الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209964 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

ایسے شخص کا پتہ پوچھا جو سب سے زیادہ بات پھیلانے والاہو لوگوں نے اس شخص کی نشاندہی کی_ حضرت عمر نے اسے اپنے مسلمان ہونے کی خبردی_ اس شخص نے قریش کے درمیان اس بات کا اعلان کیا یہ سن کر لوگ حضرت عمرکو مارنے کیلئے اٹھے لیکن ان کے خالو نے انہیں امان دے دی یوں لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا_

لیکن حضرت عمر نے اس کی امان میں رہنے سے انکار کیا کیونکہ دوسرے مسلمانوں کو مارپڑ رہی تھی اوران کو نہیں_ راوی کہتا ہے کہ نتیجتاً حضرت عمر بھی مار کھاتے رہے یہاں تک کہ خدانے اپنے دین کو ظاہر کردیا_

پانچویں روایت کے مطابق طواف کرتے وقت حضرت عمر سے ابوجہل نے کہا : ''فلان شخص کا خیال ہے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے'' _ حضرت عمر نے کلمہ دین پڑھا تو یہ سن کر مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے _ حضرت عمر، عتبہ ابن ربیعہ کوپچھاڑ کر مارنے لگے_ پھر اپنی دونوں انگلیوں کو اس کی آنکھوں میں ڈال دیا_ عتبہ چیخنے لگا تو لوگ بکھر گئے اور حضرت عمر بھی اٹھ کھڑے ہوئے_ یہ دیکھ کر سوائے بزرگوں کے کوئی ان کی طرف بڑھنے کی جرا ت نہ کرسکا اور حضرت حمزہ لوگوں کو وہاں سے ہٹانے لگے_

چھٹی روایت کی رو سے وہ قبول اسلام سے قبل شراب نوشی کیا کرتے تھے_ایک رات وہ اپنی پسندیدہ محفل کی طرف نکل پڑے لیکن وہاں کسی کو نہ پایا_ شراب فروش کو ڈھونڈا لیکن وہ بھی نہ مل سکا _پھر طواف کرنے گئے تو دیکھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز پڑھ رہے ہیں_ حضرت عمر کا دل چاہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات سنے چنانچہ وہ کعبے کے پردے کی آڑ میں بیٹھ کر سننے لگے، یوں اسلام ان کے دل میں داخل ہوا_ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا وہاں سے اٹھے اور اپنے گھر جو قطاء کے نام سے معروف تھا، کی طرف چلے تو راستے میں حضرت عمر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جا ملے اوراظہار اسلام کر کے اپنے گھر کی راہ لی_

''العمدہ''کے مطابق کہتے ہیں کہ حضرت عمر تینتیس ۳۳ مردوں اور چھ عورتوں کے قبول اسلام کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے_ ابن مسیب نے کہا ہے کہ چالیس مردوں اور دس عورتوں کے بعد حضرت عمر مسلمان ہوئے_ عبداللہ بن ثعلبہ کا بیان ہے پینتالیس ۴۵ مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد ایسا ہوا _ یہ بھی

۱۲۱

کہا گیا ہے کہ حضرت عمر چالیسویں مسلمان تھے _ پھر حضرت عمرکے قبول اسلام کے بعد یہ آیت اتری (یایہا النبی حسبک اللہ و من اتبعک من المومنین)(۱) یعنی اے حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کیلئے بس خدا اور جو مومنین آپ کے تابع فرمان ہیں کافی ہیں_(۲)

مزید تمغے

بعض افراد کا کہنا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عمر کے مسلمان ہونے سے قبل یوں دعا کی تھی: ''اے اللہ اسلام کی تقویت فرما ،عمر ابن خطاب کے ذریعے''_ ایک اور جگہ یوں نقل ہوا ہے: ''خدا اسلام کی مدد فرما (یاتقویت فرما) ابوالحکم بن ہشام کے ذریعے یا عمر ابن خطاب کے ذریعے'' _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بدھ کے روز یہ دعا کی اور حضرت عمر جمعرات کے دن مسلمان ہوئے_

ابن عمر سے مروی ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے فرمایا :''خدایا ابوجہل یا عمر بن خطاب میں سے تیرے نزدیک جو زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے اسلام کی تقویت فرما''_ ابن عمر کہتا ہے خداکے نزدیک عمرزیادہ عزیز تھے_ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عمر کا قبول اسلام ، اسلام کی فتح تھی، ان کی ہجرت اسلام کی نصرت تھی اور ان کی حکومت خدا کی رحمت تھی _جب وہ مسلمان ہوئے تو قریش سے لڑتے رہے یہاں تک کہ مسلمانوں

___________________

۱_ سورہ انفال، آیت ۶۴ _

۲_ رجوع کریں: الاوائل (عسکری) ج ۱ص ۲۲۱_۲۲۲نیز الثقات (ابن حبان) ص ۷۲_۷۵ البدء و التاریخ ج ۵ص ۸۸_۹۰مجمع الزوائد ج ۹ص ۶۱از بزار و طبرانی تاریخ طبری ۲۳ہجری کے حالات میں، طبقات ابن سعد ج ۳ص ۱۹۱، عمدة القاری ( عینی) ج ۸ص ۶۸، سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۶_۳۷۴، تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۵_۲۹۷، تاریخ عمر بن خطاب(ابن جوزی)ص ۲۳_۳۵، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۱ اور ۷۵_۸۰ _نیز السیرة الحلبیة ج۱ص ۳۲۹_۳۳۵، السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۳۲_۱۳۷، المصنف (حافظ) ج ۵ص ۳۲۷_۳۲۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۲ص ۱۸۲_۱۸۳، اسباب انزول (واحدی)، حیاة الصحابة ج ۱ص ۲۷۴_۲۷۶ و الاتقان ج ۱ص ۱۵اور الدر المنثور ج ۳ص ۲۰۰ کشف الاستار از مسند البزار ج۳ ص ۱۶۹ تا ۱۷۲ اور لباب النقول مطبوعہ دار احیاء العلوم ص ۱۱۳،ان کے علاوہ دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۴ تا ۹ مطبوعہ دار النصر للطباعة اور دیگر کتب تاریخ اور حدیث کی طرف رجوع کریں_

۱۲۲

نے کعبہ کے پاس نماز پڑھی_(۱)

ان کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کہاگیا ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ ترمذی نے ان میں سے بعض روایات کو صحیح مانتے ہوئے بھی ان تمام روایات پر تعجب کا اظہار کیا ہے _

ہم حضرت عمرکے قبول اسلام سے مربوط تمام مذکورہ بالا باتوں اور روایات کو بھی شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ باتیں بالکل بے بنیاد ہیں _ اس بات کی توضیح کیلئے درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱_ عمر کب مسلمان ہوئے؟

گذشتہ روایات کی رو سے وہ حمزہ بن عبد المطلب کے قبول اسلام کے تین دن بعد مسلمان ہوئے_ عمر کا قبول اسلام اس بات کا سبب بنا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھرسے باہر نکلیں ، یعنی جب مسلمانوں کی تعداد چالیس یا اس کے لگ بھگ ہوگئی_

یہاں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں:

الف: وہ خود ہی کہتے ہیں کہ ارقم کے گھر سے نکلنے کا واقعہ بعثت کے تیسرے سال کا ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا، جبکہ اہلسنت کہتے ہیں کہ حضرت عمر بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے_

ب: ان کا کہنا ہے کہ حضرت عمر نے ہجرت حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا چنانچہ جب مسلمان کوچ کی

___________________

۱_ ان روایات کے بارے میں رجوع کریں: البدء و التاریخ ج ۵ص ۸۸، سیرت مغلطای ص ۲۳و منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج ۴ص ۴۷۰از طبرانی، احمد، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی، ترمذی، نسائی از عمر، خباب، ابن مسعود، الاوائل ج ۱ص ۲۲۱، طبقات ابن سعد ج ۳حصہ اول ص ۱۹۱_۱۹۳ و جامع ترمذی مطبوعہ ہند ج ۴ص ۳۱۴_۳۱۵، دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۷ نیز تحفہ الاحوذی ج ۴ص ۳۱۴ نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۹و البخاری مطبوعة میمنیة، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص۳۲۵، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۱ ص۲۷۱ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۳۰تاریخ اسلام (ذہبی) ج ۲ص ۱۰۲و تاریخ الخمیس و سیرت ابن ہشام و سیرت دحلان و مسند احمد و سیرت المصطفی و طبرانی در الکبیر و الاوسط و مشکاة_ نیز دیگر کتب تاریخ اور حدیث_

۱۲۳

تیاری کررہے تھے تو حضرت عمر کا دل بھر آیا یہاں تک کہ مسلمانوں نے امید ظاہر کی کہ حضرت عمر مسلمان ہوجائے گا اور ہجرت حبشہ بعثت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے جبکہ ارقم کے گھر سے نکلنے کا واقعہ اس سے پہلے یعنی بعثت کے تیسرے سال وقوع پذیر ہوا_

ج:حضرت عمر مسلمانوں کو ستانے میں مشرکین کے ساتھ تھے اور یہ بات ارقم کے گھر سے نکلنے اور اعلانیہ دعوت شروع ہونے کے بعد کی بات ہے ،بلکہ ہم تو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بعثت کے چھٹے سال تک بھی مسلمان نہیں ہوئے تھے کیونکہ:

اولًا: یہی لوگ خود کہتے ہیں کہ حضرت عمر نماز ظہر کے فرض ہونے کے بعد مسلمان ہوئے چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عمر کی مدد سے نماز ظہر اعلانیہ پڑھی (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے) جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں کہ نماز ظہر واقعہ معراج (جو خود ان کے نزدیک بعثت کے بارہویں یا تیرہویں سال پیش آیا) کے دوران واجب ہوئی_ بنابریں ان کی باتوں میں تضاد ہے_ بعض لوگوں نے اس کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ یہاں مراد نماز صبح ہے_(۱) لیکن یہ توجیہہ غلط ہے کیونکہ لفظ ''ظہر'' ، ''صبح'' کے لئے استعمال نہیں ہوتا اور اگر ان کی مراد یہ ہو کہ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی صبح کی نماز سورج کے ابھرنے تک مؤخر کر کے پڑھتے تھے تو یہ توجیہ بھی نامعقول ہے کیونکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی نماز میں کسی عذر شرعی کے بغیر کیسے تاخیر کرسکتے تھے؟

ثانیاً: عبداللہ بن عمر صریحاً کہتا ہے کہ جب اس کے والد مسلمان ہوئے تو اس وقت اس کی عمر چھ سال تھی_(۲) بعض حضرات کا خیال ہے کہ وہ پانچ سال کا تھا_(۳)

اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر کے قبول اسلام کے وقت عبداللہ بن عمر گھرکی چھت پر موجود تھااس نے دیکھا کہ لوگوں نے اس کے باپ کے خلاف ہنگامہ کر رکھا ہے ادر اسے گھر میں محصور کردیا ہے_ اتنے میں

___________________

۱_ سیرت حلبی ج ۱ص ۳۳۵ _

۲_ تاریخ عمر بن خطاب از ابن جوزی ص ۱۹و طبقات ابن سعد ج ۳ص ۱۹۳ (حصہ اول) و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۲ص ۱۸۲_

۳_ فتح الباری ج ۷ص ۱۳۵ _

۱۲۴

عاص بن وائل نے آکر ان کو منتشر کردیا_ اس وقت ابن عمرنے اپنے باپ سے بعض چیزوں کے متعلق استفسار کیا جس کا ذکر آگے آئےگا_

نیز ابن عمر کہتا ہے کہ جب اس کا باپ مسلمان ہوا تو اس نے باپ کی نگرانی شروع کی کہ وہ کیا کرتا ہے، کہتا ہے اس وقت میرے لڑکپن کا دور تھا اور میں جو کچھ دیکھتا اسے سمجھتا بھی تھا_(۱) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عمر ان دنوں باشعور اور سمجھدار تھا_ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمرنے بعثت کے نویں سال اسلام قبول کیا جیساکہ بعض لوگوں کا خیال بھی ہے_(۲) کیونکہ ابن عمر بعثت کے تیسرے سال پیدا ہوا تھا ہجرت کے پانچویں سال جب جنگ خندق ہوئی تو ابن عمر کی زندگی کے پندرہ سال گزر چکے تھے چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے (بنابرمشہور) اس کو جنگ میں شرکت کی اجازت دی(۳) بلکہ ابن شہاب کے مطابق تو حفصہ اور عبداللہ ابن عمر اپنے باپ عمر سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور جب ان کا باپ عمر مسلمان ہوا تو اس وقت عبدا للہ کی عمر سات سال کے لگ بھگ تھی(۴) اس بات کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر بعثت کے دسویں سال مسلمان ہوئے _ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت عمر ہجرت سے قدرے پہلے تک مسلمان نہیں ہوئے تھے_ اس کی دلیل درج ذیل امور ہیں:

الف: یہ کہ انہیں خبر ملی کہ ان کی بہن مردار نہیں کھاتی_(۵)

واضح ہے کہ مردار کھانے کی مخالفت سورہ انعام میں ہوئی ہے جو مکہ میں ایک ساتھ نازل ہوئی_ اس وقت قبیلہ اوس کی ایک عورت (اسماء بنت یزید) نے بعض روایات کی بنا پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی(۶) واضح رہے کہ قبیلہ اوس اور مدینہ والوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طائف کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۱و تاریخ الاسلام (ذہبی) ج ۲ص ۱۰۵و سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۳_۳۷۴ _

۲_ السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۳۹البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۲و مروج الذہب مطبوعہ دار الاندلس بیروت ج ۲ص ۳۲۱_

۳_ سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۲۰۹، تہذیب الکمال ج ۱۵ ص ۳۴۰ ، الاصابہ ج ۲ ص ۳۴۷، اسی کے حاشیہ پر الاستیعاب ج ۲ ص ۳۴۲ اور باقی منابع کے لئے ملاحظہ ہو ہماری کتاب '' سلمان الفارسی فی مواجہة التحدی'' (سلمان فارسی چیلنجوں کے مقابلے میں )ص ۲۴_

۴_ سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۲۰۹_ ۵_ المصنف ( حافظ عبد الرزاق) ج ۵ص ۳۲۶ _ ۶_ الدر المنثور ج ۳ص ۲از طبرانی اور ابن مردویہ_

۱۲۵

کیا تھا اور ان کی عورتیں پہلی بیعت عقبہ کے بعد مکہ آئی تھیں_

ب:بعض لوگوں نے اس بات کو حقیقت سے قریب تر سمجھا ہے کہ حضرت عمر نے ہجرت حبشہ کے بعد چالیس یا پینتالیس افراد کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام قبول کیا(۱) اس کی تائید یوں ہوتی ہے کہ بعثت کے پانچویں سال حبشہ جانیوالے افراد کی تعداد اسّی ۸۰ مردوں سے زیادہ تھی اور ان کے بقول حضرت عمر بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پینتالیس مسلمان ہونے والے افراد لازمی طور پر ہجرت کرنے والے ان اسّی افراد کے علاوہ ہونے چاہئیں_اگرچہ ابن جوزی نے حضرت عمر سے قبل مسلمان ہونے والوں کو شمار کیا ہے اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کی تعداد بیشتر بتائی ہے_(۲)

نیز اس امر کی تائیدان روایات سے بھی ہوتی ہے جن کے مطابق حضرت عمر بعثت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے اور یہ کہ حبشہ جانے والوں کو دیکھ کر ان کا دل پسیجا یہاں تک کہ مسلمانوں کو حضرت عمر کے مسلمان ہونے کی امید بندھی_

جب صورت حال یہ ہے تو واضح ہواکہ (جیساکہ مدینہ میں مہاجرین وانصار کے درمیان مواخات کی بحث میں آگے چل کر ذکر ہوگا) اس وقت مہاجرین کی تعداد پینتالیس یا اس کے لگ بھگ تھی(۳) یعنی ہجرت حبشہ کے بعد مسلمان ہونے والے صرف یہی پینتالیس کے قریب افراد تھے _ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عمر ہجرت مدینہ سے کچھ ہی پہلے اسلام لائے تھے اور اس کے بعد ہجرت کی تھی اور شاید اسی لئے مکہ میں وہ مشرکین کی ایذا رسانی سے بچے رہے_

ج:حضرت عمر کے قبول اسلام کے حوالے سے روایات میں ذکر ہوا ہے کہ ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بلند

___________________

۱_ الثقات از ابن حسان ج ۱ ص ۷۳، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۸۰، البدء و التاریخ ج ۵ ص ۸۸_

۲_ تاریخ عمر بن خطاب از ابن جوزی ص ۲۸_۲۹_

۳_ اگرچہ ابن ہشام نے ہجرت کرنے والوں کی تعداد ستر کے قریب بتائی ہے لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جن لوگوں میں بھائی چارہ قائم کیا ان کی تعداد ایک سے زیادہ اسناد کے ساتھ منقول ہے اور یہ امر غیرقابل قبول ہے کہ حضور نے کسی صحابی کا بھائی چارہ دوسرے کے ساتھ قائم نہ کیا ہو_

۱۲۶

آواز سے نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت عمرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریب آئے اور سنا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ آیات پڑھ رہے ہیں( وما کنت تتلو من قبله من کتاب ولاتخطه بیمینک الظالمون ) (۱) واضح ہے کہ یہ دو آیتیں سورہ عنکبوت کی ہیں جو یاتو مکہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے یا آخری سے پہلی سورت_(۲) پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ہجرت کے قریب قریب مسلمان ہوئے تھے_

د:بخاری نے صحیح بخاری میں نافع سے روایت کی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عمر اپنے باپ حضرت عمر سے پہلے مسلمان ہوا _نافع نے اس کی یوں تاویل کی ہے کہ ابن عمرنے بیعت شجرہ کے موقع پرحضرت عمر سے پہلے بیعت کی تھی اسلئے لوگ کہتے ہیں کہ ابن عمر نے حضرت عمر سے پہلے اسلام قبول کیا_(۳)

لیکن ہم نافع سے سوال کرتے ہیں کہ کیا لوگ عربی زبان نہ جانتے تھے؟اگر جانتے تھے تو پھر انہوں نے یہ کہنے کی بجائے کہ ابن عمر نے اپنے باپ سے پہلے بیعت کی تھی کیونکر یہ کہا کہ وہ اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوا _نیز کیا ان میں کوئی اتنا بھی نہ جانتا تھا کہ بیعت کرنا اور چیز ہے ، اسلام قبول کرنا اور چیز ہے_ پس بیعت سے مراد قبول اسلام کیسے ہوسکتا ہے؟

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگ جو کہتے تھے وہی درست ہے، یعنی یہ کہ ابن عمر دس سال کی عمر میں ہجرت سے کچھ پہلے مسلمان ہوااور اس کے بعد اس کے باپ مسلمان ہوئے اور مدینہ کی طرف ہجرت کی_

۲_ حضرت عمر کو فاروق کس نے کہا؟

گذشتہ روایات میں ہم نے پڑھا کہ جب حضرت عمر مسلمان ہوئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو فاروق کا لقب دیا _ لیکن ہماری نظر میں یہ بات نہایت مشکوک ہے کیونکہ زہری کہتا ہے ''ہمیں خبر ملی ہے کہ اہل کتاب

___________________

۱_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج ۵ص ۳۲۶نیز حضرت عمر کے قبول اسلام کے بارے میں ذکرشدہ مآخذ کی طرف رجوع کریں_

۲_ الاتقان ج ۱ ص ۱۰_۱۱_

۳_ صحیح بخاری (مطبوعہ مشکول) ج ۵ص ۱۶۳ _

۱۲۷

نے پہلے پہل حضرت عمر کو الفاروق کہہ کرپکارا _ مسلمانوں نے یہ لفظ ان سے لیا ہے اور ہمیں کوئی ایسی روایت نہیں ملی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس قسم کا لقب دیا ہو''(۱) جبکہ فاروق کا لقب انہیں ایام خلافت میں ملا تھا(۲)

۳_ کیا حضرت عمر کو پڑھنا آتا تھا؟

روایات میں مذکور ہے کہ حضرت عمر کو پڑھنا آتا تھا اور انہوں نے صحیفہ قرآنی کو خود پڑھا تھا_

ہمارے نزدیک تو یہ بات بھی مشکوک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کو نہ پڑھنا آتا تھا نہ لکھنا خصوصاً شروع شروع میں_ زندگی کے آخری ایام میں لکھنا پڑھنا سیکھ گئے ہوں تویہ اور بات ہے_ اس کی دو وجوہات ہیں:

پہلی وجہ: بعض حضرات نے صریحاً کہا ہے کہ خباب بن ارت نے انہیں نوشتہ قرآنی پڑھ کر سنایا تھا_(۳) پس اگر وہ پڑھ سکتے تو معاملے کی سچائی اور حقیقت جاننے کے لئے اسے خود کیوں نہیں پڑھا_

دوسری وجہ: حافظ عبدالرزاق نے( ان لوگوں کے بقول) صحیح سند کے ساتھ مذکورہ واقعے کو نقل کیا ہے لیکن اس نے کہا ہے کہ حضرت عمرنے (اپنی بہن کے گھر میں) شانے کی ہڈی (جس پر قرآن کی آیات مرقوم تھیں) تلاش کی اور جب وہ مل گئی تو حضرت عمرنے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ تو وہ کھانا نہیں کھاتی جو میں کھاتا ہوں_ پھر اس ہڈی سے اپنی بہن کو مارا اور اس کے سر کو دوجگہوں سے زخمی کردیا _ پھر وہ ہڈی لیکر نکلے اور کسی سے پڑھوایا_ حضرت عمر ان پڑھ تھے _جب وہ نوشتہ انہیں پڑھ کرسنایا گیا تو ان کا دل دہل گیا_(۴) اس بات کی تائید عیاض ابن ابوموسی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ عمر بن خطاب نے ابوموسی سے کہا:

___________________

۱_ تاریخ عمر ابن خطاب ( ابن جوزی )ص ۳۰، طبقات ابن سعد ج ۳حصہ اول ص ۱۹۳، البدایة و النہایة ج ۷ص ۱۳۳، تاریخ طبری ج ۳ص ۲۶۷سنہ۲۳ہجری کے واقعات اور ذیل المذیل ج ۸از تاریخ طبری_

۲_ ملاحظہ ہو: طبقات الشعراء (ابن سلام ) ۴۴_

۳_ تاریخ ابن خلدون ج۲ص ۹ _

۴_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج ۵ص ۳۲۶_

۱۲۸

''اپنے محرر کو بلاؤ تاکہ وہ ہمیں شام سے پہنچنے والے چند خطوط پڑھ کر سنائے''_ ابوموسی نے کہا : ''وہ مسجد میں داخل نہیں ہوتا'' عمرنے پوچھا : ''کیا وہ مجنب ہے؟ ''جواب ملا : ''نہیں بلکہ وہ تو نصرانی ہے'' _ پس حضرت عمر نے اپنا ہاتھ اٹھاکر اس کی ران پر مارا ،قریب تھا کہ ران کی ہڈی ٹوٹ جاتی_(۱)

ممکن ہے کوئی یہ جواب دے کہ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی خلفاء کبھی کبھی اپنے عہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے بذات خود نہیں پڑھتے تھے ، یا یہ کہ وہ خطوط عربی میں نہیں لکھے گئے تھے_ لیکن بظاہر یہ تکلفات بعد کی پیداوار ہیں _علاوہ برایں شامیوں کی زبان ہمیشہ عربی رہی ہے اور یہ بعید بات ہے کہ انہوں نے عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں خطوط لکھے ہوں_

مذکورہ بات کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمر عالمانہ ذہنیت کے مالک نہ تھے_ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے بارہ سال میں سورہ بقرہ یادکیا_ جب یاد کرلیا تو حیوان کی قربانی دی_(۲)

بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ جب حضرت عمر نے حضرت حفضہ سے کہا کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کلالہ کا حکم معلوم کرے اور حضرت حفصہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چند تحریروں کی صورت میں انہیں املا کر دیا_ پھر فرمایا: '' عمر نے تجھے اس کا حکم دیا ہے ؟میرا تو یہ خیال ہے کہ وہ اسے نہیں سمجھ پائے گا_(۳)

بہت سے لوگوں کی روایت کے مطابق نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت عمر کے روبرو یہی بات کہی_(۴)

ہاں ممکن ہے حضرت عمرنے مشقت اٹھاکر نئے سرے سے لکھنا پڑھنا سیکھا ہو جیساکہ بخاری نے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر کہاکرتے تھے اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کیا ہے تو آیہ رجم کو اپنے ہاتھ سے لکھتے

___________________

۱_ عیون الاخبار (ابن قتیبة) ج ۱ ص ۴۳، الدرالمنثور ج۲ ص ۲۹۱ از ابن ابی حاتم و بیہقی در شعب الایمان اور حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۸۵ از تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۶۸_

۲_ تاریخ عمر از ابن جوزی ص ۱۶۵، الدر المنثور ج ۱ص ۲۱از خطیب نیز البیہقی در شعب الایمان و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۲ص ۶۶، الغدیر ج ۶ص ۱۹۶از مآخذ مذکور و از تفسیر قرطبی ج ۱ ص۳۴ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۲۸۰ از تنویر الحوالک ج ۲ ص ۶۸_

۳_ المصنف ( حافظ عبد الرزاق) ج ۱۰ص ۳۰۵ _

۴_ رجوع کریں: الغدیر ج ۶ص ۱۱۶ (ایک سے زیادہ مآخذ سے منقول) اور ص ۱۲۸ _

۱۲۹

بہر حال معاملہ جو بھی ہو لیکن خلیفہ ثانی کے پڑھے لکھے ہونے کے متعلق شک کرنے والے ہم پہلے آدمی نہیں ہیں بلکہ یہ موضوع تو پہلی صدی ہجری سے ہی معرکة الآراء رہا ہے یہی زہری کہتاہے کہ '' ہم عمر بن عبدالعزیز ( جو اس وقت مدینہ کا گورنر تھا _ پھر اس کے بعد عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ مدینہ کا گورنر بنا تھا) کے پاس بیٹھے اس موضوع کے متعلق بحث کررہے تھے تو اس نے کہا :'' اگر ان لوگوں کے پاس اس بارے میں کوئی خبر ہے تو میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا عمر لکھنا جانتا تھا؟'' عروة نے کہا : '' ہاں جانتا تھا'' اس نے پوچھا : '' تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ ''عروہ نے کہا : '' عمر کا یہ کہنا کہ اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے قرآن مجید میں اضافہ کیا ہے تو میں آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے قرآن میں لکھتا اس کی دلیل ہے'' _ عبداللہ کہتاہے : '' کیا عروہ نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ اسے یہ حدیث کس نے بتائی ہے ؟ ''میں نے کہا : '' نہیں'' عبیداللہ کہتاہے: '' عروة کی مثال اس مچھر کی طرح ہے جو خون تو چوستاہے مگر اپنا نشان کہیں نہیں چھوڑتا ہماری حدیثیں چوری کرتاہے لیکن ہمیں چھپا دیتاہے'' یعنی حدیث میں نے بیان کی ہے_

نکتہ :

جب یہ بات مشکوک یا ثابت ہوجائے کہ حضرت عمر پڑھے لکھے نہیں تھے تو لا محالہ ان کا یہ قول بھی مشکوک ہوجائے گا کہ وہ کاتب وحی تھے_ اور شاید یہ بھی ان تمغوں میں سے ہے جنہیں حضرت عمر کے ان وفاداروں نے گھڑا ہے جنہیں حضرت عمر کی اس فضیلت سے محرومی بہت گراں گزری ہے _ مزید یہ کہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جناب عمر نے ابوموسی کی ران پر اس زور سے مارا کہ اس کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا صرف اس لئے

___________________

۱_ حلیة الاولیاء ج ۹ص ۳۴از کنز العمال ج ۵ص ۵۰از ابن سعد، سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم_

۲_ کنز العمال ج ۶ ص ۲۹۵_

۱۳۰

کہ اس نے نصرانی محرر رکھا ہوا تھا_ جبکہ وہ لوگ خود ہی کہتے ہیں کہ خود حضرت عمر کا اپنا ایک نصرانی غلام تھا جو آخری دم تک مسلمان نہیں ہوا تھا _ وہ اسے اسلام لانے کی پیشکش کرتے لیکن وہ انکار کرتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمر کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نصرانی غلام کو آزاد کردیا(۱) _ خلیفہ ثانی کے موقف میں یہ کتنا تضاد ہے ؟ اور اس کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے ؟ صرف یہ کہ ابوموسی پر اس کا اعتراض اس کے منصبی لحاظ سے صرف اس بناپر تھا کہ مسلمانوں کے داخلی امور میں ایک نصرانی سے کام لیتا تھا_ اور یہ کام مسلمانوں کی خدمت غیر مسلم سے کرانے والا مسئلہ بھی نہیں (کیونکہ حساس مسئلہ تھا_ جبکہ خلیفہ وقت کے پاس ایک نصرانی گھر کا بھیدی تھا _از مترجم)

۴_ کیا واقعی حضرت عمر اسلام کی سربلندی کا باعث بنے ہیں؟

منقول ہے کہ حضرت عمر کی برکت سے اسلام کو تقویت یا سربلندی ملی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے خدا سے دعا مانگی تھی کہ وہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو سربلندی اور تقویت عطا کرے ...بلکہ بعض روایتوں کے مطابق تو وہ زمانہ جاہلیت میں بھی زور آور تھے _ کیونکہ جب انہوں نے ابوبکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کا ہمدرد اور مونس ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے کہا :''میرا تو تیری حمایت کرنے کا ارادہ تھا اور تو میرے متعلق یہ کہہ رہا ہے _ اس لئے کہ تو جاہلیت میں تو زور آور تھا لیکن اسلام میں بزدل ہے ...''(۲) ہمارے نزدیک یہ بات نہ فقط مشکوک ہےبلکہ بے بنیاد ہے اور اس کی وجوہات یہ ہیں:

___________________

۱_ حلیة الاولیاء ج۹ ص ۳۴ از کنز العمال ج۵ ص ۵۰ از ابن سعد، سعید بن منصور ، ابن منذر ، ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم، طبقات الکبری ج۶ ص ۱۰۹ ، التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۱۰۲ ، نظام الحکم فی الشریعة والتاریخ والحیاة الدستوریہ ص ۵۸ از تاریخ عمر ( ابن جوزی) ص ۸۷ و ص ۱۴۸ _

۲_ کنز العمال ج۶ ص ۲۹۵_

۱۳۱

الف: جب شیخ ابطح حضرت ابوطالب ،خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر حضرت حمزہ(جنہوں نے مشرکین کے سرغنہ ابوجہل کا سر پھوڑا تھا )اور بنی ہاشم کے دیگر صاحبان عزت وشرف افراد کے بارے میں یہ نہیں کہتے کہ ان سے اسلام کو عزت وتقویت ملی تو پھر حضرت عمر اسلام کی تقویت اور عزت کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟ جو خود ایک معمولی خادم(۱) کی حیثیت سے شام کے سفر میں ولید بن عقبہ کے ساتھ گئے تھے_(۲) وہ عمر جن کے قبیلے میں کوئی قابل ذکر بزرگ یا رئیس نہ تھا_(۳)

وہ عمر جنہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے ساتھ گزرنے والی پوری زندگی میں شجاعت ومردانگی کی کوئی ایک مثال بھی قائم نہیں کی_ ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت عمرنے نہ ہی کوئی لڑائی لڑی، نہ کسی جنگ میں کوئی جرا ت مندانہ اقدام کیا، جبکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے دور میں بہت سی جنگیں ہوئیں _

بلکہ اس کے برعکس ہم تو کئی جنگوں میں حضرت عمر کو میدان جنگ سے فرار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں_ مثال کے طور پر جنگ احد، جنگ حنین اور جنگ خیبر میں _جیساکہ سیرت نگاروں، تاریخ نویسوں اور محدثین کی ایک بڑی تعداد نے اس کا ذکر کیا ہے_ آئندہ اس کا تذکرہ ہوگا انشاء اللہ _

زمخشری نے یہاں ایک عجیب لطیفے کی بات نقل کی ہے اور وہ یہ کہ انس بن مدرکہ نے ایام جاہلیت میں قریش کے ایک گلے پر ڈاکہ ڈالا اور اس کو لے کر چلتا بنا _اپنی خلافت کے دوران حضرت عمرنے اس سے کہا :''ہم نے اس رات تمہارا تعاقب کیا تھا اگر ہمارے ہاتھ لگ جاتے تو تمہاری خیر نہیں تھی'' اس نے جواب دیا:''اس صورت میں آج آپ، لوگوں کے خلیفہ نہ ہوتے''_(۴)

جی ہاں اسلام کی سرافرازی اور تقویت حضرت عمر کے ذریعے کیسے ہوسکتی تھی؟ کیونکہ نہ توانہیں بذات خود کوئی حیثیت حاصل تھی، نہ ہی اپنے قبیلے کی وجہ سے کوئی عزت تھی اور نہ ہی وہ اتنے بہادر تھے کہ لوگ ان سے ڈرتے_

___________________

۱_ رجوع کریں: اقرب الموارد لفظ ''عسف''_اور''عسیف '' کا ایک اور معنی کرایہ کامزدور یا غنڈہ بھی ہے _

۲_ المنمق ( ابن حبیب) مطبوعہ ھند صفحہ ۱۴۷اور شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۲ص ۱۸۳_

۳_ المنمق ص ۱۴۷ _

۴_ ربیع الابرار ج ۱ص ۷۰۷ _

۱۳۲

ب: چاہے ہم اس بات کے قائل ہوں کہ حضرت عمر شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے واقعہ سے پہلے مسلمان ہوئے یا یہ کہیں کہ اس واقعہ کے بعد مسلمان ہوئے ، پھر بھی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ حالات جوں کے توں رہے کیونکہ اگر ہم حضرت عمر کے قبول اسلام سے پہلے اور اس کے بعد دعوت اسلام کے تدریجی سفرکو ملاحظہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کے قبول اسلام کے بعد کوئی زیادہ پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوا_ ایک طرف سے مشرکین نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بنی ہاشم کو شعب ابوطالب میں محصور کردیا ، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرنے کے قریب ہوگئے _ان کے مرد درخت ببول کے پتے کھاتے تھے اور ان کے بچے بھوک سے بلبلا تے تھے_

ادھر مشرکین نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کی سازش کی اور وفات ابوطالب کے بعد جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سفر طائف سے لوٹے تو بہت مشکل سے شہر مکہ میں داخل ہوسکے_ ان سخت حالات میں عمر نے کہیں بھی کسی قسم کا حل پیش کرنے میں مدد نہیں کی _ان باتوں کے علاوہ ابولہب نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو ستانے کیلئے مسلسل اذیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا_

ج: امام بخاری نے صحیح بخاری اور دیگر کتب میں عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ جب عمر ڈرکے مارے گھرمیں محصور تھے، اس وقت عاص بن وائل ان کے پاس آیا اور اس نے پوچھا'' تمہاراکیا حال ہے؟'' وہ بولے :''تمہاری قوم کا کیا پتہ ہے اگر مسلمان ہوجاؤں تووہ مجھے قتل کردیں '' _وہ بولا :'' جب میں نے تجھے امان دے دی ہے تو وہ تجھے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے'' _حضرت عمر کہتے ہیں:''جب اس نے یہ کہا تو مجھے سکون حاصل ہوا اور میں ایمان لایا'' _ اس کے بعد اس نے ذکر کیا ہے کہ عاص نے کس طرح لوگوں کو حضرت عمر سے دور رکھا _ذہبی نے حضرت عمر کے اس قول ''مجھے اس کی قوت وجبروت سے حیرت ہوئی ...''کا بھی اضافہ کیا ہے _(۱)

___________________

۱_ رجوع کریں: صحیح بخاری ج ۵ص ۶۰_۶۱مطبوعہ مشکول (اس میں دو روایتیں مذکور ہیں) نیز تاریخ الاسلام (ذہبی) ج ۲ص ۱۰۴، نسب قریش از مصعب زبیری ص ۴۰۹تاریخ عمر از ابن جوزی ص ۲۶و السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۳۲، سیرت نبویہ (دحلان) ج ۱ص ۱۳۵، سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۴،ر البدایة و النہایة ص ۸۲ اور دلائل النبوة (بیہقی) مطبوعہ دار النصر ج ۲ ص۹_

۱۳۳

پس جس شخص کو لوگ قتل کی دھمکی دیں اور وہ ڈرکے مارے گھرمیں دبک کر بیٹھ جائے وہ صاحب عزت وجبروت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسلام کو اس کے طفیل قوت وحیثیت حاصل ہوسکتی ہے_ البتہ اسلام کے صدقے خود انہیں عزت ومقام حاصل ہوا (جس کا آگے چل کر ذکر کریں گے) ان باتوں کے علاوہ بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ ابوجہل نے حضرت عمر کوپناہ دی تھی(۱) بنابرایں مناسب یہ تھا کہ ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شخص کے ذریعے دین کی تقویت و عزت کیلئے دعا کرتے جس نے عمر کو پناہ دی تھی اور جس کے جبروت سے لوگ حیرت زدہ تھے، گھر کے کونے میں چھپنے والے خوفزذہ حضرت عمر کے ذریعے نہیں_

د:عجیب بات تو یہ ہے کہ جن دو افراد کے حق میں اہلسنت کی روایات کے مطابق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے دعا کی ان میں سے ایک کا سر حضرت حمزہ نے اپنی کمان سے بڑی طرح پھوڑ دیا ، وہ بھی اس کے طرفداروں کے عین سامنے اور وہ بات کرنے کی بھی جرا ت نہ کرسکا _پھر وہ جنگ بدر میںہی ( جو مشرکین کے ساتھ پہلی جنگ تھی)، مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیااور دوسرا شخص بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توقعات کے خلاف نکلا_یعنی خدانے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعا اس کے حق میں قبول نہیں فرمائی،کیونکہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے اسلام کی کوئی تقویت نہیں ہوئی_ جبکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ فرمایا کرتے تھے : ''میں نے اپنے رب سے کوئی دعا نہیں کی مگر یہ کہ خدانے اسے قبول کرلیا''(۲) لیکن یہاں توبات ہی برعکس ہے، کیونکہ عبدالرزاق کہتا ہے کہ جب حضرت عمرنے اپنے اسلام کو ظاہر کیا تو مشرکین سیخ پا ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کی ایک جماعت کوسخت اذیتیں دیں_(۳)

ھ: یہاں نعیم بن عبداللہ النحام عدوی اور عمر بن خطاب عدوی کے درمیان موازنہ فائدے سے خالی نہیں ہے_ نعیم حضرت عمر سے قبل مسلمان ہوا اور اپنے ایمان کو چھپاتا رہا_ اس کی قوم نے اسے ہجرت کرنے سے روکا کیونکہ بنی عدی کے یتیموں اور بیواؤں پر مال خرچ کرنے کی بنا پر اسے قوم کے درمیان عزت و شرف

___________________

۱_ تاریخ عمر(ابن جوزی) ص ۲۴ و ۲۵ اور ملاحظہ ہو: کشف الاستار ج۳ ص ۱۷۱ اور مجمع الزوائد ج۹ ص ۶۴ البتہ یہاں ذکر ہوا ہے کہ اس کے ماموں نے اسے پناہ دی تھی اور ابن اسحاق کہتاہے کہ یہاں ان کے ماموں سے مراد'' ابوجہل'' ہے _ لیکن ابن جوزی اس بات سے قانع نہیں ہوئے _ پس مراجعہ فرمائیں_

۲_ رجوع کریں: حالات زندگی حضرت علیعليه‌السلام از تاریخ عساکر با تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۷۵_۲۷۶ (حاشیہ کے ساتھ) اور ۲۷۸، فرائد السمطین باب ۴۳حدیث ۱۷۲، کنز العمال ج ۱۵ص ۱۵۵طبع دوم از ابن جریر (جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے)، ابن ابی عاصم اور طبرانی در الاوسط نیز ابن شاھین در السنة اور ریاض النضرة ج ۲ص ۲۱۳_ ۳_ رجوع کریں المصنف (عبدالرزاق) ج۵ص۳۲۸_

۱۳۴

حاصل تھا چنانچہ انہوں نے کہا :''آپ ہمارے ہاں ہی ٹھہر یئےور جس دین کی چاہیں پیروی کرتے رہیں خدا کی قسم کوئی شخص بھی آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر یہ کہ پہلے ہماری جانیں چلی جائیں''_(۱)

عروہ نے نعیم کے گھرانے کے بارے میں کہا ہے کہ بنی عدی کے کسی فردنے اس گھرانے کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا(۲) یعنی اس کے مقام و منزلت کے پیش نظر انہوں نے کچھ نہیں کہا _ادھر حضرت عمر کو دیکھئے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حدیبیہ میں انہیں مکہ بھیجنا چاہا تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے رؤسائے قریش کو ایک پیغام پہنچائے _یہ پیغام اس کام سے متعلق تھا جس کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آئے تھے _ لیکن عمرنے انکار کیا اور کہا:''میں قریش سے جانی خطرہ محسوس کرتا ہوں اور مکے میں بنی عدی کا کوئی فرد ایسا نہیں جو میری حمایت و حفاظت کرے''_ پھر اس نے حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عثمان بن عفان کو بھیجنے کیلئے اشارہ کیا_(۳)

و:ابن عمرنے نعیم النحام کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو نعیم نے اسے ٹھکرادیا اور کہا :''میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ میرا گوشت مٹی میں مل جائے'' پھر اس کی شادی نعمان بن عدی بن نضلہ سے کردی_(۴)

ز:دوران خلا فت شام کے دورے پر جاتے ہوئے جب حضرت عمر نے اپنے موزے اتار کر کاندھے پر رکھے اور اپنی اونٹنی کی مہار تھام کر پانی میں داخل ہوئے تو ابو عبیدہ نے اعتراض کیا_ حضرت عمرنے جواب دیا:'' ہم ذلیل ترین قوم کے افراد تھے لیکن خدانے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت دی پس جب ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کے ذریعے عزت طلب کریں گے تو خدابھی ہمیں ذلیل کردے گا''_(۵) حضرت عمر سے منقول ایک اور عبارت یوں ہے ''ہم وہ لوگ ہیں جنہیں خدانے اسلام کی برکت سے حیثیت بخشی ہے ، پس ہم کسی اور چیز کے ذریعے عزت و حیثیت طلب نہیں کریں گے''_(۶)

___________________

۱_ اسدالغابة ج ۲ص ۳۳نیز رجوع کریں: نسب قریش ( مصعب) ص ۳۸۰_ ۲_ نسب قریش (مصعب) ص ۳۸۱ _

۳_ البدایة و النہایة ج۴ ص ۱۶۷از ابن اسحاق، حیات صحابہ ج ۲ص_ ۳۹۷_۳۹۸از کنز العمال ج ۱ ص ۸۴، ۵۶ و ج ۵ص ۲۸۸از ابن ابی شیبہ، رویانی، ابن عساکر اور ابویعلی، طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۴۶۱اور سنن البیہقی ج ۹ص ۲۲۱ _ ۴_ نسب قریش ( مصعب) ص ۳۸۰ _

۵_ مستدرک حاکم: ج ۱ص ۶۱اور اس کی تلخیص (ذہبی) حاشیہ کے ساتھ جس نے بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق اسے صحیح قرار دیا ہے_

۶_ مستدرک حاکم ج ۱ص ۶۲ _

۱۳۵

ح:فتح مکہ کے موقع پرجب ابوسفیان جھنڈوں کا جائزہ لے رہا تھا اور اس کی نظر حضرت عمر پر پڑی جو ایک جماعت کے سا تھ تھے تو اس نے عباس سے پوچھا :'' اے ابوالفضل یہ متکلم کون ہے؟'' وہ بولے:'' عمر بن خطاب ہے''_ ابوسفیان نے کہا:'' خدا کی قسم بنی عدی کو ذلت وپستی اور قلت عدد کے بعد عزت وحیثیت ملی ہے''_عباس نے کہا :''اے ابوسفیان خدا جس کا مرتبہ بلندکرنا چاہے کرتا ہے، عمر کو خدا نے اسلام کی بدولت عزت بخشی ہے''_(۱)

۵_ حضرت عمر کا غسل جنابت

اہلسنت کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی بہن نے ان کو غسل کرنے کیلئے کہا تاکہ وہ نوشتہ قرآنی کو چھوسکیں حالانکہ قرآن کو چھونے کیلئے مشرک کا غسل عبث ہے ،کیونکہ ان میں اصل مانع شرک تھا نہ جنابت ،اسی لئے ان کی بہن نے کہا تھا کہ تم مشرک اور نجس ہو اور قرآن کو پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں_(۲)

رہا غسل جنابت تو کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی غسل جنابت کیا کرتے تھے(۳) پھر حضرت عمر کی بہن نے ان سے یہ کیونکر کہا کہ تم غسل جنابت نہیں کرتے ہو_ ہاں اگر عام لوگوں کے برخلاف حضرت عمر کی عادت ہی غسل جنابت نہ کرنا تھی تویہ اور بات ہے _مشرکین کے غسل جنابت کرنے پر ایک دلیل یہ ہے کہ ابوسفیان نے جنگ بدر سے شکست کھاکر لوٹنے کے بعد قسم کھائی تھی کہ وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جنگ کرنے سے قبل غسل جنابت نہیں کرے گا _واضح رہے کہ جنگ سویق ابوسفیان نے اپنی مذکورہ قسم کو نبھانے کیلئے لڑی تھی(۴) اس بات کا ہم آگے چل کر تذکرہ کریں گے

___________________

۱_ مغازی الواقدی ج ۲ص ۸۲۱اور کنز العمال ج ۵ص ۲۹۵از ابن عساکر اور واقدی_

۲_ الثقات ج ۱ص ۷۴نیز رجوع کریں مذکورہ روایت کے مآخذ کی جانب_

۳_ سیرت حلبی ج ۱ص ۳۲۹ از دمیری اور سہیلی، دمیری نے کہا ہے یہ ابراہیم و اسماعیل کے دین کی یادگار ہے نیز کہا ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کفار ایام جاہلیت میں غسل جنابت کرتے تھے اور اپنے مردوں کو بھی دھوتے تھے ان کو کفن بھی دیتے تھے نیز ان کیلئے دعا بھی کرتے تھے_

۴_ البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۴۴، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۵۴۰ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۴۱۰ ، السیرة الحلبیہ ج ۲ ص ۲۱۱ ، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۳۹، السیرة النبویہ ( دحلان، سیرہ حلبیہ کے حاشیہ پر مطبوع) ج۲ ص ۵ بحارالانوار ج ۲۰ ص ۲ اور تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص۱۷۵_

۱۳۶

۶_ حضرت عمر کا قبول اسلام اور نزول آیت؟

کہتے ہیں کہ( یا یها النبی حسبک الله ومن اتبعک من المؤمنین ) والی آیت حضرت عمر کے قبول اسلام کی مناسبت سے اتری_ یعنی اس وقت جب اس نے تینتالیس افراد کے بعد قبول اسلام کیا(۱) لیکن اس قول کی مخالفت کلبی سے مروی اس روایت سے ہوتی ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر کے متعلق مدینہ میں نازل ہوئی(۲) واقدی سے منقول ہے کہ یہ آیت بنی قریظہ اور بنی نظیر کے بارے میں اتری ہے_(۳) یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ یہ سورہ انفال کی آیت ہے جو مکی نہیں، مدنی ہے زہری سے بھی مروی ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی(۴) _

اس کے علاوہ مذکورہ آیت سے قبل کی آیات جنگ وجہاد سے متعلق ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاد کا حکم مدینے میں نازل ہوا تھا اسی لئے یہ آیت ان آیات کے ساتھ مکمل طور پر ہماہنگ ہے_ قارئین ان آیات میں غوروفکر فرمائیں_اس آیت کامدنی ہونا اس لحاظ سے بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مدینے میں ہی اسلام کو قوت وشوکت اور مومنین کو عزت حاصل ہوئی_

آخری نکات

آخر میں ہم درج ذیل امور کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ:

۱) حضرت عمر کے قبول اسلام سے مربوط روایات کا مطالعہ کرنے والا اس حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان مکمل تضاد موجود ہے_

___________________

۱_ الدرالمنثور ج ۳ ص ۲۰۰ از طبرانی ، ابو شیخ و ابن مردویہ نیز ملاحظہ ہوں وہ احادیث جنہیں بزار _ ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے نقل کیا گیا ہے _

۲_ مجمع البیان ج ۴ص ۵۵۷ _

۳_ شیخ طوسی کی کتاب التبیان ج ۵ص ۱۵۲ _

۴_ الدرالمنثور ج ۳ ص ۲۰۰ از ابن اسحاق و ابن ابی حاتم_

۱۳۷

۲) ان میں سے ایک روایت کے مطابق عمر کی نعیم النحام یا سعد سے ملاقات اور ان کے درمیان گفتگو ہوئی نعیم نے عمر کو اس کی بہن اور بہنوئی کے مسلمان ہونے سے آگاہ کیا اور اسے ان دونوں کے خلاف اکسایا_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سعد مسلمان تھا او رنعیم عمر سے پہلے پوشیدہ طور پر مسلمان ہوچکا تھا تو پھر وہ عمر کو اس کی بہن اور بہنوئی کے خلاف کیونکر اکساتاہے ؟ اگر کوئی یہ کہے کہ نعیم کو حضرت عمر سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا_ اسلئے اس نے مذکورہ فعل انجام دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس تو حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام جیسے پورے چالیس بہادر مرد موجود تھے اس کے باوجود بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان کو خطرہ محسوس ہوتا ہے _ لیکن نعیم کو ان دونئے مسلمانوں کے بارے میں حضرت عمر کا خوف محسوس نہیں ہوا جبکہ ان کی مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا اور نہ ان کے پاس کوئی موجود تھا_

۳) رہا ان لوگوں کا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے عمر کے قبول اسلام کے بعداعلانیہ نماز پڑھی تو اس کے جواب میں ہم انہی لوگوں کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ سب سے پہلے علی الاعلان نماز پڑھنے والاابن مسعود تھا_ نیز ابن مسعود کے علاوہ دیگر حضرات کے بارے میں بھی اس قسم کی بات کرتے ہیں_

نتیجہ بحث

مذکورہ عرائض کی روشنی میں عرض ہے کہ جو شخص حضرت عمر کے قبول اسلام کی روایات کا مطالعہ کرے گا وہ بآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ درحقیقت وہ حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے واقعے کی پردہ پوشی کی کوششیں ہیں ،وہ حمزہ جس کی وجہ سے اسلام کو حقیقی طور پر شان وشوکت نصیب ہوئی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو زبردست سروراور خوشی حاصل ہوئی _یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ مذکورہ روایات میں حضرت عمر کا موازنہ حضرت حمزہ سے بار بار کرتے ہیں اور ان دونوں کو مساوی حیثیت دیتے ہیں بلکہ حضرت عمر کو ایک حدتک ترجیح بھی دیتے ہیں_

اسی طرح ان لوگوں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ امان کو رد کرنے کے بارے میں عثمان بن مظعون کی فضیلت حضرت عمر کے نام منتقل کرسکیں_ بلکہ ہم بعض روایات میں دیکھتے ہیں کہ شام کے اہل کتاب نے

۱۳۸

حضرت عمر کو خوشخبری دی تھی کہ اس نئے دین کی لگام مستقبل میں ان کے ہاتھ آجائے گی(۱) جس طرح انہوں نے بصری میں حضرت ابوبکر کو بھی اسی قسم کی خوشخبری سنائی(۲) _نیز خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو بھی خوشخبری دی تھی(۳) _ انہوں نے حضرت عمر کے اندر ان علامات کا مشاہدہ کیا تھا جن سے ان کے دعوی کی تقویت ہوتی تھی، جس طرح اس سے قبل حضرت ابوبکر میں ان کا مشاہدہ کیا تھاادھر حضرت عمر کا اسلام قبول کرنا تھا اور ادھر ان لوگوں کی پوری کوشش اس بات پر مبذول رہی کہ حضرت عمر کیلئے فضائل اور کرامات وضع کریں_فتبارک الله احسن الخالقین _

ابن عرفة نے کہا ہے:'' صحابہ کے اکثر فضائل بنی امیہ کے دور میں گھڑے گئے ہیں تاکہ بنی ہاشم کے مقام کو گھٹا سکیں''_چنانچہ معاویہ نے لوگوں کو خلفائے ثلاثہ کی شان میں احادیث وضع کرنے کا حکم دیا تھا ،جس کا بعد میں تذکرہ ہوگا_یہاں ہم مذکورہ عرائض پر اکتفا کرتے ہیں اور حقیقت اور ہدایت کے متلاشیوں کیلئے اسے کافی سمجھتے ہیں_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الریاض النضرة ج ۲ ص ۳۱۹_

۲_ ملاحظہ ہو: السیرة الحلبیہ ج ۱ ص ۲۷۴ ، ۲۷۵ و ص ۱۸۶ اور الریاض النضرة ج۱ ص ۲۲۱_

۳_ ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد میں آغاز وحی کی روایات کے تحت عنوان اس واقعہ میں ورقہ بن نوفل کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا تھا اور اس کے سقم کو بھی ثابت کیا تھا _ پس وہاں مراجعہ فرمائیں_

۱۳۹

چو تھی فصل

شعب ابوطالب میں

۱۴۰

بائیکاٹ:

جب قریش نے مکہ میں نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھیوں کی، نیز حبشہ میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی عزت و حیثیت دیکھی، اس کے علاوہ قبائل میں اسلام کے پھیلاؤ کا عمل دیکھا(۱) اور یہ بھی محسوس کیا کہ اسلام کے مقابلے میں ان کی ساری کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں ، تو انہیں ایک نئے تجربے کی سوجھی اور وہ تھا ابوطالب اور بنی ہاشم کا اقتصادی ومعاشرتی بائیکاٹ، تاکہ اس طرح یاتو وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنے کیلئے ان کے حوالے کردیتے یا( ان کے خیال خام میں) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود اپنی دعوت سے دست بردار ہوجاتے یا بصورت دیگر وہ سب بھوک اور بے کسی کے عالم میں راہی ملک عدم ہوتے _یوں کسی ایک فرد کے اوپر ذمہ داری بھی نہ آتی جو ایک ایسی خانہ جنگی کا باعث بن سکتی تھی جس کے برے نتائج کا کوئی شخص اندازہ نہیں لگا سکتا تھا_

مختصر یہ کہ انہوں نے ایک عہدنامہ لکھا، جس میں سب نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ شادی بیاہ کا رشتہ قائم نہیں کریں گے، خرید وفروش نہیں کریں گے، اور کوئی عمل ان کے ساتھ مل کر انجام نہیں دیں گے مگر یہ کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کیلئے ان کے حوالے کردیں_

اس عہدنامے پر قریش کے چالیس رؤسا نے دستخط کئے اور اپنی مہریں بھی لگائیں_ اسے انہوں نے ایک عرصے تک کعبے میں آویزاں رکھا (کہتے ہیں انہیں اس کی چوری کا خطرہ محسوس ہوا اسلئے اسے ابوجہل کی ماں کے گھر منتقل کیا)_(۲)

___________________

۱_ سیرت مغلطای ص ۲۳نیز سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۵اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۷از مواھب اللدنیة کی طرف رجوع کریں_

۲_ بحارالانوار کی جلد ۱۹ص ۱۶پر الخرائج و الجرائح سے اسی طرح نقل ہوا ہے یہاں اس بات کی تحقیق کی زیادہ ضرورت نہیں_

۱۴۱

یہ واقعہ بنابر مشہور بعثت کے ساتویں سال پیش آیا اور ایک قول کی بنا پر چھٹے سال _اس معاہدے کے نتیجے میں بنی ہاشم شعب ابوطالب(۱) میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ مطلب بن عبدمناف کا خاندان تھا سوائے ابولہب کے_(۲)

بعثت کے دسویں سال تک وہ اسی تنگ درے میں محصور رہے اور قریش نے ان کے اردگرد پہرے دار بٹھا دیئے تاکہ کوئی ان تک کھانے پینے کا سامان نہ پہنچاسکے_

یہ مسلمان حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب کے اموال سے خرچ کرتے رہے، یہاں تک کہ ان اموال کا خاتمہ ہوا اور مسلمان درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوئے _ان کے بچے بھوک سے بلبلاتے تھے_ مشرکین درے کے اس طرف ان کی آوازیں سنتے اور اس بارے میں تبادلہ خیال بھی کرتے تھے_ کچھ لوگ اس سے خوش ہوتے اور کچھ لوگ اسے باعث ننگ و عار قرار دیتے تھے_

کہاجاتا ہے کہ بعض مشرکین مسلمانوں کے ساتھ احسان و مہربانی کا ثبوت بھی دیتے تھے، غالباً وہ حضرات جن کا ان مسلمانوں کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ تھا_ مثال کے طور پر ابوالعاص بن ربیع اور حکیم بن حزام وغیرہ_ (اگرچہ یہ بات ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں جس کا بعد میں ذکر ہوگا انشاء اللہ )_

مسلمان فقط عمرہ کے ایام (ماہ رجب)اور حج کے ایام (ماہ ذی الحجہ) میں باہر نکلتے تھے_ اس دوران وہ نہایت مشکل سے خرید وفروخت کرتے تھے کیونکہ مشرکین قبل از وقت مکہ آنے والوں سے مل لیتے اور چیزوں کی منہ مانگی قیمت دینے کی لالچ دیتے تھے بشرطیکہ وہ اسے مسلمانوں کے ہاتھ نہ بیچیں ابولہب اس معاملے میں پیش پیش تھا_ وہ تاجروں کو اکساتا تھا کہ وہ چیزیں مہنگی بیچیں تاکہ مسلمان خریداری نہ کرسکیں _نیز ابولہب ان کواضافی قیمت ادا کرنے کی ضمانت دیتا تھا_ بلکہ مشرکین دھمکی دیتے تھے کہ مسلمانوں کے ساتھ سودا

___________________

۱_ جو شہر مکہ کے قریب ایک تنگ اور چھوٹا درہ ہے اس درے میں چند گھر اور خستہ حال سائبان موجودہیں_ (مترجم)

۲_ کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن حارث بھی مسلمانوں کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل نہیں ہوا لیکن یہ قول غیرمعروف ہے_ اکثر حضرات نے فقط ابولہب ملعون کو مستثنی قرار دیا ہے یہاں ہمیں اس امر کی تحقیق سے غرض نہیں_

۱۴۲

کرنے والوں کے اموال چھین لئے جائیں گے_وہ مسلمانوں کے ساتھ لیں دین کیلئے مکہ آنے والوں کو ڈراتے تھے_ خلاصہ یہ کہ قریش نے بازاروں کے دروازے ان پر بند کر دیئے اور کھانے پینے کی اشیاء کا جہاں کوئی سودا ہوتا قریش پہلے پہنچ جاتے ان کا مقصد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا خون بہانا تھا_(۱)

مصیبت کا یہ دور دو یا تین سالوں تک جاری رہا_ اس دوران حضرت علیعليه‌السلام مکہ سے چھپ چھپا کر سامان خوردونوش ان تک پہنچاتے تھے، اگرچہ یہ خطرہ تھا کہ اگر آپ ان کے ہاتھوں لگ جاتے تو وہ آپ پر رحم نہ کرتے جیساکہ اسکافی وغیرہ نے بیان کیا ہے_(۲)

حضرت ابوطالبعليه‌السلام کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر شب خون کا خطرہ محسوس ہوتا تھا اسلئے جب لوگ سونے لگتے اور حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اپنے بستر پر سوجاتے یہاں تک کہ شعب ابوطالب میں موجود لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرلیتے تو سب کے سوجانے کے بعد حضرت ابوطالبعليه‌السلام آکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو جگاتے اور آپ کی جگہ اپنے نور چشم حضرت علیعليه‌السلام کو سلاتے تھے_(۳)

اسی مناسبت سے انہوں نے اپنے بیٹے حضرت علیعليه‌السلام سے مخاطب ہوکر کچھ شعر کہے ہیں جو کتابوں میں مذکور ہیں ان کی طرف رجوع کریں_

خدیجہعليه‌السلام کی دولت اور علیعليه‌السلام کی تلوار

معروف ہے کہ اسلام علیعليه‌السلام کی تلوار اور خدیجہعليه‌السلام کی دولت سے پھیلا_ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے کیامراد ہے؟ کیا یہ کہ حضرت خدیجہعليه‌السلام لوگوں کو مسلمان ہونے کیلئے رشوت دیتی تھیں؟ کیا تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۴ _

۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۵۶ _

۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۵۶و ج ۱۴ص ۶۵نیز الغدیر ج ۷ص ۳۵۷_۳۵۸از کتاب الحجة ( ابن معد)، ابن کثیر نے اسے البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۴میں نام کا ذکر کئے بغیر نقل کیا ہے نیز تیسیر المطالب ص ۴۹ _

۱۴۳

آپ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اسلام کیلئے لوگوں سے روابط استوار کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کیلئے مالی مدد بھی فرماتے تھے _اس کی بہترین دلیل جنگ حنین میں مال غنیمت کی تقسیم ہے_ (جس کا بعد میں تذکرہ ہوگا) اس کے علاوہ اسلامی قوانین کے اندر مؤلفة القلوب کے حصے سے کون بے خبرہے؟_

اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ طرز عمل کا مطلب یہ نہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ لوگ قبول اسلام کیلئے رشوت لیتے تھے_ بلکہ اسلام تو بس یہ چاہتا ہے کہ یہ لوگ اسلامی ما حول سے آشنا اور مربوط رہیں _نیز ہر قسم کے تعصب یا نفسیاتی، سیاسی اور معاشرتی رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر اس کی طرف نگاہ کریں_

بنابریں ان کو دیا جانے والا مال مذکورہ موہوم رکاوٹوں کو اکثر موقعوں پر ہٹانے اور انہیں اسلامی ما حول سے آشنا اور مربوط رکھنے، نیز اسلام کے اہداف وخصوصیات سے آشنا کرنے میں مدد دیتا تھا تاکہ نتیجتاً وہ اسلام کی حفاظت اور اس کے عظیم اہداف کے سامنے قلبی اور فکری طور پر سر تسلیم خم کریں_

چنانچہ ان میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے ان کو مال ودولت اور ہر قسم کی ان مراعات سے محروم کردیا ہے ، جن کو وہ فطری طور پر چاہتے تھے _بنابریں طبیعی بات ہے کہ وہ پوشیدہ طور پراپنے مفادات کے لئے مضر، اس گھٹن کی فضا سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے _لیکن جب ان کی مالی اعانت کی جائے اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ اسلام مال ودولت کا دشمن نہیں، جیساکہ ارشاد ربانی ہے( قل من حرم زینة الله التی اخرج لعباده والطیبات من الرزق ) یعنی اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہہ دیجئے، کس نے اللہ کی حلال کردہ زینتوں اور پاک روزیوں کو حرام قرار دیا ہے_ نتیجتاً وہ سمجھ جائیں گے کہ اسلام کا مقصد انسان کی انسانیت کو پروان چڑھانا، نیز مال، طاقت، حسن اور اقتدار وغیرہ کی بجائے انسانیت کو حقیقی معیار قرار دیناہے اور اسی پیمانے پر نظام زندگی کو استوار کرنا ہے تاکہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں منزل سعادت تک پہنچ سکے_

حضرت خدیجہ کے اموال کے حوالے سے واضح ہے کہ یہ اموال لوگوں کو مسلمان بنانے کیلئے بطور رشوت نہیں دیئے جاتے تھے اور نہ ہی مؤلفة القلوب کیلئے تھے _حضرت خدیجہعليه‌السلام کے مال سے تو بس ان مسلمانوں

۱۴۴

کیلئے قوت لایموت کا بندوبست ہوتا تھا جو اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں عظیم ترین مصائب ومشکلات جھیل رہے تھے_ اورجن کا مقابلہ کرنے کیلئے قریش ہر قسم کے غیر اخلاقی وغیر انسانی حربوں حتی کہ انہیں فقر وفاقے پر مجبور کرنے کے حربے سے کام لے رہے تھے _ یہ ہے وہ حقیقت جس کی بنا پر یہ مقولہ مشہور ہوگیا کہ اسلام حضرت خدیجہعليه‌السلام کے مال اور حضرت علیعليه‌السلام کی تلوار سے کامیاب ہوا_

یہ واضح ہے کہ بنی ہاشم کے بائیکاٹ کے دوران حضرت خدیجہ کی دولت صرف بھوکوںکو زندہ رکھنے والے اناج اور برہنہ کو لباس فراہم کرنے میں خرچ ہوئی _دیگر امور میں ان اموال سے چندان، استفادہ نہیں ہوا کیونکہ وہ غالباً خرید وفروش سے معذور تھے_

آخر میں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ مکہ میں اموال کی جس قدر بھی کثرت ہوتی لیکن پھر بھی اس کے وسائل محدود تھے کیونکہ مکہ کوئی غیرمعمولی یابہت بڑا شہر نہ تھا _ البتہ بستی یا گاؤں کے مقابلے میں بڑا تھا، اسی لئے قرآن نے اسے ام القری (بستیوں کی ماں یعنی مرکزی بستی) کا نام دیا ہے _بنابریں اس قسم کے چھوٹے شہروں کے مالی وسائل بھی محدود ہی ہوتے ہیں_

مسلمانوں کے متعلق حکیم بن حزام کے جذبات

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ابن اسحاق وغیرہ کی روایت کے مطابق حکیم بن حزام بھی مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں چھپ چھپاکر سامان خورد ونوش بھیجا کرتا تھا(۱) لیکن ہم اس بات کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے، کیونکہ حکیم بن حزام ان افراد میں سے تھا جسے شب ہجرت قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کے لئے اپنے ساتھ شامل کیا تھا(۲) اور موقع کے انتظار میں انہوں نے تمام رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے دروازے پر گذاردی لیکن خدانے ان کی چال اپنے پر پلٹا دی _ مزید یہ کہ یہی حکیم بن حزام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے عہد میں مدینہ پہنچنے والی

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۹ نیز سیرت کی دیگر کتب کی طرف_

۲_ بحار الانوارج ۱۹ ص ۳۱ و مجمع البیان ج ۴ ص ۵۳۷ _

۱۴۵

تمام اشیائے خورد ونوش کی ذخیرہ اندوزی کیاکرتا تھا تاکہ بعد میں مہنگے داموں فروخت کرے(۱) اور اسی کا شمار مؤلفہ القلوب افراد میں ہوتا ہے(۲) _ ظاہر ہے اس قسم کی ذہنیت والا انسان اس قدر سخی نہیں ہوسکتا،خاص کران حالات میں جبکہ مسلمانوں کی مدد کا عمل قریش کی دشمنی مول لینے اور اپنی جان خطرے میں ڈال دینے کا باعث بھی ہو _ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ مذکور عمل انجام دینے میں بھی اس کا مقصد منافع لینا اور دولت جمع کرناہو یعنی ممکن ہے کہ اس نے مال کی محبت میں کھانے کی اشیاء کے عوض مسلمانوں سے منہ مانگی قیمت وصول کرنے کیلئے ایسا کیا ہو_ بالفاظ دیگر وہ مال کی محبت میں جان سے بے پروا ہو کر ہر مشکل میں آسانی سے کودنے کیلئے آمادہ ہوگیا ہو_ مزید یہکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے اور بعض دوسرے لوگوں کے تحائف کو متعدد موقعوں پر قبول کرنے سے انکار فرمایا تھا کیونکہ وہ مشرک تھے (اس کابعد میں ذکر ہوگا)_ پس یہ کیونکر معقول ہے کہ پہلے اس کو قبول کرلیں اور بعد میں قبول نہ کریں؟مگر یہ دعوی کیا جائے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو نہیں بلکہ شعب ابی طالب میں محصور بنی ہاشم کے بچوں اور ان کی عورتوں کو ہدیہدیتا تھا اور وہ تو قبول کر لیتے تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قبول نہیں فرماتے تھے_

ان ساری باتوں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ابوالعاص بن ربیع کے بارے میں مذکوریہ قول بھی قابل قبول اور قابل اطمینان نہیں ہے ،کہ وہ بھی حکیم بن حزام کی طرح ان دنوں مسلمانوں کی مدد کرتا تھا_

ہم بعید نہیں جانتے کہ حکیم بن حزام کے حق میں مذکورہ فضیلت گھڑنے میں زبیریوں کاہاتھ ہو خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ زبیر نے امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام کی بیعت میں لیت ولعل سے کام لیا تھا_ نیز وہ ایک متعصب عثمانی تھا_(۳) خانہ کعبہ میں ولادت امیرالمؤمنین اور کیفیت وحی کے بارے میں جھوٹی باتیں گھڑنے کے ذکر میں بھی ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا_

___________________

۱_ دعائم الاسلام ج ۲ ص ۳۵ ، توحید صدوق ص ۳۸۹ ، وسائل ج ۱۲ ص ۳۱۶ ، کافی ج ۵ ص ۱۶۵، التھذیب طوسی ج ۷ ص ۱۶۰ ، من لا یحضرہ الفقیہ ج ۳ ص ۲۶۶ مطبوعہ جامعة المدرسین و الاستبصار ج ۳ ص ۱۵

۲_ نسب قریش ص ۲۳۱ _

۳_ قاموس الرجال ج۳ص ۳۸۷ _

۱۴۶

شق القمر

شق القمر کا واقعہ بعثت کے آٹھویں سال پیش آیا جبکہ مسلمان شعب ابوطالب میں محصور تھے_(۱)

بہت ساری روایات میں مذکور ہے کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے معجزہ طلب کیا چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا سے دعا کی تو چاند کے دو حصے ہوگئے، اور انہوں نے اس کا نظارہ کیا ،پھر دونوں حصے آپس میں مل گئے_

یہ دیکھ کر قریش نے کہا کہ یہ ایک جادو ہے پس آیت اتری( اقتربت الساعة وانشق القمر وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر ) یعنی قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا_ یہ لوگ اگر اللہ کی کوئی نشانی دیکھیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سلسلہ وار جادو ہے_

ایک روایت میں ہے کہ کفار نے کہا :''ٹھہرو دیکھتے ہیں کہ مسافرین کیا خبر لاتے ہیں کیونکہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سارے لوگوں پر جادو نہیں کرسکتا ''_جب مسافرین آگئے تو کفارنے ان سے استفسار کیا جس پر انہوں نے جواب دیا: ''ہاں ہم نے بھی یہ منظر دیکھا ہے ''پس یہ آیت اتری( اقتربت الساعة وانشق القمر ) (۲)

سید شریف سے شرح المواقف میں اورابن سبکی سے شرح المختصر میں نقل ہوا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے اور اہلسنت کے ہاں اس کے متواتر ہونے میں شک کی کوئی گنجائشے نہیں ہے_(۳)

رہا غیرسنیوں کے نزدیک تو علامہ محقق السید طباطبائی کہتے ہیں شق القمر کے واقعے کا شیعہ روایات میں آئمہ اہلبیتعليه‌السلام سے بکثرت ذکر ہوا ہے_ شیعہ علماء اور محدثین کے نزدیک یہ واقعہ مسلمہ ہے_(۴) لیکن بہرحال اس مسئلے کو ضروریات دین میں شامل کرنا ممکن نہیں، جیساکہ بعض علماء نے اس جانب اشارہ کیا ہے_(۵)

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۲و ۶۴ _

۲_ الدر المنثور ج ۶ص ۱۳۳از ابن جریر، ابن منذر، ابن مردویہ، دلائل ابونعیم اور دلائل بیہقی نیز مناقب آل ابوطالب ج ۱ص ۱۲۲ _

۳_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۰_ ۴_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۶۱ نیز رجوع ہو بحارالانوار ج ۱۷ ص ۳۴۸_۳۵۹ باب المعجزات السماویة_

۵_ رجوع کریں: فارسی کتاب ''ھمہ باید بدانند'' ص ۷۵کی طرف_

۱۴۷

ایک اعتراض اور اس کا جواب

علامہ طباطبائی کہتے ہیں یہاں ایک اعتراض ہوا ہے ،وہ یہ کہ لوگوں کے مطالبے پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی طرف سے معجزے کا اظہار اس آیت کے منافی ہے( وما منعنا ان نرسل بالایات الا ان کذب بها الا ولون وآتینا ثمود الناقة مبصرة فظلموا بها وما نرسل بالایات الا تخویفا ) (۱) یعنی ہمارے لئے اپنی نشانیاں دکھانے سے فقط یہ بات مانع ہے کہ پہلے والوں نے اس کی تکذیب کی_ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی عطا کی جو ہماری قدرت کوروشن کرنے والی تھی لیکن ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم تو نشانیوں کو فقط ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں_

اس آیت کا مفہوم یا تو یہ ہے کہ ہم اس امت کی طرف معجزے بھیجتے ہی نہیں کیونکہ گذشتہ امتوں نے ان کی تکذیب کی اور چونکہ اس امت کے لوگوں کی طبیعت بھی ان کی طرح ہے لہذا وہ بھی ان معجزوں کی تکذیب کریں گے_ اس صورت میں چونکہ معجزہ ان کیلئے بے فائدہ ہے اسلئے ہم معجزے نہیں دکھاتے _یا مفہوم یہ ہوگاکہ ہم معجزے اسلئے نہیں بھیجتے کیونکہ جب ہم نے گذشتہ لوگوں کو معجزے دکھائے تو انہوں نے جھٹلایا نتیجتاً عذاب الہی کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے، پس اگر ہم ان لوگوں کو بھی معجزہ دکھائیں تو یہ بھی اس کو جھٹلاکر عذاب کا شکار ہوں گے، لیکن ہم ان کو عذاب دینے میں جلدی کرنا نہیں چاہتے_ بہرحال مفہوم جو بھی ہو نتیجہ یہ ہے کہ سابقہ امتوں کیلئے جس طرح معجزے بھیجے جاتے تھے اس امت کیلئے نہیں بھیجے جائیں گے_

البتہ یہ فیصلہ ان معجزوں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے مطالبے پر دکھائے جائیں نہ ان معجزوں کے بارے میں جن سے رسالت کی تائید ہوتی ہو مثال کے طور پر خود قرآن بھی ایک معجزہ ہے اور اس سے رسالت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تائید ہوتی ہے_ نیز عصائے موسیعليه‌السلام یا ید موسیعليه‌السلام یا حضرت عیسیعليه‌السلام کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا وغیرہ _علاوہ بر ایں وہ معجزے جو خدا کی طرف سے بطور لطف نازل ہوئے وہ بھی اس سے مستثنی ہیںجس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ظاہر ہونے والے وہ معجزات جو لوگوں کی در خواست پر نہیںدکھائے گئے_

___________________

۱_ سورہ اسرائ، آیت ۵۹_

۱۴۸

اس کے بعد علامہ طباطبائی نے خود اس اعتراض کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ معجزہ شق القمر کی تکذیب کا تقاضا یہ تھا کہ ان پر عذاب نازل ہوتا کیونکہ یہ معجزہ ان کی درخواست پر ظاہر ہوا ،لیکن خدا تمام اہل زمین کو( جن کی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھیجا گیاتھا ) کیسے ہلاک کرسکتا تھا ؟جبکہ ان سب پر ابھی اتمام حجت نہیں ہوا تھا جسے وہ جھٹلاکر مستحق عذاب ہوتے بلکہ مکہ میں رہنے والے بعض افراد پر یہ حجت تمام ہوئی تھی کیونکہ یہ معجزہ ہجرت سے پانچ سال قبل دکھایا گیا تھا_

نیز مکہ اور اس کے آس پاس رہنے والے تمام لوگوں کو ہلاک کرنا بھی مقصود خداوندی نہ تھا کیونکہ ان میں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی چنانچہ ارشاد الہی ہے( ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات لم تعلموهم ان تطئوهم فتصیبکم منهم معرة بغیر علم لیدخل الله فی رحمته من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منهم عذاباً الیماً ) (۱)

یعنی اگر با ایمان مرداور عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نادانستگی میں تمہارے ہاتھوں ان کی پامالی کا بھی خطرہ تھا ،اس طرح تمہیں لا علمی کی بنا پر نقصان پہنچتا (تو تمہیں روکا بھی نہ جاتا روکا اسلئے) تاکہ خدا جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اگر یہ لوگ الگ الگ ہوجاتے تو ہم کفار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے_حالانکہ اس وقت مشرکین مسلمانوں سے جدا نہیں ہوئے تھے_

نیز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی موجودگی میں بھی ان کفار پر عذاب نازل نہیں ہوسکتا تھا جیساکہ ارشاد باری ہے( وما کان الله لیعذبهم وانت فیهم ) (۲) یعنی جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں تو خدا ان پر عذاب نازل نہ کرے گا_

اور یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ خدا مسلمانوں کو چھوڑ کر فقط کافروں پر عذاب نازل کرتا جبکہ کفار کی ایک کثیر تعداد بعثت کے آٹھویں سال سے لے کر ہجرت کے آٹھویں سال تک مسلمان ہوچکی تھی اوربعد ازاں فتح مکہ کے وقت تو عام لوگ بھی مسلمان ہوگئے_

___________________

۱_ سورہ فتح، آیت ۲۵_

۲_ سورہ انفال، آیت ۳۳_

۱۴۹

اس مسئلے میں اسلام کے نزدیک لوگوں کا بظاہر اسلام قبول کرلیناہی کافی ہے _اس کے علاوہ تمام اہل مکہ یا آس پاس کے لوگ اسلام سے عناد رکھنے والے یا جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والے نہ تھے_ یہ صفت تو فقط قریش کے سرداروںکی تھی، جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا مذاق اڑاتے اور مؤمنین پر تشدد کرتے تھے_ جن آیات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مسجدالحرام جانے سے روکنے اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے جرم میں کافروں کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے مقابلے میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکنے(۱) اور عذاب الہی کامز اچکھنے کی دھمکی دی گئی تھی تو ان آیات نے جنگ بدر میں حقیقت کا روپ دھارلیا اور بہت سے کفار واصل جہنم ہوئے_

پس قرآن کی مذکورہ آیت( وما منعنا ان نرسل بالآیات ) سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے درمیان موجود ہوں خدا معجزے نہیں دکھاتا _رہا معجزہ دکھا کر عذاب کو مؤخر کرنا یہاں تک کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان سے اٹھ جائیں تو خدا کے مذکورہ کلام میں اس کا کوئی ذکر نہیں_ ادھر اللہ تعالی کا ارشاد ہے( وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً قل سبحان ربی هل کنت الا بشراً رسولاً ) (۲) یعنی ''کفار بولے ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اس وقت ایمان لائیں گے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زمین سے ہمارے لئے چشمے جاری کردیں کہہ دیجئے میں تو بس ایک بشرہوں جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنا کر بھیجا گیا ہے''اور یہ ارشاد اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ خدا معجزات کے ذریعے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت ونصرت نہیں فرمائے گا یامعجزے کا اظہار بالکل نہ ہوگا ،وگرنہ تمام انبیاء بھی انسان ہی تھے_پس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک بشر ہونے کے ناطے بذات خود اس امر پر قادر نہیں بلکہ ساری قدرت خدا کی ہے اور درحقیقت اسی کے حکم سے معجزات رونما ہوتے ہیں_(۳)

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ( وما نرسل بالایات الا تخویفا ) والی آیت کا مقصد شاید یہ ہو کہ ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کی بنیاد ناقہ ثمود یا معجزات موسیعليه‌السلام کی طرح کے معجزوں پر استوار نہیں بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کی بنیاد

___________________

۱_ سورہ بنی اسرائیل ۷۶اور سورہ انفال ۳۵_

۲_ سورہ بنی اسرائیل ۹۳ _

۳_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۰_۶۴_

۱۵۰

حضرت ابراہیمعليه‌السلام کی دعوت کی طرح بنیادی طور پر عقلی دلائل قائم کر کے اذہان کو مطمئن کرنے پر مبنی ہے_ لیکن واضح رہے کہ یہ بات اس امر کے منافی نہیں کہ بعض مقامات پر (جہاں عقلی براہین و دلائل کارگرنہ ہوں) معجزات کا اظہار کیاجائے_

شق القمر، مؤرخین اور عام لوگ

معجزہ شق القمر پر یہ اعتراض ہوا ہے کہ اگر حقیقتاً چاندکے دوٹکڑے ہوئے ہوتے تو تمام لوگ اسے دیکھ لیتے اور مغرب کی رصدگاہوں میں اس کا ریکارڈ ہوتا کیونکہ چاند کا دونیم ہونا عجیب ترین آسمانی معجزہ ہوتا_ بہرحال اس قسم کے معجزے کو سننے اور نقل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی_

اس اعتراض کے درج ذیل جوابات دیئے گئے ہیں_

الف: ممکن ہے کہ لوگ اس واقعے سے غافل رہے ہوں کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ ہر آسمانی یا زمینی حادثے کا لوگوں کو ضرور علم ہونا چاہیئے یا ان کے ریکارڈ میں اس قسم کے واقعات کو موجود ہونا چاہئے اور نسل در نسل لوگوں کے پاس ان کا علم ہونا چاہیئے_(۱)

محقق توانا علامہ شیخ ناصر مکام شیرازی نے اس مسئلے کی مزیدوضاحت کی ہے ان کے بیان کی رو سے درج ذیل نکات قابل ملاحظہ ہیں_

۱) چاند کا دونیم ہونا زمین کے اس نصف حصے کیلئے قابل دید تھا جہاں رات تھی نہ کہ دوسرے نصف حصے کیلئے جہاں دن تھا_

۲) اس نصف حصے میں بھی جہاں رات ہوتی ہے اکثر لوگ اجرام فلکی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے خصوصاً آدھی رات کے بعد تو سب سو جاتے ہیں اور تقریباً کوئی بھی متوجہ نہیں ہوتا_

___________________

۱_ تفسیر المیزان، ج ۱۹ ص ۶۴_

۱۵۱

۳)ممکن ہے اس وقت بعض مقامات پر بادل چھائے ہوئے ہوں جس کی وجہ سے چاند کا دیکھنا ممکن نہ رہاہو_

۴) آسمانی حادثات و واقعات لوگوں کی توجہ اس وقت جذب کرتے ہیں جب ان کے ساتھ کوئی آواز (مثلا گھن گرج وغیرہ) بھی سنائی دے یا غیر معمولی علامات( مثلا سورج گرہن کی صورت میں نسبتاً کافی دیر تک سورج کی روشنی کا مدہم پڑ جانا )بھی ہمراہ ہوں_

۵) علاوہ براین پہلے زمانوں کے لوگ آسمانی حادثات پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے_

۶) اس زمانے میں ذرایع ابلاغ نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی کہ دنیا کے ایک حصے کی خبر فوراً دوسرے حصے میں پہنچ جاتی اور لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہوجاتی_

۷) ہمارے ہاں موجود تاریخ بہت ہی ناقص ہے کیونکہ گذشتہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں میں کتنے ہی عظیم حادثات گذرے ہوں گے، زلزلے اور سیلاب آئے ہوں گے جن سے بہت سی اقوام کی تباہی ہوئی ہوگی لیکن آج تاریخ میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا_ بطور مثال زرتشت جس کا ظہور ایک عظیم حکومت کے دامن میں ہوا اور جس نے تاریخ عالم میں مختلف اقوام وملل پر زبردست اثر چھوڑا ، ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوا کہاں مرا اور کہاں دفن ہوا بلکہ بعض لوگوں کوتو اس بات میں بھی شک ہے کہ اس کا وجود حقیقی تھا یا افسانوی_ بنابرایں ظاہر ہے کہ اگر سارے لوگوں نے شق القمر کا مشاہدہ نہ کیا ہو یا تاریخ میں یہ واقعہ واضح طور پر ثبت نہ ہو سکاہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں_(۱)

ب:عرب یا غیرعرب علاقوں میں فلکیاتی حالات کا جائزہ لینے کیلئے رصدگاہیں موجود نہ تھیں_ مشرق ومغرب میں اگر رصدگاہیں موجود تھیں تو شاید روم اور یونان وغیرہ میں تھیں اگرچہ ہمارے نزدیک اس دور میں رصدگاہ کی موجودگی بھی ثابت نہیں _اس کے علاوہ مغرب کی سرزمین جہاں ان امور پر توجہ دی جاتی تھی،اور مکہ کے درمیان اختلاف افق کی بنا پر وقت کا بہت زیادہ فرق تھا بعض روایات کی بنا پر معجزے کے وقت چاند مکمل تھا اور طلوع کے وقت تھوڑی دیر کیلئے شق ہونے کے بعد پھر جڑگیا _ظاہر ہے اس کے بعد جب

___________________

۱_ فارسی کتاب ''ھمہ باید بدانند'' ص ۹۴_

۱۵۲

مغرب میں چاند طلوع ہوا ہوگا تو اس وقت اس کے دونوں حصے ملے ہوئے تھے_(۱)

چاند کاشق ہوکر جڑنا، سائنسی نقطہ نظر سے

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سائنسی نقطہ نظر سے اجرام فلکی کاشق ہونا ممکن ہے؟ یہ اس وقت ممکن ہے جب دونوں حصوں کے درمیان جاذبیت برقرار نہ رہے اور جب کشش ہی نہ رہے تو دوبارہ جڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا_جس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ قدرت خداوندی سے یہ خارق العادہ کام محال نہیں ہیں اور علامہ ناصر مکارم شیرازی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ ماہرین فلکیات کے بقول اجرام فلکی میں خاص وجوہات کی بنا پر توڑپھوڑ کا عمل بہت زیادہ واقع ہوا ہے مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ:

۱) سورج کے گرد تقریباً پانچ ہزار چھوٹے بڑے اجسام گردش کررہے ہیں_

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اجسام کسی ایسے سیارے کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جو مریخ اور مشتری کے مداروں کے درمیان موجود تھا _پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر دھماکے سے پھٹ کر تباہ ہوگیا اور مختلف حجم کے ٹکڑوں کی شکل میں سورج کے گرد مختلف مداروں میں بکھر گیا_

۲) ماہرین کہتے ہیں کہ شہاب ثاقب حیرت انگیز رفتار سے سورج کے گرد گھومنے والے پتھر کے نسبتاًچھوٹے ٹکڑے ہیں _ کبھی کبھی وہ زمین کے نزدیک سے گزرتے ہیں تو زمین ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے_ یوں جب وہ زمین کی فضاؤں سے رگڑکھاتے ہیں تو شعلوں میں تبدیل ہوکر نیست و نابود ہوجاتے ہیں _ ماہرین کے بقول یہ بھی کسی ایسے ستارے کے ٹکڑے ہیں جو دھماکے کے بعد ان ٹکڑوں کی شکل میں تقسم ہوگیا_

۳)لاپلس ( LAPLACE ) کے نظریئے کے مطابق نظام شمسی بھی ایک ہی جسم تھا_ پھر کسی نامعلوم سبب کی بناء پر وہ پھٹ گیا اور موجودہ شکل اختیار کرلی_ بنابریں کسی زبردست علت کے نتیجے میں چاند کے بھی دو ٹکڑے ہوسکتے ہیں اور وہ علت ہے خدا کی قدرت و طاقت_ کیونکہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا سے دعا

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۴،۶۵_

۱۵۳

کی تو اس نے قبول کرلی_

یہ دعوی تو کوئی بھی نہیں کرتا کہ چاند بغیر کسی سبب کے شق ہوا _رہا اس کا دوبارہ جڑجانا تو اس سلسلے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ہر بڑے سیارے میں کشش ہوتی ہے اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج اپنے گرد گھومنے والے بہت سے ٹکڑوں کواپنی طرف جذب کر لیتا ہے ،جس پر یہ اجسام ٹکراؤ اور ر گڑ کے نتیجے میں شعلے کی شکل اختیار کر کے تباہ ہوجاتے ہیں_

پس جب چاند کے دونوں حصے ایک دوسرے کے قریب ہوں اور وہ قوت جوان دونوں کی باہمی کشش کی راہ میں حائل تھی اٹھ جائے تو یہ دونوں ٹکرے ایک دوسرے کو کیوں نہ اپنی طرف کھینچیں تاکہ پھر پہلے والی حالت پر واپس آجائیں؟ عقلی طور پر اس میں کونسی رکاوٹ ہے؟(۱)

علامہ طباطبائی نے اس سوال (کہ بغیر جاذبیت کے کیسے جڑ سکتے ہیں) کا مختصر الفاظ میں یوں جواب دیا ہے کہ عقل کے نزدیک یہ امر محال نہیں (بلکہ ممکن ہے)_ رہا یہ سوال کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوا کرتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ امر جدائی کے بعد دوبارہ جڑجانے سے مانع ہے تو پھر شروع میں ہی اس کے دوٹکروں میں بٹ جانے سے بھی مانع ہونا چاہئے_ لیکن جب شق ہونا ممکن ہوا تو دوبارہ ان کامل جانا بھی ممکن ہے_ نیز ہماری بحث ہی غیر معمولی امر یعنی (معجزے) کے رونما ہونے میں ہے _(۲)

شق القمر پر قرآنی آیت کی دلالت

بعض لوگ یہ احتمال دیتے ہیں کہ قرآنی آیت( اقتربت الساعة وانشق القمر ) مستقبل کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اور یہ بتا رہی ہے کہ چاند کا شق ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے ،جس طرح تکویر شمس (سورج کی شعاعوں کا زائل ہوجانا) اور انکدار نجوم (ستاروں کا ٹوٹ کر بکھرنا) بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے_

___________________

۱_ ہمہ باید بدانند ص ۸۴ تا ۹۰_

۲_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۵ _

۱۵۴

علامہ محقق شیخ ناصر مکارم شیرازی نے اس کا جواب دیا ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے:

الف:قول الہی: (وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر) سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے کچھ مخالفین خدا کی نشانیوں اور معجزات پر ایمان نہیں لائے _جب بھی کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے تو ان کے عناد اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اسے جادو قرار دیتے ہیں_ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ شق القمر کے مسئلے میں بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کافروں نے یہی روش اپنائی تھی_(جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلے رونما ہوچکا ہے _مترجم)

ب:لفظ (انشق) فعل ماضی ہے ماضی کے الفاظ مستقبل پر دلالت نہیں کرتے مگر کو ئی قرینہ موجود ہو اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں بلکہ قرینہ اس کے برعکس ہے _چنانچہ رازی کہتا ہے تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اس لفظ سے یہی مراد ہے کہ چاند کا شق ہونا واقع ہوچکا ہے_ نیز معتبر روایات بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں _(۱)

اگرچہ طبرسی اور ابن شہر آشوب نے عطاء حسن اور بلخی کو مستثنی قرار دیا ہے_(۲) اور طبرسی کہتے ہیں کہ ان کا یہ قول درست نہیں کیونکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے _لہذا اس مسئلے میں بعض لوگوں کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا_(۳)

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ قرآن میں جملہ( اقتربت الساعة ) کے فوراً بعد( انشق القمر ) کا جملہ مذکور ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں کا زمانہ مشترک ہے (یعنی روز قیامت)_ تو اس کاجواب یہ ہے کہ قرآن کی بہت ساری آیات میں صریحاً کہا گیا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پس غفلت کیسی؟ فرمایا ہے( اقترب للناس حسابهم وهم فی غفلة معرضون ) (۴) یعنی لوگوں کیلئے حساب کی گھڑی آگئی ہے لیکن وہ غفلت کا شکار ہوکر کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں_ یہاں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے

___________________

۱_ تفسیر رازی ج ۲۹ص ۲۸_

۲_ مجمع البیان ج ۹ص ۱۸۶و مناقب آل ابیطالب ج ۱ص ۱۲۲ _

۳_ مجمع البیان ج ۹ص ۱۸۶ _

۴_ سورہ الانبیائ، آیت_ ۱

۱۵۵

منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی دوانگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:'' میری بعثت اور قیامت کی مثال یوں ہے''_(۱) ظاہر ہے کہ یہ بات مجموعی دنیاوی زندگی کو مدنظر رکھ کر کہی گئی ہے جو بہت طولانی ہے_ جسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجا سکتا ہے کہ بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قیامت کا درمیانی عرصہ کچھ بھی نہیں _بنابریں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت نزدیک آگئی ہے اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے یہ معجزہ ظاہر ہوا لیکن یہ خودسرمشرکین ایمان نہیں لاتے اور اس کی تصدیق کرنے کی بجائے کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے_(۲)

لیکن ایک محقق کا کہنا ہے( ان یروا آیة ) والی آیت جملہ شرطیہ ہے، اس میں مذکورہ امر کے واقع ہوجانے کا تذکرہ نہیں _نیز جملہ( انشق القمر ) کی مثال اس آیت کی طرح ہے( آتی امر الله فلا تستعجلوه ) حکم الہی آیاہی چاہتا ہے لہذا جلد بازی نہ کرو _ یہاں ماضی کا جملہ ہے حالانکہ ابھی امر الہی واقع نہیں ہوا اسی لئے اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ جلد بازی نہ کرو _یہی حال ہے قول الہی( وانشق القمر ) کا کیونکہ اس کے بعد کہا گیا ہے( وان یروا ) _ یہاں یہ کہنا مقصودہے کہ اگر ایسا امر واقع ہوا تو ان کی کیا حالت ہوگی_ رہا اجماع جس کا طبرسی نے وعوی کیا ہے تو وہ حجت نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ یہ اجماع اس آیت سے غلط استنباط کی بناء پر وجود میں آیا ہو_

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ اگر شق القمر کے واقع ہونے پر معتبر احادیث گواہی نہ دے چکی ہوتیں تو پھر مذکورہ احتمال کی کسی حدتک گنجائشے تھی_

افسانے

لوگوں نے شق القمر کے واقعے سے بہت سارے افسانے اور بے بنیاد قصے گھڑ لئے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان مشہور ہوگیا کہ چاند کا ایک ٹکڑا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی آستین سے ہوکر گزرگیا_

___________________

۱_ مفتاح کنوز السنة ص ۲۲۷کہ بخاری، مسلم، ابن ماجہ، طیاسی، احمد، ترمذی اور دارمی سے نقل کیا ہے_

۲_ آیت کی دلالت سے متعلق ہماری مذکورہ معروضات کے سلسلے میں آپ رجوع کریں فارسی کتاب ''ہمہ باید بدانند'' ص ۷۶_۸۰_

۱۵۶

علامہ ناصر مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ احادیث وتفسیر کی کتابوں میں خواہ شیعوں کی ہوں یا سنیوں کی، اس قول کا نام ونشان بھی نہیں ملتا_

بعض روایات میں اس مسئلے کی جزئیات اور تفصیلات کا ذکر ہوا ہے لیکن ہم ان پر تحقیق کرنے میں کوئی بڑا فائدہ یا نتیجہ نہیں پاتے _بنابریں ہم زیادہ اہم اور مفید مسئلے کا رخ کرتے ہیں_

عہد نامے کی منسوخی

تقریبا تین سال بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کو بتایا کہ دیمک نے مشرکین کے عہدنامے میں ظلم اور قطع رحمی سے متعلق الفاظ کو کھالیا ہے اور سوائے اسماء الہی کے کوئی چیز باقی نہیں رہی_ ایک اور روایت کے مطابق دیمک نے اللہ کے تمام ناموں کو کھالیا لیکن ظلم وشر اور قطع رحمی سے متعلق حصّے کو چھوڑ دیا_(۱)

چنانچہ حضرت ابوطالب بنی ہاشم کے ہمراہ اس درے سے خارج ہوئے اور شہر مکہ لوٹ آئے_

یہ دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ بھوک نے ان کو نکلنے پر مجبور کردیا ہے_ قریش نے کہا:'' اے ابوطالب اب وقت آگیا ہے کہ اپنی قوم کے ساتھ مصالحت کرلو'' _حضرت ابوطالب نے فرمایا:'' میں تمہارے پاس ایک اچھی تجویز لیکر آیاہوں ،اپنا عہدنامہ منگواؤ شاید اس میں ہمارے اور تمہارے درمیان صلح کی کوئی راہ موجود ہو''_ قریش اسے لے آئے اور دیکھا کہ اس پر ان کی مہریں اب بھی موجود ہیں حضرت ابوطالب نے کہا:'' کیا اس معاہدہ پر تمہیں کوئی اعتراض ہے؟'' بولے نہیں_

ابوطالبعليه‌السلام نے کہا:'' میرے بھتیجے نے (جس نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا) مجھے خبر دی ہے کہ خدا کے

___________________

۱_ کبھی کہا جاتا ہے کہ معاہدے کی منسوخی تک قریش کا اپنی عداوت پر باقی رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ دیمک نے صرف اللہ کے نام کو مٹایا تھا اور قطع رحمی کی مانند دیگر مواد کو باقی رکھا تھا لیکن اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دیمک کا خدا کے نام کو کھا جانا بہت بعید بات ہے شاید مشرکین عہدنامے کے محو ہوچکنے کے باوجود بھی اس کے مضمون پر عمل کرتے رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اسے دوبارہ لکھا ہو_ اس پر یہ اشکال کیا گیا ہے کہ دیمک نے خدا کا نام اس کی حرمت باقی رکھنے کیلئے چاٹا ہو تاکہ اس ظالمانہ عہدنامے میں اس کا پاک نام باقی نہ رہے_ اور یہ اظہار حق کیلئے مطلوب ایک مثبت معجزہ تھا_ اس سے کسی قسم کی اہانت کا پہلو نہیں نکلتا_

۱۵۷

حکم سے دیمک نے اس عہدنامے سے گناہ اور قطع رحمی سے مربوط الفاظ کو کھا لیا ہے اور فقط اللہ کے ناموں کو باقی چھوڑا ہے_ اگر اس کی بات صحیح نکلے تو تمہیں ہمارے اوپر ظلم کرنے سے دست بردار ہونا چاہیئے اور اگر جھوٹ نکلے تو ہم اسے تمہارے حوالے کردیں گے تاکہ تم اسے قتل کرسکو''_

یہ سن کر لوگ پکار اٹھے:'' اے ابوطالب بتحقیق آپ نے ہمارے ساتھ انصاف والی بات کی''_ اس کے بعد وہ عہدنامہ کولائے تو اسے ویساہی پایا جیسارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے خبر دی تھی_ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے تکبیر کی آواز بلند کی اور کفار کے چہروں کارنگ فق ہوگیا_حضرت ابوطالب بولے:'' دیکھ لیا کہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا حقدار ہے؟''

اس دن ان کے بہت سے افراد نے اسلام قبول کرلیا لیکن مشرکین پھر بھی قانع نہ ہوئے اور انہوں نے عہدنامے کے مضمون کے مطابق سابقہ روش جاری رکھی،یہاں تک کہ بعض مشرکین اس عہدنامے کو توڑنے کے درپے ہوئے ان لوگوں میں ان افراد کا ذکر ہوا ہے_ ہشام بن عمروبن ربیعہ، زہیر بن امیہ بن مغیرہ، مطعم بن عدی، ابوالبختری بن ہشام، زمعة بن اسود_

یہ سارے حضرات بنی ہاشم اور بنی مطلب سے کوئی نہ کوئی قرابت رکھتے تھے_ ابوجہل نے ان کی مخالفت کی، لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی چنانچہ وہ عہدنامہ پھاڑ دیا گیا اور اس پر عمل درآمدختم ہوگیا _یوں بنی ہاشم شعب ابوطالب سے نکل آئے_(۱)

ابوطالب عقلمندی اور ایمان کا پیکر

ہجرت سے قبل کے واقعات کا مطالعہ کرنے والا شخص دسیوں مقامات پر حضرت ابوطالب کی ہوشیاری وتجربہ کاری کا مشاہدہ کرتا ہے_

___________________

۱_ اس بارے میں ملاحظہ ہو : السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۴۴ ، السیرة النبویہ (ابن ہشام) ج ۲ ص ۱۶ ، دلائل النبوة مطبوعہ دار الکتب ج ۲ ص ۳۱۲، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۸۸ السیرة النبویہ (دحلان) ج۱ص ۱۳۷ و ۱۳۸ مطبوعہ دار المعرفة ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۱ اور البدایة والنہایة ج۳ ص ۸۵ و ۸۶_

۱۵۸

بہترین مثال مذکورہ بالا واقعہ ہے_ ہم نے مشاہدہ کیاکہ حضرت ابوطالب نے کفار سے عہدنامہ لانے کا مطالبہ کیا اورساتھ ہی یہ اشارہ بھی کیا کہ شاید اس میں صلح کیلئے کوئی راہ نکل آئے_

ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عہدنامہ سب لوگوں کے سامنے کھولاجائے تاکہ سب اسے دیکھ لیں اور آئندہ پیش آنے والے عظیم واقعے کیلئے آمادہ ہوسکیں _نیز ایک منطقی حل پیش کرنے کیلئے فضا ہموار ہوجائے تاکہ بعد میں قریش کیلئے اس کو قبول کرنا اور اس پر قائم رہنا شاق نہ ہو، بالخصوص اس صورت میں جب وہ ان سے کوئی وعدہ لینے یا ان کو عرب معاشرے میں رائج اخلاقی اقدار کے مطابق قول و قرار، شرافت و نجابت اور احترام ذات وغیرہ کے پابند بنانے میں کامیاب ہوتے_ انہیں اس میں بڑی حدتک کامیابی ہوئی یہاں تک کہ لوگ پکار اٹھے ''اے ابوطالب تو نے ہمارے ساتھ منصفانہ بات کی ہے_''

مذکورہ عبارات سے ایک اور حقیقت کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو بجائے خود اہمیت اور نتائج کی حامل ہے اور جو یہ بتاتی ہے کہ حضرت ابوطالب کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سچائی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن کی درستی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کی حقانیت پرکس قدر اعتماد تھا اور یہ کہ جب دوسرے لوگ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ساحر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے تو انہیں دکھ ہوتا تھا_ ان کی نظر میں یہ ایک کھلم کھلا بہتان تھا_ اسی لئے انہوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا تاکہ اس سے فائدہ اٹھاکر کفار کے خیالات و نظریات کو باطل قرار دیں چنانچہ انہوں نے کہا :'' کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا زیادہ حقدار ہے؟ ''اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہد نامے والا معجزہ دیکھنے کے بعد مکہ کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا_

قبیلہ پرستی اور اس کے اثرات

گذشتہ صفحات میں ہم نے ملاحظہ کیاکہ قبیلہ پرستی نے ایک حدتک ان حادثات کی روک تھام میں مدد کی جن سے دعوت اسلامی کے مستقبل اور اس کی کامیابی پر برا اثر پڑ سکتا تھا_ مثال کے طور پر عہدنامے کو منسوخ کرنے والے افراد کی کوشش میں بھی یہی جذبہ کارفرما تھا، لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس جدوجہد میں ابولہب کہیں دکھائی نہیں دیتا نیز حضرت خدیجہ کے چچازاد حکیم بن حزام بھی نظر نہیں آتے جس کے بارے

۱۵۹

میں روایات کا دعوی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں کھانے کاسامان بھیجا کرتے تھے _ اس کے علاوہ ابوالعاص بن ربیع اموی کا بھی کوئی کردار دیکھنے میں نہیں آیا جس کے بارے میں وہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے ساتھ قرابت کو سراہا (انشاء اللہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ حضرت علیعليه‌السلام کی شادی والے افسانے میں اس کا مزید ذکر ہوگا)_ ان کوششوں کی وجہ بالواسطہ طریقے سے حضرت علیعليه‌السلام کے مقام کو گھٹانا ہے جو ان کے نزدیک فقط ملامت اور سرزنش کے حقدار ہیں_ وہ علیعليه‌السلام جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شعب ابوطالب میں شہر مکہ سے کھانے کا سامان پہنچاتے تھے اور اگر وہ کفار کے ہاتھ لگ جاتے تو وہ انہیں قتل کردیتے_ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا)_

عہد نامے کی منسوخی کے بعد

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے دین کی ترویج میں بدستور مصروف رہے_ قریش بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے_ نیز وہ ہر ممکنہ ذریعے سے کوشش کرتے تھے کہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس نہ آئیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتیں نہ سنیں، لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے صبروتحمل کا راستہ اپناتے ہوئے ہر قسم کی سستی یا کندی سے احتراز کیا، یوں قریش کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے_

اس سلسلے میں بہت سے حادثات و واقعات پیش آئے، ان سب کو بیان کرنے کیلئے کافی وقت درکا رہے لہذا اس موضوع کو چھوڑکر دوسرے موضوعات کا رخ کئے بغیر چارہ نہیں اگرچہ اس موضوع کو ناتمام چھوڑنا ہمارے اوپر گران ہے_

حبشہ سے ایک وفد کی آمد

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے باہر سے پہنچنے والا پہلا وفد حبشہ کے عیسائیوں کا تھا_ بقولے ان کا تعلق نجران سے تھا ابن اسحاق وغیرہ کے بقول یہ وفد بیس افراد پر مشتمل تھا _ان کی تعداد کے

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417