الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 210023 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

بائیکاٹ:

جب قریش نے مکہ میں نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھیوں کی، نیز حبشہ میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی عزت و حیثیت دیکھی، اس کے علاوہ قبائل میں اسلام کے پھیلاؤ کا عمل دیکھا(۱) اور یہ بھی محسوس کیا کہ اسلام کے مقابلے میں ان کی ساری کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں ، تو انہیں ایک نئے تجربے کی سوجھی اور وہ تھا ابوطالب اور بنی ہاشم کا اقتصادی ومعاشرتی بائیکاٹ، تاکہ اس طرح یاتو وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنے کیلئے ان کے حوالے کردیتے یا( ان کے خیال خام میں) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود اپنی دعوت سے دست بردار ہوجاتے یا بصورت دیگر وہ سب بھوک اور بے کسی کے عالم میں راہی ملک عدم ہوتے _یوں کسی ایک فرد کے اوپر ذمہ داری بھی نہ آتی جو ایک ایسی خانہ جنگی کا باعث بن سکتی تھی جس کے برے نتائج کا کوئی شخص اندازہ نہیں لگا سکتا تھا_

مختصر یہ کہ انہوں نے ایک عہدنامہ لکھا، جس میں سب نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ شادی بیاہ کا رشتہ قائم نہیں کریں گے، خرید وفروش نہیں کریں گے، اور کوئی عمل ان کے ساتھ مل کر انجام نہیں دیں گے مگر یہ کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کیلئے ان کے حوالے کردیں_

اس عہدنامے پر قریش کے چالیس رؤسا نے دستخط کئے اور اپنی مہریں بھی لگائیں_ اسے انہوں نے ایک عرصے تک کعبے میں آویزاں رکھا (کہتے ہیں انہیں اس کی چوری کا خطرہ محسوس ہوا اسلئے اسے ابوجہل کی ماں کے گھر منتقل کیا)_(۲)

___________________

۱_ سیرت مغلطای ص ۲۳نیز سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۵اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۷از مواھب اللدنیة کی طرف رجوع کریں_

۲_ بحارالانوار کی جلد ۱۹ص ۱۶پر الخرائج و الجرائح سے اسی طرح نقل ہوا ہے یہاں اس بات کی تحقیق کی زیادہ ضرورت نہیں_

۱۴۱

یہ واقعہ بنابر مشہور بعثت کے ساتویں سال پیش آیا اور ایک قول کی بنا پر چھٹے سال _اس معاہدے کے نتیجے میں بنی ہاشم شعب ابوطالب(۱) میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ مطلب بن عبدمناف کا خاندان تھا سوائے ابولہب کے_(۲)

بعثت کے دسویں سال تک وہ اسی تنگ درے میں محصور رہے اور قریش نے ان کے اردگرد پہرے دار بٹھا دیئے تاکہ کوئی ان تک کھانے پینے کا سامان نہ پہنچاسکے_

یہ مسلمان حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب کے اموال سے خرچ کرتے رہے، یہاں تک کہ ان اموال کا خاتمہ ہوا اور مسلمان درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوئے _ان کے بچے بھوک سے بلبلاتے تھے_ مشرکین درے کے اس طرف ان کی آوازیں سنتے اور اس بارے میں تبادلہ خیال بھی کرتے تھے_ کچھ لوگ اس سے خوش ہوتے اور کچھ لوگ اسے باعث ننگ و عار قرار دیتے تھے_

کہاجاتا ہے کہ بعض مشرکین مسلمانوں کے ساتھ احسان و مہربانی کا ثبوت بھی دیتے تھے، غالباً وہ حضرات جن کا ان مسلمانوں کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ تھا_ مثال کے طور پر ابوالعاص بن ربیع اور حکیم بن حزام وغیرہ_ (اگرچہ یہ بات ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں جس کا بعد میں ذکر ہوگا انشاء اللہ )_

مسلمان فقط عمرہ کے ایام (ماہ رجب)اور حج کے ایام (ماہ ذی الحجہ) میں باہر نکلتے تھے_ اس دوران وہ نہایت مشکل سے خرید وفروخت کرتے تھے کیونکہ مشرکین قبل از وقت مکہ آنے والوں سے مل لیتے اور چیزوں کی منہ مانگی قیمت دینے کی لالچ دیتے تھے بشرطیکہ وہ اسے مسلمانوں کے ہاتھ نہ بیچیں ابولہب اس معاملے میں پیش پیش تھا_ وہ تاجروں کو اکساتا تھا کہ وہ چیزیں مہنگی بیچیں تاکہ مسلمان خریداری نہ کرسکیں _نیز ابولہب ان کواضافی قیمت ادا کرنے کی ضمانت دیتا تھا_ بلکہ مشرکین دھمکی دیتے تھے کہ مسلمانوں کے ساتھ سودا

___________________

۱_ جو شہر مکہ کے قریب ایک تنگ اور چھوٹا درہ ہے اس درے میں چند گھر اور خستہ حال سائبان موجودہیں_ (مترجم)

۲_ کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن حارث بھی مسلمانوں کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل نہیں ہوا لیکن یہ قول غیرمعروف ہے_ اکثر حضرات نے فقط ابولہب ملعون کو مستثنی قرار دیا ہے یہاں ہمیں اس امر کی تحقیق سے غرض نہیں_

۱۴۲

کرنے والوں کے اموال چھین لئے جائیں گے_وہ مسلمانوں کے ساتھ لیں دین کیلئے مکہ آنے والوں کو ڈراتے تھے_ خلاصہ یہ کہ قریش نے بازاروں کے دروازے ان پر بند کر دیئے اور کھانے پینے کی اشیاء کا جہاں کوئی سودا ہوتا قریش پہلے پہنچ جاتے ان کا مقصد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا خون بہانا تھا_(۱)

مصیبت کا یہ دور دو یا تین سالوں تک جاری رہا_ اس دوران حضرت علیعليه‌السلام مکہ سے چھپ چھپا کر سامان خوردونوش ان تک پہنچاتے تھے، اگرچہ یہ خطرہ تھا کہ اگر آپ ان کے ہاتھوں لگ جاتے تو وہ آپ پر رحم نہ کرتے جیساکہ اسکافی وغیرہ نے بیان کیا ہے_(۲)

حضرت ابوطالبعليه‌السلام کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر شب خون کا خطرہ محسوس ہوتا تھا اسلئے جب لوگ سونے لگتے اور حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اپنے بستر پر سوجاتے یہاں تک کہ شعب ابوطالب میں موجود لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرلیتے تو سب کے سوجانے کے بعد حضرت ابوطالبعليه‌السلام آکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو جگاتے اور آپ کی جگہ اپنے نور چشم حضرت علیعليه‌السلام کو سلاتے تھے_(۳)

اسی مناسبت سے انہوں نے اپنے بیٹے حضرت علیعليه‌السلام سے مخاطب ہوکر کچھ شعر کہے ہیں جو کتابوں میں مذکور ہیں ان کی طرف رجوع کریں_

خدیجہعليه‌السلام کی دولت اور علیعليه‌السلام کی تلوار

معروف ہے کہ اسلام علیعليه‌السلام کی تلوار اور خدیجہعليه‌السلام کی دولت سے پھیلا_ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے کیامراد ہے؟ کیا یہ کہ حضرت خدیجہعليه‌السلام لوگوں کو مسلمان ہونے کیلئے رشوت دیتی تھیں؟ کیا تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۴ _

۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۵۶ _

۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۵۶و ج ۱۴ص ۶۵نیز الغدیر ج ۷ص ۳۵۷_۳۵۸از کتاب الحجة ( ابن معد)، ابن کثیر نے اسے البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۴میں نام کا ذکر کئے بغیر نقل کیا ہے نیز تیسیر المطالب ص ۴۹ _

۱۴۳

آپ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اسلام کیلئے لوگوں سے روابط استوار کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کیلئے مالی مدد بھی فرماتے تھے _اس کی بہترین دلیل جنگ حنین میں مال غنیمت کی تقسیم ہے_ (جس کا بعد میں تذکرہ ہوگا) اس کے علاوہ اسلامی قوانین کے اندر مؤلفة القلوب کے حصے سے کون بے خبرہے؟_

اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ طرز عمل کا مطلب یہ نہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ لوگ قبول اسلام کیلئے رشوت لیتے تھے_ بلکہ اسلام تو بس یہ چاہتا ہے کہ یہ لوگ اسلامی ما حول سے آشنا اور مربوط رہیں _نیز ہر قسم کے تعصب یا نفسیاتی، سیاسی اور معاشرتی رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر اس کی طرف نگاہ کریں_

بنابریں ان کو دیا جانے والا مال مذکورہ موہوم رکاوٹوں کو اکثر موقعوں پر ہٹانے اور انہیں اسلامی ما حول سے آشنا اور مربوط رکھنے، نیز اسلام کے اہداف وخصوصیات سے آشنا کرنے میں مدد دیتا تھا تاکہ نتیجتاً وہ اسلام کی حفاظت اور اس کے عظیم اہداف کے سامنے قلبی اور فکری طور پر سر تسلیم خم کریں_

چنانچہ ان میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے ان کو مال ودولت اور ہر قسم کی ان مراعات سے محروم کردیا ہے ، جن کو وہ فطری طور پر چاہتے تھے _بنابریں طبیعی بات ہے کہ وہ پوشیدہ طور پراپنے مفادات کے لئے مضر، اس گھٹن کی فضا سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے _لیکن جب ان کی مالی اعانت کی جائے اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ اسلام مال ودولت کا دشمن نہیں، جیساکہ ارشاد ربانی ہے( قل من حرم زینة الله التی اخرج لعباده والطیبات من الرزق ) یعنی اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہہ دیجئے، کس نے اللہ کی حلال کردہ زینتوں اور پاک روزیوں کو حرام قرار دیا ہے_ نتیجتاً وہ سمجھ جائیں گے کہ اسلام کا مقصد انسان کی انسانیت کو پروان چڑھانا، نیز مال، طاقت، حسن اور اقتدار وغیرہ کی بجائے انسانیت کو حقیقی معیار قرار دیناہے اور اسی پیمانے پر نظام زندگی کو استوار کرنا ہے تاکہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں منزل سعادت تک پہنچ سکے_

حضرت خدیجہ کے اموال کے حوالے سے واضح ہے کہ یہ اموال لوگوں کو مسلمان بنانے کیلئے بطور رشوت نہیں دیئے جاتے تھے اور نہ ہی مؤلفة القلوب کیلئے تھے _حضرت خدیجہعليه‌السلام کے مال سے تو بس ان مسلمانوں

۱۴۴

کیلئے قوت لایموت کا بندوبست ہوتا تھا جو اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں عظیم ترین مصائب ومشکلات جھیل رہے تھے_ اورجن کا مقابلہ کرنے کیلئے قریش ہر قسم کے غیر اخلاقی وغیر انسانی حربوں حتی کہ انہیں فقر وفاقے پر مجبور کرنے کے حربے سے کام لے رہے تھے _ یہ ہے وہ حقیقت جس کی بنا پر یہ مقولہ مشہور ہوگیا کہ اسلام حضرت خدیجہعليه‌السلام کے مال اور حضرت علیعليه‌السلام کی تلوار سے کامیاب ہوا_

یہ واضح ہے کہ بنی ہاشم کے بائیکاٹ کے دوران حضرت خدیجہ کی دولت صرف بھوکوںکو زندہ رکھنے والے اناج اور برہنہ کو لباس فراہم کرنے میں خرچ ہوئی _دیگر امور میں ان اموال سے چندان، استفادہ نہیں ہوا کیونکہ وہ غالباً خرید وفروش سے معذور تھے_

آخر میں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ مکہ میں اموال کی جس قدر بھی کثرت ہوتی لیکن پھر بھی اس کے وسائل محدود تھے کیونکہ مکہ کوئی غیرمعمولی یابہت بڑا شہر نہ تھا _ البتہ بستی یا گاؤں کے مقابلے میں بڑا تھا، اسی لئے قرآن نے اسے ام القری (بستیوں کی ماں یعنی مرکزی بستی) کا نام دیا ہے _بنابریں اس قسم کے چھوٹے شہروں کے مالی وسائل بھی محدود ہی ہوتے ہیں_

مسلمانوں کے متعلق حکیم بن حزام کے جذبات

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ابن اسحاق وغیرہ کی روایت کے مطابق حکیم بن حزام بھی مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں چھپ چھپاکر سامان خورد ونوش بھیجا کرتا تھا(۱) لیکن ہم اس بات کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے، کیونکہ حکیم بن حزام ان افراد میں سے تھا جسے شب ہجرت قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کے لئے اپنے ساتھ شامل کیا تھا(۲) اور موقع کے انتظار میں انہوں نے تمام رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے دروازے پر گذاردی لیکن خدانے ان کی چال اپنے پر پلٹا دی _ مزید یہ کہ یہی حکیم بن حزام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے عہد میں مدینہ پہنچنے والی

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۷۹ نیز سیرت کی دیگر کتب کی طرف_

۲_ بحار الانوارج ۱۹ ص ۳۱ و مجمع البیان ج ۴ ص ۵۳۷ _

۱۴۵

تمام اشیائے خورد ونوش کی ذخیرہ اندوزی کیاکرتا تھا تاکہ بعد میں مہنگے داموں فروخت کرے(۱) اور اسی کا شمار مؤلفہ القلوب افراد میں ہوتا ہے(۲) _ ظاہر ہے اس قسم کی ذہنیت والا انسان اس قدر سخی نہیں ہوسکتا،خاص کران حالات میں جبکہ مسلمانوں کی مدد کا عمل قریش کی دشمنی مول لینے اور اپنی جان خطرے میں ڈال دینے کا باعث بھی ہو _ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ مذکور عمل انجام دینے میں بھی اس کا مقصد منافع لینا اور دولت جمع کرناہو یعنی ممکن ہے کہ اس نے مال کی محبت میں کھانے کی اشیاء کے عوض مسلمانوں سے منہ مانگی قیمت وصول کرنے کیلئے ایسا کیا ہو_ بالفاظ دیگر وہ مال کی محبت میں جان سے بے پروا ہو کر ہر مشکل میں آسانی سے کودنے کیلئے آمادہ ہوگیا ہو_ مزید یہکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے اور بعض دوسرے لوگوں کے تحائف کو متعدد موقعوں پر قبول کرنے سے انکار فرمایا تھا کیونکہ وہ مشرک تھے (اس کابعد میں ذکر ہوگا)_ پس یہ کیونکر معقول ہے کہ پہلے اس کو قبول کرلیں اور بعد میں قبول نہ کریں؟مگر یہ دعوی کیا جائے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو نہیں بلکہ شعب ابی طالب میں محصور بنی ہاشم کے بچوں اور ان کی عورتوں کو ہدیہدیتا تھا اور وہ تو قبول کر لیتے تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قبول نہیں فرماتے تھے_

ان ساری باتوں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ابوالعاص بن ربیع کے بارے میں مذکوریہ قول بھی قابل قبول اور قابل اطمینان نہیں ہے ،کہ وہ بھی حکیم بن حزام کی طرح ان دنوں مسلمانوں کی مدد کرتا تھا_

ہم بعید نہیں جانتے کہ حکیم بن حزام کے حق میں مذکورہ فضیلت گھڑنے میں زبیریوں کاہاتھ ہو خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ زبیر نے امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام کی بیعت میں لیت ولعل سے کام لیا تھا_ نیز وہ ایک متعصب عثمانی تھا_(۳) خانہ کعبہ میں ولادت امیرالمؤمنین اور کیفیت وحی کے بارے میں جھوٹی باتیں گھڑنے کے ذکر میں بھی ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا_

___________________

۱_ دعائم الاسلام ج ۲ ص ۳۵ ، توحید صدوق ص ۳۸۹ ، وسائل ج ۱۲ ص ۳۱۶ ، کافی ج ۵ ص ۱۶۵، التھذیب طوسی ج ۷ ص ۱۶۰ ، من لا یحضرہ الفقیہ ج ۳ ص ۲۶۶ مطبوعہ جامعة المدرسین و الاستبصار ج ۳ ص ۱۵

۲_ نسب قریش ص ۲۳۱ _

۳_ قاموس الرجال ج۳ص ۳۸۷ _

۱۴۶

شق القمر

شق القمر کا واقعہ بعثت کے آٹھویں سال پیش آیا جبکہ مسلمان شعب ابوطالب میں محصور تھے_(۱)

بہت ساری روایات میں مذکور ہے کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے معجزہ طلب کیا چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا سے دعا کی تو چاند کے دو حصے ہوگئے، اور انہوں نے اس کا نظارہ کیا ،پھر دونوں حصے آپس میں مل گئے_

یہ دیکھ کر قریش نے کہا کہ یہ ایک جادو ہے پس آیت اتری( اقتربت الساعة وانشق القمر وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر ) یعنی قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا_ یہ لوگ اگر اللہ کی کوئی نشانی دیکھیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سلسلہ وار جادو ہے_

ایک روایت میں ہے کہ کفار نے کہا :''ٹھہرو دیکھتے ہیں کہ مسافرین کیا خبر لاتے ہیں کیونکہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سارے لوگوں پر جادو نہیں کرسکتا ''_جب مسافرین آگئے تو کفارنے ان سے استفسار کیا جس پر انہوں نے جواب دیا: ''ہاں ہم نے بھی یہ منظر دیکھا ہے ''پس یہ آیت اتری( اقتربت الساعة وانشق القمر ) (۲)

سید شریف سے شرح المواقف میں اورابن سبکی سے شرح المختصر میں نقل ہوا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے اور اہلسنت کے ہاں اس کے متواتر ہونے میں شک کی کوئی گنجائشے نہیں ہے_(۳)

رہا غیرسنیوں کے نزدیک تو علامہ محقق السید طباطبائی کہتے ہیں شق القمر کے واقعے کا شیعہ روایات میں آئمہ اہلبیتعليه‌السلام سے بکثرت ذکر ہوا ہے_ شیعہ علماء اور محدثین کے نزدیک یہ واقعہ مسلمہ ہے_(۴) لیکن بہرحال اس مسئلے کو ضروریات دین میں شامل کرنا ممکن نہیں، جیساکہ بعض علماء نے اس جانب اشارہ کیا ہے_(۵)

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۲و ۶۴ _

۲_ الدر المنثور ج ۶ص ۱۳۳از ابن جریر، ابن منذر، ابن مردویہ، دلائل ابونعیم اور دلائل بیہقی نیز مناقب آل ابوطالب ج ۱ص ۱۲۲ _

۳_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۰_ ۴_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۶۱ نیز رجوع ہو بحارالانوار ج ۱۷ ص ۳۴۸_۳۵۹ باب المعجزات السماویة_

۵_ رجوع کریں: فارسی کتاب ''ھمہ باید بدانند'' ص ۷۵کی طرف_

۱۴۷

ایک اعتراض اور اس کا جواب

علامہ طباطبائی کہتے ہیں یہاں ایک اعتراض ہوا ہے ،وہ یہ کہ لوگوں کے مطالبے پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی طرف سے معجزے کا اظہار اس آیت کے منافی ہے( وما منعنا ان نرسل بالایات الا ان کذب بها الا ولون وآتینا ثمود الناقة مبصرة فظلموا بها وما نرسل بالایات الا تخویفا ) (۱) یعنی ہمارے لئے اپنی نشانیاں دکھانے سے فقط یہ بات مانع ہے کہ پہلے والوں نے اس کی تکذیب کی_ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی عطا کی جو ہماری قدرت کوروشن کرنے والی تھی لیکن ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم تو نشانیوں کو فقط ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں_

اس آیت کا مفہوم یا تو یہ ہے کہ ہم اس امت کی طرف معجزے بھیجتے ہی نہیں کیونکہ گذشتہ امتوں نے ان کی تکذیب کی اور چونکہ اس امت کے لوگوں کی طبیعت بھی ان کی طرح ہے لہذا وہ بھی ان معجزوں کی تکذیب کریں گے_ اس صورت میں چونکہ معجزہ ان کیلئے بے فائدہ ہے اسلئے ہم معجزے نہیں دکھاتے _یا مفہوم یہ ہوگاکہ ہم معجزے اسلئے نہیں بھیجتے کیونکہ جب ہم نے گذشتہ لوگوں کو معجزے دکھائے تو انہوں نے جھٹلایا نتیجتاً عذاب الہی کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے، پس اگر ہم ان لوگوں کو بھی معجزہ دکھائیں تو یہ بھی اس کو جھٹلاکر عذاب کا شکار ہوں گے، لیکن ہم ان کو عذاب دینے میں جلدی کرنا نہیں چاہتے_ بہرحال مفہوم جو بھی ہو نتیجہ یہ ہے کہ سابقہ امتوں کیلئے جس طرح معجزے بھیجے جاتے تھے اس امت کیلئے نہیں بھیجے جائیں گے_

البتہ یہ فیصلہ ان معجزوں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے مطالبے پر دکھائے جائیں نہ ان معجزوں کے بارے میں جن سے رسالت کی تائید ہوتی ہو مثال کے طور پر خود قرآن بھی ایک معجزہ ہے اور اس سے رسالت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تائید ہوتی ہے_ نیز عصائے موسیعليه‌السلام یا ید موسیعليه‌السلام یا حضرت عیسیعليه‌السلام کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا وغیرہ _علاوہ بر ایں وہ معجزے جو خدا کی طرف سے بطور لطف نازل ہوئے وہ بھی اس سے مستثنی ہیںجس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ظاہر ہونے والے وہ معجزات جو لوگوں کی در خواست پر نہیںدکھائے گئے_

___________________

۱_ سورہ اسرائ، آیت ۵۹_

۱۴۸

اس کے بعد علامہ طباطبائی نے خود اس اعتراض کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ معجزہ شق القمر کی تکذیب کا تقاضا یہ تھا کہ ان پر عذاب نازل ہوتا کیونکہ یہ معجزہ ان کی درخواست پر ظاہر ہوا ،لیکن خدا تمام اہل زمین کو( جن کی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھیجا گیاتھا ) کیسے ہلاک کرسکتا تھا ؟جبکہ ان سب پر ابھی اتمام حجت نہیں ہوا تھا جسے وہ جھٹلاکر مستحق عذاب ہوتے بلکہ مکہ میں رہنے والے بعض افراد پر یہ حجت تمام ہوئی تھی کیونکہ یہ معجزہ ہجرت سے پانچ سال قبل دکھایا گیا تھا_

نیز مکہ اور اس کے آس پاس رہنے والے تمام لوگوں کو ہلاک کرنا بھی مقصود خداوندی نہ تھا کیونکہ ان میں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی چنانچہ ارشاد الہی ہے( ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات لم تعلموهم ان تطئوهم فتصیبکم منهم معرة بغیر علم لیدخل الله فی رحمته من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منهم عذاباً الیماً ) (۱)

یعنی اگر با ایمان مرداور عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نادانستگی میں تمہارے ہاتھوں ان کی پامالی کا بھی خطرہ تھا ،اس طرح تمہیں لا علمی کی بنا پر نقصان پہنچتا (تو تمہیں روکا بھی نہ جاتا روکا اسلئے) تاکہ خدا جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اگر یہ لوگ الگ الگ ہوجاتے تو ہم کفار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے_حالانکہ اس وقت مشرکین مسلمانوں سے جدا نہیں ہوئے تھے_

نیز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی موجودگی میں بھی ان کفار پر عذاب نازل نہیں ہوسکتا تھا جیساکہ ارشاد باری ہے( وما کان الله لیعذبهم وانت فیهم ) (۲) یعنی جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں تو خدا ان پر عذاب نازل نہ کرے گا_

اور یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ خدا مسلمانوں کو چھوڑ کر فقط کافروں پر عذاب نازل کرتا جبکہ کفار کی ایک کثیر تعداد بعثت کے آٹھویں سال سے لے کر ہجرت کے آٹھویں سال تک مسلمان ہوچکی تھی اوربعد ازاں فتح مکہ کے وقت تو عام لوگ بھی مسلمان ہوگئے_

___________________

۱_ سورہ فتح، آیت ۲۵_

۲_ سورہ انفال، آیت ۳۳_

۱۴۹

اس مسئلے میں اسلام کے نزدیک لوگوں کا بظاہر اسلام قبول کرلیناہی کافی ہے _اس کے علاوہ تمام اہل مکہ یا آس پاس کے لوگ اسلام سے عناد رکھنے والے یا جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والے نہ تھے_ یہ صفت تو فقط قریش کے سرداروںکی تھی، جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا مذاق اڑاتے اور مؤمنین پر تشدد کرتے تھے_ جن آیات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مسجدالحرام جانے سے روکنے اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے جرم میں کافروں کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے مقابلے میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکنے(۱) اور عذاب الہی کامز اچکھنے کی دھمکی دی گئی تھی تو ان آیات نے جنگ بدر میں حقیقت کا روپ دھارلیا اور بہت سے کفار واصل جہنم ہوئے_

پس قرآن کی مذکورہ آیت( وما منعنا ان نرسل بالآیات ) سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے درمیان موجود ہوں خدا معجزے نہیں دکھاتا _رہا معجزہ دکھا کر عذاب کو مؤخر کرنا یہاں تک کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان سے اٹھ جائیں تو خدا کے مذکورہ کلام میں اس کا کوئی ذکر نہیں_ ادھر اللہ تعالی کا ارشاد ہے( وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً قل سبحان ربی هل کنت الا بشراً رسولاً ) (۲) یعنی ''کفار بولے ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اس وقت ایمان لائیں گے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زمین سے ہمارے لئے چشمے جاری کردیں کہہ دیجئے میں تو بس ایک بشرہوں جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنا کر بھیجا گیا ہے''اور یہ ارشاد اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ خدا معجزات کے ذریعے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت ونصرت نہیں فرمائے گا یامعجزے کا اظہار بالکل نہ ہوگا ،وگرنہ تمام انبیاء بھی انسان ہی تھے_پس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک بشر ہونے کے ناطے بذات خود اس امر پر قادر نہیں بلکہ ساری قدرت خدا کی ہے اور درحقیقت اسی کے حکم سے معجزات رونما ہوتے ہیں_(۳)

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ( وما نرسل بالایات الا تخویفا ) والی آیت کا مقصد شاید یہ ہو کہ ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کی بنیاد ناقہ ثمود یا معجزات موسیعليه‌السلام کی طرح کے معجزوں پر استوار نہیں بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کی بنیاد

___________________

۱_ سورہ بنی اسرائیل ۷۶اور سورہ انفال ۳۵_

۲_ سورہ بنی اسرائیل ۹۳ _

۳_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۰_۶۴_

۱۵۰

حضرت ابراہیمعليه‌السلام کی دعوت کی طرح بنیادی طور پر عقلی دلائل قائم کر کے اذہان کو مطمئن کرنے پر مبنی ہے_ لیکن واضح رہے کہ یہ بات اس امر کے منافی نہیں کہ بعض مقامات پر (جہاں عقلی براہین و دلائل کارگرنہ ہوں) معجزات کا اظہار کیاجائے_

شق القمر، مؤرخین اور عام لوگ

معجزہ شق القمر پر یہ اعتراض ہوا ہے کہ اگر حقیقتاً چاندکے دوٹکڑے ہوئے ہوتے تو تمام لوگ اسے دیکھ لیتے اور مغرب کی رصدگاہوں میں اس کا ریکارڈ ہوتا کیونکہ چاند کا دونیم ہونا عجیب ترین آسمانی معجزہ ہوتا_ بہرحال اس قسم کے معجزے کو سننے اور نقل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی_

اس اعتراض کے درج ذیل جوابات دیئے گئے ہیں_

الف: ممکن ہے کہ لوگ اس واقعے سے غافل رہے ہوں کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ ہر آسمانی یا زمینی حادثے کا لوگوں کو ضرور علم ہونا چاہیئے یا ان کے ریکارڈ میں اس قسم کے واقعات کو موجود ہونا چاہئے اور نسل در نسل لوگوں کے پاس ان کا علم ہونا چاہیئے_(۱)

محقق توانا علامہ شیخ ناصر مکام شیرازی نے اس مسئلے کی مزیدوضاحت کی ہے ان کے بیان کی رو سے درج ذیل نکات قابل ملاحظہ ہیں_

۱) چاند کا دونیم ہونا زمین کے اس نصف حصے کیلئے قابل دید تھا جہاں رات تھی نہ کہ دوسرے نصف حصے کیلئے جہاں دن تھا_

۲) اس نصف حصے میں بھی جہاں رات ہوتی ہے اکثر لوگ اجرام فلکی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے خصوصاً آدھی رات کے بعد تو سب سو جاتے ہیں اور تقریباً کوئی بھی متوجہ نہیں ہوتا_

___________________

۱_ تفسیر المیزان، ج ۱۹ ص ۶۴_

۱۵۱

۳)ممکن ہے اس وقت بعض مقامات پر بادل چھائے ہوئے ہوں جس کی وجہ سے چاند کا دیکھنا ممکن نہ رہاہو_

۴) آسمانی حادثات و واقعات لوگوں کی توجہ اس وقت جذب کرتے ہیں جب ان کے ساتھ کوئی آواز (مثلا گھن گرج وغیرہ) بھی سنائی دے یا غیر معمولی علامات( مثلا سورج گرہن کی صورت میں نسبتاً کافی دیر تک سورج کی روشنی کا مدہم پڑ جانا )بھی ہمراہ ہوں_

۵) علاوہ براین پہلے زمانوں کے لوگ آسمانی حادثات پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے_

۶) اس زمانے میں ذرایع ابلاغ نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی کہ دنیا کے ایک حصے کی خبر فوراً دوسرے حصے میں پہنچ جاتی اور لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول ہوجاتی_

۷) ہمارے ہاں موجود تاریخ بہت ہی ناقص ہے کیونکہ گذشتہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں میں کتنے ہی عظیم حادثات گذرے ہوں گے، زلزلے اور سیلاب آئے ہوں گے جن سے بہت سی اقوام کی تباہی ہوئی ہوگی لیکن آج تاریخ میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا_ بطور مثال زرتشت جس کا ظہور ایک عظیم حکومت کے دامن میں ہوا اور جس نے تاریخ عالم میں مختلف اقوام وملل پر زبردست اثر چھوڑا ، ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں پیدا ہوا کہاں مرا اور کہاں دفن ہوا بلکہ بعض لوگوں کوتو اس بات میں بھی شک ہے کہ اس کا وجود حقیقی تھا یا افسانوی_ بنابرایں ظاہر ہے کہ اگر سارے لوگوں نے شق القمر کا مشاہدہ نہ کیا ہو یا تاریخ میں یہ واقعہ واضح طور پر ثبت نہ ہو سکاہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں_(۱)

ب:عرب یا غیرعرب علاقوں میں فلکیاتی حالات کا جائزہ لینے کیلئے رصدگاہیں موجود نہ تھیں_ مشرق ومغرب میں اگر رصدگاہیں موجود تھیں تو شاید روم اور یونان وغیرہ میں تھیں اگرچہ ہمارے نزدیک اس دور میں رصدگاہ کی موجودگی بھی ثابت نہیں _اس کے علاوہ مغرب کی سرزمین جہاں ان امور پر توجہ دی جاتی تھی،اور مکہ کے درمیان اختلاف افق کی بنا پر وقت کا بہت زیادہ فرق تھا بعض روایات کی بنا پر معجزے کے وقت چاند مکمل تھا اور طلوع کے وقت تھوڑی دیر کیلئے شق ہونے کے بعد پھر جڑگیا _ظاہر ہے اس کے بعد جب

___________________

۱_ فارسی کتاب ''ھمہ باید بدانند'' ص ۹۴_

۱۵۲

مغرب میں چاند طلوع ہوا ہوگا تو اس وقت اس کے دونوں حصے ملے ہوئے تھے_(۱)

چاند کاشق ہوکر جڑنا، سائنسی نقطہ نظر سے

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سائنسی نقطہ نظر سے اجرام فلکی کاشق ہونا ممکن ہے؟ یہ اس وقت ممکن ہے جب دونوں حصوں کے درمیان جاذبیت برقرار نہ رہے اور جب کشش ہی نہ رہے تو دوبارہ جڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا_جس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ قدرت خداوندی سے یہ خارق العادہ کام محال نہیں ہیں اور علامہ ناصر مکارم شیرازی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ ماہرین فلکیات کے بقول اجرام فلکی میں خاص وجوہات کی بنا پر توڑپھوڑ کا عمل بہت زیادہ واقع ہوا ہے مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ:

۱) سورج کے گرد تقریباً پانچ ہزار چھوٹے بڑے اجسام گردش کررہے ہیں_

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اجسام کسی ایسے سیارے کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جو مریخ اور مشتری کے مداروں کے درمیان موجود تھا _پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر دھماکے سے پھٹ کر تباہ ہوگیا اور مختلف حجم کے ٹکڑوں کی شکل میں سورج کے گرد مختلف مداروں میں بکھر گیا_

۲) ماہرین کہتے ہیں کہ شہاب ثاقب حیرت انگیز رفتار سے سورج کے گرد گھومنے والے پتھر کے نسبتاًچھوٹے ٹکڑے ہیں _ کبھی کبھی وہ زمین کے نزدیک سے گزرتے ہیں تو زمین ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے_ یوں جب وہ زمین کی فضاؤں سے رگڑکھاتے ہیں تو شعلوں میں تبدیل ہوکر نیست و نابود ہوجاتے ہیں _ ماہرین کے بقول یہ بھی کسی ایسے ستارے کے ٹکڑے ہیں جو دھماکے کے بعد ان ٹکڑوں کی شکل میں تقسم ہوگیا_

۳)لاپلس ( LAPLACE ) کے نظریئے کے مطابق نظام شمسی بھی ایک ہی جسم تھا_ پھر کسی نامعلوم سبب کی بناء پر وہ پھٹ گیا اور موجودہ شکل اختیار کرلی_ بنابریں کسی زبردست علت کے نتیجے میں چاند کے بھی دو ٹکڑے ہوسکتے ہیں اور وہ علت ہے خدا کی قدرت و طاقت_ کیونکہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا سے دعا

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۴،۶۵_

۱۵۳

کی تو اس نے قبول کرلی_

یہ دعوی تو کوئی بھی نہیں کرتا کہ چاند بغیر کسی سبب کے شق ہوا _رہا اس کا دوبارہ جڑجانا تو اس سلسلے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ہر بڑے سیارے میں کشش ہوتی ہے اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج اپنے گرد گھومنے والے بہت سے ٹکڑوں کواپنی طرف جذب کر لیتا ہے ،جس پر یہ اجسام ٹکراؤ اور ر گڑ کے نتیجے میں شعلے کی شکل اختیار کر کے تباہ ہوجاتے ہیں_

پس جب چاند کے دونوں حصے ایک دوسرے کے قریب ہوں اور وہ قوت جوان دونوں کی باہمی کشش کی راہ میں حائل تھی اٹھ جائے تو یہ دونوں ٹکرے ایک دوسرے کو کیوں نہ اپنی طرف کھینچیں تاکہ پھر پہلے والی حالت پر واپس آجائیں؟ عقلی طور پر اس میں کونسی رکاوٹ ہے؟(۱)

علامہ طباطبائی نے اس سوال (کہ بغیر جاذبیت کے کیسے جڑ سکتے ہیں) کا مختصر الفاظ میں یوں جواب دیا ہے کہ عقل کے نزدیک یہ امر محال نہیں (بلکہ ممکن ہے)_ رہا یہ سوال کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوا کرتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ امر جدائی کے بعد دوبارہ جڑجانے سے مانع ہے تو پھر شروع میں ہی اس کے دوٹکروں میں بٹ جانے سے بھی مانع ہونا چاہئے_ لیکن جب شق ہونا ممکن ہوا تو دوبارہ ان کامل جانا بھی ممکن ہے_ نیز ہماری بحث ہی غیر معمولی امر یعنی (معجزے) کے رونما ہونے میں ہے _(۲)

شق القمر پر قرآنی آیت کی دلالت

بعض لوگ یہ احتمال دیتے ہیں کہ قرآنی آیت( اقتربت الساعة وانشق القمر ) مستقبل کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اور یہ بتا رہی ہے کہ چاند کا شق ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے ،جس طرح تکویر شمس (سورج کی شعاعوں کا زائل ہوجانا) اور انکدار نجوم (ستاروں کا ٹوٹ کر بکھرنا) بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے_

___________________

۱_ ہمہ باید بدانند ص ۸۴ تا ۹۰_

۲_ تفسیر المیزان ج ۱۹ص ۶۵ _

۱۵۴

علامہ محقق شیخ ناصر مکارم شیرازی نے اس کا جواب دیا ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے:

الف:قول الہی: (وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر) سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے کچھ مخالفین خدا کی نشانیوں اور معجزات پر ایمان نہیں لائے _جب بھی کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے تو ان کے عناد اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اسے جادو قرار دیتے ہیں_ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ شق القمر کے مسئلے میں بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کافروں نے یہی روش اپنائی تھی_(جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلے رونما ہوچکا ہے _مترجم)

ب:لفظ (انشق) فعل ماضی ہے ماضی کے الفاظ مستقبل پر دلالت نہیں کرتے مگر کو ئی قرینہ موجود ہو اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں بلکہ قرینہ اس کے برعکس ہے _چنانچہ رازی کہتا ہے تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اس لفظ سے یہی مراد ہے کہ چاند کا شق ہونا واقع ہوچکا ہے_ نیز معتبر روایات بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں _(۱)

اگرچہ طبرسی اور ابن شہر آشوب نے عطاء حسن اور بلخی کو مستثنی قرار دیا ہے_(۲) اور طبرسی کہتے ہیں کہ ان کا یہ قول درست نہیں کیونکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے _لہذا اس مسئلے میں بعض لوگوں کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا_(۳)

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ قرآن میں جملہ( اقتربت الساعة ) کے فوراً بعد( انشق القمر ) کا جملہ مذکور ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں کا زمانہ مشترک ہے (یعنی روز قیامت)_ تو اس کاجواب یہ ہے کہ قرآن کی بہت ساری آیات میں صریحاً کہا گیا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پس غفلت کیسی؟ فرمایا ہے( اقترب للناس حسابهم وهم فی غفلة معرضون ) (۴) یعنی لوگوں کیلئے حساب کی گھڑی آگئی ہے لیکن وہ غفلت کا شکار ہوکر کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں_ یہاں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے

___________________

۱_ تفسیر رازی ج ۲۹ص ۲۸_

۲_ مجمع البیان ج ۹ص ۱۸۶و مناقب آل ابیطالب ج ۱ص ۱۲۲ _

۳_ مجمع البیان ج ۹ص ۱۸۶ _

۴_ سورہ الانبیائ، آیت_ ۱

۱۵۵

منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی دوانگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:'' میری بعثت اور قیامت کی مثال یوں ہے''_(۱) ظاہر ہے کہ یہ بات مجموعی دنیاوی زندگی کو مدنظر رکھ کر کہی گئی ہے جو بہت طولانی ہے_ جسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجا سکتا ہے کہ بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قیامت کا درمیانی عرصہ کچھ بھی نہیں _بنابریں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت نزدیک آگئی ہے اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے یہ معجزہ ظاہر ہوا لیکن یہ خودسرمشرکین ایمان نہیں لاتے اور اس کی تصدیق کرنے کی بجائے کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے_(۲)

لیکن ایک محقق کا کہنا ہے( ان یروا آیة ) والی آیت جملہ شرطیہ ہے، اس میں مذکورہ امر کے واقع ہوجانے کا تذکرہ نہیں _نیز جملہ( انشق القمر ) کی مثال اس آیت کی طرح ہے( آتی امر الله فلا تستعجلوه ) حکم الہی آیاہی چاہتا ہے لہذا جلد بازی نہ کرو _ یہاں ماضی کا جملہ ہے حالانکہ ابھی امر الہی واقع نہیں ہوا اسی لئے اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ جلد بازی نہ کرو _یہی حال ہے قول الہی( وانشق القمر ) کا کیونکہ اس کے بعد کہا گیا ہے( وان یروا ) _ یہاں یہ کہنا مقصودہے کہ اگر ایسا امر واقع ہوا تو ان کی کیا حالت ہوگی_ رہا اجماع جس کا طبرسی نے وعوی کیا ہے تو وہ حجت نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ یہ اجماع اس آیت سے غلط استنباط کی بناء پر وجود میں آیا ہو_

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ اگر شق القمر کے واقع ہونے پر معتبر احادیث گواہی نہ دے چکی ہوتیں تو پھر مذکورہ احتمال کی کسی حدتک گنجائشے تھی_

افسانے

لوگوں نے شق القمر کے واقعے سے بہت سارے افسانے اور بے بنیاد قصے گھڑ لئے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان مشہور ہوگیا کہ چاند کا ایک ٹکڑا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی آستین سے ہوکر گزرگیا_

___________________

۱_ مفتاح کنوز السنة ص ۲۲۷کہ بخاری، مسلم، ابن ماجہ، طیاسی، احمد، ترمذی اور دارمی سے نقل کیا ہے_

۲_ آیت کی دلالت سے متعلق ہماری مذکورہ معروضات کے سلسلے میں آپ رجوع کریں فارسی کتاب ''ہمہ باید بدانند'' ص ۷۶_۸۰_

۱۵۶

علامہ ناصر مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ احادیث وتفسیر کی کتابوں میں خواہ شیعوں کی ہوں یا سنیوں کی، اس قول کا نام ونشان بھی نہیں ملتا_

بعض روایات میں اس مسئلے کی جزئیات اور تفصیلات کا ذکر ہوا ہے لیکن ہم ان پر تحقیق کرنے میں کوئی بڑا فائدہ یا نتیجہ نہیں پاتے _بنابریں ہم زیادہ اہم اور مفید مسئلے کا رخ کرتے ہیں_

عہد نامے کی منسوخی

تقریبا تین سال بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کو بتایا کہ دیمک نے مشرکین کے عہدنامے میں ظلم اور قطع رحمی سے متعلق الفاظ کو کھالیا ہے اور سوائے اسماء الہی کے کوئی چیز باقی نہیں رہی_ ایک اور روایت کے مطابق دیمک نے اللہ کے تمام ناموں کو کھالیا لیکن ظلم وشر اور قطع رحمی سے متعلق حصّے کو چھوڑ دیا_(۱)

چنانچہ حضرت ابوطالب بنی ہاشم کے ہمراہ اس درے سے خارج ہوئے اور شہر مکہ لوٹ آئے_

یہ دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ بھوک نے ان کو نکلنے پر مجبور کردیا ہے_ قریش نے کہا:'' اے ابوطالب اب وقت آگیا ہے کہ اپنی قوم کے ساتھ مصالحت کرلو'' _حضرت ابوطالب نے فرمایا:'' میں تمہارے پاس ایک اچھی تجویز لیکر آیاہوں ،اپنا عہدنامہ منگواؤ شاید اس میں ہمارے اور تمہارے درمیان صلح کی کوئی راہ موجود ہو''_ قریش اسے لے آئے اور دیکھا کہ اس پر ان کی مہریں اب بھی موجود ہیں حضرت ابوطالب نے کہا:'' کیا اس معاہدہ پر تمہیں کوئی اعتراض ہے؟'' بولے نہیں_

ابوطالبعليه‌السلام نے کہا:'' میرے بھتیجے نے (جس نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا) مجھے خبر دی ہے کہ خدا کے

___________________

۱_ کبھی کہا جاتا ہے کہ معاہدے کی منسوخی تک قریش کا اپنی عداوت پر باقی رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ دیمک نے صرف اللہ کے نام کو مٹایا تھا اور قطع رحمی کی مانند دیگر مواد کو باقی رکھا تھا لیکن اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دیمک کا خدا کے نام کو کھا جانا بہت بعید بات ہے شاید مشرکین عہدنامے کے محو ہوچکنے کے باوجود بھی اس کے مضمون پر عمل کرتے رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اسے دوبارہ لکھا ہو_ اس پر یہ اشکال کیا گیا ہے کہ دیمک نے خدا کا نام اس کی حرمت باقی رکھنے کیلئے چاٹا ہو تاکہ اس ظالمانہ عہدنامے میں اس کا پاک نام باقی نہ رہے_ اور یہ اظہار حق کیلئے مطلوب ایک مثبت معجزہ تھا_ اس سے کسی قسم کی اہانت کا پہلو نہیں نکلتا_

۱۵۷

حکم سے دیمک نے اس عہدنامے سے گناہ اور قطع رحمی سے مربوط الفاظ کو کھا لیا ہے اور فقط اللہ کے ناموں کو باقی چھوڑا ہے_ اگر اس کی بات صحیح نکلے تو تمہیں ہمارے اوپر ظلم کرنے سے دست بردار ہونا چاہیئے اور اگر جھوٹ نکلے تو ہم اسے تمہارے حوالے کردیں گے تاکہ تم اسے قتل کرسکو''_

یہ سن کر لوگ پکار اٹھے:'' اے ابوطالب بتحقیق آپ نے ہمارے ساتھ انصاف والی بات کی''_ اس کے بعد وہ عہدنامہ کولائے تو اسے ویساہی پایا جیسارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے خبر دی تھی_ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے تکبیر کی آواز بلند کی اور کفار کے چہروں کارنگ فق ہوگیا_حضرت ابوطالب بولے:'' دیکھ لیا کہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا حقدار ہے؟''

اس دن ان کے بہت سے افراد نے اسلام قبول کرلیا لیکن مشرکین پھر بھی قانع نہ ہوئے اور انہوں نے عہدنامے کے مضمون کے مطابق سابقہ روش جاری رکھی،یہاں تک کہ بعض مشرکین اس عہدنامے کو توڑنے کے درپے ہوئے ان لوگوں میں ان افراد کا ذکر ہوا ہے_ ہشام بن عمروبن ربیعہ، زہیر بن امیہ بن مغیرہ، مطعم بن عدی، ابوالبختری بن ہشام، زمعة بن اسود_

یہ سارے حضرات بنی ہاشم اور بنی مطلب سے کوئی نہ کوئی قرابت رکھتے تھے_ ابوجہل نے ان کی مخالفت کی، لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی چنانچہ وہ عہدنامہ پھاڑ دیا گیا اور اس پر عمل درآمدختم ہوگیا _یوں بنی ہاشم شعب ابوطالب سے نکل آئے_(۱)

ابوطالب عقلمندی اور ایمان کا پیکر

ہجرت سے قبل کے واقعات کا مطالعہ کرنے والا شخص دسیوں مقامات پر حضرت ابوطالب کی ہوشیاری وتجربہ کاری کا مشاہدہ کرتا ہے_

___________________

۱_ اس بارے میں ملاحظہ ہو : السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۴۴ ، السیرة النبویہ (ابن ہشام) ج ۲ ص ۱۶ ، دلائل النبوة مطبوعہ دار الکتب ج ۲ ص ۳۱۲، الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۸۸ السیرة النبویہ (دحلان) ج۱ص ۱۳۷ و ۱۳۸ مطبوعہ دار المعرفة ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۱ اور البدایة والنہایة ج۳ ص ۸۵ و ۸۶_

۱۵۸

بہترین مثال مذکورہ بالا واقعہ ہے_ ہم نے مشاہدہ کیاکہ حضرت ابوطالب نے کفار سے عہدنامہ لانے کا مطالبہ کیا اورساتھ ہی یہ اشارہ بھی کیا کہ شاید اس میں صلح کیلئے کوئی راہ نکل آئے_

ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عہدنامہ سب لوگوں کے سامنے کھولاجائے تاکہ سب اسے دیکھ لیں اور آئندہ پیش آنے والے عظیم واقعے کیلئے آمادہ ہوسکیں _نیز ایک منطقی حل پیش کرنے کیلئے فضا ہموار ہوجائے تاکہ بعد میں قریش کیلئے اس کو قبول کرنا اور اس پر قائم رہنا شاق نہ ہو، بالخصوص اس صورت میں جب وہ ان سے کوئی وعدہ لینے یا ان کو عرب معاشرے میں رائج اخلاقی اقدار کے مطابق قول و قرار، شرافت و نجابت اور احترام ذات وغیرہ کے پابند بنانے میں کامیاب ہوتے_ انہیں اس میں بڑی حدتک کامیابی ہوئی یہاں تک کہ لوگ پکار اٹھے ''اے ابوطالب تو نے ہمارے ساتھ منصفانہ بات کی ہے_''

مذکورہ عبارات سے ایک اور حقیقت کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو بجائے خود اہمیت اور نتائج کی حامل ہے اور جو یہ بتاتی ہے کہ حضرت ابوطالب کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سچائی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن کی درستی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کی حقانیت پرکس قدر اعتماد تھا اور یہ کہ جب دوسرے لوگ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ساحر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے تو انہیں دکھ ہوتا تھا_ ان کی نظر میں یہ ایک کھلم کھلا بہتان تھا_ اسی لئے انہوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا تاکہ اس سے فائدہ اٹھاکر کفار کے خیالات و نظریات کو باطل قرار دیں چنانچہ انہوں نے کہا :'' کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ ہم میں سے کون ساحر یا کاہن کہلانے کا زیادہ حقدار ہے؟ ''اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہد نامے والا معجزہ دیکھنے کے بعد مکہ کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا_

قبیلہ پرستی اور اس کے اثرات

گذشتہ صفحات میں ہم نے ملاحظہ کیاکہ قبیلہ پرستی نے ایک حدتک ان حادثات کی روک تھام میں مدد کی جن سے دعوت اسلامی کے مستقبل اور اس کی کامیابی پر برا اثر پڑ سکتا تھا_ مثال کے طور پر عہدنامے کو منسوخ کرنے والے افراد کی کوشش میں بھی یہی جذبہ کارفرما تھا، لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس جدوجہد میں ابولہب کہیں دکھائی نہیں دیتا نیز حضرت خدیجہ کے چچازاد حکیم بن حزام بھی نظر نہیں آتے جس کے بارے

۱۵۹

میں روایات کا دعوی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے شعب ابوطالب میں کھانے کاسامان بھیجا کرتے تھے _ اس کے علاوہ ابوالعاص بن ربیع اموی کا بھی کوئی کردار دیکھنے میں نہیں آیا جس کے بارے میں وہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے ساتھ قرابت کو سراہا (انشاء اللہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ حضرت علیعليه‌السلام کی شادی والے افسانے میں اس کا مزید ذکر ہوگا)_ ان کوششوں کی وجہ بالواسطہ طریقے سے حضرت علیعليه‌السلام کے مقام کو گھٹانا ہے جو ان کے نزدیک فقط ملامت اور سرزنش کے حقدار ہیں_ وہ علیعليه‌السلام جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شعب ابوطالب میں شہر مکہ سے کھانے کا سامان پہنچاتے تھے اور اگر وہ کفار کے ہاتھ لگ جاتے تو وہ انہیں قتل کردیتے_ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا)_

عہد نامے کی منسوخی کے بعد

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے دین کی ترویج میں بدستور مصروف رہے_ قریش بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے_ نیز وہ ہر ممکنہ ذریعے سے کوشش کرتے تھے کہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس نہ آئیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتیں نہ سنیں، لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے صبروتحمل کا راستہ اپناتے ہوئے ہر قسم کی سستی یا کندی سے احتراز کیا، یوں قریش کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے_

اس سلسلے میں بہت سے حادثات و واقعات پیش آئے، ان سب کو بیان کرنے کیلئے کافی وقت درکا رہے لہذا اس موضوع کو چھوڑکر دوسرے موضوعات کا رخ کئے بغیر چارہ نہیں اگرچہ اس موضوع کو ناتمام چھوڑنا ہمارے اوپر گران ہے_

حبشہ سے ایک وفد کی آمد

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے باہر سے پہنچنے والا پہلا وفد حبشہ کے عیسائیوں کا تھا_ بقولے ان کا تعلق نجران سے تھا ابن اسحاق وغیرہ کے بقول یہ وفد بیس افراد پر مشتمل تھا _ان کی تعداد کے

۱۶۰

بارے میں اور اقوال بھی ہیں_ اس وفد کی قیادت حضرت جعفر بن ابوطالبعليه‌السلام کر رہے تھے_(۱)

ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد الحرام میں پایا_ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کی اور سوالات کئے _اس وقت قریش کے کچھ حضرات کعبہ کے گرد محفل جمائے بیٹھے تھے_ پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ ایمان لے آئے_ اس کے بعد جب یہ لوگ کھڑے ہوگئے تو ابوجہل نے انہیں روکا اور اپنا دین چھوڑنے پر انہیں خوب برا بھلا کہا لیکن انہوں نے جواباً کہا سلام علیکم ،ہم تمہاری نادانی کا جواب نادانی سے نہیں دیں گے_ ہمارے لئے ہمارا راستہ مبارک ہو اور تمہارے لئے تمہارا، ہم کسی امر کو اپنے لئے سودمند پائیں تو اس میں کوتاہی نہیں کرتے ،اس وقت آیت نازل ہوئی_( الذین آتیناهم الکتاب من قبله هم به یؤمنون واذا سمعو اللغو اعرضوا عنه وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلام علیکم لانبتغی الجاهلین ) (۲) یعنی جن لوگوں کو ہم نے اس سے قبل کتاب دی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جب وہ فضول گوئی سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے اپنے اعمال_ پس تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے_

یہ واقعہ واضح طور پر قریش کی ہٹ دھرمی، ان کے اہداف اور منصوبوں پر ایک کاری ضرب تھا خاص کر اس وجہ سے کہ وہ وفد حبشہ سے آیا تھا اور وہ بھی حضرت جعفرعليه‌السلام کی قیادت میں _اس کا مطلب یہ تھا کہ قریش کی دسترس سے خارج سرزمینوں میں بھی اسلام نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا تھا_

نیز یہ واقعہ قریش کیلئے خطرے کی گھنٹی تھا تاکہ وہ پانی کے سر سے گزر جانے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں لیکن کیسے اور کیونکر؟ جبکہ حضرت ابوطالب کی سرکردگی میں بنی ہاشم اور بنی مطلب حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت پر کمربستہ تھے _بنابریں ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا مناسب وقت کا انتظار_

___________________

۱_ فقہ السیرة ص ۱۲۶میں بوطی نے یہی کہا ہے نیز مجمع البیان ج ۷ ص ۲۸۵ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت جعفرعليه‌السلام فتح خیبر کے سال آخری بار وہاں سے لوٹے تو یہ لوگ بھی انکے ساتھ آئے_

۲_ سورہ قصص، آیت ۵۲ تا ۵۵، حدیث کیلئے سیرہ ابن ہشام ج ۲ص ۳۲اور ان آیات کی تفسیر میں ابن کثیر، قرطبی اور نیشاپوری کی تفاسیر کی طرف رجوع کریں_ نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۲_

۱۶۱

جناب ابوطالبعليه‌السلام کی پالیسیاں

شیخ الابطح ابوطالب کی ذات وہ ذات تھی جس نے اپنی زبان اور ہاتھ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی حمایت و نصرت اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بچپن سے لیکر اب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نگرانی کی تھی_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت و نصرت اور تبلیغ دین کے دائرے کو وسعت دینے کیلئے زبردست مصائب اور عظیم مشکلات کا مقابلہ کیا_

یہی حضرت ابوطالب تھے جو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی تمام اولاد پر ترجیح دیتے تھے_ جب بُصری (شام) میں ایک یہودی بحیرا نے انہیں خبر دی کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہودیوں سے خطرہ ہے تو وہ انہیں بنفس نفیس مکہ واپس لے آئے _یہ حضرت ابوطالب ہی تھے جو قریش کی عداوت مول لینے، بھوک اور فقر کو جھیلنے ،نیز معاشرتی بائیکاٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ ہوئے_ انہوں نے شعب ابوطالب میں بچوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ،بلکہ درختوں کے پتے کھانے پر بھی مجبورہوئے _انہوں نے صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ(ہر خشک و تر کو برباد کردینے والی) ایک تباہ کن جنگ کیلئے تو تیار ہیں لیکن حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار کے حوالے کرنے یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تبلیغ دین سے روکنے یا کم ازکم تبلیغ چھوڑنے کا مطالبہ تک کرنے کیلئے آمادہ نہیں _یہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام ہی تھے جنہوں نے قریش کے فرعون اور ظالم سرداروں سے ٹکرلی_

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے سر پرقریش نے اونٹ کی اوجھڑی ڈالی تھی تو انہوں نے تلوار سونت لی اور حضرت حمزہ کو حکم دیا کہ اسے ہٹائیں پھر قریش کی طرف بڑھے انہوں نے جناب ابوطالبعليه‌السلام کے چہرے پرخطرے کی علامات دیکھیں_ پھر انہوں نے حمزہ کو حکم دیا کہ وہ اس گندگی کو ان کے چہروں اور داڑھیوں پر ایک ایک کر کے مل دیں چنانچہ حضرت حمزہ نے ایسا ہی کیا_(۱)

ایک اور روایت کے مطابق حضرت ابوطالب نے اپنے افراد کو بلایا اور ان کو مسلح ہونے کا حکم دیا جب مشرکین نے انہیں دیکھا تو وہاں سے کھسکنے کا ارادہ کیا_ انہوں نے ان سے کہا کعبہ کی قسم تم میں سے جو بھی اٹھے گا تلوار سے اس کی خبر لوں گا _اس کے بعد نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے ادبی کرنے والے کی ناک پر مار کر اسے

___________________

۱_ الکافی مطبوعہ مکتبة الصدوق ج۱ ص ۴۴۹ ، منیة الراغب ص ۷۵ ، السیرة الحلبیة ج۱ ص ۲۹۱ و ۲۹۲ والسیرة النبویہ (دحلان، مطبوع حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج۱ ص ۲۰۲ و ۲۰۸ و ۲۳۱ اور بحار الانوار ج ۱۸ ص ۲۰۹_

۱۶۲

خون آلود کردیا _(یہ شخص ابن زبعری تھا )_نیز اوجھڑی کی گندگی اور خون کو ان سب کی داڑھیوں پر مل دیا_(۱)

ادھر شعب ابوطالب میں بھی وہی تھے جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بنفس نفیس حفاظت کرتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے اور اپنے نور چشم علیعليه‌السلام کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ سلاتے تھے تاکہ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محفوظ رہیں،چاہے علیعليه‌السلام کو گزند پہنچے(۲) _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا دفاع کرنے کیلئے قریش کے ساتھ کبھی نرمی اور کبھی سختی برتتے تھے نیز جذبات کو زندہ کرنے مصائب کو دور کرنے خداکے نام کو سربلند کرنے اس کے دین کو پھیلانے اور مسلمانوں کی حمایت کرنے کیلئے سیاسی اشعار بھی کہتے تھے_

ایک دفعہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو کہیں نہ پایا تو بنی ہاشم کو جمع کر کے مسلح کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو قریش کے ایک ایک سرغنہ کے پاس بھیجیں تاکہ اگر یہ ثابت ہو کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کچھ ہوا ہے تو یہ افراد ان کا کام تمام کردیں_(۳) انہوں نے یہ سب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت، اسلام کی حمایت اور دین کی سربلندی کیلئے کیا_

واضح ہے کہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے جملہ کارناموں اور آپ کی عظیم قربانیوں کو بیان کرنے کیلئے طویل وقت اور مستقل کام کی ضرورت ہے _یہاں تو ہم اجمالی اشارے پرہی اکتفا کرتے ہیں لیکن یہ اعتراف کرتے ہیں، کہ ہم ان کا حق ادا نہیں کرسکے_ اس اختصار کی غرض یہ ہے کہ سیرت نبویہ کے دیگر پہلوؤں پر بھی بحث کا موقع مل سکے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الغدیر ج۷ ص ۳۸۸ و ۳۵۹ و ج ۸ ص ۳ تا ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۷۳ (دونوں کتابوں میں کئی منابع سے ماخوذ ہے) ثمرات الاوراق ص ۲۸۵ و ۲۸۶ ، نزھة المجالس ج ۲ ص ۱۲۲ ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۴۰۵ و ۴۰۶ اور تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۴ و ۲۵_

۲ _ المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۶۴و ۶۵ ،ا سنی المطالب ص ۲۱ ( اس نے علیعليه‌السلام کا نام ذکر نہیں کیا ) اسی طرح سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۴۲ اور ملاحظہ ہو: البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۸۴، السیرة النبویہ ( ابن کثیر ) ج ۲ ص ۴۴ ، دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۱۲ ، تاریخ الاسلام ج ۲ ص ۱۴۰ و ۱۴۱ ، الغدیر ج۷ ص ۳۶۳ و ۳۵۷ و ج۸ ص ۳ و ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۹۴_

۳ _ تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۶ ، ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۷۱ ، منیة الراغب ص ۷۵ و ۷۶ اور الغدیر ج ۲ ص ۴۹ و ۳۵۰ و ۳۵۱_

۱۶۳

ابوطالبعليه‌السلام کی قربانیاں

مذکورہ بالا معروضات سے معلوم ہوا کہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليه‌السلام آمادہ تھے کہ:

۱) اپنی قوم کے درمیان حاصل مقام و مرتبے کو خیرباد کہہ کر اہل مکہ بلکہ پوری دنیا کی دشمنی مول لیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ معاشرتی بائیکاٹ کو برداشت کیا لیکن کسی قسم کے دباؤ میں نہ آئے_

۲) نہ صرف فقر وفاقے اور معاشی بائیکاٹ برداشت کرنے پر راضی ہوں بلکہ اپنے پاس موجود دولت اور ہر چیز راہ خدا میں پیش کردیں_

۳)بوقت ضرورت ایک تباہ کن جنگ میں کود پڑیں جو بنی ہاشم اور ان کے دشمنوں کی بربادی پر منتج ہوسکتی تھی

۴) انہوں نے سب سے چھوٹے نور چشم حضرت علیعليه‌السلام کو راہ خدا میں قربانی کیلئے پیش کیا، اور دوسرے بیٹے حضرت جعفرعليه‌السلام جنہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرلیا_

۵) حضرت ابوطالبعليه‌السلام اپنی زبان اور ہاتھ دونوں سے مصروف جہاد رہے اور ہر قسم کے مادی ومعنوی وسائل کو استعمال کرنے سے دریغ نہ کیا _ہر قسم کی تکالیف و مشکلات سے بے پروا ہوکر حتی المقدور دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت میں مصروف رہے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوطالب نے جو کچھ کیا وہ ممکن ہے جذبات یا نسلی و خاندانی تعصب کا نتیجہ ہو یا بالفاظ دیگر آپ کی فطری محبت کا تقاضا ہو؟_(۱)

لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک طرف حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ایمان پر قطعی دلائل خاص کر ان کے اشعار و غیرہ اور حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم اور دیگر ائمہ کی ان کے متعلق احادیث موجود ہیں اور دوسری طرف جس طرح حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے بھتیجے تھے اس طرح حضرت علیعليه‌السلام ان کے بیٹے تھے اگر رشتہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا تو وہ کیونکر بیٹے کو بھتیجے پر قربان کرتے؟ وہ بھی اپنی مرضی سے نیز اس کے انجام کے بارے میں غوروفکر اور تا مل و تدبر کے بعد؟ انہیں بھتیجے کی بجائے بیٹے کا قتل ہوجانا کیونکر منظور ہوا؟ کیا یہ معقول ہے

___________________

۱_ تفسیر ابن کثیر ج ۳ص ۳۹۴ _

۱۶۴

کہ اپنے بیٹے اور جگر گوشے کے مقابلے میں بھتیجے کی محبت فطری طور پر بیشتر ہو؟

اسی طرح اگر قومی یا خاندانی تعصب کارفرما ہوتا تو پھر ابولہب لعنة اللہ علیہ نے اس جذبے کے تحت وہ موقف کیوں اختیارنہیں کیا جو حضرت ابوطالب نے اختیار کیا اور حضرت ابوطالب کی طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت کیوں نہیں کی؟ نیز اپنے بیٹے، اپنی حیثیت اور دیگر چیزوں کی قربانی کیوں نہیں پیش کی؟ بلکہ ہم نے تو اس کے برعکس دیکھا کہ ابولہب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سخت ترین دشمن، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت میں پیش پیش اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت دینے میں سب سے آگے تھا_

رہے بنی ہاشم کے دیگر افراد تو اگرچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل ہوئے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے انکی قربانیاں ابوطالب کی قربانیوں کا دسواں حصہ بھی نہ تھیں_ نیز ان کا یہ اقدام بھی حضرت ابوطالب کے اثر و نفوذ اور اصرار کا مرہون منت تھا_

یوں واضح ہوا کہ مرد مسلمان کا دینی جذبہ قومی یا خاندانی جذبات کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے_ اسی لئے ہم تاریخ میں بعض مسلمانوں کو واضح طور پر یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ راہ خدا میں اپنے آباء اور اولاد کو قتل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں_ چنانچہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اپنے باپ (عبداللہ بن ابی) کو قتل کرنے کی اجازت مانگی(۱) _ نیز جنگ صفین میں بھائی نے بھائی کو نہ چھوڑا جب تک کہ امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے چھوڑنے کی اجازت نہ دی(۲) _ان کے علاوہ بھی تاریخ اسلام میں متعدد مثالیں ملتی ہیں_

ان باتوں سے قطع نظر اس بات کی طرف اشارہ بھی ضروری ہے کہ اگر حضرت ابوطالب کا موقف دنیوی اغراض پر مبنی ہوتا تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی بجائے بھتیجے کو قربان کرتے _نیز بھتیجے کو اپنے خاندان پر قربان کرتے _نہ کہ خاندان کو ایک بھتیجے پر _کیونکہ دنیا کا معقول طریقہ یہی ہوتاہے جیساکہ خلیفہ مامون نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا اور ام ہادی نے اپنے بیٹے کو زہر دیا _لیکن حضرت ابوطالب نے تو ہر چیز کو بھتیجے پر قربان کردیا اور یہ دنیوی مفادات کے حصول کا منطقی اور معقول طریقہ ہرگز نہیں ہوسکتا_

___________________

۱_ تفسیر صافی ج۵ ص ۱۸۰ ، السیرة الحلبیہ ج۲ ص ۶۴ ، الدرالمنثور ج۶ ،ص ۲۴ از عبد بن حمید و ابن منذر اور الاصابہ ج۲ ص ۳۳۶_

۲_ صفین (المنقری) ص ۲۷۱ و ۲۷۲_

۱۶۵

اسی طرح اگر بات قبائلی تعصب کی ہوتی تو اس تعصب کا اثر قبیلے کے مفادات کے دائرے میں ہوتا_ لیکن اگر یہی تعصب اس قبیلے کی بربادی نیز اس کے مفادات یا مستقبل کو خطرات میں جھونکنے اور تباہ کرنے کا باعث بنتا تو پھر اس تعصب کی کوئی گنجائشے نہ ہوتی اور نہ عقلاء کے نزدیک اس کا کوئی نتیجہ ہوتا_

مختصر یہ کہ ہم حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی مذکورہ پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پالیسیاں عقیدے اور ایمان راسخ کی بنیادوں پر استوار تھیں جن کے باعث انسان کے اندر قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے_

خدا کا سلام ہو آپپر اے ابوطالبعليه‌السلام اے عظیم انسانوں کے باپ اے حق اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنے والے کاروان کے سالار خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں_

عام الحزن

بعثت کے دسویں سال بطل جلیل حضرت ابوطالب علیہ الصلاة والسلام کی رحلت ہوئی_ آپ کی وفات سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنے اس مضبوط، وفادار اور باعظمت حامی سے محروم ہوگئے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن کا ناصر و محافظ تھا (جیساکہ پہلے عرض کرچکے ہیں)_

اس حادثے کے مختصر عرصے بعد بقولے تین دن بعد اور ایک قول کے مطابق ایک ماہ(۱) بعدام المؤمنین حضرت خدیجہ (صلوات اللہ وسلامہ علیہا) نے بھی جنت کی راہ لی_ وہ مرتبے کے لحاظ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ازواج میں سب سے افضل ہیں_

نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اخلاقی برتاؤ اور سیرت کے حوالے سے سب سے زیادہ باکمال تھیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی ایک بیوی( حضرت عائشےہ) ان سے بہت حسد کرتی تھیں حالانکہ اس نے حضرت خدیجہعليه‌السلام کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں زندگی نہیں گزاری تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت خدیجہ کی رحلت کے بہت عرصہ بعد

___________________

۱_ السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۳۴۶ ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۲ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۲۷ اورا لتنبیہ و الاشراف ص ۲۰۰_

۱۶۶

اس سے شادی کی تھی_(۱)

دین اسلام کی راہ میں حضرت ابوطالبعليه‌السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عظیم خدمات کا اندازہ اس حقیقت سے ہوسکتا ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کی وفات کے سال کو عام الحزن کا نام دیا(۲) یعنی غم واندوہ کا سال_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں سے جدائی کو پوری امت کیلئے مصیبت اور سانحہ قرار دیا_

چنانچہ فرمایا:'' اس امت پر دو مصیبتیں باہم ٹوٹ پڑیں اور میں فیصلہ نہیں کرسکتا ان میں سے کونسی مصیبت میرے لئے دوسری مصیبت کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی''(۳) _ یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کی جدائی کے غم سے متا ثر ہوکر فرمائی_

محبت وعداوت، دونوں خداکی رضاکیلئے

واضح ہے کہ ان دونوں ہستیوں سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت اور ان دونوں کی جدائی میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حزن وغم نہ ذاتی مفادات ومصالح کے پیش نظر تھا اور نہ ہی خاندانی محبت وجذبے کی بنا پر بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت فقط اور فقط رضائے الہی کیلئے تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی بھی شخص کو اتنی ہی اہمیت دیتے ،اس کی جدائی میں اتنے ہی غمگین ہوتے اور اس سے اسی قدر روحانی و جذباتی لگاؤ رکھتے جس قدر اس شخص کا رابطہ خدا سے ہوتا ،جس قدر وہ اللہ سے نزدیک اور اس کی راہ میں فداکاری کے جذبے کا حامل ہوتا_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوطالبعليه‌السلام اور حضرت خدیجہعليه‌السلام کیلئے اس وجہ سے غمگین نہ ہوئے تھے کہ خدیجہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ تھیں یا ابوطالب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے وگرنہ ابولہب بھی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا تھا _بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان

___________________

۱_ البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) ج ۳ ص ۱۲۷ و ۱۲۸ ، السیرة النبویہ(ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۳ تا ۱۳۵ ، صحیح بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ ، عائشہ (عسکری) ص ۴۶ اور اس کے بعد اور اس کے بعض منابع ہم نے آنے والی فصل '' بیعت عقبہ تک '' میں عائشہ کے حسن و جمال کے ذکر میں بیان کیا ہے_

۲_ سیرت مغلطای ص ۲۶، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۱ ، المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۵۶ ، السیرة النبویہ (دحلان ) ج ۱ ص ۱۳۹ ص ۲۱ مطبوعہ دار المعرفہ اور اسنی المطالب ص ۲۱_

۳_تاریخ یعقوبی ج ۲ص ۳۵ _

۱۶۷

دونوں کی قوت ایمانی، دین میں پائیداری اور اسلام کی راہ میں فداکاری کو محسوس کرلیا تھا_ اور یہی تو اسلام کا بنیادی اصول ہے جس کی خدانے یوں نشاندہی کی ہے( لاتجد قوماً یومنون بالله و الیوم الآخر یوادون من حاد الله و رسوله و لو کانوا آبائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشیرتهم ) (۱) یعنی جولوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مخالفین سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں_ کیا شرک سے زیادہ کوئی دشمنی اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہوسکتی ہے؟ وہی شرک جس کے بارے میں خدانے فرمایا ہے:( ان الشرک لظلم عظیم ) یعنی شرک سب سے بڑا ظلم ہے_

نیز فرمایا ہے:( ان الله لایغفر ان یشرک به و یغفر ما دون ذلک ) یعنی یہ کہ خدا شرک کے علاوہ دیگر گناہوں کو معاف کردیتا ہے_

خداکی رضا کیلئے محبت کرنے اور اس کی رضا کیلئے بغض رکھنے کے بارے میں آیات و احادیث حد سے زیادہ ہیں اور ان کے ذکر کی گنجائشے نہیں_ اسی معیار کے پیش نظر خداوند تعالی نے حضرت نوحعليه‌السلام سے انکے بیٹے کے متعلق فرمایا:( انه لیس من اهلک انه عمل غیرصالح ) (۲) یعنی اس کا تیرے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے اسکا تو غیرصالح عمل ہے_ اسی طرح حضرت ابراہیمعليه‌السلام کا قول قرآن مجید میں ہے کہ( من تبعنی فانه منی ) (۳) جو میری پیروی کرے گا وہ میرے خاندان سے ہوگا_

نیز اسی بنا پر سلمان فارسی کا شمار اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ہوا_

ابوفراس کہتا ہے:

کانت مودة سلمان لهم رحما

ولم تکن بین نوح و ابنه رحم

یعنی اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کے باعث سلمان ان کے گھرانے کا ایک فرد بن گیا جبکہ اس کے برعکس نوحعليه‌السلام اور ان کے بیٹے کے درمیان قرابت نہیں رہی_

___________________

۱_ سورہ مجادلہ، آیت ۲۲ _ ۲_ سورہ ہود آیت ۴۶_ ۳_ سورہ ابراہیم آیت ۳۶_

۱۶۸

پانچویں فصل

ابوطالبعليه‌السلام مؤمن قریش

۱۶۹

ایمان ابوطالبعليه‌السلام

آخر میں ایک ایسے موضوع پر اختصار کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس پر مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہا ہے_

اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے شیعہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_(۱) یہ بھی مروی ہے کہ وہ اوصیاء میں سے تھے(۲) اور ان کا نور قیامت کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آئمہعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام زہرا کے نورکے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(۳) _

اگرچہ ہمیں ان احادیث کی صحت پر اطمینان حاصل نہیں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی رسالت پر حضرت ابوطالبعليه‌السلام کا ایمان نیز خدا کے اوامر ونواہی کے آگے ان کا سر تسلیم خم رہنا روز روشن کی طرح واضح ہے_

اہلبیت معصومینعليه‌السلام سے منقول بہت ساری احادیث آپ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں_ علماء نے ان احادیث کو الگ کتابوں کی شکل میں جمع کیا ہے_ تازہ ترین کتابوں میں سے ایک جناب شیخ طبسی کی کتاب ''منیة الراغب فی ایمان ابیطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں کے مقابلے میں گھر کے اسرار کو زیادہ جانتے ہیںاورابن اثیر کہتے ہیں کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچاؤں میں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بیتعليه‌السلام کے بقول)حضر ت ابوطالبعليه‌السلام کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا تھا_(۴)

___________________

۱_ روضة الواعظین ص ۱۳۸، اوائل المقالات ص ۱۳، الطرائف از ابن طاؤس ص ۲۹۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۱۶۵، بحارالانوار ج ۳۵ص ۱۳۸، الغدیر ج ۷ص ۳۸۴کتب مذکورہ سے، التبیان ج ۲ص ۳۹۸، الحجة از ابن معد ص ۱۳اور مجمع البیان ج ۲ص ۲۸۷ _

۲_ الغدیر ج ۷ ص ۳۸۹_

۳_ الغدیر ج۷ ص ۳۸۷ کئی ایک منابع سے_

۴_ بحارالانوار ج ۳ص ۱۳۹اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۹_

۱۷۰

ان باتوں کے علاوہ بھی ان کے مومن ہونے پر بہت سارے دلائل موجود ہیں _ان کے ایمان کے اثبات میں شیعوں اور سنیوں دونوں کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں _کچھ حضرات نے ان کتابوں کی تعداد تیس تک بتائی ہے_ان کتابوں میں سے ایک استاد عبداللہ الخنیزی کی کتاب (ابوطالب مومن قریش) ہے_ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں قریب تھا کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے _کیونکہ سعودی عرب کے وہابی، اس کتاب کی تالیف کے جرم میں ان کے پروانہ قتل کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں تھے لیکن خدانے اپنی رحمت سے انہیں نوازا _یوں وہ ان کے شرسے نجات پاگئے_

یہ ان متعددابحاث کے علاوہ ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں_ یہاں ہم علامہ امینی کی کتاب الغدیر کی جلد ۷ اور ۸میں مذکور بیان کے تذکرے پر اکتفا کریں گے_

علامہ امینی رحمة اللہ علیہ نے اہل سنت کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی حضرات نے اس بات کے اثبات میں کتابیں لکھی اور بحثیں کی ہیں_ مثال کے طور پر برزنجی نے اسنی المطالب (ص ۶_ ۱۰) میں، الاجھوری، اسکافی، ابوالقاسم بلخی اور ابن وحشی نے شہاب الاخبار کی شرح میں، تلمسانی نے حاشیہ شفاء میں، شعرانی، سبط ابن جوزی، قرطبی، سبکی، ابوطاہر اور سیوطی وغیرہ نے اس مسئلے پر بحث کی ہے_ بلکہ ابن وحشی، الاجہوری اور تلمسانی وغیرہ نے تو یہ فیصلہ دیا ہے کہ جو حضرت ابوطالب سے کینہ رکھے وہ کافر ہے اور جو ان کا ذکر برائی کے ساتھ کرے وہ بھی کافر ہے_(۱)

ایمان ابوطالبعليه‌السلام پر دلائل

حضرت ابوطالب کو مومن ماننے والوں نے کئی ایک امور سے استدلال کیا ہے مثلا:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آئمہ معصومینعليه‌السلام سے منقول وہ احادیث جو ایمان ابوطالبعليه‌السلام پر دلالت کرتی ہیں اور واضح ہے کہ اس قسم کے امور میں یہی ہستیاں تمام دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ باخبر ہیں _

___________________

۱_ رجوع کریں: الغدیر ج ۷ص ۳۸۲اور ۳۸۳اور دوسری کتب_

۱۷۱

۲)جیساکہ گذر چکا ہے کہ ان کی جانب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و نصرت اور عظیم مشکلات و مصائب میں ان کی استقامت، اپنی معاشرتی حیثیت و مقام کی قربانی یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو بھی قربانی کیلئے پیش کرنا اور ایک ایسی جنگ کیلئے ان کی آمادگی جو ہر خشک و تر کو نابود کردے_ یہ سب باتیں دلالت کرتی ہیں کہ اگر وہ نعوذ باللہ کافر ہوتے تو کیونکر ان سب باتوں کو برداشت کرتے؟ کیا وجہ ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں حضرت ابوطالبعليه‌السلام کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان کے بارے میں ہم حضرت ابوطالب سے ملامت و توبیخ کا ایک لفظ بھی نہیں سن پاتے_

رہا یہ احتمال کہ حضرت ابوطالب مزید جاہ ومقام کی لالچ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے تھے تو یہ احتمال ہی غلط ہے کیونکہ وہ نہایت عمر رسیدہ ہوچکے تھے چنانچہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر اسی سال سے کہیں زیادہ تھی_ ادھر حضرت ابوطالبعليه‌السلام قوم کے نزدیک اپنی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیثیت سے بھی باخبر تھے انہیں یہ امید نہیں تھی کہ اس مقام کے حصول تک وہ زندہ رہیں گے جیساکہ گردوپیش کے حالات و قرائن سے وہ اس امر کا بخوبی اندازہ لگا سکتے تھے_

۳) سبط ابن جوزی نے حضرت ابوطالب کے ایمان پر یوں استدلال کیا ہے، (جیساکہ نقل ہوا ہے) اگر حضرت علیعليه‌السلام کے باپ کافر ہوتے تو معاویہ اور اس کے حامی نیز زبیری خاندان اور ان کے طرفدار اور علیعليه‌السلام کے باقی دشمن اس بات پر ان کی شماتت کرتے، حالانکہ علیعليه‌السلام ان لوگوں کو ان کے آباء اور ماؤں کے کافر ہونے نیز نسب کی پستی کا طعنہ دیتے تھے_(۱)

۴) خود حضرت ابوطالب کے بہت سارے صریح کلمات اور بیانات ان کے ایمان کو ثابت کرتے ہیں_ یہاں ہم بطور نمونہ ان کے چند اشعار نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کے بارے میں ابن ابی الحدید معتزلی نے یوں کہا ہے کہ مجموعی طور پریہ سارے اشعار تو اترکے ساتھ ثابت ہیں_(۲)

___________________

۱_ رجوع کریں: ابوطالب مومن قریش ص ۲۷۲_۲۷۳ مطبوعہ سنہ ۱۳۹۸ ھ از تذکرة الخواص_

۲_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۴ص ۷۸اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۶۵_

۱۷۲

یہاں ہم ان کی صلب سے پیدا ہونے والے بارہ اماموں کی تعداد کے عین مطابق ان کے بارہ اشعار تبرکاً پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:

۱_ألم تعلموا انا وجدنا محمداً ---- نبیاً کموسی خط فی اول الکتب

کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے موسیعليه‌السلام کی طرح محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی خدا کا نبی پایا ہے؟ یہ امر تمام کتابوں کی ابتداء میں مذکورہے_

۲_نبی اتاه الوحی من عند ربه---- ومن قال لا یقرع بها سن نادم

وہ ایسے نبی ہیں جن کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے جو اس کا منکر ہو وہ ندامت کے دانت پیستارہ جائے گا_

۳_یا شاهد الله عل فاشهد

إنی علی دین النب احمد

من ضل فی الحق فانی مهتد

اے شاہد خدا میرے بارے میں گواہ رہ کہ میں احمد مرسل کے دین پر ہوں،

اگر کوئی حق کے بارے میں گمراہی کا شکار ہوا تو مجھے کیا میں تو ہدایت یافتہ ہوں_

۴_انت الرسول رسول الله نعلمه---- علیک نزل من ذی العزة الکتب

ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اللہ کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھتے ہیں صاحب عزت ہستی کی طرف سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر کتابیں نازل ہوئی ہیں_

۵_انت النبی محمد---- قرم اغر مسود

آپ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو نورانی سید اور سردار ہیں_

۶_او تومنوا بکتاب منزل عجب---- علی نبی کموسی او کذی النون

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہونے والی اس عجیب کتاب پر ایمان لے آؤ ،کہ یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موسیعليه‌السلام اور یونسعليه‌السلام کی مانند ہیں_

۷_وظْلم نبی جاء یدعوا الی الهدی---- وا مر ا تی من عند ذی العرش قیم

۱۷۳

جو نبی ہدایت کی طرف بلانے آیا تھا اس پر ظلم ہوا ، وہ صاحب عرش کی طرف سے آنے والی گراں بہا چیز کی طرف لوگوں کو بلانے آیا تھا_

۸_

لقد اکرم الله النبی محمدا---- فاکرم خلق الله فی الناس احمد

اللہ نے اپنے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تعظیم سے نوازا لہذا سب سے زیادہ با عزت ہستی احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_

۹_

وخیر بنی هاشم احمد---- رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الاله علی فترة

بنی ہاشم میں سب سے افضل، احمد ہیں وہ زمانہ فترت (جاہلیت)(۱) میں اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_

۱۰_

والله لااخذل النبی ولا---- یخذله من بنی ذوحسب

اللہ کی قسم نہ میں نبی کو بے یار ومدد گار چھوڑوں گا اور نہ ہی میرے شریف ونجیب بیٹے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں_

۱۱_

أتعلم ملک الحبش ان محمدا---- نبیا کموسی والمسیح ابن مریم

اتی بالهدی مثل الذی اتیا به---- فکل بامر الله یهدی ویعصم

وانکم تتلونه فی کتابکم---- بصدق حدیث لاحدیث الترجم

فلا تجعلوا الله نداً فا سلموا---- فان طریق الحق لیس بمظلم

(نجاشی کو دعوت اسلام دیتے ہوئے :)اے بادشاہ حبشہ کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مثال حضرت موسیعليه‌السلام ور حضرت عیسیعليه‌السلام کی طرح ہے_ ان دونوں کی طرح وہ بھی ہدایت کا پیغام لیکر آئے _ وہ سب بحکم خدا ہدایت کرتے ہیں اور (ہمیں شر سے) بچاتے ہیں_ تم لوگ اپنی کتاب میں اس کے بارے میں پڑھتے ہو شک وابہام کے ساتھ نہیں بلکہ صدق دل کے ساتھ_ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو اور مسلمان ہوجاؤ کیونکہ حق کا راستہ تاریک نہیں_

___________________

۱_ دو نبیوں کی بعثت کے درمیانی زمانے کو فترت کہتے ہیں یہاں مراد عیسیعليه‌السلام کے بعد کا زمانہ ہے جسے زمانہ جاہلیت بھی کہا جاتا ہے_

۱۷۴

۱۲_

فصبراً ابایعلی علی دین احمد---- وکن مظهراً للدین وفقت صابرا

وحط من اتی بالحق من عند ربه----- بصدق وعزم ولا تکن حمز کافرا

فقد سرنی ان قلت انک مومن---- فکن لرسول الله فی الله ناصرا

وباد قریشا فی الذی قد اتیته---- جهارا وقل ما کان احمد ساحرا

(اپنے بیٹے حمزہ سے مخاطب ہوکر :)اے ابویعلی (حمزہ) دین احمد پر ثابت قدم رہ اور اس کا اظہار کر خدا تجھے توفیق صبر عطا کرے گا_

اے حمزہ جو شخص اپنے رب کی جانب سے حق کے ساتھ آیا ہے اسکی حفاظت صدق دل اور عزم راسخ کے ساتھ کرو، کہیں کافر نہ ہوجانا_

اگر تم اپنے ایمان کا اقرار کرو تو یہ میرے لئے باعث مسرت ہوگا پس رضائے الہی کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کر _

قریش کے سامنے اپنے عقیدے کا کھل کر اظہار کرو اور کہو کہ احمد جادو گر نہیں_

حضرت ابوطالب کے وہ اشعار جو ان کے ایمان پر دلالت کرتے ہیں زیادہ ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ ان کے علاوہ دیگر باتوں کے تذکرے کا بھی موقع فراہم ہو جو اس موضوع کے حوالے سے کہی گئی ہیں یا کہی جاسکتی ہیں_

۵)ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھی علی ابن یحیی بطریق رحمة اللہ علیہ کہا کرتے تھے اگر نبوت کی طاقت اور پوشیدہ حقیقت کارفرما نہ ہوتی تو حضرت ابوطالب جیسے قریش کے صاحب عزت بزرگ اور سردار شخصیت اپنے اس بھتیجے کی تعریف وتمجید نہ کرتے جو نوجوان تھا، ان کی گودمیں پلا تھا ،ایک یتیم تھا جس کی انہوں نے پرورش کی تھی اوران کے بیٹے کی حیثیت رکھتا تھا اورا ن کی تعریف میں یوں رطب اللسان نہ ہوتے_

وتلقوا ربیع الابطحین محمدا

علی ربوة فی را س عنقاء عیطل

وتا وی الیه هاشم ان هاشما

عرانین کعب آخر بعد ا ول

۱۷۵

اور تم لوگ دیکھو گے کہ سرزمین حجاز کی بہار (حضرت) محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بلند و بالا اونچی گردن والے اونٹ پر نہایت نمایاں طور سے بیٹھے ہوں گے اور ان کے ارد گردہر طرف ہاشمی جوان ہوں گے کیونکہ اول سے آخر تک بنی ہاشمعليه‌السلام کے تمام افراد نہایت عالی وقار سید و سردار ہیں_

اور یہ اشعار نہ کہتے:

وابیض یستسقی الغمام بوجهه---- ثمال الیتامی عصمة للارامل

یطیف به الهلاک من آل هاشم---- فهم عنده فی نعمة و فواضل

درخشندہ چہرے والا جس کے رخ زیبا کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہگاہ اور بیواؤں کا والی و وارث ہے_ بنی ہاشم کے ستم رسیدہ افراد اسی کی پناہ چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے لئے (درحقیقت اللہ کی ) ایک بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے_

کسی ما تحت اور تابع شخص کی تعریف میں اس قسم کے اشعار نہیں کہے جاسکتے _اس طرح کی مدح سرائی تو بادشاہوں اور عظیم شخصیات کی ہوتی ہے _جب آپ اس حقیقت کا تصور کریں کہ یہ اشعار حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں ایک صاحب عزت اور عظیم شخصیت یعنی ابوطالبعليه‌السلام نے کہے ہیں جبکہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جوان تھے اور قریش کے شرسے بچنے کیلئے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی پناہ میں تھے، حضرت ابوطالب نے ہی بچپن سے آپ کی پرورش کی تھی لڑکپن کا دور آیا تو اپنے کاندھوں پراٹھاتے تھے اور جب جوان ہوئے تو اپنے ہمراہ رکھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوطالب کے مال سے کھاتے پیتے تھے اوران کے گھر میں رہتے تھے ، تب آپ کو نبوت کی حیثیت اورعظیم مقام ومرتبے کا ضروراندازہ ہوگا_(۱)

اس طرح کا مذکورہ بالا قصیدہ لامیہ(۲) جس میں انہوںنے یہ کہا تھاوابیض یستسقی الغمام بوجهه (جو بہت طویل ہے) بنی ہاشم اپنے بچوں کو یہ قصیدہ یاد کراتے تھے(۳) اس میں بہت سے ایسے

___________________

۱_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۳و ماذا فی التاریخ ج ۳ ص ۱۹۶_۱۹۷ (از اول الذکر) _

۲_ یعنی وہ قصیدہ جس کے آخر میں لام کا تکرار ہوتا ہے_ (مترجم) _

۳_ مقاتل الطالبیین ص ۳۹۶ _

۱۷۶

نکات نہاں ہیں جن سے ان کے ایمان کی صداقت کا اندازہ ہوتا ہے_ابن ہشام ،ابن کثیر اور دیگر حضرات نے اس کا تذکرہ کیا ہے_

۶)ہم نے مشاہدہ کیا کہ جوحضرت ابوطالبعليه‌السلام بادشاہ حبشہ کو دعوت اسلام دے رہے ہیں_ وہی اپنے بیٹے حضرت جعفر کو بلاکر حکم دیتے ہیں کہ اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ نماز کی صف میں شامل ہوجائے_(۱) انہوں نے اپنی زوجہ فاطمہ بنت اسد کو اسلام کی دعوت دی(۲) اور حضرت حمزہ کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی اور ان کے مسلمان ہونے پر خوشی کا اظہار کیا_ یہی حال اپنے نور چشم امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام کے بارے میں بھی تھا اور مختلف موقعوں پر ان کے کلام اور ان کے طرزعمل کی تحقیق سے مزید نکات ہاتھ آتے ہیں_

۷) حضرت ابوطابعليه‌السلام نے اپنی وصیت میں یہ تصریح کردی تھی کہ '' میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے معاملہ میں دشمنیوں کے ڈ رسے تقیہ اختیار کئے ہوئے تھا اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات کو میرا دل تو قبول کرتا تھا لیکن زبان سے انکار جاری ہوتا ''(۳) _ اور انہوں نے قریش کو رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت اسلام پر لبیک کہنے اور فرمانبرداری کرنے کی بھی وصیت کی تھی کہ اسی میں ہی ان کی کامیابی اور سعادت ہے(۴)

۸)نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بار بار خدا سے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کیلئے طلب رحمت ومغفرت فرماتے تھے اوران کی وفات سے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بے تاب ہوئے_(۵)

واضح ہے کہ کسی غیرمسلم کیلئے طلب رحمت نہیں ہوسکتی_ اسی لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سفانہ بنت حاتم طائی سے فرمایا: ''اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس کیلئے خدا سے طلب مغفرت کرتے''_(۶)

___________________

۱_ رجوع کریں: الاوائل از ابی ہلال عسکری ج ۱ ص ۱۵۴، روضة الواعظین ص ۱۴۰اور شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۶۹ ، السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۲۶۹ ، اسنی المطالب ص ۱۷ ، الاصابہ ج۴ ص ۱۱۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۲۸۷ اور الغدیر ج۷ ص ۳۵۷_ ۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۳ص ۲۷۲_

۳_ قابل تعجب بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت عمر کے کرتو توں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ ان کا دل برا نہیں تھا صرف زبان کے برے تھے اور اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے جبکہ حضرت ابوطالب کے معاملے میں ان کے تقیہ کے پیش نظر کئے ہوئے زبانی انکار کو بہانہ بناتے ہوئے انہیں کافر سمجھتے ہیں (از مترجم) ۴_ الروض الانف ج ۲ ص ۱۷۱ ، ثمرات الاوراق ص ۹۴ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۰۰تا ۳۰۱، سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۳۵۲، بحار ج ۳۵ص ۱۰۷ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۶ مختلف منابع سے_ ۵_ تذکرة الخواص ص ۸_ ۶_ السیرة الحلبیة ج ۳ص ۲۰۵ _

۱۷۷

یہ لوگ زید بن عمرو ابن نفیل (عمر بن خطاب کے چچازاد بھائی) اس کے بیٹے سعید ابن زید، ورقہ بن نوفل، قس بن ساعدہ نیز ابوسفیان (جو ہمیشہ منافقین کیلئے جائے پناہ تھا، اور جنگ احد کے حالات میں ہم اس کے کچھ صریح بیانات اور اقدامات کا تذکرہ کریں گے) وغیرہ کے بارے میں کیونکرمسلمان ہونے کا فتوی دیتے ہیں؟ یہاں تک کہ یہ لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے روایت کرتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امیہ ابن صلت کے بارے میں فرمایا: ''قریب تھا کہ وہ اپنے اشعار کے ذریعے مسلمان ہوجاتا''_(۱)

شافعی ،صفوان بن امیہ کے بارے میں کہتے ہیںکہ اس کے مسلمان ہونے میں گویا شک کی گنجائشے نہیں ہے کیونکہ جب اس نے جنگ حنین کے دن کسی کوکہتے سنا کہ قبیلہ ھوازن کو فتح حاصل ہوئی اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوگئے تو اس نے کہا تھا :''تیری زبان جل جائے واللہ قریش کا خدا میرے نزدیک ھوازن کے خدا سے زیادہ محبوب ہے''_

ملاحظہ کریں یہ لوگ ان سارے افراد کو کیونکر مسلمان مانتے ہیں جبکہ انہوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں اور اگر سمجھابھی تو قبول نہیں کیا یا یہ کہ ظاہراً مسلمان ہوئے لیکن دل کے اندر کفر کو چھپائے رکھا؟ اس کے بر عکس وہ اس ابوطالب کو کافر قرار دیتے ہیں جو کئی بار اپنے اقوال واعمال کے ذریعے خدا کی وحدانیت اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت و رسالت کا صریحاً اعلان کرتے رہے امویوں اور ان کے چیلوں کا کہناہے کہ اس شخص کے متعلق دلیلیں جتنی بھی زیادہ ہوجائیں پھر بھی اس شخص کو ہم مؤمن نہیں مانیں گے چاہے خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کیوں نہ کہیں _ پس زمانہ جاہلیت کے طاغوتوں اور سرکشوں کے نقش قدم پر چلنے والے اموی اور ان کے چیلے کتنے برے لوگ ہیں_

واضح ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا علم چار چیزوں سے ہوتا ہے_

(الف) اس کی عملی پالیسیوں سے اور یہ بھی واضح ہے کہ حضرت ابوطالب کی عملی پالیسیاں دین اسلام کے بارے میں ان کے اخلاص اور جذبہ فداکاری کی اس قدر واضح دلیل ہے کہ اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں_

(ب) شہادتین کے زبانی اقرار سے، اس حوالے سے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ان متعدد اشعار کی طرف اشارہ کافی ہے جو انہوں نے متعدد موقعوں پر کہے_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ص ۴۸_۴۹ نیز الاغانی مطبوعہ ساسی ج ۳ص ۱۹۰ اور التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۲۱۳ _

۱۷۸

(ج) اس شخص کے بارے میں نمونہ اسلام اور کارواں سالار حق یعنی نبی اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے موقف سے، چنانچہ حضرت ابوطالب کے بارے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا محبت آمیز اور پسندیدہ موقف بھی مکمل طور پر ثابت ہے_

(د) اس کے قریبی ذرائع سے ، مثال کے طور پر اس کے گھر والوں اور اس کے ساتھ رہنے والوں کے توسط سے، اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے کہ وہ (اہلبیت) حضرت ابوطالب کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_

بلکہ وہ لوگ جو حضرت ابوطالب علیہ السلام کو کافر قرار دیتے ہیں جب وہ ان کی عملی پالیسیوں کا انکار نہ کرسکے، اور نہ ان کے صریح بیانات کو رد کرسکے تو انہوں نے ایک مبہم جملے کے ذریعے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ دل سے مطیع اور فرمانبردار نہ تھے_(۱)

یہ سب اوٹ پٹانگ اور خیالی باتیں ہیں جو حق وحقیقت پر بہتان باندھنے کہ سوا کچھ نہیں تاکہ یوں ان روایات کو صحیح قرار دے سکیں جو انہوں نے مغیرة بن شعبہ اور اس جیسے دوسرے دشمنان آل ابوطالب سے نقل کی ہیں_ آئندہ صفحات میں ان کی بے بنیاد دلیلوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_

حضرت ابوطالب علیہ السلام کے احسانات کا معمولی سا حق ادا کرنے کی غرض سے یہاں ہم ان کے ایمان کی بعض دلیلیں جو زیادہ تر غیر شیعہ مآخذ سے لی گئی ہیں بیان کرتے ہیں اور دیگر متعدد دلائل کا تذکرہ نہیں کرتے کیونکہ چند مثالوں سے زیادہ بیان کرنے کی گنجائشے نہیں_

پہلی دلیل: عباس نے کہا:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوطالب کیلئے کس چیز کی آرزو کرتے ہیں؟'' فرمایا:'' میں ان کیلئے خدا سے تمام اچھی چیزوں کی آرزو کرتا ہوں''_(۲)

___________________

۱_ سیرت دحلان ج ۱ص ۴۴_۴۷ اور الاصابة ج ۴ص ۱۱۶_۱۹۹ کی طرف رجوع کریں _

۲_ الاذکیاء ص ۱۲۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۸، طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۵۱اور ۱۵۹_

۱۷۹

دوسری دلیل: حضرت ابوبکر اپنے باپ ابوقحافہ (جو بوڑھا اور نابینا تھا) کو لے کر فتح مکہ کے دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں آئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اس بوڑھے کو اپنے گھر چھوڑ آتے تاکہ ہم اس کے پاس جاتے'' _حضرت ابوبکر نے کہا:'' میں نے چاہا کہ اللہ اسے اجر دے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے کی بہ نسبت ابوطالب کے مسلمان ہونے پر زیادہ خوشی ہوئی تھی ،خدا کرے کہ اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملے''_(۱)

اگرچہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ جملے کہے ہوں_ انہوں نے اس موضوع پر نہایت عمدہ بحث کی ہے اور ہم بھی اس مسئلے میں ان کے ہم خیال ہیں_

تیسری دلیل: ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ متعدد سندوں کے ساتھ( جن میں سے بعض عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے اور بعض حضرت ابوبکر ابن ابوقحافہ سے منقول ہیں) مروی ہے کہ حضرت ابوطالب نے اپنی موت سے پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا اقرار کیا_(۲)

چوتھی دلیل: نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوطالب علیہ السلام کیلئے طلب رحمت واستغفار اور دعا کی یہاں تک کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ والوں کیلئے بارش کی دعا کی اور بارش ہوئی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوطالب کو یاد کیا اور منبر پر بیٹھ کر ان کیلئے مغفرت طلب کی(۳) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے جنازے میں شرکت کی حالانکہ ان لوگوں کی روایت کے مطابق مشرکین کے جنازے میں شرکت حرام ہے_ نیز یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ

___________________

۱_ مجمع الزوائد ج ۶ص ۱۷۴الطبرانی اور بزار سے نقل کیا ہے حیاة الصحابہ ج ۲ص ۳۴۴المجمع سے، الاصابة ج ۴ص ۱۱۶اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۶۹_

۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۷۱، الغدیر ج ۷ ص ۳۲۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۳ سے نقل کیا ہے، سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۸۷، الاصابة ج ۴ ص ۱۱۶، عیون الاثر ج ۱ ص ۱۳۱، المواہب اللدنیة ج ۱ ص ۷۱، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۳۷۲ و السیرة النبویة (از دحلان حاشیہ کے ساتھ) ج ۱ ص ۸۹، اسنی المطالب ص ۲۰، دلائل النبوة (بیہقی)، تاریخ ابوالفداء ج ۱ص ۱۲۰ اور کشف الغمة ( شعرانی) ج ۲ ص ۱۴۴_

۳_ مراجعہ ہو : عیون الانباء ص ۷۰۵_

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417