الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209878 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

مجبور ہوئے اور یوں انہوں نے عمار کو چھوڑ دیا_ اس کے بعد وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ جب تک میں نے مجبور ہوکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا نہیں کہا اور ان کے معبودوں کی تعریف نہیں کی تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا'' _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''اے عمار تیری قلبی کیفیت کیسی ہے؟'' عرض کیا ''یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ میرا دل تو ایمان سے لبریز ہے''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''پس کوئی حرج نہیں بلکہ اگر وہ دوبارہ تمہیں مجبور کریں توتم پھر وہی کہو جو وہ چاہیں_ بے شک خدانے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے( الا من اکره وقلبه مطمئن بالایمان ) مگرجس پر جبر کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے لبریز ہو_(۱)

تقیہ کتاب وسنت کی روشنی میں

۱_حضرت عمار کا قصہ اور اس کے بارے میں آیات کا نزول، جان ومال کا خوف در پیش ہونے کی صورت میں تقیہ کے جواز کی دلیل ہے_

۲_علاوہ ازیں خدا کا یہ ارشاد بھی جواز تقیہ کی دلیل ہے( ومن یفعل ذلک فلیس من الله فی شی الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) یعنی جو بھی ایسا کرے (یعنی کفار کو اپنا ولی بنائے) اس کاخدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں_(۳)

۳_نیز یہ آیت بھی تقیہ کو ثابت کرتی ہے( قال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله ) (۴) یعنی آل فرعون کے ایک شخص نے جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا کہا: ''کیا تم ایک شخص کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ خدائے واحد کا اقرار کرتا ہے''_ اس آیت کو منسوخ قرار دینا غلط اور بے دلیل ہے بلکہ اس کا منسوخ نہ ہونا ثابت ہے، جیساکہ جناب

___________________

۱_ سورہ نحل، آیت ۱۰۶ ، رجوع کریں: حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۰، تفسیر طبری ج ۴ ص ۱۱۲ اور حاشیہ پر تفسیر نیشاپوری اور بہت سی دیگر کتب_

۲_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_ ۳_ تقیہ کے متعلق مزید مطالعہ کے لئے: احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۹ ، تقویة الایمان ص ۳۸ ، صحیح بخاری مطبوعہ میمنہ ج ۴ ص ۱۲۸ اور دیگر متعلقہ کتب ۴_ سورہ غافر، آیت ۲۸_

۶۱

یعقوب کلینی نے عبداللہ بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ سلیمان نے کہا:'' میں نے ابوجعفر (امام باقرعليه‌السلام ) سے سنا جبکہ آپ کے پاس عثمان اعمی نامی ایک بصری بیٹھا تھا ، جب اس نے کہا کہ حسن بصری کا قول ہے ''جو لوگ علم کو چھپاتے ہیں ان کے شکم کی ہوا سے اہل جہنم کواذیت ہوگی''_ تو آپ نے فرمایا:''اس صورت میں تو مومن آل فرعون تباہ ہوجائے گا، جب سے خدانے حضرت نوحعليه‌السلام کو مبعوث کیا علم مستور چلا آرہا ہے _حسن دائیں بائیں جس قدر چاہے پھرے خدا کی قسم علم سوائے یہاں کے کہیں اور پایا نہ جائے گا''_(۱) مذکورہ آیت سے امامعليه‌السلام کا استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے منسوخ نہ ہونے پرعلماء کا اتفاق تھا_رہی سنت نبوی تو اس سے ہم درج ذیل دلائل کا ذکر کریں گے_

سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تقیہ

۱_ جناب ابوذرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' عنقریب تمہارے اوپر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو نماز کا حلیہ بگاڑدیں گے_ اگر تم ان کے زمانے میں رہے تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھتے رہو لیکن ان کے ساتھ بھی بطور نافلہ نماز پڑھ لیا کرو ...''(۲) اور اس سے ملتی جلتی دیگر احادیث(۳)

۲) مسیلمہ کذاب کے پاس دو آدمی لائے گئے اس نے ایک سے کہا :''کیاتم جانتے ہو کہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہوں''_ اس نے جواب دیا: '' اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ''_مسیلمہ نے اسے قتل کردیا پھر دوسرے سے کہا تو اس نے جواب دیا:'' تم اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں اللہ کے نبی ہو ''_یہ سن کر مسلیمہ نے اسے چھوڑ دیا_ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' پہلا شخص اپنے عزم ویقین پر قائم رہا لیکن دوسرے نے اس راہ کو اختیار کیا جس کی خدا نے اجازت دی ہے پس اس پر کوئی عقاب نہیں''_(۴)

___________________

۱_ اصول کافی ص ۴۰،۴۱ (منشورات المکتبة الاسلامیة )نیز وسائل جلد ۱۸ص ۸_

۲_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۵۹_

۳_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۶۰، ۱۶۸_

۴_ محاضرات الادباء ، راغب اصفہانی ج ۴ص ۴۰۸اور ۴۰۹ ، احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۱۰ اور سعد السعود ص ۱۳۷_

۶۲

۳) سہمی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے روایت کی ہے''لا دین لمن لا ثقة له'' (۱) بظاہر یہاں لفظ ثقہ کی بجائے لفظ تقیہ مناسب اور درست ہے یعنی جو تقیہ نہیں کرتا وہ دین نہیں رکھتا جیساکہ شیعوں کی اہل بیتعليه‌السلام سے مروی روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں(۲) _

۴) حضرت عمار یاسر کا معروف واقعہ اور حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمار سے فرمانا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی گذشتہ عمل کا تکرار کرو یہ بات احادیث وتفسیر کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے اور اسی مناسبت سے آیت( من کفر بالله بعد ایمانه ، الاّ من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۳) نازل ہوئی تھی_

۵) نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بذات خود تقیہ فرمانا کیونکہ آپ تین یا پانچ سالوں تک خفیہ تبلیغ کرتے رہے جو سب کے نزدیک مسلمہ اور اجماعی ہے اور کسی کیلئے شک کی گنجائشے نہیں اگر چہ کہ ہم نے وہاں بتایا تھا کہ حقیقت امر صرف یہی نہیں تھا_

۶) اسلام کفار کو بعض حالات میں اجازت دیتا ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں یا قتل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں_ واضح ہے کہ یہ بھی تقیہ کی ترغیب ہے کیونکہ اس قسم کے حالات میں قبول اسلام جان کی حفاظت کیلئے ہی ہوسکتا ہے پختہ عقیدہ کی بناپر نہیں_اسلامی معاشرے میں اس امید کے ساتھ منافقین کو رہنے کی اجازت دینا اور ان کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کے مطابق سلوک کرنا کہ وہ اسلام کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کے دلوں میں ایمان مستحکم ہوجائے گا بھی اسی طرح ہے _

۷) فتح خیبر کے موقع پر حجاج بن علاط نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا :'' مکہ میں میرا کچھ مال اور رشتہ دار ہیں اور میں انہیں وہاں سے لے آنا چاہتا ہوں _ پس اگر مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا کہنا بھی پڑا تو کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت ہوگی؟'' تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے اجازت دے دی کہ جو کچھ کہے کہہ سکتا ہے(۴)

___________________

۱_ تاریخ جرجان ص ۲۰۱ _

۲_ ملاحظہ ہو : کافی (اصول) ج۲ ص ۲۱۷ مطبوعہ آخندی، وسائل الشیعہ ج۱۱ ص ۴۶۵اور میزان الحکمت ج۱۰ ص ۶۶۶ و ۶۶۷_

۳_ سورہ نمل آیت ۱۰۶اور ملاحظہ ہو فتح الباری ج۱۲ ص ۲۷۷ و ۲۷۸_

۴_ دراسات فی الکافی و الصحیح ص ۳۳۸ از سیرہ حلبیہ_

۶۳

تاریخ سے مثالیں

۱) ایک شخص نے ابن عمر سے پوچھا: ''کیا میں حکام کو زکوة دوں''؟ ابن عمر نے کہا : ''اسے فقراء اورمساکین کے حوالے کرو'' راوی کہتا ہے کہ پس حسن نے مجھ سے کہا : ''کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ جب ابن عمر خوف محسوس نہیں کرتا، تو کہتا ہے زکوة فقیروں اور مسکینوں کو دو''_(۱)

۲) علماء نے دعوی کیا ہے کہ انس بن مالک نے رکوع سے قبل قنوت والی حدیث کو اپنے زمانے کے بعض حکام سے تقیہ کی بناپر روایت کیا ہے(۲)

۳) عباس بن حسن نے اپنے محرروں اور خاص ندیموں سے مکتفی کے مرنے کے بعد خلافت کے اہل آدمی کے متعلق مشورہ لیا تو ابن فرات نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ ہر کسی سے علیحدگی میں مشورہ کرے تا کہ اس کی صحیح رائے معلوم ہوسکے دوسرے لوگوں کی موجودگی میں ہوسکتا ہے تقیہ کرتے ہوئے وہ اپنی رائے پیش نہ کرسکا ہو اور دوسروں کا ساتھ دیا ہو اس بات پر اس نے کہا : ''سچ کہتے ہو'' _ پھر اس نے ویسا ہی کیا جیسا ابن فرات نے کہا تھا(۳)

۴) بیعت عقبہ میں جناب رسول خدا اور جناب حمزہ نے تقیہ فرمایا تھا جس کے متعلق روایتیں علیحدہ فصل میں بیان ہوں گی_

۵) ایوب سے مروی ہے کہ میں جب بھی حسن سے زکوة کے بارے میں سوال کرتاتو کبھی وہ یہ کہتا حکام کو دے دو اور کبھی کہتا ان کو نہ دو_ مگر یہ کہا جائے کہ حسن کی جانب سے یہ تردید اس بارے میں شرعی مسئلہ کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے تھی(۴)

۶) محمد بن حنفیہ کے ایک خطبے میں یوں بیان ہوا ہے، امت سے جدا نہ ہونا ان لوگوں (بنی امیہ) سے تقیہ کے ذریعے سے بچتے رہو ، اور ان سے جنگ نہ کرو،راوی نے کہا :''ان سے تقیہ کرنے سے کیا مراد ہے؟'' کہا :''جب وہ بلائیں تو ان کے پاس حاضری دینا_یوں خدا تجھ سے نیز تیرے خون اور تیرے دین سے ان

___________________

۱_ المصنف عبدالرزاق ج ۴ص ۴۸ _

۲_ ملاحظہ ہو : المحلی ج۴ ص ۱۴۱_ ۳_ الوزراء صابی ص ۱۳۰_

۴_ مصدر سابق_

۶۴

کے شر کو دور رکھے گا اور تجھے خدا کے مال سے حصہ بھی ملے گا جس کے تم زیادہ حقدار ہو ''_(۱)

۷) مالک سے محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ خروج کرنے کے بارے میں سوال ہوا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہم نے ابوجعفر المنصور کی بیعت بھی کررکھی ہے مالک نے کہا :'' تم نے مجبوراً بیعت کی تھی اور جسے مجبور کیا جائے اسکی قسم (بیعت) کی کوئی حیثیت نہیں''(۲)

۸) قرطبی نے شافعی اور کوفیوں سے نقل کیا ہے کہ قتل کا خطرہ ہونے کی صورت میں تقیہ جائزہے_ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے_(۳)

۹) حذیفہ کی روایت ہے کہ ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں تھے_ انہوں نے فرمایا: '' مجھے گن کربتاؤ اسلام کے کتنے ارکان ہیں؟'' حذیفہ کا کہنا ہے کہ ہم نے عرض کیا :'' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہماری طرف سے کوئی پریشانی لاحق ہے؟ جبکہ ہم ابھی بھی چھ سوسے سات سو کے درمیان ہیں'' تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' تمہیں کیا خبر کل کلاں تم آزمائشے میں مبتلا ہوجاؤ'' حذیفہ کہتا ہے کہ بعد میں ہم ایسی سخت آزمائشے میں مبتلا ہوئے کہ حتی کہ ہم میں سے ہر کوئی چھپ کر نماز پڑھتا تھا_(۴) یہی حذیفہ حضرت علیعليه‌السلام کی بیعت کے صرف چالیس دن بعد فوت ہوا اور یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس بیعت سے قبل پچھلے دور میں مؤمنین سخت دباؤ کا شکار تھے_ جو لوگ شرعی حکومت پر قابض تھے وہ دین اور دینداروں کے خلاف اپنے دل میں پرانا کینہ رکھتے تھے اور جس چیز کا تھوڑا سا تعلق بھی دین کے ساتھ ہوتا تھا اس کا مذاق اڑایا کرتے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرتے تھے_

۱۰) تمام اہل حدیث اور ان کے بڑے بڑے علماء نے تقیہ کرتے ہوئے قرآن کے مخلوق ہونے کی تصدیق کی حالانکہ وہ اس کے قدیم ہونے کے قائل تھے فقط امام احمد بن حنبل اور محمد بن نوح نے انکار کیا(۵) بلکہ امام احمد نے بھی تقیہ کیا چنانچہ جب وہ پھندے کے پاس پہنچا تو کہا : ''میں کوئی بات زبان پر نہ

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۵ص ۷۰ _ ۲_ مقاتل الطالبین ص ۲۸۳نیز طبری ج ۳ص ۲۰۰ مطبوعہ یورپ_

۳_ تفسیر قرطبی ج ۱۰ص ۱۸۱ _ ۴_ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۱ _ صحیح بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ھ ج ۲ ص ۱۱۶و مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۴_

۵_ تجارب الامم مطبوعہ ہمراہ العیون و الحدائق ص ۴۶۵ _

۶۵

لاؤںگا'' نیز جب حاکم وقت نے اس سے کہا:'' قرآن کے بارے میں کیا کہتے ہو'' تو جواب دیا: '' قرآن کلام الہی ہے'' پوچھا گیا ''کیا قرآن مخلوق ہے''؟ جواب دیا: ''میں بس اتنا کہتا ہوں کہ اللہ کا کلام ہے''_(۱) بلکہ یعقوبی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جب امام احمد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو بولے : '' میں ایک انسان ہوں جس نے کچھ علم حاصل تو کیا ہے لیکن اس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ہے '' _اس مناظرے اور چند کوڑے کھانے کے بعد اسحق بن ابراہیم مناظرے کے لئے دوبارہ آیا اور اس سے کہا : '' اب کچھ باقی رہ گیا ہے جسے تو نہ جانتاہو؟''کہا : '' ہاں باقی ہے'' _ کہا : ' ' پس یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں تو نہیں جانتا_ حالانکہ امیر المؤمنین (حاکم وقت) نے تجھے اچھی طرح سکھا دیا ہے '' _ کہا : '' پھر میں بھی امیرالمؤمنین کے فرمان کا قائل ہوگیا ہوں '' پوچھا: '' قرآ ن کے مخلوق ہونے کے متعلق ؟'' کہا : '' جی ہاں خلق قرآن کے متعلق '' کہا : ''پھر یا د رکھنا'' پھر اسے آزاد کرکے گھر کو جانے دیا(۲) _

حالانکہ امام احمد خودکہتے ہیں کہ جو فقط یہ کہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اور مزید کچھ نہ کہے تو وہ واقفی اور ملعون ہے_(۳)

خوارج کے مقابلے میں ابن زبیر نے بھی تقیہ سے کام لیا(۴) اسی طرح شعبی اور مطرف بن عبداللہ نے حجاج سے تقیہ کیا اور عرباض بن ساریہ اور مؤمن الطاق نے بھی خوارج سے اور صعصعہ بن صوحان نے معاویہ سے تقیہ کیا(۵)

خلق قرآن کے مسئلے میں اسماعیل بن حماد اور ابن مدینی نے بھی تقیہ کیا، ابن مدینی قاضی ابو داؤد معتزلی کی مجلس میں حاضر رہتا اور اس کے پیچھے نماز پڑھتا تھا_ نیز احمد بن حنبل اور اس کے اصحاب کی حمایت کرتا تھا_(۶)

۱۱_ مدینہ پر بسربن ابی ارطاة کے غارتگرانہ حملہ کے موقع پر جابربن عبداللہ انصاری نے ام المومنین

___________________

۱_ تاریخ طبری ج ۷ص ۲۰۱نیز آثار جاحظ ص ۲۷۴و مذکرات الرمانی ص ۴۷_

۲_ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۴۷۲_ ۳_ بحوث مع اھل السنة و السلفیہ ص ۱۲۲،۱۲۳ از الرد علی الجھمیة (ابن حنبل) در کتاب الدومی ص۲۸ _

۴_ ملاحظہ ہو العقد الفرید ابن عبدربہ ج۲ ص ۳۹۳_ ۵_ العقد الفرید ج ۲ ص ۴۶۴ و ص ۴۶۵ اور ملاحظہ ہو : بہج الصباغہ ج ۷ ص ۱۲۱_

۶_ رجوع کریں لسان المیزان ج ۱ص ۳۳۹اور ۴۰۰متن اور حاشیہ ملاحظہ ہو_

۶۶

حضرت ام سلمہ کی خدمت میں شکایت کی :'' مجھے قتل ہونے کا خوف ہے اور یہ بیعت ایک گمراہ شخص کی بیعت ہے اس موقع پر میں کیا کروں''؟ تو انہوں نے فرمایا : '' اس صورت میں تم اس کی بیعت کرلو کیونکہ اصحاب کہف کو بھی اسی تقیہ نے صلیب پہننے اور دوسرے شہریوں کے ساتھ عید کی محفلوں میں شریک ہونے پر مجبور کردیا تھا''(۱)

۱۲_ حضرت امام حسنعليه‌السلام کے مسموم ہونے کے بعد جب اہل کوفہ نے حضرت امام حسینعليه‌السلام سے معاویہ کے خلاف قیام کرنے کا مطالبہ کیا تو آپعليه‌السلام نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا_ البتہ اس معاملے میں آپ کے اور بھی اہداف تھے جو معاویہ کے خلاف پوری زندگی قیام نہ کرنے کے اپنے شہید بھائی کے موقف کے ہماہنگ تھے_ اس بارے میں ملاحظہ فرمائیں اخبار الطوال ص ۲۲۰تا۲۲۲_

۱۳_ حسن بصری کا قول ہے کہ تقیہ روز قیامت تک ہے_(۲)

۱۴_ بخاری کا کہنا ہے:'' جب کسی آدی کو اپنے ساتھی کے قتل و غیرہ کا ڈر ہو اور اس کے متعلق یہ قسم کھائے کہ یہ میرا بھائی ہے _ تو اس پر کوئی بھی حد یا قصاص و غیرہ نہیں ہے کیونکہ اس سے ظالم کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہا ہو تا ہے_ ظالم شخص اسے چھوڑکر قسم کھانے والے کے ساتھ جھگڑتا ہے جبکہ اسے کچھ نہیں کہتا_ اسی طرح اگر اس سے یہ کہا جائے کہ یا تو تم شراب پیو ، مردار کھاؤ ، اپنا غلام بیچو، قرض کا اقرار کرو یا کوئی چیز تحفہ دویا کوئی معاملہ ختم کردو و گر نہ تمہارے باپ یا تمہارے مسلمان بھائی کو قتل کردیں گے تو اسے ان چیزوں کے ارتکاب کی اجازت ہے ...'' یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :'' نخعی کا قول ہے کہ اگر قسم لینے والا ظالم ہے تو قسم اٹھانے والے کی نیت پر منحصر ہے اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہے تو پھر اس کی نیت پر منحصر ہوگا ''(۳)

۱۵_ یہاں تک کہ مغیرہ بن شعبہ کا حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق عیب جوئی کے بارے میں یہ دعوی ہے کہ وہ تقیہ پر عمل کرتا تھا کیونکہ صعصعہ سے کہتا ہے:'' یہ بادشاہ ہمارے سروں پر مسلط ہوچکا ہے اور ہمیں لوگوں کے سامنے آپعليه‌السلام کی عیب جوئی کرنے پر مجبور کرتا ہے ، ہمیں بھی اکثر اوقات اس کی پیروی کرتے ہوئے ان لوگوں

___________________

۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۹۸_ ۲) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ مطبوعہ المیمنیہ_

۳) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ ، صحیح بخاری کی '' کتاب الاکراہ'' کا مطالعہ بہت مفید ہوگا کیونکہ اس میں تقیہ کے متعلق بہت مفید معلومات ہیں_

۶۷

کے شر سے دور رہنے کے لئے بطور تقیہ ایسی بات کہنی پڑتی ہے _ اگر تم حضرتعليه‌السلام کی فضیلت بیان کرنا بھی چاہتے ہو تو اپنے ساتھیوں کے درمیان اور اپنے گھروں میں چھپ کر کرو ...''(۱)

۱۶_ ابن سلام کہتا ہے :'' رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے نماز کو وقت پر پڑھنے کا اور پھر بطور نافلہ ان حکام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا جو نماز کو تاخیر کے ساتھ پڑھتے ہیں''(۲)

۱۷_ خدری نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق اپنے موقف میں وہ تقیہ سے کام لیتا تھا_ تا کہ بنی امیہ سے اس کی جان بچی رہے اور اس نے آیت( ادفع بالتی هی احسن السیئة ) سے استدلال کیا ہے(۳) اسی طرح بیاضی کی '' الصراط المستقیم'' ج ۳ ص ۲۷ تا ۷۳ میں ایسے کوئی واقعات ذکر ہوئے ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں_

بہرحال اس مسئلے کی تحقیق کیلئے کافی وقت کی ضرورت ہے یہاں جتنا عرض کیا گیا ہے شاید کافی ہو_

تقیہ ایک فطری، عقلی، دینی اور اخلاقی ضرورت

تقیہ کا جواز اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام ایک جامع اور لچک دار دین ہے اور ہر قسم کے حالات سے عہدہ برا ہوسکتا ہے_ اگر اسلام خشک اور غیرلچک دار ہوتا یااس میں نئے حالات وواقعات سے ہم آہنگ ہونے کی گنجائشے نہ ہوتی تو لازمی طورپر نت نئے واقعات سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتا _بنابریں خدانے تقیہ کو جائز قرار دیکر مشکل اور سنگین حالات میں اپنے مشن کی حفاظت اس مشن کے پاسبان (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کی حفاظت کے ذریعے کی_ اس کی بہترین مثال خفیہ تبلیغ کا وہ دور ہے جس میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب، بعثت کے ابتدائی دور سے گزرے_

جب دین کے لئے قربانی دینے کا نہ صرف کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ دین کے ایک وفادار سپاہی کو ضائع کرنے

___________________

۱_ تاریخ الامم و الملوک ج ۴ ص ۱۲_

۲_ تہذیب تاریخ دمش ج ۶ ص ۲۰۵_

۳_ سلیم بن قیس ص ۵۳ مطبوعہ مؤسسہ البعثة قم ایران_

۶۸

کی وجہ سے الٹا دین کا نقصان بھی ہو تو تب دین اسلام کے پاسبانوں کی حفاظت کے لئے دین میں لچک کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے _ یوں بہت سے موقعوں پر اسلام کی حفاظت اس کے ان وفادار اور نیک سپاہیوں کی حفاظت کے زیر سایہ ہوتی ہے جوبوقت ضرورت اس کی راہ میں قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیں پس تقیہ کا اصول انہی لوگوں کی حفاظت کیلئے وضع ہوا ہے_

رہے دوسرے لوگ جنہیں اپنے سواکسی چیزکی فکر ہی نہیں ہوتی تو، تقیہ کے قانون کی موجودگی یا عدم موجودگی ان کیلئے مساوی ہے تقیہ اسلام کے محافظین کی حفاظت کیلئے ہے تاکہ اس طریقے سے خود اسلام کی حفاظت ہوسکے تقیہ نفاق یا شکست کا نام نہیں کیونکہ اسلام کے یہ محافظین تو ہمیشہ قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیںاور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ معاویہ کے دورمیں خاموش رہنے والے حسینعليه‌السلام وہی حسینعليه‌السلام تھے جنہوں نے یزید کے خلاف اس نعرے کے ساتھ قیام کیا:

ان کان دین محمد لم یستقم

الا بقتلی فیا سیوف خذینی

یعنی اگر دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلاح میرے خون کے بغیر نہیں ہوسکتی ، تو اے تلوارو آؤ اور مجھے چھلنی کر دو_

پس جس طرح یہاں ان کا قیام دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھا بالکل اسی طرح وہاں ان کی خاموشی بھی فقط دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھی_ اس نکتے کے بارے میں ہم نے حلف الفضول کے واقعے میں گفتگو کی ہے_

یوں واضح ہوا کہ جب حق کی حفاظت کیلئے قربانی کی ضرورت ہوتو اسلام اس کو لازم قراردیتا ہے اوراس سے پہلوتہی کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتتا_

علاوہ برایں اگر اسلام کے قوانین خشک اورغیر لچک دار ہوں توبہت سے لوگ اس کو خیر باد کہہ دیں گے بلکہ اس کی طرف بالکل رخ ہی نہیں کریں گے_ وحشی وغیرہ کے قبول اسلام کے بارے میں ہم بیان کریں گے کہ بعض لوگ اسلئے مسلمان ہوتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل نہیں کرتے _

بنابریں واضح ہے کہ اسلام کے اندر موجود اس نرمی اور لچک کی یہتوجیہ صحیح نہیں ہے کہ یہ قانون دین میں

۶۹

دی گئی ایک سہولت ہے تاکہ بعض لوگوں کیلئے قبول اسلام کوآسان بنایاجاسکے بلکہ اسے تو اسلام ومسلمین کی حفاظت کا باعث سمجھنا چاہئے بشرطیکہ اس سے اسلام کے اصولوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو بلکہ ترک تقیہ کی صورت میں قوت اور وسائل کابے جا ضیاع ہوتا ہو اور یہی امر تقیہ اور نفاق کے درمیان فرق کا معیار ہے لیکن بعض لوگ تقیہ کو جائز سمجھنے والوں پر نفاق جیسے ناجائزاور ظالمانہ الزام لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں_

ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس قبیلہ ثقیف کے افراد آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ کچھ مدت کیلئے ان کو بتوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے نیز ان پر نماز فرض نہ کی جائے (کیونکہ وہ اسے اپنے لئے گراں سمجھتے تھے) اس کے علاوہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بت توڑنے کا حکم نہ دیاجائے تو اسی معیار کی بناپریہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضورنے آخری بات تو مان لی لیکن پہلی دو باتوں کو رد کردیا_(۱) اسی طرح انہوں نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ انہیں زنا، شراب سود اور ترک نماز کی اجازت دی جائے(۲) انہیں بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے رد کردیااور اس بات کا لحاظ نہ کیا کہ یہ قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے اسلام کو تقویت ملے گی اور دشمن کمزور ہوں گے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے سال ہا سال بتوں کی پوجا کی تھی مزید ایک سال تک بت پرستی کی مہلت کیوں نہ دی؟ جس کے نتیجے میں وہ اسلام سے آشنا اور قریب ترہوجاتے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کا مطالبہ ٹھکرادیا حتی کہ ایک لمحے کیلئے بھی آپ نے ان کو اس بات کی اجازت نہ دی، کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر جائز وناجائز وسیلے سے اپنے اہداف تک پہنچنے کے قائل نہ تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وسیلے کو بھی ہدف کاایک حصہ سمجھتے تھے جیساکہ ہم ذکر کرچکے ہیں_

___________________

۱_ یہاں سے پتہ چلا کہ ''جبلہ ابن ایھم'' سے قصاص لینے پر اصرار میں عمر کی پالیسی کامیاب نہ تھی_ کیونکہ وہ تازہ مسلمان ہوا تھا اور اپنی قوم کا حاکم تھا_ اس نے ابھی اسلام کی عظمت اور ممتاز خوبیوں کو نہیں سمجھا تھا_ حضرت عمر کو چاہئے تھا کہ وہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس مسئلے کو کسی آسان تر طریقے سے حل کرتے_

۲_ سیرہ نبویہ دحلان ( حاشیہ سیرہ حلبیہ پر مطبوع) ج۳ ص ۱۱ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۲۳۶ ، تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵ تا ۱۳۷ اور ترک نماز کے متعلق ملاحظہ ہو : الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۲۸۴ ، اسی طرح سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۴ ص ۱۸۵ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۴ ص ۵۶ اور البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۳۰_

۷۰

لیکن اس کے مقابل اگر کوئی بالفرض آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے حرمتی کرتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معاف کردیتے تھے بشرطیکہ اسے یہ احساس ہوجاتا کہ اس نے گناہ کیا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس سے درگذر کیاہے_ لیکن اگر وہ شخص اپنے غلط عمل کو صحیح سمجھتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی صورت میں بھی اسے معاف نہیں فرماتے_

خلاصہ(۱) یہ کہ جب مسلمان کمزور ہوں تو پھر انہیں دشمنوں کے ساتھ سخت لڑائی لڑنے کاحق نہیں جس میں وہ خود ہلاک ہوجائیں یاان کے ختم ہونے سے عقیدہحق بھی ختم ہوجائے کیونکہ دین اور نظریات وعقائد کو اس قسم کے مقابلے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ کبھی کبھی الٹا نقصان پہنچتا ہے _ نیز اگرحق کا دفاع ایسی قربانی دینے سے پرہیز پر موقوف ہو جو حق کے مٹنے کا باعث ہو، عقل وفکر سے بیگانہ ہو یا وحشیانہ طرز عمل کے ساتھ ہو، نیز ایک نظریاتی جنگ کیلئے مطلوبہ شرائط سے خالی ہو تو پھر اس قربانی سے احتراز کرنا چاہیئے_

یہ بات اسلام کی عظمت، جامعیت اور حقائق زندگی کے ساتھ اس کی ہماہنگی کی ایک اور دلیل ہے_

___________________

۱_ یہ خلاصہ علامہ سید محمد حسین فضل اللہ کے فرمودات سے ماخوذ ہے _ مراجعہ ہو: مفاہیم الاسلامیہ عامہ حصہ ۸ ص ۱۲۷_

۷۱

دوسری فصل

ہجرت حبشہ اور اس سے متعلقہ بحث

۷۲

راہ حل کی تلاش:

قریش نے ان مسلمانوں کو ستانے کا سلسلہ جاری رکھا جن کی حمایت کرنے والا کوئی قبیلہ نہ تھا_ مسلمانوں کیلئے یونہی بیٹھے رہنا ممکن نہ تھا_ان ستم زدہ لوگوں کیلئے ایک ایسی سرزمین کی ضرورت تھی جو ان کی امیدوں کا مرکزہوتی، ان کو مشکلات کامقابلہ کرنے میں مدد دیتی اور جہاں وہ مشرکین کی طرف سے قسم قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے زیادہ قابل بن سکتے_ یوں وہ ان مشرکین کا مقابلہ کرسکتے تھے جنہوں نے اپنے خداؤں سے ما فوق خدا اور اپنی حاکمیت سے برتر حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا_ نیز اطاعت وتسلیم کے بجائے ہٹ دھرمی اور عناد کی روش اپنائی تھی_

دوسری طرف سے اس پر مشقت و پرآلام صورتحال پر باقی رہنے کی صورت میں قبول اسلام کی جانب لوگوں کی رغبت میں کمی آجاتی کیونکہ اسلام قبول کرنے کا نتیجہ خوف، دہشت اور تکالیف وآلام میں مبتلا ہونے کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا_

تیسرا پہلو یہ کہ قریش کے تکبر اور ان کی خود پسندانہ طاقت پر کم از کم نفسیاتی طور پر ایسی کاری ضرب لگانے کی ضرورت تھی ، کہ وہ سمجھ جا ئیں کہ دین کا مسئلہ ان کے تصورات اور ان کی طاقت کی حدود سے مافوق چیز ہے اور ان کو زیادہ سنجیدہ ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے_

ان حقائق کے پیش نظر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا_ ہجرت حبشہ بعثت کے پانچویں سال ہوئی لیکن حاکم نیشابوری کے مطابق ہجرت حبشہ جناب ابوطالب کی وفات کے بعد ہوئی(۱)

___________________

۱_ مستدرک حاکم ج۲ص ۶۲۲_

۷۳

حالانکہ جناب ابوطالب کی وفات بعثت کے دسویں سال ہوئی _ شاید وہ ایک اور ہجرت کے متعلق بتانا چاہتے ہوں جسے کچھ مسلمانوں نے اس موقع پر انجام دیا یا شاید کچھ لوگ صلح کے متعلق سن کر واپس پلٹے ہوں اور اچانک برعکس صورت حال دیکھ کر دوبارہ ہجرت کرگئے ہوں _ لیکن ہمارے پاس ایسے کوئی قرائن بھی نہیں ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہوں کہ یہ واقعہ وفات جناب ابوطالب کے بعد پیش آیا_

حبشہ کے انتخاب کی وجہ

ہجرت کیلئے حبشہ کا انتخاب کیوں ہوا؟ اس رازکی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یوں اشارہ فرمایا ''یقینا وہاں ایک ایسا بادشاہ موجود ہے جس کی حکومت کے زیر سایہ کسی پر ظلم نہیں ہوتا''_ حبشہ سچائی کی سرزمین ہے اور وہ (بادشاہ) مانگنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے_ اس انتخاب کی علت بالفاظ دیگر یہ تھی کہ:

۱) اس صورت میں قریش پر ضروری ہوجاتا کہ وہ اپنے اقتدار، بت پرستی اور انحرافی افکار کے لئے خطرہ سمجھنے والے دین پر اول و آخر اپنے مکمل تسلط اور اختیار کو باقی رکھنے کے لئے مسلمانوں کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں_

۲) قریش کو تجارتی اور اقتصادی روابط کے سبب روم اور شام میں اثر و رسوخ حاصل تھا ،بنابریں ان سرزمینوں کی طرف ہجرت کرنے کی صورت میں قریش کیلئے مسلمانوں کو لوٹانا یاکم از کم آزار پہنچانا آسان ہوجاتا_ خصوصا اس حالت میں جب ان ملکوں کے حکمران کسی قسم کے اخلاقی یا انسانی اصولوں کے پابند نہ تھے اور ان کو ظلم وستم سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہ تھی خاص کر ان مسلمانوں کے اوپر جن کا دین ان کے ذاتی مفادات اور اقتدار کیلئے خطرہ اور چیلنج تھا_

رہا یمن یا دوسرے عرب قبائل کا مسئلہ تو وہ ظالم اور جابر ایرانی بادشاہوں کے زیر تسلط تھے_ کہتے ہیں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بعض قبائل کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے حمایت چاہی تو انہوں نے قبول کیا لیکن کسری نے قبول نہ کیا_واضح رہے کہ کسری کے ہاں پناہ تلاش کرناملک روم میں پناہ ڈھونڈنے سے کم خطر ناک نہ تھا_ بالخصوص اس حالت میں جب کہ کسری دیکھ رہا تھا کہ یہ عرب شخص جلدہی اس کے ملک سے قریب علاقے میں خروج کرے گا اور اس کی دعوت اس کے ملک میں بھی سرایت کرجائے گی_

۷۴

نیز یہ دعوت اپنے لئے تراشے گئے ناجائز امتیازی حقوق پر اثر انداز ہوگی( جیساکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن اوراہداف سے ظاہر تھا) _اس کے علاوہ وہ طبیعة عربوں کو حقیر سمجھتا تھا اور ان کیلئے کسی عزت واحترام کا قائل نہ تھا_

۳) قریش کو مختلف عرب قبائل کے اندر کافی اثر و نفوذ حاصل تھا حتی ان قبائل کے درمیان بھی جو ایران وروم کے زیر اثر تھے جیساکہ اس کتاب کے اوائل میں مذکوربعض معروضات سے واضح ہے_

۴)مذکورہ باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ حبشہ میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا_ ان حقائق کے پیش نظر ہم ہجرت کیلئے حبشہ کے انتخاب کی وجہ سمجھ سکتے ہیں_ حبشہ کا علاقہ ایران، روم اور قریش کے اثر و رسوخ سے خارج تھا _قریش وہاں گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار ہوکر نہیں پہنچ سکتے تھے قریش بحری جنگ سے بھی نا آشنا تھے_ بنابریں مسلمانوں نے (جو قریش کی طاقت و جبروت کے سامنے کمزور تھے ) ہجرت کیلئے حبشہ کی راہ لی

آخر میں ہم ارض حبشہ کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے ارشاد (حبشہ صدق وصفا کی سرزمین ہے) سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حبشہ میں بعض قبیلے فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے اور صدق وخلوص سے میل جول رکھتے تھے_ پس اس مسلمان مہاجر گروہ کا وہاں ان لوگوں کے ساتھ آسودگی کے ساتھ رہنا اور میل جول رکھنا ممکن تھا، خاص طور پر جب یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ اس مملکت میں وہ انحرافات اور غلط افکار وعقائدنہیں پائے جاتے تھے جو روم اور ایران میں پائے جاتے تھے کیونکہ یہ ممالک غیر انسانی نظریات وافکار اور منحرف عقائد وادیان سے کافی حد تک آلودہ ہوچکے تھے لیکن حبشہ کی سرزمین ان آلودگیوں سے دور تھی _

اس لئے کہ وہاں نت نئے دین نہیں ابھرتے تھے اور نہ ہی وہاں روم اور ایران کی مقدار میں دانشمند اور فلاسفر تھے اس لئے وہ دوسرے ممالک کی بہ نسبت فطرت اور حق سے زیادہ قریب تھی لیکن فطرت کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ممالک کسی بھی انحراف سے خالی ہیں _ کیونکہ وہاں انحرافات کا وجود بھی طبیعی امر ہے جبکہ یہ کہنا کہ وہاں فطرت کا راج ہے بالکل اس طرح ہے جیسے یہ کہا جائے کہ فلاں شہر کے لوگ مؤمن ہیں ،

۷۵

بہادر ہیں یا سخی ہیں _ کیونکہ یہ بات اس شہر میں کافروں، منافقوں ، بزدلوں یابخیلوں کے وجود سے مانع نہیں ہے _ اور واضح سی بات ہے کہ اگر مسلمان کسی ایسے ملک کی طرف ہجرت کرتے جہاں فطرت کی بالادستی نہ ہوتی اور وہاں کا فرمانروا ظلم سے پرہیز نہ کرتا تو وہاں بھی ان کے لئے زندگی مشکل ہوجاتی اور ان کی ہجرت کا کوئی زیادہ فائدہ اور بہتر اثر نہ ہوتا_

حبشہ کا سفر

مسلمانوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی، حضرت ام سلمہ سے منقول ایک روایت کے مطابق وہ مختلف گروہوں کی شکل میں وہاں گئے(۱) کہتے ہیں کہ پہلے دس مردوں اور چارعورتوں نے عثمان بن مظعون کی سرکردگی میں ہجرت کی(۲) اس کے بعد دیگر مسلمان بھی چلے گئے یہاں تک کہ بچوں کے علاوہ کل بیاسی مرداور اگر حضرت عمار یاسر بھی ان میں شامل ہوں تو تراسی مرد اور انیس عورتیں حبشہ پہنچ گئے_

لیکن ہم صرف ایک ہی مرتبہ کی ہجرت کے قائل ہیں جس میںسب نے حضرت جعفر بن ابوطالب کی سرکردگی میں حبشہ کی طرف ایک ساتھ ہجرت کی تھی _اس قافلے میں حضرت جعفر طیارعليه‌السلام کے علاوہ بنی ہاشم میں سے کوئی نہ تھا _البتہ ممکن ہے کہ مکہ سے نکلتے وقت احتیاط کے پیش نظر افراد مختلف گروہوں کی شکل میں خارج ہوئے ہوں لیکن ہجرت ایک ہی مرتبہ ہوئی تھی کیونکہ شاہ حبشہ کے نام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کاخط بھی اسی بات کی گواہی دیتا ہے جسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمروبن امیہ الضمری کے ساتھ روانہ کیا تھا ، اس خط میں مکتوب ہے:

'' البتہ میں نے آپ کی طرف اپنے چچا زاد بھائی جعفر بن ابوطالب کو مسلمانوں کے ایک گروہ کے

___________________

۱_ السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۲ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۰ ازالصفوة و المنتہی_

۲_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۵، سیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۵، البدایہ و النہایة ج ۳ص ۶۷، السیرة الحلبیة ہ ج ۱ص ۳۲۴ (جس میں کہا گیا ہے کہ ابن محدث نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کی تصریح کی ہے) نیز تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۸۸_

۷۶

ساتھ بھیجا ہے، جب وہ پہنچ جائیں تو ان کو وہاں ٹھہرانا ...''(۱)

یہی بات ابوموسی سے مروی روایت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جعفربن ابوطالب کے ہمراہ نجاشی کے ملک کی طرف چلے جائیں_(۲) اگرچہ خود ابو موسی کی ہجرت مشکوک ہے جس کا تذکرہ آئندہ ہوگا_

جعفر سردار مہاجرین :

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت جعفر طیار کی حبشہ کی طرف ہجرت قریش کی جانب سے سختیوں اور مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے نہیں تھی_ کیونکہ قریش حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی شان و شوکت سے ڈرتے تھے اور بنی ہاشم اور خاص کر ان کا لحاظ کرتے تھے_ حضرت جعفر کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے صرف مہاجرین کا سردار اور ان کا سرپرست بنا کر بھیجاتھا تا کہ وہ انہیں اس نئے معاشرے میں جذب ہوجانے سے بچاسکے، جس طرح کہ ابن جحش کی صورتحال تھی کہ وہ حبشہ میں نصرانی ہوگیا تھا_

حبشہ کا پہلا مہاجر

کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب سے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بارے میں فرمایاکہ وہ حضرت لوطعليه‌السلام کے بعد پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کی_(۳) یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سب سے پہلے خارج ہوئے_(۴)

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۳، بحارالانوار ج ۱۸ص ۴۱۸، اعلام الوری ص ۴۵_۴۶از قصص الانبیاء_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۰ نے ابو نعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے اور سیرت نبویہ (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۱ _

۳_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از ابن اسحاق، السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص۲۸۹ _

۴_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۴، نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از بیہقی نیر السیرة الحلبیة ج ۱ ص۲۲۳ _

۷۷

لیکن ہمیں اس بارے میں شک ہے کیونکہ اگر مراد یہ ہو کہ وہ گھروالوں کے ساتھ ہجرت کرنے والے پہلے آدمی تھے تویہ بات واضح رہے کہ سب سے پہلے اپنے گھروالوں کے ساتھ ابوسلمہ نے ہجرت کی تھی جیساکہ نقل ہوا ہے_(۱) اور اگر مراد یہ ہو کہ وہ بذات خود سب سے پہلے خارج ہوئے تو عرض ہے کہ خود انہی نقل کرنے والوںکے بقول سب سے پہلے خارج ہونے والے شخص حاطب بن عمر تھے(۲) یا سلیط بن عمرو(۳) نیز ابوسلمہ کے بارے میں بھی اسی قسم کا قول موجود ہے_

ابوموسی نے حبشہ کی جانب ہجرت نہیں کی

امام احمد نے (حسن و غیرہ کی سند کے ساتھ) اوردوسروں نے بھی روایت کی ہے کہ ابوموسی اشعری حبشہ کی طرف پہلی بار ہجرت کرنے والوں میں شامل ہے_(۴) لیکن بظاہر یہ بات یا تو غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا راوی نے عمداً غلط بیانی کی ہے کیونکہ ابوموسی ہجرت کے ساتویں سال مدینے میں مسلمان ہوا تھا_ کہتے ہیں کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے پاس جانے کیلئے نکلے لیکن ان کی کشتی نے انہیں حبشہ پہنچادیا اور وہ حبشہ کے مہاجرین کے ساتھ ساتویں ہجری میں مدینہ آئے(۵) اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ ہجرت مدینہ کے بعد کا واقعہ ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مکہ آنے کیلئے چلتے اور پندرہ سال حبشہ میں ٹھہرتے بظاہر ابوموسی اشعری مہاجرین حبشہ کے ساتھ واپسی کے راستے میںآن ملے تھے کیونکہ عسقلانی نے کہا ہے : '' اس کی کشتی جناب

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ص ۳۳۵نیز رجوع کریں ج ۴ص ۴۵۹اور ۴۵۸نیز الاستیعاب (حاشیہ الاصابہ پر) ج ۲ص ۳۳۸از مصعب الزبیری و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲واسد الغابة ج ۳ص ۱۹۶از ابی عمر و ابن منزہ اور السیرة الحلبیہ ج ۱ص ۳۲۳ _

۲_ الاصابة ج ۱ ص ۳۰۱ اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲۳_

۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳ _

۴_ رجوع کریں: سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۷، ۶۹، ۷۰ نے ابن اسحاق، احمد اور ابونعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے_ السیرة النبویة( ابن کثیر) ج ۲ص ۷اور ص ۹، فتح الباری ج۷ص ۱۴۳، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴ از طبرانی اور نیز حلیة الاولیاء ج ۱ ص۱۱۴ _

۵_ رجوع کریں السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۴اور البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۱_

۷۸

جعفر بن ابوطالب کی کشتی سے ملی اور وہ سب اکٹھے آئے''(۱)

مہاجرین کے ساتھ عمر کا رویہ

کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہجرت حبشہ کی تیاری میں مصروف تھے تو حضرت عمر نے ان کو دیکھا یوں ان کا دل پسیجا اور وہ محزون ہوئے(۲) لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ وہ لوگ تو خاموشی سے چھپ کر نکلے تھے_ ان میں سے بعض پیدل تھے اور بعض سواریہاں تک کہ ساحل سمندر تک پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایک کشتی دیکھی اور جلدی سے اس میں سوار ہوگئے_ ادھر قریش ان کے تعاقب میں ساحل تک پہنچے لیکن وہاں کسی کو نہیں پایا_(۳) اس کے علاوہ حضرت عمرکی وہ سخت گیری اور قساوت بھی ملحوظ رہے جس کی نسبت (ہجرت حبشہ سے قبل اور ہجرت حبشہ کے بعد) ان کی طرف دی جاتی ہے اور یہ بات مذکورہ بالاقول کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے_

حضرت ابوبکر نے ہجرت نہیں کی

کہتے ہیں کہ جب مکے میں بچے ہوئے مسلمانوں پر سختیوں میں اضافہ ہوا اور حضرت ابوبکر کیلئے مکے میں زیادہ تکالیف کے سبب جینا دوبھر ہوگیا، تو وہ وہاں سے نکل گئے اور حبشہ کی راہ لی اس وقت بنی ہاشم شعب ابوطالب میں محصور تھے_ جب وہ ''برک الغماد'' کے مقام پر پہنچے (جو مکہ سے پانچ دن کے فاصلے پر یمن کی جانب واقع ہے) تو قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ کی ان سے ملاقات ہوگئی ،یہ لوگ قریش کے قبیلہ بنی زہرہ

___________________

۱_ الاصابہ ج۲ ص ۳۵۹_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۹از ابن اسحاق، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴، مستدرک الحاکم ج ۳ص ۵۸، الطبرانی اور السیرة الحلبیہج ۱ص ۳۲۳اور ۳۲۴ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۴، تاریخ الخمیس ج۱ص ۲۸۸اور ۲۸۹از المنتقی، الطبری ج ۲ص ۶۹البدء و التاریخ ج ۴ص ۱۴۹و اعلام الوری ص ۴۳ ویعقوبی ج ۲ص ۲۹اور ابن قیم کی زاد المعاد ج ۲ص ۴۴_

۷۹

کے حلیف تھے_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر کہاں کا ارادہ ہے؟'' وہ بولے :''میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے چنانچہ میرا ارادہ ہے کہ میں دنیا میں پھروں اور اپنے رب کی عبادت کروں''_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر تم جیسوں کو نکالانہیں کرتے، تم محروموں کی مدد کرتے ہو''_ یہاں تک کہ کہا:'' اب لوٹ جاؤ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں'' یوں حضرت ابوبکر ابن دغنہ کے ساتھ واپس ہوئے، ابن دغنہ نے رات کو قریش کے بزرگوں کے ہاں جاکر بتایا کہ اس نے حضرت ابوبکر کو پناہ دی ہے قریش نے اس شرط کے ساتھ اسے قبول کیا کہ وہ اپنے رب کی اعلانیہ عبادت نہ کریں بلکہ اپنے گھر میں عبادت کیا کریں_

لیکن حضرت ابوبکر نے کچھ عرصے بعد بنی جمح کے ہاں اپنے پڑوس میں ایک مسجد تعمیر کی وہاں وہ نمازیں پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے، مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کی تلاوت سننے کیلئے جمع ہوتے تھے حتی کہ ازدحام کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے اوپر گر پڑتے تھے_ حضرت ابوبکر کی آواز سریلی اور ان کا چہرہ خوبصورت تھا_مشرکین نے ابن دغنہ سے اس مسئلے میں استفسار کیا چنانچہ ابن دغنہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور امان کی شرائط کو نبھانے کا مطالبہ کیا لیکن حضرت ابوبکر نے اس کی امان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا_(۱)

ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ اس سے قطع نظر کہ :

ا_ جناب ابوبکر کو قوم سے نکال دیئے جانے کا مطلب ان کی ہجرت نہیں ہے لیکن ان کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتاہے_

۲_ یہ روایت فقط حضرت عائشہ سے مروی ہے اور خود یہ ایک عجیب بات ہے اسلئے کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ بہت چھوٹی تھیں لہذا ان امور کی تمام جزئیات کو درک نہیں کرسکتی تھیں لیکن اگر ہم فرض

___________________

۱_ رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۲۷،۱۲۸، و سیرت ابن ہشام ج۲ص ۱۲،۱۳، شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ص ۲۶۷، المصنف ج ۵ص ۳۸۵،۳۸۶، البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۴،۹۵ اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۱۹و ۳۲۰میں مذکور ہے کہ یہ بعثت کے تیرہویں سال کا واقعہ ہے_ نیز رجوع کریں حیات الصحابہ جلد ۱ص ۲۷۶،۲۷۷نے بخاری ص ۵۵۲سے نقل کیا ہے_

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

۱_ حکومت فقط خداکی

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان لوگوں کے مطالبے پر ان کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حکومت ان کوملے گی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو یہ جواب دیا کہ حکومت کا فیصلہ خداکے اختیار میں ہے جسے چا ہے عطا کرے_ بالفاظ دیگر یہ بات ممکن نہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایسا وعدہ فرماتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر ہوتا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ روش عصر حاضر کے سیاستدانوں کی روش کے بالکل برعکس ہے جو خوبصورت وعدوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کتراتے_ پھر جب وہ اپنے مقاصد کو پالیتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمالیتے ہیں تو سارے وعدے بھول جاتے ہیں_

لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے باوجود اس کے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مددگاروں کی شدید ضرورت تھی بالخصوص ایسے بڑے قبیلے جو تعداد اور وسائل کے لحاظ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع اور مدد کرنے کے قابل تھے، اگرچہ یہ وعدہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے نہایت سودمند ہوتا لیکن اس کے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا وعدہ کرنے سے انکار فرمایا جس کا پورا کرنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر تھا_

(ب) ان لوگوں کے جواب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس ارشاد سے کہ حکومت اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے ، اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعیان اہلبیتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عقیدے کی تائید ہوتی ہے کہ خلافت ایسا منصب نہیں ہے جس کااختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ یہ ایک آسمانی منصب ہے جس کا اختیار فقط خداکے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے_

۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری

بدیہی بات ہے کہ اس قبیلے کی طرف سے مذکورہ طریقے پر مدد کی پیشکش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد رضائے الہی کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنا نہ تھا اور نہ ان کا یہ موقف ایمان راسخ اور پختہ عقیدے کی بنیادوں پر استوار تھا_ نیز ان میں ثواب آخرت کا شوق تھا نہ ہی عقاب الہی کا خوف_

۲۲۱

ان کے اس موقف کا بنیادی ہدف تنگ نظری پر مبنی سودا بازی تھا _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کے ذریعے عرب پر فیصلہ کی طاقت اور عزت و حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے_

بنابریں واضح ہے کہ بعد میں جب وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان کے مفادات کی حد ختم ہوچکی اور ان کے سارے مقاصد حاصل ہوچکے یا یہ کہ ان کی دنیاوی سودا بازی ناکام ہوئی ہے تو پھر ان کی حمایت بھی ختم ہوجاتی بلکہ عین ممکن تھا کہ جب وہ اپنے مفادات اور خودساختہ امتیازی حیثیت کی راہ میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رکاوٹ پاتے تو پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہی خلاف ہوجاتے_

ان باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اس قسم کا طرزفکر رکھنے والے افراد پر اعتماد کرنا اعتمادکرنے والے کو بلا اور عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث نہ سہی تو کم ازکم کسی سراب کو حقیقت سمجھنے کی مانند ضرور ہے_

۳_ دین وسیاست

بعض محققین نے ایک نکتے کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ کہ بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ فرد (بیحرہ بن فراس) کو جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے بارے میں بتایا گیا نیز ان کے ساتھ گزرنے والے واقعے سے آگاہ کیاگیا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ دین صرف عبادت گاہوں میں گھس کر ترک دنیا کرنے یانماز و دعا اور ورد و اذکار پر اکتفا کرنے کا دین نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دین ہے جو تدبیر و سیاست اور حکومت کو بھی شامل کئے ہوئے ہے_ اسی لئے اس نے کہا اگر یہ جوان (یعنی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اپنے جامع مشن کے ساتھ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا_

اس شخص سے قبل انصار کے رئیس اسعد بن زرارہ نے بھی اس نکتے کا ادراک کرلیا تھا_ جب وہ مکہ آیا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین ان کے معاشرتی مسائل کی اصلاح نیز ان کے اور قبیلہ اوس کے درمیان موجود سنگین اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بنا پر ہجرت ہوئی(۱) _

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج۱۹ ص ۹ و اعلام الوری ص ۵۷ از قمی_

۲۲۲

اس حقیقت کوتو خود ان لوگوں نے بھی سمجھ لیا تھا جنہوں نے اسلام کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ حکومت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کومل جائے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں رد کردیا تھا_

ایک طرف سے اسلام اور دعوت قرآنی کے بارے میں ان لوگوں کی فکر تھی جو انصار کے قبول اسلام اور پھر ہجرت اور ان کی بیعت (بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ) نیز بیعت کرنے والوں کیلئے ضامنوں اورنقیبوں کے انتخاب کا سبب بنی اور دوسری طرف دین و سیاست کو جدا سمجھنے والوں کی سوچ ہے اور ان دونوں میں کس قدرفاصلہ ہے_ یہ بات یقینا استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ ہے اور باہر سے در آمد شدہ مسیحی طرزفکر کا شاخسانہ ہے_

۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج

گذشتہ باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ :

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا لوگوں سے ملکر بہ نفس نفیس گفتگو فرمانااس بات کا موجب تھا کہ لوگوں کے اذہان میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کی حقیقی تصویر اتر جائے_ نیز ان بے بنیاد اور خود غرضی پر مشتمل دعووں اور افواہوں کی تردید ہوجائے جو قریش اور ان کے مددگار پھیلاتے تھے_ مثال کے طورپر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شاعر، کاہن، ساحر، اور مجنون وغیرہ کہنا_

(ب) بنی عامر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبائل کو دعوت اسلام دینا دین کی ترویج اور دور در از علاقوں تک اس کی شہرت کے پھیلنے کا باعث بنا کیونکہ فطری بات تھی کہ جب لوگ اپنے وطن واپس لوٹتے تو ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے جن کو انہوں نے اس سفرکے دوران سنا اور دیکھا تھا_ پھران دنوں مکہ میں اس نئے دین کے ظہور کی خبر سے زیادہ سنسنی خیز خبر کوئی اور نہ تھی_

حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی

کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعثت کے دس سال بعد زمعہ کی بیٹی سودہ کے ساتھ شادی کی نیز حضرت

۲۲۳

ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ سے بھی نکاح فرمایا_

ہم تاریخ اسلام میں سودہ کا کوئی اہم کردار نہیں دیکھتے، نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی زندگی میں نہ اس کے بعد، اور ان لوگوں کی ساری توجہ حضرت عائشہ پر ہی مرکوز رہی ہے یہاں تک کہ انہوں نے ماہ شوال میں عقد کرنے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ شوال میں عقد کیا تھا(۱) جبکہ خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باقی عورتوں کے ساتھ شوال کے علاوہ دیگر مہینوں میں عقد کیا تھا_ بہرحال یہاں ہم حضرت عائشہ کی شادی سے مربوط تمام اقوال و نظریات پر روشنی نہیں ڈال سکتے کیونکہ فرصت کی کمی کے باعث یہ کام دشوار بلکہ نہایت مشکل ہے_

بنابریں ہم فقط دونکتوں کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کی شادی سے متعلق ہیں_

البتہ حضرت عائشہ سے متعلق کچھ اورپہلوؤں سے آگے چل کر بحث ہوگی_ ان دونوں نکتوں میں سے ایک حضرت عائشہ کی عمر کا مسئلہ ہے اور دوسرا ان کے حسن و جمال اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کا _

۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ سے چھ یا سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا_ پھر ہجرت مدینہ کے بعد ۹سال کی عمر میں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر منتقل ہوئیں_ یہی بات خود حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے_(۲)

لیکن ہم درج ذیل دلائل کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ حضرت عائشہ کی عمر اس سے کہیں زیاہ تھی_

___________________

۱_ نزھة المجالس ج ۲ص ۱۳۷ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۹، الاصابة ج ۴ ص ۳۵۹، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۱۳، تہذیب التہذیب ج ۱۲، اسد الغابة ج ۵ اور دوسری کتب بطور مثال شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۹ ص ۱۹۰ لیکن ص ۱۹۱ پر خود اپنے کو رد کیا ہے اور کہا ہے وہ سنہ ۵۷ہجری میں فوت ہوئیں اور ان کی عمر۶۴سال ہے_ اس کا مطلب ہے ہجرت کے وقت ان کی عمر فقط سات سال تھی_

۲۲۴

(الف) ابن اسحاق نے حضرت عائشہ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ چھوٹی تھیں اور اس نے فقط اٹھارہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا_(۱)

بنابریں اگر ہم بعثت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال بھی قرار دیں تو نکاح کے وقت ان کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت بیس سال ہوگی_

(ب) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے وہ عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے_ ان دونوں اقوال کے درمیان تناقض کو دور کرنے کے سلسلے میں طحاوی کہتا ہے ممکن ہے کہ دوسری حدیث فاطمہ کے بلوغ اور اس مرتبے کی اہلیت پیدا ہونے سے قبل کی ہو جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کیلئے بیان کیا_ کچھ آگے چل کر کہتا ہے کہ ہر وہ فضیلت جو دوسری عورتوں کیلئے بیان ہوئی ہو اور فاطمہ کے حق میں اس کے ثابت ہونے کا احتمال ہو وہ ممکن ہے اس وقت بیان ہوئی ہو جب وہ چھوٹی تھیں اور اس کے بعد وہ بالغ ہوئیں_(۲)

اس سے کچھ قبل طحاوی نے قاطعانہ طور پر کہا تھاکہ وفات کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر ۲۵سال تھی_(۳)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ولادت بعثت سے دو سال قبل ہوئی جبکہ فرض یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ حد بلوغت کو پہنچیں تو اس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھوٹی بچی تھیں_(دوسرے لفظوں میں حضرت عائشہ کی

___________________

۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۷۱، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۱و ۳۲۹ابن ابی خیثمہ سے اس کی تاریخ میں ابن اسحاق سے اور البدء و التاریخ ج ۴ ص ۱۴۶ _

۲_ مشکل الآثارج ج ۱ص ۵۲ _

۳_ مشکل الآثارج ۱ ص ۴۷_بعض علماء نے عائشہ کی فضیلت سے متعلق اس حدیث کو عائشہ کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مزاح قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جملے تفضیل اور بیان فضیلت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں _ خاص کر جب ہم اس بات کو بھی خاطر نشین کرلیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھانے پینے کے معاملے میں اتنے اہتمام کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لذت سے بھر پور کھانوں کے خواہش مند تھے کہ تفضیل جیسے حساس مسئلہ پر ایسی مثال پیش کریں_

۲۲۵

پیدائشے بھی بعثت سے کئی سال قبل ہوئی یوں حضرت عائشہ وقت ہجرت کم از کم پندرہ سال کی ہوں گی_ مترجم)

(ج) ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشےہ۵۸ہجری میں چل بسیں_( بعض لوگوں کے خیال میں ۵۷ہجری میں ان کی وفات ہوئی )تقریبا ۷۰سال کی عمرمیں_(۱)

ادھر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے تین یا چار یا پانچ سال قبل ہوئی_اور ادھر حضرت عائشہ سے مروی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے شادی کی تو میں نو سال کی تھی_(۲)

ہماری گذشتہ معروضات اور اس بات کے پیش نظر کہ لفظ سبع (سات) اور تسع (نو) کے درمیان اکثر اشتباہ ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں الفاظ کے نقطے نہیں ہوتے تھے اور مذکورہ عدد بھی اسی وجہ سے مشکوک ہے نیز عام طور پر عورتیں اپنی عمر کم بتانے کی خواہاں ہوتی ہیں شاید یہی روایت حقیقت سے نزدیک ترہو_

بہرحال ابن قتیبہ کا کلام اور اس کے بعد والے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائشے یا بعثت کے سال ہوئی یا اس سے قبل البتہ ہماری معروضات کی روشنی میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے_

خلاصہ یہ کہ جب ہم مذکورہ امور کو مدنظر رکھتے ہیں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ سے بعثت کے دسویں سال نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال سے کہیں زیادہ تھی یعنی ۱۳سے لیکر ۱۷سال کے درمیان تھی_

جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ

اس مقام پر دروغ گوئی کی عجیب و غریب مثال ابوہریرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور یہیں بس گئے تو آپ نے لوگوں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میرے لئے نکاح کا بندوبست کرو_ جبرئیل جنت کا ایک کپڑا لیکر اترے جس پر ایک ایسی خوبصورت تصویر نقش تھی جس سے زیادہ خوبصورت شکل کسی نے نہ دیکھی تھی_ جبرئیل نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے یہ حکم سنایا کہ اس تصویر کے

___________________

۱_ المعارف ابن قتیبہ ص ۵۹ مطبوعہ ۱۳۹۰ھ_

۲_ رجوع کریں حدیث الافک صفحہ ۹۳_

۲۲۶

مطابق شادی کریں_ پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اے جبرئیل میں کیونکر اس جیسی صورت رکھنے والی سے شادی کرسکتا ہوں؟''_ جبرئیل نے کہا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابوبکر کی بیٹی سے شادی کریں ''_ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' اے ابوبکر خدا نے مجھے تیرا داماد بننے کا حکم دیا ہے''_ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی تین بیٹیاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا نے مجھے اس لڑکی یعنی عائشہ سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے'' _چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے شادی کی_(۱)

اس روایت کی سندپر جو اعتراضات ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ:

(الف) ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کیونکر ایسا کام کرتے جسے احترام ذات کے قائل صاحبان عقل انجام نہیں دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ اے لوگو میری شادی کرادو_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (معاذ اللہ)چھوٹے بچے تو نہیں تھے جو شرم و حیا اور عقل و شعور سے عاری ہوں_ عجیب نکتہ تو یہ ہے کہ (روایت کی رو سے) لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو سنی ان سنی کر کے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نا انصافی کی یہاں تک کہ جبرئیل نے آکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشکل حل کردی_

(ب) کیا یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ کاحسن و جمال اس قدرزیادہ تھاکہ اس سے بہتر صورت کسی نے نہ دیکھی ہو؟_ انشاء اللہ آنے والے معروضات، طالبان حق و ہدایت کیلئے کافی اور قانع کنندہ ثابت ہوںگے_

(ج) نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال قبل مکہ میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی اس سلسلے میں مورخین کا اجماع محتاج بیان نہیں_

(د) حضرت ابوبکر کی تین بیٹیا ں جن کو انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا تھا معلوم نہیں کونسی تھیں_ کیونکہ اسماء تو زبیر کی بیوی تھی جب وہ مدینہ آئی تو حاملہ تھی جس سے عبداللہ پیدا ہوا_ حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مکہ میں شادی کی اور ام کلثوم تو حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں_ان تینوں کے علاوہ تو ان

___________________

۱_ تاریخ بغداد خطیب ج ۲ ص ۱۹۴ میزان الاعتدال ذہبی ج ۳ ص ۴۴ خطیب اور ذہبی نے اس حدیث کی تکذیب کی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن حسن، الغدیر ج ۵ ص ۳۲۱_

۲۲۷

کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں_(۱)

ان باتوں کے علاوہ حضرت ابوبکرکو صدیق کا لقب انکے چاہنے والوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد دیا تھا جس کی طرف ہم غار کے واقعے میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے_

حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت

(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق)

حضرت عائشہ کے حسن وجمال اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت اور محبوبیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کاملاً نہیں توکم از کم غالباً خود حضرت عائشہ سے مروی ہے یاان کے بھانجے عروہ سے_ ہمیں تو یقین ہے کہ یہ باتیں سرے سے ہی غلط ہیں_ یہاں ہم اپنی کتاب حدیث الافک (جو چھپ چکی ہے) میں مذکور نکات کو بعض اضافوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:

(الف) حضرت عائشہ کے حسن و جمال اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس ان کی قدر و منزلت اور محبوبیت کی بات غالباً خودحضرت عائشہ سے منقول ہے جیساکہ روایات میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے توکیا یہ خوبیاں صرف عائشہ یا ان کے بھانجے کو ہی معلوم تھیں کوئی اور ان سے واقف نہ تھا ؟ _

(ب) جنگ جمل کے بعد ابن عباس جب حضرت عائشہ سے روبرو ہوئے تو انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ نہ تو وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں اور نہ خاندانی شرافت و نجابت کے لحاظ سے ممتاز تھیں(۱) نیز (جیساکہ آگے جلد ذکر ہوگا) حضرت عمر نے حضرت عائشہ کے بجائے صرف زینب کے حسن کی تعریف کی ہے_

(ج) ''علی فکری'' کہتا ہے ابن بکار کی یہ روایت ہے کہ ضحاک بن ابوسفیان کلابی ایک بدصورت آدمی تھا جب اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی تو عرض کیا:'' میری دو بیویاں ہیں جو اس حمیرا سے زیادہ خوبصورت

___________________

۱_ نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۷۵_۲۷۸_

۲_ الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۳۷ مطبوعہ ہند_

۲۲۸

ہیں (حمیرا سے مراد حضرت عائشہ ہے اور یہ واقعہ آیت حجاب کے نزول سے قبل کا ہے) کیا میں ان دونوں میں سے ایک سے دستبردار نہ ہو جاؤں تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے شادی کرلیں؟''_ اس وقت حضرت عائشہ بیٹھی سن رہی تھیں، بولیں :''اس کا حسن زیادہ ہے یا تمہارا؟'' بولا:'' میرا حسن اور مرتبہ اس سے زیادہ ہے''_جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت عائشہ کے اس سوال پر ہنس پڑے (کیونکہ وہ شخص نہایت بدصورت تھا)_(۱)

(د) اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ عباد بن عوام نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا: '' حضرت عائشہ کیسی تھیں ؟ ''اس نے کہا : ''وہ کالی تھیں'' یحیی نے کہا : '' ہم نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا : '' ہاں'' پوچھا : '' کیسی تھیں ؟ '' کہا : '' کالی تھیں''(۲) پس یہ جو کہاجاتاہے کہ وہ گلابی رنگت کی تھیں اور پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے جملہ'' یا حمیرا'' کو بطور ثبوت پیش کیا جاتاہے یہ سب مشکوک ہوجائے گا_ اور شاید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کا حضرت عائشہ کو حمیرا کہنا ملائمت اور دلجوئی کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ چونکہ عربوں کی مثال ہے''شر النساء الحمیرا ء المحیاض'' (۳) سب سے بری عورت زیادہ، ماہواری کا خون دیکھنے والی عورت ہے _ اسی لئے عائشہ کے لئے جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مذاق میں یہ لفظ استعمال فرماتے ہوں_

(ھ) جو شخص ازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ جان لیتا ہے کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج اور لونڈیوں سے حسد کرتی تھیں اور اس بات کا بھی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ساری بیویاں نہ سہی تو کم از کم ان کی اکثریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے زیادہ قدر و منزلت رکھتی تھیں_ اگرچہ ہم یہ دعوی نہ بھی کریں کہ وہ حسن و جمال میں بھی حضرت عائشہ سے آگے تھیں_ کیونکہ فطری بات ہے بدصورت آدمی خوبصور ت آدمی سے حسد کرتا ہے_ رہا خوبرو آدمی تو اسے بدشکل شخص سےحسد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے_ اسی طرح یہ بھی انسانی طبیعت کے خلاف ہے کہ وہ خوبرو شخص کے مقابلے میں بدصورت کی طرف زیادہ مائل ہو_ چنانچہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کی ماں کایہ قول نقل ہوا ہے''اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی

___________________

۱_ المسیر المھذب ج ۲ ص ۸_۹_ ۲_ الضعفاء الکبیر عقیلی ج۲ ص ۱۵۵_

۳_ علامہ زمخشری کی ربیع الابرار ج۴ ص ۲۸۰ و روض الاخیار ص ۱۳۰_

۲۲۹

خوبصورت عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں لیکن وہ اس کے خلاف باتیں نہ بنائیں''_

اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قدر و منزلت رکھتی تھیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسروں سے زیادہ ان کو چاہتے تھے تو پھر دوسری بیویوں سے نفرت کرنے اور حسد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ حسد تو ہمیشہ اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس سے خود حاسد محروم ہو_ حاسد چاہتا ہے کہ محسود اس چیز سے محروم ہوجائے اور وہ خود اسے حاصل کرلے_

ذیل میں ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے خلاف حضرت عائشہ کے حسد کے بعض نمونے پیش کریں گے_

۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی عورت سے اتنی نفرت نہیں کی جس قدر خدیجہ سے کی ہے_ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں نے اس کے ساتھ زندگی گزاری ہو بلکہ یہ تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں زیادہ یاد کرتے تھے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی گوسفندبھی ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بطور ہدیہ بھیجتے تھے_(۱) یہ قول مختلف عبارات میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہے_

ایک دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ کاذکر کیا تو ام المومنین عائشہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:'' وہ تو بس ایک بوڑھی عورت تھی جس سے بہتر عورت خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو عطاکی ہے''_ مسلم کے الفاظ یہ ہیں ''جس کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذکر کرتے ہیں وہ تو قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا تھی_ جس کے لبوں کے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے _ خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے''_ یہ سن کر

___________________

۱_ صحیح بخاری ج ۹ ص ۲۹۲ اور ج ۵ ص ۴۸ اور ج ۷ ص ۴۷ اور ج ۸ ص ۱۰ صحیح مسلم ج ۷ ص ۳۴_۱۳۵ اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸، المصنف ج ۷ ص ۴۹۳، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۸۶ صفة الصفوة ج ۲ ص ۸، بخاری و مسلم سے، تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۱۵۳البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸_

۲۳۰

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرکے اگلے بال کھڑے ہوگئے_ پھر فرمایا :''خدا کی قسم ایسانہیں، اللہ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا ...''_(۱)

عسقلانی اور قسطلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں سے حسد کرتی تھیں لیکن حضرت خدیجہ سے ان کا حسد زیادہ تھا_(۲)

مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو حضرت خدیجہ کی زندگی کے بعد حضرت عائشہ کی حالت ہے_ پتہ نہیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیا حال ہوتا؟ نیز جب ام المومنین کے حسد نے مُردوں کوبھی نہ چھوڑا تو زندوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسا رہا ہوگا؟

۲_ زینب بنت جحش

حضرت عائشہ نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے زینب ہی فخرمیں اس کا مقابلہ کرتی تھی_نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے زینب سے شادی کا ارادہ کیا تو دور و نزدیک کے لوگوں نے اس کی خبرلی کیونکہ اس کے حسن و جمال کی خبر ان تک پہنچی تھی_(۳)

مغافیر کے مشہور واقعے میں حضرت زینب کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی کہانی مشہور ہے_یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ یہی واقعہ آیہ تحریم(۴) کے نزول کا باعث بنا ہے_ اگرچہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ تحریم کسی اور مناسبت سے نازل ہوئی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۳۴ لیکن اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جواب ذکر نہیں کیا، اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸ نیز ص ۵۵۷ و ۵۵۸ ،الاصابة ج ۴ ص ۲۸۳ استیعاب ج ۴ ص ۲۸۶، صفة الصفوة ج ۲ ص ۸مسند احمد ج ۶ ص ۱۱۷بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ مطبوعہ ۱۳۰۹ ہجری ، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸ نیز اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ص ۹۶_

۲_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۰۲، ارشاد الساری ج ۶ ص ۱۶۶ و ج ۸ ص ۱۱۳ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۳۱۴ و طبقات ابن اسد ج ۸ ص ۷۲ و در المنثور ج ۵ ص ۲۰۲ ابن سعد و حاکم سے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۶ نیز حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۱ از بخاری و مسلم_

۲۳۱

حضر ت عمر ابن خطاب نے بھی زینب بنت جحش کے جمال کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے کہا '' نہ تمہیں عائشہ والا مرتبہ حاصل ہے اور نہ زینب والاحسن_''(۱) یعنی اگر حضرت عائشہ کے پاس حسن ہوتا تو اسے حضرت زینب پر ضرور مقدم کیا جا تا البتہ ہمیں پہلے جملے میںبھی شک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی ام المومنین کے ساتھ ایک سیاست تھی یا راویوں نے اپنی خواہشات کے تحت اس کا اضافہ کیا ہے(۲) _ اس کی وجہ پہلے بیان شدہ حقائق ہیں اورآئندہ بھی اس بارے میں گفتگو ہوگی_

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت زینب کو بہت پسند فرماتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکثر اس کانام لیاکرتے تھے_(۳)

۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ

حضرت ام سلمہ سب سے زیادہ با جمال تھیں_(۴)

امام باقرعليه‌السلام سے مروی ہے کہ (ام سلمہ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں_ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے بارے میں مغافیر کا واقعہ ام سلمہ کی وجہ سے پیش آیا_(۵) خود حضرت عائشہ کا بھی اعتراف ہے کہ ام سلمہ اور زینب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب تھیں_(۶)

حضرت عائشہ کہتی ہیں:'' جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تومیں اس کے حسن کے بارے میں ملنے والی خبروں کے باعث سخت محزون ہوئی اور میری پریشانی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ جب

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۳۷_۱۳۸_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۳و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۴۷ _

۳_ المواھب اللدنیة ج ۱ص ۲۰۵و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲ _

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۲۲در المنثور ج ۶ص ۲۳۹ _

۵_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۱ _ ۶_ الاصابہ ج۴ ص ۴۵۹ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۶۶_

۲۳۲

میں نے اسے دیکھا تو جیسے سنا تھا اس سے کئی گنا زیادہ حسین پایا''_(۱) ابن حجر نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ غیرمعمولی حسن اور عقل رکھتی تھیں_(۲)

۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب

ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں:'' وہ حسین ترین عورتوں میں سے تھیں''_(۳) جب وہ مدینہ آئیں تو مدینہ کی عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھنے کیلئے آئیں_ حضرت عائشہ بھی نقاب اوڑھے ان کے ہمراہ تھیں_ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اے عائشہ اسے کیسا پایا ''تو وہ بولیں:'' ایک یہودیہ پایا''_ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ کو اس امر سے منع فرمایا_(۴) جب وہ قید ہوئی تھیں تو لوگ ان کی تعریف کرنے اور کہنے لگے:'' ہم نے ایسی عورت کو قید میں دیکھا جس کی مانند کسی کو نہیں دیکھا تھا_''(۵) جب حضرت صفیہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں کھانے کا ایک ظرف بھیجا (اس وقت آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے) تو حضرت عائشہ لرزنے لگی یہاں تک کہ ان کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے اس برتن کو ٹھوکر ماری اور دور پھینک دیا_(۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے متعلق تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ عائشہ اور حفصہ سے بہت بہتر ہے(۷)

۵_ جویریہ بنت حارث

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پر کشش اور خوبصورت عورت تھیں جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تو اس کا دل

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ص ۴۵۹_ ۲_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ و ۴۶۳ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۷ _

۳_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ اور طبقات ابن سعد ج ۸ص ۹۰ _ ۴_ و طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۸ _

۵_ مسند احمد ص ۲۷۷ ج ۶ بخاری باب الغیرة ، باب النکاح کے ذیل میں لیکن اس میں حضرت عائشہ کا نام نہیں لیا گیا_

۶_ اسد الغابہ ج۵ ص ۴۹۱_ ۷_ الاصابہ ج۴ ص ۲۶۵ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۴ ص ۲۵۹ نیز صفة الصفوة ج۲ ص۵۰_

۲۳۳

موہ لیتی تھیں_ وہ لکھنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آتی تھیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں :''خدا کی قسم جونہی میں نے اسے دیکھا نفرت کا احساس ہوا اور اپنے دل میں کہا، اس کی جو خصوصیت میں نے دیکھی ہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی دیکھیں گے_ پھر جب وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس پہنچی ''(۱)

۶_ ماریہ قبطیہ

حضرت عائشہ کا کہنا ہے :''میں نے ماریہ قبطیہ سے زیادہ کسی کے ساتھ حسد نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خوبصورت اورگھونگھر یالے بالوں والی تھی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو وہ پسند آگئی_ جب وہ پہلی مرتبہ آئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو حارثہ بن نعمان کے گھر رکھا_ یوں وہ ہماری ہمسایہ بن گئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شب و روز اس کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کے پیچھے پڑگئے اور وہ خوفزدہ ہوگئی اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے عالیہ کے ہاں بھیج دیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس وہاں جایا کرتے تھے_ یہ بات ہمارے اوپر اور زیادہ سخت گزری''_(۲)

امام باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماریہ کو چھپا دیا تھا_ یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج پر گراں گزری اور ان سے حسد کرنے لگیں البتہ حضرت عائشہ کی طرح نہیں''_(۳)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ماریہ کو پسند فرماتے تھے _وہ گھونگھر یالے بالوں والی(۴) سفید، حسین اور نیک سیرت خاتون تھیں_(۵) انصار کے درمیان ابراہیم کو دودھ پلانے کے بارے میں کھینچا تانی ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ حضرت ماریہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت کیلئے دیگر کاموں سے فارغ البال رہے کیونکہ وہ ماریہ کے بارے میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلچسپی سے

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۵۳بدایہ و نہایہ ج ۳ ص ۳۰۳_۳۰۴ و وفاء الوفاء سمھودی ج ۳ ص ۸۲۶ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۱قسم ۱ ص ۸۶ سیرت حلبیہ ج ۳ ص ۳۰۹ _ ۳_ طبقات ابن سعد ج ۱حصہ ۱ ص ۸۶ اور الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵ _

۴_ تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۵ و طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۱ ص ۸۶ اور البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۰۳ _

۵_ ذخائر العقبی ص ۵۴ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۱ ص ۴۲ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۵۳_

۲۳۴

سے آگاہ تھے_(۱)

ماریہ سے حضرت عائشہ کے حسد میں اضافے کی ایک وجہ شاید ماریہ کا ابراہیم کو جنم دینا ہو_ یہاں تک کہ انہوں نے جسارت کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور ابراہیم کے درمیان شباہت کی نفی کی اس کے باوجود کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلے میں بہت تاکید اور اصرار کیا تھا(۲) _ بات یہاں تک بڑھی کہ آیہ تحریم کے نزول کی نوبت آئی جیساکہ سیوطی وغیرہ نے ذکر کیا ہے_

۷_ سودہ بنت زمعہ

حضرت عائشہ کہتی تھیں عورتوں میں فقط سودہ بنت زمعہ سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میں چاہتی ہوں، کاش اسکی کھال کے اندرمیں ہوتی، اسکی خامی بس یہ ہے کہ وہ حاسد ہے_(۳)

نیز اس کرتوت کا بھی مطالعہ فرمائیں جو حضرت حفصہ نے حضرت سودہ کے ساتھ کیا تھا اور جس پر حضرت عائشہ اور حفصہ دونوں حضرت سودہ پر ہنستیں اور مذاق اڑاتیں(۴)

۸_ اسماء بنت نعمان

حضرت اسماء اپنے زمانے کی خوبصورت ترین اور جوان ترین عورت تھی_ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اسماء سے حسد کرتی تھیں_ انہوں نے اسماء کے خلاف سازش کی_ سازش حضرت عائشہ اور حفصہ نے ملکر کی یہاں تک کہ اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے طلاق دے دی_(۵)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج۱ ص ۸۸ ، الدرالمنثور ج۶ ص ۲۴۰ از ابن مردویہ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ از بلاذری، السیرة الحلبیہ ج۳ ص ۳۰۹ ، مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۹ ، تلخیص مستدرک (اسی کے حاشیہ پر ) بیہقی نیز تاریخ یعقویب ج۲ ص ۸۷ مطبوعہ صادر_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۷ البدایة و النہایة ج ۸ ص ۷۰_ ۳_ حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۶۰ اور مجمع الزوائد ج۴ ص ۳۱۶_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۰۴ تاریخ اسلام ذہبی ج ۲ ص ۴۱۵_۴۱۶ سازش کرنے والی کا نام نہیں آیا_

۵_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۰۶ اور تاریخ الاسلام ذہبی ج۲ ص ۴۱۶_

۲۳۵

۹_ ملیکہ بنت کعب

وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی بنا پر معروف تھیں_ حضرت عائشہ نے اس کے پاس آکر کہا:'' تجھے اپنے باپ کے قاتل سے شادی کر کے شرم نہیں آئی؟''_اس نے خدا کے ہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے پناہ مانگی_ چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھی طلاق دے دی_(۱)

۱۰_ ام شریک

اس خاتون نے اپنے نفس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے وقف کیا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا تب حضرت عائشہ نے کہا:'' جو عورت اپنے نفس کو کسی مرد کیلئے وقف کر دے اس میں کوئی بھلائی نہیں''_ ام شریک نے کہا:'' پھر میں وہی عورت ہوں''_ پس خدا نے اسے مومنہ کے نام سے یاد کیا اور فرمایا:( وامرا ة مومنة ان وهبت نفسها للنبی ) یعنی اگر کوئی مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کیلئے وقف کردے_ جب یہ آیت اتری تو حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو جلد پورا کرے گا''_(۲)

۱۱_ شراف بنت خلیفہ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بنی کلاب سے ایک عورت کی خواستگاری فرمائی اور حضرت عائشہ کو بھیجا تاکہ اسے دیکھے چنانچہ وہ گئیں اور واپس آگئیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اسے کیسا پایا؟''_حضرت عائشہ بولیں:'' کوئی کام کی چیز نہیں پائی''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' بتحقیقتونے اسے کام کی عورت پایا ہے_ تو نے اس کے چہرے پر خال دیکھا ہے جس سے تیرے بدن کے سارے بال کھڑے ہوگئے (یعنی تیرے اوسان خطا ہوگئے)''_ پس وہ بولیں:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی''_(۳)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۲ _ ۲_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۱۵_

۳_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۵ _

۲۳۶

۱۲_ حفصہ بن عمر

بلکہ عائشہ تو اپنی سہیلی حفصہ سے بھی حسد کرتی تھی _ اور کہا جاتاہے کہ واقعہ مغافیر ان دونوں کے درمیان پیش آیا تھا(۱) _

نتیجہ

یہ تھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کے ساتھ حضرت عائشہ کا رویہ _ مذکورہ مشکلات کا قابل ملاحظہ حصہ بظاہر ان ازواج کے حسن و جمال کے باعث حضرت عائشہ کاحسد تھا (جیساکہ بیان ہو چکا ہے) حضرت عائشہ کی پیداکردہ مشکلات اور ان کے تجاوزات کادسواں حصہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی اور زوجہ کے بارے میں دیکھنے میں نہیں آتا سوائے ایک یا دو روایتوں کے جو خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیویوں میں سے فقط حضرت عائشہ نے (بغض و حسد اور مشکلات کا) جو طوفان مچا رکھا تھا وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس کے پیچھے ایک خاص وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ان ازواج کے مقابلے میں احساس کمتری یا احساس محرومیت کا شکار تھی، کم ازکم حسن و جمال کے معاملے میں_

ان حقائق کے پیش نظر عروہ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے مذکور ان تمام دعوں اور روایات کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے جن سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے نزدیک عائشہ کے مقام و مرتبے کا اظہار ہوتا ہے اور اگر ساقط نہ بھی ہوں تو کم از کم یہ دعوے اور روایات مشکوک ضرور ہوجاتی ہیں_

رہی واقعہ افک والی بات تو وہ بھی باطل ہے_ ہم نے اس مسئلے کے بارے میں ایک الگ کتاب لکھ کر تفصیلی بحث کی ہے_ یہ کتاب کچھ ہی مدت پہلے چھپ چکی ہے_

یہاں پر یہ آخری نکتہ بھی بیان کرتے چلیں کہ (اہل سنت کی کتابوں میں)حضرت عائشہ سے ایسی بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ( ان کے بقول) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ بوس و کنار، حالت حیض میں (نعوذ باللہ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس کے ساتھ ہم بستری اور دونوں کے ایک ہی برتن میں غسل

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۲ از بخاری ، مسلم و تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۸۷ نیز از جمع الفوائد ج۱ ص ۲۲۹ و از طبقات ابن سعد ج۸ ص ۸۵_

۲۳۷

کرنے کا ذکر ہے_ اور دیگر ایسی احادیث بھی مذکور ہیں جن میں( معاذ اللہ) جنسیات، دل ربائی اور لطف اندوزی کا رنگ پایا جاتا ہے _ جبکہ (اہل سنت کے منابع میں) حضرت عائشہ کے علاوہ دیگرازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس قسم کی حادیث بہت ہی کم دیکھنے کو ملیں گے _ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط نہیں تھے_ کیونکہ اس کی نہ تو ذہنی، ثقافتی اور عملی سطح اتنی تھی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشہ کے درمیان پل کا کام کرتی اور جس کے ذریعہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اور مضبوط بناسکتی اور نہ ہی اس کے اغراض ،اہداف اور مقاصد، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اغراض ، اہداف اور مقاصد سے میل کھاتے تھے_

اور اس کے بعد

ان عرائض کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت عائشہ کی جسارتوں، زیادتیوں نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی حضرت علیعليه‌السلام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے حوالے سے اس کی ایذا رسانیوں کو سہنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت عائشہ کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ان تمام تلخیوں پر صبر سے کام لیتے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر تھا گھریلو یا ازدواجی ماحول کے تقاضوں کے مطابق نہیں_ اس امر کی تائید حضرت عمر کی اس بات سے ہوتی ہے جوانہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے کہی_ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے خلاف ایکا کرلیا تھا_ اور آنحضرت نے (جواباً) اپنی تمام بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی_ حضرت عمر نے حفصہ سے کہا تھا:'' اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تجھے نہیں چاہتے_ اگر میں نہ ہوتا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تجھے طلاق دے دیتے''_(۱)

یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ اس دور میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حقیقت کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو کیونکہ (دور خلفا میں) سرکاری مشینری نے حضرت عائشہ کی رکاب تھام رکھی تھی اور ان کی قدر و منزلت کو بڑھانے میں مصروف تھی کیونکہ سرکاری مشینری حضرت عائشہ سے زبردست فائدے حاصل کررہی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۸۹،اس کی مزید وضاحت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کثرت ازواج کے سبب کی گفتگو میں آئیگی جو واقعہ احد سے پہلے کی بحث ہے_

۲۳۸

ان کے مقام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان کیلئے تمغوں (خودساختہ کارناموں) کا ڈھیر لگانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اور با قاعدہ سازش کارفرماتھی_ اور حضرت عائشہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم سے اپنی زوجیت اور ام المؤمنین کے لقب سے حد سے زیادہ فائدہ اٹھارہی تھیں_ اسی طرح وقت کی حکومتوں کی ضروریات سے بھی نامحدود فوائد حاصل کررہی تھیں_ یہ تمام باتیں، ہمارے لئے اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ کیوں حضرت عائشہ لوگوں کے درمیان ( اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کے کنوارے پن کی بناپر اس سے شادی کی ہے ) اپنے آپ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کی نسبت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ قریب اور با اثر مشہور کرتی تھیں_

مدینے میں دخول اسلام

مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ مدینے میں سب سے پہلے اسلام کب داخل ہوا؟ پہلا مسلمان کون تھا؟ اور کیسے اسلام وہاں پہنچا؟ لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں اسلام کا ورود کئی مرحلوں پر مشتمل ہے_ سب سے پہلے اسعد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد القیس مسلمان ہوئے_ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان شعب ابیطالب میں محصورتھے _اس کے بعد پانچ یا آٹھ یا چھ افراد مسلمان ہوئے_ پھر عقبہ کی پہلی بیعت ہوئی اور بعدازاں عقبہ کی دوسری بیعت_ مغلطای وغیرہ کے بیانات سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے_(۱)

اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اسعد بن زرارہ خزرجی اور ذکوان بن عبد القیس خزرجی ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ آئے اس وقت قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابیطالب میں محاصرہ کر رکھا تھا_ ان کے آنے کا مقصد قبیلہ اوس کے خلاف عقبہ بن ربیعہ کو اپنا حلیف بنانا تھا لیکن عقبہ نے انکار کیا اور کہا: ''ہمارے اور تمہارے گھروں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور ہم ایسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے''_ جب اس مشکل کے بارے میں سوال ہوا تو عقبہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

___________________

۱_ سیرة مغلطای ص ۲۹ _

۲۳۹

نے ان کے جوانوں کو خراب اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے_ پھر عقبہ نے اسے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رابطہ سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساحر ہیں اور اپنے کلام سے اس کو مسحور کردیں گے_ پھر اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ طواف کے دوران اپنے کانوں میں روئی ڈال لے تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بات سنائی نہ دے _اس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ حجر اسماعیل میں بیٹھے ہوئے تھے_ یہ لوگ ایام حج میں خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے شعب ابیطالب سے خارج ہوئے تھے_

اسعد طواف کیلئے آیا اور اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو حجر اسماعیل کے پاس تشریف فرما دیکھا_ اس نے سوچا مجھ سے زیادہ جاہل کون ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے سے آگاہ ہوئے بغیر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں اور ان کو اس سلسلے میں کچھ نہ بتاسکوں؟ چنانچہ اس نے روئی اپنے کانوں سے نکال کردور پھینک دی_ پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ گفتگو کی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اسے دعوت اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگیا_ اس کے بعد ذکوان نے بھی اسلام قبول کرلیا_

ایک اور روایت کہتی ہے کہ جب اسعد بن زرارہ نے ذکوان کے ساتھ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ سے عرض کی:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے والدین آپ پر فدا ہوں، میں یثرب کا باشندہ ہوں اورقبیلہ خزرج سے میرا تعلق ہے_ اوسی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہیں_ شاید خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ہمارے تعلقات کو بحال کردے، میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سب سے زیادہ صاحب شرف پاتا ہوں_ میرے ساتھ میری قوم کا ایک فرد موجود ہے_ اگر وہ اس دین میں داخل ہوا تو مجھے امید ہے کہ خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ہماری مشکل کو حل کردے گا_ اللہ کی قسماے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم یہودیوں کی زبانی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں سنتے آئے تھے وہ ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کی خوشخبری دیتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات و علامات بتاتے تھے_ مجھے امید ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دار ہجرت ہمارے ہاں ہوگا_یہودیوں نے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے_ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچایا_ اللہ کی قسم میں تو اسلئے آیا تھا کہ قریش کو اپنا حلیف بنالوں لیکن اللہ نے اس سے بہتر چیز عطا کی''_

اس کے بعد ذکوان آیا_ اسعد نے اس سے کہا :''یہ اللہ کا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کے بارے میں یہودی ہمیں خوشخبری دیتے تھے اور اس کی صفات و علامات بیان کرتے تھے، آؤ مسلمان ہوجاؤ''_ یہ سن کر ذکوان بھی

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417