ۴۱۲ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۶۱_

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417