الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 210002 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

حضرت محمد مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

مصنف: سید غافر حسن رضوی چھولسی "ھندی"

ماخذ:شیعہ نیٹ

۲

حرف آغاز

ہمارا موضوع، اخلاق وسیرت حضرت ختمی مرتبت (ص) ہے یعنی ہم حضور سرورکائنات (ص) کی سیرت پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں لیکن دل ودماغ حیران وپریشان ہیں کہ آخر اس شخصیت کی سیرت پر روشنی کس طرح ڈالیں، جوخود آفتاب ہوبلکہ جس کی ڈیوڑھی پر آفتاب بھی سجدہ کرتا ہو، ماہتاب اس کے اشاروں پر چلتا ہو، ہماری گنہگار زبان یا ہمارا نا قص قلم، اس عقل کامل کی مدح وثنا کس طرح کرے، جس کی تعریف میں کل ایمان، امیر کائنات علی ابن ابی طالب ٭ رطب اللسان ہیں، جس کی تعریف سے قرآن کریم مملو ہے،جس کی تعریف خدا وند عالم کرتا نظر آتا ہے،جس کو خدا وند عالم نے آسمانوں کی سیر کرائی اور براق جیسی سواری کے ذریعہ ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا اور قرآن کریم اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتا ہے( سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلا من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ ) (۱)

یعنی پاک وپاکیزہ ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو سیر کرائی راتوں رات، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ۔

وہ پیغمبر کہ جو محبت و الفت کا ایک جہان ہے اور کہیں تو اتنی زیادہ محبت کا اظہار کیا کہ انسانی عقل سوچنے پر مجبور ہو گئی ایک مرتبہ آپ (ص) وضو فرمارہے ہیں ،آپ (ص)کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے کہ جوپیاس کی شدت سے زبان نکالے ہوئے ہے حضور (ص) نے وضو چھوڑ کر وہ پانی بلی کے سامنے رکھہ دیا تاکہ وہ اس پانی کے ذریعہ اپنی پیاس بجھا سکے۔

____________________

(۱)سورۂ اسراء/۱

۳

حضور (ص) دشمن کے مقابلہ میں پہاڑ سے بھی زیادہ مستحکم ومضبوط تھے اور دوست کے ساتھ پانی سے بھی زیادہ نرم ورواں ،اپنے ذاتی حق کے متعلق، اپنے جانی دشمن کو بھی معاف کردیتے تھے اور جب انصاف وقانون کی بات آتی ہے تو فرماتے ہیں ''خدا کی قسم اگر میری پارۂ جگر ''فاطمہ زہرا '' بھی یہ کام انجام دیتی تو میں اسے بھی وہی سزا دیتا جو معبود نے مقرر فرمائی ہے۔

جس زمانہ میں ایسا نفسا نفسی کا عالم تھا کہ ایک شخص کے قتل ہوجانے پر پورا قبیلہ انتقام کے لئے قیام کرتا تھا اور نہ جانے کتنے بے گناہ انسانوں کو جان سے ہاتھہ دھونا پڑتا تھااور بے رحمی اس درجہ تک پہونچ چکی تھی کہ معصوم بچوں پر بھی رحم نہیں کیا جاتا تھا، ایسے دورمیں حضور (ص) فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے حیوان کو اذیت دے گا (چاہے وہ حج کے راستے میں ہو) وہ عادل نہیں ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں ہے چونکہ جو انسان حیوان کو تکلیف دیتا ہے وہ سنگدل ہوتا ہے اور سنگدل کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی(۱) یہاں ایک سوال سراٹھاتا ہے کہ آخر حضور (ص) کو کیا ضرورت تھی کہ ایسے احکام نافذ کریں؟تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ چونکہ حضور (ص) کا یہ وظیفہ تھا کہ زندہ انسانوں کے لبادہ میں مردہ مجسموں کو نعمت حیات سے مالا مال کریںاور خود خدافرماتا ہے (فأ ستجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم)(۲)

یعنی جب تمھیں اللہ ورسول حیات کی طرف دعوت دیں تو تمھارا یہ وظیفہ ہے کہ ان کی آواز پر لبیک کہو، چاہے کتنے ہی سنگدل سہی خدا ورسول کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا ورنہ زمرۂ اسلام سے خارج۔

اور دوسری جگہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے( من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰه ) (۳)

یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی،( ما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحیٰ ) (۴)

رسول (ص) اپنی ھواوھوس سے کچھہ کلام نہیں کرتے بلکہ یہ تو وہی کہتے ہیں جو وحی کہتی ہے۔

____________________

(۱)سیرہ پیامبر اکرم (ص): ص۱۶،۱۷

(۲)سورۂ انفال/۲۴

(۳)سورۂ نساء/۸۰

(۴)سورۂ نجم / ۳ ،۴

۴

اس رسول کی شان میں کیا کہا جائے جس کی ولادت نے دنیائے کفر کو تہ وبالاکردیا، فارسی آتشکدہ گل ہوگیا، قیصرو کسریٰ کے کنگرے ٹوٹ ٹوٹ کر گر گئے ۔

عظمت اتنی زیادہ کہ خدانے اپنا مہمان بنایا اور انکساری اس حد تک کہ غلاموں کے ساتھہ کھانا کھا رہے ہیں، کیا حضور (ص) کی عظمت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ براق جیسی سواری کے ذریعہ آسمانوں کی سیر کرائی گئی؟ اور انکساری یہ کہ...... بغیر زین کے خچر پر سواری کریں۔

آپ (ص)کی عظمت یہ ہے کہ جبرئیل امین خدا کا سلام لیکر نازل ہوتے ہیں اور انکساری اس درجہ تک کہ مکہ کے بچّوں کو سلام کرنے کا موقع نہیں دیتے، جدھر سے بھی حضور (ص) کا گذر ہوتا تھا، بچّے چھپ جاتے تھے کہ ہم حضور (ص) کو سلام کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ حضور ہمیں پہلے ہی سلام کر لیں(۱)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم: ص۱۶ تا ۱۸

۵

پہلی فصل

۱۔اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

خلق: اس کا مادہ(خ،ل،ق) ہے اگر ''لفظ خ'' کے اوپر زبر پڑھیں یعنی خَلق پڑھیں تو اس کے معنی ہیں ظاہری شکل وصورت اور اگر ''خ'' پر پیش پڑھیں یعنی ''خُلق '' پڑھیںتو باطنی اور داخلی ونفسانی شکل وصورت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاََ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں انسان خُلق وخَلق دونوں اعتبار سے نیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ظاہری صورت بھی اچھی ہے اور باطنی صورت بھی، جس طرح انسانوں کی ظاہری شکل وصورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح باطنی شکل وصورت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے(۱)

خُلق : انسان کے اس نفسانی ملکہ کو کہا جاتا ہے، جو اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان بغیر فکرو تأمل اور غورو خوض کے، خاص افعال انجام دے(یعنی نفسانی کنٹرول' Control 'کے ذریعہ بہترین کام انجام دینے کو خُلق کہا جاتا ہے(۲)

الخُلق: السجیہ، یعنی عادت و طور طریقہ(۳)

____________________

(۱)اخلاق شبر:ص۳۱

(۲)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

(۳)(لسان اللسان:ج۱،ص۳۶۳)

۶

الخَلق والخُلق: فی الاصل واحد کا الشَرب والشُرب لٰکن خُصَّ الخَلق باالهیأت والصور المدرکة بالبصر وخُصَّ الخُلُق بالقویٰ والسجایا المدرکة بالبصیرة (۱)

یعنی خَلق اور خُلق در اصل ایک ہی ہیں لیکن َخَلق مخصوص ہے ظاہری شکل وصورت سے اور خُلق کو مخصوص کردیا گیا باطنی اور معنوی شکل وصورت سے۔

الخلیق والخلقة: کریم الطبیعة والخلیقة والسلیقة اعنی هو باالطبیعة (۲)

نیک طبیعت و نیک خلقت(پاک طینت اور نیک طبیعت انسان کو خلیق کہا جاتا ہے)

الخلیق والمختلق:حسن الخلق (۳)

یعنی ! بہترین اخلاق کو خلیق و مختلق کہتے ہیں۔

خلیق وخلیقہ و خلائق:سزاوار، خوی گر، طبیعت، خو(۴)

یعنی لائق ور اورخوش طبیعت انسان کو خلیق کہا جاتا ہے۔

الخَلاق: مااکتسبه الانسان من الفضیلة بخلقه (۵)

یعنی جو کچھہ انسان، اپنے اخلاق کے ذریعہ فضیلت حاصل کرتا ہے اس کو خَلاق کہا جاتا ہے۔

____________________

(۱)مفردات راغب:ص۲۹۷

(۲)لسان العرب:ج۴،بحث خ الیٰ د

(۳)لسان اللسان:ج۱،ص۳۶۳

(۴)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴، مادہ خ،ل،ق،

(۵)مفردات راغب:ص۲۹۷

۷

خَلاق: نصیبی از خیر(۱)

یعنی خیر اور نیکی کا کچھہ حصہ ۔

خِلاق وخلوق:نوعی از بوی خوش(۲)

یعنی خوشبو اور اچھی خو، مثلاََ کہا جاتا ہے کہ فلاں انسان میں آدمیت کی خو بھی نہیں پائی جاتی، مراد یہ ہے کہ اس کی رفتارو گفتار اچھی نہیں ہے۔

۲۔ تعریف علم اخلاق

علم اخلاق وہ علم ہے جو انسان کو فضیلت اور رذیلت کی پہچان کراتا ہے(کون سا کام اچھا ہے کون سا کام برا ہے، جو انسان کو یہ سب بتائے اس علم کو علم اخلاق کہا جاتا ہے)(۳)

اخلاق: عربی گرامر کے اعتبار سے اخلاق ''افعال'' کے وزن پر ہے اور ''خُلق'' کی جمع ہے، خُلق :انسان کی نفسانی خصوصیات کو کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے خَلق ، انسان کے بدن کی صفات کو کہا جاتا ہے(۴)

اخلاق :۔ لغت کے اعتبار سے خلق کی جمع ہے جس کے معنی ہیں :طبیعت ،مروت،عادت(۵)

اخلاق: روش، شیوہ، سلوک(۶) یعنی طور طریقہ اور رفتار و گفتار کو اخلاق کہتے ہیں۔

پیغمبر اسلام (ص) خدا وند منان سے دعا فرماتے ہیں:''اللّهم حَسِّن خُلقی کما حَسّنت خَلقی'' (۷)

____________________

(۱،۲)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

(۳)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۷

(۴) آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

(۵)المنجدعربی اردو :ص۲۹۴

(۶)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

(۷) بحار الانوار:ج۹۷، ص۲۵۳

۸

یعنی پالنے والے! میرے خُلق کو بھی اسی طرح بہتر قرار دے جس طرح میرے خَلق کو بہتر بنایا ہے(یعنی جس طرح میری خلقت، نیک طینت ہے اسی طرح میرے اخلاق کو بھی اخلاق حسنہ قرار دے)

جب کبھی یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کا اخلاق بہت بہتر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انسان ، نفسانی اعتبار سے صفات حسنہ(بہتر صفات) کا مالک ہے۔

انسان کے تمام اعمال، نفسیاتی خصوصیات پر موقوف ہیں یعنی اگر انسان کا اخلاق اچھا اور نیک ہوگا تو اسکے اعمال بھی اچھے ہوں گے اسی لئے جب بھی کوئی انسان اچھے کام انجام دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کا اخلاق بہت اچھا ہے(۱)

سیرت : لغوی اعتبار سے :عادت،طریقہ،طرز زندگی کے معنی میں ہے(۲)

سیرت:روش و طریقہ، ھیأت،(۳)

حمدت سیرتہ: او نیکو روش و خوب کردار است، کسی کہ دل پاک ونیت صاف داشتہ باشد افعال وروش او محمود و پسندیدہ می شود(۴)

یعنی سیرت کے معنی رفتار اور طور طریقے کے ہیں، بطور نمونہ ایک مثال پیش کی گئی ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ انسان اچھے کردار کا ہے اور اس کی رفتار و گفتار اچھی ہے، جس کا دل پاک ہو اور نیت صاف ہو تو اس کے افعال اور چال چلن انسان دوست ہوتے ہیں یعنی اس کے کاموں کو ہر انسان پسند کرتاہے اور اس کی تعریف کرتا ہے۔

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

(۲)المنجدعربی،اردو:ص۵۰۶

(۳)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

(۴)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

۹

دوسر ی فصل

اخلاق ،قرآن کی روشنی میں

خُلُق:( انّ هٰذا الا خُلُق الاولین ) (۱)

یعنی بے شک یہ راستہ وہی پہلے والوں کا راستہ ہے، آیۂ کریمہ میں خُلُق سے مراد راستہ لیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ ،گذرے ہوئے لوگوں کی سیرت پر چل رہے ہیں۔

خُلُق:( وانک لعلیٰ خُلُق عظیم ) (۲)

رسول اسلام (ص) سے خطاب کیا جارہا ہے کہ اے میرے حبیب! آپ خلق عظیم پر فائز ہیں، اس آیت میں خلق سے مراد ''اخلاق اور حسن سیرت'' کو لیا گیا ہے۔

خَلاق:( .........فأستمتعوا بخلاقهم فأستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بخلٰقهم .........) (۳)

منافقوں سے خطاب کرکے کہا جارہا ہے کہ تم ویسے ہی لوگ ہو جیسے تمھارے بزرگ تھے (اور راہ نفاق پر گامزن تھے بلکہ) وہ تم سے زیادہ طاقتور تھے اور ان کے پاس دولت وثروت اور اولاد بھی زیادہ تھی(لیکن) انھوں نے بے جا (ھواوھوس) میں صرف کیا اور تم بھی انھیں کی راہ پر چل دیئے، ان لوگوں نے مومنین کا مضحکہ کیا اور تم بھی مومنین کو مضحکہ کی آماجگاہ گردانتے ہو، نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا وآخرت میں ان کے اعمال برباد ہو گئے (یعنی ان کے اعمال نے انھیں نہ تو دنیا میں کوئی فائدہ پہونچایا اور نہ ہی آخرت میں) اور وہ لوگ خسارہ میں ہیں۔

____________________

(۱)سورۂ شعراء/ ۱۳۷

(۲)سورۂ قلم/۴

(۳)سورۂ توبہ/۶۹

۱۰

اس آیت میں بھی ''لفظ خلاق'' پیروی اور اتباع کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ارشاد ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے گذشتگان کی پیروی کرتے ہوئے ہلاکت کے منھہ میں جا رہے ہیں۔

خَلاق:( .....ولقد علموا لمن اشتراه ماله فی الآخرة من خلٰق .......) (۱)

یہودیوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہو رہا ہے کہ جناب سلیمان ـ کے زمانہ میں ان لوگوں نے شیطان کی پیروی کی .........انھوں نے ان حصوں کو لے لیا کہ جو انھیں بالکل فائدہ نہیں پہونچاسکتے اور نقصان ہی نقصان ہوتا ہے درحالانکہ وہ لوگ یہ جانتے تھے کہ ایسی خریداری، آخرت میں نفع بخش ثابت نہیں ہوگی( آیۂ مذکورہ میں ''خلاق'' سے مراد فائدہ اور بھلائی ہے جو خُلق اور اخلاق کے ذیل میں آتا ہے)

خَلاق:( ......فمن الناس من یقول ربنا آتنا فی الدنیا وما له فی الآخرة من خلاق ) (۲)

...........بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرور دگار! ہمیں دنیا میں نیکی عطا کر لیکن یہ دعا آخرت میں نفع بخش ثابت نہیں ہو سکتی (اس آیت میں بھی ''لفظ خلاق'' سے مراد وہی ہے جو خلق و اخلاق کے ذیل میں آتا ہے یعنی نیکی اور بھلائی)

خَلاق:( ان الذین یشترون بعهدالله و یمانهم ثمنا قلیلا اولٰئک لا خلاق لهم فی الآخرة .....) (۳)

وہ لوگ جو خدا وند عالم سے کئے ہوئے وعدوں کو کسی بہانے سے توڑ دیتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے.......(اس آیت میں بھی ''لفظ خلاق'' اخلاق اور حسن خُلق کے معنی میں استعمال ہوا ہے)

اگر ان تمام مشتقات اور سیرت کے تما م مشتقات کو ایک جگہ جمع کرکے غورو خوض کیا جائے تو اخلاق اور سیرت میں کوئی فرق نہیں ہے اخلاق وہی ہے جو سیرت ہے اور سیرت وہی ہے جو اخلاق ہے(عادات و اطوار ، طور طریقہ اور رفتار و گفتار کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں )

____________________

(۱)سورۂ بقرہ/۱۰۲

(۲)سورۂ بقرہ/۲۰۰

(۳)سورۂ آل عمران/۷۷

۱۱

تیسری فصل

۱ ۔علم اخلاق کی اہمیت ، احادیث کی روشنی میں

علم اخلاق ،انسان کو فضیلت ورذیلت کی شناخت کرانے کے علاوہ، اس کے اعمال و افعال کی قیمت کو بھی معین کرتا ہے چونکہ ہر عمل اور ہر کام جو انجام دیا جائے وہ فضیلت نہیں کہلاتا، اگر انجام شدہ کام فضیلت کا حامل ہے تو لائق تعریف ہے اور اگر رذیلت سے دو چار ہے تو اس کی (علم اخلاق میں ) کوئی اہمیت نہیں ہے(۱)

علم اخلاق کی اہمیت، خود اخلاق کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور اخلاق کی اہمیت کو درک کرنے کے لئے معصومین (ع) سے بہت زیادہ روایتیں منقول ہیں، چنانچہ ایک روایت میں حضرت علی ـ فرماتے ہیں:'' لو کنا لا نرجوا جنة ولا نخشیٰ نارا ولا ثوابا ولا عقابا لکان ینبغی لنا ان نطالب بمکارم الاخلاق فأنها مما تدل علیٰ سبیل النجاح'' (۲)

یعنی اگر ہمیں جنت کی امید نہ ہوتی، جہنم کا خوف نہ ہوتا، ثواب وعذاب بھی نہ ہوتا، تب بھی ہمارے لئے بہتر تھا کہ مکارم اخلاق کے خواہاںہوںچونکہ مکارم اخلاق، نجات اور کامیابی کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اگر آخرت کا وجود نہ ہوتا، صرف دنیا ہی دنیا ہوتی، تب بھی انسان کو اخلاق کی ضرورت تھی چونکہ اخلاق، دنیوی حیات کو دلپذیرو جذاب اور خوبصورت بنادیتا ہے۔

یا پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں:''انما بعثت لأتمم مکارم الاخلاق'' میں مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہوںیعنی میں مکارم اخلاق کو پایۂ تکمیل تک پہونچائوں گا، میں اخلاق کا خاتمہ ہوں۔

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق: ج۱ ، ص۱۷

(۲)اخلاق درقرآن:ج۱،ص۲۲۔ مستدرک الوسائل:ج۲،ص۲۸۳

۱۲

اس روایت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دین اسلام کے اہداف ومقاصد میں سے ایک اہم مقصد، انسانوں کی اخلاقی تربیت ہے(۱)

اسی طرح حضور (ص) سے نقل ہوا ہے:'' الاسلام حسنُ الخُلق والخُلق الحَسَن نصفُ الدّین'' (۲)

یعنی اسلام، اچھے اخلاق کا نام ہے اور اچھا اخلاق، آدھا دین ہے۔

یا آپ (ص) ہی سے نقل ہوا ہے:''اکملُ المومنین ایمانا احسنهم خُلقا'' (۳)

یعنی مومنین میں سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو۔

ان روایتوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ دین میں، اخلاق کی اہمیت کتنی زیادہ ہے؟

دنیا کے بارے میں بھی اخلاق کی اہمیت بہت زیادہ ہے ، اس کے بارے میں بھی روایتیں نقل ہوئی ہیں مثلاََ حضرت علی ـ فرماتے ہیں:''من حسُنَت خلیقَتُه طابت عِشرَتُه''

یعنی جس کا اخلاق اچھا ہوگا ، اس کی زندگی خوشگوار ہوگی، اخلاق کی اتنی زیادہ تاکید بتا رہی ہے کہ انسان کو اخلاق کی بہت زیادہ ضرورت ہے اگر انسان اخلاق سے بے نیاز ہوتا تواخلاق کو انبیا ء (ع) کا اہم مقصدکبھی بھی قرار نہ دیا جاتا(۴)

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۲۲

(۲)بحار الانوار: ج ۷۱، ص۳۸۵

(۳)بحار الانوار: ج ۱ ۷ ،ص ۳ ۷ ۳

(۴)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۲۳

۱۳

۲ ۔علم اخلاق کا ہدف اور فائدہ

علم اخلاق کا ہدف اور مقصد، انسانی حیات کا انتہائی مقصد ہے اور وہ ہے انسان کو کمال تک پہونچانا یعنی علم اخلاق انسان کو کمال کی منزلیں طے کراتا ہے اور اسے انتہائی با کمال بنا دیتا ہے اور اسے اتنا بلند کردیتا ہے کہ طائر فکر، پرواز سے قاصر ہے، شاعر اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تدبیر سے پہلے

خدابندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یعنی انسان اخلاق کی منزل معراج پر پہونچ کر اس درجہ تک پہونچ جائے کہ اس سے خدا وند عالم ہمکلام ہوجائے۔

اور علم اخلاق کا فائدہ، جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے کہ علم اخلاق انسان کو فضائل و رذائل کی شناخت کراتا ہے(۱)

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۲۳،۲۴

۱۴

چوتھی فصل

اخلاق کی قسمیں

اخلاق کی دو قسمیں ہیں ۱: فضیلت (اچھا اخلاق) ۲: رذیلت ( برا اخلاق )جو زبان عربی میں اخلاق الحسنة اور اخلاق السیئةسے معروف ہیں(۱)

اچھا اخلاق انسان کو منزل معراج تک پہونچا دیتاہے اور برا اخلاق انسان کو اتنا پست کر دیتا ہے کہ وہ معاشرہ میں خجالت کے پیش نظر سر نگوں ہوکر رہ جاتا ہے، اس کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جن لوگوں کے ساتھ برے اخلاق سے پیش آیا ہے ان کے سامنے سر اٹھاکر زندگی گذارے ،البتہ یہ بات صاحب درک و فہم سے متعلق ہے اور اس کا تعلق اس شخص سے ہے جس کے ضمیر میں زندگی کی ذرہ برابر بھی رمق باقی ہے ،جس کا ضمیر ہی مردہ ہو چکا ہو وہ کیا محسوس کرے گا ؟

دوسرے مرحلہ میں اخلاق کی پھر دو قسمیں ہیں [ ۱ ] اپنے نفس کے ساتھہ اخلاق [ ۲ ] دوسروں کے ساتھہ اخلاق۔

دوسروں کے ساتھہ اخلاق کی بہت زیادہ قسمیں ہو سکتی ہیں لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے چند اقسام کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

۱۔خدا کے ساتھہ اخلاق ۲۔اہل خانہ کے ساتھہ اخلاق

۳۔پڑوسیوں کے ساتھہ اخلاق ۴۔دوستوں کے ساتھہ اخلاق

۵۔دشمنوں کے ساتھہ اخلاق ۶۔اعزا ء و اقارب کے ساتھہ اخلاق

۷۔خادموں ،نوکروں اور غلاموں کے ساتھہ اخلاق ۸۔اجنبی کے ساتھہ اخلاق

اب یہ انسان کے اوپر منحصر ہے کہ کس کے ساتھ کس اخلاق سے پیش آتا ہے ،یہ اس کی عقل کا امتحان ہے کہ وہ اس کی کیسی رہنمائی کرتی ہے اس کو منزل کمال تک پہونچاتی ہے یا قعر مضلت میں ڈھکیل دیتی ہے ۔

____________________

(۱)اخلاق شبر:ص۳۱۔ آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

۱۵

اگر انسان کا ذہن عاجز ہو جائے کہ کس کے ساتھ کس اخلاق سے پیش آیاجائے تو وہ پھر اپنے لئے نمونہ آئیڈیل [ Ideal ] تلاش کرے اور جس طرح وہ اخلاق سے پیش آتا ہے اسی طرح یہ بھی اخلاق سے پیش آئے ۔

یہ بھی انسان کے اوپر موقوف ہے کہ وہ اپنا آئیڈیل( Ideal )کس کو بنا تا ہے ؟اس معاشرہ میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں، کسی انسان کے جذبات و احساسات پر ہمارا پہرہ نہیں ہے کہ جو ہم چاہیں گے وہ وہی کام انجام دے گا یا جسے ہم چاہیں گے وہ اپنا آئیڈیل( Ideal )بنائے گا بلکہ انسان خود مختار ہے ،جس کو چاہے اپنا آئیڈیل ( Ideal ) بنائے، یہی وجہ ہے... کہ بعض لوگ فلمی ستاروں( Holly wood & Bolly wood Stars )کو اپنا آئیڈیل( Ideal )بناتے ہیں ،بعض لوگ کرکیٹروں( Cricketers )کو اپنے لئے نمونہ انتخاب کر لیتے ہیں اور بعض لوگ فوٹ بالسٹ( Foot Ballist ) کو اپنا آئیڈیل( Ideal )قرار دیتے ہیں خلاصہ یہ کہ جس کی نگاہوں کو جو بھا جاتا ہے وہ اسی کو اپنالیتا ہے لیکن.................انسان کے خود مختار ہو نے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو لاوارث اور بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے ،جس کو چاہے اپنا آئیڈیل ( Ideal )بنائے بلکہ اسے عقل وضمیرجیسے رہبروں جیسی نعمت سے مالا مال کرکے بھیجا گیا ہے ، آئیڈیل( Ideal ) کو انتخاب کر نے سے پہلے یہ سوچ لے کہ آیا عقل بھی اس آئیڈیل( Ideal )کو قبول کرتی ہے؟ میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر انسان عقل کی موافقت میں آئیڈیل( Ideal )کا انتخاب کرے گا تو کبھی بھی دام فریبی میں گرفتارنہیںہو سکتا بلکہ اپنی کشتی حیات کو بخوبی کنارے لگا سکتا ہے۔

خدا وند عالم کی آواز آئی اے انسان تو اپنے لئے نمونہ اور آئیڈیل( Ideal ) کی تلاش میں ہے تو پریشان کیوں ہو تا ہے گھبرا نے کی کیا بات ہے؟ہم تیرے خالق ہیں ،ہم بتائیں گے کہ تیرا آئیڈیل( Ideal )کیسا ہونا چاہیئے ؟

( لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة ) (۱)

بے شک (میرے حبیب )محمد مصطفیٰ (ص) میں تمھارے لئے نمونہ موجود ہے یعنی اگر تمھیں نمونہ چاہیئے تو میرے حبیب کو دیکھو، اس کی پیروی کرو، خود بخود راہ راست پر گامزن ہو جائوگے چونکہ میرا حبیب آئینۂ اخلاق ہے۔

رسول اسلام (ص)انسان کے لئے ہر کام میں بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں، انسان جو کام کرنا چاہے حضرت (ص)کو اپنا آئیڈیل بنائے،دیگر امور سے چشم پوشی کرتے ہوئے اخلاق نبوی پر نظر کرتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہاحزاب ۲۱

۱۶

رسول اسلام (ص) سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد رب العزت ہو رہا ہے:( انک لعلیٰ خلق عظیم ) (۱)

اے میرے حبیب تم اخلاق عظیم پر فائز ہو ،آخر خدا وند عالم نے رسول اسلام (ص) میں کونسی ایسی صفت دیکھی کہ خلق عظیم جیسی عظیم سند سے نوازا؟

چونکہ اخلاق کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جو حضور (ص) کی ذات میں نہ پایا جائے آئیئے تاریخ پر نظر کرتے ہیں کہ حضور (ص) کا اخلاق کیسا تھا اور آپ (ص) کی سیرت کیا تھی؟

روایتیں گواہ ہیں کہ آپ (ص) پورے وقار و متانت کے ساتھ راستہ چلتے تھے ،آپ (ص) کی نظریں ہمیشہ جھکی رہتی تھیں ،ہمیشہ سلام میں سبقت کیا کرتے تھے ،ہمیشہ خدا کی مخلوقات میں غوروفکر کرتے رہتے تھے ،بغیر ضرورت کے کلام نہیں کرتے تھے ،کسی کو حقیر نہیں سمجھتے تھے ، کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے،اگر زیادہ خوشی کا اظہار فرماتے تھے تو صرف لبوں پر تبسم آتا تھا ،آواز بلند نہیں ہوتی تھی(۲)

اخلاق کے اس درجہ پر فائز تھے کہ ہمیشہ سر جھکاکر چلتے تھے کبھی بھی آپ کو سر اٹھاکر چلتے نہیں دیکھا گیا ۔

____________________

(۱)سورہ قلم/۴

(۲)احسن المقال :ج۱، ص۲۷

۱۷

پانچویں فصل

حضور اکرم (ص) کی بعثت کا مقصد

جس طرح تمام انبیاء کا روی زمین پر آنا مقصد اور ہدف سے خالی نہیں ہے اور قرآن کریم اس کی حکایت اس طرح کرتا ہے( کان الناس امة واحدة فبعث اللّٰه النبیین مبشرین و منذرین ) (۱)

پہلے تمام لوگ ایک ہی گروہ کی شکل میں تھے(کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد میں اختلاف پیدا ہوا تو )خدا وند عالم نے انبیاء (ع) کو مبعوث کیا تاکہ وہ (جنت کی) بشارت دیں اور(عذاب الٰہی و جہنم) سے ڈرائیں۔

اسی طرح ہمارے آخری پیغمبرحضرت محمد مصطفےٰ (ص) کی بعثت کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے ''اشرف المخلوقات کی بہترین تربیت'' جیسا کہ ارشاد رب العزت ہورہا ہے:( لقد من الله علیٰ المومنین اذ بعث فیهم رسولا من انفسهم یتلوا علیهم آیٰته ویزکیهم و یعلمهم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۲)

یعنی بے شک خدا وند عالم نے مومنین پر احسان کیا ہے کہ ان کے لئے انھیں میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا تاکہ وہ انھیں آیات قرآنی سنائے اور ان کے نفوس کو پاک کرے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اگر چہ پہلے وہ لوگ ضلالت و گمراہی میں تھے(ضلالت وگمراہی سے نکالنے کے لئے نبی کو مبعوث کیا)

یا اسی مفہوم کی دوسری آیت صرف تھوڑے سے فرق کے ساتھ آئی ہے:( هو الذی بعث فی الامیین رسولا منهم یتلوا علیهم آیٰته و یزکیهم ویعلمهم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۳)

____________________

(۱)سورہ بقرہ/ ۲۱۳

(۲)سورۂ آل عمران/۱۶۴

(۳)سورۂ جمعہ/۲

۱۸

یعنی وہ(خدا)وہی ہے جس نے امیین میں ایک رسول کو خود انھیں میں سے مبعوث کیا تاکہ وہ انھیں قرآنی آیات پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہ نفس کرے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اگر چہ وہ پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

ان آیتوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء (ع) کی بعثت کا مقصد ''لوگوں کوگمراہیوں سے نجات دینا اوران کی بہترین تربیت '' ہے۔

تعلیم بھی، تزکیہ بھی، اخلاق و تربیت بھی ،آخری دو آیتیں ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے مخصوص ہیں جن میں آشکار طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ (ص) کی بعثت کا مقصد اور ہدف کیا ہے۔

حضور (ص) کو خدا وند عالم نے اسی وجہ سے روی زمین پر بھیجا تھا کہ تمام انسانوں کو منزل کمال اور سعادت سے ہمکنار کریں، چونکہ انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف ہے اور تمام مخلوقات کے نچوڑکو انسان کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر ہر انسان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنی اصلاح کر لے تو خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی اور اگر ایک انسان فاسداورفاسق وفاجر ہو تو معاشرہ پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے چونکہ ''ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے''

جناب آدم ـ سے لے کر حضرت ختمی مرتبت (ص) تک، ہر نبی کی یہی کوشش رہی ہے کہ انسان کو کمال وسعادت کی منزلیں طے کرائے، انھیں صراط مستقیم پر گامزن کرے، نہ یہ کہ صرف راستہ بتادے۔

حضور (ص) کے لئے تو صراحت کے ساتھ قرآن میں بیان ہوا ہے( لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة ) (۱)

مقصدیہ ہے کہ اے انسان اگر ہم نے صراط مستقیم کی دعوت دی ہے تو تجھے تنہا اور بے مونس ومددگار کسی چوراہے پر نہیں چھوڑا ہے کہ تو پریشان اور حیران وسرگردان پھرتا رہے بلکہ ہم نے تیرے لئے نمونہ اور اسوہ( Ideal ) بھی بھیجا ہے ''بے شک تمہارے لئے میرے حبیب میں نمونہ( Ideal ) موجود ہے '' یعنی تم جو کام بھی کرنا چاہتے ہو تو رسول (ص) کو دیکھ کر انجام دو، جس طرح میرا رسول (ص) انجام دے رہا ہے اسی طرح تم بھی انجام دو، میرا رسول (ص) تمہارے لئے بہترین مجسّم نمونۂ عمل ہے، اس کے اعمال کو دیکھو ،اس کے اقوال کو دیکھو، اس کی معاشرت کو دیکھو، اس کے کردار کو دیکھو، اس کی رفتار کو دیکھو، اسکی گفتار کو دیکھو....اور... اسے دیکھ کر اعمال بجا لاتے رہو، ہر چیز میں، ہر کام میں اس کی پیروی کرو، صراط مستقیم مل جا ئے گی۔

____________________

(۱)سورۂ احزاب/۲۱

۱۹

اور جب انسان اس منزل پر پہونچ جا ئے گاکہ اس کا ہر عمل، رسول اسلام (ص) کو نمونۂ عمل بناتے ہوئے انجام پائے تو پھر وہ اس منزل پر آجائے گا کہ''من عرف نفسه فقد عرف ربه'' (۱)

انسان اپنے نفس کو بھی پہچان لے گااور نفس کے ساتھ ساتھ معبود حقیقی کی بھی معرفت حاصل ہو جائے گی چونکہ معبود حقیقی کی معرفت، اپنے نفس کو پہچاننے پر موقوف ہے اور انسان اپنے نفس کو اسی وقت پہچان سکتا ہے جب حضور اکرم (ص) کو اپنا نمونۂ عمل بنائے ، جب تک انسان اپنے نفس کو نہیں پہچان پائے گا، تب تک وہ ھواوھوس کا اسیر رہے گا ، نفس کا غلام بن کر رہے گا، صرف اپنی ذات سے محبت کرے گا لیکن جب وہ اپنے نفس کو پہچان لے گا اور یہ دیکھے گا کہ اس کا نفس اسے کمال و سعادت کے بجائے پستی کی جانب لے جا رہا ہے تو خود بخود نفس سے نفرت ہونے لگے گی اور جب نفس سے نفرت ہونے لگے گی تو پھر کمال وسعادت کے بارے میں غوروفکر کرے گا تا کہ اسے کمال و سعادت کی راہ مل جائے اور اس کے لئے وہ کسی نمونہ (آئیڈیل Ideal ) کی تلاش میں رہے گا اور جب نمونہ تلاش کرے گا تو اسے قرآن کریم کے مطابق ایک ہی نمونہ نظر آئے گا جوذات سرور کائنات (ص) ہے۔

جب حضور (ص) کو اپنا نمونۂ عمل بنا لے گا تو یہ بات اظھر من الشمس ہے کہ خود بخود ذات خدا وندی سے قریب ہوتا چلا جائے گا اور اس کے دل میں خدا وند عالم کی محبت کا چراغ روشن ہو جا ئے گا، جب تک انسان کے دل میں اپنے نفس کی محبت ہے، تب تک اس کا دل خدا کی الفت سے خالی ہے اور اسکے بر خلاف...اگر انسان کے دل میں خد اکی محبت جا گزیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ذات سے کو ئی لگائو نہیں ہے(جو بھی ہے وہ خدا کے لئے ہے، اس کا ہراٹھنے والا قدم مرضی معبود کا تابع ہوگا ،اس کی زبان کھلے گی توکھلنے سے پہلے خدا کی رضایت طلب کرے گی، ہاتھ اٹھانے سے پہلے خدا کی یاد آئے گی، نگاہ اٹھانے سے پہلے مرضی رب کے بارے میں سوچے گا اسی طرح اس کا ہر کام فی سبیل اللہ ہو گا)اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نہ تو اس کے دل میں لالچ ہوگا، نہ حسد ہوگا، نہ بغض وکینہ ہوگا، نہ دنیا داری ہوگی، یعنی اس کا دل تمام دنیاوی خرافات سے پاک ہوگا اور اسی کو کمال وسعادت کی منزل کہا جاتا ہے(۲)

____________________

(۱)غرر الحکم:ص۲۳۲

(۲) سیرۂ رسول اللہ از دیدگاہ امام خمینی:ص۴۱

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

مسلمان ہوا(۱)

نبوت کے گیارہویں سال نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایام حج ہی میں قبائل کو دعوت اسلام دینے اور ان سے مدد طلب کرنے کیلئے نکلے_ پس عقبہ (ایک گھاٹی) میں قبیلہ خزرج کے ایک گروہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملاقات ہوئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو دعوت اسلام دی اور قرآن پڑھ کر سنایا_یوں وہ مسلمان ہوئے اور ان کی تعداد چھ تھی،جو یہ افراد ہیں: اسعد بن زرارہ، جابر بن عبداللہ، عوف بن حارث، رافع بن مالک اور عامر کے دوبیٹے عقبہ و قطبہ_ایک قول کی بنا پر وہ آٹھ تھے_ان کی تعداد اس کے علاوہ بھی بتائی گئی ہے (نیز ان کے ناموں میں بھی اختلاف ہے اور مذکورہ افراد کی جگہ دیگر افراد کا نام بیان ہوا ہے_بہرحال اس بات کی تحقیق کی یہاں گنجائشے نہیں)_

خلاصہ یہ کہ یہ حضرات اپنی قوم و قبیلے کے پاس مدینہ لوٹ گئے، انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بارے میں بتایا اور اسلام کی دعوت دی_اس کے بعد بعثت کے بارہویں سال یعنی ہجرت سے صرف ایک سال پہلے عقبہ کی دوسری بیعت ہوئی(۲) _

اس گفتگو کو جاری رکھنے سے پہلے درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرتے چلیں:

۱_ اہل کتاب کی پیشگوئیاں

گزشتہ معروضات سے معلوم ہوا کہ اہل مدینہ یہودیوں کی زبانی یہ سنتے آئے تھے کہ عنقریب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ظہور ہونے والا ہے_یہ بات اس نئے دین کو قبول کرنے کیلئے ان میں نفسیاتی طور پر آمادگی پیدا ہونے کا باعث بنی_

۲_ اوس وخزرج کے اختلافات

اوس وخزرج کے درمیان خونریز جنگیں ہوئی تھیں آخری جنگ، جنگ بعاث تھی جس میں اوس کو فتح ہوئی تھی اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بنی ہاشم شعب ابیطالب میں محصور تھے_ یوں اوس وخزرج کی دشمنی نہایت زوروں

___________________

۱_ بحار ج ۱۹ص ۹و اعلام الوری ص ۵۷علی بن ابراہیم سے _

۲_ بحار ج ۱۹ ص ۹ اور اعلام الوری ص ۵۷ از علی بن ابراہیم_

۲۴۱

پرتھی_ کہتے ہیں کہ وہ دن رات ہتھیاربند رہتے تھے_(۱) بالفاظ دیگر وہ اپنے محدود مالی وسائل کے ساتھ شدید ترین حالات میں ممکنہ حد تک نبرد آزماتھے_

فطری بات ہے کہ وہ اس بحرانی حالت سے نکلنے کیلئے فرصت کی تلاش میں تھے اور قطع شدہ روابط کی بحالی کے منتظر تھے جیساکہ اسعد بن زرارہ نے (چند سطر قبل) اس کی تصویر کشی کی_ یہ وہی اسعد ہے جو قبیلہ اوس کے خلاف عتبہ بن ربیعہ کو حلیف بنانے کیلئے آیا تھا_

بنابریں اہل مدینہ ظلم وانحراف کا مزہ چکھ چکے تھے اور کسی نجات دہندہ کے متلاشی تھے_ چنانچہ انہوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کوہی اپنا حقیقی نجات دہندہ پایا جوان کے پاس اسلام کی آسان شریعت لے کرآیا تھا_ چنانچہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' ہم اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہونے والی گفتگو سنائیں گے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہمارے مائل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو باہمی دشمنی کی حالت میں چھوڑ آئے ہیں_ ہم عربوں کے کسی زندہ گروہ کے درمیان اس قدر دشمنی نہیں دیکھتے جس قدر ان کے درمیان پاتے ہیں_ ہم ان کے پاس وہ باتیں لے کر لوٹیں گے جو ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنی ہیں_ شاید خدا ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ان کے درمیان صلح اور باہمی الفت پیدا ہوجائے''_(۲)

۳_ اسلام کی سہل وآسان تعلیمات

اسلام کی تعلیمات صاف ستھری ،فطرت کے ساتھ سازگار،ہر قسم کی پیچیدگی و ابہام سے پاک اور سہل وآسان ہیں_ ان تعلیمات کی حقانیت کو جاننے کیلئے گہرے غوروفکر یا اس کے اہداف کو سمجھنے کیلئے جان جوکھوں میں ڈالنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کے نتائج سے باخبر ہونے کیلئے کہانت اورغیب گوئی کی حاجت ہے_

___________________

۱_ بحار ج ۱۹ ص ۸ ، ۹ ، ۱۰ نیز اعلام الوری ص ۵۵_

۲_ الثقات ابن حبان ج ۱ص ۹۰_۹۱_

۲۴۲

اس لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل مدینہ اسلام کے اہداف اور اصولوں کا تذکرہ سنتے ہی ایمان لے آئے ہیں_ جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مدینہ والوں کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ تھا جن کا اہل مکہ کو سامنا تھا تو مذکورہ حقیقت زیادہ واضح ہوتی ہے_ (کیونکہ مکہ والے اسلام کو اپنے ذاتی مفادات، خودساختہ وظالمانہ امتیازات نیز اپنی خواہشات اور انحرافی روش کیلئے خطرہ تصور کرتے تھے جیساکہ ہم نے کئی مرتبہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے)_

مدینہ والوں نے یہودیوں کی پیش گوئیوں کے علاوہ شروع ہی سے یہ دیکھ لیا تھا کہ اسلامی تعلیمات ہی ان کی نجات و ہدایت اور موت کی بجائے زندگی عطا کرنے کی ضامن ہیں _نیز یہی تعلیمات ہی فطرت اور عقل سلیم کے موافق ہیں، خواہ عقائد اور قوانین کے لحاظ سے ہوں یا معاشرتی اور سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے _چنانچہ انہوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آپ کی دعوت کے بارے میں سوال کیاتو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میری دعوت یہ ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں_ میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دو، والدین کے ساتھ احسان کرواور تنگدستی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو_ ہم ہی تم کو اور ان کو روزی دیتے ہیں، بدکاری کے قریب نہ جاؤ_ نہ علانیة اور نہ چھپ کر_ کسی کو ناحق قتل نہ کرو مگر یہ کہ تمہیں اس کا حق حاصل ہو_ یہ وہ نصیحتیں ہیں جواللہ نے تمہارے لئے کی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو اور یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ جوان ہوجائیں مگر اس طریقہ سے جو سب سے بہتر ہو_ناپ تول میں انصاف سے کام لو، ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے_ جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کو مدنظر رکھو اگرچہ وہ تمہارے رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہواور عہد الہی کو پورا کرو_ یہ خدا کی نصیحتیں ہیں تمہارے لئے تاکہ انہیں یاد رکھو''_(۱)

انہی خصوصیات کی بناپر وہ اسلام کے گرویدہ اور اس دین کی راہ میں قریش اور عربوں کے خلاف برسر پیکار ہوگئے_

___________________

۱_ سورہ ّانعام، آیت ۱۵۱_۱۵۲_

۲۴۳

۴_ اہل مدینہ اور اہل مکہ

بت پرستی (مدینہ والوں )کادین ، ان کی اندرونی مشکلات اور اختلافات کو حل کرنے سے عاجز رہا یہاں تک کہ ان مشکلات کی مدت کو بھی کم نہ کرسکا_ نہ ہی بت پرستی کے سبب اہل مدینہ کو معاشرتی یا اقتصادی یا دیگر حوالوں سے امتیازی حیثیت مل سکی_ اسی لئے بت پرستی کی بنیادیں ضعیف اور کمزورپڑتی گئیں_ عقل سلیم اورفطرت کے ساتھ اس کی مخالفت نے اس ضعف اور کمزوری میں مزید اضافہ کیا_ پھر خدا کی طرف بلانے والے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ ظہور قریب ہونے کے بارے میں یہودیوں کی پیش گوئیوں نے مذکورہ کمزوریوں کو اور زیادہ کردیا_

یہ مشرکین مکہ کی حالت کے بالکل برعکس تھا وہ بت پرستی کے ذریعے سماجی اورسیاسی طور پر فائدہ حاصل کر رہے تھے_ انہوں نے اپنے آپ کو اس سرزمین کے دیگر قبائل اور جماعتوں کے اجتماع کا مرکز بنالیا تھا_ مکہ والوں نے اپنے لئے ناجائز مراعات اور امتیازات کی بنیادوں کو مستحکم کرلیا تھا_ وہ حق اور انسانیت کی خدمت کے نام پر ان ناجائز مراعات سے دست بردار ہونے کیلئے آمادہ نہ تھے بلکہ وہ تو اپنے ذاتی مفادات، انحرافی اعمال اور ناجائز مراعات کے اوپر انسانیت اور حق کو قربان کر رہے تھے_

علاوہ ازیں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئےس کا ہم اسلام کی کامیابی اور ترویج کے اسباب کے بیان میں ذکر کرچکے ہیں _یہاں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عظیم شخصیت، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بلند اخلاق، قریش اورعرب کے بہترین گھرانے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تعلق (نیز بعض لوگوں کے نظریئےے مطابق آپ کی والدہ، آمنہ بنت وہب کے واسطے سے بنی نجار اور خزرجیوں سے قریبی رشتہ داری)(۱) وغیرہ نے اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے اور اسلام کی راہ میں قربانی دینے میں اہم کردار ادا کیا_

___________________

۱_ البتہ یہ ایسا دعوی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ صرف رشتہ داری مذکورہ باتوں کا باعث نہیں بن سکتی_

۲۴۴

تیسری فصل

بیعت عقبہ

۲۴۵

عقبہ کی پہلی بیعت

کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہونے والے یہ حضرات مدینہ پہنچے تو انہوں نے اہل مدینہ کے پاس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر کیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی_ یہ بات ان کے درمیان پھیلی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انصار کے ہر گھر میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا_

جب دوسرا سال یعنی بعثت کا بارہواں سال ہوا تو بارہ آدمی مکہ آئے جن میں سے دو کا تعلق قبیلہ اوس سے اور باقیوں کا خزرج سے تھا_ انہوں نے عقبہ کے مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ملاقات کی اور عورتوں والی بیعت کی( یعنی وہ بیعت جس میں جنگ کا تذکرہ نہ ہو )_بالفاظ دیگر انہوں نے اس بات کی بیعت کی کہ وہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہیں دیں گے، چوری اور زنانہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل کرنے سے احتراز کریں گے، اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان گھڑکے نہ لائیں گے، کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کریں گے_ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کی جزا جنت ہوگی اور اگر عہدشکنی کریں تو ان کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہوگا تاکہ اگر وہ چا ہے تو ان کو مبتلائے عذاب کرے اور اگر چا ہے تو بخش دے_

جب وہ مدینہ لوٹے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیر کو بھیجا تاکہ وہ انہیں قرآن اوراسلام کی تعلیم دے اور ان میں دین سے آشنائی پیدا کرے_ لوگ مصعب کو مقری کے نام سے یاد کرتے تھے_حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابن ام مکتوم کو بھی مدینہ بھیجا(۱) جیساکہ نقل ہوا ہے_ حضرت مصعب نے مدینہ میں پہلی بار

___________________

۱_ سیرت نبویہ دحلان ج ۱ص ۱۵۱_۱۵۲ا ور السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۹ اس میں ہے کہ واقدی نے بیان کیا ہے کہ ابن ام مکتوم بدر کے کچھ عرصہ بعد مدینہ آیا، ابن قتیبہ کے کلام میں وہ بدر کے ۲ سال بعد مدینہ ہجرت کرکے آیا_ اس کے بعد حلبی نے ان اقوال کو جمع کرنے کی غرض سے یہ احتمال دیا ہے کہ وہ پہلے اہل مدینہ کو پڑھاتا تھا پھر مکہ واپس آگیا اور اس آمدورفت کے بعد وہ بدر کے بعد دوبارہ ہجرت کرگیا یہ ایک قابل قبول احتمال ہے_

۲۴۶

نماز جمعہ قائم کی_

حضرت مصعب اور ان کے دیگر مسلمان ساتھی تبلیغ اسلام میں کامیاب رہے اور حضرت سعد بن معاذ مسلمان ہوگئے جو اپنے قبیلے بنی عمیر بن عبدالاشہل کے قبول اسلام کا باعث تھے_ چنانچہ وہ مصعب کے ہاتھوں قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کے پاس گئے اور ان سے کہا: ''اے بنی عبدالاشہل تم اپنے درمیان میری حیثیت کو کیسے پاتے ہو''؟

وہ بولے:'' تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے ہم سے بہتر ہے، تم اورتمہارا حکم ہماری بہ نسبت زیادہ با برکت ہے''_

یہ سن کر سعدنے کہا: ''پھر جب تک تم لوگ اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان نہ لے آؤ ، میںتمہارے مردوں اور عورتوں کے ساتھ گفتگو حرام سمجھوں گا''_

راوی کہتا ہے قسم ہے اللہ کی، بنی عبد الاشہل کے کسی گھرمیں نہ کوئی مرد ایسا رہا نہ عورت جو شام ہونے سے پہلے ہی مسلمان نہ ہوگیا ہو(۱) _وہ سب ایک ہی دن میں مسلمان ہوئے( سوائے عمرو بن ثابت کے جنہوں نے جنگ احد تک اسلام قبول نہ کیا،اس کے بعد مسلمان ہوئے_ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہونے کے فوراً بعدکوئی سجدہ کرنے (نماز پڑھنے) سے پہلے شہید ہوگئے مصعب بن عمیر لوگوں کو بدستور اسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ انصار کے مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کرلیا سوائے قبیلہ اوس کے بعض لوگوں کے، جواپنے ایک سردار کی متابعت میں مسلمان نہیں ہوئے تھے_ یہ سردار ہجرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدمسلمان ہوا_(۲)

یہ تھا مورخین کا بیان، لیکن ہم چند جگہوں پر اظہار نظر کرنا چاہتے ہیں_

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے لئے ملاحظہ ہو: سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۷۹ ، ۸۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۴ ، تاریخ الامم و الملوک (طبری) ج۲ ص ۹۰ اور السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۱۸۴_

۲_ السیرہ النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۱۸۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ص۹۰ ، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۷۹ ، ۸۰ نیز سیرہ حلبیہ ج۲ حاشیہ ص ۱۴_

۲۴۷

سعد بن معاذ کی اپنی قوم کو دعوت

خدا کی طرف دعوت دینے کا حکم فقط انبیاء اور اوصیاء کے ساتھ مختص نہیں بلکہ یہ حکم ہر مکلف کو(اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق) شامل ہے_ یہ ان امور میں سے ہے جن کا عقل سلیم حکم دیتی ہے اور ہر مکلف پر ان کو لازم قرار دیتی ہے_ یہ کام شرعی اجازت کا بھی محتاج نہیں_ کیونکہ عقل سلیم اس بات کا باآسانی ادراک کرتی ہے کہ واجبات کا ترک کرنا، برائیوں کا مرتکب ہونا نیز افکار و اعتقادات اور کردار کا انحراف، موجودہ اور آئندہ نسلوں کیلئے عظیم نقصان کا باعث ہیں _اسی لئے صحیح طرزفکر اختیار کرنے، برائیوں سے اجتناب کرنے اور نیک کاموں کو انجام دینے کی دعوت دینے کا حکم دیتی ہے_

خدا کی طرف دعوت دینے کیلئے حضرت سعد کی بے چینی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے_ چنانچہ بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ سعد اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنی گمراہی پر برقرار رہیں تو وہ ان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ منقطع کردیں گے _

اس موقف کی عظمت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس دور میں ایک عرب شخص کی تقدیر اور خوش بختی کس حد تک قبیلے کے ساتھ مربوط تھی نیز فرد اور قبیلے کے درمیان کس قدر ربط تھا_

قرآن بھی عقل و فطرت کے اسی حکم کی تائید کرتا ہے_ اسی لئے قرآن دینی فہم و بصیرت رکھنے والے ہر فرد پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف دعوت دے_ ارشاد الہی ہے( قل هذه سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرة انا ومن اتبعنی ) (۱) یعنی کہہ دیجئے میرا راستہ تو یہ ہے_ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں_ میں خود بھی عقل وبصیرت کے ساتھ اپنا راستہ دیکھ رہاہوں اور میرے ساتھی بھی_

اس بات کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے کہ جو لوگ حق کو پہچان لیتے ہیں اور ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتے ہیں وہ بے اختیار کوشش کرتے میں کہ دوسرے لوگ بھی حق کی طرف آئیں، اس پر ایمان لے آئیں، اس سے استفادہ کریں اور اس کی شیرینی کو چکھ کر لطف اندوز ہوں_

___________________

۱_ سورہ یوسف، آیت ۱۰۸_

۲۴۸

اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جنہیں اپنے شیعوں کی فکر تھی_ (وہی شیعہ جو امت اسلامی کے برگزیدہ بندے ہیں اوراموی اور اس کے بعد عباسی حکومتوں کے دور میں مختلف قسم کے مظالم و مصائب کا شکار رہے ) اس بات پر بے چینی کا اظہار فرما رہے ہیں کے شیعہ ان حالات کی نزاکت اور خطرات کو مدنظر نہیں رکھتے آپ مسئلہ امامت کے اظہار کیلئے ان کی بے چینی دیکھ رہے تھے_ یہ بے چینی ایمان کی مٹھاس اور تبلیغ کلمہ حق کی ضرورت سے ان کی آشنائی کا نتیجہ تھی_

امام سجادعليه‌السلام فرماتے ہیں، میں ترجیح دیتا ہوں کہ شیعوں کے درمیان موجود دو خصلتوں کو محو کرنے کے بدلے میرے بازو کا گوشت کاٹ لیاجائے _وہ دو خصلتیں یہ ہیں، جلدبازی اور راز داری کی کمی_(۱)

بیعت

اس بیعت کا متن واضح طور پر اسلامی معاشرے کی بنیادی باتوں اور اہم اصولوں کو شامل ہے _یہ بیعت نظریاتی وعملی دونوں پہلوؤں کی حامل ہے _رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے باہمی روابط سے متعلق معینہ ذمہ داریاں ان پر ڈالیں_ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے ان سے عہدوپیمان لیا تاکہ وہ اس کی مخالفت کو زبان کے احترام وتقدس کے منافی سمجھیں_ یہ عہدوپیمان بیعت کے نام سے عمل میں آیا جو ان کی طرف سے مذکورہ اصولوں پر کاربند رہنے کا مقدس وعدہ اور عہدوپیمان تھا_

لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عہد کو توڑنے، بد عہدی کرنے اور دھوکہ دینے والے کیلئے کوئی سخت سزا معین نہیں کی کیونکہ حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بات ان میں سے ہر ایک کے ضمیر پر چھوڑ دی_ ساتھ ساتھ ان کو نظریاتی اصولوں کی رسی سے بھی باندھ دیا_ نیز خطا کی صورت میں توبہ و اصلاح کی گنجائشے بھی رکھی تاکہ اگر کوئی شخص خلاف ورزی کرے تو اصلاح سے ناامید نہ ہوجائے بلکہ اس کی امیدباقی رہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا انجام خدا کے سپرد کردیا تاکہ وہ جسے چا ہے سزا دے اور جسے چا ہے بخش دے_

___________________

۱_ سفینة البحار ج ۱ ص ۷۳۳ اور بحار ج ۷۵ ص ۶۹و ۷۲ خصال سے ج ۱ ص ۲۴ کافی ج ۲ ص ۲۲۱ _

۲۴۹

نماز جمعہ

اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ مصعب بن عمیر نے ہجرت سے قبل مدینے میں مسلمانوں کیلئے نماز جمعہ قائم کی(۱) بسااوقات یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سورہ جمعہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی_ پس مصعب نے جمعہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نماز جمعہ کیونکر پڑھائی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ ''جمّع'' (جس کا استعمال مصعب والی روایت میں ہوا تھا) سے مراد شاید یہ ہو کہ: اس نے نماز جماعت پڑھائی_ لیکن اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ اس لفظ (جمع) سے مراد یہ ہے کہ اس نے نماز جمعہ پڑھائی تو اس کے باوجود سورہ جمعہ میں خدا کا یہ ارشاد( یا ایها الذین آمنوا اذا نودی للصلاة من یوم الجمعة فاسعوا الی ذکر الله ) (۲) یعنی اے مومنو جب جمعہ کے دن نماز کیلئے ندا دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو، جمعہ قائم کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ قائم شدہ نماز جمعہ کی طرف تیزی سے بڑھنے کا حکم دیتا ہے_ بنابریں ممکن ہے نماز جمعہ، سورہ جمعہ کے نزول سے قبل مکہ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی واجب ہوئی ہو لیکن وہاں اس کا قیام ممکن نہ ہوا ہو_ یا یہ کہ خفیہ طور پر نماز ہوتی رہی ہو لیکن اس کی خبر ہم تک نہ پہنچی ہو_

اس بات کی تائید اس ارشاد الہی سے ہوتی ہے( واذا را وا تجارة او لهوا انفضوا الیها و ترکوک قائما قل ما عند الله خیر من اللهو ومن التجارة ) (۳) یعنی جب انہوں نے تجارت یا کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا_ ان سے کہو کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے_ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز جمعہ اس سے قبل واجب ہوچکی تھی اور یہ کہ ان لوگوں کا رویہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے ساتھ کیسا تھا_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۹ و تعلیقہ مغنی ( مطبوعہ حاشیہ سنن دارقطنی ) ج۲ ص ۵ از طبرانی، کتاب '' الکبیر '' و ''الاوسط'' میں_

۲_ سورہ جمعہ، آیت ۹_

۳_سورہ جمعہ، آیت ۱۱_

۲۵۰

اس دعوت کی تائید دارقطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن عباس سے منقول ہے_ وہ کہتے ہیں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت سے پہلے جمعہ کی اجازت دی لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ میں جمعہ قائم نہ کرسکے پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مصعب بن عمیر کو یوں خط لکھا: اما بعد جس دن یہودی لوگ بلند آواز سے زبور پڑھتے ہیں اس دن تم اپنی عورتوں اور بچوں کو جمع کرلو، جمعہ کے دن زوال کے وقت جب دن ڈھلنا شروع ہوجائے تو دو رکعت نماز، تقرب الہی کی نیت سے پڑھو_ابن عباس نے کہا مصعب وہ پہلا شخص تھا جس نے نماز جمعہ قائم کی یہاں تک کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی زوال کے بعد نماز جمعہ پڑھی اور اسے آشکار کیا_(۱)

کچھ روایات کی رو سے سب سے پہلے نماز جمعہ قائم کرنے والا اسعد بن زرارہ ہے_(۲)

عقبہ کی دوسری بیعت

مصعب بن عمیر مدینہ سے مکہ لوٹے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں اپنی جدوجہد کے نتائج پیش کئے چنانچہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس امر سے زبردست مسرت ہوئی_(۳)

بعثت کے تیرہویں سال حج کے ایام میں اہل مدینہ کاایک بہت بڑا گروہ حج کیلئے آیا جن کی تعداد پانچ سو بھی بتائی جاتی ہے_(۴) ان میں مشرکین بھی تھے اور ایسے مسلمان بھی جو مشرک زائرین سے اپنا ایمان چھپا کر آئے تھے_

ان میں سے بعض مسلمانوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ملاقات کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایام تشریق کی درمیانی رات عقبہ کے مقام پر (عام لوگوں کے سوجانے کے بعد) ان سے ملاقات کا وعدہ فرمایا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو حکم دیا

___________________

۱_ در المنثور ج ۶ ص ۲۱۸دار قطن سے و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲_

۲_ در المنثور ج ۶ ص ۲۱۸ ابوداود ، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی، عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر سے ، وفاء الوفا ج۱ ص ۲۳۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۵۹ و ص ۹ اور سنن دارقطنی ج ۲ ص ۵ ، ۶ اور سنن دار قطنی پر مغنی کا حاشیہ ص ۵ ( جو سنن کے ساتھ ہی مطبوع ہے )_

۳_ بحار ج ۱۹ص ۱۲میں ہے کہ معصب نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس رپورٹ لکھ بھیجی اعلام الوری ص ۵۹ میں بھی اسی طرح ہے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اوّل۱ ص ۱۴۹ _

۲۵۱

کہ وہ سونے والوں کو نہ جگائیں اور غیرحاضر افراد کا انتظار نہ کریں_یہاں سے ہمیں بیعت کیلئے اس خاص وقت کے انتخاب کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کیونکہ اگر ان کا راز فاش بھی ہوجاتا تو چونکہ وہ حج کرچکے تھے اور شہر سے باہر نکل چکے تھے لہذا (قریش کیلئے) ان پر مؤثر طریقے سے دباؤ ڈالنے کی گنجائشے نہیں تھی_ نیز حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس حکم کہ نہ تو وہ سوئے ہوئے لوگوں کو جگائیں اور نہ غیر حاضر افراد کا انتظار کریں کی علت بھی معلوم ہوجاتی ہے_ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے لوگ ان کی غیرمعمولی حرکات کا مشاہدہ نہ کریں اور ان کا راز فاش نہ ہوجائے_

چنانچہ اس رات وہ لوگ اپنے کاروانوں کے ہمراہ سوگئے جب رات کا تہائی حصہ گزرچکا تو یکے بعد دیگرے چھپ چھپاکر اپنی وعدہ گاہ کی طرف سرکنے لگے_ یوں کسی کو بھی ان کے چلے جانے کا احساس نہ ہو سکا_ یہاں تک کہ وہ درے میں گھاٹی کے پاس جمع ہوگئے_ ان میں ستریاتہتر مرد تھے اور دو عورتیں تھیں_

اس مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ان کی ملاقات اس گھر میں ہوئی جس میں آپ تشریف فرماتھے_ یعنی حضرت عبدالمطلب کے گھرمیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حضرت حمزہعليه‌السلام ، حضرت علیعليه‌السلام اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا عباس تھے_(۱)

مدینہ سے آئے ہوئے ان لوگوں نے اس بات پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھرانے کی حفاظت اسی طرح کریں گے جس طرح وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں_ نیز یہ کہ وہ ان کو پناہ دیں گے اوران کی مدد کریں گے _سستی کی حالت ہویاچستی کی، ہر صورت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات پر لبیک کہیں گے اور اطاعت کریں گے_ خوشحالی و تنگدستی دونوں صورتوں میں مال خرچ کریں گے_ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے ، خدا کیلئے بات کریں گے اور اس سلسلے میں کسی کی ملامت سے نہ گھبرائیںگے_ (ان باتوں کے نتیجے میں) عجم ان کا فرمانبردار ہوگا اور وہ حکمرانی کیا کریں گے _

___________________

۱_ اعلام الوری ص ۵۹، تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۳، بحار ج ۱۹ ص ۱۲_۱۳ و ۴۷، قصص الانبیاء سے، سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۱۶سیرت نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۵۲_

۲۵۲

مالک نے عبادہ بن صامت سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : '' ہم نے ان باتوں پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیعت کی کہ ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ حالات سخت ہوں یا سازگار، خواہ طبیعت میں سستی ہو یا چستی نیز یہ کہ امر (حکومت) میں اس کے اہل سے جھگڑا نہ کریں گے_ ہر جگہ حق کی بات پر (یا حق کے ساتھ) قیام کریں گے اور خدا کے معاملے میں کسی کی ملامت سے نہ گھبرائیں گے''_(۱) سیوطی کہتا ہیں کہ لفظ امر سے اس کی مراد حکومت و سلطنت ہے_(۲)

عباس ابن نضلہ نے خصوصاً رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قول ''عجم تمہارے زیرنگیں ہوں گے اور تم بادشاہی کیا کروگے'' سے مسئلے کی نزاکت کو سمجھا_ اور یہ جان لیا کہ وہ مکہ یا جزیرة العرب کے مشرکین سے نہیں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ ٹکرلینے کا اقدام کر رہے ہیں_ چنانچہ اس نے چاہا کہ وہ ان لوگوں سے مزید اطمینان حاصل کرے اور بیعت کرنے والوں کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اقدام کریں اور کسی دن یہ نہ کہیں کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ بات یہاں تک پہنچے گی تو ہم بیعت نہ کرتے_ اس لئے اس نے کہا: '' اے اوس اور خزرج والو کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اس اقدام کا مطلب کیا ہے؟ یہ تو عرب و عجم اور دنیا کے تمام حکمرانوں کے ساتھ اعلان جنگ ہے_ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جب تم پر مصیبت ٹوٹ پڑے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مد د سے دست بردار ہوجاؤگے تو پھر انہیں دھوکہ نہ دو_ کیونکہ اپنی قوم کی مخالفت کے باوجود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو عزت و تحفظ حاصل ہے''_

یہ سن کر جابر کے باپ عبداللہ بن حزام، اسعد بن زرارہ اور ابوالھیثم بن تیھان نے کہا :''تم کہاں سے بات کرنے والے آگئے؟'' پھر کہا:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارا خون اور ہماری جانیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے حاضر ہیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اور اپنے رب کے حق میں جو بھی شرط رکھنا چاہیں رکھیں''(۳) _

___________________

۱_ الموطاء تنویر الحوالک کے طبع کے ساتھ ج ۲ ص ۴ ، سیر اعلام النبلاء ج۲ ص ۷ ، مسند احمد ج۵ ص ۳۱۴ و ۳۱۶ ، سنن نسائی ج۷ ص ۱۳۸ ، ۱۳۹ ، صحیح بخاری ج۴ ص ۱۵۶، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۶۴ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۹۷ ، دلائل النبوة (بیہقی) ج۲ ص ۴۵۲ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۲۰۴ او رصحیح مسلم ج ۶ ص ۱۶ و ۱۷ _

۲_ تنویر الحوالک ج ۲ ص ۴ _

۳_ ملاحظہ ہو : بحار الانوار ج۱۹ ص ۱۲ و ۱۳ از اعلام الوری ، دلائل النبوہ ( بیہقی)ج۲ ص ۴۵۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۱۸ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۸۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۶۲ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۲۰۱ نیز سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۷_

۲۵۳

یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اسعد بن زرارہ نے بیعت عقبہ کے وقت کہا:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہر دعوت لوگوں کیلئے سخت اور دشوار تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اپنے دین کو چھوڑ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین اپنائیں یہ ایک سخت مرحلہ تھا_ لیکن ہم نے اس مسئلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات مان لی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہم کو دعوت دی کہ ہم اپنی باہمی حمایتوں اور قرابتوں کو (خواہ وہ قریبی ہوں یا دور کی) قطع کردیں یہ بھی ایک سخت مرحلہ تھا_ لیکن ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات پر لبیک کہا_ نیز ان حالات میں جبکہ ہم عزت و حفاظت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم ایک ایسے اجنبی کی قیادت کو تسلیم کریں جسے اس کی قوم نے تنہا چھوڑ دیا تھا اور اس کے چچاؤں نے اسے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا_ یہ بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات تسلیم کرلی ...''_(۱)

علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عباس بن عبد المطلب بیعت عقبہ کے وقت موجود تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے حق میں مزید اطمینان اور ضمانت حاصل کرلیں چنانچہ عباس نے کہا:'' اے خزرج والو ہمارے نزدیک محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جو مقام ہے وہ تمہیں معلوم ہے_ ہم نے اسے اپنی قوم سے جو ہمارے ہم مذہب ہیں محفوظ رکھا ہے_ بنابریں وہ اپنی قوم کے درمیان معزز ہے اور اپنے شہر میں خوب محفوظ ہے لیکن وہ صرف تمہارے پاس پناہ لینا اور صرف تم سے ملحق ہونا چاہتا ہے_ اگر تمہارا ارادہ یہ ہے، کہ جس مقصد کیلئے ان کو دعوت دے رہے ہو اس میں اپنے قول پر عمل کروگے اور مخالفین کے مقابلے میں ان کی حفاظت کروگے تو پھر اس ذمہ داری کو اٹھاؤ_ لیکن اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ انہیں وہاں لے جانے کے بعد دشمن کے حوالے کر کے الگ ہوجاؤگے تو ابھی سے ان کو چھوڑ دینا بہتر ہے کیونکہ وہ یہاں اپنی قوم اور شہر میں بہرحال محفوظ و معزز ہیں''_

ایک اور روایت کے مطابق عباس نے ان سے کہا:'' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمہارے سوا دوسروں کی بات کو ٹھکرایا ہے پس اگر تم صبر و استقلال، قوت، جنگی مہارت اور پورے عرب جو ایک ہی کمان سے تمہارے خلاف تیر

___________________

۱_ حیاة الصحابةج ۱ ص ۸۸ دلائل النبوة ابونعیم ص ۱۰۵سے_

۲۵۴

چلائیں گے یعنی متحد ہوکر تم سے لٹریں گے، ان کے ساتھ تنہا ٹکر لینے کی قدرت رکھتے ہو تو خوب سوچ لو اور آپس میں مشورہ کرو''_

انہوں نے اس کا جو جواب دیا اس کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ پھر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ بارہ نقیب چن کر دیں جو کفیل، ضامن اور اپنی قوم کی ضمانت دیں چنانچہ انہوں نے نو نقیب قبیلہ خزرج سے اور تین قبیلہ اوس سے چنے_ یوں یہ حضرات اپنی قوم کے ضامن اور نقیب قرار پائے_

ادھر قریش کو اس اجتماع کا پتہ چلا چنانچہ وہ مشتعل ہوئے اور مسلح ہوکر پہنچ گئے_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کی آوازسن کر انصار کو وہاں سے چلے جانے کیلئے کہاتو انہوں نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنی تلواروں کے ساتھ ان کی خبر لیں تو ایسا ہی کریں گے''_ فرمایا: '' مجھے اس بات کا حکم نہیں ہوا اور خدا نے مجھے ان کے ساتھ جنگ کی اجازت نہیں دی''_ وہ بولے:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پھر کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے ساتھ چلیں گے؟ ''فرمایا:'' امر الہی کا انتظار کرو''_

قریش والے سب کے سب مسلح ہوکر آگئے ادھر حضرت حمزہ تلوار لیکر نکلے انکے ساتھ حضرت علیعليه‌السلام تھے_ جب مشرکین کی نظر حضرت حمزہعليه‌السلام پر پڑی تو بولے : '' یہاںکس لئے جمع ہوئے ہو''؟

حضرت حمزہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں اور اسلام کی حفاظت کے پیش نظراز راہ تقیہ فرمایا:'' ہم کہاں جمع ہوئے، یہاں توکوئی نہیں_ خدا کی قسم جو کوئی اس گھاٹی سے گزرے گا تلوار سے اس کی خبرلوں گا''_

یہ دیکھ کر وہ لوٹ گئے اور صبح کے وقت عبداللہ بن ابی کے پاس جاکر کہا:'' ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہاری قوم نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے کیلئے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی ہے_ خدا کی قسم کسی عرب قبیلے کے ساتھ جنگ ہمارے لئے اس قدر ناپسند نہیں جس قدر تمہارے ساتھہے''_

عبداللہ نے قسم کھائی کہ انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا نہ وہ اس بارے میں کچھ جانتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے اپنے اقدام سے مطلع کیا ہے_ قریش نے اس کی تصدیق کی_ یوں انصار وہاں سے چلے گئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مکہ لوٹ آئے_

۲۵۵

لیکن بعد میں قریش والوں کو اس واقعے کی صحت کا یقین حاصل ہوگیا_ چنانچہ وہ انصار کی تلاش میں نکلے نتیجتاً وہ سعد بن عبادہ اور منذر بن عمیر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، منذرنے تو ان کو بے بس کر دیا لیکن سعد کو انہوں نے پکڑ کر سزا دی اس بات کی خبر جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کوملی چنانچہ ان دونوں نے آکر اسے چھڑایا کیونکہ وہ ان دونوں کے مال تجارت کی حفاظت کرتا تھا اور اسے لوگوں کی دست درازی سے محفوظ رکھتا تھا_(۱)

اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے سے پہلے ہم بعض نکات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں_ سب سے پہلے جس نکتے کی وضاحت کریں گے وہ یہ ہے:

بیعت عقبہ میں عباس کا کردار

بعض روایات کی رو سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے چچا عباس بیعت عقبہ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے_ اور ان کے علاوہ کوئی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نہ تھا_ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ عباس اگرچہ اس وقت مشرک تھے لیکن وہ اپنے بھتیجے کو درپیش مسئلے میں حاضررہ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کام کوپکا کرنا چاہتے تھے ہم اس سلسلے میں ابن عباس سے منسوب قول نقل کرچکے ہیں_

لیکن ہماری نظر میں یہ مسئلہ مشکوک ہے کیونکہ:

(الف) عباس سے منسوب کلام میں واضح طور پر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دی گئی ہے_ عباس کے مذکورہ کلام سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی تقویت نہیں ہوتی جیساکہ ان لوگوں کا دعوی ہے خاص کر عباس کا یہ کہنا اگر پورے عرب (جو ایک ہی کمان سے تمہاری طرف تیر اندازی کریں گے) سے اکیلے ٹکر لینے کی طاقت رکھتے ہو ...اس بات کو واضح کرتا ہے_

___________________

۱_ ان تمام واقعات کے سلسلے میں جس تاریخی یا حدیثی کتاب کا چاہیں مطالعہ فرماسکتے ہیں ، بطور مثال : بحار الانوار ج ۱۹ ص ۱۲ و ۱۳، اعلام الوری ص ۵۷ ، تفسیر قمی ج۱ ص ۲۷۲، ۲۷۳ ، تاریخ الخمیس ج۱ ۳۱۸ ، ۳۱۹ دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۴۵۰ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۵۸ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۱۹۳ تا ۲۱۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۷ اور اس سے ماقبل و ما بعد نیز سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۸۸ اور ماقبل و ما بعد و دیگر کتب_

۲۵۶

(ب) عباس کے کلام میں خلاف حقیقت نکات موجودہیں خصوصاً ان کا یہ کہنا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمہارے سوا دوسروں کی بات کو ٹھکرایا ہے کیونکہ اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ انصار کے علاوہ دیگر سب لوگوں نے گویا بنی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موافقت کی تھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت پر آمادہ ہوئے تھے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی حمایت کو ٹھکرا دیا تھا حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے_ البتہ صرف بنی شیبان بن ثعلبہ عربوں کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت پر راضی ہوئے تھے لیکن ایرانیوں کے مقابلے میں نہیں_ ظاہر ہے کہ ''الناس کلہم'' سے مراد فقط بنی شیبان نہیں ہوسکتے_ رہا یہ احتمال کہ شاید اس سے مراد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رشتہ دارہوں تو جیساکہ ملاحظہ ہوا کہ یہ بات مذکورہ تعبیر ''الناس کلہم'' (یعنی سارے لوگ) کے ساتھ سازگار نہیں_ اگر کوئی یہ احتمال دے کہ شاید عباس کی عبارت ''ابی محمد ًالناس'' (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سارے لوگوں کی بات ٹھکرادی )کی بجائے ''ابی محمداً الناس'' (لوگوں نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات نہ مانی) تھی_ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس احتمال کی صحت پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ ہمارے سامنے موجود الفاظ اس کے برعکس ہیں_

(ج) اس وقت تک مدینے کی طرف ہجرت کی بات ہی نہیں چلی تھی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مسلمانوں کے دارہجرت کی نشاندہی نہ کی گئی تھی اور نہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں کچھ بتایا تھا_ پھر عباس کو کیسے پتہ چلا کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں؟ کیا اس سلسلے میں عباس پر کوئی وحی اتری تھی؟ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آتی_ ہاں ہم خود عباس کی زبانی ان کا یہ قول پڑھتے ہیں'' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو بس تمہارے پاس پناہ لینے اور تم سے ملحق ہونے کا ارادہ کیا ہے''_ پھرکہتے ہیں ''اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنے پاس لے جانے کے بعد اس کو دشمن کے حوالے کر کے خود الگ ہوجاؤ گے تو پھر ابھی سے اس کا ساتھ نہ دو ...''

(د) عباس نے جو کچھ کہا وہ تو فقط ایک مسلمان اور پکا مومن ہی کہہ سکتا ہے اور عباس تو ابھی تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ جنگ بدر تک کفر پر باقی رہے اور بدر میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ جنگ کرنے آئے البتہ مجبوری کے تحت_ پھر وہ مسلمان ہوئے جس کا آئندہ ذکر ہوگا بلکہ آگے چل کر عرض کریں گے کہ وہ فتح مکہ تک مسلمان نہیں ہوئے تھے _

۲۵۷

یہاں ہم اس احتمال کو ترجیح دیتے یں کہ جس شخص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حق میں بیعت کی گرہ مضبوط کرنے کیلئے بات کی تھی وہ عباس بن نضلہ انصاری تھا(۱) نہ کہ عباس بن عبدالمطلب_ اس لئے کہ ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ ان دونوں سے منسوب اور منقول جملوں میںبہت حد تک قدر شباہت موجود ہے_

پس شاید راوی کو عباس بن عبدالمطلب اور عباس بن نضلہ کے درمیان ناموں کی شباہت کے باعث اشتباہ ہوا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی عباس نے مخصوص مفادات کے پیش نظراپنے جدامجد کیلئے ایک بڑی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو وغیرہ وغیرہ_

حضرت ابوبکر عقبہ میں

بعض خلاف مشہور روایات کے مطابق حضرت ابوبکر عقبہ میں موجود تھے اور عباس نے ان کو درے کے دھانے پر رکھا تھا_

ہم اس قول کے بطلان کو ثابت کرنے کیلئے زیادہ گفتگو نہیں کریں گے کیونکہ دیگر روایات صاف صاف کہتی ہیں کہ وہاں سوائے ان افراد کے جن کا ہم نے ذکر کیا یعنی حضرت حمزہ، حضرت علیعليه‌السلام اور عباس، کے علاوہ اور کوئی موجود نہ تھا حالانکہ خود مؤخر الذکر کی موجودگی بھی مشکوک ہے اور یہ کہ جب قریش کو اس اجتماع کاعلم ہوا تو طیش میں آئے پھر جب وہ مسلح ہوکر پہنچے تو حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام درے کے دھانے تک آئے تھے_ گذشتہ بیانات کی روشنی میں یہ واقعہ اس اجتماع کے آخری لمحات میں پیش آیا_

حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام عقبہ میں

بیعت عقبہ کے موقع پر حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام کی موجودگی کے بارے میں جو کچھ نقل ہوا ہے اس کی تائید عبدالمطلب کے گھر میں ہی اس اجتماع کے انعقاد سے ہوتی ہے_ خصوصاً وہاں تو ان دونوں کی ضرورت بھی تھی تاکہ وہ قریش اور اس کی خود پسندی اور جبر وتعدی کے مقابلے میں اس حیرت انگیز اور مردانہ کارکردگی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۷۱، بحار ج ۱۹، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۱۷، السیرة النبویة دحلان ج ۱ ص ۱۵۳ _

۲۵۸

کا مظاہرہ کرتے_ قریش کو درے میں داخل ہونے سے روکتے اور اس اجتماع کے شرکاء کو وہاں سے کھسک جانے کا موقع دیتے_(۱) چنانچہ جب قریش اس کے بعد درے میں داخل ہوئے تو وہاں کسی کو نہ پایا_ نتیجتاً وہ عبداللہ بن ابی کے پاس شکایت لے گئے لیکن اس نے انکار کیا_ پس اگر ان دونوں کی وہ کارکردگی نہ ہوتی تو حالات کوئی اور شکل اختیار کرلیتے اور مسلمان ایک نہایت خطرناک مصیبت میں پھنس جاتے_

عجیب بات یہ ہے کہ ہم بعض ایسی روایات بھی دیکھتے ہیں جن میں حضرت علیعليه‌السلام نیز اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر یعنی حمزہعليه‌السلام کی موجودگی کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ یہی روایات قریش کے اکٹھے ہونے اور ان کے مشتعل ہونے کا تذکرہ کرتی ہیں لیکن درے کی طرف قریش کی یورش اور حضرت حمزہعليه‌السلام و حضرت علیعليه‌السلام کی طرف سے مدافعت کے بارے میں خاموش ہیں_ یہ روایات قریش کی طرف سے عبداللہ بن ابی سے ملاقات، مسلمانوں کے تعاقب اور سعد بن عبادہ کی گرفتاری نیز مذکورہ واقعے کے آخر تک نقل کرنے پرہی اکتفا کرتی ہیں_

یہ لوگ اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ وہ قریش جنہیں شرکاء اجتماع کے جانے کے بعدجب اس اجتماع کا علم ہوا تھا تو انہوں نے مشتعل ہوکر عبداللہ بن ابی سے ملاقات کی اور اس نے انکار کیا پھر جب حاجیوں کے جانے کے بعد قریش کو اس واقعے کا یقین ہوگیا تو انہوں نے مسلمانوں کا پیچھا کر کے ان کو پالیا اورسعد بن عبادہ کو اذیتیں دیں تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس جائے اجتماع پر دھاوا بولنے اور انصار کو نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے سے چشم پوشی کرتے ،کیونکہ اس اقدام سے قریش کو اپنی عذر خواہی کیلئے ایک اچھا بہانہ مل سکتا تھا_ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قریش یہاں توخاموشی اختیار کرلیں لیکن وہاں غیظ و غضب اورسخت گیری کا مظاہرہ کریں_

بہرحال ہم اس ٹولے کے ہاتھوں معمولی دنیوی مفادات کی خاطر حق اور دین کے خلاف اس قسم کی بہت

___________________

۱_ بعض حضرات یہ احتمال دیتے ہیں کہ سارے قریش نہیں بلکہ ان کے معدودے سر پھروں نے گھاٹی میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور حضرت حمزہعليه‌السلام و حضرت علیعليه‌السلام نے ان کا راستہ روکا تھا لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ سارے قریشی جمع ہوئے ہوں لیکن حضرت حمزہعليه‌السلام اور حضرت علیعليه‌السلام نے مسلمانوں کے چلے جانے تک ان کا راستہ روکے رکھا ہو_

۲۵۹

ساری خیانتوں کا مشاہدہ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں_ یہ ضرب المثل کس قدر سچی ہے کہ ''لامر ما جدع قصیر انفہ'' (قصیر نامی شخص نے کسی کام کے واسطے اپنی ہی ناک کاٹ دی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ حصول غرض کی خاطر ہرقسم کا وسیلہ استعمال کرتے ہیں)_

ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ فقط دو افراد کا قریش کے مقابلے میں کھڑے ہوکر ان کو پیچھے ہٹا دینا کیسے ممکن ہے؟ جبکہ ان کا غیظ و غصب نقطہ عروج پر تھا_

اس کا جواب یہ ہے کہ قریش کی سازش کا جواب دینے کیلئے ایک شخص بھی کافی تھا_ وہ اس طرح کہ ایک یا دو آدمی درے کے دھانے پر کھڑے ہوجاتے (جہاں سے فقط چند افراد یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کا گزرنا ہی ممکن تھا) یوں پہلی ٹولی کو پسپا کر کے باقیوں کو بھی پیچھے ہٹایا جاسکتا تھا چنانچہ عمرو بن عبدود (جو حضرت علیعليه‌السلام کے ہاتھوں قتل ہوا) کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ہزار شہسواروں کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی تھا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے درے کے دھانے پر کھڑے ہوکر ہزار سواروں کو اس میں داخل ہونے سے روکا تھا کیونکہ جگہ کی تنگی کے باعث ہزار آدمی ایک ساتھ داخل نہیں ہوسکتے تھے_

ملاقات کو خفیہ رکھنے کی وجہ

اس ملاقات کو خفیہ رکھنے پر خاص توجہ دی گئی یہاں تک کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ کاروانوں میں سوئے ہوئے تھے ان کو بھی کوئی بھنک نہ پڑسکی اور انہیں اپنے ساتھیوں کی عدم موجودگی کا احساس بھی نہ ہوا_ یہی حال اس اجتماع کے وقت، مقام اور طریقہ کار کا بھی تھا_ حالانکہ یہ ایک نسبتاً بڑا اجتماع تھا اور یہ باتیں ان مسلمانوں کی آگاہی، بیداری اور حسن تدبیر کی عمدہ مثال اور مضبوط دلیل ہیں_

علاوہ برایں یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب مسلمان ظالم اور جابر طاقتوں کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اس وقت مخفیانہ طرز عمل اپنانا شکست اور پسپائی نہیں_یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تقیہ (جس کے معتقد شیعہ اور اہلبیت معصومینصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور جس کا قرآن نے حکم دیا ہے نیز جو

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417