الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209941 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

5۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۶۱

6۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

7۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

8۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

9۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے

۶۲

٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

1۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

2۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

3۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

4۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

5۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟

۶۳

درس نمبر 16

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

1۔ نیت۔

2 ۔تکبیرة الاحرام۔

3۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

4۔رکوع۔

5۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

1۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

2۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

3۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

4۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔

۶۴

5۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

6۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

7۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

8۔ بات کرنا ۔

9۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

10۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

11۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

1۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(43 کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

2۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

3۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

4۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

5۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

6۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔

۶۵

7۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

8 ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

1۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

2۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

3۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

4۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

5۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟

۶۶

درس نمبر 17

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(1)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

1۔ کھانا اور پینا۔

2۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

3۔ قے کرنا۔

4۔ جماع کرنا

5۔ حقنہ کرنا۔

6۔ پانی میں سر ڈبونا۔

7۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

8۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ،ج2، جز 7، ص5 ۔

۶۷

( 9 ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

1۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

2۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

3۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

4۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

5۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

6۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان

۶۸

پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

1۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

2۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

3۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

4۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟

۶۹

درس نمبر18

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(1)

زکوٰةنو (9) چیزوں پر واجب ہے :

( 1 ) گیہوں (2) جو (3) کھجور (4) کشمش (5) گائے بھینس (6) بھیڑ بکری ( 7) اونٹ(8) سونا ( 9) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب 847کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج2 ،ص5 ، جز 6 ۔

۷۰

( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

1۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

2۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

5۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

6۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے

۷۱

کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

1۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

2۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

3۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

4۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

5۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟

۷۲

درس نمبر 19

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

۷۳

( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(1)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(2) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ صف(61) آیت 4 ۔ (2)۔ سورہ توبہ (9 )آیت 36 ۔

۷۴

اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

1۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

2۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

3۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

4۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

5۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟

۷۵

درس نمبر 20

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے

۷۶

کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(1)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(2)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(3)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1)۔ آل عمران (3) آیت 110 ۔ (2)۔ آل عمران (3 )آیت 104 ۔

(3)۔ وسائل الشیعہ ،ج11، ص 394

۷۷

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

1۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

2۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

3۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

4۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟

۷۸

حصہ سوم

( اخلاق )

۷۹

درس نمبر 21

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

۱_ حکومت فقط خداکی

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان لوگوں کے مطالبے پر ان کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حکومت ان کوملے گی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو یہ جواب دیا کہ حکومت کا فیصلہ خداکے اختیار میں ہے جسے چا ہے عطا کرے_ بالفاظ دیگر یہ بات ممکن نہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایسا وعدہ فرماتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر ہوتا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ روش عصر حاضر کے سیاستدانوں کی روش کے بالکل برعکس ہے جو خوبصورت وعدوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کتراتے_ پھر جب وہ اپنے مقاصد کو پالیتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمالیتے ہیں تو سارے وعدے بھول جاتے ہیں_

لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے باوجود اس کے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مددگاروں کی شدید ضرورت تھی بالخصوص ایسے بڑے قبیلے جو تعداد اور وسائل کے لحاظ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع اور مدد کرنے کے قابل تھے، اگرچہ یہ وعدہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے نہایت سودمند ہوتا لیکن اس کے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا وعدہ کرنے سے انکار فرمایا جس کا پورا کرنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر تھا_

(ب) ان لوگوں کے جواب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس ارشاد سے کہ حکومت اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے ، اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعیان اہلبیتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عقیدے کی تائید ہوتی ہے کہ خلافت ایسا منصب نہیں ہے جس کااختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ یہ ایک آسمانی منصب ہے جس کا اختیار فقط خداکے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے_

۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری

بدیہی بات ہے کہ اس قبیلے کی طرف سے مذکورہ طریقے پر مدد کی پیشکش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد رضائے الہی کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنا نہ تھا اور نہ ان کا یہ موقف ایمان راسخ اور پختہ عقیدے کی بنیادوں پر استوار تھا_ نیز ان میں ثواب آخرت کا شوق تھا نہ ہی عقاب الہی کا خوف_

۲۲۱

ان کے اس موقف کا بنیادی ہدف تنگ نظری پر مبنی سودا بازی تھا _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کے ذریعے عرب پر فیصلہ کی طاقت اور عزت و حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے_

بنابریں واضح ہے کہ بعد میں جب وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان کے مفادات کی حد ختم ہوچکی اور ان کے سارے مقاصد حاصل ہوچکے یا یہ کہ ان کی دنیاوی سودا بازی ناکام ہوئی ہے تو پھر ان کی حمایت بھی ختم ہوجاتی بلکہ عین ممکن تھا کہ جب وہ اپنے مفادات اور خودساختہ امتیازی حیثیت کی راہ میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رکاوٹ پاتے تو پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہی خلاف ہوجاتے_

ان باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اس قسم کا طرزفکر رکھنے والے افراد پر اعتماد کرنا اعتمادکرنے والے کو بلا اور عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث نہ سہی تو کم ازکم کسی سراب کو حقیقت سمجھنے کی مانند ضرور ہے_

۳_ دین وسیاست

بعض محققین نے ایک نکتے کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ کہ بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ فرد (بیحرہ بن فراس) کو جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے بارے میں بتایا گیا نیز ان کے ساتھ گزرنے والے واقعے سے آگاہ کیاگیا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ دین صرف عبادت گاہوں میں گھس کر ترک دنیا کرنے یانماز و دعا اور ورد و اذکار پر اکتفا کرنے کا دین نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دین ہے جو تدبیر و سیاست اور حکومت کو بھی شامل کئے ہوئے ہے_ اسی لئے اس نے کہا اگر یہ جوان (یعنی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اپنے جامع مشن کے ساتھ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا_

اس شخص سے قبل انصار کے رئیس اسعد بن زرارہ نے بھی اس نکتے کا ادراک کرلیا تھا_ جب وہ مکہ آیا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین ان کے معاشرتی مسائل کی اصلاح نیز ان کے اور قبیلہ اوس کے درمیان موجود سنگین اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بنا پر ہجرت ہوئی(۱) _

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج۱۹ ص ۹ و اعلام الوری ص ۵۷ از قمی_

۲۲۲

اس حقیقت کوتو خود ان لوگوں نے بھی سمجھ لیا تھا جنہوں نے اسلام کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ حکومت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کومل جائے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں رد کردیا تھا_

ایک طرف سے اسلام اور دعوت قرآنی کے بارے میں ان لوگوں کی فکر تھی جو انصار کے قبول اسلام اور پھر ہجرت اور ان کی بیعت (بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ) نیز بیعت کرنے والوں کیلئے ضامنوں اورنقیبوں کے انتخاب کا سبب بنی اور دوسری طرف دین و سیاست کو جدا سمجھنے والوں کی سوچ ہے اور ان دونوں میں کس قدرفاصلہ ہے_ یہ بات یقینا استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ ہے اور باہر سے در آمد شدہ مسیحی طرزفکر کا شاخسانہ ہے_

۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج

گذشتہ باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ :

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا لوگوں سے ملکر بہ نفس نفیس گفتگو فرمانااس بات کا موجب تھا کہ لوگوں کے اذہان میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کی حقیقی تصویر اتر جائے_ نیز ان بے بنیاد اور خود غرضی پر مشتمل دعووں اور افواہوں کی تردید ہوجائے جو قریش اور ان کے مددگار پھیلاتے تھے_ مثال کے طورپر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شاعر، کاہن، ساحر، اور مجنون وغیرہ کہنا_

(ب) بنی عامر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبائل کو دعوت اسلام دینا دین کی ترویج اور دور در از علاقوں تک اس کی شہرت کے پھیلنے کا باعث بنا کیونکہ فطری بات تھی کہ جب لوگ اپنے وطن واپس لوٹتے تو ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے جن کو انہوں نے اس سفرکے دوران سنا اور دیکھا تھا_ پھران دنوں مکہ میں اس نئے دین کے ظہور کی خبر سے زیادہ سنسنی خیز خبر کوئی اور نہ تھی_

حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی

کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعثت کے دس سال بعد زمعہ کی بیٹی سودہ کے ساتھ شادی کی نیز حضرت

۲۲۳

ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ سے بھی نکاح فرمایا_

ہم تاریخ اسلام میں سودہ کا کوئی اہم کردار نہیں دیکھتے، نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی زندگی میں نہ اس کے بعد، اور ان لوگوں کی ساری توجہ حضرت عائشہ پر ہی مرکوز رہی ہے یہاں تک کہ انہوں نے ماہ شوال میں عقد کرنے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ شوال میں عقد کیا تھا(۱) جبکہ خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باقی عورتوں کے ساتھ شوال کے علاوہ دیگر مہینوں میں عقد کیا تھا_ بہرحال یہاں ہم حضرت عائشہ کی شادی سے مربوط تمام اقوال و نظریات پر روشنی نہیں ڈال سکتے کیونکہ فرصت کی کمی کے باعث یہ کام دشوار بلکہ نہایت مشکل ہے_

بنابریں ہم فقط دونکتوں کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کی شادی سے متعلق ہیں_

البتہ حضرت عائشہ سے متعلق کچھ اورپہلوؤں سے آگے چل کر بحث ہوگی_ ان دونوں نکتوں میں سے ایک حضرت عائشہ کی عمر کا مسئلہ ہے اور دوسرا ان کے حسن و جمال اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کا _

۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ سے چھ یا سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا_ پھر ہجرت مدینہ کے بعد ۹سال کی عمر میں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر منتقل ہوئیں_ یہی بات خود حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے_(۲)

لیکن ہم درج ذیل دلائل کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ حضرت عائشہ کی عمر اس سے کہیں زیاہ تھی_

___________________

۱_ نزھة المجالس ج ۲ص ۱۳۷ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۹، الاصابة ج ۴ ص ۳۵۹، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۱۳، تہذیب التہذیب ج ۱۲، اسد الغابة ج ۵ اور دوسری کتب بطور مثال شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۹ ص ۱۹۰ لیکن ص ۱۹۱ پر خود اپنے کو رد کیا ہے اور کہا ہے وہ سنہ ۵۷ہجری میں فوت ہوئیں اور ان کی عمر۶۴سال ہے_ اس کا مطلب ہے ہجرت کے وقت ان کی عمر فقط سات سال تھی_

۲۲۴

(الف) ابن اسحاق نے حضرت عائشہ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ چھوٹی تھیں اور اس نے فقط اٹھارہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا_(۱)

بنابریں اگر ہم بعثت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال بھی قرار دیں تو نکاح کے وقت ان کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت بیس سال ہوگی_

(ب) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے وہ عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے_ ان دونوں اقوال کے درمیان تناقض کو دور کرنے کے سلسلے میں طحاوی کہتا ہے ممکن ہے کہ دوسری حدیث فاطمہ کے بلوغ اور اس مرتبے کی اہلیت پیدا ہونے سے قبل کی ہو جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کیلئے بیان کیا_ کچھ آگے چل کر کہتا ہے کہ ہر وہ فضیلت جو دوسری عورتوں کیلئے بیان ہوئی ہو اور فاطمہ کے حق میں اس کے ثابت ہونے کا احتمال ہو وہ ممکن ہے اس وقت بیان ہوئی ہو جب وہ چھوٹی تھیں اور اس کے بعد وہ بالغ ہوئیں_(۲)

اس سے کچھ قبل طحاوی نے قاطعانہ طور پر کہا تھاکہ وفات کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر ۲۵سال تھی_(۳)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ولادت بعثت سے دو سال قبل ہوئی جبکہ فرض یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ حد بلوغت کو پہنچیں تو اس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھوٹی بچی تھیں_(دوسرے لفظوں میں حضرت عائشہ کی

___________________

۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۷۱، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۱و ۳۲۹ابن ابی خیثمہ سے اس کی تاریخ میں ابن اسحاق سے اور البدء و التاریخ ج ۴ ص ۱۴۶ _

۲_ مشکل الآثارج ج ۱ص ۵۲ _

۳_ مشکل الآثارج ۱ ص ۴۷_بعض علماء نے عائشہ کی فضیلت سے متعلق اس حدیث کو عائشہ کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مزاح قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جملے تفضیل اور بیان فضیلت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں _ خاص کر جب ہم اس بات کو بھی خاطر نشین کرلیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھانے پینے کے معاملے میں اتنے اہتمام کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لذت سے بھر پور کھانوں کے خواہش مند تھے کہ تفضیل جیسے حساس مسئلہ پر ایسی مثال پیش کریں_

۲۲۵

پیدائشے بھی بعثت سے کئی سال قبل ہوئی یوں حضرت عائشہ وقت ہجرت کم از کم پندرہ سال کی ہوں گی_ مترجم)

(ج) ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشےہ۵۸ہجری میں چل بسیں_( بعض لوگوں کے خیال میں ۵۷ہجری میں ان کی وفات ہوئی )تقریبا ۷۰سال کی عمرمیں_(۱)

ادھر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے تین یا چار یا پانچ سال قبل ہوئی_اور ادھر حضرت عائشہ سے مروی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے شادی کی تو میں نو سال کی تھی_(۲)

ہماری گذشتہ معروضات اور اس بات کے پیش نظر کہ لفظ سبع (سات) اور تسع (نو) کے درمیان اکثر اشتباہ ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں الفاظ کے نقطے نہیں ہوتے تھے اور مذکورہ عدد بھی اسی وجہ سے مشکوک ہے نیز عام طور پر عورتیں اپنی عمر کم بتانے کی خواہاں ہوتی ہیں شاید یہی روایت حقیقت سے نزدیک ترہو_

بہرحال ابن قتیبہ کا کلام اور اس کے بعد والے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائشے یا بعثت کے سال ہوئی یا اس سے قبل البتہ ہماری معروضات کی روشنی میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے_

خلاصہ یہ کہ جب ہم مذکورہ امور کو مدنظر رکھتے ہیں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ سے بعثت کے دسویں سال نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال سے کہیں زیادہ تھی یعنی ۱۳سے لیکر ۱۷سال کے درمیان تھی_

جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ

اس مقام پر دروغ گوئی کی عجیب و غریب مثال ابوہریرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور یہیں بس گئے تو آپ نے لوگوں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میرے لئے نکاح کا بندوبست کرو_ جبرئیل جنت کا ایک کپڑا لیکر اترے جس پر ایک ایسی خوبصورت تصویر نقش تھی جس سے زیادہ خوبصورت شکل کسی نے نہ دیکھی تھی_ جبرئیل نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے یہ حکم سنایا کہ اس تصویر کے

___________________

۱_ المعارف ابن قتیبہ ص ۵۹ مطبوعہ ۱۳۹۰ھ_

۲_ رجوع کریں حدیث الافک صفحہ ۹۳_

۲۲۶

مطابق شادی کریں_ پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اے جبرئیل میں کیونکر اس جیسی صورت رکھنے والی سے شادی کرسکتا ہوں؟''_ جبرئیل نے کہا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابوبکر کی بیٹی سے شادی کریں ''_ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' اے ابوبکر خدا نے مجھے تیرا داماد بننے کا حکم دیا ہے''_ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی تین بیٹیاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا نے مجھے اس لڑکی یعنی عائشہ سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے'' _چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے شادی کی_(۱)

اس روایت کی سندپر جو اعتراضات ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ:

(الف) ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کیونکر ایسا کام کرتے جسے احترام ذات کے قائل صاحبان عقل انجام نہیں دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ اے لوگو میری شادی کرادو_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (معاذ اللہ)چھوٹے بچے تو نہیں تھے جو شرم و حیا اور عقل و شعور سے عاری ہوں_ عجیب نکتہ تو یہ ہے کہ (روایت کی رو سے) لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو سنی ان سنی کر کے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نا انصافی کی یہاں تک کہ جبرئیل نے آکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشکل حل کردی_

(ب) کیا یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ کاحسن و جمال اس قدرزیادہ تھاکہ اس سے بہتر صورت کسی نے نہ دیکھی ہو؟_ انشاء اللہ آنے والے معروضات، طالبان حق و ہدایت کیلئے کافی اور قانع کنندہ ثابت ہوںگے_

(ج) نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال قبل مکہ میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی اس سلسلے میں مورخین کا اجماع محتاج بیان نہیں_

(د) حضرت ابوبکر کی تین بیٹیا ں جن کو انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا تھا معلوم نہیں کونسی تھیں_ کیونکہ اسماء تو زبیر کی بیوی تھی جب وہ مدینہ آئی تو حاملہ تھی جس سے عبداللہ پیدا ہوا_ حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مکہ میں شادی کی اور ام کلثوم تو حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں_ان تینوں کے علاوہ تو ان

___________________

۱_ تاریخ بغداد خطیب ج ۲ ص ۱۹۴ میزان الاعتدال ذہبی ج ۳ ص ۴۴ خطیب اور ذہبی نے اس حدیث کی تکذیب کی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن حسن، الغدیر ج ۵ ص ۳۲۱_

۲۲۷

کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں_(۱)

ان باتوں کے علاوہ حضرت ابوبکرکو صدیق کا لقب انکے چاہنے والوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد دیا تھا جس کی طرف ہم غار کے واقعے میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے_

حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت

(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق)

حضرت عائشہ کے حسن وجمال اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت اور محبوبیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کاملاً نہیں توکم از کم غالباً خود حضرت عائشہ سے مروی ہے یاان کے بھانجے عروہ سے_ ہمیں تو یقین ہے کہ یہ باتیں سرے سے ہی غلط ہیں_ یہاں ہم اپنی کتاب حدیث الافک (جو چھپ چکی ہے) میں مذکور نکات کو بعض اضافوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:

(الف) حضرت عائشہ کے حسن و جمال اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس ان کی قدر و منزلت اور محبوبیت کی بات غالباً خودحضرت عائشہ سے منقول ہے جیساکہ روایات میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے توکیا یہ خوبیاں صرف عائشہ یا ان کے بھانجے کو ہی معلوم تھیں کوئی اور ان سے واقف نہ تھا ؟ _

(ب) جنگ جمل کے بعد ابن عباس جب حضرت عائشہ سے روبرو ہوئے تو انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ نہ تو وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں اور نہ خاندانی شرافت و نجابت کے لحاظ سے ممتاز تھیں(۱) نیز (جیساکہ آگے جلد ذکر ہوگا) حضرت عمر نے حضرت عائشہ کے بجائے صرف زینب کے حسن کی تعریف کی ہے_

(ج) ''علی فکری'' کہتا ہے ابن بکار کی یہ روایت ہے کہ ضحاک بن ابوسفیان کلابی ایک بدصورت آدمی تھا جب اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی تو عرض کیا:'' میری دو بیویاں ہیں جو اس حمیرا سے زیادہ خوبصورت

___________________

۱_ نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۷۵_۲۷۸_

۲_ الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۳۷ مطبوعہ ہند_

۲۲۸

ہیں (حمیرا سے مراد حضرت عائشہ ہے اور یہ واقعہ آیت حجاب کے نزول سے قبل کا ہے) کیا میں ان دونوں میں سے ایک سے دستبردار نہ ہو جاؤں تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے شادی کرلیں؟''_ اس وقت حضرت عائشہ بیٹھی سن رہی تھیں، بولیں :''اس کا حسن زیادہ ہے یا تمہارا؟'' بولا:'' میرا حسن اور مرتبہ اس سے زیادہ ہے''_جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت عائشہ کے اس سوال پر ہنس پڑے (کیونکہ وہ شخص نہایت بدصورت تھا)_(۱)

(د) اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ عباد بن عوام نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا: '' حضرت عائشہ کیسی تھیں ؟ ''اس نے کہا : ''وہ کالی تھیں'' یحیی نے کہا : '' ہم نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا : '' ہاں'' پوچھا : '' کیسی تھیں ؟ '' کہا : '' کالی تھیں''(۲) پس یہ جو کہاجاتاہے کہ وہ گلابی رنگت کی تھیں اور پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے جملہ'' یا حمیرا'' کو بطور ثبوت پیش کیا جاتاہے یہ سب مشکوک ہوجائے گا_ اور شاید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کا حضرت عائشہ کو حمیرا کہنا ملائمت اور دلجوئی کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ چونکہ عربوں کی مثال ہے''شر النساء الحمیرا ء المحیاض'' (۳) سب سے بری عورت زیادہ، ماہواری کا خون دیکھنے والی عورت ہے _ اسی لئے عائشہ کے لئے جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مذاق میں یہ لفظ استعمال فرماتے ہوں_

(ھ) جو شخص ازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ جان لیتا ہے کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج اور لونڈیوں سے حسد کرتی تھیں اور اس بات کا بھی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ساری بیویاں نہ سہی تو کم از کم ان کی اکثریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے زیادہ قدر و منزلت رکھتی تھیں_ اگرچہ ہم یہ دعوی نہ بھی کریں کہ وہ حسن و جمال میں بھی حضرت عائشہ سے آگے تھیں_ کیونکہ فطری بات ہے بدصورت آدمی خوبصور ت آدمی سے حسد کرتا ہے_ رہا خوبرو آدمی تو اسے بدشکل شخص سےحسد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے_ اسی طرح یہ بھی انسانی طبیعت کے خلاف ہے کہ وہ خوبرو شخص کے مقابلے میں بدصورت کی طرف زیادہ مائل ہو_ چنانچہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کی ماں کایہ قول نقل ہوا ہے''اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی

___________________

۱_ المسیر المھذب ج ۲ ص ۸_۹_ ۲_ الضعفاء الکبیر عقیلی ج۲ ص ۱۵۵_

۳_ علامہ زمخشری کی ربیع الابرار ج۴ ص ۲۸۰ و روض الاخیار ص ۱۳۰_

۲۲۹

خوبصورت عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں لیکن وہ اس کے خلاف باتیں نہ بنائیں''_

اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قدر و منزلت رکھتی تھیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسروں سے زیادہ ان کو چاہتے تھے تو پھر دوسری بیویوں سے نفرت کرنے اور حسد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ حسد تو ہمیشہ اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس سے خود حاسد محروم ہو_ حاسد چاہتا ہے کہ محسود اس چیز سے محروم ہوجائے اور وہ خود اسے حاصل کرلے_

ذیل میں ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے خلاف حضرت عائشہ کے حسد کے بعض نمونے پیش کریں گے_

۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی عورت سے اتنی نفرت نہیں کی جس قدر خدیجہ سے کی ہے_ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں نے اس کے ساتھ زندگی گزاری ہو بلکہ یہ تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں زیادہ یاد کرتے تھے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی گوسفندبھی ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بطور ہدیہ بھیجتے تھے_(۱) یہ قول مختلف عبارات میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہے_

ایک دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ کاذکر کیا تو ام المومنین عائشہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:'' وہ تو بس ایک بوڑھی عورت تھی جس سے بہتر عورت خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو عطاکی ہے''_ مسلم کے الفاظ یہ ہیں ''جس کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذکر کرتے ہیں وہ تو قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا تھی_ جس کے لبوں کے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے _ خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے''_ یہ سن کر

___________________

۱_ صحیح بخاری ج ۹ ص ۲۹۲ اور ج ۵ ص ۴۸ اور ج ۷ ص ۴۷ اور ج ۸ ص ۱۰ صحیح مسلم ج ۷ ص ۳۴_۱۳۵ اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸، المصنف ج ۷ ص ۴۹۳، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۸۶ صفة الصفوة ج ۲ ص ۸، بخاری و مسلم سے، تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۱۵۳البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸_

۲۳۰

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرکے اگلے بال کھڑے ہوگئے_ پھر فرمایا :''خدا کی قسم ایسانہیں، اللہ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا ...''_(۱)

عسقلانی اور قسطلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں سے حسد کرتی تھیں لیکن حضرت خدیجہ سے ان کا حسد زیادہ تھا_(۲)

مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو حضرت خدیجہ کی زندگی کے بعد حضرت عائشہ کی حالت ہے_ پتہ نہیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیا حال ہوتا؟ نیز جب ام المومنین کے حسد نے مُردوں کوبھی نہ چھوڑا تو زندوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسا رہا ہوگا؟

۲_ زینب بنت جحش

حضرت عائشہ نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے زینب ہی فخرمیں اس کا مقابلہ کرتی تھی_نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے زینب سے شادی کا ارادہ کیا تو دور و نزدیک کے لوگوں نے اس کی خبرلی کیونکہ اس کے حسن و جمال کی خبر ان تک پہنچی تھی_(۳)

مغافیر کے مشہور واقعے میں حضرت زینب کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی کہانی مشہور ہے_یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ یہی واقعہ آیہ تحریم(۴) کے نزول کا باعث بنا ہے_ اگرچہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ تحریم کسی اور مناسبت سے نازل ہوئی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۳۴ لیکن اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جواب ذکر نہیں کیا، اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸ نیز ص ۵۵۷ و ۵۵۸ ،الاصابة ج ۴ ص ۲۸۳ استیعاب ج ۴ ص ۲۸۶، صفة الصفوة ج ۲ ص ۸مسند احمد ج ۶ ص ۱۱۷بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ مطبوعہ ۱۳۰۹ ہجری ، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸ نیز اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ص ۹۶_

۲_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۰۲، ارشاد الساری ج ۶ ص ۱۶۶ و ج ۸ ص ۱۱۳ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۳۱۴ و طبقات ابن اسد ج ۸ ص ۷۲ و در المنثور ج ۵ ص ۲۰۲ ابن سعد و حاکم سے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۶ نیز حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۱ از بخاری و مسلم_

۲۳۱

حضر ت عمر ابن خطاب نے بھی زینب بنت جحش کے جمال کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے کہا '' نہ تمہیں عائشہ والا مرتبہ حاصل ہے اور نہ زینب والاحسن_''(۱) یعنی اگر حضرت عائشہ کے پاس حسن ہوتا تو اسے حضرت زینب پر ضرور مقدم کیا جا تا البتہ ہمیں پہلے جملے میںبھی شک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی ام المومنین کے ساتھ ایک سیاست تھی یا راویوں نے اپنی خواہشات کے تحت اس کا اضافہ کیا ہے(۲) _ اس کی وجہ پہلے بیان شدہ حقائق ہیں اورآئندہ بھی اس بارے میں گفتگو ہوگی_

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت زینب کو بہت پسند فرماتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکثر اس کانام لیاکرتے تھے_(۳)

۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ

حضرت ام سلمہ سب سے زیادہ با جمال تھیں_(۴)

امام باقرعليه‌السلام سے مروی ہے کہ (ام سلمہ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں_ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے بارے میں مغافیر کا واقعہ ام سلمہ کی وجہ سے پیش آیا_(۵) خود حضرت عائشہ کا بھی اعتراف ہے کہ ام سلمہ اور زینب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب تھیں_(۶)

حضرت عائشہ کہتی ہیں:'' جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تومیں اس کے حسن کے بارے میں ملنے والی خبروں کے باعث سخت محزون ہوئی اور میری پریشانی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ جب

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۳۷_۱۳۸_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۳و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۴۷ _

۳_ المواھب اللدنیة ج ۱ص ۲۰۵و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲ _

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۲۲در المنثور ج ۶ص ۲۳۹ _

۵_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۱ _ ۶_ الاصابہ ج۴ ص ۴۵۹ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۶۶_

۲۳۲

میں نے اسے دیکھا تو جیسے سنا تھا اس سے کئی گنا زیادہ حسین پایا''_(۱) ابن حجر نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ غیرمعمولی حسن اور عقل رکھتی تھیں_(۲)

۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب

ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں:'' وہ حسین ترین عورتوں میں سے تھیں''_(۳) جب وہ مدینہ آئیں تو مدینہ کی عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھنے کیلئے آئیں_ حضرت عائشہ بھی نقاب اوڑھے ان کے ہمراہ تھیں_ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اے عائشہ اسے کیسا پایا ''تو وہ بولیں:'' ایک یہودیہ پایا''_ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ کو اس امر سے منع فرمایا_(۴) جب وہ قید ہوئی تھیں تو لوگ ان کی تعریف کرنے اور کہنے لگے:'' ہم نے ایسی عورت کو قید میں دیکھا جس کی مانند کسی کو نہیں دیکھا تھا_''(۵) جب حضرت صفیہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں کھانے کا ایک ظرف بھیجا (اس وقت آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے) تو حضرت عائشہ لرزنے لگی یہاں تک کہ ان کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے اس برتن کو ٹھوکر ماری اور دور پھینک دیا_(۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے متعلق تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ عائشہ اور حفصہ سے بہت بہتر ہے(۷)

۵_ جویریہ بنت حارث

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پر کشش اور خوبصورت عورت تھیں جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تو اس کا دل

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ص ۴۵۹_ ۲_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ و ۴۶۳ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۷ _

۳_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ اور طبقات ابن سعد ج ۸ص ۹۰ _ ۴_ و طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۸ _

۵_ مسند احمد ص ۲۷۷ ج ۶ بخاری باب الغیرة ، باب النکاح کے ذیل میں لیکن اس میں حضرت عائشہ کا نام نہیں لیا گیا_

۶_ اسد الغابہ ج۵ ص ۴۹۱_ ۷_ الاصابہ ج۴ ص ۲۶۵ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۴ ص ۲۵۹ نیز صفة الصفوة ج۲ ص۵۰_

۲۳۳

موہ لیتی تھیں_ وہ لکھنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آتی تھیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں :''خدا کی قسم جونہی میں نے اسے دیکھا نفرت کا احساس ہوا اور اپنے دل میں کہا، اس کی جو خصوصیت میں نے دیکھی ہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی دیکھیں گے_ پھر جب وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس پہنچی ''(۱)

۶_ ماریہ قبطیہ

حضرت عائشہ کا کہنا ہے :''میں نے ماریہ قبطیہ سے زیادہ کسی کے ساتھ حسد نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خوبصورت اورگھونگھر یالے بالوں والی تھی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو وہ پسند آگئی_ جب وہ پہلی مرتبہ آئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو حارثہ بن نعمان کے گھر رکھا_ یوں وہ ہماری ہمسایہ بن گئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شب و روز اس کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کے پیچھے پڑگئے اور وہ خوفزدہ ہوگئی اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے عالیہ کے ہاں بھیج دیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس وہاں جایا کرتے تھے_ یہ بات ہمارے اوپر اور زیادہ سخت گزری''_(۲)

امام باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماریہ کو چھپا دیا تھا_ یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج پر گراں گزری اور ان سے حسد کرنے لگیں البتہ حضرت عائشہ کی طرح نہیں''_(۳)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ماریہ کو پسند فرماتے تھے _وہ گھونگھر یالے بالوں والی(۴) سفید، حسین اور نیک سیرت خاتون تھیں_(۵) انصار کے درمیان ابراہیم کو دودھ پلانے کے بارے میں کھینچا تانی ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ حضرت ماریہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت کیلئے دیگر کاموں سے فارغ البال رہے کیونکہ وہ ماریہ کے بارے میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلچسپی سے

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۵۳بدایہ و نہایہ ج ۳ ص ۳۰۳_۳۰۴ و وفاء الوفاء سمھودی ج ۳ ص ۸۲۶ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۱قسم ۱ ص ۸۶ سیرت حلبیہ ج ۳ ص ۳۰۹ _ ۳_ طبقات ابن سعد ج ۱حصہ ۱ ص ۸۶ اور الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵ _

۴_ تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۵ و طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۱ ص ۸۶ اور البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۰۳ _

۵_ ذخائر العقبی ص ۵۴ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۱ ص ۴۲ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۵۳_

۲۳۴

سے آگاہ تھے_(۱)

ماریہ سے حضرت عائشہ کے حسد میں اضافے کی ایک وجہ شاید ماریہ کا ابراہیم کو جنم دینا ہو_ یہاں تک کہ انہوں نے جسارت کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور ابراہیم کے درمیان شباہت کی نفی کی اس کے باوجود کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلے میں بہت تاکید اور اصرار کیا تھا(۲) _ بات یہاں تک بڑھی کہ آیہ تحریم کے نزول کی نوبت آئی جیساکہ سیوطی وغیرہ نے ذکر کیا ہے_

۷_ سودہ بنت زمعہ

حضرت عائشہ کہتی تھیں عورتوں میں فقط سودہ بنت زمعہ سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میں چاہتی ہوں، کاش اسکی کھال کے اندرمیں ہوتی، اسکی خامی بس یہ ہے کہ وہ حاسد ہے_(۳)

نیز اس کرتوت کا بھی مطالعہ فرمائیں جو حضرت حفصہ نے حضرت سودہ کے ساتھ کیا تھا اور جس پر حضرت عائشہ اور حفصہ دونوں حضرت سودہ پر ہنستیں اور مذاق اڑاتیں(۴)

۸_ اسماء بنت نعمان

حضرت اسماء اپنے زمانے کی خوبصورت ترین اور جوان ترین عورت تھی_ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اسماء سے حسد کرتی تھیں_ انہوں نے اسماء کے خلاف سازش کی_ سازش حضرت عائشہ اور حفصہ نے ملکر کی یہاں تک کہ اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے طلاق دے دی_(۵)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج۱ ص ۸۸ ، الدرالمنثور ج۶ ص ۲۴۰ از ابن مردویہ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ از بلاذری، السیرة الحلبیہ ج۳ ص ۳۰۹ ، مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۹ ، تلخیص مستدرک (اسی کے حاشیہ پر ) بیہقی نیز تاریخ یعقویب ج۲ ص ۸۷ مطبوعہ صادر_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۷ البدایة و النہایة ج ۸ ص ۷۰_ ۳_ حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۶۰ اور مجمع الزوائد ج۴ ص ۳۱۶_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۰۴ تاریخ اسلام ذہبی ج ۲ ص ۴۱۵_۴۱۶ سازش کرنے والی کا نام نہیں آیا_

۵_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۰۶ اور تاریخ الاسلام ذہبی ج۲ ص ۴۱۶_

۲۳۵

۹_ ملیکہ بنت کعب

وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی بنا پر معروف تھیں_ حضرت عائشہ نے اس کے پاس آکر کہا:'' تجھے اپنے باپ کے قاتل سے شادی کر کے شرم نہیں آئی؟''_اس نے خدا کے ہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے پناہ مانگی_ چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھی طلاق دے دی_(۱)

۱۰_ ام شریک

اس خاتون نے اپنے نفس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے وقف کیا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا تب حضرت عائشہ نے کہا:'' جو عورت اپنے نفس کو کسی مرد کیلئے وقف کر دے اس میں کوئی بھلائی نہیں''_ ام شریک نے کہا:'' پھر میں وہی عورت ہوں''_ پس خدا نے اسے مومنہ کے نام سے یاد کیا اور فرمایا:( وامرا ة مومنة ان وهبت نفسها للنبی ) یعنی اگر کوئی مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کیلئے وقف کردے_ جب یہ آیت اتری تو حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو جلد پورا کرے گا''_(۲)

۱۱_ شراف بنت خلیفہ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بنی کلاب سے ایک عورت کی خواستگاری فرمائی اور حضرت عائشہ کو بھیجا تاکہ اسے دیکھے چنانچہ وہ گئیں اور واپس آگئیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اسے کیسا پایا؟''_حضرت عائشہ بولیں:'' کوئی کام کی چیز نہیں پائی''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' بتحقیقتونے اسے کام کی عورت پایا ہے_ تو نے اس کے چہرے پر خال دیکھا ہے جس سے تیرے بدن کے سارے بال کھڑے ہوگئے (یعنی تیرے اوسان خطا ہوگئے)''_ پس وہ بولیں:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی''_(۳)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۲ _ ۲_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۱۵_

۳_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۵ _

۲۳۶

۱۲_ حفصہ بن عمر

بلکہ عائشہ تو اپنی سہیلی حفصہ سے بھی حسد کرتی تھی _ اور کہا جاتاہے کہ واقعہ مغافیر ان دونوں کے درمیان پیش آیا تھا(۱) _

نتیجہ

یہ تھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کے ساتھ حضرت عائشہ کا رویہ _ مذکورہ مشکلات کا قابل ملاحظہ حصہ بظاہر ان ازواج کے حسن و جمال کے باعث حضرت عائشہ کاحسد تھا (جیساکہ بیان ہو چکا ہے) حضرت عائشہ کی پیداکردہ مشکلات اور ان کے تجاوزات کادسواں حصہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی اور زوجہ کے بارے میں دیکھنے میں نہیں آتا سوائے ایک یا دو روایتوں کے جو خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیویوں میں سے فقط حضرت عائشہ نے (بغض و حسد اور مشکلات کا) جو طوفان مچا رکھا تھا وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس کے پیچھے ایک خاص وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ان ازواج کے مقابلے میں احساس کمتری یا احساس محرومیت کا شکار تھی، کم ازکم حسن و جمال کے معاملے میں_

ان حقائق کے پیش نظر عروہ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے مذکور ان تمام دعوں اور روایات کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے جن سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے نزدیک عائشہ کے مقام و مرتبے کا اظہار ہوتا ہے اور اگر ساقط نہ بھی ہوں تو کم از کم یہ دعوے اور روایات مشکوک ضرور ہوجاتی ہیں_

رہی واقعہ افک والی بات تو وہ بھی باطل ہے_ ہم نے اس مسئلے کے بارے میں ایک الگ کتاب لکھ کر تفصیلی بحث کی ہے_ یہ کتاب کچھ ہی مدت پہلے چھپ چکی ہے_

یہاں پر یہ آخری نکتہ بھی بیان کرتے چلیں کہ (اہل سنت کی کتابوں میں)حضرت عائشہ سے ایسی بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ( ان کے بقول) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ بوس و کنار، حالت حیض میں (نعوذ باللہ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس کے ساتھ ہم بستری اور دونوں کے ایک ہی برتن میں غسل

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۲ از بخاری ، مسلم و تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۸۷ نیز از جمع الفوائد ج۱ ص ۲۲۹ و از طبقات ابن سعد ج۸ ص ۸۵_

۲۳۷

کرنے کا ذکر ہے_ اور دیگر ایسی احادیث بھی مذکور ہیں جن میں( معاذ اللہ) جنسیات، دل ربائی اور لطف اندوزی کا رنگ پایا جاتا ہے _ جبکہ (اہل سنت کے منابع میں) حضرت عائشہ کے علاوہ دیگرازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس قسم کی حادیث بہت ہی کم دیکھنے کو ملیں گے _ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط نہیں تھے_ کیونکہ اس کی نہ تو ذہنی، ثقافتی اور عملی سطح اتنی تھی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشہ کے درمیان پل کا کام کرتی اور جس کے ذریعہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اور مضبوط بناسکتی اور نہ ہی اس کے اغراض ،اہداف اور مقاصد، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اغراض ، اہداف اور مقاصد سے میل کھاتے تھے_

اور اس کے بعد

ان عرائض کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت عائشہ کی جسارتوں، زیادتیوں نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی حضرت علیعليه‌السلام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے حوالے سے اس کی ایذا رسانیوں کو سہنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت عائشہ کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ان تمام تلخیوں پر صبر سے کام لیتے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر تھا گھریلو یا ازدواجی ماحول کے تقاضوں کے مطابق نہیں_ اس امر کی تائید حضرت عمر کی اس بات سے ہوتی ہے جوانہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے کہی_ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے خلاف ایکا کرلیا تھا_ اور آنحضرت نے (جواباً) اپنی تمام بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی_ حضرت عمر نے حفصہ سے کہا تھا:'' اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تجھے نہیں چاہتے_ اگر میں نہ ہوتا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تجھے طلاق دے دیتے''_(۱)

یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ اس دور میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حقیقت کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو کیونکہ (دور خلفا میں) سرکاری مشینری نے حضرت عائشہ کی رکاب تھام رکھی تھی اور ان کی قدر و منزلت کو بڑھانے میں مصروف تھی کیونکہ سرکاری مشینری حضرت عائشہ سے زبردست فائدے حاصل کررہی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۸۹،اس کی مزید وضاحت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کثرت ازواج کے سبب کی گفتگو میں آئیگی جو واقعہ احد سے پہلے کی بحث ہے_

۲۳۸

ان کے مقام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان کیلئے تمغوں (خودساختہ کارناموں) کا ڈھیر لگانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اور با قاعدہ سازش کارفرماتھی_ اور حضرت عائشہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم سے اپنی زوجیت اور ام المؤمنین کے لقب سے حد سے زیادہ فائدہ اٹھارہی تھیں_ اسی طرح وقت کی حکومتوں کی ضروریات سے بھی نامحدود فوائد حاصل کررہی تھیں_ یہ تمام باتیں، ہمارے لئے اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ کیوں حضرت عائشہ لوگوں کے درمیان ( اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کے کنوارے پن کی بناپر اس سے شادی کی ہے ) اپنے آپ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کی نسبت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ قریب اور با اثر مشہور کرتی تھیں_

مدینے میں دخول اسلام

مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ مدینے میں سب سے پہلے اسلام کب داخل ہوا؟ پہلا مسلمان کون تھا؟ اور کیسے اسلام وہاں پہنچا؟ لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں اسلام کا ورود کئی مرحلوں پر مشتمل ہے_ سب سے پہلے اسعد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد القیس مسلمان ہوئے_ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان شعب ابیطالب میں محصورتھے _اس کے بعد پانچ یا آٹھ یا چھ افراد مسلمان ہوئے_ پھر عقبہ کی پہلی بیعت ہوئی اور بعدازاں عقبہ کی دوسری بیعت_ مغلطای وغیرہ کے بیانات سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے_(۱)

اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اسعد بن زرارہ خزرجی اور ذکوان بن عبد القیس خزرجی ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ آئے اس وقت قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابیطالب میں محاصرہ کر رکھا تھا_ ان کے آنے کا مقصد قبیلہ اوس کے خلاف عقبہ بن ربیعہ کو اپنا حلیف بنانا تھا لیکن عقبہ نے انکار کیا اور کہا: ''ہمارے اور تمہارے گھروں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور ہم ایسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے''_ جب اس مشکل کے بارے میں سوال ہوا تو عقبہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

___________________

۱_ سیرة مغلطای ص ۲۹ _

۲۳۹

نے ان کے جوانوں کو خراب اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے_ پھر عقبہ نے اسے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رابطہ سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساحر ہیں اور اپنے کلام سے اس کو مسحور کردیں گے_ پھر اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ طواف کے دوران اپنے کانوں میں روئی ڈال لے تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بات سنائی نہ دے _اس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ حجر اسماعیل میں بیٹھے ہوئے تھے_ یہ لوگ ایام حج میں خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے شعب ابیطالب سے خارج ہوئے تھے_

اسعد طواف کیلئے آیا اور اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو حجر اسماعیل کے پاس تشریف فرما دیکھا_ اس نے سوچا مجھ سے زیادہ جاہل کون ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے سے آگاہ ہوئے بغیر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں اور ان کو اس سلسلے میں کچھ نہ بتاسکوں؟ چنانچہ اس نے روئی اپنے کانوں سے نکال کردور پھینک دی_ پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ گفتگو کی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اسے دعوت اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگیا_ اس کے بعد ذکوان نے بھی اسلام قبول کرلیا_

ایک اور روایت کہتی ہے کہ جب اسعد بن زرارہ نے ذکوان کے ساتھ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ سے عرض کی:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے والدین آپ پر فدا ہوں، میں یثرب کا باشندہ ہوں اورقبیلہ خزرج سے میرا تعلق ہے_ اوسی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہیں_ شاید خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ہمارے تعلقات کو بحال کردے، میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سب سے زیادہ صاحب شرف پاتا ہوں_ میرے ساتھ میری قوم کا ایک فرد موجود ہے_ اگر وہ اس دین میں داخل ہوا تو مجھے امید ہے کہ خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ہماری مشکل کو حل کردے گا_ اللہ کی قسماے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم یہودیوں کی زبانی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں سنتے آئے تھے وہ ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کی خوشخبری دیتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات و علامات بتاتے تھے_ مجھے امید ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دار ہجرت ہمارے ہاں ہوگا_یہودیوں نے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے_ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچایا_ اللہ کی قسم میں تو اسلئے آیا تھا کہ قریش کو اپنا حلیف بنالوں لیکن اللہ نے اس سے بہتر چیز عطا کی''_

اس کے بعد ذکوان آیا_ اسعد نے اس سے کہا :''یہ اللہ کا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کے بارے میں یہودی ہمیں خوشخبری دیتے تھے اور اس کی صفات و علامات بیان کرتے تھے، آؤ مسلمان ہوجاؤ''_ یہ سن کر ذکوان بھی

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417