الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209968 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

بارے میں اور اقوال بھی ہیں_ اس وفد کی قیادت حضرت جعفر بن ابوطالبعليه‌السلام کر رہے تھے_(۱)

ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد الحرام میں پایا_ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کی اور سوالات کئے _اس وقت قریش کے کچھ حضرات کعبہ کے گرد محفل جمائے بیٹھے تھے_ پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ ایمان لے آئے_ اس کے بعد جب یہ لوگ کھڑے ہوگئے تو ابوجہل نے انہیں روکا اور اپنا دین چھوڑنے پر انہیں خوب برا بھلا کہا لیکن انہوں نے جواباً کہا سلام علیکم ،ہم تمہاری نادانی کا جواب نادانی سے نہیں دیں گے_ ہمارے لئے ہمارا راستہ مبارک ہو اور تمہارے لئے تمہارا، ہم کسی امر کو اپنے لئے سودمند پائیں تو اس میں کوتاہی نہیں کرتے ،اس وقت آیت نازل ہوئی_( الذین آتیناهم الکتاب من قبله هم به یؤمنون واذا سمعو اللغو اعرضوا عنه وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلام علیکم لانبتغی الجاهلین ) (۲) یعنی جن لوگوں کو ہم نے اس سے قبل کتاب دی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جب وہ فضول گوئی سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے اپنے اعمال_ پس تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے_

یہ واقعہ واضح طور پر قریش کی ہٹ دھرمی، ان کے اہداف اور منصوبوں پر ایک کاری ضرب تھا خاص کر اس وجہ سے کہ وہ وفد حبشہ سے آیا تھا اور وہ بھی حضرت جعفرعليه‌السلام کی قیادت میں _اس کا مطلب یہ تھا کہ قریش کی دسترس سے خارج سرزمینوں میں بھی اسلام نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا تھا_

نیز یہ واقعہ قریش کیلئے خطرے کی گھنٹی تھا تاکہ وہ پانی کے سر سے گزر جانے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں لیکن کیسے اور کیونکر؟ جبکہ حضرت ابوطالب کی سرکردگی میں بنی ہاشم اور بنی مطلب حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت پر کمربستہ تھے _بنابریں ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا مناسب وقت کا انتظار_

___________________

۱_ فقہ السیرة ص ۱۲۶میں بوطی نے یہی کہا ہے نیز مجمع البیان ج ۷ ص ۲۸۵ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت جعفرعليه‌السلام فتح خیبر کے سال آخری بار وہاں سے لوٹے تو یہ لوگ بھی انکے ساتھ آئے_

۲_ سورہ قصص، آیت ۵۲ تا ۵۵، حدیث کیلئے سیرہ ابن ہشام ج ۲ص ۳۲اور ان آیات کی تفسیر میں ابن کثیر، قرطبی اور نیشاپوری کی تفاسیر کی طرف رجوع کریں_ نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۲_

۱۶۱

جناب ابوطالبعليه‌السلام کی پالیسیاں

شیخ الابطح ابوطالب کی ذات وہ ذات تھی جس نے اپنی زبان اور ہاتھ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی حمایت و نصرت اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بچپن سے لیکر اب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نگرانی کی تھی_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت و نصرت اور تبلیغ دین کے دائرے کو وسعت دینے کیلئے زبردست مصائب اور عظیم مشکلات کا مقابلہ کیا_

یہی حضرت ابوطالب تھے جو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی تمام اولاد پر ترجیح دیتے تھے_ جب بُصری (شام) میں ایک یہودی بحیرا نے انہیں خبر دی کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہودیوں سے خطرہ ہے تو وہ انہیں بنفس نفیس مکہ واپس لے آئے _یہ حضرت ابوطالب ہی تھے جو قریش کی عداوت مول لینے، بھوک اور فقر کو جھیلنے ،نیز معاشرتی بائیکاٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ ہوئے_ انہوں نے شعب ابوطالب میں بچوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ،بلکہ درختوں کے پتے کھانے پر بھی مجبورہوئے _انہوں نے صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ(ہر خشک و تر کو برباد کردینے والی) ایک تباہ کن جنگ کیلئے تو تیار ہیں لیکن حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار کے حوالے کرنے یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تبلیغ دین سے روکنے یا کم ازکم تبلیغ چھوڑنے کا مطالبہ تک کرنے کیلئے آمادہ نہیں _یہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام ہی تھے جنہوں نے قریش کے فرعون اور ظالم سرداروں سے ٹکرلی_

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے سر پرقریش نے اونٹ کی اوجھڑی ڈالی تھی تو انہوں نے تلوار سونت لی اور حضرت حمزہ کو حکم دیا کہ اسے ہٹائیں پھر قریش کی طرف بڑھے انہوں نے جناب ابوطالبعليه‌السلام کے چہرے پرخطرے کی علامات دیکھیں_ پھر انہوں نے حمزہ کو حکم دیا کہ وہ اس گندگی کو ان کے چہروں اور داڑھیوں پر ایک ایک کر کے مل دیں چنانچہ حضرت حمزہ نے ایسا ہی کیا_(۱)

ایک اور روایت کے مطابق حضرت ابوطالب نے اپنے افراد کو بلایا اور ان کو مسلح ہونے کا حکم دیا جب مشرکین نے انہیں دیکھا تو وہاں سے کھسکنے کا ارادہ کیا_ انہوں نے ان سے کہا کعبہ کی قسم تم میں سے جو بھی اٹھے گا تلوار سے اس کی خبر لوں گا _اس کے بعد نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے ادبی کرنے والے کی ناک پر مار کر اسے

___________________

۱_ الکافی مطبوعہ مکتبة الصدوق ج۱ ص ۴۴۹ ، منیة الراغب ص ۷۵ ، السیرة الحلبیة ج۱ ص ۲۹۱ و ۲۹۲ والسیرة النبویہ (دحلان، مطبوع حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج۱ ص ۲۰۲ و ۲۰۸ و ۲۳۱ اور بحار الانوار ج ۱۸ ص ۲۰۹_

۱۶۲

خون آلود کردیا _(یہ شخص ابن زبعری تھا )_نیز اوجھڑی کی گندگی اور خون کو ان سب کی داڑھیوں پر مل دیا_(۱)

ادھر شعب ابوطالب میں بھی وہی تھے جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بنفس نفیس حفاظت کرتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے اور اپنے نور چشم علیعليه‌السلام کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ سلاتے تھے تاکہ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محفوظ رہیں،چاہے علیعليه‌السلام کو گزند پہنچے(۲) _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا دفاع کرنے کیلئے قریش کے ساتھ کبھی نرمی اور کبھی سختی برتتے تھے نیز جذبات کو زندہ کرنے مصائب کو دور کرنے خداکے نام کو سربلند کرنے اس کے دین کو پھیلانے اور مسلمانوں کی حمایت کرنے کیلئے سیاسی اشعار بھی کہتے تھے_

ایک دفعہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو کہیں نہ پایا تو بنی ہاشم کو جمع کر کے مسلح کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو قریش کے ایک ایک سرغنہ کے پاس بھیجیں تاکہ اگر یہ ثابت ہو کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کچھ ہوا ہے تو یہ افراد ان کا کام تمام کردیں_(۳) انہوں نے یہ سب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت، اسلام کی حمایت اور دین کی سربلندی کیلئے کیا_

واضح ہے کہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے جملہ کارناموں اور آپ کی عظیم قربانیوں کو بیان کرنے کیلئے طویل وقت اور مستقل کام کی ضرورت ہے _یہاں تو ہم اجمالی اشارے پرہی اکتفا کرتے ہیں لیکن یہ اعتراف کرتے ہیں، کہ ہم ان کا حق ادا نہیں کرسکے_ اس اختصار کی غرض یہ ہے کہ سیرت نبویہ کے دیگر پہلوؤں پر بھی بحث کا موقع مل سکے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الغدیر ج۷ ص ۳۸۸ و ۳۵۹ و ج ۸ ص ۳ تا ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۷۳ (دونوں کتابوں میں کئی منابع سے ماخوذ ہے) ثمرات الاوراق ص ۲۸۵ و ۲۸۶ ، نزھة المجالس ج ۲ ص ۱۲۲ ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۴۰۵ و ۴۰۶ اور تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۴ و ۲۵_

۲ _ المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۶۴و ۶۵ ،ا سنی المطالب ص ۲۱ ( اس نے علیعليه‌السلام کا نام ذکر نہیں کیا ) اسی طرح سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۴۲ اور ملاحظہ ہو: البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۸۴، السیرة النبویہ ( ابن کثیر ) ج ۲ ص ۴۴ ، دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۱۲ ، تاریخ الاسلام ج ۲ ص ۱۴۰ و ۱۴۱ ، الغدیر ج۷ ص ۳۶۳ و ۳۵۷ و ج۸ ص ۳ و ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۹۴_

۳ _ تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۶ ، ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۷۱ ، منیة الراغب ص ۷۵ و ۷۶ اور الغدیر ج ۲ ص ۴۹ و ۳۵۰ و ۳۵۱_

۱۶۳

ابوطالبعليه‌السلام کی قربانیاں

مذکورہ بالا معروضات سے معلوم ہوا کہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليه‌السلام آمادہ تھے کہ:

۱) اپنی قوم کے درمیان حاصل مقام و مرتبے کو خیرباد کہہ کر اہل مکہ بلکہ پوری دنیا کی دشمنی مول لیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ معاشرتی بائیکاٹ کو برداشت کیا لیکن کسی قسم کے دباؤ میں نہ آئے_

۲) نہ صرف فقر وفاقے اور معاشی بائیکاٹ برداشت کرنے پر راضی ہوں بلکہ اپنے پاس موجود دولت اور ہر چیز راہ خدا میں پیش کردیں_

۳)بوقت ضرورت ایک تباہ کن جنگ میں کود پڑیں جو بنی ہاشم اور ان کے دشمنوں کی بربادی پر منتج ہوسکتی تھی

۴) انہوں نے سب سے چھوٹے نور چشم حضرت علیعليه‌السلام کو راہ خدا میں قربانی کیلئے پیش کیا، اور دوسرے بیٹے حضرت جعفرعليه‌السلام جنہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرلیا_

۵) حضرت ابوطالبعليه‌السلام اپنی زبان اور ہاتھ دونوں سے مصروف جہاد رہے اور ہر قسم کے مادی ومعنوی وسائل کو استعمال کرنے سے دریغ نہ کیا _ہر قسم کی تکالیف و مشکلات سے بے پروا ہوکر حتی المقدور دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت میں مصروف رہے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوطالب نے جو کچھ کیا وہ ممکن ہے جذبات یا نسلی و خاندانی تعصب کا نتیجہ ہو یا بالفاظ دیگر آپ کی فطری محبت کا تقاضا ہو؟_(۱)

لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک طرف حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ایمان پر قطعی دلائل خاص کر ان کے اشعار و غیرہ اور حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم اور دیگر ائمہ کی ان کے متعلق احادیث موجود ہیں اور دوسری طرف جس طرح حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے بھتیجے تھے اس طرح حضرت علیعليه‌السلام ان کے بیٹے تھے اگر رشتہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا تو وہ کیونکر بیٹے کو بھتیجے پر قربان کرتے؟ وہ بھی اپنی مرضی سے نیز اس کے انجام کے بارے میں غوروفکر اور تا مل و تدبر کے بعد؟ انہیں بھتیجے کی بجائے بیٹے کا قتل ہوجانا کیونکر منظور ہوا؟ کیا یہ معقول ہے

___________________

۱_ تفسیر ابن کثیر ج ۳ص ۳۹۴ _

۱۶۴

کہ اپنے بیٹے اور جگر گوشے کے مقابلے میں بھتیجے کی محبت فطری طور پر بیشتر ہو؟

اسی طرح اگر قومی یا خاندانی تعصب کارفرما ہوتا تو پھر ابولہب لعنة اللہ علیہ نے اس جذبے کے تحت وہ موقف کیوں اختیارنہیں کیا جو حضرت ابوطالب نے اختیار کیا اور حضرت ابوطالب کی طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت کیوں نہیں کی؟ نیز اپنے بیٹے، اپنی حیثیت اور دیگر چیزوں کی قربانی کیوں نہیں پیش کی؟ بلکہ ہم نے تو اس کے برعکس دیکھا کہ ابولہب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سخت ترین دشمن، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت میں پیش پیش اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت دینے میں سب سے آگے تھا_

رہے بنی ہاشم کے دیگر افراد تو اگرچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل ہوئے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے انکی قربانیاں ابوطالب کی قربانیوں کا دسواں حصہ بھی نہ تھیں_ نیز ان کا یہ اقدام بھی حضرت ابوطالب کے اثر و نفوذ اور اصرار کا مرہون منت تھا_

یوں واضح ہوا کہ مرد مسلمان کا دینی جذبہ قومی یا خاندانی جذبات کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے_ اسی لئے ہم تاریخ میں بعض مسلمانوں کو واضح طور پر یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ راہ خدا میں اپنے آباء اور اولاد کو قتل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں_ چنانچہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اپنے باپ (عبداللہ بن ابی) کو قتل کرنے کی اجازت مانگی(۱) _ نیز جنگ صفین میں بھائی نے بھائی کو نہ چھوڑا جب تک کہ امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے چھوڑنے کی اجازت نہ دی(۲) _ان کے علاوہ بھی تاریخ اسلام میں متعدد مثالیں ملتی ہیں_

ان باتوں سے قطع نظر اس بات کی طرف اشارہ بھی ضروری ہے کہ اگر حضرت ابوطالب کا موقف دنیوی اغراض پر مبنی ہوتا تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی بجائے بھتیجے کو قربان کرتے _نیز بھتیجے کو اپنے خاندان پر قربان کرتے _نہ کہ خاندان کو ایک بھتیجے پر _کیونکہ دنیا کا معقول طریقہ یہی ہوتاہے جیساکہ خلیفہ مامون نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا اور ام ہادی نے اپنے بیٹے کو زہر دیا _لیکن حضرت ابوطالب نے تو ہر چیز کو بھتیجے پر قربان کردیا اور یہ دنیوی مفادات کے حصول کا منطقی اور معقول طریقہ ہرگز نہیں ہوسکتا_

___________________

۱_ تفسیر صافی ج۵ ص ۱۸۰ ، السیرة الحلبیہ ج۲ ص ۶۴ ، الدرالمنثور ج۶ ،ص ۲۴ از عبد بن حمید و ابن منذر اور الاصابہ ج۲ ص ۳۳۶_

۲_ صفین (المنقری) ص ۲۷۱ و ۲۷۲_

۱۶۵

اسی طرح اگر بات قبائلی تعصب کی ہوتی تو اس تعصب کا اثر قبیلے کے مفادات کے دائرے میں ہوتا_ لیکن اگر یہی تعصب اس قبیلے کی بربادی نیز اس کے مفادات یا مستقبل کو خطرات میں جھونکنے اور تباہ کرنے کا باعث بنتا تو پھر اس تعصب کی کوئی گنجائشے نہ ہوتی اور نہ عقلاء کے نزدیک اس کا کوئی نتیجہ ہوتا_

مختصر یہ کہ ہم حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی مذکورہ پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پالیسیاں عقیدے اور ایمان راسخ کی بنیادوں پر استوار تھیں جن کے باعث انسان کے اندر قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے_

خدا کا سلام ہو آپپر اے ابوطالبعليه‌السلام اے عظیم انسانوں کے باپ اے حق اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنے والے کاروان کے سالار خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں_

عام الحزن

بعثت کے دسویں سال بطل جلیل حضرت ابوطالب علیہ الصلاة والسلام کی رحلت ہوئی_ آپ کی وفات سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنے اس مضبوط، وفادار اور باعظمت حامی سے محروم ہوگئے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن کا ناصر و محافظ تھا (جیساکہ پہلے عرض کرچکے ہیں)_

اس حادثے کے مختصر عرصے بعد بقولے تین دن بعد اور ایک قول کے مطابق ایک ماہ(۱) بعدام المؤمنین حضرت خدیجہ (صلوات اللہ وسلامہ علیہا) نے بھی جنت کی راہ لی_ وہ مرتبے کے لحاظ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ازواج میں سب سے افضل ہیں_

نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اخلاقی برتاؤ اور سیرت کے حوالے سے سب سے زیادہ باکمال تھیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی ایک بیوی( حضرت عائشےہ) ان سے بہت حسد کرتی تھیں حالانکہ اس نے حضرت خدیجہعليه‌السلام کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں زندگی نہیں گزاری تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت خدیجہ کی رحلت کے بہت عرصہ بعد

___________________

۱_ السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۳۴۶ ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۲ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۲۷ اورا لتنبیہ و الاشراف ص ۲۰۰_

۱۶۶

اس سے شادی کی تھی_(۱)

دین اسلام کی راہ میں حضرت ابوطالبعليه‌السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عظیم خدمات کا اندازہ اس حقیقت سے ہوسکتا ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کی وفات کے سال کو عام الحزن کا نام دیا(۲) یعنی غم واندوہ کا سال_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں سے جدائی کو پوری امت کیلئے مصیبت اور سانحہ قرار دیا_

چنانچہ فرمایا:'' اس امت پر دو مصیبتیں باہم ٹوٹ پڑیں اور میں فیصلہ نہیں کرسکتا ان میں سے کونسی مصیبت میرے لئے دوسری مصیبت کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی''(۳) _ یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کی جدائی کے غم سے متا ثر ہوکر فرمائی_

محبت وعداوت، دونوں خداکی رضاکیلئے

واضح ہے کہ ان دونوں ہستیوں سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت اور ان دونوں کی جدائی میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حزن وغم نہ ذاتی مفادات ومصالح کے پیش نظر تھا اور نہ ہی خاندانی محبت وجذبے کی بنا پر بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت فقط اور فقط رضائے الہی کیلئے تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی بھی شخص کو اتنی ہی اہمیت دیتے ،اس کی جدائی میں اتنے ہی غمگین ہوتے اور اس سے اسی قدر روحانی و جذباتی لگاؤ رکھتے جس قدر اس شخص کا رابطہ خدا سے ہوتا ،جس قدر وہ اللہ سے نزدیک اور اس کی راہ میں فداکاری کے جذبے کا حامل ہوتا_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوطالبعليه‌السلام اور حضرت خدیجہعليه‌السلام کیلئے اس وجہ سے غمگین نہ ہوئے تھے کہ خدیجہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ تھیں یا ابوطالب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے وگرنہ ابولہب بھی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا تھا _بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان

___________________

۱_ البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) ج ۳ ص ۱۲۷ و ۱۲۸ ، السیرة النبویہ(ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۳ تا ۱۳۵ ، صحیح بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ ، عائشہ (عسکری) ص ۴۶ اور اس کے بعد اور اس کے بعض منابع ہم نے آنے والی فصل '' بیعت عقبہ تک '' میں عائشہ کے حسن و جمال کے ذکر میں بیان کیا ہے_

۲_ سیرت مغلطای ص ۲۶، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۱ ، المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۵۶ ، السیرة النبویہ (دحلان ) ج ۱ ص ۱۳۹ ص ۲۱ مطبوعہ دار المعرفہ اور اسنی المطالب ص ۲۱_

۳_تاریخ یعقوبی ج ۲ص ۳۵ _

۱۶۷

دونوں کی قوت ایمانی، دین میں پائیداری اور اسلام کی راہ میں فداکاری کو محسوس کرلیا تھا_ اور یہی تو اسلام کا بنیادی اصول ہے جس کی خدانے یوں نشاندہی کی ہے( لاتجد قوماً یومنون بالله و الیوم الآخر یوادون من حاد الله و رسوله و لو کانوا آبائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشیرتهم ) (۱) یعنی جولوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مخالفین سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں_ کیا شرک سے زیادہ کوئی دشمنی اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہوسکتی ہے؟ وہی شرک جس کے بارے میں خدانے فرمایا ہے:( ان الشرک لظلم عظیم ) یعنی شرک سب سے بڑا ظلم ہے_

نیز فرمایا ہے:( ان الله لایغفر ان یشرک به و یغفر ما دون ذلک ) یعنی یہ کہ خدا شرک کے علاوہ دیگر گناہوں کو معاف کردیتا ہے_

خداکی رضا کیلئے محبت کرنے اور اس کی رضا کیلئے بغض رکھنے کے بارے میں آیات و احادیث حد سے زیادہ ہیں اور ان کے ذکر کی گنجائشے نہیں_ اسی معیار کے پیش نظر خداوند تعالی نے حضرت نوحعليه‌السلام سے انکے بیٹے کے متعلق فرمایا:( انه لیس من اهلک انه عمل غیرصالح ) (۲) یعنی اس کا تیرے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے اسکا تو غیرصالح عمل ہے_ اسی طرح حضرت ابراہیمعليه‌السلام کا قول قرآن مجید میں ہے کہ( من تبعنی فانه منی ) (۳) جو میری پیروی کرے گا وہ میرے خاندان سے ہوگا_

نیز اسی بنا پر سلمان فارسی کا شمار اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ہوا_

ابوفراس کہتا ہے:

کانت مودة سلمان لهم رحما

ولم تکن بین نوح و ابنه رحم

یعنی اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کے باعث سلمان ان کے گھرانے کا ایک فرد بن گیا جبکہ اس کے برعکس نوحعليه‌السلام اور ان کے بیٹے کے درمیان قرابت نہیں رہی_

___________________

۱_ سورہ مجادلہ، آیت ۲۲ _ ۲_ سورہ ہود آیت ۴۶_ ۳_ سورہ ابراہیم آیت ۳۶_

۱۶۸

پانچویں فصل

ابوطالبعليه‌السلام مؤمن قریش

۱۶۹

ایمان ابوطالبعليه‌السلام

آخر میں ایک ایسے موضوع پر اختصار کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس پر مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہا ہے_

اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے شیعہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_(۱) یہ بھی مروی ہے کہ وہ اوصیاء میں سے تھے(۲) اور ان کا نور قیامت کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آئمہعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام زہرا کے نورکے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(۳) _

اگرچہ ہمیں ان احادیث کی صحت پر اطمینان حاصل نہیں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی رسالت پر حضرت ابوطالبعليه‌السلام کا ایمان نیز خدا کے اوامر ونواہی کے آگے ان کا سر تسلیم خم رہنا روز روشن کی طرح واضح ہے_

اہلبیت معصومینعليه‌السلام سے منقول بہت ساری احادیث آپ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں_ علماء نے ان احادیث کو الگ کتابوں کی شکل میں جمع کیا ہے_ تازہ ترین کتابوں میں سے ایک جناب شیخ طبسی کی کتاب ''منیة الراغب فی ایمان ابیطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں کے مقابلے میں گھر کے اسرار کو زیادہ جانتے ہیںاورابن اثیر کہتے ہیں کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچاؤں میں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بیتعليه‌السلام کے بقول)حضر ت ابوطالبعليه‌السلام کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا تھا_(۴)

___________________

۱_ روضة الواعظین ص ۱۳۸، اوائل المقالات ص ۱۳، الطرائف از ابن طاؤس ص ۲۹۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۱۶۵، بحارالانوار ج ۳۵ص ۱۳۸، الغدیر ج ۷ص ۳۸۴کتب مذکورہ سے، التبیان ج ۲ص ۳۹۸، الحجة از ابن معد ص ۱۳اور مجمع البیان ج ۲ص ۲۸۷ _

۲_ الغدیر ج ۷ ص ۳۸۹_

۳_ الغدیر ج۷ ص ۳۸۷ کئی ایک منابع سے_

۴_ بحارالانوار ج ۳ص ۱۳۹اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۹_

۱۷۰

ان باتوں کے علاوہ بھی ان کے مومن ہونے پر بہت سارے دلائل موجود ہیں _ان کے ایمان کے اثبات میں شیعوں اور سنیوں دونوں کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں _کچھ حضرات نے ان کتابوں کی تعداد تیس تک بتائی ہے_ان کتابوں میں سے ایک استاد عبداللہ الخنیزی کی کتاب (ابوطالب مومن قریش) ہے_ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں قریب تھا کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے _کیونکہ سعودی عرب کے وہابی، اس کتاب کی تالیف کے جرم میں ان کے پروانہ قتل کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں تھے لیکن خدانے اپنی رحمت سے انہیں نوازا _یوں وہ ان کے شرسے نجات پاگئے_

یہ ان متعددابحاث کے علاوہ ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں_ یہاں ہم علامہ امینی کی کتاب الغدیر کی جلد ۷ اور ۸میں مذکور بیان کے تذکرے پر اکتفا کریں گے_

علامہ امینی رحمة اللہ علیہ نے اہل سنت کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی حضرات نے اس بات کے اثبات میں کتابیں لکھی اور بحثیں کی ہیں_ مثال کے طور پر برزنجی نے اسنی المطالب (ص ۶_ ۱۰) میں، الاجھوری، اسکافی، ابوالقاسم بلخی اور ابن وحشی نے شہاب الاخبار کی شرح میں، تلمسانی نے حاشیہ شفاء میں، شعرانی، سبط ابن جوزی، قرطبی، سبکی، ابوطاہر اور سیوطی وغیرہ نے اس مسئلے پر بحث کی ہے_ بلکہ ابن وحشی، الاجہوری اور تلمسانی وغیرہ نے تو یہ فیصلہ دیا ہے کہ جو حضرت ابوطالب سے کینہ رکھے وہ کافر ہے اور جو ان کا ذکر برائی کے ساتھ کرے وہ بھی کافر ہے_(۱)

ایمان ابوطالبعليه‌السلام پر دلائل

حضرت ابوطالب کو مومن ماننے والوں نے کئی ایک امور سے استدلال کیا ہے مثلا:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آئمہ معصومینعليه‌السلام سے منقول وہ احادیث جو ایمان ابوطالبعليه‌السلام پر دلالت کرتی ہیں اور واضح ہے کہ اس قسم کے امور میں یہی ہستیاں تمام دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ باخبر ہیں _

___________________

۱_ رجوع کریں: الغدیر ج ۷ص ۳۸۲اور ۳۸۳اور دوسری کتب_

۱۷۱

۲)جیساکہ گذر چکا ہے کہ ان کی جانب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و نصرت اور عظیم مشکلات و مصائب میں ان کی استقامت، اپنی معاشرتی حیثیت و مقام کی قربانی یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو بھی قربانی کیلئے پیش کرنا اور ایک ایسی جنگ کیلئے ان کی آمادگی جو ہر خشک و تر کو نابود کردے_ یہ سب باتیں دلالت کرتی ہیں کہ اگر وہ نعوذ باللہ کافر ہوتے تو کیونکر ان سب باتوں کو برداشت کرتے؟ کیا وجہ ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں حضرت ابوطالبعليه‌السلام کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان کے بارے میں ہم حضرت ابوطالب سے ملامت و توبیخ کا ایک لفظ بھی نہیں سن پاتے_

رہا یہ احتمال کہ حضرت ابوطالب مزید جاہ ومقام کی لالچ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے تھے تو یہ احتمال ہی غلط ہے کیونکہ وہ نہایت عمر رسیدہ ہوچکے تھے چنانچہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر اسی سال سے کہیں زیادہ تھی_ ادھر حضرت ابوطالبعليه‌السلام قوم کے نزدیک اپنی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیثیت سے بھی باخبر تھے انہیں یہ امید نہیں تھی کہ اس مقام کے حصول تک وہ زندہ رہیں گے جیساکہ گردوپیش کے حالات و قرائن سے وہ اس امر کا بخوبی اندازہ لگا سکتے تھے_

۳) سبط ابن جوزی نے حضرت ابوطالب کے ایمان پر یوں استدلال کیا ہے، (جیساکہ نقل ہوا ہے) اگر حضرت علیعليه‌السلام کے باپ کافر ہوتے تو معاویہ اور اس کے حامی نیز زبیری خاندان اور ان کے طرفدار اور علیعليه‌السلام کے باقی دشمن اس بات پر ان کی شماتت کرتے، حالانکہ علیعليه‌السلام ان لوگوں کو ان کے آباء اور ماؤں کے کافر ہونے نیز نسب کی پستی کا طعنہ دیتے تھے_(۱)

۴) خود حضرت ابوطالب کے بہت سارے صریح کلمات اور بیانات ان کے ایمان کو ثابت کرتے ہیں_ یہاں ہم بطور نمونہ ان کے چند اشعار نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کے بارے میں ابن ابی الحدید معتزلی نے یوں کہا ہے کہ مجموعی طور پریہ سارے اشعار تو اترکے ساتھ ثابت ہیں_(۲)

___________________

۱_ رجوع کریں: ابوطالب مومن قریش ص ۲۷۲_۲۷۳ مطبوعہ سنہ ۱۳۹۸ ھ از تذکرة الخواص_

۲_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۴ص ۷۸اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۶۵_

۱۷۲

یہاں ہم ان کی صلب سے پیدا ہونے والے بارہ اماموں کی تعداد کے عین مطابق ان کے بارہ اشعار تبرکاً پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:

۱_ألم تعلموا انا وجدنا محمداً ---- نبیاً کموسی خط فی اول الکتب

کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے موسیعليه‌السلام کی طرح محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی خدا کا نبی پایا ہے؟ یہ امر تمام کتابوں کی ابتداء میں مذکورہے_

۲_نبی اتاه الوحی من عند ربه---- ومن قال لا یقرع بها سن نادم

وہ ایسے نبی ہیں جن کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے جو اس کا منکر ہو وہ ندامت کے دانت پیستارہ جائے گا_

۳_یا شاهد الله عل فاشهد

إنی علی دین النب احمد

من ضل فی الحق فانی مهتد

اے شاہد خدا میرے بارے میں گواہ رہ کہ میں احمد مرسل کے دین پر ہوں،

اگر کوئی حق کے بارے میں گمراہی کا شکار ہوا تو مجھے کیا میں تو ہدایت یافتہ ہوں_

۴_انت الرسول رسول الله نعلمه---- علیک نزل من ذی العزة الکتب

ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اللہ کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھتے ہیں صاحب عزت ہستی کی طرف سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر کتابیں نازل ہوئی ہیں_

۵_انت النبی محمد---- قرم اغر مسود

آپ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو نورانی سید اور سردار ہیں_

۶_او تومنوا بکتاب منزل عجب---- علی نبی کموسی او کذی النون

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہونے والی اس عجیب کتاب پر ایمان لے آؤ ،کہ یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موسیعليه‌السلام اور یونسعليه‌السلام کی مانند ہیں_

۷_وظْلم نبی جاء یدعوا الی الهدی---- وا مر ا تی من عند ذی العرش قیم

۱۷۳

جو نبی ہدایت کی طرف بلانے آیا تھا اس پر ظلم ہوا ، وہ صاحب عرش کی طرف سے آنے والی گراں بہا چیز کی طرف لوگوں کو بلانے آیا تھا_

۸_

لقد اکرم الله النبی محمدا---- فاکرم خلق الله فی الناس احمد

اللہ نے اپنے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تعظیم سے نوازا لہذا سب سے زیادہ با عزت ہستی احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_

۹_

وخیر بنی هاشم احمد---- رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الاله علی فترة

بنی ہاشم میں سب سے افضل، احمد ہیں وہ زمانہ فترت (جاہلیت)(۱) میں اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_

۱۰_

والله لااخذل النبی ولا---- یخذله من بنی ذوحسب

اللہ کی قسم نہ میں نبی کو بے یار ومدد گار چھوڑوں گا اور نہ ہی میرے شریف ونجیب بیٹے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں_

۱۱_

أتعلم ملک الحبش ان محمدا---- نبیا کموسی والمسیح ابن مریم

اتی بالهدی مثل الذی اتیا به---- فکل بامر الله یهدی ویعصم

وانکم تتلونه فی کتابکم---- بصدق حدیث لاحدیث الترجم

فلا تجعلوا الله نداً فا سلموا---- فان طریق الحق لیس بمظلم

(نجاشی کو دعوت اسلام دیتے ہوئے :)اے بادشاہ حبشہ کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مثال حضرت موسیعليه‌السلام ور حضرت عیسیعليه‌السلام کی طرح ہے_ ان دونوں کی طرح وہ بھی ہدایت کا پیغام لیکر آئے _ وہ سب بحکم خدا ہدایت کرتے ہیں اور (ہمیں شر سے) بچاتے ہیں_ تم لوگ اپنی کتاب میں اس کے بارے میں پڑھتے ہو شک وابہام کے ساتھ نہیں بلکہ صدق دل کے ساتھ_ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو اور مسلمان ہوجاؤ کیونکہ حق کا راستہ تاریک نہیں_

___________________

۱_ دو نبیوں کی بعثت کے درمیانی زمانے کو فترت کہتے ہیں یہاں مراد عیسیعليه‌السلام کے بعد کا زمانہ ہے جسے زمانہ جاہلیت بھی کہا جاتا ہے_

۱۷۴

۱۲_

فصبراً ابایعلی علی دین احمد---- وکن مظهراً للدین وفقت صابرا

وحط من اتی بالحق من عند ربه----- بصدق وعزم ولا تکن حمز کافرا

فقد سرنی ان قلت انک مومن---- فکن لرسول الله فی الله ناصرا

وباد قریشا فی الذی قد اتیته---- جهارا وقل ما کان احمد ساحرا

(اپنے بیٹے حمزہ سے مخاطب ہوکر :)اے ابویعلی (حمزہ) دین احمد پر ثابت قدم رہ اور اس کا اظہار کر خدا تجھے توفیق صبر عطا کرے گا_

اے حمزہ جو شخص اپنے رب کی جانب سے حق کے ساتھ آیا ہے اسکی حفاظت صدق دل اور عزم راسخ کے ساتھ کرو، کہیں کافر نہ ہوجانا_

اگر تم اپنے ایمان کا اقرار کرو تو یہ میرے لئے باعث مسرت ہوگا پس رضائے الہی کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کر _

قریش کے سامنے اپنے عقیدے کا کھل کر اظہار کرو اور کہو کہ احمد جادو گر نہیں_

حضرت ابوطالب کے وہ اشعار جو ان کے ایمان پر دلالت کرتے ہیں زیادہ ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ ان کے علاوہ دیگر باتوں کے تذکرے کا بھی موقع فراہم ہو جو اس موضوع کے حوالے سے کہی گئی ہیں یا کہی جاسکتی ہیں_

۵)ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھی علی ابن یحیی بطریق رحمة اللہ علیہ کہا کرتے تھے اگر نبوت کی طاقت اور پوشیدہ حقیقت کارفرما نہ ہوتی تو حضرت ابوطالب جیسے قریش کے صاحب عزت بزرگ اور سردار شخصیت اپنے اس بھتیجے کی تعریف وتمجید نہ کرتے جو نوجوان تھا، ان کی گودمیں پلا تھا ،ایک یتیم تھا جس کی انہوں نے پرورش کی تھی اوران کے بیٹے کی حیثیت رکھتا تھا اورا ن کی تعریف میں یوں رطب اللسان نہ ہوتے_

وتلقوا ربیع الابطحین محمدا

علی ربوة فی را س عنقاء عیطل

وتا وی الیه هاشم ان هاشما

عرانین کعب آخر بعد ا ول

۱۷۵

اور تم لوگ دیکھو گے کہ سرزمین حجاز کی بہار (حضرت) محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بلند و بالا اونچی گردن والے اونٹ پر نہایت نمایاں طور سے بیٹھے ہوں گے اور ان کے ارد گردہر طرف ہاشمی جوان ہوں گے کیونکہ اول سے آخر تک بنی ہاشمعليه‌السلام کے تمام افراد نہایت عالی وقار سید و سردار ہیں_

اور یہ اشعار نہ کہتے:

وابیض یستسقی الغمام بوجهه---- ثمال الیتامی عصمة للارامل

یطیف به الهلاک من آل هاشم---- فهم عنده فی نعمة و فواضل

درخشندہ چہرے والا جس کے رخ زیبا کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہگاہ اور بیواؤں کا والی و وارث ہے_ بنی ہاشم کے ستم رسیدہ افراد اسی کی پناہ چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے لئے (درحقیقت اللہ کی ) ایک بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے_

کسی ما تحت اور تابع شخص کی تعریف میں اس قسم کے اشعار نہیں کہے جاسکتے _اس طرح کی مدح سرائی تو بادشاہوں اور عظیم شخصیات کی ہوتی ہے _جب آپ اس حقیقت کا تصور کریں کہ یہ اشعار حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں ایک صاحب عزت اور عظیم شخصیت یعنی ابوطالبعليه‌السلام نے کہے ہیں جبکہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جوان تھے اور قریش کے شرسے بچنے کیلئے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی پناہ میں تھے، حضرت ابوطالب نے ہی بچپن سے آپ کی پرورش کی تھی لڑکپن کا دور آیا تو اپنے کاندھوں پراٹھاتے تھے اور جب جوان ہوئے تو اپنے ہمراہ رکھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوطالب کے مال سے کھاتے پیتے تھے اوران کے گھر میں رہتے تھے ، تب آپ کو نبوت کی حیثیت اورعظیم مقام ومرتبے کا ضروراندازہ ہوگا_(۱)

اس طرح کا مذکورہ بالا قصیدہ لامیہ(۲) جس میں انہوںنے یہ کہا تھاوابیض یستسقی الغمام بوجهه (جو بہت طویل ہے) بنی ہاشم اپنے بچوں کو یہ قصیدہ یاد کراتے تھے(۳) اس میں بہت سے ایسے

___________________

۱_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۳و ماذا فی التاریخ ج ۳ ص ۱۹۶_۱۹۷ (از اول الذکر) _

۲_ یعنی وہ قصیدہ جس کے آخر میں لام کا تکرار ہوتا ہے_ (مترجم) _

۳_ مقاتل الطالبیین ص ۳۹۶ _

۱۷۶

نکات نہاں ہیں جن سے ان کے ایمان کی صداقت کا اندازہ ہوتا ہے_ابن ہشام ،ابن کثیر اور دیگر حضرات نے اس کا تذکرہ کیا ہے_

۶)ہم نے مشاہدہ کیا کہ جوحضرت ابوطالبعليه‌السلام بادشاہ حبشہ کو دعوت اسلام دے رہے ہیں_ وہی اپنے بیٹے حضرت جعفر کو بلاکر حکم دیتے ہیں کہ اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ نماز کی صف میں شامل ہوجائے_(۱) انہوں نے اپنی زوجہ فاطمہ بنت اسد کو اسلام کی دعوت دی(۲) اور حضرت حمزہ کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی اور ان کے مسلمان ہونے پر خوشی کا اظہار کیا_ یہی حال اپنے نور چشم امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام کے بارے میں بھی تھا اور مختلف موقعوں پر ان کے کلام اور ان کے طرزعمل کی تحقیق سے مزید نکات ہاتھ آتے ہیں_

۷) حضرت ابوطابعليه‌السلام نے اپنی وصیت میں یہ تصریح کردی تھی کہ '' میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے معاملہ میں دشمنیوں کے ڈ رسے تقیہ اختیار کئے ہوئے تھا اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات کو میرا دل تو قبول کرتا تھا لیکن زبان سے انکار جاری ہوتا ''(۳) _ اور انہوں نے قریش کو رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت اسلام پر لبیک کہنے اور فرمانبرداری کرنے کی بھی وصیت کی تھی کہ اسی میں ہی ان کی کامیابی اور سعادت ہے(۴)

۸)نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بار بار خدا سے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کیلئے طلب رحمت ومغفرت فرماتے تھے اوران کی وفات سے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بے تاب ہوئے_(۵)

واضح ہے کہ کسی غیرمسلم کیلئے طلب رحمت نہیں ہوسکتی_ اسی لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سفانہ بنت حاتم طائی سے فرمایا: ''اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس کیلئے خدا سے طلب مغفرت کرتے''_(۶)

___________________

۱_ رجوع کریں: الاوائل از ابی ہلال عسکری ج ۱ ص ۱۵۴، روضة الواعظین ص ۱۴۰اور شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۶۹ ، السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۲۶۹ ، اسنی المطالب ص ۱۷ ، الاصابہ ج۴ ص ۱۱۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۲۸۷ اور الغدیر ج۷ ص ۳۵۷_ ۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۳ص ۲۷۲_

۳_ قابل تعجب بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت عمر کے کرتو توں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ ان کا دل برا نہیں تھا صرف زبان کے برے تھے اور اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے جبکہ حضرت ابوطالب کے معاملے میں ان کے تقیہ کے پیش نظر کئے ہوئے زبانی انکار کو بہانہ بناتے ہوئے انہیں کافر سمجھتے ہیں (از مترجم) ۴_ الروض الانف ج ۲ ص ۱۷۱ ، ثمرات الاوراق ص ۹۴ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۰۰تا ۳۰۱، سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۳۵۲، بحار ج ۳۵ص ۱۰۷ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۶ مختلف منابع سے_ ۵_ تذکرة الخواص ص ۸_ ۶_ السیرة الحلبیة ج ۳ص ۲۰۵ _

۱۷۷

یہ لوگ زید بن عمرو ابن نفیل (عمر بن خطاب کے چچازاد بھائی) اس کے بیٹے سعید ابن زید، ورقہ بن نوفل، قس بن ساعدہ نیز ابوسفیان (جو ہمیشہ منافقین کیلئے جائے پناہ تھا، اور جنگ احد کے حالات میں ہم اس کے کچھ صریح بیانات اور اقدامات کا تذکرہ کریں گے) وغیرہ کے بارے میں کیونکرمسلمان ہونے کا فتوی دیتے ہیں؟ یہاں تک کہ یہ لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے روایت کرتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امیہ ابن صلت کے بارے میں فرمایا: ''قریب تھا کہ وہ اپنے اشعار کے ذریعے مسلمان ہوجاتا''_(۱)

شافعی ،صفوان بن امیہ کے بارے میں کہتے ہیںکہ اس کے مسلمان ہونے میں گویا شک کی گنجائشے نہیں ہے کیونکہ جب اس نے جنگ حنین کے دن کسی کوکہتے سنا کہ قبیلہ ھوازن کو فتح حاصل ہوئی اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوگئے تو اس نے کہا تھا :''تیری زبان جل جائے واللہ قریش کا خدا میرے نزدیک ھوازن کے خدا سے زیادہ محبوب ہے''_

ملاحظہ کریں یہ لوگ ان سارے افراد کو کیونکر مسلمان مانتے ہیں جبکہ انہوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں اور اگر سمجھابھی تو قبول نہیں کیا یا یہ کہ ظاہراً مسلمان ہوئے لیکن دل کے اندر کفر کو چھپائے رکھا؟ اس کے بر عکس وہ اس ابوطالب کو کافر قرار دیتے ہیں جو کئی بار اپنے اقوال واعمال کے ذریعے خدا کی وحدانیت اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت و رسالت کا صریحاً اعلان کرتے رہے امویوں اور ان کے چیلوں کا کہناہے کہ اس شخص کے متعلق دلیلیں جتنی بھی زیادہ ہوجائیں پھر بھی اس شخص کو ہم مؤمن نہیں مانیں گے چاہے خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کیوں نہ کہیں _ پس زمانہ جاہلیت کے طاغوتوں اور سرکشوں کے نقش قدم پر چلنے والے اموی اور ان کے چیلے کتنے برے لوگ ہیں_

واضح ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا علم چار چیزوں سے ہوتا ہے_

(الف) اس کی عملی پالیسیوں سے اور یہ بھی واضح ہے کہ حضرت ابوطالب کی عملی پالیسیاں دین اسلام کے بارے میں ان کے اخلاص اور جذبہ فداکاری کی اس قدر واضح دلیل ہے کہ اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں_

(ب) شہادتین کے زبانی اقرار سے، اس حوالے سے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ان متعدد اشعار کی طرف اشارہ کافی ہے جو انہوں نے متعدد موقعوں پر کہے_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ص ۴۸_۴۹ نیز الاغانی مطبوعہ ساسی ج ۳ص ۱۹۰ اور التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۲۱۳ _

۱۷۸

(ج) اس شخص کے بارے میں نمونہ اسلام اور کارواں سالار حق یعنی نبی اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے موقف سے، چنانچہ حضرت ابوطالب کے بارے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا محبت آمیز اور پسندیدہ موقف بھی مکمل طور پر ثابت ہے_

(د) اس کے قریبی ذرائع سے ، مثال کے طور پر اس کے گھر والوں اور اس کے ساتھ رہنے والوں کے توسط سے، اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے کہ وہ (اہلبیت) حضرت ابوطالب کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_

بلکہ وہ لوگ جو حضرت ابوطالب علیہ السلام کو کافر قرار دیتے ہیں جب وہ ان کی عملی پالیسیوں کا انکار نہ کرسکے، اور نہ ان کے صریح بیانات کو رد کرسکے تو انہوں نے ایک مبہم جملے کے ذریعے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ دل سے مطیع اور فرمانبردار نہ تھے_(۱)

یہ سب اوٹ پٹانگ اور خیالی باتیں ہیں جو حق وحقیقت پر بہتان باندھنے کہ سوا کچھ نہیں تاکہ یوں ان روایات کو صحیح قرار دے سکیں جو انہوں نے مغیرة بن شعبہ اور اس جیسے دوسرے دشمنان آل ابوطالب سے نقل کی ہیں_ آئندہ صفحات میں ان کی بے بنیاد دلیلوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_

حضرت ابوطالب علیہ السلام کے احسانات کا معمولی سا حق ادا کرنے کی غرض سے یہاں ہم ان کے ایمان کی بعض دلیلیں جو زیادہ تر غیر شیعہ مآخذ سے لی گئی ہیں بیان کرتے ہیں اور دیگر متعدد دلائل کا تذکرہ نہیں کرتے کیونکہ چند مثالوں سے زیادہ بیان کرنے کی گنجائشے نہیں_

پہلی دلیل: عباس نے کہا:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوطالب کیلئے کس چیز کی آرزو کرتے ہیں؟'' فرمایا:'' میں ان کیلئے خدا سے تمام اچھی چیزوں کی آرزو کرتا ہوں''_(۲)

___________________

۱_ سیرت دحلان ج ۱ص ۴۴_۴۷ اور الاصابة ج ۴ص ۱۱۶_۱۹۹ کی طرف رجوع کریں _

۲_ الاذکیاء ص ۱۲۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۸، طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۵۱اور ۱۵۹_

۱۷۹

دوسری دلیل: حضرت ابوبکر اپنے باپ ابوقحافہ (جو بوڑھا اور نابینا تھا) کو لے کر فتح مکہ کے دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں آئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اس بوڑھے کو اپنے گھر چھوڑ آتے تاکہ ہم اس کے پاس جاتے'' _حضرت ابوبکر نے کہا:'' میں نے چاہا کہ اللہ اسے اجر دے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے کی بہ نسبت ابوطالب کے مسلمان ہونے پر زیادہ خوشی ہوئی تھی ،خدا کرے کہ اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملے''_(۱)

اگرچہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ جملے کہے ہوں_ انہوں نے اس موضوع پر نہایت عمدہ بحث کی ہے اور ہم بھی اس مسئلے میں ان کے ہم خیال ہیں_

تیسری دلیل: ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ متعدد سندوں کے ساتھ( جن میں سے بعض عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے اور بعض حضرت ابوبکر ابن ابوقحافہ سے منقول ہیں) مروی ہے کہ حضرت ابوطالب نے اپنی موت سے پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا اقرار کیا_(۲)

چوتھی دلیل: نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوطالب علیہ السلام کیلئے طلب رحمت واستغفار اور دعا کی یہاں تک کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ والوں کیلئے بارش کی دعا کی اور بارش ہوئی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوطالب کو یاد کیا اور منبر پر بیٹھ کر ان کیلئے مغفرت طلب کی(۳) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے جنازے میں شرکت کی حالانکہ ان لوگوں کی روایت کے مطابق مشرکین کے جنازے میں شرکت حرام ہے_ نیز یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ

___________________

۱_ مجمع الزوائد ج ۶ص ۱۷۴الطبرانی اور بزار سے نقل کیا ہے حیاة الصحابہ ج ۲ص ۳۴۴المجمع سے، الاصابة ج ۴ص ۱۱۶اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۶۹_

۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۷۱، الغدیر ج ۷ ص ۳۲۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۳ سے نقل کیا ہے، سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۸۷، الاصابة ج ۴ ص ۱۱۶، عیون الاثر ج ۱ ص ۱۳۱، المواہب اللدنیة ج ۱ ص ۷۱، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۳۷۲ و السیرة النبویة (از دحلان حاشیہ کے ساتھ) ج ۱ ص ۸۹، اسنی المطالب ص ۲۰، دلائل النبوة (بیہقی)، تاریخ ابوالفداء ج ۱ص ۱۲۰ اور کشف الغمة ( شعرانی) ج ۲ ص ۱۴۴_

۳_ مراجعہ ہو : عیون الانباء ص ۷۰۵_

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

۱_ حکومت فقط خداکی

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان لوگوں کے مطالبے پر ان کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حکومت ان کوملے گی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو یہ جواب دیا کہ حکومت کا فیصلہ خداکے اختیار میں ہے جسے چا ہے عطا کرے_ بالفاظ دیگر یہ بات ممکن نہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایسا وعدہ فرماتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر ہوتا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ روش عصر حاضر کے سیاستدانوں کی روش کے بالکل برعکس ہے جو خوبصورت وعدوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کتراتے_ پھر جب وہ اپنے مقاصد کو پالیتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمالیتے ہیں تو سارے وعدے بھول جاتے ہیں_

لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے باوجود اس کے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مددگاروں کی شدید ضرورت تھی بالخصوص ایسے بڑے قبیلے جو تعداد اور وسائل کے لحاظ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع اور مدد کرنے کے قابل تھے، اگرچہ یہ وعدہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے نہایت سودمند ہوتا لیکن اس کے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا وعدہ کرنے سے انکار فرمایا جس کا پورا کرنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر تھا_

(ب) ان لوگوں کے جواب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس ارشاد سے کہ حکومت اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے ، اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعیان اہلبیتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عقیدے کی تائید ہوتی ہے کہ خلافت ایسا منصب نہیں ہے جس کااختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ یہ ایک آسمانی منصب ہے جس کا اختیار فقط خداکے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے_

۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری

بدیہی بات ہے کہ اس قبیلے کی طرف سے مذکورہ طریقے پر مدد کی پیشکش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد رضائے الہی کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنا نہ تھا اور نہ ان کا یہ موقف ایمان راسخ اور پختہ عقیدے کی بنیادوں پر استوار تھا_ نیز ان میں ثواب آخرت کا شوق تھا نہ ہی عقاب الہی کا خوف_

۲۲۱

ان کے اس موقف کا بنیادی ہدف تنگ نظری پر مبنی سودا بازی تھا _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کے ذریعے عرب پر فیصلہ کی طاقت اور عزت و حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے_

بنابریں واضح ہے کہ بعد میں جب وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان کے مفادات کی حد ختم ہوچکی اور ان کے سارے مقاصد حاصل ہوچکے یا یہ کہ ان کی دنیاوی سودا بازی ناکام ہوئی ہے تو پھر ان کی حمایت بھی ختم ہوجاتی بلکہ عین ممکن تھا کہ جب وہ اپنے مفادات اور خودساختہ امتیازی حیثیت کی راہ میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رکاوٹ پاتے تو پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہی خلاف ہوجاتے_

ان باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اس قسم کا طرزفکر رکھنے والے افراد پر اعتماد کرنا اعتمادکرنے والے کو بلا اور عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث نہ سہی تو کم ازکم کسی سراب کو حقیقت سمجھنے کی مانند ضرور ہے_

۳_ دین وسیاست

بعض محققین نے ایک نکتے کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ کہ بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ فرد (بیحرہ بن فراس) کو جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے بارے میں بتایا گیا نیز ان کے ساتھ گزرنے والے واقعے سے آگاہ کیاگیا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ دین صرف عبادت گاہوں میں گھس کر ترک دنیا کرنے یانماز و دعا اور ورد و اذکار پر اکتفا کرنے کا دین نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دین ہے جو تدبیر و سیاست اور حکومت کو بھی شامل کئے ہوئے ہے_ اسی لئے اس نے کہا اگر یہ جوان (یعنی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اپنے جامع مشن کے ساتھ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا_

اس شخص سے قبل انصار کے رئیس اسعد بن زرارہ نے بھی اس نکتے کا ادراک کرلیا تھا_ جب وہ مکہ آیا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین ان کے معاشرتی مسائل کی اصلاح نیز ان کے اور قبیلہ اوس کے درمیان موجود سنگین اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بنا پر ہجرت ہوئی(۱) _

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج۱۹ ص ۹ و اعلام الوری ص ۵۷ از قمی_

۲۲۲

اس حقیقت کوتو خود ان لوگوں نے بھی سمجھ لیا تھا جنہوں نے اسلام کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ حکومت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کومل جائے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں رد کردیا تھا_

ایک طرف سے اسلام اور دعوت قرآنی کے بارے میں ان لوگوں کی فکر تھی جو انصار کے قبول اسلام اور پھر ہجرت اور ان کی بیعت (بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ) نیز بیعت کرنے والوں کیلئے ضامنوں اورنقیبوں کے انتخاب کا سبب بنی اور دوسری طرف دین و سیاست کو جدا سمجھنے والوں کی سوچ ہے اور ان دونوں میں کس قدرفاصلہ ہے_ یہ بات یقینا استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ ہے اور باہر سے در آمد شدہ مسیحی طرزفکر کا شاخسانہ ہے_

۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج

گذشتہ باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ :

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا لوگوں سے ملکر بہ نفس نفیس گفتگو فرمانااس بات کا موجب تھا کہ لوگوں کے اذہان میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کی حقیقی تصویر اتر جائے_ نیز ان بے بنیاد اور خود غرضی پر مشتمل دعووں اور افواہوں کی تردید ہوجائے جو قریش اور ان کے مددگار پھیلاتے تھے_ مثال کے طورپر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شاعر، کاہن، ساحر، اور مجنون وغیرہ کہنا_

(ب) بنی عامر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبائل کو دعوت اسلام دینا دین کی ترویج اور دور در از علاقوں تک اس کی شہرت کے پھیلنے کا باعث بنا کیونکہ فطری بات تھی کہ جب لوگ اپنے وطن واپس لوٹتے تو ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے جن کو انہوں نے اس سفرکے دوران سنا اور دیکھا تھا_ پھران دنوں مکہ میں اس نئے دین کے ظہور کی خبر سے زیادہ سنسنی خیز خبر کوئی اور نہ تھی_

حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی

کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعثت کے دس سال بعد زمعہ کی بیٹی سودہ کے ساتھ شادی کی نیز حضرت

۲۲۳

ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ سے بھی نکاح فرمایا_

ہم تاریخ اسلام میں سودہ کا کوئی اہم کردار نہیں دیکھتے، نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی زندگی میں نہ اس کے بعد، اور ان لوگوں کی ساری توجہ حضرت عائشہ پر ہی مرکوز رہی ہے یہاں تک کہ انہوں نے ماہ شوال میں عقد کرنے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ شوال میں عقد کیا تھا(۱) جبکہ خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باقی عورتوں کے ساتھ شوال کے علاوہ دیگر مہینوں میں عقد کیا تھا_ بہرحال یہاں ہم حضرت عائشہ کی شادی سے مربوط تمام اقوال و نظریات پر روشنی نہیں ڈال سکتے کیونکہ فرصت کی کمی کے باعث یہ کام دشوار بلکہ نہایت مشکل ہے_

بنابریں ہم فقط دونکتوں کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کی شادی سے متعلق ہیں_

البتہ حضرت عائشہ سے متعلق کچھ اورپہلوؤں سے آگے چل کر بحث ہوگی_ ان دونوں نکتوں میں سے ایک حضرت عائشہ کی عمر کا مسئلہ ہے اور دوسرا ان کے حسن و جمال اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کا _

۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ سے چھ یا سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا_ پھر ہجرت مدینہ کے بعد ۹سال کی عمر میں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر منتقل ہوئیں_ یہی بات خود حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے_(۲)

لیکن ہم درج ذیل دلائل کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ حضرت عائشہ کی عمر اس سے کہیں زیاہ تھی_

___________________

۱_ نزھة المجالس ج ۲ص ۱۳۷ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۹، الاصابة ج ۴ ص ۳۵۹، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۱۳، تہذیب التہذیب ج ۱۲، اسد الغابة ج ۵ اور دوسری کتب بطور مثال شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۹ ص ۱۹۰ لیکن ص ۱۹۱ پر خود اپنے کو رد کیا ہے اور کہا ہے وہ سنہ ۵۷ہجری میں فوت ہوئیں اور ان کی عمر۶۴سال ہے_ اس کا مطلب ہے ہجرت کے وقت ان کی عمر فقط سات سال تھی_

۲۲۴

(الف) ابن اسحاق نے حضرت عائشہ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ چھوٹی تھیں اور اس نے فقط اٹھارہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا_(۱)

بنابریں اگر ہم بعثت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال بھی قرار دیں تو نکاح کے وقت ان کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت بیس سال ہوگی_

(ب) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے وہ عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے_ ان دونوں اقوال کے درمیان تناقض کو دور کرنے کے سلسلے میں طحاوی کہتا ہے ممکن ہے کہ دوسری حدیث فاطمہ کے بلوغ اور اس مرتبے کی اہلیت پیدا ہونے سے قبل کی ہو جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کیلئے بیان کیا_ کچھ آگے چل کر کہتا ہے کہ ہر وہ فضیلت جو دوسری عورتوں کیلئے بیان ہوئی ہو اور فاطمہ کے حق میں اس کے ثابت ہونے کا احتمال ہو وہ ممکن ہے اس وقت بیان ہوئی ہو جب وہ چھوٹی تھیں اور اس کے بعد وہ بالغ ہوئیں_(۲)

اس سے کچھ قبل طحاوی نے قاطعانہ طور پر کہا تھاکہ وفات کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر ۲۵سال تھی_(۳)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ولادت بعثت سے دو سال قبل ہوئی جبکہ فرض یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ حد بلوغت کو پہنچیں تو اس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھوٹی بچی تھیں_(دوسرے لفظوں میں حضرت عائشہ کی

___________________

۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۷۱، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۱و ۳۲۹ابن ابی خیثمہ سے اس کی تاریخ میں ابن اسحاق سے اور البدء و التاریخ ج ۴ ص ۱۴۶ _

۲_ مشکل الآثارج ج ۱ص ۵۲ _

۳_ مشکل الآثارج ۱ ص ۴۷_بعض علماء نے عائشہ کی فضیلت سے متعلق اس حدیث کو عائشہ کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مزاح قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جملے تفضیل اور بیان فضیلت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں _ خاص کر جب ہم اس بات کو بھی خاطر نشین کرلیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھانے پینے کے معاملے میں اتنے اہتمام کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لذت سے بھر پور کھانوں کے خواہش مند تھے کہ تفضیل جیسے حساس مسئلہ پر ایسی مثال پیش کریں_

۲۲۵

پیدائشے بھی بعثت سے کئی سال قبل ہوئی یوں حضرت عائشہ وقت ہجرت کم از کم پندرہ سال کی ہوں گی_ مترجم)

(ج) ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشےہ۵۸ہجری میں چل بسیں_( بعض لوگوں کے خیال میں ۵۷ہجری میں ان کی وفات ہوئی )تقریبا ۷۰سال کی عمرمیں_(۱)

ادھر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے تین یا چار یا پانچ سال قبل ہوئی_اور ادھر حضرت عائشہ سے مروی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے شادی کی تو میں نو سال کی تھی_(۲)

ہماری گذشتہ معروضات اور اس بات کے پیش نظر کہ لفظ سبع (سات) اور تسع (نو) کے درمیان اکثر اشتباہ ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں الفاظ کے نقطے نہیں ہوتے تھے اور مذکورہ عدد بھی اسی وجہ سے مشکوک ہے نیز عام طور پر عورتیں اپنی عمر کم بتانے کی خواہاں ہوتی ہیں شاید یہی روایت حقیقت سے نزدیک ترہو_

بہرحال ابن قتیبہ کا کلام اور اس کے بعد والے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائشے یا بعثت کے سال ہوئی یا اس سے قبل البتہ ہماری معروضات کی روشنی میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے_

خلاصہ یہ کہ جب ہم مذکورہ امور کو مدنظر رکھتے ہیں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ سے بعثت کے دسویں سال نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال سے کہیں زیادہ تھی یعنی ۱۳سے لیکر ۱۷سال کے درمیان تھی_

جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ

اس مقام پر دروغ گوئی کی عجیب و غریب مثال ابوہریرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور یہیں بس گئے تو آپ نے لوگوں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میرے لئے نکاح کا بندوبست کرو_ جبرئیل جنت کا ایک کپڑا لیکر اترے جس پر ایک ایسی خوبصورت تصویر نقش تھی جس سے زیادہ خوبصورت شکل کسی نے نہ دیکھی تھی_ جبرئیل نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے یہ حکم سنایا کہ اس تصویر کے

___________________

۱_ المعارف ابن قتیبہ ص ۵۹ مطبوعہ ۱۳۹۰ھ_

۲_ رجوع کریں حدیث الافک صفحہ ۹۳_

۲۲۶

مطابق شادی کریں_ پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اے جبرئیل میں کیونکر اس جیسی صورت رکھنے والی سے شادی کرسکتا ہوں؟''_ جبرئیل نے کہا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابوبکر کی بیٹی سے شادی کریں ''_ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' اے ابوبکر خدا نے مجھے تیرا داماد بننے کا حکم دیا ہے''_ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی تین بیٹیاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا نے مجھے اس لڑکی یعنی عائشہ سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے'' _چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے شادی کی_(۱)

اس روایت کی سندپر جو اعتراضات ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ:

(الف) ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کیونکر ایسا کام کرتے جسے احترام ذات کے قائل صاحبان عقل انجام نہیں دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ اے لوگو میری شادی کرادو_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (معاذ اللہ)چھوٹے بچے تو نہیں تھے جو شرم و حیا اور عقل و شعور سے عاری ہوں_ عجیب نکتہ تو یہ ہے کہ (روایت کی رو سے) لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو سنی ان سنی کر کے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نا انصافی کی یہاں تک کہ جبرئیل نے آکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشکل حل کردی_

(ب) کیا یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ کاحسن و جمال اس قدرزیادہ تھاکہ اس سے بہتر صورت کسی نے نہ دیکھی ہو؟_ انشاء اللہ آنے والے معروضات، طالبان حق و ہدایت کیلئے کافی اور قانع کنندہ ثابت ہوںگے_

(ج) نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال قبل مکہ میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی اس سلسلے میں مورخین کا اجماع محتاج بیان نہیں_

(د) حضرت ابوبکر کی تین بیٹیا ں جن کو انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا تھا معلوم نہیں کونسی تھیں_ کیونکہ اسماء تو زبیر کی بیوی تھی جب وہ مدینہ آئی تو حاملہ تھی جس سے عبداللہ پیدا ہوا_ حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مکہ میں شادی کی اور ام کلثوم تو حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں_ان تینوں کے علاوہ تو ان

___________________

۱_ تاریخ بغداد خطیب ج ۲ ص ۱۹۴ میزان الاعتدال ذہبی ج ۳ ص ۴۴ خطیب اور ذہبی نے اس حدیث کی تکذیب کی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن حسن، الغدیر ج ۵ ص ۳۲۱_

۲۲۷

کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں_(۱)

ان باتوں کے علاوہ حضرت ابوبکرکو صدیق کا لقب انکے چاہنے والوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد دیا تھا جس کی طرف ہم غار کے واقعے میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے_

حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت

(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق)

حضرت عائشہ کے حسن وجمال اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت اور محبوبیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کاملاً نہیں توکم از کم غالباً خود حضرت عائشہ سے مروی ہے یاان کے بھانجے عروہ سے_ ہمیں تو یقین ہے کہ یہ باتیں سرے سے ہی غلط ہیں_ یہاں ہم اپنی کتاب حدیث الافک (جو چھپ چکی ہے) میں مذکور نکات کو بعض اضافوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:

(الف) حضرت عائشہ کے حسن و جمال اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس ان کی قدر و منزلت اور محبوبیت کی بات غالباً خودحضرت عائشہ سے منقول ہے جیساکہ روایات میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے توکیا یہ خوبیاں صرف عائشہ یا ان کے بھانجے کو ہی معلوم تھیں کوئی اور ان سے واقف نہ تھا ؟ _

(ب) جنگ جمل کے بعد ابن عباس جب حضرت عائشہ سے روبرو ہوئے تو انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ نہ تو وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں اور نہ خاندانی شرافت و نجابت کے لحاظ سے ممتاز تھیں(۱) نیز (جیساکہ آگے جلد ذکر ہوگا) حضرت عمر نے حضرت عائشہ کے بجائے صرف زینب کے حسن کی تعریف کی ہے_

(ج) ''علی فکری'' کہتا ہے ابن بکار کی یہ روایت ہے کہ ضحاک بن ابوسفیان کلابی ایک بدصورت آدمی تھا جب اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی تو عرض کیا:'' میری دو بیویاں ہیں جو اس حمیرا سے زیادہ خوبصورت

___________________

۱_ نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۷۵_۲۷۸_

۲_ الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۳۷ مطبوعہ ہند_

۲۲۸

ہیں (حمیرا سے مراد حضرت عائشہ ہے اور یہ واقعہ آیت حجاب کے نزول سے قبل کا ہے) کیا میں ان دونوں میں سے ایک سے دستبردار نہ ہو جاؤں تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے شادی کرلیں؟''_ اس وقت حضرت عائشہ بیٹھی سن رہی تھیں، بولیں :''اس کا حسن زیادہ ہے یا تمہارا؟'' بولا:'' میرا حسن اور مرتبہ اس سے زیادہ ہے''_جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت عائشہ کے اس سوال پر ہنس پڑے (کیونکہ وہ شخص نہایت بدصورت تھا)_(۱)

(د) اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ عباد بن عوام نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا: '' حضرت عائشہ کیسی تھیں ؟ ''اس نے کہا : ''وہ کالی تھیں'' یحیی نے کہا : '' ہم نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا : '' ہاں'' پوچھا : '' کیسی تھیں ؟ '' کہا : '' کالی تھیں''(۲) پس یہ جو کہاجاتاہے کہ وہ گلابی رنگت کی تھیں اور پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے جملہ'' یا حمیرا'' کو بطور ثبوت پیش کیا جاتاہے یہ سب مشکوک ہوجائے گا_ اور شاید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کا حضرت عائشہ کو حمیرا کہنا ملائمت اور دلجوئی کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ چونکہ عربوں کی مثال ہے''شر النساء الحمیرا ء المحیاض'' (۳) سب سے بری عورت زیادہ، ماہواری کا خون دیکھنے والی عورت ہے _ اسی لئے عائشہ کے لئے جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مذاق میں یہ لفظ استعمال فرماتے ہوں_

(ھ) جو شخص ازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ جان لیتا ہے کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج اور لونڈیوں سے حسد کرتی تھیں اور اس بات کا بھی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ساری بیویاں نہ سہی تو کم از کم ان کی اکثریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے زیادہ قدر و منزلت رکھتی تھیں_ اگرچہ ہم یہ دعوی نہ بھی کریں کہ وہ حسن و جمال میں بھی حضرت عائشہ سے آگے تھیں_ کیونکہ فطری بات ہے بدصورت آدمی خوبصور ت آدمی سے حسد کرتا ہے_ رہا خوبرو آدمی تو اسے بدشکل شخص سےحسد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے_ اسی طرح یہ بھی انسانی طبیعت کے خلاف ہے کہ وہ خوبرو شخص کے مقابلے میں بدصورت کی طرف زیادہ مائل ہو_ چنانچہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کی ماں کایہ قول نقل ہوا ہے''اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی

___________________

۱_ المسیر المھذب ج ۲ ص ۸_۹_ ۲_ الضعفاء الکبیر عقیلی ج۲ ص ۱۵۵_

۳_ علامہ زمخشری کی ربیع الابرار ج۴ ص ۲۸۰ و روض الاخیار ص ۱۳۰_

۲۲۹

خوبصورت عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں لیکن وہ اس کے خلاف باتیں نہ بنائیں''_

اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قدر و منزلت رکھتی تھیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسروں سے زیادہ ان کو چاہتے تھے تو پھر دوسری بیویوں سے نفرت کرنے اور حسد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ حسد تو ہمیشہ اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس سے خود حاسد محروم ہو_ حاسد چاہتا ہے کہ محسود اس چیز سے محروم ہوجائے اور وہ خود اسے حاصل کرلے_

ذیل میں ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے خلاف حضرت عائشہ کے حسد کے بعض نمونے پیش کریں گے_

۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی عورت سے اتنی نفرت نہیں کی جس قدر خدیجہ سے کی ہے_ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں نے اس کے ساتھ زندگی گزاری ہو بلکہ یہ تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں زیادہ یاد کرتے تھے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی گوسفندبھی ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بطور ہدیہ بھیجتے تھے_(۱) یہ قول مختلف عبارات میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہے_

ایک دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ کاذکر کیا تو ام المومنین عائشہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:'' وہ تو بس ایک بوڑھی عورت تھی جس سے بہتر عورت خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو عطاکی ہے''_ مسلم کے الفاظ یہ ہیں ''جس کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذکر کرتے ہیں وہ تو قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا تھی_ جس کے لبوں کے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے _ خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے''_ یہ سن کر

___________________

۱_ صحیح بخاری ج ۹ ص ۲۹۲ اور ج ۵ ص ۴۸ اور ج ۷ ص ۴۷ اور ج ۸ ص ۱۰ صحیح مسلم ج ۷ ص ۳۴_۱۳۵ اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸، المصنف ج ۷ ص ۴۹۳، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۸۶ صفة الصفوة ج ۲ ص ۸، بخاری و مسلم سے، تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۱۵۳البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸_

۲۳۰

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرکے اگلے بال کھڑے ہوگئے_ پھر فرمایا :''خدا کی قسم ایسانہیں، اللہ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا ...''_(۱)

عسقلانی اور قسطلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں سے حسد کرتی تھیں لیکن حضرت خدیجہ سے ان کا حسد زیادہ تھا_(۲)

مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو حضرت خدیجہ کی زندگی کے بعد حضرت عائشہ کی حالت ہے_ پتہ نہیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیا حال ہوتا؟ نیز جب ام المومنین کے حسد نے مُردوں کوبھی نہ چھوڑا تو زندوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسا رہا ہوگا؟

۲_ زینب بنت جحش

حضرت عائشہ نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے زینب ہی فخرمیں اس کا مقابلہ کرتی تھی_نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے زینب سے شادی کا ارادہ کیا تو دور و نزدیک کے لوگوں نے اس کی خبرلی کیونکہ اس کے حسن و جمال کی خبر ان تک پہنچی تھی_(۳)

مغافیر کے مشہور واقعے میں حضرت زینب کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی کہانی مشہور ہے_یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ یہی واقعہ آیہ تحریم(۴) کے نزول کا باعث بنا ہے_ اگرچہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ تحریم کسی اور مناسبت سے نازل ہوئی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۳۴ لیکن اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جواب ذکر نہیں کیا، اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸ نیز ص ۵۵۷ و ۵۵۸ ،الاصابة ج ۴ ص ۲۸۳ استیعاب ج ۴ ص ۲۸۶، صفة الصفوة ج ۲ ص ۸مسند احمد ج ۶ ص ۱۱۷بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ مطبوعہ ۱۳۰۹ ہجری ، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸ نیز اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ص ۹۶_

۲_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۰۲، ارشاد الساری ج ۶ ص ۱۶۶ و ج ۸ ص ۱۱۳ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۳۱۴ و طبقات ابن اسد ج ۸ ص ۷۲ و در المنثور ج ۵ ص ۲۰۲ ابن سعد و حاکم سے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۶ نیز حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۱ از بخاری و مسلم_

۲۳۱

حضر ت عمر ابن خطاب نے بھی زینب بنت جحش کے جمال کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے کہا '' نہ تمہیں عائشہ والا مرتبہ حاصل ہے اور نہ زینب والاحسن_''(۱) یعنی اگر حضرت عائشہ کے پاس حسن ہوتا تو اسے حضرت زینب پر ضرور مقدم کیا جا تا البتہ ہمیں پہلے جملے میںبھی شک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی ام المومنین کے ساتھ ایک سیاست تھی یا راویوں نے اپنی خواہشات کے تحت اس کا اضافہ کیا ہے(۲) _ اس کی وجہ پہلے بیان شدہ حقائق ہیں اورآئندہ بھی اس بارے میں گفتگو ہوگی_

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت زینب کو بہت پسند فرماتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکثر اس کانام لیاکرتے تھے_(۳)

۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ

حضرت ام سلمہ سب سے زیادہ با جمال تھیں_(۴)

امام باقرعليه‌السلام سے مروی ہے کہ (ام سلمہ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں_ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے بارے میں مغافیر کا واقعہ ام سلمہ کی وجہ سے پیش آیا_(۵) خود حضرت عائشہ کا بھی اعتراف ہے کہ ام سلمہ اور زینب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب تھیں_(۶)

حضرت عائشہ کہتی ہیں:'' جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تومیں اس کے حسن کے بارے میں ملنے والی خبروں کے باعث سخت محزون ہوئی اور میری پریشانی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ جب

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۳۷_۱۳۸_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۳و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۴۷ _

۳_ المواھب اللدنیة ج ۱ص ۲۰۵و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲ _

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۲۲در المنثور ج ۶ص ۲۳۹ _

۵_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۱ _ ۶_ الاصابہ ج۴ ص ۴۵۹ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۶۶_

۲۳۲

میں نے اسے دیکھا تو جیسے سنا تھا اس سے کئی گنا زیادہ حسین پایا''_(۱) ابن حجر نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ غیرمعمولی حسن اور عقل رکھتی تھیں_(۲)

۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب

ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں:'' وہ حسین ترین عورتوں میں سے تھیں''_(۳) جب وہ مدینہ آئیں تو مدینہ کی عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھنے کیلئے آئیں_ حضرت عائشہ بھی نقاب اوڑھے ان کے ہمراہ تھیں_ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اے عائشہ اسے کیسا پایا ''تو وہ بولیں:'' ایک یہودیہ پایا''_ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ کو اس امر سے منع فرمایا_(۴) جب وہ قید ہوئی تھیں تو لوگ ان کی تعریف کرنے اور کہنے لگے:'' ہم نے ایسی عورت کو قید میں دیکھا جس کی مانند کسی کو نہیں دیکھا تھا_''(۵) جب حضرت صفیہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں کھانے کا ایک ظرف بھیجا (اس وقت آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے) تو حضرت عائشہ لرزنے لگی یہاں تک کہ ان کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے اس برتن کو ٹھوکر ماری اور دور پھینک دیا_(۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے متعلق تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ عائشہ اور حفصہ سے بہت بہتر ہے(۷)

۵_ جویریہ بنت حارث

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پر کشش اور خوبصورت عورت تھیں جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تو اس کا دل

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ص ۴۵۹_ ۲_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ و ۴۶۳ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۷ _

۳_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ اور طبقات ابن سعد ج ۸ص ۹۰ _ ۴_ و طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۸ _

۵_ مسند احمد ص ۲۷۷ ج ۶ بخاری باب الغیرة ، باب النکاح کے ذیل میں لیکن اس میں حضرت عائشہ کا نام نہیں لیا گیا_

۶_ اسد الغابہ ج۵ ص ۴۹۱_ ۷_ الاصابہ ج۴ ص ۲۶۵ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۴ ص ۲۵۹ نیز صفة الصفوة ج۲ ص۵۰_

۲۳۳

موہ لیتی تھیں_ وہ لکھنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آتی تھیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں :''خدا کی قسم جونہی میں نے اسے دیکھا نفرت کا احساس ہوا اور اپنے دل میں کہا، اس کی جو خصوصیت میں نے دیکھی ہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی دیکھیں گے_ پھر جب وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس پہنچی ''(۱)

۶_ ماریہ قبطیہ

حضرت عائشہ کا کہنا ہے :''میں نے ماریہ قبطیہ سے زیادہ کسی کے ساتھ حسد نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خوبصورت اورگھونگھر یالے بالوں والی تھی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو وہ پسند آگئی_ جب وہ پہلی مرتبہ آئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو حارثہ بن نعمان کے گھر رکھا_ یوں وہ ہماری ہمسایہ بن گئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شب و روز اس کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کے پیچھے پڑگئے اور وہ خوفزدہ ہوگئی اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے عالیہ کے ہاں بھیج دیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس وہاں جایا کرتے تھے_ یہ بات ہمارے اوپر اور زیادہ سخت گزری''_(۲)

امام باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماریہ کو چھپا دیا تھا_ یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج پر گراں گزری اور ان سے حسد کرنے لگیں البتہ حضرت عائشہ کی طرح نہیں''_(۳)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ماریہ کو پسند فرماتے تھے _وہ گھونگھر یالے بالوں والی(۴) سفید، حسین اور نیک سیرت خاتون تھیں_(۵) انصار کے درمیان ابراہیم کو دودھ پلانے کے بارے میں کھینچا تانی ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ حضرت ماریہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت کیلئے دیگر کاموں سے فارغ البال رہے کیونکہ وہ ماریہ کے بارے میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلچسپی سے

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۵۳بدایہ و نہایہ ج ۳ ص ۳۰۳_۳۰۴ و وفاء الوفاء سمھودی ج ۳ ص ۸۲۶ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۱قسم ۱ ص ۸۶ سیرت حلبیہ ج ۳ ص ۳۰۹ _ ۳_ طبقات ابن سعد ج ۱حصہ ۱ ص ۸۶ اور الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵ _

۴_ تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۵ و طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۱ ص ۸۶ اور البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۰۳ _

۵_ ذخائر العقبی ص ۵۴ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۱ ص ۴۲ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۵۳_

۲۳۴

سے آگاہ تھے_(۱)

ماریہ سے حضرت عائشہ کے حسد میں اضافے کی ایک وجہ شاید ماریہ کا ابراہیم کو جنم دینا ہو_ یہاں تک کہ انہوں نے جسارت کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور ابراہیم کے درمیان شباہت کی نفی کی اس کے باوجود کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلے میں بہت تاکید اور اصرار کیا تھا(۲) _ بات یہاں تک بڑھی کہ آیہ تحریم کے نزول کی نوبت آئی جیساکہ سیوطی وغیرہ نے ذکر کیا ہے_

۷_ سودہ بنت زمعہ

حضرت عائشہ کہتی تھیں عورتوں میں فقط سودہ بنت زمعہ سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میں چاہتی ہوں، کاش اسکی کھال کے اندرمیں ہوتی، اسکی خامی بس یہ ہے کہ وہ حاسد ہے_(۳)

نیز اس کرتوت کا بھی مطالعہ فرمائیں جو حضرت حفصہ نے حضرت سودہ کے ساتھ کیا تھا اور جس پر حضرت عائشہ اور حفصہ دونوں حضرت سودہ پر ہنستیں اور مذاق اڑاتیں(۴)

۸_ اسماء بنت نعمان

حضرت اسماء اپنے زمانے کی خوبصورت ترین اور جوان ترین عورت تھی_ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اسماء سے حسد کرتی تھیں_ انہوں نے اسماء کے خلاف سازش کی_ سازش حضرت عائشہ اور حفصہ نے ملکر کی یہاں تک کہ اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے طلاق دے دی_(۵)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج۱ ص ۸۸ ، الدرالمنثور ج۶ ص ۲۴۰ از ابن مردویہ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ از بلاذری، السیرة الحلبیہ ج۳ ص ۳۰۹ ، مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۹ ، تلخیص مستدرک (اسی کے حاشیہ پر ) بیہقی نیز تاریخ یعقویب ج۲ ص ۸۷ مطبوعہ صادر_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۷ البدایة و النہایة ج ۸ ص ۷۰_ ۳_ حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۶۰ اور مجمع الزوائد ج۴ ص ۳۱۶_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۰۴ تاریخ اسلام ذہبی ج ۲ ص ۴۱۵_۴۱۶ سازش کرنے والی کا نام نہیں آیا_

۵_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۰۶ اور تاریخ الاسلام ذہبی ج۲ ص ۴۱۶_

۲۳۵

۹_ ملیکہ بنت کعب

وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی بنا پر معروف تھیں_ حضرت عائشہ نے اس کے پاس آکر کہا:'' تجھے اپنے باپ کے قاتل سے شادی کر کے شرم نہیں آئی؟''_اس نے خدا کے ہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے پناہ مانگی_ چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھی طلاق دے دی_(۱)

۱۰_ ام شریک

اس خاتون نے اپنے نفس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے وقف کیا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا تب حضرت عائشہ نے کہا:'' جو عورت اپنے نفس کو کسی مرد کیلئے وقف کر دے اس میں کوئی بھلائی نہیں''_ ام شریک نے کہا:'' پھر میں وہی عورت ہوں''_ پس خدا نے اسے مومنہ کے نام سے یاد کیا اور فرمایا:( وامرا ة مومنة ان وهبت نفسها للنبی ) یعنی اگر کوئی مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کیلئے وقف کردے_ جب یہ آیت اتری تو حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو جلد پورا کرے گا''_(۲)

۱۱_ شراف بنت خلیفہ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بنی کلاب سے ایک عورت کی خواستگاری فرمائی اور حضرت عائشہ کو بھیجا تاکہ اسے دیکھے چنانچہ وہ گئیں اور واپس آگئیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اسے کیسا پایا؟''_حضرت عائشہ بولیں:'' کوئی کام کی چیز نہیں پائی''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' بتحقیقتونے اسے کام کی عورت پایا ہے_ تو نے اس کے چہرے پر خال دیکھا ہے جس سے تیرے بدن کے سارے بال کھڑے ہوگئے (یعنی تیرے اوسان خطا ہوگئے)''_ پس وہ بولیں:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی''_(۳)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۲ _ ۲_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۱۵_

۳_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۵ _

۲۳۶

۱۲_ حفصہ بن عمر

بلکہ عائشہ تو اپنی سہیلی حفصہ سے بھی حسد کرتی تھی _ اور کہا جاتاہے کہ واقعہ مغافیر ان دونوں کے درمیان پیش آیا تھا(۱) _

نتیجہ

یہ تھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کے ساتھ حضرت عائشہ کا رویہ _ مذکورہ مشکلات کا قابل ملاحظہ حصہ بظاہر ان ازواج کے حسن و جمال کے باعث حضرت عائشہ کاحسد تھا (جیساکہ بیان ہو چکا ہے) حضرت عائشہ کی پیداکردہ مشکلات اور ان کے تجاوزات کادسواں حصہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی اور زوجہ کے بارے میں دیکھنے میں نہیں آتا سوائے ایک یا دو روایتوں کے جو خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیویوں میں سے فقط حضرت عائشہ نے (بغض و حسد اور مشکلات کا) جو طوفان مچا رکھا تھا وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس کے پیچھے ایک خاص وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ان ازواج کے مقابلے میں احساس کمتری یا احساس محرومیت کا شکار تھی، کم ازکم حسن و جمال کے معاملے میں_

ان حقائق کے پیش نظر عروہ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے مذکور ان تمام دعوں اور روایات کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے جن سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے نزدیک عائشہ کے مقام و مرتبے کا اظہار ہوتا ہے اور اگر ساقط نہ بھی ہوں تو کم از کم یہ دعوے اور روایات مشکوک ضرور ہوجاتی ہیں_

رہی واقعہ افک والی بات تو وہ بھی باطل ہے_ ہم نے اس مسئلے کے بارے میں ایک الگ کتاب لکھ کر تفصیلی بحث کی ہے_ یہ کتاب کچھ ہی مدت پہلے چھپ چکی ہے_

یہاں پر یہ آخری نکتہ بھی بیان کرتے چلیں کہ (اہل سنت کی کتابوں میں)حضرت عائشہ سے ایسی بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ( ان کے بقول) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ بوس و کنار، حالت حیض میں (نعوذ باللہ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس کے ساتھ ہم بستری اور دونوں کے ایک ہی برتن میں غسل

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۲ از بخاری ، مسلم و تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۸۷ نیز از جمع الفوائد ج۱ ص ۲۲۹ و از طبقات ابن سعد ج۸ ص ۸۵_

۲۳۷

کرنے کا ذکر ہے_ اور دیگر ایسی احادیث بھی مذکور ہیں جن میں( معاذ اللہ) جنسیات، دل ربائی اور لطف اندوزی کا رنگ پایا جاتا ہے _ جبکہ (اہل سنت کے منابع میں) حضرت عائشہ کے علاوہ دیگرازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس قسم کی حادیث بہت ہی کم دیکھنے کو ملیں گے _ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط نہیں تھے_ کیونکہ اس کی نہ تو ذہنی، ثقافتی اور عملی سطح اتنی تھی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشہ کے درمیان پل کا کام کرتی اور جس کے ذریعہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اور مضبوط بناسکتی اور نہ ہی اس کے اغراض ،اہداف اور مقاصد، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اغراض ، اہداف اور مقاصد سے میل کھاتے تھے_

اور اس کے بعد

ان عرائض کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت عائشہ کی جسارتوں، زیادتیوں نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی حضرت علیعليه‌السلام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے حوالے سے اس کی ایذا رسانیوں کو سہنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت عائشہ کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ان تمام تلخیوں پر صبر سے کام لیتے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر تھا گھریلو یا ازدواجی ماحول کے تقاضوں کے مطابق نہیں_ اس امر کی تائید حضرت عمر کی اس بات سے ہوتی ہے جوانہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے کہی_ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے خلاف ایکا کرلیا تھا_ اور آنحضرت نے (جواباً) اپنی تمام بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی_ حضرت عمر نے حفصہ سے کہا تھا:'' اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تجھے نہیں چاہتے_ اگر میں نہ ہوتا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تجھے طلاق دے دیتے''_(۱)

یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ اس دور میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حقیقت کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو کیونکہ (دور خلفا میں) سرکاری مشینری نے حضرت عائشہ کی رکاب تھام رکھی تھی اور ان کی قدر و منزلت کو بڑھانے میں مصروف تھی کیونکہ سرکاری مشینری حضرت عائشہ سے زبردست فائدے حاصل کررہی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۸۹،اس کی مزید وضاحت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کثرت ازواج کے سبب کی گفتگو میں آئیگی جو واقعہ احد سے پہلے کی بحث ہے_

۲۳۸

ان کے مقام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان کیلئے تمغوں (خودساختہ کارناموں) کا ڈھیر لگانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اور با قاعدہ سازش کارفرماتھی_ اور حضرت عائشہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم سے اپنی زوجیت اور ام المؤمنین کے لقب سے حد سے زیادہ فائدہ اٹھارہی تھیں_ اسی طرح وقت کی حکومتوں کی ضروریات سے بھی نامحدود فوائد حاصل کررہی تھیں_ یہ تمام باتیں، ہمارے لئے اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ کیوں حضرت عائشہ لوگوں کے درمیان ( اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کے کنوارے پن کی بناپر اس سے شادی کی ہے ) اپنے آپ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کی نسبت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ قریب اور با اثر مشہور کرتی تھیں_

مدینے میں دخول اسلام

مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ مدینے میں سب سے پہلے اسلام کب داخل ہوا؟ پہلا مسلمان کون تھا؟ اور کیسے اسلام وہاں پہنچا؟ لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں اسلام کا ورود کئی مرحلوں پر مشتمل ہے_ سب سے پہلے اسعد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد القیس مسلمان ہوئے_ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان شعب ابیطالب میں محصورتھے _اس کے بعد پانچ یا آٹھ یا چھ افراد مسلمان ہوئے_ پھر عقبہ کی پہلی بیعت ہوئی اور بعدازاں عقبہ کی دوسری بیعت_ مغلطای وغیرہ کے بیانات سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے_(۱)

اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اسعد بن زرارہ خزرجی اور ذکوان بن عبد القیس خزرجی ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ آئے اس وقت قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابیطالب میں محاصرہ کر رکھا تھا_ ان کے آنے کا مقصد قبیلہ اوس کے خلاف عقبہ بن ربیعہ کو اپنا حلیف بنانا تھا لیکن عقبہ نے انکار کیا اور کہا: ''ہمارے اور تمہارے گھروں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور ہم ایسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے''_ جب اس مشکل کے بارے میں سوال ہوا تو عقبہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

___________________

۱_ سیرة مغلطای ص ۲۹ _

۲۳۹

نے ان کے جوانوں کو خراب اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے_ پھر عقبہ نے اسے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رابطہ سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساحر ہیں اور اپنے کلام سے اس کو مسحور کردیں گے_ پھر اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ طواف کے دوران اپنے کانوں میں روئی ڈال لے تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بات سنائی نہ دے _اس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ حجر اسماعیل میں بیٹھے ہوئے تھے_ یہ لوگ ایام حج میں خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے شعب ابیطالب سے خارج ہوئے تھے_

اسعد طواف کیلئے آیا اور اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو حجر اسماعیل کے پاس تشریف فرما دیکھا_ اس نے سوچا مجھ سے زیادہ جاہل کون ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے سے آگاہ ہوئے بغیر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں اور ان کو اس سلسلے میں کچھ نہ بتاسکوں؟ چنانچہ اس نے روئی اپنے کانوں سے نکال کردور پھینک دی_ پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ گفتگو کی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اسے دعوت اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگیا_ اس کے بعد ذکوان نے بھی اسلام قبول کرلیا_

ایک اور روایت کہتی ہے کہ جب اسعد بن زرارہ نے ذکوان کے ساتھ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ سے عرض کی:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے والدین آپ پر فدا ہوں، میں یثرب کا باشندہ ہوں اورقبیلہ خزرج سے میرا تعلق ہے_ اوسی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہیں_ شاید خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ہمارے تعلقات کو بحال کردے، میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سب سے زیادہ صاحب شرف پاتا ہوں_ میرے ساتھ میری قوم کا ایک فرد موجود ہے_ اگر وہ اس دین میں داخل ہوا تو مجھے امید ہے کہ خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ہماری مشکل کو حل کردے گا_ اللہ کی قسماے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم یہودیوں کی زبانی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں سنتے آئے تھے وہ ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کی خوشخبری دیتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات و علامات بتاتے تھے_ مجھے امید ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دار ہجرت ہمارے ہاں ہوگا_یہودیوں نے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے_ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچایا_ اللہ کی قسم میں تو اسلئے آیا تھا کہ قریش کو اپنا حلیف بنالوں لیکن اللہ نے اس سے بہتر چیز عطا کی''_

اس کے بعد ذکوان آیا_ اسعد نے اس سے کہا :''یہ اللہ کا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کے بارے میں یہودی ہمیں خوشخبری دیتے تھے اور اس کی صفات و علامات بیان کرتے تھے، آؤ مسلمان ہوجاؤ''_ یہ سن کر ذکوان بھی

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417