الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209991 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

ایمان ابوطالبعليه‌السلام کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟

ہم جرا ت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابوطالبعليه‌السلام کا اپنے ایمان کو مخفی رکھنا اسلام کی ایک شدید ضرورت تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دعوت اسلامی کو ایک ایسے بااثر فرد کی ضرورت تھی جو اس دعوت کیپشت پناہی اور اس کے علمبردار کی محافظت کرتا بشرطیکہ وہخود غیر جانبدار ہوتا تاکہ اس کی بات میں وزن ہو _یوں اسلامی دعوت اپنی حرکت و کارکردگی کو غیر مؤثر بنانے والے ایک بہت بڑے دباؤ کا سامنا کئے بغیر اپنی راہ پر چل نکلتی_

ابن کثیر وغیرہ نے کہا ہے اگر ابوطالبعليه‌السلام مسلمان ہوجاتے (ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان تھے لیکن اس حقیقت کو چھپاتے تھے) تو مشرکین قریش کے پاس ان کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور نہ ان کی بات میں وزن ہوتا _نیز نہ ان پر آپ کی ہیبت باقی رہتی اور نہ وہ ان کا احترام ملحوظ رکھتے بلکہ ان کے خلاف ان میں جسارت پیدا ہوتی اور اپنے دست و زبان سے ان کی مخالفت کرتے_(۱)

ابوطالبعليه‌السلام پر تہمت کیوں؟

شاید حضرت ابوطالب کا واحد جرم یہ ہو کہ وہ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام کے والد تھے_ درحقیقت اس قسم کی ناروا تہمتوں کا اصلی ہدف حضرت ابوطالبعليه‌السلام نہیں بلکہ ان کے بیٹے حضرت علیعليه‌السلام ہیں جوامویوں، زبیریوں اور دشمنان اسلام کی آنکھوں کا کانٹا تھے _ان لوگوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام سے مربوط ہر کام میں عیب نکالیں یہاں تک کہ نوبت ان کے بھائی جعفر اور ان کے والد ابوطالبعليه‌السلام تک بھی جا پہنچی _بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ان کے حق میں مختلف فرقوں کے نزدیک صحیح سند کے ساتھ ثابت کوئی فضیلت ایسی نہیں جس کی نظیر خلفاء ثلاثہ کیلئے بھی بیان نہ کی گئی ہو (البتہ ضعیف اسناد کے ساتھ) تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں اور برہان کامل بھی اس کی ہی ہے_

ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر ابوسفیان یا حضرت علیعليه‌السلام کے دیگر دشمنوں کے آباء و اجداد میں سے کسی

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۴۱ نیز رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ ص ۴۶_

۲۰۱

ایک نے بھی ابوطالبعليه‌السلام جیسی خدمات کا دسواں حصہ انجام دیا ہوتا تو اس کی خوب تعریفیں ہوتیں اور اسے زبردست خراج تحسین پیش کیاجاتا _اس کی شان میں احادیث کے ڈھیر لگ جاتے_ نیز دنیوی و اخروی لحاظ سے اس کی کرامتوں اور شفاعتوں کا زبردست چرچاہوتا بلکہ ہر زمانے اور ہر مقام پر ان چیزوں میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا_

عجیب بات تو یہ ہے کہ معاویہ کا باپ ابوسفیان جس نے حضرت عثمان (کے خلیفہ بننے کے بعد ان )کی محفل میں یہ کہا: '' یہ حکومت تیم اور عدی سے ہوتے ہوئے اب تم تک آئی ہے اسے اپنے درمیان گیند کی طرح لڑھکا تے رہو اور بنی امیہ کو اس حکومت کے ستون بناؤ ، کیونکہ یہ تو صرف حکومت کا کھیل ہے_ قسم ہے اس کی جس کی ابوسفیان قسم کھاتا ہے نہ جنت کی کوئی حقیقت ہے نہ جہنم کی''(۱) وہ تو ان کی نظر میں مؤمن متقی عادل اور معصوم ٹھہرا لیکن حضرت ابوطالب (بہ الفاظ دیگر حضرت علیعليه‌السلام کے والد) کافر و مشرک ٹھہرے اور جہنم کے ایک حوض میں ان کا ٹھکانہ ہو جس کی آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے اور جس کی حرارت سے ان کا دماغ کھولنے لگے_ (نعوذ باللہ من ذلک) آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

ابولہب اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصرت؟

مذکورہ بالا معروضات کے بعداس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے جس کا بعض لوگ اس مقام پر ذکر کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ابوطالبعليه‌السلام کی وفات کے بعد ابولہب نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا _ قریش نے از راہ حیلہ ابولہب سے کہا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہتا ہے کہ تمہارا باپ عبدالمطلب جہنمی ہے_ ابولہب نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے جو جواب دیا وہ ان لوگوں کے قول کے مطابق تھا پس ابولہب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا پھر زندگی بھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دشمنی اختیار کی_(۲)

___________________

۱_ النزاع و التخاصم ص ۲۰ عجیب بات یہ بھی ہے کہ معاویہ جس کے باپ کے نظریات او پر مذکور ہوچکے ہیں اور بیٹا یزید جو یہ کہتا ہو کہ ''لعبت ہاشم بالملک فلا خبر جاء و لا وحی نزل'' بنی ہاشم نے حکومت کا کھیل کھیلا وگرنہ حقیقت میں نہ تو کوئی خبر آئی ہے نبوت کی اور نہ ہی کوئی وحی اتری ہے _ یہ سب کے سب اور ان کے ماننے والے تو پکے مسلمان لیکن ابوطالب اورانہیں مسلمان ماننے والے ؟ از مترجم _

۲_ بطور مثال رجوع کریں : البدایة والنہایة ج۳ ص ۴۳ از ابن جوزی اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۲_

۲۰۲

ہمیں یقین ہے کہ یہ واقعہ جھوٹا ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں_

پہلی وجہ: یہ ہے کہ ابولہب کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ دس سالہ دشمنی کے دوران کیونکر علم نہ ہوا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اسلام کا نقطہ نظر حالت شرک میں مرنے والے ہر شخص کے بارے میں یہی ہے کہ وہ جہنمی ہوتا ہے؟ پھر وہ اتنی مد ت تک کس بنا پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقابلہ کرتا رہا؟

نیز اس نے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی زندگی میں حضوراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کیوں دشمنی کی اور ان کی وفات کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور نصرت پر کیوں اتر آیا؟ وہ بتائیں کہ ابوطالبعليه‌السلام نے ابولہب کی روش کیوں نہیں اپنائی اورابولہب نے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی روش کیوں اختیار نہیں کی؟

دوسری وجہ: ہم پہلے ہی بیان کرچکے کہ عبدالمطلب مشرک نہیں تھے بلکہ سچے مؤمن تھے_

یہ روایت کیوں گھڑی گئی؟

اس روایت کو جعل کرنے کی وجہ شاید یہ تاثر دینا ہو کہ حضرت ابوطالب کی حمایت خاندانی جذبے، نسلی تعصب یا بھتیجے کے ساتھ فطری محبت کی بنا پر تھی_ لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس سے قبل ابولہب کا خاندانی تعصب اور جذبہ کہاں تھا؟ یا بھتیجے کے ساتھ اس کی فطری محبت کہاں گئی ہوئی تھی؟ خاص کر اس وقت جب قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابوطالب میں محاصرہ کررکھا تھا اور وہ بھوک کی وجہ سے قریب المرگ ہوگئے تھے؟

نیز اس کے بعد بھی اس کا قومی اور خاندانی جذبہ کہاں چلاگیا؟ ابولہب ہی تھا جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستانے اور لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور رکھنے کیلئے جگہ جگہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تعاقب کرتا تھا _حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی قربانیوں کے ذکر میں ہم نے اس بارے میں بعض عرائض پیش کئے تھے، لہذا ان کا اعادہ مناسب نہیں_

۲۰۳

چوتھا باب

ہجرت طائف تک

پہلی فصل : ہجرت طائف

دوسری فصل : بیعت عقبہ تک کے حالات

تیسری فصل : بیعت عقبہ

۲۰۴

پہلی فصل

ہجرت طائف

۲۰۵

نئی جد وجہد کی ضرورت

حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی وفات کے باعث پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک ایسے طاقتور مددگار سے محروم ہوگئے جس نے اپنے ہاتھ، اپنی زبان، اپنے اشعار، اپنی اولاد، اپنے رشتہ داروں اور تمام وسائل کے ساتھ آنحضرتعليه‌السلام کی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آسمانی مشن کی حمایت کی_ اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے اپنی حیثیت، دولت اور معاشرتی روابط کو بھی داؤ پر لگا دیا (جیساکہ بیان کیا چکا ہے)_

قریش کا یہ خیال تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عزم و عمل اپنے حامی وناصر کی موت کے بعد کمزور پڑجائے گا _چنانچہ ابوطالبعليه‌السلام کی وفات کے بعد قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مختلف قسم کی اذیتیں پہنچائیں_ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عظیم المرتبت چچا کی زندگی میں اس قسم کی اذیتیں پہنچانے سے عاجز تھے_ لیکن اب ان کو موقع ملاکہ وہ اپنے اندرونی کینے کا اظہار کریں اور دل کی بھڑاس نکالیں، اس شخص کے خلاف جسے وہ اپنے لئے مشکلات اور مسائل کی بنیاد سمجھتے تھے_

حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی یہی محسوس کیا کہ اسلام کو زبردست دباؤکا سامنا ہے جو اس دین کی ترویج اور لوگوں کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے_ کیونکہ مسلمان دیکھتے تھے کہ قبول اسلام کا نتیجہ ایذا رسانی وتعذیب یا اہانت وتحقیر کے سوا کچھ نہیں نکل رہا_ بلکہ اب تک جو کچھ ہاتھ آچکا تھا اور جس امر کے حصول کیلئے خطرات ومشکلات کامقابلہ کرتے ہوئے زبردست جدوجہد کی گئی تھی وہ بھی ایسے خطرات کی نذر ہوسکتا تھا جن کا کامیاب مقابلہ شاید آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس کی بات نہ ہوتی_

ان حالات کے پیش نظر ایک نئی جدوجہد کی ضرورت تھی جو دعوت اسلامی کیلئے مہمیز ثابت ہوتی نیز اس کو مزید جاندار کرنے اور متوقع خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ طاقتور بناتی_

۲۰۶

پس جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کامکہ میں بیٹھے رہنا دعوت اسلامی کیلئے جمود کا باعث ٹھہرا اگرچہ اس دعوت کے وجودکیلئے باعث خطر نہ بھی ہوتا تو واضح ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فطری طور پر ایک ایسی جگہ تلاش کرتے جہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قریش کی ایذا رسانیوں اور سازشوں سے دوررہتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں اور دعوت الی اللہ کا سلسلہ جاری رکھ سکتے اور وہ مسلمان جو قریش کے ہاتھوں قسم قسم کی اذیتوں اور تکالیف میں مبتلا تھے سکون کاسانس لے سکتے، قبل اس کے کہ وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے یا پے درپے مشکلات اور دباؤکے باعث ہتھیار ڈال دیتے_ ان وجوہات اوران کے علاوہ دیگر اسباب کی بنا پر آنحضرتعليه‌السلام نے طائف کی طرف ہجرت فرمائی_

ہجرت طائف

جب خدانے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ سے نکلنے کی اجازت دی (کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حامی ومددگار ابوطالبعليه‌السلام اس دنیا سے جاچکا تھا) تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طائف کی طرف نکل پڑے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ (مختلف اقوال کی رو سے) حضرت امام علیعليه‌السلام (۱) یا زید بن حارثہ یا دونوں تھے(۲) یہ واقعہ بعثت کے دسویں سال کا ہے جبکہ ماہ شوال کے چند دن ابھی باقی تھے_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طائف میں دس دن رہے_ ایک قول کی بناپر ایک ماہ رہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں کے سرکردہ لوگوں میں سے ہر ایک کے ساتھ ملاقات کر کے گفتگو فرمائی لیکن کسی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مثبت جواب نہ دیا_ انہیں اپنی نوجوان نسل کے بارے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خطرہ محسوس ہوا _چنانچہ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وہاں سے نکل جانے کیلئے کہا_ ادھر اوباشوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف اکسایا جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے راستے میں دوقطاریں بناکر بیٹھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پتھربرسانے لگے_ حضرت علیعليه‌السلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع کررہے تھے یہاں تک کہ حضرت علیعليه‌السلام یازید بن حارثہ کا سر زخمی ہوگیا_

___________________

۱_ سیرة المصطفی ص ۲۲۱_۲۲۲اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۹۷از شیعہ_

۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۴ص ۱۲۷از مدائنی اور سیرت مصطفی ص ۲۲۱_۲۲۲_

۲۰۷

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ربیعہ کے بیٹوں(عتبہ، اور شیبہ) کے باغ میں پناہ لی اور اس باغ کے ایک کونے میں بیٹھ گئے_ ربیعہ کے بیٹوں نے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تکلیف میں مبتلا دیکھا تو ان کے جذبات بیدار ہوئے_ انہوں نے اپنے غلام ''عداس'' کو جو نینوا کا باشندہ اور نصرانی تھا، انگوروں کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں بھیجا_ اس نے انگور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے رکھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ''بسم اللہ الرحمن الرحیم'' کہا_ عداس کویہ دیکھ کر (کہ اس علاقے میں کوئی خدا کا نام لیوا بھی موجود ہے) تعجب ہوا پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور اس کے درمیان گفتگو ہوئی جس میں عداس مسلمان ہوا_ ربیعہ کے ایک بیٹے نے دوسرے سے کہا تیرے غلام کو اس نے تیرا مخالف بنادیا_

اس کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام مکہ لوٹے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نت نئی اذیتیں دینے کے درپے ہوگئے لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر قسم کی متوقع مشکلات کا مقابلہ کرنے کےلئے عزم صمیم کے ساتھ آمادہ تھے _چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ساتھی حضرت علیعليه‌السلام یا حضرت زید سے فرمایا بتحقیق اللہ ان (مشکلات) سے نکلنے اور نجات حاصل کرنے کی کوئی سبیل نکالے گا_ بے شک وہ اپنے دین کا ناصر اور اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فتح عطاکرنے والا ہے_

اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اخنس بن شریق سے کہا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں داخل ہونے کیلئے اپنی امان میں لے، لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ قریش کاحلیف ہے اور کوئی حلیف (اپنے دوسرے حلیف کے مخالفین کو) پناہ نہیں دے سکتا_(۱)

اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سہیل بن عمرو سے امان مانگی لیکن اس نے بھی اس بہانے انکار کیا کہ اس کا تعلق بنی عامر سے ہے اور وہ بنی کعب کے مخالفین کو پناہ نہیں دے سکتا_ آخر کار آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں داخل مکہ ہوئے_ مطعم اور اس کے افراد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کیلئے مسلح ہوگئے_ ادھر قریش نے اس کی امان قبول کرلی_

___________________

۱_ ہجرت ابوبکر اور ابن دغنہ کی پناہ میں ان کی مکہ میں واپسی کا واقعہ ذکر کرتے وقت اس کے حوالہ جات گزر چکے ہیں_

۲۰۸

کہتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ پہنچنے کے پہلے ہی دن اس کی امان سے نکلنے کا فیصلہ کیا لیکن کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی امان میں کچھ مدت تک باقی رہے_

یہ ہے مختصر طور پر وہ واقعہ جسے مورخین نے ہجرت طائف اور وہاں سے واپسی کے متعلق بیان کیا ہے_

مزید ہجرتیں

یہ بھی کہتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچا حضرت ابوطالب کی رحلت کے بعد حضرت علیعليه‌السلام کو لیکر بنی صعصعہ کے ہاں چلے گئے لیکن انہوں نے مثبت جواب نہ دیا_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دس دن مکہ سے باہر رہے_ اس کے علاوہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے ساتھ بنی شیبان کے ہاں بھی ہجرت اختیار کی_ اس دفعہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیرہ دن مکہ سے باہر رہے لیکن وہاں سے بھی کسی قسم کی مدد حاصل نہ کرسکے_(۱)

یہاں ہم توقف کرتے ہیں تاکہ مذکورہ بالا باتوں سے مربوط بعض ایسے نکات کی وضاحت کریں جو ہماری دانست میں ایک حدتک اہمیت کے حامل ہیں_ یہ نکات درج ذیل ہیں:

۱_ عداس کا قصہ

رہا عداس کا مذکورہ کردار اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اس کے لائے ہوئے انگور کو تناول فرمانا تو یہ بات ہمارے نزدیک مشکوک ہے جس کی درج ذیل وجوہات ہیں:

(الف) پہلے بیان ہوچکا ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی مشرک کے تحفے کو قبول نہیں کرتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو منظور نہ تھا کہ مشرک کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر کوئی احسان ہو جس کے بدلے میں وہ آپ کے احسان کا مستحق بنے_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیونکر ربیعہ کے مشرک بیٹوں کا ہدیہ قبول فرمایا؟ اور کیسے راضی ہوئے کہ ان کا احسان اٹھائیں؟صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عداس کا ہدیہ قبول فرمایا تھا اور یہ نہیں جانتے تھے کہ اسے ان لوگوں نے بھیجا ہے _

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۴ص ۱۲۶ _

۲۰۹

(ب) مذکورہ روایت صاف کہتی ہے کہ عداس مسلمان ہوا حالانکہ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طائف سے غمگین ومحزون واپس آئے اور کسی مرد یا عورت نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت قبول نہ کی(۲) مگر یہ کہا جائے کہ ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ کسی آزاد شخص نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آواز پر لبیک نہیں کہا یا یہ کہ طائف والوں میں سے کسی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات نہیں مانی_ رہا عداس، تو وہ نینوا کا با شندہ تھا_

(ج) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے تقریبا دس سال گزرگئے تھے_ اس دعوت کی شہرت مکہ سے نکل کر دیگر شہروں اور سرزمینوں میں بھی پہنچ چکی تھی_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام زبان زد خاص وعام ہوچکے تھے_ پھر عداس کو طائف میں خدا کا نام سن کر تعجب کیسے ہوا جبکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو طائف آئے ہوئے دس دن یا ایک ماہ کا عرصہ بھی گزرچکا تھا؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کو بغیر کسی سستی یاتھکاوٹ کے مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے تھے_ کیا یہ معقول ہے کہ اس پورے عرصے میں عداس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کا تذکرہ ہی نہ سنا ہو، نہ طائف میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موجودگی کے دوران اور نہ ہی اس پورے علاقے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تبلیغ شروع ہونے کے بعد سے اب تک؟

وحی کی ابتداء سے مربوط روایت کی بحث کے دوران ہم نے عداس کے بارے میں تھوڑی گفتگو کی تھی، لہذا دوبارہ بحث کرنے سے گریز کرتے ہیں_

۲_کسی کی پناہ میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا داخل مکہ ہونا:

کہتے ہیں کہ اخنس بن شریق اور سہیل بن عمرو نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو دخول مکہ کیلئے پناہ دینے سے انکار کیا_ اخنس نے یہ بہانہ کیا کہ وہ قریش کا حلیف ہے اور حلیف اپنے ہم عہد کے کسی مخالف کو پناہ نہیں دے سکتے(۲) پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں داخل مکہ ہوئے_ ہمارے نزدیک یہ بات بھی مشکوک ہے کیونکہ:

___________________

۱_ رجوع کریں: طبقات ابن سعد ج ۱قسم اول ص ۱۴۲_

۲_ حبشہ کی طرف حضرت ابوبکر کی ہجرت کے باب میں اس کے حوالہ جات ملاحظہ کریں_

۲۱۰

(الف) ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ کسی مشرک کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کوئی حق ہو جس کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کا شکر گزار ہونا پڑے_

(ب) وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جواپنی زندگی کے پچاس سال عربوں کے درمیان گزار چکے تھے اس پوری مدت میں یہ کیسے نہ جان سکے کہ کوئی حلیف (دوسرے حلیف کے مخالف) کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اور یہ کہ بنی عامر بنی کعب کے کسی مخالف کو پناہ نہیں دے سکتے تھے_

(ج) کیا یہ عمل یعنی مشرکین کی پناہ لینا ظالموں اور کافروں کی طرف میلان نہیں؟ جبکہ خدا فرماتا ہے:(ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم ) یعنی اپنے دین کے پیروکاروں کے علاوہ کسی کو نہ مانو_

نیز فرماتا ہے:( ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ) (۱) یعنی ظالموں کی طرف میلان نہ رکھو وگرنہ آگ کا مزہ چکھنا پڑے گا_

(د) ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ عثمان بن مظعون ولید بن مغیرہ کی امان سے نکل گیا تاکہ اپنے دیگر بھائیوں کی دلجوئی کرسکے توکیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس لحاظ سے عثمان بن مظعون کے برابر بھی نہ تھے؟ اور کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ان اذیتوں اور سختیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ تھا جو قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہنچانے والے تھے؟ یہ تو سچ مچ ایک عجیب بات ہے_

نیز جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی امان کو رد کردیا تو قریش کی ایذا رسانیوں کا خوف کہاں گیا؟خاص کر اس صورت میں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو پہلے ہی دن ان کی پناہ سے نکل گئے تھے_

اگر کوئی یہ کہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل ہوجانے کا خطرہ تھا اسلئے ان لوگوں سے پناہ طلب کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو معلوم تھا کہ قریش ایسا نہیں کرسکتے اور ایسا کرنا ان حالات میں خود ان کے مفادات کے برخلاف تھا خصوصاًاس صورت میں کہ یہ کام اعلانیہ طور پر انجام پاتا_

ان ساری باتوں کے علاوہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر بنی ہاشم اس وقت کہاں گئے تھے؟ وہ اپنے سید

___________________

۱_ سورہ ہود، آیت ۱۱۳_

۲۱۱

وسردار کی حمایت کیلئے کیوں کھڑے نہ ہوئے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو دوسروں سے مدد لینی پڑی؟ آخر خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر (حضرت حمزہ) کہاں تھے_ جس نے ابوجہل کی خبر لی تھی (جیساکہ ذکر ہوچکا ہے)؟

۳_ جنوں کے ایک گروہ کا قبول اسلام

مورخین کہتے ہیں کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طائف سے مکہ واپس آرہے تھے تو بعض جنوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملاقات ہوئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا تو وہ ایمان لے آئے پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور انہیں اسلام کی بشارت دی اور عذاب الہی سے ڈرایا_ پس خدا نے اس واقعے کا ذکر قرآن میں یوں کیا: (قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا یہدی الی الرشد ...)_

لیکن بظاہر جنوںکے قبول اسلام کا واقعہ بعثت کے ابتدائی دنوں کا ہے کیونکہ روایت کہتی ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت ہوئی تو جنوں کیلئے آسمانوں سے خبریں چرانے کا راستہ بند ہوگیاکیونکہ اب ان کو آسمانی شہابوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا_ تب انہوں نے سوچا کہ اس کی وجہ زمین میں واقع ہونے والا کوئی غیر معمولی واقعہ ہوگا_ پس وہ زمین کی طرف لوٹے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت ہوچکی ہے_ تب انہوں نے قرآن کو سنا اور ایمان لے آئے پس یہ آیت اتری_(۱)

ایک اور روایت میں ہے کہ ابلیس نے اپنے لشکر کو بغرض تحقیق بھیجا جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کی خبر لیکر اس کی طرف پلٹے_(۲)

___________________

۱_ رجوع کریں: در المنثور ج ۶ ص ۲۷۰_۲۷۵ بخاری، مسلم، عبد بن حمید، احمد، ترمذی، نسائی، حاکم، ابن منذر، طبرانی، ابن مردویہ، ابونعیم، بیہقی اور دیگران سے اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۰۳_۳۰۴ اور کہا گیا ہے کہ سورہ احقاف کی آیات طائف سے واپس آتے ہوئے اسی مناسبت سے نازل ہوئیں لیکن درالمنثور ج ۶ ص ۴۵ مسلم، احمد، ترمذی اور عبد بن حمید و دیگران کے حوالے سے اسے رد کیا گیا ہے _

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۰۴ _

۲۱۲

ابن کثیر کا عقیدہ بھی ہمارے اس قول کے مطابق ہے کہ یہ واقعہ بعثت کے ابتدائی دنوں کا ہے_(۱) اس بات کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ بعض روایات کے مطابق جس رات جنوں نے اسلام قبول کیا ابن مسعود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے(۲) جبکہ ابن مسعود مہاجرین حبشہ میں سے ایک ہیں، بنابریں یہ واقعہ لازمی طور پر ہجرت حبشہ سے قبل کا ہونا چاہی ے یعنی بعثت کے پانچویں سال سے پہلے کا_

۴_ طائف اور آس پاس والوں سے روابط

طائف والوں کا اہل مکہ اور آس پاس والوں سے اقتصادی رابطہ تھا کیونکہ اہل طائف مکہ اور دیگر علاقوں کو پھل برآمد کرتے تھے_

بنابر این وہ اپنے مستقبل کو اقتصادی اور معاشرتی طور پر دوسروں کے ساتھ منسلک دیکھتے تھے_ اس بات کے پیش نظر طائف والوں کو ان لوگوں کے ساتھ نزدیکی تعلقات اور روابط استوار رکھنے اور ان کی خوشنودی و رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ان کو آس پاس والوں خاص کراہل مکہ (جو ان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی تھا) کی طرف سے معاشرتی دباؤ یااقتصای بائیکاٹ کاسامنا نہ کرنا پڑے (جیساکہ بنی ہاشم کو سامنا کرنا پڑا)_

محقق روحانی نے اس نکتے کا اضافہ کیا ہے کہ مکہ والوں کے ہاں ایک بُت تھا جسے عزی کہتے تھے_ اس بت کے مخصوص خادم تھے_ اہل عرب اس بت کی زیارت کرتے تھے،(۳) بنابریں اہل مکہ کو عربوں کے درمیان ایک قسم کی دینی مرکزیت حاصل تھی، جس کی وہ سختی سے حفاظت کرتے تھے_

یہاں سے ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ اہل طائف نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سختی کیوں برتی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جلد سے جلد نکال دینے کے در پے کیوں ہوئے؟

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۰۳مواھب اللدنیة سے _

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۰۴ _

۳_ الاصنام (کلبی)ص۱۶ ، حاشیہ سیرہ حلبیہ پر السیرة النبویہ و حلان ج ۳ ص ۱۱ اور تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵_

۲۱۳

۵_ اسلام دین فطرت

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ طائف والوں کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت سے اپنی نوجوان نسل کیلئے خطرہ محسوس ہوا_ باوجود اس کے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے درمیان نہایت مختصر وقت کیلئے ٹھہرے تھے_ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام صاف ستھرے اذہان کو آسانی اور سہولت کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے_ نیز یہ کہ اسلام فطرت سلیم (جو منحرف نظریات و عقائد سے آلودہ نہ ہوئی ہو نیز ذاتی مفادات اور نسلی تعصبات وغیرہ سے متا ثر نہ ہوئی ہو) کے ساتھ سازگار اور ہم آہنگ ہے_

اسلام صاف اذہان کو آسانی سے متا ثر کیوں نہ کرے جبکہ اس کی بنیادیں واضح عقلی دلائل وبراہین پر استوار ہیں_وہ فطرت کے ساتھ سازگار ہے_ نیززندہ ضمیروں کا ترجمان ہے_ یہی وجہ تھی کہ طائف والے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو رد کرنے یا ان پر بحث کرنے سے عاجز تھے_ اس کے بدلے انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وہاں سے نکل جانے کیلئے کہا_ انہوں نے کوشش کی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حقیقت ان لوگوں کے سامنے مسخ کی جائے، جنہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات سنی تھی_ اس مقصد کیلئے انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف غیر منطقی ہتھکنڈے استعمال کئے جن کی پہلی امتیازی علامت توہین اور ایذا رسانی تھی اور دوسری علامت توہین آمیز تمسخر یا استہزاء تھا_

۶_ کیا یہ ایک ناکام سفر تھا؟

کبھی یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ اس بے ثمر ہجرت کا فوری اور وقتی فائدہ کیا تھا؟ اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ لازمی بات ہے کہ اس حادثے نے ان لوگوں کے اذہان پر (جن سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ملاقات اور بات کی) کسی نہ کسی قسم کے مثبت اثرات چھوڑے اور بعد میں ان کے مطلوبہ نتائج سامنے آئے_ اس ہجرت نے واضح طور پر مستقبل میں جب اسلام کابول بالاہوا اور اہل طائف کو اپنے ہمسایوں بالخصوص قریش سے معاشرتی و اقتصادی دباؤ کا خطرہ نہ رہا تو بنی ثقیف کے قبول اسلام کی راہ ہموار کی_

۲۱۴

اس کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ قریش نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں افواہیں پھیلاتے تھے کہ (نعوذ بااللہ ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر وغیرہ ہیں لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے براہ راست ملتے اور لوگ بچشم خود حقیقت حال کا مشاہدہ کرتے، نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت اور صفات کا نزدیک سے مشاہدہ کرتے تو ہر قسم کے پروپیگنڈوں اور جھوٹی افواہوں کا اثر ختم ہوجاتا تھا_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپکے مشن پر ایمان لے آنانہایت آسان اور سہل ہوجاتا تھا نیز اس میں مزید قوت، گہرائی اور مضبوطی پیدا ہوتی تھی_

۲۱۵

دوسری فصل

بیعت عقبہ تک کے حالات

۲۱۶

قحط

پھر بھوک کا سخت بحران آیا_ یہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بد دعا کا اثر تھا_ بات یہاں تک پہنچی کہ لوگ علھز (خشک خون)(۱) اور حیوانوں کی کھالیں کھانے پر مجبورہوئے نیز ہڈیوں کو جلاکر کھانے لگے_ مرے ہوئے کتے، مردار اور قبروں سے مردوں کو نکال کر کھا گئے_ عورتوں نے اپنے بچے کھائے_ لوگوں کی حالت یہ تھی کہ انہیں اپنے اور آسمان کے درمیان دھوئیں کی طرح کی دھند لاہٹ نظر آتی تھی چنانچہ لوگ اپنی ہی مشکلات میں پھنس کر رہ گئے_ یوں نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فرصت ملی (اگرچہ مختصر مدت کیلئے ہی سہی) کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے دین اور مشن کی راہ میں لوگوں کو دعوت دینے اور اللہ کی خوشنودی کی خاطر جدوجہد کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں_

بعثت کا گیارہواں سال آیا تو ابوسفیان نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آکر عرض کیا:'' اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم خود صلہ رحمی کا پیغام لیکر آئے تھے_ ادھر تمہاری قوم بھوک سے مر رہی ہے پس اللہ سے ان کیلئے دعا کرو''_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے دعا کی اور خدا نے انہیں قحط سے نجات دی چنانچہ فرمایا_( انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون ) (۲) یعنی ہم تھوڑی دیر کیلئے عذاب کو ہٹالیتے ہیں لیکن تم پھر اپنی سابقہ روش پر لوٹ جاؤگے_

یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ابوسفیان کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کرنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشرکین آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کی حقانیت و صداقت سے آگاہ تھے لیکن ہٹ دھرمی، تکبر،

___________________

۱_ علھز: خشک خون جسے اونٹ کے بالوں کے ساتھ کوٹ کر قحط کے ایام میں کھا لیتے تھے_

۲_ سورہ دخان آیت ۱۵رجوع کریں: البدء و التاریخ ج ۴ص ۱۵۷، تفسیر البرہان نے مناقب ابن شھر آشوب ج ۴ص ۱۶۰ سے _

۲۱۷

جاہ طلبی اور اپنی خودساختہ، و ظالمانہ امتیازی حیثیت کو بچانے کی خاطر اس کا انکار کرتے تھے_

دوسری طرف ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوسفیان کی درخواست کو قبول کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ ابوسفیان کی بیان کردہ صلہ رحمی نہ تھی کیونکہ درحقیقت اسلام ہی تمام انسانوں کے درمیان باہمی رشتے اور صلے کی بنیاد ہے اور اسی بنا پر ان کے درمیان بھائی چارہ قائم ہوتا ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوسفیان کی درخواست اس لئے قبول کی تاکہ اس کو اپنے مشن کی حقانیت کی ایک اور دلیل دکھادیں_ نیز اس پر اور اس کے دیگر ہم خیال افراد پر اتمام حجت کریں تاکہ ہلاک ہونے والے دلیل کے ساتھ ہلاک ہوں اور زندہ رہنے والے بھی دلیل کے ساتھ زندہ رہیں_

اس کے ساتھ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان لوگوں کو جو (علم وحقیقت کی کوئی) روشنی سے دور زندگی گزار رہے تھے اور بڑے بڑے دنیوی مفادات کے چکر میں پھنسے ہوئے نہ تھے ایک اورموقع دینا چاہتے تھے تاکہ وہ دشمنوں کی پیدا کردہ فضا سے آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ غوروفکر کریں_

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے قبائل کو دعوت اسلام

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حج کے ایام میں فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے مختلف قبیلوں کو ایک ایک کر کے اسلام قبول کرنے نیز اس کی تبلیغ و ترویج اور حفاظت و حمایت کرنے کی دعوت دیتے تھے بلکہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کسی بھی مشہور یا صاحب شرف آدمی کی آمدکی خبر ملتی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے ملتے اور اسے اسلام کی دعوت دیتے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا ابولہب ہر جگہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیچھا کرتا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو ٹوکتا اور لوگوں سے کہتا کہ وہ آپ کی بات قبول کریں نہ اطاعت کریں_ علاوہ ازیں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرمجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر وغیرہ ہونے کی تہمت بھی لگاتا تھا_

لوگ غالباً قریش کے اثر ونفوذ اور طاقت کے خوف سے یا مکہ میں اپنے اقتصادی مفادات کی حفاظت کے پیش نظر( خصوصاً حج کے ایام اور بازار عکاظ میں )قریش کی باتوں پر کان دھرتے تھے_

۲۱۸

ادھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ناکام بنانے کیلئے ابولہب کی ذاتی کوششوں نے بھی انتہائی منفی اثرات دکھائے کیونکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا تھا اور دوسروں سے زیادہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں با خبر تھا_

آخر کار پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوششیں رنگ لائیں کیونکہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کے ظہور اور پھیلاؤ نیز قریش کے مقابلے میں آپ کی پے درپے کامیابیوں بالخصوص فتح مکہ کے نتیجے میں قریش کی شان وشوکت ختم ہوگئی_ ان کا کمال زوال میں بدلنے لگا اور ان کے اثر ونفوذ کو زبردست دھچکا لگا تو مختلف علاقوں سے عرب وفود یکے بعد دیگرے مدینہ پہنچنے لگے تاکہ وہ اپنی دوستی اور حمایت کا اعلان کریں_ ہاں یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ قریش کی دشمنی کے خطرے سے آسودہ خاطر ہوچکے تھے نیز قریش کے بے جادعووں اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا اثرزائل ہوچکا تھا_اس کی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے ایام حج میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی تھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے سامنے اپنا دین پیش کیا تھا تو انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نزدیک سے پہچانا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اندر عقل کی برتری دیکھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روش کو معقول اور درست پایا_

ایک اور نکتہ جس کی طرف اشارہ ضروری ہے یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جدوجہد اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا قبائل کے سامنے اسلام کو پیش کرنا نیز اس کی راہ میں متعدد بار ہجرت فرمانا اس طرزفکر کے منافی ہے کہ دین کی دعوت دینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور کسی قسم کی جدوجہد نہ کرے_ بلکہ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس کے پاس جائیں اور اپنی ضروریات و احتیاجات کے بارے میں اس سے سوال کریں_

بنی عامر بن صعصعہ اور نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت

یہاں ہم ایک اہم قصے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں_ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مختلف قبائل کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے_

واقعہ کچھ یوں ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بنی عامر کے پاس آئے اور ان کواللہ کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا_ بنی عامر کے ایک شخص نے( جس کا نام بیحرہ بن فراس تھا )ان لوگوں سے کہا:'' اللہ

۲۱۹

کی قسم اگر قریش اس جوان کو میرے حوالے کرتے تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا''_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا:'' اگر ہم تمہاری بیعت کریں پھر خدا تمہیںاپنے دشمنوں پر غالب کردے تو کیا تمہارے بعد حکومت ہماری ہوگی؟''

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''حکومت خدا کی ہے جسے وہ چاہے عطا کرتا ہے''_

بیحرہ نے کہا:'' تو کیا ہم تمہارے واسطے ویسے ہی اپنی گردنوں کو عربوں (کے حملوں) کانشانہ قرار دیں؟ پھر جب خدا تم کو غالب کردے تو حکومت دوسروں کو مل جائے؟ ہمیں تمہارے دین کی کوئی ضرورت نہیں''_

یوں انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا_ جب لوگ واپس چلے گئے تو بنی عامر اپنے ایک بزرگ کے پاس آئے _اس نے ان سے پوچھا کہ ایام حج میں ان کے ساتھ کیا پیش آیا؟ وہ بولے: ''ہمارے پاس قریش کا ایک جوان آیا یعنی بنی عبدالمطلب کا ایک فرد جو اپنے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نبی سمجھتا ہے آیا اور ہمیں دعوت دی کہ ہم اس کی حمایت کریں اس کا ساتھ دیں اور اسے مکہ سے نکال کر اپنے علاقے میں لے آئیں''_

یہ سن کر اس بزرگ نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھام لیا اور کہا:'' اے عامر کے بیٹوکیا اس کی تلافی ہوسکتی ہے؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں فلاں کی جان ہے اسماعیل کی اولاد میں سے کسی نے نبوت کا جھوٹادعوی نہیں کیا، اس کا دعوی سچا ہے_ بتاؤ اس وقت تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی؟''(۱)

اس قسم کا واقعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور بنی کندہ کے درمیان بھی پیش آیا جیساکہ ابونعیم نے دلائل النبوہ میں ذکر کیا ہے_(۲)

یہاں ہم درج ذیل امور کی طرف اشارہ کرتے چلیں:

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۶۶، الثقات ابن حبان ج ۱ ص ۸۹_۹۱، بہجة المحافل ج ۱ ص ۱۲۸، حیاة محمد از ہیکل ص ۱۵۲، سیرة النبویة (دحلان) ج ۱ ص ۱۴۷، السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۳، الروض الانف ج ۱ ص ۱۸۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۳۹_۱۴۰ اور دلائل النبوة ابونعیم سے ص ۱۰۰ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۷۸ ، ۷۹_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۴۰ _

۲۲۰

۱_ حکومت فقط خداکی

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان لوگوں کے مطالبے پر ان کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حکومت ان کوملے گی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو یہ جواب دیا کہ حکومت کا فیصلہ خداکے اختیار میں ہے جسے چا ہے عطا کرے_ بالفاظ دیگر یہ بات ممکن نہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایسا وعدہ فرماتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر ہوتا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ روش عصر حاضر کے سیاستدانوں کی روش کے بالکل برعکس ہے جو خوبصورت وعدوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کتراتے_ پھر جب وہ اپنے مقاصد کو پالیتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمالیتے ہیں تو سارے وعدے بھول جاتے ہیں_

لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے باوجود اس کے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مددگاروں کی شدید ضرورت تھی بالخصوص ایسے بڑے قبیلے جو تعداد اور وسائل کے لحاظ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع اور مدد کرنے کے قابل تھے، اگرچہ یہ وعدہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے نہایت سودمند ہوتا لیکن اس کے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا وعدہ کرنے سے انکار فرمایا جس کا پورا کرنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر تھا_

(ب) ان لوگوں کے جواب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس ارشاد سے کہ حکومت اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے ، اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعیان اہلبیتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عقیدے کی تائید ہوتی ہے کہ خلافت ایسا منصب نہیں ہے جس کااختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ یہ ایک آسمانی منصب ہے جس کا اختیار فقط خداکے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے_

۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری

بدیہی بات ہے کہ اس قبیلے کی طرف سے مذکورہ طریقے پر مدد کی پیشکش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد رضائے الہی کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنا نہ تھا اور نہ ان کا یہ موقف ایمان راسخ اور پختہ عقیدے کی بنیادوں پر استوار تھا_ نیز ان میں ثواب آخرت کا شوق تھا نہ ہی عقاب الہی کا خوف_

۲۲۱

ان کے اس موقف کا بنیادی ہدف تنگ نظری پر مبنی سودا بازی تھا _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کے ذریعے عرب پر فیصلہ کی طاقت اور عزت و حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے_

بنابریں واضح ہے کہ بعد میں جب وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان کے مفادات کی حد ختم ہوچکی اور ان کے سارے مقاصد حاصل ہوچکے یا یہ کہ ان کی دنیاوی سودا بازی ناکام ہوئی ہے تو پھر ان کی حمایت بھی ختم ہوجاتی بلکہ عین ممکن تھا کہ جب وہ اپنے مفادات اور خودساختہ امتیازی حیثیت کی راہ میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رکاوٹ پاتے تو پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہی خلاف ہوجاتے_

ان باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اس قسم کا طرزفکر رکھنے والے افراد پر اعتماد کرنا اعتمادکرنے والے کو بلا اور عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث نہ سہی تو کم ازکم کسی سراب کو حقیقت سمجھنے کی مانند ضرور ہے_

۳_ دین وسیاست

بعض محققین نے ایک نکتے کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ کہ بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ فرد (بیحرہ بن فراس) کو جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے بارے میں بتایا گیا نیز ان کے ساتھ گزرنے والے واقعے سے آگاہ کیاگیا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ دین صرف عبادت گاہوں میں گھس کر ترک دنیا کرنے یانماز و دعا اور ورد و اذکار پر اکتفا کرنے کا دین نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دین ہے جو تدبیر و سیاست اور حکومت کو بھی شامل کئے ہوئے ہے_ اسی لئے اس نے کہا اگر یہ جوان (یعنی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اپنے جامع مشن کے ساتھ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا_

اس شخص سے قبل انصار کے رئیس اسعد بن زرارہ نے بھی اس نکتے کا ادراک کرلیا تھا_ جب وہ مکہ آیا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین ان کے معاشرتی مسائل کی اصلاح نیز ان کے اور قبیلہ اوس کے درمیان موجود سنگین اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بنا پر ہجرت ہوئی(۱) _

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج۱۹ ص ۹ و اعلام الوری ص ۵۷ از قمی_

۲۲۲

اس حقیقت کوتو خود ان لوگوں نے بھی سمجھ لیا تھا جنہوں نے اسلام کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ حکومت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کومل جائے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں رد کردیا تھا_

ایک طرف سے اسلام اور دعوت قرآنی کے بارے میں ان لوگوں کی فکر تھی جو انصار کے قبول اسلام اور پھر ہجرت اور ان کی بیعت (بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ) نیز بیعت کرنے والوں کیلئے ضامنوں اورنقیبوں کے انتخاب کا سبب بنی اور دوسری طرف دین و سیاست کو جدا سمجھنے والوں کی سوچ ہے اور ان دونوں میں کس قدرفاصلہ ہے_ یہ بات یقینا استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ ہے اور باہر سے در آمد شدہ مسیحی طرزفکر کا شاخسانہ ہے_

۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج

گذشتہ باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ :

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا لوگوں سے ملکر بہ نفس نفیس گفتگو فرمانااس بات کا موجب تھا کہ لوگوں کے اذہان میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کی حقیقی تصویر اتر جائے_ نیز ان بے بنیاد اور خود غرضی پر مشتمل دعووں اور افواہوں کی تردید ہوجائے جو قریش اور ان کے مددگار پھیلاتے تھے_ مثال کے طورپر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شاعر، کاہن، ساحر، اور مجنون وغیرہ کہنا_

(ب) بنی عامر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبائل کو دعوت اسلام دینا دین کی ترویج اور دور در از علاقوں تک اس کی شہرت کے پھیلنے کا باعث بنا کیونکہ فطری بات تھی کہ جب لوگ اپنے وطن واپس لوٹتے تو ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے جن کو انہوں نے اس سفرکے دوران سنا اور دیکھا تھا_ پھران دنوں مکہ میں اس نئے دین کے ظہور کی خبر سے زیادہ سنسنی خیز خبر کوئی اور نہ تھی_

حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی

کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعثت کے دس سال بعد زمعہ کی بیٹی سودہ کے ساتھ شادی کی نیز حضرت

۲۲۳

ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ سے بھی نکاح فرمایا_

ہم تاریخ اسلام میں سودہ کا کوئی اہم کردار نہیں دیکھتے، نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی زندگی میں نہ اس کے بعد، اور ان لوگوں کی ساری توجہ حضرت عائشہ پر ہی مرکوز رہی ہے یہاں تک کہ انہوں نے ماہ شوال میں عقد کرنے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ شوال میں عقد کیا تھا(۱) جبکہ خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باقی عورتوں کے ساتھ شوال کے علاوہ دیگر مہینوں میں عقد کیا تھا_ بہرحال یہاں ہم حضرت عائشہ کی شادی سے مربوط تمام اقوال و نظریات پر روشنی نہیں ڈال سکتے کیونکہ فرصت کی کمی کے باعث یہ کام دشوار بلکہ نہایت مشکل ہے_

بنابریں ہم فقط دونکتوں کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کی شادی سے متعلق ہیں_

البتہ حضرت عائشہ سے متعلق کچھ اورپہلوؤں سے آگے چل کر بحث ہوگی_ ان دونوں نکتوں میں سے ایک حضرت عائشہ کی عمر کا مسئلہ ہے اور دوسرا ان کے حسن و جمال اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کا _

۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ سے چھ یا سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا_ پھر ہجرت مدینہ کے بعد ۹سال کی عمر میں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر منتقل ہوئیں_ یہی بات خود حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے_(۲)

لیکن ہم درج ذیل دلائل کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ حضرت عائشہ کی عمر اس سے کہیں زیاہ تھی_

___________________

۱_ نزھة المجالس ج ۲ص ۱۳۷ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۹، الاصابة ج ۴ ص ۳۵۹، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۱۳، تہذیب التہذیب ج ۱۲، اسد الغابة ج ۵ اور دوسری کتب بطور مثال شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۹ ص ۱۹۰ لیکن ص ۱۹۱ پر خود اپنے کو رد کیا ہے اور کہا ہے وہ سنہ ۵۷ہجری میں فوت ہوئیں اور ان کی عمر۶۴سال ہے_ اس کا مطلب ہے ہجرت کے وقت ان کی عمر فقط سات سال تھی_

۲۲۴

(الف) ابن اسحاق نے حضرت عائشہ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ چھوٹی تھیں اور اس نے فقط اٹھارہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا_(۱)

بنابریں اگر ہم بعثت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال بھی قرار دیں تو نکاح کے وقت ان کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت بیس سال ہوگی_

(ب) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے وہ عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے_ ان دونوں اقوال کے درمیان تناقض کو دور کرنے کے سلسلے میں طحاوی کہتا ہے ممکن ہے کہ دوسری حدیث فاطمہ کے بلوغ اور اس مرتبے کی اہلیت پیدا ہونے سے قبل کی ہو جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کیلئے بیان کیا_ کچھ آگے چل کر کہتا ہے کہ ہر وہ فضیلت جو دوسری عورتوں کیلئے بیان ہوئی ہو اور فاطمہ کے حق میں اس کے ثابت ہونے کا احتمال ہو وہ ممکن ہے اس وقت بیان ہوئی ہو جب وہ چھوٹی تھیں اور اس کے بعد وہ بالغ ہوئیں_(۲)

اس سے کچھ قبل طحاوی نے قاطعانہ طور پر کہا تھاکہ وفات کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر ۲۵سال تھی_(۳)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ولادت بعثت سے دو سال قبل ہوئی جبکہ فرض یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ حد بلوغت کو پہنچیں تو اس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھوٹی بچی تھیں_(دوسرے لفظوں میں حضرت عائشہ کی

___________________

۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۷۱، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۱و ۳۲۹ابن ابی خیثمہ سے اس کی تاریخ میں ابن اسحاق سے اور البدء و التاریخ ج ۴ ص ۱۴۶ _

۲_ مشکل الآثارج ج ۱ص ۵۲ _

۳_ مشکل الآثارج ۱ ص ۴۷_بعض علماء نے عائشہ کی فضیلت سے متعلق اس حدیث کو عائشہ کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مزاح قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جملے تفضیل اور بیان فضیلت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں _ خاص کر جب ہم اس بات کو بھی خاطر نشین کرلیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھانے پینے کے معاملے میں اتنے اہتمام کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لذت سے بھر پور کھانوں کے خواہش مند تھے کہ تفضیل جیسے حساس مسئلہ پر ایسی مثال پیش کریں_

۲۲۵

پیدائشے بھی بعثت سے کئی سال قبل ہوئی یوں حضرت عائشہ وقت ہجرت کم از کم پندرہ سال کی ہوں گی_ مترجم)

(ج) ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشےہ۵۸ہجری میں چل بسیں_( بعض لوگوں کے خیال میں ۵۷ہجری میں ان کی وفات ہوئی )تقریبا ۷۰سال کی عمرمیں_(۱)

ادھر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے تین یا چار یا پانچ سال قبل ہوئی_اور ادھر حضرت عائشہ سے مروی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے شادی کی تو میں نو سال کی تھی_(۲)

ہماری گذشتہ معروضات اور اس بات کے پیش نظر کہ لفظ سبع (سات) اور تسع (نو) کے درمیان اکثر اشتباہ ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں الفاظ کے نقطے نہیں ہوتے تھے اور مذکورہ عدد بھی اسی وجہ سے مشکوک ہے نیز عام طور پر عورتیں اپنی عمر کم بتانے کی خواہاں ہوتی ہیں شاید یہی روایت حقیقت سے نزدیک ترہو_

بہرحال ابن قتیبہ کا کلام اور اس کے بعد والے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائشے یا بعثت کے سال ہوئی یا اس سے قبل البتہ ہماری معروضات کی روشنی میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے_

خلاصہ یہ کہ جب ہم مذکورہ امور کو مدنظر رکھتے ہیں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ سے بعثت کے دسویں سال نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال سے کہیں زیادہ تھی یعنی ۱۳سے لیکر ۱۷سال کے درمیان تھی_

جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ

اس مقام پر دروغ گوئی کی عجیب و غریب مثال ابوہریرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور یہیں بس گئے تو آپ نے لوگوں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میرے لئے نکاح کا بندوبست کرو_ جبرئیل جنت کا ایک کپڑا لیکر اترے جس پر ایک ایسی خوبصورت تصویر نقش تھی جس سے زیادہ خوبصورت شکل کسی نے نہ دیکھی تھی_ جبرئیل نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے یہ حکم سنایا کہ اس تصویر کے

___________________

۱_ المعارف ابن قتیبہ ص ۵۹ مطبوعہ ۱۳۹۰ھ_

۲_ رجوع کریں حدیث الافک صفحہ ۹۳_

۲۲۶

مطابق شادی کریں_ پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اے جبرئیل میں کیونکر اس جیسی صورت رکھنے والی سے شادی کرسکتا ہوں؟''_ جبرئیل نے کہا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابوبکر کی بیٹی سے شادی کریں ''_ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' اے ابوبکر خدا نے مجھے تیرا داماد بننے کا حکم دیا ہے''_ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی تین بیٹیاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا نے مجھے اس لڑکی یعنی عائشہ سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے'' _چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے شادی کی_(۱)

اس روایت کی سندپر جو اعتراضات ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ:

(الف) ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کیونکر ایسا کام کرتے جسے احترام ذات کے قائل صاحبان عقل انجام نہیں دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ اے لوگو میری شادی کرادو_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (معاذ اللہ)چھوٹے بچے تو نہیں تھے جو شرم و حیا اور عقل و شعور سے عاری ہوں_ عجیب نکتہ تو یہ ہے کہ (روایت کی رو سے) لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو سنی ان سنی کر کے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نا انصافی کی یہاں تک کہ جبرئیل نے آکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشکل حل کردی_

(ب) کیا یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ کاحسن و جمال اس قدرزیادہ تھاکہ اس سے بہتر صورت کسی نے نہ دیکھی ہو؟_ انشاء اللہ آنے والے معروضات، طالبان حق و ہدایت کیلئے کافی اور قانع کنندہ ثابت ہوںگے_

(ج) نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال قبل مکہ میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی اس سلسلے میں مورخین کا اجماع محتاج بیان نہیں_

(د) حضرت ابوبکر کی تین بیٹیا ں جن کو انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا تھا معلوم نہیں کونسی تھیں_ کیونکہ اسماء تو زبیر کی بیوی تھی جب وہ مدینہ آئی تو حاملہ تھی جس سے عبداللہ پیدا ہوا_ حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مکہ میں شادی کی اور ام کلثوم تو حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں_ان تینوں کے علاوہ تو ان

___________________

۱_ تاریخ بغداد خطیب ج ۲ ص ۱۹۴ میزان الاعتدال ذہبی ج ۳ ص ۴۴ خطیب اور ذہبی نے اس حدیث کی تکذیب کی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن حسن، الغدیر ج ۵ ص ۳۲۱_

۲۲۷

کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں_(۱)

ان باتوں کے علاوہ حضرت ابوبکرکو صدیق کا لقب انکے چاہنے والوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد دیا تھا جس کی طرف ہم غار کے واقعے میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے_

حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت

(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق)

حضرت عائشہ کے حسن وجمال اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت اور محبوبیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کاملاً نہیں توکم از کم غالباً خود حضرت عائشہ سے مروی ہے یاان کے بھانجے عروہ سے_ ہمیں تو یقین ہے کہ یہ باتیں سرے سے ہی غلط ہیں_ یہاں ہم اپنی کتاب حدیث الافک (جو چھپ چکی ہے) میں مذکور نکات کو بعض اضافوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:

(الف) حضرت عائشہ کے حسن و جمال اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس ان کی قدر و منزلت اور محبوبیت کی بات غالباً خودحضرت عائشہ سے منقول ہے جیساکہ روایات میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے توکیا یہ خوبیاں صرف عائشہ یا ان کے بھانجے کو ہی معلوم تھیں کوئی اور ان سے واقف نہ تھا ؟ _

(ب) جنگ جمل کے بعد ابن عباس جب حضرت عائشہ سے روبرو ہوئے تو انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ نہ تو وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں اور نہ خاندانی شرافت و نجابت کے لحاظ سے ممتاز تھیں(۱) نیز (جیساکہ آگے جلد ذکر ہوگا) حضرت عمر نے حضرت عائشہ کے بجائے صرف زینب کے حسن کی تعریف کی ہے_

(ج) ''علی فکری'' کہتا ہے ابن بکار کی یہ روایت ہے کہ ضحاک بن ابوسفیان کلابی ایک بدصورت آدمی تھا جب اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی تو عرض کیا:'' میری دو بیویاں ہیں جو اس حمیرا سے زیادہ خوبصورت

___________________

۱_ نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۷۵_۲۷۸_

۲_ الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۳۷ مطبوعہ ہند_

۲۲۸

ہیں (حمیرا سے مراد حضرت عائشہ ہے اور یہ واقعہ آیت حجاب کے نزول سے قبل کا ہے) کیا میں ان دونوں میں سے ایک سے دستبردار نہ ہو جاؤں تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے شادی کرلیں؟''_ اس وقت حضرت عائشہ بیٹھی سن رہی تھیں، بولیں :''اس کا حسن زیادہ ہے یا تمہارا؟'' بولا:'' میرا حسن اور مرتبہ اس سے زیادہ ہے''_جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت عائشہ کے اس سوال پر ہنس پڑے (کیونکہ وہ شخص نہایت بدصورت تھا)_(۱)

(د) اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ عباد بن عوام نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا: '' حضرت عائشہ کیسی تھیں ؟ ''اس نے کہا : ''وہ کالی تھیں'' یحیی نے کہا : '' ہم نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا : '' ہاں'' پوچھا : '' کیسی تھیں ؟ '' کہا : '' کالی تھیں''(۲) پس یہ جو کہاجاتاہے کہ وہ گلابی رنگت کی تھیں اور پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے جملہ'' یا حمیرا'' کو بطور ثبوت پیش کیا جاتاہے یہ سب مشکوک ہوجائے گا_ اور شاید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کا حضرت عائشہ کو حمیرا کہنا ملائمت اور دلجوئی کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ چونکہ عربوں کی مثال ہے''شر النساء الحمیرا ء المحیاض'' (۳) سب سے بری عورت زیادہ، ماہواری کا خون دیکھنے والی عورت ہے _ اسی لئے عائشہ کے لئے جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مذاق میں یہ لفظ استعمال فرماتے ہوں_

(ھ) جو شخص ازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ جان لیتا ہے کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج اور لونڈیوں سے حسد کرتی تھیں اور اس بات کا بھی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ساری بیویاں نہ سہی تو کم از کم ان کی اکثریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے زیادہ قدر و منزلت رکھتی تھیں_ اگرچہ ہم یہ دعوی نہ بھی کریں کہ وہ حسن و جمال میں بھی حضرت عائشہ سے آگے تھیں_ کیونکہ فطری بات ہے بدصورت آدمی خوبصور ت آدمی سے حسد کرتا ہے_ رہا خوبرو آدمی تو اسے بدشکل شخص سےحسد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے_ اسی طرح یہ بھی انسانی طبیعت کے خلاف ہے کہ وہ خوبرو شخص کے مقابلے میں بدصورت کی طرف زیادہ مائل ہو_ چنانچہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کی ماں کایہ قول نقل ہوا ہے''اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی

___________________

۱_ المسیر المھذب ج ۲ ص ۸_۹_ ۲_ الضعفاء الکبیر عقیلی ج۲ ص ۱۵۵_

۳_ علامہ زمخشری کی ربیع الابرار ج۴ ص ۲۸۰ و روض الاخیار ص ۱۳۰_

۲۲۹

خوبصورت عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں لیکن وہ اس کے خلاف باتیں نہ بنائیں''_

اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قدر و منزلت رکھتی تھیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسروں سے زیادہ ان کو چاہتے تھے تو پھر دوسری بیویوں سے نفرت کرنے اور حسد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ حسد تو ہمیشہ اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس سے خود حاسد محروم ہو_ حاسد چاہتا ہے کہ محسود اس چیز سے محروم ہوجائے اور وہ خود اسے حاصل کرلے_

ذیل میں ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے خلاف حضرت عائشہ کے حسد کے بعض نمونے پیش کریں گے_

۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی عورت سے اتنی نفرت نہیں کی جس قدر خدیجہ سے کی ہے_ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں نے اس کے ساتھ زندگی گزاری ہو بلکہ یہ تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں زیادہ یاد کرتے تھے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی گوسفندبھی ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بطور ہدیہ بھیجتے تھے_(۱) یہ قول مختلف عبارات میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہے_

ایک دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ کاذکر کیا تو ام المومنین عائشہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:'' وہ تو بس ایک بوڑھی عورت تھی جس سے بہتر عورت خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو عطاکی ہے''_ مسلم کے الفاظ یہ ہیں ''جس کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذکر کرتے ہیں وہ تو قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا تھی_ جس کے لبوں کے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے _ خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے''_ یہ سن کر

___________________

۱_ صحیح بخاری ج ۹ ص ۲۹۲ اور ج ۵ ص ۴۸ اور ج ۷ ص ۴۷ اور ج ۸ ص ۱۰ صحیح مسلم ج ۷ ص ۳۴_۱۳۵ اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸، المصنف ج ۷ ص ۴۹۳، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۸۶ صفة الصفوة ج ۲ ص ۸، بخاری و مسلم سے، تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۱۵۳البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸_

۲۳۰

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرکے اگلے بال کھڑے ہوگئے_ پھر فرمایا :''خدا کی قسم ایسانہیں، اللہ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا ...''_(۱)

عسقلانی اور قسطلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں سے حسد کرتی تھیں لیکن حضرت خدیجہ سے ان کا حسد زیادہ تھا_(۲)

مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو حضرت خدیجہ کی زندگی کے بعد حضرت عائشہ کی حالت ہے_ پتہ نہیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیا حال ہوتا؟ نیز جب ام المومنین کے حسد نے مُردوں کوبھی نہ چھوڑا تو زندوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسا رہا ہوگا؟

۲_ زینب بنت جحش

حضرت عائشہ نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے زینب ہی فخرمیں اس کا مقابلہ کرتی تھی_نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے زینب سے شادی کا ارادہ کیا تو دور و نزدیک کے لوگوں نے اس کی خبرلی کیونکہ اس کے حسن و جمال کی خبر ان تک پہنچی تھی_(۳)

مغافیر کے مشہور واقعے میں حضرت زینب کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی کہانی مشہور ہے_یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ یہی واقعہ آیہ تحریم(۴) کے نزول کا باعث بنا ہے_ اگرچہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ تحریم کسی اور مناسبت سے نازل ہوئی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۳۴ لیکن اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جواب ذکر نہیں کیا، اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸ نیز ص ۵۵۷ و ۵۵۸ ،الاصابة ج ۴ ص ۲۸۳ استیعاب ج ۴ ص ۲۸۶، صفة الصفوة ج ۲ ص ۸مسند احمد ج ۶ ص ۱۱۷بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ مطبوعہ ۱۳۰۹ ہجری ، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸ نیز اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ص ۹۶_

۲_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۰۲، ارشاد الساری ج ۶ ص ۱۶۶ و ج ۸ ص ۱۱۳ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۳۱۴ و طبقات ابن اسد ج ۸ ص ۷۲ و در المنثور ج ۵ ص ۲۰۲ ابن سعد و حاکم سے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۶ نیز حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۱ از بخاری و مسلم_

۲۳۱

حضر ت عمر ابن خطاب نے بھی زینب بنت جحش کے جمال کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے کہا '' نہ تمہیں عائشہ والا مرتبہ حاصل ہے اور نہ زینب والاحسن_''(۱) یعنی اگر حضرت عائشہ کے پاس حسن ہوتا تو اسے حضرت زینب پر ضرور مقدم کیا جا تا البتہ ہمیں پہلے جملے میںبھی شک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی ام المومنین کے ساتھ ایک سیاست تھی یا راویوں نے اپنی خواہشات کے تحت اس کا اضافہ کیا ہے(۲) _ اس کی وجہ پہلے بیان شدہ حقائق ہیں اورآئندہ بھی اس بارے میں گفتگو ہوگی_

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت زینب کو بہت پسند فرماتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکثر اس کانام لیاکرتے تھے_(۳)

۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ

حضرت ام سلمہ سب سے زیادہ با جمال تھیں_(۴)

امام باقرعليه‌السلام سے مروی ہے کہ (ام سلمہ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں_ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے بارے میں مغافیر کا واقعہ ام سلمہ کی وجہ سے پیش آیا_(۵) خود حضرت عائشہ کا بھی اعتراف ہے کہ ام سلمہ اور زینب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب تھیں_(۶)

حضرت عائشہ کہتی ہیں:'' جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تومیں اس کے حسن کے بارے میں ملنے والی خبروں کے باعث سخت محزون ہوئی اور میری پریشانی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ جب

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۳۷_۱۳۸_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۳و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۴۷ _

۳_ المواھب اللدنیة ج ۱ص ۲۰۵و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲ _

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۲۲در المنثور ج ۶ص ۲۳۹ _

۵_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۱ _ ۶_ الاصابہ ج۴ ص ۴۵۹ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۶۶_

۲۳۲

میں نے اسے دیکھا تو جیسے سنا تھا اس سے کئی گنا زیادہ حسین پایا''_(۱) ابن حجر نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ غیرمعمولی حسن اور عقل رکھتی تھیں_(۲)

۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب

ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں:'' وہ حسین ترین عورتوں میں سے تھیں''_(۳) جب وہ مدینہ آئیں تو مدینہ کی عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھنے کیلئے آئیں_ حضرت عائشہ بھی نقاب اوڑھے ان کے ہمراہ تھیں_ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اے عائشہ اسے کیسا پایا ''تو وہ بولیں:'' ایک یہودیہ پایا''_ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ کو اس امر سے منع فرمایا_(۴) جب وہ قید ہوئی تھیں تو لوگ ان کی تعریف کرنے اور کہنے لگے:'' ہم نے ایسی عورت کو قید میں دیکھا جس کی مانند کسی کو نہیں دیکھا تھا_''(۵) جب حضرت صفیہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں کھانے کا ایک ظرف بھیجا (اس وقت آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے) تو حضرت عائشہ لرزنے لگی یہاں تک کہ ان کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے اس برتن کو ٹھوکر ماری اور دور پھینک دیا_(۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے متعلق تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ عائشہ اور حفصہ سے بہت بہتر ہے(۷)

۵_ جویریہ بنت حارث

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پر کشش اور خوبصورت عورت تھیں جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تو اس کا دل

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ص ۴۵۹_ ۲_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ و ۴۶۳ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۷ _

۳_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ اور طبقات ابن سعد ج ۸ص ۹۰ _ ۴_ و طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۸ _

۵_ مسند احمد ص ۲۷۷ ج ۶ بخاری باب الغیرة ، باب النکاح کے ذیل میں لیکن اس میں حضرت عائشہ کا نام نہیں لیا گیا_

۶_ اسد الغابہ ج۵ ص ۴۹۱_ ۷_ الاصابہ ج۴ ص ۲۶۵ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۴ ص ۲۵۹ نیز صفة الصفوة ج۲ ص۵۰_

۲۳۳

موہ لیتی تھیں_ وہ لکھنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آتی تھیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں :''خدا کی قسم جونہی میں نے اسے دیکھا نفرت کا احساس ہوا اور اپنے دل میں کہا، اس کی جو خصوصیت میں نے دیکھی ہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی دیکھیں گے_ پھر جب وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس پہنچی ''(۱)

۶_ ماریہ قبطیہ

حضرت عائشہ کا کہنا ہے :''میں نے ماریہ قبطیہ سے زیادہ کسی کے ساتھ حسد نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خوبصورت اورگھونگھر یالے بالوں والی تھی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو وہ پسند آگئی_ جب وہ پہلی مرتبہ آئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو حارثہ بن نعمان کے گھر رکھا_ یوں وہ ہماری ہمسایہ بن گئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شب و روز اس کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کے پیچھے پڑگئے اور وہ خوفزدہ ہوگئی اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے عالیہ کے ہاں بھیج دیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس وہاں جایا کرتے تھے_ یہ بات ہمارے اوپر اور زیادہ سخت گزری''_(۲)

امام باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماریہ کو چھپا دیا تھا_ یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج پر گراں گزری اور ان سے حسد کرنے لگیں البتہ حضرت عائشہ کی طرح نہیں''_(۳)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ماریہ کو پسند فرماتے تھے _وہ گھونگھر یالے بالوں والی(۴) سفید، حسین اور نیک سیرت خاتون تھیں_(۵) انصار کے درمیان ابراہیم کو دودھ پلانے کے بارے میں کھینچا تانی ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ حضرت ماریہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت کیلئے دیگر کاموں سے فارغ البال رہے کیونکہ وہ ماریہ کے بارے میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلچسپی سے

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۵۳بدایہ و نہایہ ج ۳ ص ۳۰۳_۳۰۴ و وفاء الوفاء سمھودی ج ۳ ص ۸۲۶ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۱قسم ۱ ص ۸۶ سیرت حلبیہ ج ۳ ص ۳۰۹ _ ۳_ طبقات ابن سعد ج ۱حصہ ۱ ص ۸۶ اور الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵ _

۴_ تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۵ و طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۱ ص ۸۶ اور البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۰۳ _

۵_ ذخائر العقبی ص ۵۴ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۱ ص ۴۲ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۵۳_

۲۳۴

سے آگاہ تھے_(۱)

ماریہ سے حضرت عائشہ کے حسد میں اضافے کی ایک وجہ شاید ماریہ کا ابراہیم کو جنم دینا ہو_ یہاں تک کہ انہوں نے جسارت کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور ابراہیم کے درمیان شباہت کی نفی کی اس کے باوجود کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلے میں بہت تاکید اور اصرار کیا تھا(۲) _ بات یہاں تک بڑھی کہ آیہ تحریم کے نزول کی نوبت آئی جیساکہ سیوطی وغیرہ نے ذکر کیا ہے_

۷_ سودہ بنت زمعہ

حضرت عائشہ کہتی تھیں عورتوں میں فقط سودہ بنت زمعہ سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میں چاہتی ہوں، کاش اسکی کھال کے اندرمیں ہوتی، اسکی خامی بس یہ ہے کہ وہ حاسد ہے_(۳)

نیز اس کرتوت کا بھی مطالعہ فرمائیں جو حضرت حفصہ نے حضرت سودہ کے ساتھ کیا تھا اور جس پر حضرت عائشہ اور حفصہ دونوں حضرت سودہ پر ہنستیں اور مذاق اڑاتیں(۴)

۸_ اسماء بنت نعمان

حضرت اسماء اپنے زمانے کی خوبصورت ترین اور جوان ترین عورت تھی_ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اسماء سے حسد کرتی تھیں_ انہوں نے اسماء کے خلاف سازش کی_ سازش حضرت عائشہ اور حفصہ نے ملکر کی یہاں تک کہ اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے طلاق دے دی_(۵)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج۱ ص ۸۸ ، الدرالمنثور ج۶ ص ۲۴۰ از ابن مردویہ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ از بلاذری، السیرة الحلبیہ ج۳ ص ۳۰۹ ، مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۹ ، تلخیص مستدرک (اسی کے حاشیہ پر ) بیہقی نیز تاریخ یعقویب ج۲ ص ۸۷ مطبوعہ صادر_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۷ البدایة و النہایة ج ۸ ص ۷۰_ ۳_ حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۶۰ اور مجمع الزوائد ج۴ ص ۳۱۶_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۰۴ تاریخ اسلام ذہبی ج ۲ ص ۴۱۵_۴۱۶ سازش کرنے والی کا نام نہیں آیا_

۵_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۰۶ اور تاریخ الاسلام ذہبی ج۲ ص ۴۱۶_

۲۳۵

۹_ ملیکہ بنت کعب

وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی بنا پر معروف تھیں_ حضرت عائشہ نے اس کے پاس آکر کہا:'' تجھے اپنے باپ کے قاتل سے شادی کر کے شرم نہیں آئی؟''_اس نے خدا کے ہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے پناہ مانگی_ چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھی طلاق دے دی_(۱)

۱۰_ ام شریک

اس خاتون نے اپنے نفس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے وقف کیا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا تب حضرت عائشہ نے کہا:'' جو عورت اپنے نفس کو کسی مرد کیلئے وقف کر دے اس میں کوئی بھلائی نہیں''_ ام شریک نے کہا:'' پھر میں وہی عورت ہوں''_ پس خدا نے اسے مومنہ کے نام سے یاد کیا اور فرمایا:( وامرا ة مومنة ان وهبت نفسها للنبی ) یعنی اگر کوئی مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کیلئے وقف کردے_ جب یہ آیت اتری تو حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو جلد پورا کرے گا''_(۲)

۱۱_ شراف بنت خلیفہ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بنی کلاب سے ایک عورت کی خواستگاری فرمائی اور حضرت عائشہ کو بھیجا تاکہ اسے دیکھے چنانچہ وہ گئیں اور واپس آگئیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اسے کیسا پایا؟''_حضرت عائشہ بولیں:'' کوئی کام کی چیز نہیں پائی''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' بتحقیقتونے اسے کام کی عورت پایا ہے_ تو نے اس کے چہرے پر خال دیکھا ہے جس سے تیرے بدن کے سارے بال کھڑے ہوگئے (یعنی تیرے اوسان خطا ہوگئے)''_ پس وہ بولیں:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی''_(۳)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۲ _ ۲_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۱۵_

۳_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۵ _

۲۳۶

۱۲_ حفصہ بن عمر

بلکہ عائشہ تو اپنی سہیلی حفصہ سے بھی حسد کرتی تھی _ اور کہا جاتاہے کہ واقعہ مغافیر ان دونوں کے درمیان پیش آیا تھا(۱) _

نتیجہ

یہ تھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کے ساتھ حضرت عائشہ کا رویہ _ مذکورہ مشکلات کا قابل ملاحظہ حصہ بظاہر ان ازواج کے حسن و جمال کے باعث حضرت عائشہ کاحسد تھا (جیساکہ بیان ہو چکا ہے) حضرت عائشہ کی پیداکردہ مشکلات اور ان کے تجاوزات کادسواں حصہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی اور زوجہ کے بارے میں دیکھنے میں نہیں آتا سوائے ایک یا دو روایتوں کے جو خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیویوں میں سے فقط حضرت عائشہ نے (بغض و حسد اور مشکلات کا) جو طوفان مچا رکھا تھا وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس کے پیچھے ایک خاص وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ان ازواج کے مقابلے میں احساس کمتری یا احساس محرومیت کا شکار تھی، کم ازکم حسن و جمال کے معاملے میں_

ان حقائق کے پیش نظر عروہ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے مذکور ان تمام دعوں اور روایات کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے جن سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے نزدیک عائشہ کے مقام و مرتبے کا اظہار ہوتا ہے اور اگر ساقط نہ بھی ہوں تو کم از کم یہ دعوے اور روایات مشکوک ضرور ہوجاتی ہیں_

رہی واقعہ افک والی بات تو وہ بھی باطل ہے_ ہم نے اس مسئلے کے بارے میں ایک الگ کتاب لکھ کر تفصیلی بحث کی ہے_ یہ کتاب کچھ ہی مدت پہلے چھپ چکی ہے_

یہاں پر یہ آخری نکتہ بھی بیان کرتے چلیں کہ (اہل سنت کی کتابوں میں)حضرت عائشہ سے ایسی بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ( ان کے بقول) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ بوس و کنار، حالت حیض میں (نعوذ باللہ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس کے ساتھ ہم بستری اور دونوں کے ایک ہی برتن میں غسل

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۲ از بخاری ، مسلم و تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۸۷ نیز از جمع الفوائد ج۱ ص ۲۲۹ و از طبقات ابن سعد ج۸ ص ۸۵_

۲۳۷

کرنے کا ذکر ہے_ اور دیگر ایسی احادیث بھی مذکور ہیں جن میں( معاذ اللہ) جنسیات، دل ربائی اور لطف اندوزی کا رنگ پایا جاتا ہے _ جبکہ (اہل سنت کے منابع میں) حضرت عائشہ کے علاوہ دیگرازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس قسم کی حادیث بہت ہی کم دیکھنے کو ملیں گے _ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط نہیں تھے_ کیونکہ اس کی نہ تو ذہنی، ثقافتی اور عملی سطح اتنی تھی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشہ کے درمیان پل کا کام کرتی اور جس کے ذریعہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اور مضبوط بناسکتی اور نہ ہی اس کے اغراض ،اہداف اور مقاصد، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اغراض ، اہداف اور مقاصد سے میل کھاتے تھے_

اور اس کے بعد

ان عرائض کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت عائشہ کی جسارتوں، زیادتیوں نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی حضرت علیعليه‌السلام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے حوالے سے اس کی ایذا رسانیوں کو سہنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت عائشہ کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ان تمام تلخیوں پر صبر سے کام لیتے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر تھا گھریلو یا ازدواجی ماحول کے تقاضوں کے مطابق نہیں_ اس امر کی تائید حضرت عمر کی اس بات سے ہوتی ہے جوانہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے کہی_ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے خلاف ایکا کرلیا تھا_ اور آنحضرت نے (جواباً) اپنی تمام بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی_ حضرت عمر نے حفصہ سے کہا تھا:'' اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تجھے نہیں چاہتے_ اگر میں نہ ہوتا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تجھے طلاق دے دیتے''_(۱)

یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ اس دور میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حقیقت کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو کیونکہ (دور خلفا میں) سرکاری مشینری نے حضرت عائشہ کی رکاب تھام رکھی تھی اور ان کی قدر و منزلت کو بڑھانے میں مصروف تھی کیونکہ سرکاری مشینری حضرت عائشہ سے زبردست فائدے حاصل کررہی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۸۹،اس کی مزید وضاحت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کثرت ازواج کے سبب کی گفتگو میں آئیگی جو واقعہ احد سے پہلے کی بحث ہے_

۲۳۸

ان کے مقام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان کیلئے تمغوں (خودساختہ کارناموں) کا ڈھیر لگانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اور با قاعدہ سازش کارفرماتھی_ اور حضرت عائشہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم سے اپنی زوجیت اور ام المؤمنین کے لقب سے حد سے زیادہ فائدہ اٹھارہی تھیں_ اسی طرح وقت کی حکومتوں کی ضروریات سے بھی نامحدود فوائد حاصل کررہی تھیں_ یہ تمام باتیں، ہمارے لئے اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ کیوں حضرت عائشہ لوگوں کے درمیان ( اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کے کنوارے پن کی بناپر اس سے شادی کی ہے ) اپنے آپ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کی نسبت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ قریب اور با اثر مشہور کرتی تھیں_

مدینے میں دخول اسلام

مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ مدینے میں سب سے پہلے اسلام کب داخل ہوا؟ پہلا مسلمان کون تھا؟ اور کیسے اسلام وہاں پہنچا؟ لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں اسلام کا ورود کئی مرحلوں پر مشتمل ہے_ سب سے پہلے اسعد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد القیس مسلمان ہوئے_ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان شعب ابیطالب میں محصورتھے _اس کے بعد پانچ یا آٹھ یا چھ افراد مسلمان ہوئے_ پھر عقبہ کی پہلی بیعت ہوئی اور بعدازاں عقبہ کی دوسری بیعت_ مغلطای وغیرہ کے بیانات سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے_(۱)

اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اسعد بن زرارہ خزرجی اور ذکوان بن عبد القیس خزرجی ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ آئے اس وقت قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابیطالب میں محاصرہ کر رکھا تھا_ ان کے آنے کا مقصد قبیلہ اوس کے خلاف عقبہ بن ربیعہ کو اپنا حلیف بنانا تھا لیکن عقبہ نے انکار کیا اور کہا: ''ہمارے اور تمہارے گھروں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور ہم ایسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے''_ جب اس مشکل کے بارے میں سوال ہوا تو عقبہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

___________________

۱_ سیرة مغلطای ص ۲۹ _

۲۳۹

نے ان کے جوانوں کو خراب اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے_ پھر عقبہ نے اسے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رابطہ سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساحر ہیں اور اپنے کلام سے اس کو مسحور کردیں گے_ پھر اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ طواف کے دوران اپنے کانوں میں روئی ڈال لے تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بات سنائی نہ دے _اس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ حجر اسماعیل میں بیٹھے ہوئے تھے_ یہ لوگ ایام حج میں خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے شعب ابیطالب سے خارج ہوئے تھے_

اسعد طواف کیلئے آیا اور اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو حجر اسماعیل کے پاس تشریف فرما دیکھا_ اس نے سوچا مجھ سے زیادہ جاہل کون ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے سے آگاہ ہوئے بغیر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں اور ان کو اس سلسلے میں کچھ نہ بتاسکوں؟ چنانچہ اس نے روئی اپنے کانوں سے نکال کردور پھینک دی_ پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ گفتگو کی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اسے دعوت اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگیا_ اس کے بعد ذکوان نے بھی اسلام قبول کرلیا_

ایک اور روایت کہتی ہے کہ جب اسعد بن زرارہ نے ذکوان کے ساتھ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ سے عرض کی:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے والدین آپ پر فدا ہوں، میں یثرب کا باشندہ ہوں اورقبیلہ خزرج سے میرا تعلق ہے_ اوسی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہیں_ شاید خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ہمارے تعلقات کو بحال کردے، میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سب سے زیادہ صاحب شرف پاتا ہوں_ میرے ساتھ میری قوم کا ایک فرد موجود ہے_ اگر وہ اس دین میں داخل ہوا تو مجھے امید ہے کہ خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ہماری مشکل کو حل کردے گا_ اللہ کی قسماے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم یہودیوں کی زبانی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں سنتے آئے تھے وہ ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کی خوشخبری دیتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات و علامات بتاتے تھے_ مجھے امید ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دار ہجرت ہمارے ہاں ہوگا_یہودیوں نے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے_ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچایا_ اللہ کی قسم میں تو اسلئے آیا تھا کہ قریش کو اپنا حلیف بنالوں لیکن اللہ نے اس سے بہتر چیز عطا کی''_

اس کے بعد ذکوان آیا_ اسعد نے اس سے کہا :''یہ اللہ کا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کے بارے میں یہودی ہمیں خوشخبری دیتے تھے اور اس کی صفات و علامات بیان کرتے تھے، آؤ مسلمان ہوجاؤ''_ یہ سن کر ذکوان بھی

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417