الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209929 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

دوسری جلد

مؤلف: جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)

مترجم:

معارف اسلام پبلشرز

۳

مؤلف: علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)

مترجم:معارف اسلام پبلشرز

ناشر:نور مطاف

جلد: دوسری

اشاعت:دوم

تاریخ اشاعت:شوال المکرم ۱۴۲۵ ھ _ق

تعداد: ۲۰۰۰

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہیں _

۴

بسم الله الرحمن الرحیم

و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین

و لکم فی رسول الله اسوة حسنة

مقدمہ

عالم خلقت میں برترین اور کامل ترین طرز زندگی کا نمونہ بوستان زندگی کے وہ گل ہیں جن کی سیرت پورے عالم کیلئے پیروی کابہترین نمونہ ہے _ اس گلستان میں سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز اور درخشندہ ہستی پیغمبر اکرم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات مبارکہ ہے کہ پیروی اور اطاعت کیلئے ان سے زیادہ بہتر ہستی پوری کائنات میں نہیں مل سکتی _

یہ کتاب'' الصحیح من سیرة النبی الاعظم '' ، علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ) کی قیمتی اور گراں بہا تالیف ہے جس میں ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ کو بیان کیا گیاہے_

اس کتاب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤںپر تحقیقی گفتگو کی گئی ہے اور انہیں دقیق و منصفانہ تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ خود غرضی، تنگ نظری اور محدود فکری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر تحقیق کے روشن و منور مقام پر لاکر منظر عام میں پیش کیا گیا ہے _ علامہ موصوف کی یہ کتاب اہل تحقیق حضرات کیلئے باعث حیرت و دلچسپی واقع ہوئی ہے اور ان کی جانب سے علامہ کی اس کاوش کی تعریف و توصیف کی گئی ہے اور یہ کتاب عالم اسلام میں بہت مقبول ہوئی ہے _

۵

معارف اسلام پبلشرز خداوند متعال کا شکرگزار ہے کہ اپنے اصل فرائض (یعنی اردو زبان جاننے والوں کی ضروریات کے مطابق،اخلاق ، عقائد، فقہ، تفسیر، تاریخ اور سیرت جیسے اہم اور ضروری موضوعات پر مختلف کتابوں کے ترجمہ اور نشرو اشاعت کے فرائض)کو انجام دیتے ہوئے، ایک طولانی انتظار کے بعد اللہ تعالی کی توفیق سے اس کتاب '' الصحیح من سیرة النبی الاعظم'' کی دوسری جلد کو اہل تحقیق و مطالعہ اور حق کے متلاشی افراد کی خدمت میں پیش کررہاہے _ امید ہے کہ یہ کوشش خداوند متعال کی بارگاہ اور ولی خدا امام زمانہ حضرت حجة ابن الحسن العسکری (عج) کے نزدیک مقبول قرار پائے_

آخر میں اس نکتہ کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہیں ہے کہ یہ ترجمہ عربی متن کی آخری چاپ کے ساتھ کاملا مطابقت رکھتاہے اور اس کے مطالب وموضوعات کی ترتیب میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں اور منابع کی تکمیل کی گئی ہے اس ترجمہ میں ان کا مکمل خیال رکھا گیا ہے لہذا ہم ان تمام فاضل شخصیات اور محققین محترم کے تہ دل سے شکرگزار ہیں جنہوں نے اسکے ترجمے، تصحیح ، نظر ثانی اور بالخصوص مطابقت والے طاقت فرسا کام کو انجام دیا ہم خداوند عالم سے اپنے اور ان کے لئے مزید توفیقات اور امداد کے طالب ہیں_

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

معارف اسلام پبلشرز

۶

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدلله رب العالمین، الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین، ایاک نعبد

و ایاک نستعین، اهدنا الصراط المستقیم

والصلاة والسلام علی محمد المصطفی، خاتم الأنبیاء والمرسلین،

وآله الکرام البرزة الطیبین الطاهرین

واللعنة علی أعدائهم أجمعین، من الأولین والآخرین ، الی یوم الدین و بعد

چند اہم نکات

ہم اپنی اس تحقیق و تالیف کو محترم قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں لہذا چند اہم نکات کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں_

۱ _ اکثر و بیشتر ، بنیادی طور پر ہم نے اپنی اس کتاب میں قدماء کی تالیفات کو پیش نظر رکھا اور ان کی جانب رجوع کیا ہے_ ہم عصر مؤلفین کی کتابوں کی جانب کم رجوع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کتابیںصرف مطالب اور ابواب کی ترتیب میں فرق کے ساتھ عموماً اسلاف کے مطالب کا تکرار ہیں ، اور پھر اسلاف کے مطالب ہی کی توجیہ اور اس پر گفتگو کی گئی ہے _ انہوں نے اپنی ساری کوششوں کو اس بات میں صرف کیا ہے کہ حسین عبارتوں اور پر کشش کلمات کے ذریعہ اسلاف کے لکھے ہوئے مطالب کی تایید اور اسی پر تاکید کی جائے اور ان مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں انہوں نے کوئی غور و فکر ہی نہیں کیا اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی تحقیق انجام نہیں دی _یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے قارئین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گویا اسلاف کے یہ مطالب جو انہوں نے حسین اور عمدہ عبارتوں میں بیان کئے ہیں وحی الہی ہیں جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائشے نہیں _

۷

چاہے یہ مطالب جتنا بھی آپس میں متضاد و متناقض ہوں پھر بھی ان سب کو جمع کرنا انہوں نے ضروری سمجھا اور اس کیلئے ایسی توجیہات تراشی ہیں جنہیں عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی انسان کا ضمیر اسے قبول کرتاہے _ اس کے علاوہ اسلاف کے جن مطالب کی وہ توجیہ نہیں کر سکے یا کسی طرح ان کی متضاد باتوں کو جمع کرنے میں ناکام رہے ہیں وہاں انہوں نے خاموشی اختیار کی اور یہ اعتراف کیا ہے کہ یہاں حقیقت حال کو سمجھنے سے وہ عاجز و قاصر ہیں اور یہ ایمان کی انتہائی کمزوری ہے _

۲ _اس کتاب میں ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ ان تمام مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں تحقیق کریں جن کے تاریخ اسلام اور سیرت نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہونے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن یہ تحقیق ہماری اس مختصر تصنیف کے مطابق کی گئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ بقدر امکان قارئین کو اس تاریخی دور کے حقائق سے تقریباً نزدیک کردیا جائے جو انتہائی نازک اور حساس واقعات سے پر نظر آتاہے_ یہ وہ دور ہے جو بنیادی طور پر ہمیشہ اہل دنیا، نفس پرست و منفعت طلب افراد اور متعصب لوگوں کی نظر میں بڑی اہمیت کا حامل رہاہے _

بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ تاریخ انسانیت کا سب سے اہم ترین اور خطرناک ترین دور گزرا ہے کیونکہ اس دور نے نہ فقط انسانی معاشرے کی غلط بنیادوں اور تمام انسانوں کی جاہلانہ اقدار و رسومات کی اصلاح کی بلکہ بنی نوع انسان کی تاریخ کو یکسر بدل کر ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا_ اگر چہ اس دور کی تاریخ کو رقم کرنے کیلئے حقیقتاً انتہائی زحمت و مشقت کی ضرورت ہے لیکن اس کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر (خصوصاً اس صورت میں کہ تمام جوانب سے بحث کامل نہیں )ہم نے اس کام کو انجام دینے کی سعی و کوشش کی ہے اگر چہ ناقص ہی سہی البتہ_ ہماری یہ کوشش و کاوش ، اہم تاریخی و اقعات اور حوادث کو گہرائی کے ساتھمکمل طور پر تحقیقی انداز میں سمجھنے کی جانب پہلا قدم اور سنگ میل ہے _

۳ _ اس کتاب میں مکمل طور پر تمام پہلوں سے بحث کرنے کی روش میں ممکن ہے کبھی قارئین نقائص پائیں اور نشیب و فراز کا مشاہدہ کریں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب ایک طولانی عرصہ میں ترتیب دی گئی ہے اور اس اثناء میں انسان کی بہت ساری مصروفیات مانع ہوجاتی ہیں کہ وہ اپنے وقت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے کام کو کامل ، افضل اور بے مثال طریقہ سے انجام دے سکے _ طبیعی ہے، کہ طولانی مدت میں انسان پر عارض ہونے والے مختلف حالات واضح طور پر انسان کی تحریر پر اثر انداز ہونے کا باعث بنتے ہیں اور نتیجتاً اس کی جانب سے پیش کئے جانے والے مطالب اور ان کے بیان کرنے کی روش میں تھوڑا سا تفاوت پایا جائے _

۸

۴ _ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ تاریخ اسلام نے بہت سے ایسے واقعات نقل کئے ہیں جنہیں ہوا و ہوس کی پیروی کرنے والوں اور سیاسی و مذہبی مفاد پرستوں نے اپنا کھلونا بنالیا _ اہل کتاب اور دیگر افراد کی جانب سے بھی بعض جھوٹے ، باطل اور من گھرٹ قصے شامل کردئے گئے اور پھر گناہ گار اور دشمن عناصر کی جانب سے تاریخ میں تحریف اور تبدیلی کی کوششیں کی گئی ہیں جن کی بناپر بعض اوقات حقائق تک پہنچنا،ناممکن نہ سہی تو حد درجہ دشوار ضرور ہوجاتاہے _ لہذا ہم نے مندرجہ ذیل نکات اور اصولوں کو اپنانا ضروری سمجھا_

الف: خاص قسم کی تالیفات اور مؤلفین پر انحصار کرنا کبھی کبھی سبب بنتاہے کہ قارئین ان نصوص کے بارے میں مطلع نہ ہوسکیں جو یہاں وہاں مختلف منابع میں پھیلی ہوئی ہیں اور حقائق سے پردہ اٹھاسکتی ہیں اور ایک حد تک تحریف سے بچ کر ہم تک پہنچی ہیں _کیونکہ تحریف گر سیاست دانوں نے ان میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا اور مذہبی تعصب رکھنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نظر نہ آیا اور وہ روایات ہم تک پہنچ گئیں اور حقیقت کے متلاشی اور حق شناسی کے عاشق( جو اگر چہ بہت کم ہیں لیکن وہ )متعصبین کے شر و سازش او رپیشہ ور بلوائیوں کے غضب و شرارت سے محفوظ و مامون رہ کر ان روایات سے استفادہ کرسکتے ہیں _

ب : ان حالات میںہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ روایتوں کی اسناد سے بحث اور نتیجتاً ان کو قبول یا رد کرنے کے سلسلہ میں ایک خاص معیار پر اعتماد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بہت ہی کم روایات پر اکتفا کیا جائے جو بہت کلی اور اجمالی مطالب اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجمالی سیرت مبارکہ کے تصور کیلئے بھی ناکافی ہیں چہ جائیکہ وہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات کی تفصیلات کو بیان کرسکیں _ جبکہ ہم بہت سی ایسی نصوص دیکھتے ہیں جو صحیح ہیں لیکن وہ سند قبول کرنے کی بیان کردہ شرائط پہ پوری نہیں اترتیں_

اس کے علاوہ تحقیق کرنے والا شخص اگر ان محدود روایات پر اکتفاء کرے تو آزادانہ تحقیق نہیں کرسکتا اور نہ ہی آزادی کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچ سکتاہے _اس کے (زمانے ، حالات اور مختلف سیاسی اور فکری خطوط کو سمجھنے کے لئے طویل مشقوں کے بعد حاصل ہونے والے ) عمیق ادراک و فہم کو ہر قسم کی مؤثر فعالیت سے کنارہ کشی کرنا پڑے گی جو تاریخی حقائق کو سمجھنے اور منکشف کرنے کیلئے ضروری ہے تا کہ وہ حقائق ،ابہام کے سیاہ پردوں میں چھپ نہ جائیں_ اس کے علاوہ رجالی بحث کرنے کیلئے ایک شخص کو ایسی بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کیلئے ضروری ہوجائے گا کہ وہ ان پر غلبہ پائے تب وہ سندی بحث کرسکتا ہے کہ کون سی بحث و سند ارباب فکر اور اساطین علم کے نزدیک مقبول و معقول ہے _

ان مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل وہ معیار و ضوابط ہیں جنہیں قبول یا رد کرنے کے میزان کے طور پر پیش

۹

کیا گیا ہے جن میں سے بعض کی بنیاد ان کے اپنے محدود عقائد ہیں _ان میں بہت ساری ابحاث ایسی ہیں جو اگر انسان کے کسی نتیجے تک پہنچنے سے مانع نہ بھی ہوں تو کم از کم انسان کیلئے بے انتہا مشقت اور طویل وقت کے صرف کرنے کا باعث بنتی ہیں_

بعض لوگوں کی طرف سے تو یہ اصرار ہوتاہے کہ بس ان کے محدود نظریات کے مطابق راہ اختیار کی جائے (خصوصاً عقائد کے مسئلہ میں )چاہے ان کے نظریات حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ نہ بھی ہوں _ اس قسم کے افراد کے بارے میں ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ خداوند متعال ہوا پرستی ، تعصب اور شخصی و گروہی منافع کے پیچھے دوڑنے کی صفت سے نجات عطا فرمائے_

اسی وجہ سے ہم نے یہاں اگر سندی بحث کی بھی ہے تو وہ اس مقبول و معروف قاعدہ کی بناپر ہے : '' الزموہم بما الزموا بہ انفسہم'' یعنی مد مقابل کو اسی چیز کے ذریعہ قائل کرو جس کا وہ خود پابند و قائل ہے _ یا پھر ان بعض طریقوں کے ذریعہ بحث کی ہے جنہیں تمام نہیں تو اکثر فرقے اور گروہ قبول کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان ایسے نتائج تک پہنچ جاتاہے جو سب کے نزدیک قابل قبول ہیں، چاہے ان کو قبول کرنے کی دلیل میں مختلف زمانوں میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا رہاہو_

ج: ہم نے اسلام کے بنیادی اصولوں ، قرآن کریم اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق حسنہ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت سے کچھ ایسے اصولوں کو حاصل کیا ہے جو روایات کے قبول اور رد کرنے کا معیار ہیں اور انہی کے ذریعہ نقل کی جانے والی اکثر روایات کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کس قدر ان مسلم اور بنیادی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ تمام شخصیات کی سیرت، ان کے اخلاق ، ان کے نظریات اور ان کے موقف کو سمجھا جاسکتاہے_

د: اس کے علاوہ ہم نے تاریخی بحث کے مختلف وسائل اور طریقوں سے استفادہ کیا ہے جن کیلئے بہت تمرین و ممارست کی ضرورت ہوتی ہے جیسے نصوص کے تعارض میں بحث کرنا _ یا دقیق تاریخی محاسبات کی روشنی میں تاریخی اعتبار سے کسی واقعہ کے ممکن ہونے کی بحث کرنا اور دیگر وہ طریقے جن سے ہم نے تاریخی ابحاث میں استفادہ کیا ہے اور ہمارے قارئین مطالعہ کے دوران ان کی طرف متوجہ ہوجائیں گے_

۵_ مجموعی طور پر مسلمانوں نے تاریخ اسلام کی تدوین میں بہت اہتمام کیا ہے اور دیگر اقوام وامتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی _ بہر حال تمام نقائص اور وارد ہونے والے اعتراضات کے باوجود حق یہ ہے کہ انہوں نے امت اسلامیہ کی تاریخ کو رقم کیا اور اسے مستغنی کردیا ہے _

تاریخی واقعات کے تمام جوانب اور پہلوؤں سے بحث کرنا ایک مشکل کام ہی نہیں بلکہ ہمارے لئے ناممکن تھا،

۱۰

لہذا ہم نے تاریخ کو رقم کرنے میں ان جوانب سے بحث کی ہے جس کے ذریعہ انسان پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌ کی حیات طیبہ کو تقریباً سمجھ سکتاہے اور اس بارے میں حقائق سے آشنا ہوسکتاہے_

۶ _ قارئین محترم کیلئے یہ واضح ہوجائے گا کہ ہم نے اپنی اس کتاب میں جتنے کم سے کم حوالوں ،شواہد ،دلائل اور ان کے منابع کی ضرورت تھی اسی پر اکتفا کیا ہے اگر چہ کتاب کے مطالب و حقائق کی تایید اور ان پر تاکید کیلئے اور بھی زیادہ حوالوں اور شواہد کا اضافہ کیا جاسکتا تھا_

۷_ ہم نے جس نکتہ سے استفادہ کیا یا جس دلیل سے استدلال کیا اسے اس کے قائل ، لکھنے والے یا نقل کرنے والے کی طرف منسوب کیا ہے اس کے علاوہ وہ نکات یا افکار جن کے کوئی منابع ذکر نہیں کئے گئے وہ ہماری اپنی فکر اور ہمارے اپنے نکات ہیں _

۸_ آخر میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بعض مواقع پر جب فکری نشاط حاصل رہی تو ہم نے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے بعض واقعات میں ان کی تفسیر یا ان پر تنقید و اعتراضات سے گریز نہیں کیا ، اگر چہ اکثر اوقات ہماری بحث اس جہت سے کامل نہ رہی کیونکہ اکثر اوقات اختصار کے ساتھ اس بحث کو سمیٹ لیا گیا لیکن پھر بھی وہمقامات جہاں اس جہت سے کچھ گفتگو کی گئی ہے قارئین محترم کیلئے باعث تسکین و رضایت ہوں گے جیسا کہ خود لکھنے والے کیلئے ثابت ہوئے ہیں_ اب کتاب کے قاری کو حق حاصل ہے کہ ان استدلالی ابحاث کو پڑھنے کے بعد چاہے اس کی حمایت میں اور چاہے تو اس کی مخالفت میں قضاوت کرے اور اگر اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا تب بھی اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ اس کتاب کی گہرائی، دقت اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کرے _

ہمارے ان عرائض کے اختتام پر قارئین محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنی آراء و مشوروں اور تنقید و اعتراضات سے آگاہ کرکے شکریہ کا موقع دیں گے_

والحمد لله والصلاة والسلام علی عباده الذین

اصطفی محمد و آله الطیبین الطاهرین

والسلام

جعفر مرتضی حسینی عاملی

۱۱

۱۲

تیسرا باب

اعلان نبوت سے لے کر وفات ابوطالب تک

پہلی فصل : ہجرت حبشہ تک

دوسری فصل : ہجرت حبشہ اور اس سے مربوط امور

تیسری فصل : شعب ابوطالب تک کے حالات

چوتھی فصل : شعب ابوطالب میں

پانچویں فصل : ابوطالب مؤمن قریش

۱۳

پہلی فصل

ہجرت حبشہ تک

۱۴

مقدمہ:

اسلام قبول کرنے والوں کا تذکرہ اور بعثت کے بعد کے حالات کو بیان کرنے سے پہلے دو اہم باتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں_

پہلی بات تو یہ کہ اسلام کے اہداف اوردنیاوی زندگی کے حوالے سے اس کے مقاصد کیا ہیں، اور دوسری یہ کہ کسی بھی دعوت کا طبیعی طریقہ کار کیسا ہونا چاہیئے اور اس کی ابتدا کہاں سے ہونی چاہیئے؟

اسلام کے اہداف و مقاصد

سب سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کہ اسلام کا اصل مقصد فقط قیام عدل (اگرچہ اس کے وسیع تر مفہوم کے تناظر میں ہی سہی) نہیں_ کیونکہ اگر مقصد صرف یہی ہو_ تو پھر دین و عقیدے کی راہ میں جہاد کرنے اور جان کی قربانی دینے کا حکم بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایک انسان تو اپنی جان گنوائے جبکہ دوسرے لوگ زندگی اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں_ علاوہ ازیں خدا کے نزدیک ایثار اور ایثار کرنے والے کے محبوب اور پسندیدہ ہونے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی _ جس طرح ارشاد خداوندی ہے:( و یؤثرون علی انفسهم و لو کان بهم خصاصة ) (۱)

کیونکہ اگر فقط عدل مقصود و مطلوب ہو تو پھر ایثار کی کوئی گنجائشے نہیں رہتی _نیز کینہ و حسد سے پرہیز کا حکم

___________________

۱_ سورہ حشر آیت ۹_

۱۵

بھی غیرمعقول ہو کر رہ جائے گا _ اس کے علاوہ بھی کئی اور مثالیں ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ خلاصہ یہ کہ مذکورہ و غیرمذکورہ احکام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام کا ہدف صرف قیام عدل میں محدود نہیں بلکہ اس سے بھی اعلی ،اہم اور مقدس ہدف ہے_

اسلام کا حقیقی ہدف انسان کی انسانیت کو پروان چڑھانا اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ زمین پر خلافت الہی کے منصب کی اہلیت پیدا کرے تا کہ خدا اس کے متعلق یہ دعوی کرسکے_

( و اذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة ) (۱)

واضح ہو کہ عدل اور دیگر معنوی مقامات اور کمالات اس اعلی اور مقدس ترین ہدف تک پہنچنے کے وسائل اور مراحل میں سے ہیں، یہ ہدف حقیقی عدل سمیت تمام انسانی کمالات و فضائل اور مکمل خوش بختی و کامرانی کا حامل ہے_

یہ ہے اسلام کا بنیادی ہدف جس کے حصول کی تگ و دو کی جاتی ہے_

اس بات کی واضح ترین دلیل درج ذیل آیت ہے جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داریوں میں پیام الہی کو لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دینے اور ان کے تزکیہ و تطہیر کی ذمہ داریوں کو بیان کرتی ہے:( هو الذی بعث فی الامیین رسولاً منهم، یتلو علیهم آیاته، و یزکیهم، و یعلمهم الکتاب و الحکمة، و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۲)

یہ ارشاد بھی قابل غور ہے:

( ما یرید الله لیجعل علیکم من حرج، و لکن یرید لیطهرکم، و لیتم نعمته علیکم، لعلکم تشکرون ) (۳)

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۳۰_

۲_سورہ جمعہ، آیت ۲_

۳_سورہ مائدہ، آیت ۶_

۱۶

خدا تمہیں کسی بے جا سختی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و پاکیزہ کرے اور تم لوگوں پر اپنی نعمتوں کو کامل کرے تاکہ تم شکرگزار بنو_

آیات قرآنی کی طرف رجوع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت ساری آیات مذکورہ حقیقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں_ بنابرایں مزید دلائل و شواہد اور توضیح و تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی_

وزیر اور وصی کی ضرورت

جب ہمیں اسلام کے اصلی مقصد کا علم ہوگیا ہے تو ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ یہ مقصد نہایت ہی مشکل اور کٹھن ہے_ اس لئے کہ ابتداء ہی میں یہ ہدف اشخاص کی ذات سے ہی متصادم ہے _ کیونکہ اس مقصد کے تحقق کے لئے افراد کے عزائز اور نفسانی خواہشات پر غلبہ پانا ضروری ہے تاکہ مثالی انسان کی شخصیت تعمیر ہوسکے_ اسی طرح معاشرے کی معاشرتی ، سیاسی اور دیگر اصولوں کی بنیادی تبدیلیوں کا ہدف ہے_ تا کہ شرکی جڑیں اکھاڑ پھینکے اور انحراف کے تمام عوامل و اسباب کو ختم کرڈالے _ اور اس کے بدلے میں خیر ، برکت ، نیکی اور خوشبختی کے تناور درخت اگائے_

جی ہاں یہی تو نہایت مشکل ہدف ہے اور اس سے بڑھ کر مشکل کوئی چیز نہیں _ اس لئے کہ اس کے تحقق اور دوام کے لئے اس وقت تک سخت اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے جب تک انسان اپنے اندر وہ تبدیلیاں نہ پالے جس کے لئے خدا نے اسے خلق کیا ہے تا کہ یہ تبدیلیاں اس کی بقاء ، سعادت اور سکون کی عامل بنیں_اور خدا نے بھی انسان کو ان خواہشات پر قابو پانے اور انہیں ہدف مند کرنے کے وسائل فراہم کئے ہیں_ لیکن بسا اوقات یہ وسائل ان خواہشات پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیںاور جب تک ان کے درمیان جنگ جاری ہے انحراف کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں_ اور چونکہ طول زمانہ میں انسان کے وجود کے ساتھ جنگ بھی جاری رہے گی _ اس لئے انحراف اور بھٹکنے کا خطرہ بھی دائمی رہے گا پس انبیاء کو عقل کو مسحور کردینے والی آیتوں کی تلاوت اور اسلامی احکام کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور تزکیہ کی مہم پر توجہ دینے ،

۱۷

انسانی اور اخلاقی فضائل کو انسان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھرنے اور پھر اس کی تطبیق اور اس دائمی کشمکش کی نگرانی کرنے کی ضرورت رہے گی _انہی باتوں سے نبی کے وزیر ، وصی ، مددگار ، بھائی اور حامی کی ضرورت واضح ہوتی ہے _ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کی جانب سے خلافت پر حضرت علیعليه‌السلام کی تنصیب ،راہ جہاد اور دعوت الی اللہ کے سلسلے میں ایک عقلمندانہ فیصلہ تھا _ پس دعوت ذوالعشیرة اور اس میں حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی ، وزیر اور خلیفہ کے عنوان سے حضرت علیعليه‌السلام کی تنصیب کا واقعہ ان بہت زیادہ واقعات میں سے ایک ہے جن میں اس امر خلافت پر قوت اور شدت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے_ دعوت ذوالعشیرة کا واقعہ کچھ یوں ہے:

دعوت ذوالعشیرہ

بعثت کے ابتدائی تین سالوں کے بعد ایک اہم، جدید اورکٹھنمرحلہ کا آغاز ہوا اور وہ تھا اسلام کی طرف اعلانیہ دعوت کا مرحلہ_

پہلے پہل نسبتاً ایک محدود دائرے سے اس کی ابتدا ہوئی کیونکہ خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی_ (وانذر عشیرتک الاقربین)(۱) یعنی اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو (کفر و گمراہی کے عذاب سے) ڈراؤ_

مؤرخین کے بقول ( الفاظ تاریخ طبری کے ہیں) جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو بلاکر کھانا تیار کرنے اور بنی عبدالمطلب کو دعوت دینے کا حکم دیا تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ گفتگو کرکے حکم الہی کو ان تک پہنچاسکیں_

پس حضرت علیعليه‌السلام نے ایک صاع (تقریباً تین کلو) آٹے کی روٹیاں تیار کرائیں اور بکرے کی ایک ران بھی پکالی نیز دودھ کا کاسہ بھی بھر کر رکھ دیا_ بعدازاں انہیں دعوت دی حالانکہ اس وقت ان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی جن میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا ابوطالب، حمزہ، عباس اور ابولہب بھی شامل تھے_ حضرت علیعليه‌السلام کا

___________________

۱_ سورہ شعرائ، آیت ۲۱۴_

۱۸

بیان ہے کہ انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن کھانا جوں کا توں رہا صرف انگلیوں کے نشان دکھائی دے رہے تھے_ قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے وہ کھانا جو میں نے ان کیلئے تیار کیا وہ سارے کا سارا ان میں سے ایک آدمی کھا سکتا تھا_ اس کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں دودھ پلانے کا حکم دیا_ میں دودھ کا برتن لیکر ان کے پاس آیا انہوں نے جی بھر کر پیا_ خدا کی قسم وہ سارا دودھ ان میں سے اکیلا آدمی پی سکتا تھا_ اس کے بعد جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے گفتگو کرنی چاہی تو ابولہب نے پہل کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے ساتھی نے تم پر کیسا سخت جادو کردیا_ یہ سن کر وہ لوگ متفرق ہوگئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ان سے گفتگو نہ کرسکے_

دوسرے دن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو حسب سابق دعوت دینے کا حکم دیا_ چنانچہ جب لوگ کھا پی کر فارغ ہوگئے تو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:'' اے آل عبدالمطلب خدا کی قسم جہاں تک مجھے علم ہے عرب کا کوئی جوان آج تک اپنی قوم کیلئے کوئی ایسا تحفہ لیکر نہیں آیا جس قسم کا تحفہ میں لایا ہوں_ میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کا تحفہ لیکر آیا ہوں خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں_ اب تم میں سے کوئی ہے جو اس امر میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین قرار پائے''_ یہ سن کر سب چپ ہوگئے حضرت علیعليه‌السلام نے عرض کیا: ''اے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اس امر میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہاتھ بٹاؤں گا''_ (حضرت علیعليه‌السلام کہتے ہیں کہ) یہ سن کر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ''بے شک یہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے، پس اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو''_

حضرت علیعليه‌السلام کا کہنا ہے کہ وہ لوگ ہنستے ہوئے اور جناب ابوطالب سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ لو اب اس نے تجھے حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو_ بعض روایات میں صریحاً بیان ہوا ہے کہ جب حضرت علیعليه‌السلام نے اٹھ کر جواب دیا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو بٹھا دیا اور اپنی بات کا تکرار کیا_ حضرت علیعليه‌السلام نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا_ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر آپ کو بٹھا دیا اور حاضرین کے سامنے تیسری بار اپنی بات دہرائی_ لیکن سوائے علیعليه‌السلام کے کسی نے بھی جواب نہ دیا_ اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے_

۱۹

اسکافی کی تصریح کے مطابق آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''یہ ہے میرا بھائی، میرا وصی اور میرے بعد میرا جانشین''_ یہ سن کر حاضرین نے ابوطالب سے کہا:'' لو اب اپنے بیٹے کی اطاعت کرو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو اسے تمہارے اوپر حاکم بنادیا ہے''_(۱)

اندھا تعصّب

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ طبری نے اپنی تاریخ میں تو اس حدیث کو مذکورہ بالا انداز میں بیان کیا ہے_ لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ بعد میں وہ پشیمان ہوا کیونکہ اس نے اپنی تفسیر میں مذکورہ حدیث کو متن و سند کی رو سے مکمل طور پر اور حرف بہ حرف نقل کیا ہے البتہ ایک عبارت میں تحریف کی ہے اور اسے یوں ذکر کیا ہے:

( فایکم یوازرنی علی هذا الامر، علی ان یکون اخی، وکذاوکذا ) (۲)

___________________

۱_ اس واقعہ کے سلسلہ میں مراجعہ ہو، تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۳، مختصر التاریخ ابوالفدء ج ۲ ص ۱۴ (دار الفکر بیروت)، شواہد التنزیل ج ۱ ص ۳۷۲ و ص ۴۲۱ و کنز العمال طبع دوم ج ۱۵ ص ۱۱۶_۱۱۷ و ۱۱۳ و ۱۳۰ از ابن اسحاق و ابن جریرجبکہ احمد، ابن ابوحاتم، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی نے الدلائل میں اور تاریخ ابن عساکر میں اسے صحیح ہے ،تاریخ ابن عساکر نیز زندگی نامہ امام علی (بتحقیق محمودی) ج۱، ص ۸۷_۸۸، شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۴۴ از اسکافی، حیات محمد ( ھیکل) طبع اول ص ۲۸۶ و کامل ابن اثیر ج ۲ ص ۶۲،۶۳، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۸۶، مسند احمد ج ۱ ص ۱۵۹ نیز رجوع کریں کفایة الطالب ص ۲۰۵ از ثعلبی، منھاج السنة ج ۳ ص ۸۰ از بغوی و ابن ابی حاتم و واحدی و ثعلبی و ابن جریر نیز مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۱ و فرائد السمطین بہ تحقیق محمودی ج ۱ ص ۸۶ و اثبات الوصیة (از مسعودی) ص ۱۱۵ و ص ۱۱۶ والسیرة النبویة ابن کثیر ج ۱ ص ۴۶۰،۴۵۹، الغدیر ج ۲ ص ۲۷۸،۲۸۴ بعض مذکورہ کتب سے اور انباء نجباء الابناء ص ۴۶،۴۷ سے نیز شرح الشفا_ (خفاجی) ج ۳ ص ۳۷ و تفسیر خازن ج ص ۳۹۰ و کتاب سلیم بن قیس وغیرہ اور خصائص نسائی ص ۸۶ حدیث ۶۳ نیز رجوع کریں بحارالانوار ج ۳۸ و درمنثور ج ۵ ص ۹۷ از منابع کنز العمال لیکن اس نے اس میں تحریف کی ہے نیز مجمع الزوائد ج ۸ ص ۳۰۲ کچھ کمی کے ساتھ و ینابیع المودة ص ۱۰۵ و غایت المرام ص ۳۲۰ ابن بطریق کی کتاب و العمدة و تفسیر ثعالبی و تفسیر طبری ج ۱۹ ص ۷۵ و البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۰ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۵۰و۳۵۱_

۲_تفسیر طبری ج ۱۹ ص ۷۵ _

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

مالک بن جاؤ گے اور عجم بھی تمہارے مطیع ہونگے نیز جنت میں بھی تمہاری بادشاہی ہوگی''_ لیکن قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مذاق اڑایا اور وہ کہنے لگے کہ محمد بن عبداللہ مجنون ہوگیا ہے البتہ حضرت ابوطالب کی سماجی حیثیت کے پیش نظر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہ کرسکے_(۱)

یہ بھی منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صفاکی پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو پکارا جب وہ جمع ہوگئے تو فرمایا:''اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر تمہارا منتظر ہے تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟''_ وہ بولے:'' کیوں نہیں ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں کوئی بدی نہیں دیکھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں سنا تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہیں شدید عذاب سے ڈراتا ہوں ...'' اس پر ابولہب نے کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا ''تیرا سارا دن بربادی میں گزرے، کیا اتنی سی بات کیلئے لوگوں کو اکٹھا کیا تھا؟'' یہ سن کر سارے لوگ متفرق ہوگئے اور اس پر سورہ( تبت یدا ابی لهب ) نازل ہوئی_(۲)

ناکام مذاکرات

ابن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بحکم خدا اپنی قوم کے سامنے علی الاعلان ًاسلام کو پیش کیا تو اس وقت لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور ہوئے نہ آپ کی مخالفت کی_ لیکنجب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے معبودوں کی برائی بیان کی تو اس وقت انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف متحد ہوگئے سوائے ان لوگوں کے کہ جن کواللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے ان سے بچایا_ یہ لوگ کم بھی تھے اور بے بس بھی_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے چچا حضرت ابوطالب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے ہوئے دشمنوں کے مقابلے میں آپ کا دفاع کیا اور پیغمبراکرم بلاروک ٹوک اعلانیہ حکم الہی بجالاتے رہے_

___________________

۱_ تفسیر نور الثقلین ج۳ص۳۴کہ تفسیر قمی سے نقل کیا ہے_

۲_ اس حدیث کو مفسرین نے نقل کیا ہے اور سیوطی نے در منثور میں، نیز غیر شیعہ مورخین نے بھی واقعہ انذار کے ضمن میں نقل کیا ہے لیکن ہم واضح کرچکے ہیں کہ آیہ انذار میں سارے رشتہ دار مراد نہیں بلکہ فقط قریبی رشتہ دار ہی منظور ہیں_ بنابریں یہ روایت مذکورہ ارشاد الہی (فاصدع بما تو مر) کے ساتھ ہی سازگار معلوم ہوتی ہے_

۴۱

جب قریش نے یہ دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی مخالفت کے باوجود باز نہیں آتے، ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں رکتے اور آپ کے چچا حضرت ابوطالب بھی آپ کی حمایت کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قریش کے حوالے کرنے سے گریزاں ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطالب کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی_ یہ مذاکرات (ا بن اسحاق وغیرہ کے خیال میں) تین مراحل سے گزرے اور سب کے سب بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے_

پہلا مرحلہ:

قریش کے چند سر کردہ افراد (جن کے ناموں کا مورخین نے ذکر کیا ہے) حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور کہا :''اے ابوطالب آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے ہمارے دین کی برائی بیان کی ہے_ ہمارے نظریات کو باطل اور ہمارے آباء و اجداد کو گمراہ قرار دیا ہے پس یاتو آپ خود اس کو روکیں یا ہمارے اور اس کے درمیان حائل نہ ہوں کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ( نظریاتیلحاظ سے) اس کے مخالف ہیں_ یوں ہم اس سے آپ کو بھی بچائیں گے''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے ان سے نرم گفتگو کی اور اچھے طریقے سے انہیں ٹال دیا چنانچہ وہ چلے گئے_

دوسرا مرحلہ:

جب مشرکین نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے دین کی ترویج وتبلیغ میں مصروف ہیں یہاں تک کہ ان کے درمیان معاملہ بگڑنے لگا ہے_ لوگوں میں دشمنی اور اختلاف پیدا ہوچکا ہے اور قریش کے در میان کثرت سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا ہے تو وہ حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے بھتیجے کو ان کے آباء و اجداد کو برا بھلا کہنے ، ان کے نظریات کو باطل ٹھہرانے اور ان کے خداؤں کو بُرا کہنے سے نہیں روکیں گے تو وہ ان دونوں کے مقابلے پر اترآئیں گے اور ان سے جنگ

۴۲

کریں گے یہاں تک کہ کوئی ایک فریق ہلاک ہوجائے_ اس دھمکی کے بعد وہ چلے گئے_

حضرت ابوطالب نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کی اطلاع دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اور ان کے اوپر رحم کھائیں اور ناقابل برداشت بوجھ نہ ڈالیں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سوچاکہ چچا کا ارادہ بدل چکا ہے اور وہ آپ کی نصرت و حمایت کی طاقت نہیں رکھتے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اے چچا خدا کی قسم اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تاکہ میں اس امر سے دست بردار ہوجاؤں پھر بھی میں ہرگز باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ خدا اپنے دین کوغالب کر دے یا میں اس دین کی راہ میں قتل ہوجاؤں'' یہ دیکھ کر حضرت ابوطالب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کا وعدہ کیا_

تیسرا مرحلہ:

اس دفعہ قریش نے حضرت ابوطالب کویہ پیشکش کی کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ عمارة بن ولید کو اپنا بیٹا بنالیں اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو( جن کے بارے میں قریش کا خیال تھا کہ انہوں نے ابوطالب اور ان کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی تھی، مشرکین میں اختلاف ڈالا تھا اور ان کی آرزوؤں کو پامال کیا تھا) ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کریں_ تو اس طرح سے آدمی کا بدلہ آدمی سے ہوجائے گا _

حضرت ابوطالب نے کہا:'' خدا کی قسم تم نے میرے ساتھ نہایت برا سودا کرنے کا ارادہ کیا ہے_ تم چاہتے ہو کہ اپنا بیٹاپلنے کے لئے میرے حوالے کرو اوراس کے بدلے میں میں اپنا بیٹا قتل ہونے کے لئے تمہارے حوالے کردوں _خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوسکتا''_

یہ سن کر مطعم بن عدی نے کہا:'' اے ابوطالب اللہ کی قسم تیری قوم نے تیرے ساتھ انصاف کیا ہے انہوں نے اس چیز (افتراق و انتشار) سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جوتجھے بھی نا پسند ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تو ان کی کوئی بات قبول نہیں کرنا چاہتا''_ حضرت ابوطالب نے کہا:'' واللہ انہوں نے تومیرے ساتھ نا انصافی کی ہے لیکن تونے مجھے بے یار ومددگار بنانے اور لوگوں کو میرے مقابلے میں لاکھڑا

۴۳

کرنے کا ارادہ کیا ہے_ پس تیری جو مرضی ہو وہ کر کے دیکھ لے''_ حضرت ابوطالب کی اس بات کے بعد معاملہ بگڑ گیا مخالفت کا بازار گرم ہوگیا اور لوگوں نے کھلم کھلا دشمنی شروع کردی_

ممکن ہے کہ یہ مراحل اسی ترتیب سے واقع ہوئے ہوں اور ممکن ہے کہ یہ ترتیب نہ رہی ہو_ بہرحال ہم نے جو کچھ کہا وہ ہمارے نزدیک بلا کم و کاست حالات و واقعات کے(۱) طبیعی سفر کی ایک تصویر کشی تھی البتہ اس گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے سے قبل درج ذیل نکات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں_

الف: اس ناکامی کے بعد

ہم نے ملاحظہ کیا کہ مشرکین مکہ نے شروع شروع میں یہ کوشش کی کہ وہ حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ساتھ نہ الجھیں_ چنانچہ انہوں نے خود حضرت ابوطالب کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے موقف سے ہٹائیں اور اس چیز کا خاتمہ کریں جسے وہ اپنے لئے مشکلات اور خطرات کا سرچشمہ سمجھتے تھے_ انہوں نے ابوطالب کو بھڑکانے اور انہیں اپنے بھتیجے کے خلاف یہ سمجھاکر اکسانے کی کوشش کی کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام ان کے مفادات کے منافی اور دیگر لوگوں کے علاوہ خود حضرت ابوطالب کی ہمدردی و شفقت کو زک پہنچانے کے مترادف ہے_

اس بناپر طبیعی تھا کہ خود حضرت ابوطالب اپنے بھتیجے کی سرگرمیاں محدود کرتے_ اور قریش کو اس مسئلے سے نجات دلاتے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوطالب نے ان کی بے سروپا باتوں کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی ذات اور مفادات کو درپیش خطرات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو وہ دھمکی دینے پر اترآئے _ اس کے بعد انہوں نے مکروفریب اور دھوکے کی سیاست اپنائی( جیساکہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برائے قتل ان کے حوالے کرنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بدلے عمارة بن ولید کو بطورفرزند، حضرت ابوطالب کے حوالے کرنے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے)اس واقعے نے ان کے دلوں میں پوشیدہ مقصد کو بھی ظاہر کر دیا _ نیز حضرت ابوطالب اور

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج۱ ص۲۸۲،۲۸۶نیز البدء والتاریخ ج۴ص ۴۷،۱۴۹ نیز تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۵،۶۸_

۴۴

دیگر لوگوں کیلئے واضح ہوا کہ ان کا مقصد دین حق کومٹانے اور نورالہی کو بجھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ اس امرنے حضرت ابوطالب کو دین حق اور پیغمبراسلام کی حمایت پر مزید کمربستہ کر دیا_

ب: قریش کی ہٹ دھرمی کا راز

مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی اور نور الہی کو بجھانے کی کوششوں کا راز درج ذیل امور میں مضمر معلوم ہوتا ہے:

۱)قریش ،مکہ اور دوسرے مقامات کے غریبوں، غلاموں اور کمزوروں سے اپنے مفادات کے حصول کیلئے کام لیتے تھے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے آکران بیچارے لوگوں کے اندر ایک تازہ روح پھونکی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انسانی عظمت اور حریت کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش شروع کی اورساتھ ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی دستگیری کرتے اور مسائل و مشکلات زندگی میں ان کے مددگار ہوتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی حقیقت خودان کیلئے آشکارکرتے تھے اور اسلامی تعلیمات سے ان کو بہرہ ور فرماتے تھے _ان تعلیمات کی ابتدائی باتوں میں سے ایک، ان ظالموں کے تسلط اور ظلم سے رہائی کی ضرورت کا مسئلہ بھی تھا_

۲)کفار مکہ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی تبلیغ اور اس کے مقاصد کو دیکھ کر یہ اندازہ کرچکے تھے کہ وہ اس دین کے زیر سایہ اپنے ناجائز امتیازات کو برقرار نہیں رکھ سکتے جنہیں ان ظالموں نے اپنے لئے مخصوص کررکھا تھا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں رد کر ر ہے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تاکید فرماتے تھے کہ خدا کی عدالت میں سب لوگ مساوی ہیں اس کے علاوہ یہ مشرکین، دین اسلام کے سائے تلے اپنی غیراخلاقی اور غیر انسانی اطوار کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ اسلام مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا تھا اور یہ لوگ اپنے رسوم کے زبردست پابند تھے حتی کہ اپنے ان معبودوں کی عبادت سے بھی زیادہ پابند رسوم تھے جن کی نگہبانی کے وہ دعویدار تھے_ چنانچہ ایک دفعہ ایک عرب نے بھوک لگنے پر اپنے اس خدا کو کھالیا جسے اس نے کھجوروں سے تیار کیاہوا تھا_

۳)تیسرے سبب کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے( وقالوا ان نتبع الهدی معک نتخطف من ارضنا ) (۱) یعنی اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو اپنی سرزمین سے اچک لئے جائیں گے،

۴۵

بالفاظ دیگر انہوں نے اسلام قبول نہ کرنے کیلئے یہ بہانہ تراشا کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو مشرکین عرب ان کے ایمان لانے اور بتوں کو ٹھکرانے کی وجہ سے ناراض ہوجائیں گے_

قرآن نے اس کا جواب یوں دیا ہے( اولم نمکن لهم حرما آمنا يُجبی الیه ثمرات کل شی رزقا من لدنا ) (۲) کیا ہم نے انہیں امن کے مقام حرم مکہ میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بناپر چلے آر ہے ہیں_

بنابرایں اس خوف کی کوئی وجہ نہ تھی نیز اس خوف کے بہانے شرک پر باقی رہنے سے بھی خطرہ ٹل نہیں سکتا تھا کیونکہ کتنی ہی بستیوں کو خدانے ہلاک کرڈالا تھا جن کے مکین نعمتوں کی کثرت کے باعث بہک گئے پھر ان گھروں میں رہنے والا کوئی نہ رہا بلکہ یہی بات دنیا میں ان کی ہلاکت کی وجہ بنی کیونکہ اگر ان تمام امکانات اور مادی وسائل کو صحیح راہوں پر چلانے والے اور حال و مستقبل کے لحاظ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر فائدہ مند بنانے والے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہ ہوں تو یہی چیزیں باہمی اختلافات، ظلم و استبداد اور معاشرتی و قومی بربادی والے دیگر انحرافات کا باعث بنتی ہیں_

ہر چیز کا اختیار خداکے دست قدرت میں ہے_ جو کوئی بھی اس کی نافرمانی کرتاہے وہ اپنی ذات کو دنیوی اور اخروی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے پھر خدانے ان کیلئے قارون کی مثال بھی دی جس کے پاس اس قدر خزانے تھے جن کی چابیاں اٹھانے سے ایک طاقتورجماعت بھی عاجز تھی_ لیکن جب اس نے ہٹ دھرمی تکبر اور نافرمانی کا مظاہرہ کیا اور احکام الہی کی مخالفت کی تو خدانے اسے گھر سمیت زمین کے اندر دھنسا دیا_

متعلقہ سورہ کی آیات میں عجیب نکتے اور لطیف معانی پوشیدہ ہیں جو مستقل اور عمیق مطالعے کے محتاج ہیں لیکن یہاں اس کی گنجائشے نہیں یہاں ہم اسی اجمال اور اشارے پر اکتفا کرتے ہیں، خداوند عالم توفیق عطا کرنے اور مدد کرنے والا ہے_

___________________

۱ و ۲ _سورہ قصص، آیت ۵۷_

۴۶

مذاکرات کی ناکامی کے بعد

مذاکرات کی ناکامی کے بعدحضرت ابوطالب سمجھ گئے تھےکہ اب معاملہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے اور مشرکین سے کھلی جنگ کا مرحلہ قریب ہے لہذا حضرت ابوطالب نے حفظ ماتقدم کے طورپر بنی ہاشم اور بنی مطلّب سب کو جمع کیا اور ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و حفاظت کرنے کی دعوت دی تو ابولہب ملعون کے سوا انہوں نے مثبت جواب دیااور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کیلئے آمادہ ہوگئے _

خدانے بھی اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کی اور مشرکین آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ہاں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر کہہ کرپکارتے ر ہے لیکن قرآن ان لوگوں کو جھٹلاتا رہا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم راہ حق پرقائم ر ہے مشرکین کی افتراپردازیاں آپ کو خفیہ و اعلانیہ دعوت حق دینے سے کبھی نہ روک سکیں_

درحقیقت جب مشرکین نے دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات کو ضرر پہنچانے کا نتیجہ مسلح جھڑپ ہوگا جس کیلئے وہ آمادہ نہ تھے اور خاص کر بنی ہاشم کے روابط اور قبائل کے ساتھ ان کے معاہدوں مثلاً مطیبین کے معاہدہ اور جناب عبدالمطلب کے ساتھ مکہ کے نواح میں رہنے والے قبیلہ خزاعہ کے معاہدے کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ بھی یقیننہ تھا کہ اس جھڑپ کا نتیجہ ان کے حق میں نکلے گا_ بلکہ اگر یہ جنگ چھڑتی تو ممکن تھا کہ اس سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا موقع ملتا_(۱) توان تمام باتوں کے پیش نظر مشرکین نے بہتر یہ سمجھا کہ جنگ سے بچا جائے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کمزور بنانے اور اس کی تبلیغ کا مقابلہ کرنے کیلئے دیگر طریقوں سے کام لیا جائے_

چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین:

الف : لوگوں کو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی آیات قرآن سننے سے منع کرتے تھے جیساکہ

___________________

۱_ بعض محققین کا خیال ہے کہ شاید حضرت ابوطالب نے کبھی نرمی اور کبھی سختی برتنے کی روش اسلئے اختیار کی تاکہ اس قسم کی ایک جنگ چھڑ جائے جس سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا پیغام پھیلانے کا بہتر موقع مل جائے_

۴۷

ارشاد الہی ہے:( وهم ینهون عنه وینا وْنَ عنه ) (۱) یعنی وہ قرآن سے دوسروں کو منع کرتے تھے اور خود بھی دوری اختیار کرتے تھے_ نیزفرمایا:( وقال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن و الغوافیه لعلکم تغلبون ) (۲) یعنی کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے وقت شور مچاؤ شاید اس طرح ان پر غالب آسکو_

ب: حضور کا مذاق اڑانے اور آپ پر بے بنیاد تہمتیں لگانے کی روش اختیار کئے ہوئے تھے تاکہ وہ:

۱_ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات پر دباؤ ڈال سکیں کیونکہ ان کے گمان باطل میں شاید آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نفسیاتی طورپر شکست کھاجائیں گے اور احساس کمتری و حقارت کاشکار ہوکر اپنے مشن سے ہاتھ اٹھا لیں گے_

۲_نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مرتبے کو گھٹاکر نیز آپ کی شخصیت کو مسخ کر کے کمزور ارادے کے مالک افراد کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین میں داخل ہونے سے روکیں _اسی مقصد کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بیوقوف لوگوں کو اس بات پر اکساتے تھے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کواذیت پہنچائیں اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جھٹلائیں _بسا اوقات قریش کے رو سا بھی اس قسم کے کاموں کا ارتکاب کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے کسی غلام کو حکم دیا کہ وہ حیوان کی اوجھڑی اور گوبر حالت نماز میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر ڈال دے چنانچہ غلام نے اسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کاندھوں پر پھینک دیا _اس بات سے حضرت ابوطالب غضبناک ہوئے اور آ کر وہ گندگی مشرکین کی مونچھوں پر مل دی _اس طرح خدا نے ان کے اوپر رعب طاری کر دیا_ مشرکین آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر مٹی اور بکری کی بچہ دانی وغیرہ بھی ڈالتے تھے_

ان باتوں نے لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور رکھنے اور انہیں قبول اسلام سے روکنے میں کچھ حد تک اپنا اثردکھایا یہاں تک کہ عروة بن زبیر اور دوسروں کاکہنا ہے کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو ناپسند کرتے تھے، وہ اپنے زیر دست افراد کو آپ کے خلاف اکساتے تھے یوں عام لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوری اختیار کرگئے_(۳)

___________________

۱_سورہ انعام، آیت ۲۶_

۲_ سورہ فصلت، آیت ۲۶_

۳_تاریخ طبری، ج ۲ ص ۶۸_

۴۸

مکہ کے ستم دیدہ مسلمان

مذکورہ باتوں کے علاوہ مشرکین نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان اصحاب سے انتقام لینے کی ٹھانی جو مختلف قبائل میں زندگی گزارتے تھے _چنانچہ ہر قبیلے نے اپنے اندر موجود مسلمانوں کو ستانے، انہیں اپنے دین سے دوبارہ پلٹانے، قیدکرنے، مارنے پیٹنے، بھوکا رکھنے، مکہ کی تپتی زمینوں پر سزا دینے، نیزدیگر ظالمانہ اور وحشیانہ طریقوں سے ان کو اذیت دینے کا سلسلہ شروع کیا_

ذکر مظلوم :

مشرکین نے کئی مسلمانوں پر ستم کیا _ عمر بن خطاب نے بھی قبیلہ بنی عدی کی شاخ بنی مؤمل کی ایک مسلمان لڑکی پر تشدد کیا_ وہ اسے مارتا رہا اور جب وہ مار مار ہلکان ہوگیا تو بولا '' میں تمہیں صرف تھکاوٹ سے تنگ آکر چھوڑ رہا ہوں''(۱) _ شاید قبیلہ بنی مؤمل نے عمر بن خطاب کو اپنے قبیلے کی لڑکی پر تشدد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی وگرنہ معاشرے میں اس کی اتنی حیثیت ہی نہیں تھی کہ اسے اس جیسے کام کی کھل چھٹی دے دی جاتی _ اسی طرح مشرکین نے خباب بن الارت ، ام شریک ، مصعب بن عمیر اور دیگر لوگوں پر بھی تشدد کیا جن کے نام اور واقعات کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے_

انہی لوگوں نے ہمارے لئے توحید اور عقیدے کی خاطر استقامت اور جہاد کی عمدہ مثال پیش کی ہے_ حالانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ارادہ الہی کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو مشرکوں کو اس تشدد سے باز رکھ سکے _ پھر بھی انہوں نے اپنے اسلام کے بل بوتے پر اس پوری دنیا کو چیلنج کیا ہوا تھا جو اپنی تمام تر توانائیوں سمیت ان کے مقابلے پر اتر آئی تھی _ اور اسی چیز میں ہی ان کی عظمت اور خصوصیت پوشیدہ تھی _

___________________

۱_ سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۱ ، سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۰۰ اور ملاحظہ ہو: السیرة النبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۳ اور المحبر ص ۱۸۴_

۴۹

حضرت ابوبکر نے کن کو آزاد کیا؟

راہ خدامیں اذیت پانے والوں میں بلال حبشی اور عامر بن فہیرہ بھی تھے، کہتے ہیں کہ ان کو حضرت ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا اور انہیں حضرت ابوبکر کی وجہ سے نجات حاصل ہوئی_ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک مشکوک ہے کیونکہ:

اولا: اسکافی نے کہا ہے'' بلال اور عامربن فہیرہ کو خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آزاد کیاہے''_ اور اسے واقدی اور ابن اسحاق نے بھی نقل کیا ہے_(۱)

علاوہ ازیں ابن شہر آشوب نے بلال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں آزاد شدگان میں شمار کیا ہے_(۲)

ثانیا: اس بارے میں وہ خود متضاد روایتیں ذکر کرتے ہیں جن کا ایک دوسرے سے کوئی ربط ہی نہیں بنتا_

اس سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ہم حضرت ابوبکر کی طرف سے اداکی جانے والی قیمت میں اختلاف کا ہی ذکر کریں چنانچہ ایک روایت کہتی ہے حضرت ابوبکر نے اس کی قیمت میں اپنا ایک غلام دے دیا جو (بلال) سے زیادہ مضبوط تھا_

دوسری روایت کہتی ہے کہ اس کی قیمت کے طورپر ایک غلام، اس کی بیوی اور بیٹی کے علاوہ دو سو دینار بھی دیئے_

تیسری روایت کی رو سے سات اوقیہ(۳) سونے میں خریدا_

چوتھی روایت کے مطابق نو اوقیہ میں_

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ اور قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۹۶ و ج ۲ ص ۲۳۸ کی طرف رجوع کریں_

۲_المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۷۱_

۳_ اوقیہ رطل کا بارہواں حصہ جو چو تھائی چھٹانک تک ہوتا ہے_ (المنجد، مترجم)_

۵۰

پانچویں روایت کے مطابق پانچ اوقیہ کے بدلے اور چھٹی روایت کے مطابق ایک رطل(۱) سونے کے عوض خریدا_

ساتویں روایت کا کہنا ہے کہ حضرت ابوبکر نے اسے اپنے غلام قسطاس کے بدلے خریدا جو دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں، غلاموں اور مویشیوں کا مالک تھا_

آٹھویں روایت کی رو سے اس کی قیمت ایک کمبل اور دس اوقیہ چاندی تھی علاوہ بریں اس مسئلے میں مزید اختلاف موجود ہے(۲) _

ثالثا :کہتے ہیں کہ اسی مناسبت سے( فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسره للیسری ) (۳) والی آیات حضرت ابوبکر کے حق میں نازل ہو ئیں(۴) حالانکہ:

۱_ اسکافی نے اسے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک قول کے مطابق یہ آیات مصعب ابن عمیر کے بارے میں اتری ہیں_(۵)

۲_ علاوہ برآں ابن عباس وغیرہ بلکہ خودرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مروی احادیث میں اس آیت کی تفسیر کو عام قرار دیا گیا ہے اور اسے کسی فردسے مختص نہیں سمجھا گیا، شیعوں کی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں نازل ہوئی، حلبی نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے احسان چکا دیا تھا اور وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہاں آپ کا تربیت پانا تھا جبکہ آیات یہ کہتی ہیں کہ اس پرکسی کاکوئی احسان نہیں جس کا چکانا ضروری ہو_ رازی نے بھی یہی اعتراض کیا ہے_(۶)

___________________

۱_ رطل، ایک وزن مساوی ۱۲ اوقیہ کے ہے_ (المنجد، مترجم)_

۲_ گذشتہ اختلافات کے معاملہ میں مراجعہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۲۹۸ و ۲۹۹ ، قاموس الرجال ج ۱ ص ۲۱۶ ، سیر اعلام النبلاء ج۱ ص ۳۵۳، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۰ ، حلیة الاولیاء ج۱ ص ۱۴۸ اور بہت سے دیگر منابع

۳_ سورہ لیل، آیت ۵،۷_

۴_ درمنثور ء ۶ ص ۳۵۸،۳۹۰ کئی کتب سے ماخوذ نیز السیرة الحلبیة ہ ج ۱ ص ۲۹۹ اور شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ بہ نقل از جاحظ اور عثمانیہ ص ۲۵ _

۵_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ ص ۲۷۳_

۶_ السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹_

۵۱

لیکن رازی اور حلبی یہ نہیں جانتے کہ یہاںمرادکچھ اورہے یعنی خدا اس صاحب تقوی شخص کی صفت بیان نہیں کررہا بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ مال جو وہ خرچ کررہا ہے اسلئے خرچ نہیں کر رہا کہ کسی شخص کی طرف سے اس کی جزا ملے بلکہ وہ فقط اور فقط خدا کی مرضی کیلئے خرچ کررہا ہے _

۳_ ابن حاتم کے بیان کے مطابق یہ سورہ سمرة بن جندب کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک درخت کھجور کا مالک تھا اس درخت کی شاخ ایک نادار شخص کے گھر میں تھی_ جب سمرة کھجور چننے درخت پر چڑھتا تو گاہے کچھ دانے گرپڑتے اور نادار شخص کے بچے وہ اٹھالیتے _یہ دیکھ کر سمرة درخت سے اترتا اور ان کے ہاتھوں سے دانے چھین لیتا اوراگر وہ منہ میں ڈال لیتے تو اپنی انگلی ڈال کر کھجور باہر نکال لیتا _پس نادار شخص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس اس کی شکایت کی _اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سمرة سے ملاقات ہوئی ،آپ نے اس سے کہا کہ وہ اس درخت کو جنت کے ایک درخت کے بدلے فروخت کر دے_ سمرة بولامجھے بہت کچھ ملا ہوا ہے میں خرما کے بہت سارے درختوں کا مالک ہوں ان میں سے کسی کا پھل اس درخت کے پھل سے زیادہ مجھے پسند نہیں_

ایک اورشخص جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور سمرة کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آیا اورعرض کیا کہ اگر میں اس درخت کو حاصل کروں توآپ مجھے وہی چیز عنایت کریں گے جس کا آپ نے سمرة سے وعدہ فرمایا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے یہ سن کر وہ چلا گیا اور درخت کے مالک سے ملا _پھر خرما کے چالیس درختوں کے بدلے اس نے سمرة سے وہ درخت خرید لیا_ پھر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس گیا اور درخت آپ کو ہدیہ کر دیا_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مالک مکان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اب یہ درخت تمہارا اور تمہارے گھروالوں کا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:( واللیل اذا یغشی ) (۱)

اسی لئے سیوطی نے سورہ اللیل کے بارے میں کہا ہے کہ قول معروف کے مطابق یہ سورہ مکی ہے نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدنی ہے کیونکہ اس کے سبب نزول میں خرما کے درخت کا واقعہ منقول ہے جیساکہ ہم نے اسباب نزول کے بارے میں ذکر کیا ہے_(۲)

___________________

۱_ درالمنثور ج ۶ ص ۳۵۷ از ابن ابی حاتم از ابن عباس اور تفسیر برہان ج ۴ ص ۴۷۰ از علی ابن ابراہیم ، در منشور سے منقول بات سے کچھ اختلاف کے ساتھ_

۲_ الاتقان ج ۱ ص ۱۴_

۵۲

یہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ منقول واقعہ ان آیات کے ساتھ متناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت کہتی ہے، کسی نے راہ خدا میں مال دیکر تقوی اختیار کیا لیکن کسی نے بخل سے کام لیا اور لاپروائی اختیار کی_

ہاں اگر ان کا عقیدہ یہ ہو کہ بخل کرنے والے سے مراد (نعوذ باللہ ) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تھے تو اور بات ہے جبکہ یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال کے فقدان کی صورت میں آپ پر بخل صادق نہیں آتا، نیز خود یہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے_ یا پھر بخلکرنے والے سے مراد جناب عباس تھے جن کے بارے میں روایات کہتی ہیں کہ اس نے جاکر بلال کو خریدا اور ابوبکر کے پاس بھیجا پھر انہوں نے بلال کو آزاد کیا_

۴_ حدیث غار میں ہم حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کریں گے کہ قرآن میں آل ابوبکر کے بارے میں کوئی آیت نازل ہی نہیں ہوئی_ ہاں حضرت عائشہ کا عذر نازل ہوا یعنی سورہ نور میں حدیث افک (تہمت) سے متعلق آیات اور حضرت عائشہ کی اپنے متعلق صفائی بھی نازل ہوئی_ لیکن درحقیقت وہ آیت بھی حضرت عائشہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی جیساکہ ہم نے اپنی کتاب حدیث الافک میں اس کا تذکرہ کیا ہے_

رابعاً: یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آسکی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ کیونکر فرمایا کہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے کیونکہ ایک طرف تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوبکر سے بلال کو مشترکہ طور پر خریدنے کا تقاضا کیا تو ابوبکر نے بتایا کہ اس نے بلال کو آزاد کر دیا ہے_(۱) وہ ان دو اقوال کے درمیان کیسے ہماہنگی پیدا کرسکتے ہیں؟ علاوہ برایں کیا حضرت خدیجہ (س) کے اموال آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اختیار میں نہ تھے؟ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ کے مسلمانوں پر یہ اموال خرچ نہ کرتے تھے؟ جیساکہ اسماء بنت عمیس کو حضرت عمرنے ہجرت کے شرف سے محروم رہنے کا طعنہ دیا تو اس نے جواب میں کہا: ''بے شک وہ اور اس کے دیگر مسلمان ساتھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھوکوں کو سیر کراتے اور جاہلوں کو علم سکھاتے تھے'' اس واقعے کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ اپنے مقام پرہوگا_

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۶۵_

۵۳

رہا اس بات کا احتمال کہ بلال والا واقعہ ہجرت سے قبل کے آخری سالوں میں واقع ہوا ہے تو اسے مورخین قبول نہیں کرتے کیونکہ نووی کہتے ہیں '' وہ اعلان نبوت کی ابتدا میں مسلمان ہوئے وہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والوں میں سے تھے''_(۱) مگر یہ کہا جائے کہ بلال مسلمان تو بہت پہلے ہوگئے تھے لیکن کچھ سال بعد انہیں خرید کر آزاد کیا گیا تھا_

ان ساری باتوں کے علاوہ یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ حضرت بلال کو حضرت عباس نے خرید کر حضرت ابوبکر کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے آزاد کیا_(۲) بعض دیگر روایات کہتی ہیں کہ حضرت بلال کو حضرت ابوبکر نے بذات خود خرید کر آزاد کیا_ نیز ایسی روایات بھی ملتی ہیں جو کہتی کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات ہوئی تو حضرت بلال نے ابوبکر سے کہا ''اگر تم نے مجھے اپنے لئے خریدا تھا تو اپنا غلام بنائے رکھو اور اگر رضائے الہی کیلئے خریدا تھا تو پھر مجھے آزاد کردو''_

اس روایت کی رو سے تو وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو آزاد نہیں کیا تھا_ رہی حضرت عباس کے حضرت بلال کو خریدنے کی بات تو یہاں ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت عباس نے اگر بلال کو اپنے لئے خریدا تھا تو انہوں نے خود حضرت بلال کو آزاد کیوں نہیں کیا؟ اور اگرحضرت عباس نے حضرت ابوبکر کے لئے خریدا تھا تو وہ حضرت ابوبکر کے وکیل کب بنے تھے؟ اور اس قسم کے کاموں میں کب سے دلچسپی لینے لگے تھے؟ جبکہ انہی لوگوں کے بقول حضرت عباس نے فتح مکہ کے سال یا جنگ بدر میں اسلام قبول کیا تھا_

بعض لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ حضرت عباس نے امیة بن خلف سے بات کی پھر حضرت ابوبکرنے آکر حضرت بلال کو خریدلیا_(۳) یہ تو نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے _ زمانے کا دستور نرالا ہوتاہے_

گذشتہ نکات کے علاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ خود حضرت ابوبکر کے معاشی

___________________

۱_تہذیب الاسماء و اللغات ج ۱ ص ۱۳۶_

۲_سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_

۳_ سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_

۵۴

حالات اس بات کی اجازت کب دیتے تھے کہ وہ کئی سو دینار دے سکتے؟ چہ جائیکہ ان کاایک غلام دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں اور مویشیوں وغیرہ کا بھی مالک ہو( اگرچہ ہم فرض بھی کرلیں کہ اس دور میں عربوں کے غلام مال و دولت کے مالک بھی بن سکتے تھے) کیونکہ حضرت ابوبکر تاجر نہ تھے بلکہ چھوٹے بچوں کے استاد تھے پس ان کے پاس ہزاروں یاکم از کم سینکڑوں درہم و دینار کہاں سے آگئے تھے کہ جس سے سات یا نو افرادکو خرید کر آزاد کرتے_ غار والے واقعہ پر بحث کے دوران ہم انشاء اللہ حضرت ابوبکر کی مال و دولت کے بارے میں بھی اشارہ کریں گے_

بعض لوگوں نے تو حضرت ابوبکر سے منسوب غلاموں میں سے کئی ایک کے وجود میں ہی شک کیا ہے بالخصوص زنیرہ وغیرہ کے بارے میں_ جس کے متعلق سہیلی نے کہا ہے کہ عورتوں میں زنیرہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا_(۱)

سید حسنی کہتے ہیں: ''قریش ایمان لانے والوں کو سزائیں دیتے تھے تاکہ اسلام نہ پھیلے _وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہرقسم کا قیمتی اور نفیس مال دینے پر آمادہ تھے تاکہ وہ اپنے مشن سے دست بردار ہوجائیں _اس صورت میں قریش حضرت ابوبکر کے حق میں اپنے غلاموں سے کیسے دست بردار ہوسکتے تھے؟ اور ان کو سزا دیئے بغیر اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ سکتے تھے''(۲) مگریہ کہاجائے کہ مال و دولت سے قریش کی محبت اور ساتھ ساتھ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی مایوسی کے سبب انہوں نے ایسا کیا (جیساکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے)_

کیا حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کیں؟

مؤرخین کہتے ہیں کہ اسلام کی راہ میں حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کی ہیں_ کیونکہ جب ابوبکر اور طلحہ بن عبداللہ تیمی نے اسلام قبول کیا تو عمر بن عثمان نے دونوں کو پکڑکر ایک رسی میں ایک ساتھ باندھ دیا اور نوفل بن خویلد نے ان پر تشدد کرکے انہیں دین سے پھیرنے کی کوشش کی_ اسی لئے ابوبکر اور طلحہ کو'' قرینین ''

___________________

۱_ الروض الانف ج ۲ ص ۷۸_

۲_سیرة المصطفی ص ۱۴۹_

۵۵

کہا جاتا ہے _ البتہ بعض مؤرخین کے مطابق انہیں باندھ کر ان پر تشدد کرنے والا صرف نوفل ہی ہے جبکہ اس دوران عمر بن عثمان کا کہیں ذکر ہی نہیں ملتا(۱) اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ :

۱_ وہ خود ہی کہتے ہیں'' خدانے حضرت ابوبکر کی حفاظت اس کی قوم کے ذریعہ سے کی ''(۲) اور یہ ان کے اس قول '' حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں اٹھائیں'' کے بالکل متضاد ہے_ اسی طرح ابن دغنہ کے اس قول ''اسے قوم سے نکال دیا گیا'' سے بھی متناقض ہے_

۲_ سیرت کی کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس قبیلہ سے بھی کوئی شخص اسلام لاتا تو صرف وہی قبیلہ اس پر تشدد کرتا تھا_ دوسرے قبیلہ والوں کو اس پر تشدد کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی_

۳_ اسکافی نے بھی یہی کہا ہے کہ ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ یہ تشدد صرف غلاموں یا کرائے کے غنڈوں کے ذریعہ سے ہوتا اور اس شخص پر ہوتا جس کی حمایت کرنے والا کوئی خاندان نہیں ہوتا تھا_(۳) اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر بڑے قابل اطاعت سردار اور بزرگ تھے_(۴) جس کے منتظر بزرگان قریش بھی رہتے تھے اور اس کی عدم موجودگی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرتے تھے_ حتی کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معاملے میں بھی (جیسا کہ ابوبکر کے اسلام لانے والے واقعہ میں گذر چکا ہے) اسی کے پاس کوئی قطعی فیصلہ کرنے آئے تھے_ ان کی تعریفوں کے مطابق وہ بلند پایہ شخصیت ، بزرگ سردار اور قریش کے محترم رئیس تھے_(۵) پھر جناب ابوبکر اس گروہ سے کیسے ستائے گئے جو ان کے قبیلے سے بھی

___________________

۱_ اس بارے میں ملاحضہ ہو : العثمانیہ جاحظ ص ۲۷و ۲۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۳، سیرة ابن ہشام ج ۱ ص ۳۰۱، نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۳۰، البدایہ و النہایہ ج ۲ ص ۲۹ ، بیہقی اور مستدرک حاکم ج ۳ ص ۳۶۹ اور البدء و التاریخ ج ۵ ص ۸۲_

۲_ البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۸ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۸۴ حاکم نے بھی اور ذہبی نے بھی اس کی تلخیص کے حاشیہ میں اس قول کو صحیح جانا ہے ، حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۹، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۱، سنن احمد ، سنن ابن ماجہ ، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۶، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۶از کنز العمال ج ۷ ص ۱۴از ابن ابی شیبہ اور طبقات الکبری ابن سعد مطبوعہ صادر ج ۳ ص ۲۳۳_

۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵_ ۴_ ملاحظہ ہو : شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۳ اور سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۲۷۳_ ۵_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۳ اور البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶_

۵۶

نہ تھے؟ اور اس کی قوم نے اپنے سردار اور بلند پایہ شخصیت کو ایسے کیسے چھوڑدیا کہ وہ لوگ اس کی توہین کرتے رہیں؟اور ابن ہشام و غیرہ کے مطابق :'' اپنی قوم کا مونس ، محبت کرنے والا اور نرم خو تھا '' حتی کہ وہ کہتا ہے ''اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جاکر کئی ایک امور کے لئے اس کی حمایت حاصل کرتے(۱) اور ابن دغنہ کے زعم میں : '' ایسے شخص کو کیونکر نکالا جاسکتا ہے؟ کیا تم ایسے شخص کو نکال باہر کر رہے جو گمنامی کا طالب ہے ، صلہ رحمی کرتاہے ، دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہے ، مہمان نوا ز اور زمانے کی مصیبتوں پر دوسروں کا مدد گار ہے؟''(۲) _

توجہ : یہ ا لفاظ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو وقت بعثت حضرت خدیجہ نے حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی کے لئے کہے تھے_ ان الفاظ کو ابن دغنہ نے جناب ابوبکر کے ہجرت حبشہ کے وقت اس کے حق میں کہے ہیں جن کا سقم آئندہ معلوم ہوگا _یہاں بس پڑھتے جائیں ، سنتے جائیں اور پیش آیند پر تعجب بھی کرتے جائیں_ سنتا جاشرماتاجا _

پہلانکتہ : کیا حضرت ابوبکر قبیلہ کے سردار تھے؟

گذشتہ تمام باتیں ہم نے صرف ان کی باتوں کے اختلاف اور تناقض کو بیان کرنے کے لئے ذکر کی ہیں_ کیونکہ اگر ایک بات صحیح ہے تو دوسری صحیح نہیں ہے_ وگرنہ ہمیں ابوبکر کے عظیم سردار اور قابل اطاعت بزرگ ہونے میں شک ہے ، کیونکہ :

۱_ حضرت ابوبکر جب ابوسفیان کے ساتھ حج کوگئے تو (وقت تلبیہ) اس نے اپنی آواز ابوسفیان کی آواز سے اونچی رکھی ، ابوقحافہ نے اس سے کہا :'' ابوبکر اپنی آواز ابن حرب کی آواز سے دھیمی رکھو'' جس پر ابوبکر نے کہا :'' اے ابوقحافہ خدا نے اسلام میں وہ گھر بنائے ہیں جو پہلے نہیں بنے تھے اور وہ گھر ڈھادیئےیں جو زمانہ جاہلیت میں بنے ہوئے تھے_ اور ابوسفیان کا گھر بھی ڈھائے جانے والے گھروں میں سے ہے''_(۳)

۲_ جب ابوبکر کی بیعت کی جا رہی تھی تو ابوسفیان چلا اٹھا: '' امر خلافت کے لئے قریش کا سب سے پست

___________________

۱_ سیرہ ابن ہشام ج ۱ ص ۳۶۷ اور سیرہ نبویہ ابن کثیر ص ۴۳۷_

۲_ سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۱۰۳ اور اس بارے میں مزید منابع کا ذکر ہجرت ابوبکر کی بحث کی دوران ہوگا ان شاء اللہ _

۳_ ملاحظہ ہو : النزاع و التخاصم مقریزی ص ۱۹ اور اسی ماخذ سے ذکر کرتے ہوئے الغدیر ج ۳ ص ۳۵۳_

۵۷

گھرانہ تم پر غالب آگیا ہے'' اور حاکم کی عبارت میںیوں آبا ہے '' اس امر خلافت کا کیا ہوگا جو قریش کے سب سے کم مرتبہ اور ذلیل شخص یعنی ابوبکر کے پاس آیا ہے''(۱) جبکہ بلاذری کی عبارت یوں ہے: ''ابوسفیان نے حضرت علیعليه‌السلام کے پاس آکر کہا ہے '' یا علیعليه‌السلام تم لوگوں نے قریش کے ذلیل ترین قبیلے کے آدمی کی بیعت کی ہے''(۲)

۳_ شاعر عوف بن عطیہ کا کہنا ہے:

و اما الا لامان بنوعدی ---- و تیم حین تزد حم الامور

فلا تشهد بهم فتیان حرب ---- و لکن ادن من حلیب و عیر

اذا رهنوا رماحهم بزبد ---- فان رماح تیم لا تضیر(۳)

اور قبیلہ بنی عدی اور تیم تو مشکلات کی بھیڑ میں واویلا کرنے والے پست اور بے صبرے ہیں_ انہیں کوئی جنگجو نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ایک جماعت اور قافلے سے بھی مغلوب ہونے والے ہیں_ انہیں مکھن (چکنی چپڑی باتوں) کے بدلے میں نیزے گروی رکھ لینے چاہئیں کیونکہ اب ان کے نیزے کسی کام کے نہیں ہیں_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو : المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۵۱ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۷۸ از ابن عساکرو ابواحمد دہقان ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۳۲۶، تاریخ طبری ج ۲ ص ۹۴۴، النزاع و التخاصم ص ۱۹ اور کنز العمال ج ۵ ص ۳۸۳و ۳۸۵از ابن عساکروابواحمد دہقان_

۲_ انساب الاشراف بلاذری (حصہ حیات طیبہ) ص ۵۸۸ _(اسی طرح منہاج الراعہ شرح نہج البلاغہ حبیب اللہ خوئی کے ترجمہ اردو ج ۳ ص ۵۰ پر جناب ابوبکر کے خاندانی پس منظر کے ذکر کے بعد آیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر مسند اقتدار پر فائز ہوئے تو ابوسفیان نے ان کا خاندانی پس منظر یاد کرکے حضرت علیعليه‌السلام سے کہا:'' ارضیتم یا بنی عبد مناف ان یلی علیکم تیمی رذل'' اے بنی عبد مناف کیا تم ایک رذیل تیمی کی حکومت پر راضی ہوچکے ہو؟ ''حاکم نیشاپوری اور ان حجر نے لکھا ہے کہ جب ابوقحافہ نے اپنے بیٹے کی حکومت کا سناتو کہا : '' کیا بنی عبدمناف اور بنی مغیرہ میرے بیٹے کی حکومت پر راضی ہوگئے؟ '' لوگوں نے بتایا : '' جی ہاں'' تو اس وقت اس نے کہا تھا :'' اللهم لا واضع لما رفعت و لا رافع لما وضعت '' خدایا جسے تو بلند کرے اسے کوئی پست نہیں کرسکتا اور جسے تو پست کرے اسے کوئی بلندی نہیں دے سکتا_ اگر چہ کہ ابوسفیان کی باتیں نیک نیتی کی بناپر نہیں تھیں لیکن اس سے دو باتوں کا علم ہوتا ہے : ۱_ حضرت ابوبکر نہ صرف قبیلہ کے رئیس نہیں تھے بلکہ ان کا خاندانی پس منظر بھی کچھ قابل ذکر نہیں ہے اس لئے تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت ابوبکر کی دولت سے اپنے نبی کو مالامال کردیا تھا_۲_ حضرت علیعليه‌السلام ہر لحاظ سے خلافت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ حقدار تھے _ اسی لئے ابوسفیان صرف حضرت علیعليه‌السلام کے پاس آیا تا کہ وہ حق دار ہونے کی بنا پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاکر ابوسفیان اپنے مقاصد حاصل کرے گا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے اس کے ارادے بھانپ لئے تھے اور مناسب جواب دیا تھا _ از مترجم)_ ۳_ طبقات الشعراء ابن سلام ص ۳۸_

۵۸

دوسرا نکتہ :

دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں :'' ابوبکر اظہار اسلام کرنے والا پہلا شخص ہے جس کی قوم نے اس کی حمایت کی'' یا'' جس پر اسے اتنا ماراگیا کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا ''(۱) تو ان لوگوں کی مذکور باتوں کو بہت ساری گذشتہ باتیں بھی جھٹلاتی ہیں اور یہاں پر بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ دعوت اسلام کے اعلان کرنے والی سب سے پہلی شخصیت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات والا صفات تھی جناب ابوبکر نہیں تھے_ اور مذکورہ بات تو ان متضاد باتوں کے علاوہ ہے جو یہ لوگ کبھی تو کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے سب سے پہلے اظہار اسلام کیا تھا ، کبھی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے کیا تھا اور یہاں پر وہ یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نے ایسا کیا تھا؟ (حافظہ کہاںگیا؟)

اسی طرح ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ ابوبکر کا اظہار اسلام اس وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچ گئی تھی اور حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرماتھے_ جبکہ ہم پہلے یہ بتاچکے ہیں کہ ابوبکر تو اس وقت تک بھی اسلام نہیں لائے تھے کیونکہ وہ پچاس سے زیادہ افراد کے اسلام لانے کے بعد مسلمان ہوئے تھے_ مگر یہ کہا جائے کہ اس روایت کا مقصد یہ ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد اسلام لانے والوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچنے کے بعد ابوبکر مسلمان ہوا تھا_ لیکن یہ بات بھی روایت کی اس تصریح کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتی جس میں آیاہے کہ ابوبکر کا مسلمان ہونا جناب حمزہ کے اسلام لانے کے دن تھا جس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرما تھے_

اسلام میں سب سے پہلی شہادت

قریش کے ہاتھوں آل یاسرکو سخت ترین سزائیں دی گئیں نتیجتاً حضرت عمار کی ماں حضرت سمیہ، فرعون قریش ابوجہل (لعنة اللہ علیہ) کے ہاتھوں شہید ہوگئیں وہ اسلام کی راہ میں شہید ہونے والی سب سے پہلی

___________________

۱_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۹ تا ۴۴۹ ، البدایہ و النہایة ج ۳ ص ۳۰ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۹۴ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۲۲ از تاریخ الخمیس و الریاض النضرہ ج ۱ ص ۴۶_

۵۹

ہستی ہیں_(۱) حضرت سمیہ کے بعد حضرت یاسر (رحمة اللہ علیہ) شہید ہوئے_البتہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے پہلے شہید حضرت حارث ابن ابوہالہ ہیں_ وہ اس طرح کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسجد الحرام میں کھڑے ہو کر فرمایا: '' اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو تاکہ نجات پاؤ ''یہ سن کر قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ٹوٹ پڑے، سب سے پہلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فریاد رسی کیلئے پہنچنے والا یہی حارث تھا اس نے قریش پر حملہ کرکے انہیں آپ کے پاس سے ہٹایا جبکہ قریش نے حارث کارخ کیا اور اسے قتل کر دیا_(۲)

لیکن یہ واقعہ درست نہیں کیونکہ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا) خدانے حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ذریعے اپنے نبی کی حفاظت کی، چنانچہ قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بال بھی بیکا کرنے کی جر ات نہ کرسکے_اسی طرح بنی ہاشم کے دوسرے ایمان لانے والوں کی حالت ہے کیونکہ وہ لوگ حضرت جعفر (رض) حضرت علیعليه‌السلام اور دیگر افراد پر بھی حضرت ابوطالب کے مقام کی وجہ سے تشدد نہیں کرسکے_

علاوہ برایں مورخین کا تقریبا ًاتفاق ہے کہ اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہادت حضرت سمیہ اور اس کے شوہر حضرت یاسر کو نصیب ہوئی مزید یہ کہ اعلانیہ تبلیغ کی کیفیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مذکورہ باتوں کے صریحاً منافی ہے (عنوان '' فاصدع بما تؤمر'' کا مطالعہ فرمائیں)_

یہاں ہمارے خیال کے مطابق اس واقعے کو گھڑنے کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ حضرت خدیجہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے سے قبل ایک یا ایک سے زیادہ بار شادی کی تھی اور ان دونوں سے ان کی اولاد ہوئی لیکن قبل ازیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ان کی شادی کی بحث میں اس کا ذکر ہوچکا ہے جو مذکورہ بالا بات کو مشکوک ظاہر کرتی ہے_

عمار بن یاسر

بنی مخزوم نے عمار بن یاسر کوبھی زبردست اذیتیں پہنچائیں یہاں تک کہ وہ قریش کی من پسند بات کہنے پر

___________________

۱ _ الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج ۴ ص ۳۳۰ و ۳۳۱ و ۳۳۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۳۴ و ۳۳۵، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۵، اسد الغابہ ج۵ ص ۴۸۱ اور تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۸_

۲_ نور القبس ص ۲۷۵ از شرقی ابن قطامی، الاصابة ج ۱ ص ۲۹۳ از کلبی، ابن حزم اور عسکری نیز الاوائل ج ۱ ص ۳۱۱،۳۱۲_

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417