الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209865 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

دوسری جلد

مؤلف: جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)

مترجم:

معارف اسلام پبلشرز

۳

مؤلف: علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ)

مترجم:معارف اسلام پبلشرز

ناشر:نور مطاف

جلد: دوسری

اشاعت:دوم

تاریخ اشاعت:شوال المکرم ۱۴۲۵ ھ _ق

تعداد: ۲۰۰۰

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہیں _

۴

بسم الله الرحمن الرحیم

و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین

و لکم فی رسول الله اسوة حسنة

مقدمہ

عالم خلقت میں برترین اور کامل ترین طرز زندگی کا نمونہ بوستان زندگی کے وہ گل ہیں جن کی سیرت پورے عالم کیلئے پیروی کابہترین نمونہ ہے _ اس گلستان میں سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز اور درخشندہ ہستی پیغمبر اکرم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات مبارکہ ہے کہ پیروی اور اطاعت کیلئے ان سے زیادہ بہتر ہستی پوری کائنات میں نہیں مل سکتی _

یہ کتاب'' الصحیح من سیرة النبی الاعظم '' ، علامہ محقق جناب حجة الاسلام والمسلمین سید جعفر مرتضی عاملی (ادام اللہ توفیقاتہ) کی قیمتی اور گراں بہا تالیف ہے جس میں ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ کو بیان کیا گیاہے_

اس کتاب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤںپر تحقیقی گفتگو کی گئی ہے اور انہیں دقیق و منصفانہ تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ خود غرضی، تنگ نظری اور محدود فکری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر تحقیق کے روشن و منور مقام پر لاکر منظر عام میں پیش کیا گیا ہے _ علامہ موصوف کی یہ کتاب اہل تحقیق حضرات کیلئے باعث حیرت و دلچسپی واقع ہوئی ہے اور ان کی جانب سے علامہ کی اس کاوش کی تعریف و توصیف کی گئی ہے اور یہ کتاب عالم اسلام میں بہت مقبول ہوئی ہے _

۵

معارف اسلام پبلشرز خداوند متعال کا شکرگزار ہے کہ اپنے اصل فرائض (یعنی اردو زبان جاننے والوں کی ضروریات کے مطابق،اخلاق ، عقائد، فقہ، تفسیر، تاریخ اور سیرت جیسے اہم اور ضروری موضوعات پر مختلف کتابوں کے ترجمہ اور نشرو اشاعت کے فرائض)کو انجام دیتے ہوئے، ایک طولانی انتظار کے بعد اللہ تعالی کی توفیق سے اس کتاب '' الصحیح من سیرة النبی الاعظم'' کی دوسری جلد کو اہل تحقیق و مطالعہ اور حق کے متلاشی افراد کی خدمت میں پیش کررہاہے _ امید ہے کہ یہ کوشش خداوند متعال کی بارگاہ اور ولی خدا امام زمانہ حضرت حجة ابن الحسن العسکری (عج) کے نزدیک مقبول قرار پائے_

آخر میں اس نکتہ کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہیں ہے کہ یہ ترجمہ عربی متن کی آخری چاپ کے ساتھ کاملا مطابقت رکھتاہے اور اس کے مطالب وموضوعات کی ترتیب میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں اور منابع کی تکمیل کی گئی ہے اس ترجمہ میں ان کا مکمل خیال رکھا گیا ہے لہذا ہم ان تمام فاضل شخصیات اور محققین محترم کے تہ دل سے شکرگزار ہیں جنہوں نے اسکے ترجمے، تصحیح ، نظر ثانی اور بالخصوص مطابقت والے طاقت فرسا کام کو انجام دیا ہم خداوند عالم سے اپنے اور ان کے لئے مزید توفیقات اور امداد کے طالب ہیں_

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

معارف اسلام پبلشرز

۶

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدلله رب العالمین، الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین، ایاک نعبد

و ایاک نستعین، اهدنا الصراط المستقیم

والصلاة والسلام علی محمد المصطفی، خاتم الأنبیاء والمرسلین،

وآله الکرام البرزة الطیبین الطاهرین

واللعنة علی أعدائهم أجمعین، من الأولین والآخرین ، الی یوم الدین و بعد

چند اہم نکات

ہم اپنی اس تحقیق و تالیف کو محترم قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں لہذا چند اہم نکات کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں_

۱ _ اکثر و بیشتر ، بنیادی طور پر ہم نے اپنی اس کتاب میں قدماء کی تالیفات کو پیش نظر رکھا اور ان کی جانب رجوع کیا ہے_ ہم عصر مؤلفین کی کتابوں کی جانب کم رجوع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کتابیںصرف مطالب اور ابواب کی ترتیب میں فرق کے ساتھ عموماً اسلاف کے مطالب کا تکرار ہیں ، اور پھر اسلاف کے مطالب ہی کی توجیہ اور اس پر گفتگو کی گئی ہے _ انہوں نے اپنی ساری کوششوں کو اس بات میں صرف کیا ہے کہ حسین عبارتوں اور پر کشش کلمات کے ذریعہ اسلاف کے لکھے ہوئے مطالب کی تایید اور اسی پر تاکید کی جائے اور ان مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں انہوں نے کوئی غور و فکر ہی نہیں کیا اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی تحقیق انجام نہیں دی _یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے قارئین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گویا اسلاف کے یہ مطالب جو انہوں نے حسین اور عمدہ عبارتوں میں بیان کئے ہیں وحی الہی ہیں جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائشے نہیں _

۷

چاہے یہ مطالب جتنا بھی آپس میں متضاد و متناقض ہوں پھر بھی ان سب کو جمع کرنا انہوں نے ضروری سمجھا اور اس کیلئے ایسی توجیہات تراشی ہیں جنہیں عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی انسان کا ضمیر اسے قبول کرتاہے _ اس کے علاوہ اسلاف کے جن مطالب کی وہ توجیہ نہیں کر سکے یا کسی طرح ان کی متضاد باتوں کو جمع کرنے میں ناکام رہے ہیں وہاں انہوں نے خاموشی اختیار کی اور یہ اعتراف کیا ہے کہ یہاں حقیقت حال کو سمجھنے سے وہ عاجز و قاصر ہیں اور یہ ایمان کی انتہائی کمزوری ہے _

۲ _اس کتاب میں ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ ان تمام مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں تحقیق کریں جن کے تاریخ اسلام اور سیرت نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہونے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن یہ تحقیق ہماری اس مختصر تصنیف کے مطابق کی گئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ بقدر امکان قارئین کو اس تاریخی دور کے حقائق سے تقریباً نزدیک کردیا جائے جو انتہائی نازک اور حساس واقعات سے پر نظر آتاہے_ یہ وہ دور ہے جو بنیادی طور پر ہمیشہ اہل دنیا، نفس پرست و منفعت طلب افراد اور متعصب لوگوں کی نظر میں بڑی اہمیت کا حامل رہاہے _

بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ تاریخ انسانیت کا سب سے اہم ترین اور خطرناک ترین دور گزرا ہے کیونکہ اس دور نے نہ فقط انسانی معاشرے کی غلط بنیادوں اور تمام انسانوں کی جاہلانہ اقدار و رسومات کی اصلاح کی بلکہ بنی نوع انسان کی تاریخ کو یکسر بدل کر ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا_ اگر چہ اس دور کی تاریخ کو رقم کرنے کیلئے حقیقتاً انتہائی زحمت و مشقت کی ضرورت ہے لیکن اس کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر (خصوصاً اس صورت میں کہ تمام جوانب سے بحث کامل نہیں )ہم نے اس کام کو انجام دینے کی سعی و کوشش کی ہے اگر چہ ناقص ہی سہی البتہ_ ہماری یہ کوشش و کاوش ، اہم تاریخی و اقعات اور حوادث کو گہرائی کے ساتھمکمل طور پر تحقیقی انداز میں سمجھنے کی جانب پہلا قدم اور سنگ میل ہے _

۳ _ اس کتاب میں مکمل طور پر تمام پہلوں سے بحث کرنے کی روش میں ممکن ہے کبھی قارئین نقائص پائیں اور نشیب و فراز کا مشاہدہ کریں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب ایک طولانی عرصہ میں ترتیب دی گئی ہے اور اس اثناء میں انسان کی بہت ساری مصروفیات مانع ہوجاتی ہیں کہ وہ اپنے وقت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے کام کو کامل ، افضل اور بے مثال طریقہ سے انجام دے سکے _ طبیعی ہے، کہ طولانی مدت میں انسان پر عارض ہونے والے مختلف حالات واضح طور پر انسان کی تحریر پر اثر انداز ہونے کا باعث بنتے ہیں اور نتیجتاً اس کی جانب سے پیش کئے جانے والے مطالب اور ان کے بیان کرنے کی روش میں تھوڑا سا تفاوت پایا جائے _

۸

۴ _ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ تاریخ اسلام نے بہت سے ایسے واقعات نقل کئے ہیں جنہیں ہوا و ہوس کی پیروی کرنے والوں اور سیاسی و مذہبی مفاد پرستوں نے اپنا کھلونا بنالیا _ اہل کتاب اور دیگر افراد کی جانب سے بھی بعض جھوٹے ، باطل اور من گھرٹ قصے شامل کردئے گئے اور پھر گناہ گار اور دشمن عناصر کی جانب سے تاریخ میں تحریف اور تبدیلی کی کوششیں کی گئی ہیں جن کی بناپر بعض اوقات حقائق تک پہنچنا،ناممکن نہ سہی تو حد درجہ دشوار ضرور ہوجاتاہے _ لہذا ہم نے مندرجہ ذیل نکات اور اصولوں کو اپنانا ضروری سمجھا_

الف: خاص قسم کی تالیفات اور مؤلفین پر انحصار کرنا کبھی کبھی سبب بنتاہے کہ قارئین ان نصوص کے بارے میں مطلع نہ ہوسکیں جو یہاں وہاں مختلف منابع میں پھیلی ہوئی ہیں اور حقائق سے پردہ اٹھاسکتی ہیں اور ایک حد تک تحریف سے بچ کر ہم تک پہنچی ہیں _کیونکہ تحریف گر سیاست دانوں نے ان میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا اور مذہبی تعصب رکھنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نظر نہ آیا اور وہ روایات ہم تک پہنچ گئیں اور حقیقت کے متلاشی اور حق شناسی کے عاشق( جو اگر چہ بہت کم ہیں لیکن وہ )متعصبین کے شر و سازش او رپیشہ ور بلوائیوں کے غضب و شرارت سے محفوظ و مامون رہ کر ان روایات سے استفادہ کرسکتے ہیں _

ب : ان حالات میںہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ روایتوں کی اسناد سے بحث اور نتیجتاً ان کو قبول یا رد کرنے کے سلسلہ میں ایک خاص معیار پر اعتماد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بہت ہی کم روایات پر اکتفا کیا جائے جو بہت کلی اور اجمالی مطالب اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجمالی سیرت مبارکہ کے تصور کیلئے بھی ناکافی ہیں چہ جائیکہ وہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات کی تفصیلات کو بیان کرسکیں _ جبکہ ہم بہت سی ایسی نصوص دیکھتے ہیں جو صحیح ہیں لیکن وہ سند قبول کرنے کی بیان کردہ شرائط پہ پوری نہیں اترتیں_

اس کے علاوہ تحقیق کرنے والا شخص اگر ان محدود روایات پر اکتفاء کرے تو آزادانہ تحقیق نہیں کرسکتا اور نہ ہی آزادی کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچ سکتاہے _اس کے (زمانے ، حالات اور مختلف سیاسی اور فکری خطوط کو سمجھنے کے لئے طویل مشقوں کے بعد حاصل ہونے والے ) عمیق ادراک و فہم کو ہر قسم کی مؤثر فعالیت سے کنارہ کشی کرنا پڑے گی جو تاریخی حقائق کو سمجھنے اور منکشف کرنے کیلئے ضروری ہے تا کہ وہ حقائق ،ابہام کے سیاہ پردوں میں چھپ نہ جائیں_ اس کے علاوہ رجالی بحث کرنے کیلئے ایک شخص کو ایسی بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کیلئے ضروری ہوجائے گا کہ وہ ان پر غلبہ پائے تب وہ سندی بحث کرسکتا ہے کہ کون سی بحث و سند ارباب فکر اور اساطین علم کے نزدیک مقبول و معقول ہے _

ان مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل وہ معیار و ضوابط ہیں جنہیں قبول یا رد کرنے کے میزان کے طور پر پیش

۹

کیا گیا ہے جن میں سے بعض کی بنیاد ان کے اپنے محدود عقائد ہیں _ان میں بہت ساری ابحاث ایسی ہیں جو اگر انسان کے کسی نتیجے تک پہنچنے سے مانع نہ بھی ہوں تو کم از کم انسان کیلئے بے انتہا مشقت اور طویل وقت کے صرف کرنے کا باعث بنتی ہیں_

بعض لوگوں کی طرف سے تو یہ اصرار ہوتاہے کہ بس ان کے محدود نظریات کے مطابق راہ اختیار کی جائے (خصوصاً عقائد کے مسئلہ میں )چاہے ان کے نظریات حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ نہ بھی ہوں _ اس قسم کے افراد کے بارے میں ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ خداوند متعال ہوا پرستی ، تعصب اور شخصی و گروہی منافع کے پیچھے دوڑنے کی صفت سے نجات عطا فرمائے_

اسی وجہ سے ہم نے یہاں اگر سندی بحث کی بھی ہے تو وہ اس مقبول و معروف قاعدہ کی بناپر ہے : '' الزموہم بما الزموا بہ انفسہم'' یعنی مد مقابل کو اسی چیز کے ذریعہ قائل کرو جس کا وہ خود پابند و قائل ہے _ یا پھر ان بعض طریقوں کے ذریعہ بحث کی ہے جنہیں تمام نہیں تو اکثر فرقے اور گروہ قبول کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان ایسے نتائج تک پہنچ جاتاہے جو سب کے نزدیک قابل قبول ہیں، چاہے ان کو قبول کرنے کی دلیل میں مختلف زمانوں میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا رہاہو_

ج: ہم نے اسلام کے بنیادی اصولوں ، قرآن کریم اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق حسنہ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت سے کچھ ایسے اصولوں کو حاصل کیا ہے جو روایات کے قبول اور رد کرنے کا معیار ہیں اور انہی کے ذریعہ نقل کی جانے والی اکثر روایات کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کس قدر ان مسلم اور بنیادی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ تمام شخصیات کی سیرت، ان کے اخلاق ، ان کے نظریات اور ان کے موقف کو سمجھا جاسکتاہے_

د: اس کے علاوہ ہم نے تاریخی بحث کے مختلف وسائل اور طریقوں سے استفادہ کیا ہے جن کیلئے بہت تمرین و ممارست کی ضرورت ہوتی ہے جیسے نصوص کے تعارض میں بحث کرنا _ یا دقیق تاریخی محاسبات کی روشنی میں تاریخی اعتبار سے کسی واقعہ کے ممکن ہونے کی بحث کرنا اور دیگر وہ طریقے جن سے ہم نے تاریخی ابحاث میں استفادہ کیا ہے اور ہمارے قارئین مطالعہ کے دوران ان کی طرف متوجہ ہوجائیں گے_

۵_ مجموعی طور پر مسلمانوں نے تاریخ اسلام کی تدوین میں بہت اہتمام کیا ہے اور دیگر اقوام وامتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی _ بہر حال تمام نقائص اور وارد ہونے والے اعتراضات کے باوجود حق یہ ہے کہ انہوں نے امت اسلامیہ کی تاریخ کو رقم کیا اور اسے مستغنی کردیا ہے _

تاریخی واقعات کے تمام جوانب اور پہلوؤں سے بحث کرنا ایک مشکل کام ہی نہیں بلکہ ہمارے لئے ناممکن تھا،

۱۰

لہذا ہم نے تاریخ کو رقم کرنے میں ان جوانب سے بحث کی ہے جس کے ذریعہ انسان پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌ کی حیات طیبہ کو تقریباً سمجھ سکتاہے اور اس بارے میں حقائق سے آشنا ہوسکتاہے_

۶ _ قارئین محترم کیلئے یہ واضح ہوجائے گا کہ ہم نے اپنی اس کتاب میں جتنے کم سے کم حوالوں ،شواہد ،دلائل اور ان کے منابع کی ضرورت تھی اسی پر اکتفا کیا ہے اگر چہ کتاب کے مطالب و حقائق کی تایید اور ان پر تاکید کیلئے اور بھی زیادہ حوالوں اور شواہد کا اضافہ کیا جاسکتا تھا_

۷_ ہم نے جس نکتہ سے استفادہ کیا یا جس دلیل سے استدلال کیا اسے اس کے قائل ، لکھنے والے یا نقل کرنے والے کی طرف منسوب کیا ہے اس کے علاوہ وہ نکات یا افکار جن کے کوئی منابع ذکر نہیں کئے گئے وہ ہماری اپنی فکر اور ہمارے اپنے نکات ہیں _

۸_ آخر میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بعض مواقع پر جب فکری نشاط حاصل رہی تو ہم نے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے بعض واقعات میں ان کی تفسیر یا ان پر تنقید و اعتراضات سے گریز نہیں کیا ، اگر چہ اکثر اوقات ہماری بحث اس جہت سے کامل نہ رہی کیونکہ اکثر اوقات اختصار کے ساتھ اس بحث کو سمیٹ لیا گیا لیکن پھر بھی وہمقامات جہاں اس جہت سے کچھ گفتگو کی گئی ہے قارئین محترم کیلئے باعث تسکین و رضایت ہوں گے جیسا کہ خود لکھنے والے کیلئے ثابت ہوئے ہیں_ اب کتاب کے قاری کو حق حاصل ہے کہ ان استدلالی ابحاث کو پڑھنے کے بعد چاہے اس کی حمایت میں اور چاہے تو اس کی مخالفت میں قضاوت کرے اور اگر اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا تب بھی اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ اس کتاب کی گہرائی، دقت اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کرے _

ہمارے ان عرائض کے اختتام پر قارئین محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنی آراء و مشوروں اور تنقید و اعتراضات سے آگاہ کرکے شکریہ کا موقع دیں گے_

والحمد لله والصلاة والسلام علی عباده الذین

اصطفی محمد و آله الطیبین الطاهرین

والسلام

جعفر مرتضی حسینی عاملی

۱۱

۱۲

تیسرا باب

اعلان نبوت سے لے کر وفات ابوطالب تک

پہلی فصل : ہجرت حبشہ تک

دوسری فصل : ہجرت حبشہ اور اس سے مربوط امور

تیسری فصل : شعب ابوطالب تک کے حالات

چوتھی فصل : شعب ابوطالب میں

پانچویں فصل : ابوطالب مؤمن قریش

۱۳

پہلی فصل

ہجرت حبشہ تک

۱۴

مقدمہ:

اسلام قبول کرنے والوں کا تذکرہ اور بعثت کے بعد کے حالات کو بیان کرنے سے پہلے دو اہم باتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں_

پہلی بات تو یہ کہ اسلام کے اہداف اوردنیاوی زندگی کے حوالے سے اس کے مقاصد کیا ہیں، اور دوسری یہ کہ کسی بھی دعوت کا طبیعی طریقہ کار کیسا ہونا چاہیئے اور اس کی ابتدا کہاں سے ہونی چاہیئے؟

اسلام کے اہداف و مقاصد

سب سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کہ اسلام کا اصل مقصد فقط قیام عدل (اگرچہ اس کے وسیع تر مفہوم کے تناظر میں ہی سہی) نہیں_ کیونکہ اگر مقصد صرف یہی ہو_ تو پھر دین و عقیدے کی راہ میں جہاد کرنے اور جان کی قربانی دینے کا حکم بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایک انسان تو اپنی جان گنوائے جبکہ دوسرے لوگ زندگی اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں_ علاوہ ازیں خدا کے نزدیک ایثار اور ایثار کرنے والے کے محبوب اور پسندیدہ ہونے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی _ جس طرح ارشاد خداوندی ہے:( و یؤثرون علی انفسهم و لو کان بهم خصاصة ) (۱)

کیونکہ اگر فقط عدل مقصود و مطلوب ہو تو پھر ایثار کی کوئی گنجائشے نہیں رہتی _نیز کینہ و حسد سے پرہیز کا حکم

___________________

۱_ سورہ حشر آیت ۹_

۱۵

بھی غیرمعقول ہو کر رہ جائے گا _ اس کے علاوہ بھی کئی اور مثالیں ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ خلاصہ یہ کہ مذکورہ و غیرمذکورہ احکام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام کا ہدف صرف قیام عدل میں محدود نہیں بلکہ اس سے بھی اعلی ،اہم اور مقدس ہدف ہے_

اسلام کا حقیقی ہدف انسان کی انسانیت کو پروان چڑھانا اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ زمین پر خلافت الہی کے منصب کی اہلیت پیدا کرے تا کہ خدا اس کے متعلق یہ دعوی کرسکے_

( و اذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة ) (۱)

واضح ہو کہ عدل اور دیگر معنوی مقامات اور کمالات اس اعلی اور مقدس ترین ہدف تک پہنچنے کے وسائل اور مراحل میں سے ہیں، یہ ہدف حقیقی عدل سمیت تمام انسانی کمالات و فضائل اور مکمل خوش بختی و کامرانی کا حامل ہے_

یہ ہے اسلام کا بنیادی ہدف جس کے حصول کی تگ و دو کی جاتی ہے_

اس بات کی واضح ترین دلیل درج ذیل آیت ہے جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داریوں میں پیام الہی کو لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دینے اور ان کے تزکیہ و تطہیر کی ذمہ داریوں کو بیان کرتی ہے:( هو الذی بعث فی الامیین رسولاً منهم، یتلو علیهم آیاته، و یزکیهم، و یعلمهم الکتاب و الحکمة، و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۲)

یہ ارشاد بھی قابل غور ہے:

( ما یرید الله لیجعل علیکم من حرج، و لکن یرید لیطهرکم، و لیتم نعمته علیکم، لعلکم تشکرون ) (۳)

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۳۰_

۲_سورہ جمعہ، آیت ۲_

۳_سورہ مائدہ، آیت ۶_

۱۶

خدا تمہیں کسی بے جا سختی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و پاکیزہ کرے اور تم لوگوں پر اپنی نعمتوں کو کامل کرے تاکہ تم شکرگزار بنو_

آیات قرآنی کی طرف رجوع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت ساری آیات مذکورہ حقیقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں_ بنابرایں مزید دلائل و شواہد اور توضیح و تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی_

وزیر اور وصی کی ضرورت

جب ہمیں اسلام کے اصلی مقصد کا علم ہوگیا ہے تو ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ یہ مقصد نہایت ہی مشکل اور کٹھن ہے_ اس لئے کہ ابتداء ہی میں یہ ہدف اشخاص کی ذات سے ہی متصادم ہے _ کیونکہ اس مقصد کے تحقق کے لئے افراد کے عزائز اور نفسانی خواہشات پر غلبہ پانا ضروری ہے تاکہ مثالی انسان کی شخصیت تعمیر ہوسکے_ اسی طرح معاشرے کی معاشرتی ، سیاسی اور دیگر اصولوں کی بنیادی تبدیلیوں کا ہدف ہے_ تا کہ شرکی جڑیں اکھاڑ پھینکے اور انحراف کے تمام عوامل و اسباب کو ختم کرڈالے _ اور اس کے بدلے میں خیر ، برکت ، نیکی اور خوشبختی کے تناور درخت اگائے_

جی ہاں یہی تو نہایت مشکل ہدف ہے اور اس سے بڑھ کر مشکل کوئی چیز نہیں _ اس لئے کہ اس کے تحقق اور دوام کے لئے اس وقت تک سخت اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے جب تک انسان اپنے اندر وہ تبدیلیاں نہ پالے جس کے لئے خدا نے اسے خلق کیا ہے تا کہ یہ تبدیلیاں اس کی بقاء ، سعادت اور سکون کی عامل بنیں_اور خدا نے بھی انسان کو ان خواہشات پر قابو پانے اور انہیں ہدف مند کرنے کے وسائل فراہم کئے ہیں_ لیکن بسا اوقات یہ وسائل ان خواہشات پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیںاور جب تک ان کے درمیان جنگ جاری ہے انحراف کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں_ اور چونکہ طول زمانہ میں انسان کے وجود کے ساتھ جنگ بھی جاری رہے گی _ اس لئے انحراف اور بھٹکنے کا خطرہ بھی دائمی رہے گا پس انبیاء کو عقل کو مسحور کردینے والی آیتوں کی تلاوت اور اسلامی احکام کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور تزکیہ کی مہم پر توجہ دینے ،

۱۷

انسانی اور اخلاقی فضائل کو انسان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھرنے اور پھر اس کی تطبیق اور اس دائمی کشمکش کی نگرانی کرنے کی ضرورت رہے گی _انہی باتوں سے نبی کے وزیر ، وصی ، مددگار ، بھائی اور حامی کی ضرورت واضح ہوتی ہے _ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کی جانب سے خلافت پر حضرت علیعليه‌السلام کی تنصیب ،راہ جہاد اور دعوت الی اللہ کے سلسلے میں ایک عقلمندانہ فیصلہ تھا _ پس دعوت ذوالعشیرة اور اس میں حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی ، وزیر اور خلیفہ کے عنوان سے حضرت علیعليه‌السلام کی تنصیب کا واقعہ ان بہت زیادہ واقعات میں سے ایک ہے جن میں اس امر خلافت پر قوت اور شدت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے_ دعوت ذوالعشیرة کا واقعہ کچھ یوں ہے:

دعوت ذوالعشیرہ

بعثت کے ابتدائی تین سالوں کے بعد ایک اہم، جدید اورکٹھنمرحلہ کا آغاز ہوا اور وہ تھا اسلام کی طرف اعلانیہ دعوت کا مرحلہ_

پہلے پہل نسبتاً ایک محدود دائرے سے اس کی ابتدا ہوئی کیونکہ خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی_ (وانذر عشیرتک الاقربین)(۱) یعنی اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو (کفر و گمراہی کے عذاب سے) ڈراؤ_

مؤرخین کے بقول ( الفاظ تاریخ طبری کے ہیں) جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو بلاکر کھانا تیار کرنے اور بنی عبدالمطلب کو دعوت دینے کا حکم دیا تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ گفتگو کرکے حکم الہی کو ان تک پہنچاسکیں_

پس حضرت علیعليه‌السلام نے ایک صاع (تقریباً تین کلو) آٹے کی روٹیاں تیار کرائیں اور بکرے کی ایک ران بھی پکالی نیز دودھ کا کاسہ بھی بھر کر رکھ دیا_ بعدازاں انہیں دعوت دی حالانکہ اس وقت ان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی جن میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا ابوطالب، حمزہ، عباس اور ابولہب بھی شامل تھے_ حضرت علیعليه‌السلام کا

___________________

۱_ سورہ شعرائ، آیت ۲۱۴_

۱۸

بیان ہے کہ انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن کھانا جوں کا توں رہا صرف انگلیوں کے نشان دکھائی دے رہے تھے_ قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے وہ کھانا جو میں نے ان کیلئے تیار کیا وہ سارے کا سارا ان میں سے ایک آدمی کھا سکتا تھا_ اس کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں دودھ پلانے کا حکم دیا_ میں دودھ کا برتن لیکر ان کے پاس آیا انہوں نے جی بھر کر پیا_ خدا کی قسم وہ سارا دودھ ان میں سے اکیلا آدمی پی سکتا تھا_ اس کے بعد جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے گفتگو کرنی چاہی تو ابولہب نے پہل کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے ساتھی نے تم پر کیسا سخت جادو کردیا_ یہ سن کر وہ لوگ متفرق ہوگئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ان سے گفتگو نہ کرسکے_

دوسرے دن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو حسب سابق دعوت دینے کا حکم دیا_ چنانچہ جب لوگ کھا پی کر فارغ ہوگئے تو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:'' اے آل عبدالمطلب خدا کی قسم جہاں تک مجھے علم ہے عرب کا کوئی جوان آج تک اپنی قوم کیلئے کوئی ایسا تحفہ لیکر نہیں آیا جس قسم کا تحفہ میں لایا ہوں_ میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کا تحفہ لیکر آیا ہوں خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں_ اب تم میں سے کوئی ہے جو اس امر میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین قرار پائے''_ یہ سن کر سب چپ ہوگئے حضرت علیعليه‌السلام نے عرض کیا: ''اے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اس امر میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہاتھ بٹاؤں گا''_ (حضرت علیعليه‌السلام کہتے ہیں کہ) یہ سن کر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ''بے شک یہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے، پس اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو''_

حضرت علیعليه‌السلام کا کہنا ہے کہ وہ لوگ ہنستے ہوئے اور جناب ابوطالب سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ لو اب اس نے تجھے حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو_ بعض روایات میں صریحاً بیان ہوا ہے کہ جب حضرت علیعليه‌السلام نے اٹھ کر جواب دیا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو بٹھا دیا اور اپنی بات کا تکرار کیا_ حضرت علیعليه‌السلام نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا_ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر آپ کو بٹھا دیا اور حاضرین کے سامنے تیسری بار اپنی بات دہرائی_ لیکن سوائے علیعليه‌السلام کے کسی نے بھی جواب نہ دیا_ اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے_

۱۹

اسکافی کی تصریح کے مطابق آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''یہ ہے میرا بھائی، میرا وصی اور میرے بعد میرا جانشین''_ یہ سن کر حاضرین نے ابوطالب سے کہا:'' لو اب اپنے بیٹے کی اطاعت کرو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو اسے تمہارے اوپر حاکم بنادیا ہے''_(۱)

اندھا تعصّب

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ طبری نے اپنی تاریخ میں تو اس حدیث کو مذکورہ بالا انداز میں بیان کیا ہے_ لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ بعد میں وہ پشیمان ہوا کیونکہ اس نے اپنی تفسیر میں مذکورہ حدیث کو متن و سند کی رو سے مکمل طور پر اور حرف بہ حرف نقل کیا ہے البتہ ایک عبارت میں تحریف کی ہے اور اسے یوں ذکر کیا ہے:

( فایکم یوازرنی علی هذا الامر، علی ان یکون اخی، وکذاوکذا ) (۲)

___________________

۱_ اس واقعہ کے سلسلہ میں مراجعہ ہو، تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۳، مختصر التاریخ ابوالفدء ج ۲ ص ۱۴ (دار الفکر بیروت)، شواہد التنزیل ج ۱ ص ۳۷۲ و ص ۴۲۱ و کنز العمال طبع دوم ج ۱۵ ص ۱۱۶_۱۱۷ و ۱۱۳ و ۱۳۰ از ابن اسحاق و ابن جریرجبکہ احمد، ابن ابوحاتم، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی نے الدلائل میں اور تاریخ ابن عساکر میں اسے صحیح ہے ،تاریخ ابن عساکر نیز زندگی نامہ امام علی (بتحقیق محمودی) ج۱، ص ۸۷_۸۸، شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۴۴ از اسکافی، حیات محمد ( ھیکل) طبع اول ص ۲۸۶ و کامل ابن اثیر ج ۲ ص ۶۲،۶۳، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۸۶، مسند احمد ج ۱ ص ۱۵۹ نیز رجوع کریں کفایة الطالب ص ۲۰۵ از ثعلبی، منھاج السنة ج ۳ ص ۸۰ از بغوی و ابن ابی حاتم و واحدی و ثعلبی و ابن جریر نیز مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۱ و فرائد السمطین بہ تحقیق محمودی ج ۱ ص ۸۶ و اثبات الوصیة (از مسعودی) ص ۱۱۵ و ص ۱۱۶ والسیرة النبویة ابن کثیر ج ۱ ص ۴۶۰،۴۵۹، الغدیر ج ۲ ص ۲۷۸،۲۸۴ بعض مذکورہ کتب سے اور انباء نجباء الابناء ص ۴۶،۴۷ سے نیز شرح الشفا_ (خفاجی) ج ۳ ص ۳۷ و تفسیر خازن ج ص ۳۹۰ و کتاب سلیم بن قیس وغیرہ اور خصائص نسائی ص ۸۶ حدیث ۶۳ نیز رجوع کریں بحارالانوار ج ۳۸ و درمنثور ج ۵ ص ۹۷ از منابع کنز العمال لیکن اس نے اس میں تحریف کی ہے نیز مجمع الزوائد ج ۸ ص ۳۰۲ کچھ کمی کے ساتھ و ینابیع المودة ص ۱۰۵ و غایت المرام ص ۳۲۰ ابن بطریق کی کتاب و العمدة و تفسیر ثعالبی و تفسیر طبری ج ۱۹ ص ۷۵ و البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۰ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۵۰و۳۵۱_

۲_تفسیر طبری ج ۱۹ ص ۷۵ _

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ آیت مقداد اور زبیر کے بارے میں اتری تھی_ جب وہ خبیب کی لاش سولی سے اتارنے مکہ گئے تھے_(۳)

۵) آیت میں اس شخص کی تعریف ہوئی ہے جو اپنی جان کو راہ خدا میں فدا کرے نہ اس شخص کی جو اپنا مال قربان کرے جبکہ صہیب والی روایت مؤخر الذکر سے متعلق ہے نہ کہ اول الذکر کے متعلق_

۶)جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں فقط صہیب نے ہی راہ خدا میں اپنا مال نہیں دیا تھا لہذا یہ اعزاز فقط ان کے ساتھ کیسے مختص ہوسکتا ہے_

۷) یہی لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ہجرت کے بعد حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی مہاجر مکے میں نہ رہا مگر وہ جو کسی کی قید میں یا کسی مشکل میں مبتلا تھے_(۴)

۸) وہ روایت جو کہتی ہے کہ صہیب بوڑھے تھے اور مشرکین کیلئے بے ضرر تھے خواہ ان کے ساتھ ہوں یا دوسروں کے ساتھ، وہ صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ صہیب کی وفات سنہ ۳۸ یا ۳۹ ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی_(۱) بنابریں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۳۱ یا ۳۲ سال بنتی ہے_ اس لحاظ سے وہ اپنی جوانی کے عروج پر تھے اورانکی عمر وہ نہ تھی جو مذکورہ جعلی روایت بتاتی ہے_

یہ ساری باتیں ان تضادات کے علاوہ ہیں جو صہیب سے مربوط روایات کے درمیان موجود ہیں_علاوہ ازیں ان روایات میں سے بعض میں صہیب کے حق میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہوا _نیز یہ روایات یا تو خود صہیب سے ہی مروی ہیں یا ایسے تابعی سے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا زمانہ نہیں دیکھا مثال کے طور پر عکرمہ، ابن مسیب اور ابن جریح_ ہاں فقط ایک روایت ابن عباس سے مروی ہے جو ہجرت سے صرف تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے_

___________________

۱_ سیرہ حلبی ج ۳ ص ۱۶۸ _

۲_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۳ اور سیرہ مغلطای ج ۳۱ _

۳_ الاصابة ج ۲ ص ۱۹۶ _

۳۲۱

یاد رہے کہ صہیب کا تعلق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حکمراں طبقے کے حامیوں اور امیرالمؤمنینعليه‌السلام علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے تھا_ وہ اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (علیھم السلام) سے عداوت رکھتا تھا_(۱) شاید صہیب کی ہجرت کے ذکر سے ان کا مقصد یہ ہو کہ جو فضیلت صرف حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کے لئے ہی ثابت ہے اسے صہیب کے لئے بھی ثابت کریں یوں وہ ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے شیطانوں نے انہیں یہ مکھن لگا یا کہ علیعليه‌السلام تو خسارے میں رہے جبکہ آپعليه‌السلام کے دشمن فائدے میں رہے_

ہ:رہا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ سورہ بقرہ مدنی ہے_ اگر وہ آیت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہوتی تو اس سورہ کو مکی ہونا چاہیئے تھا_ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مذکورہ آیت شب ہجرت ہی اتری تھی (جب حضرت علیعليه‌السلام بستر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوئے تھے) تو ظاہر ہے کہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غار میں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی نہ تھا_ بنابر ایں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مدینہ پہنچ کر وہاں ساکن ہونے سے پہلے نزول آیت کے اعلان کا موقع ہی نہ مل سکا_ اس کے بعد مناسب موقعے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے چچازاد بھائی اور وصی کی اس عظیم فضیلت کے اظہار کی فرصت ملی_ اس لحاظ سے اگر اس آیت کو مدنی اور سورہ بقرہ کا جز سمجھ لیا جائے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ جبکہ سورہ بقرہ ،جیساکہ سب جانتے ہیں ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا_اس کے علاوہ اگر کسی مکی آیت کو کسی مدنی سورہ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے کیا؟

ادھر حلبی کا یہ بیان کہ یہ آیت دوبار نازل ہوئی، ایک بے دلیل بات ہے بلکہ مذکورہ دلائل اس بات کی نفی کرتے ہیں_

ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدائے تعالی نے واقعہ غار میں حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا جیساکہ

___________________

۱_ رجوع کریں قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۳۵_۱۳۷ (حالات صہیب) _

۳۲۲

''شواھد النبوة'' نامی کتاب میں یوں منقول ہے: ''جب اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی اجازت دی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیلعليه‌السلام سے پوچھا میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ حضرت جبرئیلعليه‌السلام نے کہا ابوبکر صدیق''_(۱)

لیکن ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ:

الف: حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دینے کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے_ اس کے سبب اور وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں_

کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ غار ثور میں ہوا (جیساکہ یہاں ذکر ہوا) اور کوئی کہتا ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معراج کے سفر سے واپس آکر لوگوں کو بیت المقدس کے بارے میں بتایا اور حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب ملا_(۲)

تیسرے قول کے مطابق بعثت نبوی کے دوران جب حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب حاصل ہوا_(۳)

چو تھا قول یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آسمانوں کی سیر فرمائی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں بعض جگہوں پر حضرت ابوبکر کا لقب ''صدیق'' لکھا ہوا دیکھا(۴) پھر نہیں معلوم کون سی بات صحیح ہے_

ب: ہمارے ہاں متعدد روایات موجود ہیں جو سند کے لحاظ سے صحیح ''یا حسن'' ہیں_ ان کا ذکر دسیوں مآخذ میں موجود ہے_ یہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ ''صدیق'' سے مراد امیر المؤمنین علیعليه‌السلام ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر_ ان میں سے چند ایک کاہم یہاں ذکر کرتے ہیں_

۱) امام علیعليه‌السلام سے سند صحیح (امام بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق) کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ''میں خدا کا بندہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھائی ہوں، میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میرے بعد اس بات کا دعوی کوئی

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۳، شواہد النبوة سے اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ _

۲،۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ اور ج ۱ ص ۲۷۳ وغیرہ واقعہ معراج میں اس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے بعض مآخذ کا بھی_

۴ _ کشف الاستار ج۳ ص ۱۶۳، مسند احمد ج ۴ ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۱ ، تہذیب التہذیب ج۵ ص ۳۸ اور الغدیر ج۵ ص ۳۲۶ ، ۳۰۳ از تاریخ الخطیب_

۳۲۳

نہ کرے گا مگر وہ جو سخت جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی ہے''_(۱)

بظاہر حضرت علیعليه‌السلام کی مراد یہ ہے کہ آپعليه‌السلام سن رشد کو پہنچنے کے بعد اور بعثت سے قبل کے زمانے سے اسلام کے عام ہونے اور'' فاصدع بما تؤمر '' والی آیت کے نزول تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ دین حنیف کے مطابق عبادت کرتے تھے_ یوں ابن کثیر کایہ کہنا کہ'' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھتے؟ لہذا یہ بات بالکل نامعقول ہے''(۲) باطل ہوجاتا ہے_

۲) قرشی نے شمس الاخبار میں ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے شب معراج حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق اکبر کا لقب دیا_(۳)

۳) ابن عباس سے منقول ہے کہ صدیق تین ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام_ ان میں سے تیسرا سب سے افضل ہے_

اسی مضمون سے قریب قریب وہ روایت ہے جو سند حسن کے ساتھ ابولیلی غفاری سے منقول ہے جیساکہ

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ و تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے میں نیز الاوائل ج ۱ ص ۱۹۵، فرائد السمطین ج ۱ ص ۲۴۸ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور ج ۱ ص ۳۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶، الخصائص (نسائی) ص ۴۶ (ثقہ راویوں سے) سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۴ (صحیح سند کے ساتھ) تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶، الکامل (ابن اثیر) ج ۲ ص ۵۷، ذخائر العقبی ص ۶۰ از خلفی و الارحاد و المثانی (خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ کوپرلی لائبریری) و معرفة الصحابة (مصنفہ ابونعیم خطی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای) ج ۱ تذکرة الخواص ص ۱۰۸ (ازاحمد در مسندالفضائل) حاشیہ زندگی نامہ امام علیعليه‌السلام (تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق محمودی) ج ۱ص ۴۴_۴۵ نقل از کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ورق نمبر ۱۵۵الف کنزالعمال ج ۱۵ ص ۱۰۷ (طبع دوم) از ابن ابی شیبہ و نسائی و ابن ابی عاصم (السنة میں) و عقیلی و حاکم و ابونعیم نیز عقیلی کی کتاب الضعفاء ج ۶ صفحہ نمبر ۱۳۹ سے علاوہ ازیں معرفة الصحابة (ابونعیم) ج ۱ ورق نمبر ۲۲ الف و تہذیب الکمال (مزی) ج ۱۴ ورق نمبر ۱۹۳ ب اور از تفسیر طبری، مسند احمد (الفضائل میں حدیث نمبر ۱۱۷ ) سے وہ احقاق الحق ج ۴ ص ۳۶۹ اسی طرح میزان الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۷ ج ۲ ص ۱۱ اور ۲۱۲ سے، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ میں مذکورہ مآخذ میں سے کئی ایک نیز ریاض النضرة ص ۱۵۵_۱۵۸ اور ۱۲۷ سے منقول ہے نیز مراجعہ ہو اللآلی المصنوعة ج۱ ص ۳۲۱_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶ _

۳_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳_۳۱۴_

۳۲۴

سیوطی نے بھی اس کی تصریح کی ہے_(۱) اسی طرح حسن بن عبد الرحمان بن ابولیلی سے بھی منقول ہے_(۲)

بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا صدیقین کو فقط تین افراد میں منحصر کرنا اس بات کے منافی ہے کہ حضرت ابوبکر کو بھی صدیق کانام دیا جائے_ اس طرح سے تو تین کی بجائے چار ہوجائیں گے یوں حصر غلط ٹھہرے گا_

۴) معاذہ کہتی ہیں ''میں نے علیعليه‌السلام سے (بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے )سنا کہ انہوں نے فرمایا:''میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میں ابوبکر کے مسلمان ہونے سے پہلے مومن تھا اور ابوبکر کے قبول اسلام سے پہلے اسلام لا چکا تھا''(۳) بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپعليه‌السلام حضرت ابوبکر کے لوگوں کے درمیان معروف ہونے والے

___________________

۱_ جامع الصغیر ج ۲ ص ۵۰ از کتاب معرفة الصحابة (ابونعیم) ابن نجار، ابن عساکر و صواعق محرقہ (مطبوعہ محمدیہ) ص ۱۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۵۵، شواہدالتنزیل ج ۲ ص ۲۲۴ و ذخائرالعقبی ص ۵۶ و فیض القدیر ج ۴ ص ۱۳۷، تاریخ ابن عساکر حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۸۲ اور ج ۱ ص ۸۰، کفایہ الطالب ص ۱۲۳_۱۸۷ اور ۱۲۴، الدرالمنثور ج ۵ ص ۲۶۲ از تاریخ بخاری، ابوداؤد، ابونعیم، دیلمی، ابن عساکر اور رازی (سورہ مومن کی تفسیر میں)، منافب خوارزمی ص ۲۱۹ و مناقب امام علی (ابن مغازلی) ص ۲۴۶_۲۴۷ و معرفة الصحابة (ابونعیم) قلمی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای، نیز کفایة الطالب کے حاشیہ میں کنز العمال (ج۶ ص ۱۵۲) سے بواسطہ طبرانی، ابن مردویہ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۲ و گذشتہ مآخذ میں سے چند ایک کا محمودی نے تاریخ ابن عساکر میں امام علیعليه‌السلام کے حالات زندگی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، رجوع کریں ج ۱ ص ۷۹_۸۰، مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے منقول ہے نیز از سیف الیمانی المسلول ص ۴۹ و الفتح الکبیرج ص ۲۰۲ و غایة المرام ص ۴۱۷ _۶۴۷و مناقب علی امام احمد کی کتاب الفضائل میں حدیث نمبر ۱۹۴_۲۳۹ نیز مشیخ-ة البغدادیة (سلفی) ورق نمبر ۹ ب اور ۱۰ ب و الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ مذکورہ مآخذ سے نیز حاشیہ شواہد التنزیل از الروض النضیر ج ۵ ص ۳۶۸ سے منقول ہے_

۲_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۲۱۹ _

۳_ ذخائر العقبی ص ۵۶ از ابن قتیبہ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، انساب الاشراف (محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) ج ۲ ص ۱۴۶ و الآحاد المثانی (قلمی نسخہ نمبر ۲۳۵ کتابخانہ کوپرلی) البدایة و النہایة ج ۷ ص ۳۳۴، المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۳_۷۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ جو گزشتہ مآخذ میں سے بعض نیز ابن ایوب اور عقیلی سے بواسطہ کنز العمال ج ۶ ص ۴۰۵ چاپ اوّل مروی ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۳ ص ۱۲۲ از استیعاب ج ۲ ص ۴۶۰ و از مطالب السئول _ ص ۱۹ (جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اکثر اوقات اس بات کا تکرار فرماتے تھے)، نیز الطبری ج ۲ ص ۳۱۲ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ اور ۱۵۷ اور عقد الفرید ج ۲ ص ۲۷۵ سے_ ابن عباس اور ابویعلی غفاری والی بات کے بارے میں رجوع کریں_ الاصابة ج ۴ ص ۱۷۱ اور اس کے حاشیے الاستیعاب ج ۴ ص ۷۰ ۱ اور میزان الاعتدال ج ۲ ص ۳ اور ۴۱۷ کی طرف_

۳۲۵

لقب کی نفی کرنا چاہتے ہیں_

۵) حضرت ابوذر اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا :''ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو علیعليه‌السلام سے یہ فرماتے سنا کہ انت الصدیق الاکبر وانت الفاروق الذی یفرق بین الحق والباطل یعنی تمہی صدیق اکبر ہو اور تمہی حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے والے فاروق ہو''_(۱) اسی روایت سے تقریبا مشابہ روایت ابولیلی غفاری سے مروی ہے_

۶) حضرت ابوذراور حضرت سلمان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کا ہاتھ پکڑکرفرمایا:'' یہ سب سے پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لے آیا_ یہی شخص سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا_ صدیق اکبر یہی ہے اوریہی اس امت کا فاروق ہے جو حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرے گا''_(۲)

۷) ام الخیر بنت حریش نے صفین میں ایک طویل خطبے میں امیرالمومنینعليه‌السلام کو ''صدیق اکبر'' کے نام سے یاد کیا ہے_(۳)

۸) محب الدین طبری کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق کانام دیا_(۴)

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، فرائد السمطین ج ۱ ص ۱۴۰ نیز تاریخ ابن عساکر (حالات زندگی امام علیعليه‌السلام باتحقیق محمودی) ج ۱ ص ۷۶_۷۸ (کئی ایک سندوں کے ذریعہ سے) اس کے حاشیے جاحظ کی کتاب عثمانیہ کے جواب میں (جو اس کے ساتھ مصر میں چھپی ہے) اسکافی سے ص ۳۹۰ پر منقول ہے_ نیز رجوع کریں اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۳۲۴ وملحقات احقاق الحق ج ۴ ص ۲۹_۳۱ اور ۳۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ از حاکمی و از شمس الاخیار (قرشی) ص ۳۰ و از المواقف ج ۳ ص ۲۷۶ و از نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۵ و از حموینی

۲_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۰۲ از طبرانی اور بزار، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ و ج۱۰ ص۴۹ از بزار اور کفایة الطالب ص ۱۸۷ بواسطہ ابن عساکر، شرح نہج البلاغة( معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور اکمال کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ بیہقی، ابن عدی، حذیفہ، ابوذر اور سلمان سے منقول نیز الاستیعاب ج۲ ص ۶۵۷ والاصابہ ج۴ ص ۱۷۱ سے بھی منقول ہے _

۳_ العقد الفرید مطبوعہ دار الکتاب ج ۲ ص ۱۱۷، بلاغات النساء ص ۳۸، الغدیر ج۲ ص۳۱۳ میں ان دونوں سے نیز صبح الاعشی ج ۱ ص ۲۵۰ اور نہایة الارب ج ۷ ص ۲۴۱ سے نقل کیا گیا ہے_

۴_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۳۲۶

۹) خجندی کا کہنا ہے کہ وہ (حضرت علیعليه‌السلام ) یعسوب الامہ اور صدیق اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے_(۱)

۱۰) ایک اور روایت میں مذکور ہے ''پس عرش کے اندر سے ایک فرشتہ انہیں جواب دیتا ہے اے انسانو یہ کوئی مقرب فرشتہ نہیں نہ کوئی پیغمبراور نہ عرش کو اٹھانے والا ہے_ یہ تو صدیق اکبر علیعليه‌السلام ابن ابیطالب ہیں ...''(۲)

۱۱) قرآن کی آیت (اولئک ہم الصدیقون) حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں نازل ہوئی_ اسی طرح (الذی جاء بالصدق وصدق بہ) والی آیت نیز( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین ) والی آیت بھی حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہیں_(۳)

۱۲) انس کی ایک روایت میں مذکور ہے ''واما علیعليه‌السلام فہو الصدیق الاکبر''(۴)

یعنی حضرت علیعليه‌السلام ہی صدیق اکبر ہیں_

گذشتہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ''صدیق'' کا لقب امام علیعليه‌السلام ہی کے ساتھ مختص ہے کسی اور کیلئے اس کا اثبات ممکن نہیں_

علاوہ ان باتوں کے علامہ امینی نے ''الغدیر'' کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۲۱، ۳۳۴اور ۳۵ نیز ساتویں جلد کے صفحہ نمبر ۲۴۴، ۲۴۵ اور ۲۴۶ پر ایسی روایات کا تذکرہ کیا ہے جن کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق کہلائے گئے ہیں_ اس کے بعد جواباً حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے میں

___________________

۱_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۲_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۳۴ چاپ دوم_

۳_ بطور مثال رجوع کریں : شواھد تنزیل ج ۱ ص ۱۵۳_۱۵۴_۱۵۵ ، اور ج ۲ ص ۱۲۰ اس کے حاشیوں میں متعدد مآخذ مذکور ہیں_ نیز حالات امام علیعليه‌السلام در تاریخ دمشق بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۴۱۸ اور اس کے حاشیے ملاحظہ ہوں_ نیز مناقب ابن مغازلی ص ۲۶۹، غایة المرام ص ۴۱۴، کفایة الطالب ص ۳۳۳، منہاج الکرامة (حلی)، دلائل الصدق (شیخ مظفر) ج ۲ ص ۱۱۷، درالمنثور ج ۵ ص ۳۲۸ اور دسیوں دیگر مآخذ_

۴_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۳۲ _

۳۲۷

کسی قسم کاشک باقی نہیں رہتا کیونکہ بڑے بڑے ناقدین اور محدثین مثال کے طور پر ذہبی، خطیب، ابن حبان، سیوطی، فیروز آبادی اور عجلونی وغیرہ نے ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کی تصدیق کی ہے_ جو حضرات اس مسئلے سے آگاہی کے خواہشمند ہوں وہ الغدیر کی طرف رجوع کریں جس میں تحقیق کی پیاس بجھانے اورشبہات کا ازالہ کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے_

یہ القاب کب وضع ہوئے؟

بظاہر یہ اور دیگر القاب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی چوری ہوئے یہاں تک کہ امیرالمومنین امام علیعليه‌السلام منبر بصرہ سے یہ اعلان کرنے اور بار بار دہرانے پر مجبورہوئے کہ آپ ہی صدیق اکبر ہیں نہ کہ ابوبکر اور جوبھی اس لقب کا دعویدار ہو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے لیکن طویل عرصے تک امت کے اوپر حکم فرما اور ان کے افکار واہداف پر مسلط رہنے والی سیاست کے باعث یہ القاب انہی افراد کیلئے استعمال ہوتے رہے اور کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس عمل سے روکتی یا کم از کم مثبت اور پرامن طریقے سے اس پر اعتراض کرتی_

دو سواریاں

کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کو ہجرت کرنا شروع کی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی خدا کی طرف سے اجازت کی امید رکھتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی جان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے وقف کردی اور آٹھ سو درہم میں دو سواریاں خریدیں_ (وہ ایک مالدار شخص تھے) اور انہیں چار ماہ(۱) یا چھ ماہ(۲) تک (اختلاف اقوال کی بنا پر) پھول کے پتے یا درختوں کے جھاڑے ہوئے پتے کھلاتے رہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الوفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷ ، الثقات (ابن حبان) ج۱ ص ۱۱۷ ، المصنف (عبدالرزاق) ج۵ ص ۳۸۷ اور بہت سے دیگر مآخذ _ حضرت ابوبکر کے صاحب مال ہونے کے متعلق مراجعہ ہو سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۱۲۸_

۲_ نور الابصار ص ۱۶ از الجمل ( علی الھزیمہ) و کنز العمال ج۸ ص ۳۳۴ از بغوی( سند حسن کے ساتھ عائشہ سے)_

۳۲۸

پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں سواریاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیش کیں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیمت اداکئے بغیر ان کو لینے سے انکار کیا_ لیکن ہماری نظر میں چار ماہ یا چھ ماہ تک سواریوں کو چارہ کھلاتے رہنے والی بات صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اپنی ہجرت سے فقط تین ماہ قبل اصحاب کو ہجرت کا حکم دیا تھا_ بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحقیق کی رو سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےہجرت سے اڑھائی مہینے قبل ایسا کیا(۱) ، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیعت عقبہ ہجرت سے دوماہ اور چند دن پہلے ہوئی تھی(۲) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو اس کے بعد ہجرت کا حکم دیا جیساکہ معلوم ہے_ بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی طرف سے اصحاب کو ہجرت کا حکم ملنے کے بعد چھ یا چار ماہ تک حضرت ابوبکر کیونکر ان سواریوں کو پالتے رہے؟

۲) ایک روایت صریحاً کہتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے تین اونٹ خریدے اور اریقط بن عبداللہ کو مزدوری دیکر ان اونٹوں کو غار سے نکلنے کی رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں بھیجا_(۳) البتہ ممکن ہے انہوں نے یہ اونٹ حضرت ابوبکر سے خریدے ہوں اور ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اریقط کے ہمراہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے پاس بھیجے ہوں_

حقیقت حال

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے قیمت ادا کئے بغیر حضرت ابوبکر سے وہ سواریاں نہیں لیں تو انہیں اس میں خلیفہ اول کی سبکی نظر آئی_ اس کے مقابلے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے اس کے بدلے حضرت ابوبکر کیلئے یہ فضیلت تراشی کہ وہ اس قدر طویل عرصے تک ان سواریوں کو چارہ کھلاتے رہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۸۳اور ۱۷۷ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۵_ ۵۵_

۲_ سیرة مغلطای ص ۳۲ وفتح الباری ج ۷ ص ۱۷۷ نیز ملاحظہ ہوالثقات لابن حبان ج ۱ ص ۱۱۳ و غیرہ _

۳_ تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۱۳۸ (امام علیعليه‌السلام کے حالات میں محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) اور در منثور نیز تیسیر المطالب ص۷۵ البتہ اس میں آیاہے کہ آپعليه‌السلام نے تین سواریاں کرایہ پر لیں_

۳۲۹

ان معروضات کی روشنی میںیہ معلوم ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان دو سواریوں کو خریدنا یا امیرالمؤمنین کا تین سواریاں خریدنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خرچے پر سفر کیا نہ کہ اپنے خرچے پر_

خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابوبکر کے گھرکے عقبی دروازے سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوگئے جیساکہ سیرت ابن ہشام وغیرہ میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے(۱) _ بخاری میں مذکور ہے کہ (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت ابوبکر کے پاس گئے اور وہاں سے غار ثور کی طرف روانہ ہوئے)(۲) _

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ:

۱_ حلبی نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے: ''زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے گھرسے ہی (غار کی طرف) روانہ ہوئے'' _(۳)

۲_ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر آئے تو حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے ہوئے پایااور حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی روانگی سے مطلع کیا اور فرمایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بئر میمون (ایک کنویں کا نام) کی طرف چلے گئے ہیں_ پس وہ راستے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے_ بنابریں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں ابوبکر کے گھر کے عقبی دروازے سے غار کی طرف روانہ ہوئے ہوں؟ اور وہ بھی ظہر کے وقت؟

۳_ان تمام باتوں سے قطع نظر ساری روایات کہتی ہیں کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے دروازے پر صبح تک بیٹھے رہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کے ابتدائی حصّے کی تاریکی میں ان کے درمیان سے نکل گئے جبکہ حضرت علیعليه‌السلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے رہے_ یہ اس بات کے منافی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت خارج ہوئے_

۴_ یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کے گھر سے خارج ہوئے ہوں جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ۱۰۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۴ و البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸_

۲_ ملاحظہ ہو: تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۱۵۳ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۰ نیز بخاری، ارشاد الساری ج۶ ص ۱۷ کے مطابق_ ۳_ سیرة حلبیة ج ۲ ص ۳۴ عن سبط ابن الجوازی_

۳۳۰

کہ کھوجی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قدموں کے نشانات دیکھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچا تو کہنے لگا یہاں سے ایک اور شخص بھی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مل چکا ہے بلکہ بعض حضرات نے تو صریحاً یہ کہا ہے کہ مشرکین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ابوبکر ابن قحافہ کے نشان قدم تھے_(۱) وہ یونہی چلتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے_

ان عرائض سے معلوم ہوتا ہے کہ در منثور اور السیرة الحلبیة میں منقول یہ بات درست نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس رات انگلیوں کے بل چلتے رہے تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشان ظاہر نہ ہوں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاؤں گھس گئے_ (گویا مسافت اس قدر زیادہ تھی) اور حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھالیا یہاں تک کہ غار کے دھانے تک پہنچ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتارا_ ایک اور روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اونٹ جدعاء پر سوار ہوکر حضرت ابوبکر کے گھر سے غار تک گئے_(۲)

قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش

کہتے ہیں کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ (کی گرفتاری) کیلئے سو اونٹوں اور حضرت ابوبکر کیلئے بھی اس قدر اونٹوں کی شرط رکھی(۳) _ جاحظ وغیرہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے_

اسکافی معتزلی نے اس کا جواب یوں دیا ہے ''قریش حضرت ابوبکر کی گرفتاری کے واسطے مزید سو اونٹوں کا نذرانہ کیوں پیش کرتے حالانکہ انہوں نے اس کی التجائے امان کو ٹھکرایا تھا_اور وہ قریش کے درمیان بے یار ومددگار تھے_ وہ ان کے ساتھ جو چا ہتے کرسکتے تھے_ بنابریں یا تو قریش دنیاکے احمق ترین افراد تھے یا عثمانی ٹولہ روئے زمین کی تمام نسلوں سے زیادہ جھوٹا اور سب سے زیادہ سیہ رو تھا_ اس واقعے کا ذکر نہ سیرت کی کسی کتاب میں ہے نہ کسی روایت میں نہ کسی نے اسے سنا تھا اور نہ ہی جاحظ سے قبل کسی کو اس کی خبر تھی''_(۴)

___________________

۱_ بحارالانوار ۱۹ ص ۷۴ از الخرائج نیز رجوع کریں ص ۷۷ اور ۵۱ ، اعلام الوری ص ۶۳ و مناقب آل ابیطالب ج ۱ ص ۱۲۸ اور تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۶ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ سیرت حلبی ج ۲ص ۳۴ _۳۸ اور تارخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۸ والدر المنثور_

۳_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۹_

۴_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج۱۳ ص ۲۶۹_

۳۳۱

یہاں ہم اس بات کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ جب (ان لوگوں کے بقول) حضرت ابوبکر کے قبیلے نے پہلے ان کی حمایت کی تھی تو اب ان کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ نیز جب وہ قریش کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے (اس بات کا ذکر حبشہ کی طرف ابوبکر کی ہجرت کے حوالے سے گزر چکا ہے) تو پھر قریش والے ان کیلئے سو اونٹوں کی شرط کیوں رکھنے لگے جس طرح خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے سو اونٹوں کی شرط رکھی تھی؟ قریش نے حضرت ابوبکر کی کڑی نگرانی کیوں نہیں کی اورانکے پیچھے جاسوس کیوں نہیں چھوڑے یا جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر شبخون مارنے کی کوشش کی تھی ان پر بھی شبخون مارنے کیلئے افراد روانہ کیوں نہ کئے؟ اسی طرح قریش حضرت ابوبکر کے پیچھے اس قدر دولت کیونکر داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ وہ شخص جس کے باعث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے چنگل سے نکل گئے تھے، علیعليه‌السلام تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان بے خطر رہ رہے تھے اور کسی شخص نے انہیں چھیڑا اور نہ ہی کسی قسم کی نا خوشگوار گفتگو کی_ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی منزلت کو بلند کر کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہمدوش قرار دینا ہے اور ساتھ ساتھ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حضرت علیعليه‌السلام کے سونے کے سارے اثرات کو مٹانا ہے تاکہ حضرت ابوبکر کی عظمت اور منزلت کے سامنے حضرت علیعليه‌السلام کی طرف کسی کی توجہ ہی مبذول نہ ہو_

تا صبح انتظار کیوں

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مشرکین نے شب ہجرت صبح تک انتظار کیوں کیا؟ اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ دیوار پھلانگنے کا تھا_ لیکن گھر سے ایک عورت چیخی_ یہ سن کر ان میں سے کسی نے کہا''اگر لوگ کہیں کہ ہم نے اپنی چچا زاد بہنوں کے گھر کی دیوار پھاند لی ہے تو یہ عربوں کے درمیان شرمناک بات ہوگی_(۱)

یا شاید اس کی وجہ یہ ہو (جیساکہ کہا گیا ہے) کہ ابولہب رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل پر راضی نہ تھا کیونکہ اس میں

___________________

۱_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۸، الروض الانف ج۲ ص ۲۲۹ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۲۷ مع حاشیہ اور ملاحظہ ہو: تاریخ الہجرة النبویہ (ببلاوی) ص ۱۱۶_

۳۳۲

عورتوں اور بچوں کو خطرہ تھا(۱) _ ممکن ہے کہ ان دونوں باتوں کے پیش نظر انہوں نے صبح تک انتظار کیا ہو_ یا اس لئے بھی کہ لوگ (دن کی روشنی میں) دیکھ لیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سارے قبائل نے ملکر قتل کیا ہے یوں یہ بات بنی ہاشم کے خلاف ایک بہانہ ہوتی اور بنی ہاشم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا انتقام نہ لے سکتے(۲) _

حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات

کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر روانہ ہوئے تو اپناسارا مال جو پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم پر مشتمل تھا ساتھ لے کر چلے_ ان کے والد ابوقحافہ (جن کی بینائی چلی گئی تھی) اپنے بیٹے کے اہل خانہ کے پاس آئے اور کہا خدا کی قسم میں تو یہ مشاہدہ کررہا ہوں کہ اس نے اپنے مال اور اپنی جان کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ان کی بیٹی اسماء بولی :'' نہیں بابا وہ ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ کرگئے ہیں'' _ (اسماء کہتی ہے) پس میں نے کچھ پتھر اٹھائے اور ان کو گھرکے ایک روشن دان میں رکھا جہاں میرا بابا اپنا مال رکھتا تھا _پھر میں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑکر کہا اے بابا اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ_ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا:'' کوئی بات نہیں اگر اس نے تمہارے لئے یہ چھوڑا ہے تو اچھا کیا ہے_ یہ تمہارے لئے کافی ہوگا حالانکہ واللہ اس نے ہمارے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ بوڑھے کو تسلی دوں''_(۳)

یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ کو خدا پرستی کے جرم میں ایذائیں دی جاتی تھیں_ پس حضرت ابوبکر نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر غار میں تھے تو عامر ابوبکر کی دودھ دینے والی بکریاں لیکر ان کے پاس آیا تھا وہ ان کو چراتا تھا_ اور شام کو ان کے پاس آتا تاکہ ان کیلئے دودھ دوہ لے_

___________________

۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۵۰_

۲_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۸ _ ۲۶_

۳_ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۳، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۷۹ و الاذکیاء از ابن جوزی ص ۲۱۹، حیات الصحابة ج۲ ص ۱۷۳_۱۷۴، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۵۹ طبری اور احمد سے نقل کیا ہے_ ابن اسحاق کے علاوہ اس کے سارے راوی صحیح بخاری والے راوی ہیں اور ابن اسحاق نے بھی خود اپنے کانوں سے سننے پر تاکید کی ہے_

۳۳۳

ادھر اسماء بنت ابوبکر شام کے وقت ان کیلئے مناسب کھانا لیکر آتی تھی(۱) _

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر چالیس ہزار درہم خرچ کئے_ ایک جگہ دینار کا لفظ آیا ہے(۲) _ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی ہم نشینی اور مدد کے ذریعے میرے اوپر اتنا احسان نہیں کیا جس قدر ابوبکر نے کیا اور اتنا مجھے کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے_یہ سن کر حضرت ابوبکر رو پڑے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اور میرا مال کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سوا کسی اور کیلئے ہیں؟(۳)

یا یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے ابوبکر سے زیادہ اپنے مال یا اہل کے ذریعے مجھ پر احسان نہیں کیا اور ایک اور روایت میں مذکور ہے مجھ پر کسی نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے ابوبکر سے زیادہ احسان نہیں کیا_ اگر اللہ کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو دوست منتخب کرتا_ لیکن اسلام والی برادری اور محبت موجود ہے_ تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیئے گئے سوائے حضرت ابوبکر کے دروازے کے(۴) _

حدیث غار میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم نے ان دونوں کیلئے جلدی میں زاد راہ تیار کیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں ان کیلئے کھانے کا سامان رکھا_ واقدی کہتے ہیں اس دستر خوان میں ایک پکی ہوئی بکری تھی_ اسماء بنت ابوبکر نے اپنا کمربند پھاڑکر اس کے دو حصے کئے_ ایک حصے سے تھیلی کا منہ بند کیااور دوسرے حصے سے پانی کی مشک کا منہ بند کیا_ اسی وجہ سے اسے ذات النطاقین کا لقب ملا(۵) _

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ و التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷ ، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ والتراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۳_ ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲ و لسان المیزان ج۲ ص ۲۳ ، اس کے دیگر مآخذ کا ذکر بعد میں ہوگا_

۴_ مراجعہ ہو صحیح بخاری ( مطابق ارشاد الساری) ج۶ ص ۲۱۴، ۲۱۵ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، الجامع الصحیح (ترمذی )ج۵ ص ۶۰۸ ، ۶۰۹ ، نیز عامر بن فہیرہ والی حدیث سے قبل کی حدیث میں مذکور منابع_

۵_سیرت حلبیہ ج۲ ص ۳۳ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و ۳۳۰_

۳۳۴

ترمذی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی بیٹی دی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دار ہجرت (مدینہ) پہنچایا اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہے_ ایک اور روایت میں مذکور ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کا ہم پر کوئی حق تھا اسے ہم نے ادا کردیا سوائے ابوبکر کے جس کا ہمارے اوپر حق ہے اور قیامت کے دن اللہ اسے اس کی جزا دے گا_(۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ یہ ساری باتیں مشکوک ہیں بلکہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں_

۱_ عامر بن فہیرہ

ابن اسحاق واقدی اور اسکافی وغیرہ کا کلام اس بارے میں ذکر ہوچکا کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر کا آزاد کردہ غلام نہ تھا_ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی اس کو خرید کر آزاد کیا تھانہ کہ حضرت ابوبکر نے_

۲_ نابینا ابوقحافہ

جو روایت یہ کہتی ہے کہ اسماء نے اس جگہ پتھر رکھے تھے جہاں اس کا باپ اپنا مال رکھتا تھا تاکہ ابوقحافہ اس کو چھو کر مطمئن ہوجائے، اس روایت کی نفی درج ذیل امور سے ہوتی ہے_

الف: فاکہی ابن ابوعمر کہتا ہے کہ سفیان نے ابوحمزہ ثمالی سے ہمارے لئے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار کی طرف روانہ ہوئے تو میں جستجو کی غرض سے نکلا کہ شاید کوئی مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بتائے_ پس میں حضرت ابوبکر کے گھر آیا_ وہاں میں نے ابوقحافہ کو پایا وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا لئے میری طرف بڑھا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ یہ کہتے ہوئے میری طرف دوڑا'' یہ ان گمراہوں میں سے ہے جس

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے سلسلے میں تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۲۳ _ ۳۳۰ سیرت حلبی ج۲ ص ۳۲،۳۳،۴۰اور ۳۹، الجامع الصحیح (ترمذی) ج۵ ص ۶۰۹، السیرة النبویة ( ابن ہشام) ج۲، صحیح بخاری باب ہجرت ، فتح الباری ج۷ صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، الدرالمنثور والفصول المہمة ( ابن صباغ) ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ، لسان المیزان ج/۲ ص ۲۳ اور البدایة والنہایة ج۵ ص ۲۲۹ و مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۲ از طبرانی اور الغدیر _ان کے علاوہ بہت سارے دیگر مآخذ موجود ہیں جن کے ذکر کی گنجائشے نہیں ، ان کی طرف رجوع کریں_

۳۳۵

نے میرے بیٹے کو میرا مخالف بنا دیا ہے''_(۱)

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابوقحافہ اس وقت تک نابینا نہ ہوا تھا_ اس حدیث کی سندبھی ان لوگوں کے نزدیک معتبر ہے_

ب: ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ حضرت ابوبکر نے کس وجہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑا_ ان پر حضرت ابوبکر کی طرف سے یہ کیسا ظلم تھا؟ نیز ابوقحافہ (جو ان کے بقول نابینا تھا) کو کہاں سے علم ہوا کہ وہ سارا مال ساتھ لے کر چلے گئے تھے جو وہ یہ کہتا: ''اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ہے''؟

ج: یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسماء نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟ کیا وہ اس وقت زبیر کی بیوی نہ تھی؟ اور کیا اس نے زبیر کے ساتھ پہلے ہی مدینہ کی طرف ہجرت اختیار نہ کی تھی؟ کیونکہ اس وقت مکہ میں حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کسی مشکل یا مصیبت میں مبتلا تھے_اس وقت حضرت ابوبکر کی بیویاں کہاں گئی تھیں؟

۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے

رہایہ دعوی کہ اسماء شام کے وقت کھانا لیکر غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر کے پاس جاتی تھی نیز اس نے ان دونوں کیلئے زاد سفر تیار کیا تھا اور اسی نے ان کیلئے دو سواریاں بھیج دی تھیں، اس طرح اس کو ذات النطاقین کا لقب ملا تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں_

اولًا: یہ کہ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر کے چلے جانے کے تین دن بعد تک بھی کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جن نے اپنے اشعار میں اس کا اعلان کیا تو لوگوں کو علم ہوا _ اگر کوئی یہ کہے کہ تین دن سے مراد غار سے خارج ہونے کے بعد والے تین دن ہیں_ تو یہ بھی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۶۰ _۲۶۱ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قحافہ کی نظر میں اس کا بیٹا دین سے نکلا ہوا انسان تھا اور یہ کہ حضرت ابوبکر عبداللہ و غیرہ کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ روایت اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے _

۳۳۶

درست نہیں، کیونکہ ان لوگوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ غار سے خارج ہونے کے دو دن بعد ان کو علم ہوا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ چلے گئے ہیں_(۱) حلبی شافعی نے اسی طرح ذکر کیا ہے_ اور اس کی صحت وسقم کی ذمہ داری خود اسی کی گردن پر ہوگی_

مغلطای کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکے سے خارج ہونے کا علم حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو نہ تھا چنانچہ وہ دونوں غار ثور میں داخل ہوئے_(۲)

ثانیاً: منقول ہے کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام ہی نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سامان خورد و نوش غار تک پہنچاتے تھے(۳)

بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو پیغام بھیجا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے زاد راہ اور سواری کا بندوبست کریں_ چنانچہ حضرت علیعليه‌السلام نے اس کی تعمیل میں سواری اور زاد راہ کا بندوبست کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ارسال کی_ ادھر حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا تو اس نے زاد سفر اور دو سواریاں بھیجیں یعنی اس کے اور عامر بن فہیرہ کیلئے جیساکہ روایت میں مذکور ہے اور شاید حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے یہ سواری بھی خرید لی ہو_(۴) جیساکہ حضرت علیعليه‌السلام نے شوری والے دن اسی بات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے غار میں کھانا بھیجتا تھا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبروں سے مطلع کرتا تھا؟ وہ بولے:'' نہیں''_(۵)

یہاں سے یہ قول بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابوبکر غار میں ان دونوں کے پاس مکہ کی خبریں پہنچایا کرتا تھا_(۶)

___________________

۱_ السیرة الحلبی ج ۲ ص ۵۱_

۲_ سیرت مغلطای ص ۳۲ _

۳_ تاریخ دمشق (حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی) ج ۱ ص ۱۳۸ نیز اعلام الوری ص ۱۹۰ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۸۴ از اعلام الوری نیز تیسیر المطالب فی امالی الامام علی بن ابی طالب ص ۷۵__

۴_ اعلام الوری ص ۶۳ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۰ اور ص ۷۵ از اعلام الوری و از خرائج و از قصص الانبیاء _

۵_ احتجاج طبرسی ج ۱ ص ۲۰۴ _

۶_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۹، سیرت ابن ہشام اور کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۱۰ از بغوی اور ابن کثیر _

۳۳۷

ثالثاً: نطاق اور نطاقین والی حدیث بھی ایک طرف سے تو اختلاف روایات کا شکار ہے(۱) اور دوسری طرف سے مقدسی نے پہلے قول کو ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے'' کہا جاتا ہے کہ جب چادر والی آیت اتری تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمربند پر ڈالا اور اس کے دو برابر حصے کر دیئے_ ایک حصے سے اپنا سر چھپا لیا''_(۲)

یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماء نے حجاج سے کہا میرے پاس ایک کمربند تھی جس کے ذریعے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کھانے کو بھڑوں سے محفوظ رکھتی تھی اور عورتوں کیلئے ایک کمربند کی بھی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہی ہے_(۳)

حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث

حدیث باب اور ابوبکر سے دوستی والی حدیث''لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا '' (اگر مجھے کسی سے دوستی کرنی ہوتی تو ابوبکر کو دوست بنالیتا) کے سلسلے میں ہم تفصیلی گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ (ابن ابی الحدید) معتزلی کے بیان کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_ اس نے کہا '' ان احادیث کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے مریدوں نے اپنے پیر کی شان میں احادیث گھڑی ہیں مثال کے طور پر'' لوکنت متخذا خلیلا '' والی حدیث _انہوں نے یہ حدیث، بھائی چارے والی حدیث کے مقابلے میں گھڑی ہے_ نیز سد ابواب والی حدیث جو درحقیقت حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں تھی لیکن حضرت ابوبکر کے پرستاروں نے اس کو ابوبکر کے حق میں منتقل کردیا''_(۴)

علاوہ ازیں یہ حدیث ان کی نقل کردہ اس حدیث کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے

___________________

۱_ اس تضاد کے بعض پہلوؤں سے آگاہی کیلئے الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیے پر) ج ۴ ص ۲۳۳ کی طرف رجوع کریں _

۲_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۷۸ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۳۳ _

۴_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۱ ص ۴۹ و الغدیر ج ۵ ص ۳۱۱ _

۳۳۸

ابوبکر کو اپنا دوست چن لیا تھا جیساکہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے_(۱) اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کس کو ما نیں اور کس کو نہ مانیں؟

سد ابواب والی حدیث کے بارے میں شاید ہم کسی مناسب جگہ پر بحث کریں_ اسی طرح دوستی والی حدیث کے بارے میں حدیث مواخاة پر بحث کے دوران گفتگو ہوگی انشاء اللہ تعالی_

۵_ حضرت ابوبکر کی دولت

حضرت ابوبکر کی دولت اور ان کی چالیس ہزار درہم یا دینار نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر خرچ کرنے وغیرہ کے بارے میں عرض ہے کہ اسماء اور ابوقحافہ کے درمیان ہجرت کے دوران ہونے والی مذکورہ گفتگو اور دیگر باتوں کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں گزشتہ پانچ صفحوں میں ذکر شدہ عرائض کے علاوہ ہم درج ذیل نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

الف: وہ حدیث جس میں مذکور تھا کہ ''اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے جتنا احسان ابوبکر نے مجھ پر کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا اوریہ کہ ہمارے ساتھ احسان کرنے والے ہرفرد کا حق ہم نے ادا کردیا ہے سوائے ابوبکر کے جس کے احسان کا بدلہ خدادے گا'' یہ حدیث درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:

۱_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہما کی فدا کاریوں، مالی قربانیوں اور راہ اسلام میں ان کی امداد نیز جان مال اور اولاد کے ذریعے آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بدلہ کب دیا ؟ اسلام کی راہ میں ان دونوں نے جس قدر مال خرچ کیا اور قربانی دی کیاوہ تمام دوسرے انسانوں کی طرف سے اسلام کی راہ میں دی گئی قربانیوں اور دولت سے زیادہ نہ تھی؟ اس کے علاوہ اس دین کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کی واضح خدمات تھیں جن سے سوائے کسی سرکش اور ضدی دشمن کے کوئی انکار نہیں کرسکتا_

___________________

۱_ ریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۶ ،ارشاد الساری ج۶ ص ۸۶ از حافظ السکری ، الغدیر ج۸ ص ۳۴ مذکورہ دونوں مآخذ سے و از کنز العمال ج۶ ص۱۳۸_۱۴۰ طبرانی اور ابونعیم سے_

۳۳۹

۲_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر منت والی حدیث بھی عجیب ہے کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں کسی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت خدیجہعليه‌السلام بلکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے اموال موجود تھے_(۱) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہجرت کے وقت تک ان کو مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے اور شروع شروع میں حضرت ابوطالب کا بوجھ کم کرنے کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کا بھی خرچہ برداشت کرتے تھے_ منقول ہے کہ حضرت عمر نے اسماء بنت عمیس کی سرزنش کی اور کہا کہ مجھے تو ہجرت نصیب ہوئی لیکن تجھے نصیب نہیں ہوئی_ اسماء نے جواب دیا ''تم لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مال کے ساتھ اپنے بھوکوں کو کھلانے اور اپنے جاہلوں کی ہدایت میں مشغول تھے''_ اس کے بعد اسماء نے اس کی شکایت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے دو ہجرتوں سے سر افراز ہوئے جبکہ ان لوگوں نے فقط ایک ہجرت کی ہے_(۲)

۳_ یہاں یہ بتانا کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ ایک یا دو اونٹ ہجرت کے وقت قیمت کے بغیر قبول نہ فرمائے اور قیمت کی ادائیگی بھی فوراً کی، جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سخت ترین حالات سے دوچار تھے_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس مقام پر حضرت ابوبکر کاہدیہ قبول نہ فرمایا تو یہی حال حضرت ابوبکر کی طرف سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مال خرچ کرنے کے بارے میں مروی دیگر روایات کا بھی ہے_

۴_ ان باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے مکہ میں کوئی لشکر ترتیب نہیں دیا اور نہ کوئی جنگ کی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لشکر کی تیاری نیز سواریوں اور سامان حرب پر وسیع پیمانے پر خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عیش وعشرت پر بھی مال خرچ نہ فرماتے تھے_

___________________

۱_ ابتدائے بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابوطالب شعب ابوطالب میں بنی ہاشم پر اپنا مال خرچ کرتے تھے_ رہی بات حضرت خدیجہعليه‌السلام کی دولت تو وہ اپنی شہرت کی بنا پر محتاج بیاں نہیں حضرت خدیجہ کے اموال کے بارے میں ابن ابی رافع کا کلام پہلے گزر چکا ہے_

۲_ رجوع کریں : الاوائل ج ۱ ص ۳۱۴ و البدایة و النہایة ج ۴ ص ۲۰۵ از بخاری و صحیح بخاری ج ۳ ص ۳۵ مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ، صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۷۲، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۶ از ابونعیم اور طیالسی نیز رجوع کریں فتح الباری ج ۷ ص ۳۷۲ اور مسند احمد ج ۴ ص ۳۹۵ اور ۴۱۲ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۶۱_

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417