الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209972 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

فطرت اور عقل سلیم کا بھی تقاضا ہے) ہی حالات کے مقابلے میں آگاہانہ اور لچک دار روش اپنا نے کا صحیح طریقہ کارہے_ یہ اس صورت میں ہے کہ جب اہل باطل مادی طور پرطاقتورہوں اور اہل حق اپنا دفاع کرنے پر قادر نہ ہوں_

بیعت کی شرائط

یہاں ہم اس بات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے انہیں اسلام کی تبلیغ اور حفاظت کی راہ میں آئندہ پیش آنے والی مشکلات اور سختیوں کے بارے میں خبردار کیا تاکہ وہ لوگ شروع سے ہی آگاہ رہیں اور بغیر کسی ابہام یا شک کے آگاہی و بیداری کے ساتھ اقدام کریں تاکہ کل ان کیلئے اس قسم کے بہانے کی کوئی گنجائشے نہ رہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کے حالات اس قدر سنگین صورت اختیار کرجائیں گے_

حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کے وہم و گمان سے مکمل طور پر اس بات کونکال باہر کرنا چاہتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا نخواستہ ان کے ساتھ کوئی دھوکہ کیا ہو_ نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان میں سے ہر ایک کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سبز باغ دکھا کر کسی کو بھی پھنسانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی خوبصورت خوابوں اور امیدوں کی خیالی دنیا میں بسانا چاہتے ہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک وسیلہ ہدف کا ہی ایک حصہ تھااگرچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی مدد کے سخت محتاج تھے بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو اپنی دعوت کے پورے عرصے میں ان لوگوں کے سوا کسی قوم کو اپنا حامی نہیں پایا تھا_

نقیبوں کی کیا ضرورت تھی؟

وعدے اور عہد کی پابندی عربوں کی طبیعت میں شامل تھی ہر قبیلہ اپنے کسی فرد یا حلیف کے عہد وپیمان کو پورا کرنے کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا تھا_

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے ایمان لانے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرنے پر بیعت لی (جیساکہ بیان ہوچکا ہے) تو آپ نے ایک محدود پیمانے پر ان کو (اس بیعت کا) پابند بنانے کا ارادہ فرمایا

۲۶۱

تاکہ مستقبل میں کچھ ایسے ذمہ دار افراد موجود ہوں جن سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس عہد و پیمان کو پورا کرنے کا مطالبہ کرسکیں_ ان وعدوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری انہی نقیبوں پر آتی تھی اور انہی سے مذکورہ مطالبہ کیا جاسکتا تھا_ کیونکہ یہی لوگ اپنی اور اپنی قوم کی مرضی سے ان کے ضامن بنے تھے_

لیکن اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ان امور کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے تو ممکن تھا کہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں سے جان چھڑاتا اور نتائج کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو ان سے بری سمجھتا اور یہ خیال کرتا کہ انفرادی حیثیت سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی_

لیکن جب بعض افراد ضامن بن گئے (جن کا تعلق مختلف قبائل سے تھا) تو ذمہ داریوں کا دائرہ بھی معین اور مشخص ہوگیا اور یہ بات ممکن ہوگئی کہ ضرورت کے موقع پر بالخصوص جنگ یا دفاع کی صورت میں ان سے عہد کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکے_

یوں اس مسئلے کو لوگوں کی انفرادی خواہشات بلکہ اس سے بھی اہم مسئلہ یعنی اجتماعی مسائل میں افراتفری اور بے نظمی سے نجات مل گئی_ یوں انفرادی و اجتماعی سطح پر معاشرے کو بنانے اور منظم کرنے کا مرحلہ شروع ہوا_

مشرکین کا ردعمل

ہم یہاں مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین نے عقبہ کی دوسری بیعت کے مسئلے کو زبردست اہمیت دی_ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ والوں کو داخلی کمزوری اور اوس اور خزرج کے درمیان خانہ جنگیوں کے باعث پیدا شدہ خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں جنگ کی دھمکی دی_

جی ہاں قریش نے ان کو جنگ کی دھمکی دی حالانکہ اس قسم کی جنگ ان کیلئے زبردست اقتصادی نقصانات کا باعث بنتی کیونکہ شام (جو قریش کیلئے بہترین تجارتی منڈی تھا) کی طرف ان کے تجارتی قافلے مدینہ کے راستے سے گزرتے تھے_ اس کا مطلب یہ تھا کہ مشرکین کو اس بیعت سے زبردست خطرہ لاحق ہوگیا تھا جس

۲۶۲

کے باعث وہ دعوت اسلامی کو قبول کرنے اور اس کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ اپنے دوستانہ روابط کو بھی قربان کرنے پر مجبور ہوچکے تھے اگرچہ وہ اہل مدینہ ہی کیوں نہ ہوں جن کے ساتھ جنگ سے وہ زبردست کتراتے تھے_ چنانچہ عبداللہ بن ابی سے اس سلسلے میں ان کی گفتگو کا ذکر پہلے ہوچکا ہے_ یہاں سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ مکہ ہیں رہنے والے مسلمان ظلم و ستم کی چکی میں کس طرح پس رہے تھے_

خلافت کے اہل افراد کی مخالفت

جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بیعت کے متن میں اہل مدینہ کیلئے جو شرائط رکھی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ مدینہ والے مسئلہ خلافت میں اس کے اہل سے نزاع نہیں کریں گے_

بیعت کے متن میں اس شرط کا رکھنا فتح و شکست کے نقطہ نظر سے اسلام کیلئے تقدیر ساز تھا اور اس شرط کو نبھانے سے انکار کی صورت میں پوری بیعت سے نکل جانے کا خطرہ تھا چنانچہ بنی عامر کے مسئلے میں یہی ہوا تھا (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے)_ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی نظر میں(جن کا نظریہ اسلام کے حقیقی نظریات کاترجمان تھا)، نہایت اہمیت کا حامل تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بارے میں کسی قسم کی رو رعایت کیلئے ہرگز آمادہ نہ تھے اگرچہ عظیم ترین خطرات سے دوچار ہی کیوں نہ ہوں_ بالفاظ دیگر مسئلہ خلافت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اختیار میں نہ تھا بلکہ خدا کے اختیار میں تھا تاکہ جسے مناسب سمجھتا خلافت سے سرفراز کرتا_ یہ وہ امر تھا جس کو پہنچائے بغیر تبلیغ رسالت بے معنی ہوکررہ جاتی_

اس کے علاوہ ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابتدا سے ہی ایک خاص اور معینہ ہدف کیلئے راستہ ہموار کررہے تھے وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک طرف سے تو لوگوں کو حکومت و خلافت کے مستحق معینہ افراد سے نزاع نہ کرنے کا حکم دیں لیکن دوسری طرف سے اس مخصوص خلیفہ کی نشاندہی بھول جائیں_

یہاں اس واقعے کی کڑی کوپہلے ذکر شدہ دعوت ذوالعشیرہ، (جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب الہی سے ڈراتے وقت مذکورہ شخص کی نشاندہی کی تھی) کے واقعے سے ملانااور پھر اس واقعے کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

۲۶۳

کی ان پالیسیوں، بیانات اور اشارات خصوصاً غدیر کے واقعہ کے ساتھ جوڑنا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا ذکر بعد میں ہوگا_

ابھی تک جنگ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا

ایک اور نکتہ کی طرف بھی توجہ ضرور رہے وہ یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عقبہ میں جمع ہونے والوں کو تلواروں کے ساتھ قریش کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس اقدام کا مطلب اس دین اور اس کے مومن طرف داروں کا خاتمہ تھا_ خصوصاً ان کی قلت اور ایام حج کے پیش نظر جب لوگ ہر طرف سے مکہ میں جمع ہوئے تھے اور وہ سب قریش کے طریقہ و مسلک و مزاج پرتھے نیز دینی، نظریاتی اور فکری نقطہ نظر سے قریش کے تابع تھے_ یہاں تک کہ ان کے مفادات بھی قریش سے وابستہ تھے_ ان حالات میں انصار کیلئے اپنے دشمنوں پر خود ان کے علاقے میں فتح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہ تھا_

قریش کی نظر میں مدینہ کی بڑی اہمیت تھی خاص کر اس لحاظ سے کہ مدینہ شام کی طرف جانے والے قریش کے تجارتی قافلوں کی اہم گزرگاہ تھی_ اسی وجہ سے انہوں نے سعد بن عبادہ کو رہا کیا تھا لیکن یہی قریش انصارکے اس موقف پر خاموش نہ رہ سکتے تھے یوں قریش کے سامنے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہتا کہ تمام حاجیوں حتی مدینہ کے مشرکین کی موجودگی میں انصار پرفیصلہ کن اور مہلک وار کرتے کیونکہ جنگ کرنے کی صورت میں انصار متجاوز محسوب ہوتے اور قریش کیلئے اپنی صوابدید کے مطابق مناسب کیفیت اور کمیت کے ساتھ اس تجاوز کا مقابلہ کرنا ضروری ہوتا_

۲۶۴

پانچواں باب

مکہ سے مدینہ تک

پہلی فصل : ہجرت مدینہ کا آ غاز

دوسری فصل : ہجرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

تیسری فصل : قبا کی جانب

چوتھی فصل : مدینہ تک

۲۶۵

پہلی فصل

ہجرت مدینہ کا آغاز

۲۶۶

وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے _

آئمہ معصومینعليه‌السلام سے منقول ہے کہ ''حب الوطن من الایمان''(۱) یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے_ پہلی نظر میں اس جملے کا کوئی درست اور قابل قبول مفہوم بنتا نظر نہیں آتا کیونکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کیونکر ایمان کا حصہ قرارپائے؟ کیا اس خاک کو جس پر انسان کی ولادت ہوئی اور جس کی فضاؤں میں اس نے زندگی گزاری ہے صرف خاک ہونے کے ناطے اس قدر اہمیت اور احترام حاصل ہے کہ اس کی محبت ایمان کا حصہ قرار پائے؟ خواہ جغرافیائی طور پر اس کی حالت کتنی ہی بدتر کیوں نہ ہو؟ کیا اس محبت کے فقدان کی صورت میں انسان کا ایمان ناقص اور مطلوبہ اثرات سے عاری ہوگا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہمیں یہ نکتہ ملحوظ خاطر رکھناہوگا کہ اسلام کی نظر میں اہمیت کی حامل اس محبت سے مراد ایسی اندھی محبت نہیں ہوسکتی جس کا کوئی مقصد یا فائدہ نہ ہو یا اسلام کی مخالف سمت میں ہو بلکہ اس سے مراد ایسی محبت ہے جو اسلام کے عظیم اہداف سے ہم آہنگ ہو_ نیز حقیقی ایمان اور دینی بنیادوں پر استوار ہو_ اس قسم کی محبت ہی ایمان کا حصہ ہوسکتی ہے_

علاوہ براین وطن (جس کی محبت کو ایمان قرار دیا جارہا ہے) سے مراد وہ جگہ بھی نہیں جہاں انسان کی پیدائشے واقع ہو بلکہ اس سے مراد وہ عظیم اسلامی وطن ہے جس کی حفاظت دین اور انسانیت کی حفاظت شمار ہوتی ہو کیونکہ یہ دین کی تقویت اور اعلاء کلمة اللہ کا باعث ہے_

نیز یہی وطن اسلام کی طاقت کا مرکز ہے کیونکہ وہ امن و سکون کی آماجگاہ، نیز فکری و روحانی اور مادی

___________________

۱_ سفینة البحار ج ۲ ص ۶۶۸_

۲۶۷

تربیت گاہ ہے اور پھر یہیں سے بہتر اور مثالی مراحل کی طرف انتقال کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن اس وطن سے دوری اور استقلال اورسکون کے فقدان کی صورت میں (تعمیری) قوتیں ضائع ہوجاتی ہیں کیونکہ وہاں انسان کو اپنی حقیقت اور اپنے مستقبل کے بارے میں غوروفکر کی فرصت ہی نہیں ملتی اور اگر اس کا موقع مل بھی جائے تو مرکزیت جو منظم اور ٹھوس پیشرفت نیز استحکام اور عمل پیہم کا موقع فراہم کرتی ہے، کے فقدان کے باعث وہ اپنے فیصلوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا_

خلاصہ یہ کہ وطن، دین اور حق کے دفاع نیز برگزیدہ وبلند اہداف تکے پہنچنے کا وسیلہ ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ بنابریں اصل چیز دین اور انسان ہیں _رہا وطن اوردیگر چیزیں توان کو دین وانسانیت کی خدمت کا وسیلہ سمجھنا چاہیئے_

پس جو شخص اسلام کی حفاظت یا اس سے محبت کے پیش نظر اپنے وطن کی محافظت یا اس سے محبت کرتا ہے اسے ایمان کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے_

لیکن اگر وطن شرک وکفر وانحراف اور انحطاط انسانیت کی سر زمین ہو تو اس قسم کے وطن کی حفاظت یا اس سے محبت درحقیقت شرک کی تقویت اور حفاطت ہوگی_ اور اس محبت کا تعلق کفر وشرک سے ہوگا نہ کہ ایمان اور اسلام سے_

اس لئے قرآن اور اسلام نے ان لوگوں کو جو بلاد شرک میں رہتے ہوں (اوران کا وہاں رہنا دین وایمان کی کمزوری کا باعث ہو) حکم دیا کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے بلاد ایمان واسلام کی طرف چلے جائیں جہاں وہ اپنے دین نیز تخلیقی صلاحتیوں سے مالا مال عظیم انسانیت کی خاطرخواہ اور مؤثر حفاظت کرسکیں_ ارشاد الہی ہے( ان الذین توفاهم الملائکة ظالمی انفسهم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض الله واسعة فتهاجروا فیها فا ولئک ما واهم جهنم وسائت مصیرا ) (۱)

___________________

۱_ سورہ نساء آیت ۹۷ _

۲۶۸

یعنی فرشتے جن لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اوران سے پوچھتے ہیں تم کس حال میں تھے، وہ کہیں گے ہم زمین میں کمزور اور مجبور تھے_ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی تاکہ تم اس میں ہجرت کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے_

بلکہ اگرکسی انسان کا وطن جہاں وہ پیداہوا ہو دین حق کے مقابلے پر اور نور الہی کو بجھانے کی کوشش میں ہو تو اس کو برباد کرنا ہر ایک کے اوپر لازم ہے_ یہاں تک کہ خود اس شخص پر بھی، جس کی وہاں ولادت ہوئی ہو اور زندگی گزری ہو_(۱)

بنابریں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور اصحاب کی مکہ سے مدینہ کو ہجرت فطرت انسانی، عقل سلیم اور صحیح طرزفکر کے تقاضوں کے عین مطابق تھی_ کیونکہ صحیح فکر کے سامنے اچھے اور بلند اہداف ہوتے ہیں نیز اس کی نظر میں ہر چیز کی قدر وقیمت اتنی ہی ہوتی ہے جس قدر ان اہداف کے ساتھ سازگار اور ان تک رسائی میں مددگار ثابت ہو_

آیئےب ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ کی طرف ہجرت کن حالات میں، کن اسباب کی بناپر، اور کس طرح ہوئی؟

ہجرت مدینہ کے اسباب

مکہ سے مدینہ ہجرت کے اسباب بیان کرتے ہوئے ہم درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں:

۱_ مکہ دعوت اسلامی کیلئے مناسب جگہ نہ تھی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے مکے میں کامیابی کی جتنی گنجائشے تھی وہ حاصل ہو چکی تھی اور اب اس بات کی امید نہیں تھی کہ مزید لوگ کم ازکم مستقبل قریب میں، اس نئے دین کو اپنائیں گے_

___________________

۱_ علامہ محقق شیخ علی احمدی کا خیال ہے کہ معصومین کے قول ''حب الوطن من الایمان'' کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اپنے وطن سے محبت ہو وہ اس وطن کو انحرافات سے نجات دینے، اس کی مشکلات کو دور کرنے اور وہاں کے معاشرے کو حق و ایمان اور اسلام کی طرف رہنمائی کرنے کیلئے کوشاں ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے_

۲۶۹

جب تک لوگوں کے قبول اسلام کے باعث اس کی تقویت واعانت کی امید تھی مصائب ومشکلات کو برداشت کرنے کی معقول وجہ موجود تھی_لیکن اب مکہ اپنا سب کچھ دے چکا تھا_

مومن جوانوں اور مستضعفین کی کافی تعداد اسلام قبول کرچکی تھی_ لہذا اب مکہ میں وہی لوگ رہ گئے تھے جو اطاعت خدا کیلئے سد راہ تھے_ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے اور اس کے پھیلاؤ کو روک رہے تھے_ ان حالات میں مزید وہاں ٹھہرنا نہ صرف بے دلیل ہوتا بلکہ اسلامی دعوت کے ساتھ خیانت اور اس کے خلاف جنگ میں مدد اور اس کی شکست کا باعث ہوتا_ خاص کر ان حالات میں جبکہ قریش راہ خدا سے لوگوں کو روکنے اور نور الہی کو بجھانے کیلئے اپنی قوتوں کو مجتمع کر رہے تھے حالانکہ خدا کو بس یہ منظور تھا کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے اگرچہ مشرکین کو یہ بات نا پسند ہو_

جی ہاں اب یہ بات ناگزیر ہوگئی تھی کہ ایک نئے مرکز کی طرف منتقل ہواجائے، جہاں سکون واطمینان کے ساتھ مشرکین کے دباؤ اور ان کے زیر تسلط اور زیر اثر علاقوں سے دور رہ کر زبانی اور عملی طور پر آزادی کے ساتھ تبلیغ دین کرنے کی ضمانت فراہم ہو_

ادھر ہم مشاہدہ کرچکے ہیں کہ مشرکین رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے_ وہ مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے بلکہ اس نئے دین میں داخل ہونے والے ہر شخص کو سزائیں دیتے اور جن لوگوں کے مسلمان ہونے کا خطرہ ہوتا انہیں ڈراتے تھے_

۲_اسلام اور اس کے داعی اور نمائندہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے کسی محدود کامیابی پر اکتفا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ اسلام پوری انسانیت کا دین تھا، ارشاد الہی ہے( وما ارسلناک الا کافة للناس ) (۱) ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تمام انسانوں کیلئے (بشیر ونذیر بناکر) بھیجا ہے _

واضح ہے کہ اب تک جو کامیابیاں نصیب ہو چکی تھیں وہ اسلام کی تعلیمات کو عملًا نافذ کرنے اور اس کے سارے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ناکافی تھیں خصوصاً لوگوں کے معاشرتی واجتماعی مسائل وغیرہ کے حل

___________________

۱_ سورہ سبا آیت ۲۸ _

۲۷۰

سے متعلق پہلوؤں کے نقطہ نظرسے کہ (قانون اور نظام کی موجودگی میں)جن کو نافذ کرنے کیلئے طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے_

ادھر بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ذات کو تو دشمنوں کے شرسے بچانے کی ضمانت دے سکتے تھے لیکن وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب اور اس نئے آسمانی دین میں داخل ہونے والوں کی حفاظت کے ضامن نہیں بن سکتے تھے ،خاص کراس صورت میں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بوقت ضرورت اسلامی تعلیمات کے فروغ کو ان پر ضروری قرار دینے کی کوشش فرماتے_ کیونکہ اس صورت میں تو وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی معمولی سی حمایت بھی نہ کرپاتے_

حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے بعد تو حالات نے خودرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خلاف بھی خوفناک شکل اختیار کرلی تھی جیساکہ ہم ملاحظہ کرچکے اورآئندہ بھی ملاحظہ کریں گے_

۳_دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے مسلمان سالہاسال سے آزار اور مظالم کو سہتے چلے آرہے تھے یہاں تک کہ کچھ مسلمان اپنے دین کی حفاطت کے پیش نظر مکہ سے بھاگ کر دوسرے علاقوں میں چلے گئے

جو مسلمان مکہ میں باقی رہے قریش ان کو گمراہ کرنے کیلئے ظلم و زبردستی اور دھوکہ و فریب کے مختلف حربے استعمال کرتے رہے اور یہ مسلمان ان کا سامنا کرتے رہے_

اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر (حمزہعليه‌السلام ) نیز بعض دوسرے معدود مسلمانوں ( جنہیں اپنے قبیلوں کی حمایت حاصل تھی)(۱) کے علاوہ باقی مسلمان غالباًغریب اور بے چارے لوگ تھے جن کیلئے سختیوں پر صبر وتحمل کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا _اگر یہ لوگ آلام و مشکلات کا یونہی سامنا کرتے رہتے اور امیدکی کوئی کرن بھی نظر نہ آتی تو پھر خواہ ان کا ایمان کتنا ہی قوی کیوں نہ ہوتا، فطری بات تھی کہ ان حالات میں وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے، اس قسم کی زندگی سے اکتا جاتے اور زودگزر خواہشات ان پر غلبہ پا لیتیںیوں وہ خود بھی ہلاک ہوجاتے اور

___________________

۱_ حتی کہ یہ لوگ بھی نفسیاتی اور روحانی کرب و آزار نیز تلخ اجتماعی منافرت سے محفوظ نہ تھے بسا اوقات یہ حالت بعض مسلمانوں کیلئے (شعور و آگاہی اور تیزبینی میں دوسروں سے ممتاز ہونے کی وجہ سے) جسمانی ایذا رسانی سے بھی سخت بات تھی_

۲۷۱

دوسروں کو بھی ہلاک کرتے، کیونکہ مصائب و مشکلات کے ساتھ پوری زندگی گزارنا ان کے بس کی بات نہ تھی چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب جنگ احد میں یہ افواہ پھیلی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا شہید ہوچکے ہیں تو بعض لوگ دوبارہ مشرک ہوجانے کی سوچنے لگے اور مشرکین کے ساتھ صلح کا راستہ، ڈھونڈنے لگے_ اس بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی_

( وما محمد الا رسول قدخلت من قبله الرسل ا فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب منکم علی عقبیه فلن یضرالله شیئا، وسیجزی الله الشاکرین )

یعنی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو بس اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ان سے پہلے بھی متعدد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گزرچکے ہیں توکیا اگران کی موت واقع ہو یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پاؤں پھرجاؤگے؟ یاد رکھوتم میں سے جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا_البتہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو جزائے خیر دے گا_(۱)

۴_قریش آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کی ایک ایسی راہ موجود ہے جس میں بنی ہاشم کے سامنے ان پر کوئی واضح ذمہ داری عائدنہیں ہوگی بالفاظ دیگر بنی ہاشم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا مطالبہ نہ کرسکیں گے کیونکہ ان کے منصوبے کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دس آدمی ملکر قتل کرتے جن کا تعلق مختلف قبائل سے ہوتا_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاخون بہت سے قبائل کے درمیان تقسیم ہوجاتا کیونکہ بنی ہاشم ان سب کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے_ اگر بنی ہاشم ان سب سے لڑتے تو خود مصیبت میں پھنس جاتے_ لیکن اگر دیہ (یا خون بہا) قبول کرلیتے تو یہ قریش کیلئے اور بھی اچھا ہوتا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قتل ہوجاتے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروکاروں کو ختم کرنا بہت آسان ہوجاتا اور قریش کو کوئی خاص پریشانی پیش نہ آتی بلکہ اگر مسلمانوں کو یونہی چھوڑ دیتے تب بھی وہ خود بخود ختم ہوجاتے_

یہ تھا قریش کا خیال اور منصوبہ، یاد رہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اگرچہ خدا کا لطف و کرم تھا اور اس کی توجہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرتھی لیکن بدیہی بات ہے کہ اگر قریش اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے تو خواہ ان کو

___________________

۱_ سورہ آل عمران آیت ۱۴۴ _

۲۷۲

کامیابی ہوتی یا ناکامی نتیجتاً بنی ہاشم اور قریش کے روابط نہایت کشیدہ ہوجاتے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مکہ میں رہنے کی صورت میں حالات بدترہوجاتے_ ادھر خدا کا قانون یہ رہا ہے کہ وہ کسی شخص کو اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے جبری طور پر نہیں روکتا_ ہاں جب دین اور انسانیت کی حفاظت کیلئے نبی کی حفاظت ضروری ہو تو اس صورت میں اللہ کی عنایات نبی کے شامل حال ہوتی ہیں اور دشمن اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے عاجز رہتے ہیں_

خلاصہ یہ کہ ان حالات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کیلئے مکہ سے نکل کر کسی ایسے پرامن مقام کی طرف جانا ضروری ہوگیا تھا جہاں وہ زیادہ بہتراور جامع صورت میں اپنی دعوت کو پھیلانے اور اپنے مشن کو لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کرسکتے_

مدینہ کے انتخاب کی وجہ

رہا یہ سوال کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے دوسرے مقامات مثلاً حبشہ وغیرہ کو چھوڑ کر مدینہ کو کس بنا پر اپنی ہجرت اور اپنی دعوت کا مرکز منتخب کیا؟

اس سوال کے جواب میں کئی ایک اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے _یہاں ان میں سے درج ذیل کا تذکرہ کرتے ہیں:

۱_مکے کو لوگوں کے ہاں ایک خاص روحانی مقام حاصل تھا _بنابریں مکے پر تسلط حاصل ہوئے بغیر، نیز بت پرستوں کے اثر ونفوذ کوختم کر کے اس کی جگہ اسلام کی قوت کو جاگزین کئے بغیر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کامیابی سے ہمکنار نہ ہوتی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام کوششیں رائیگاں جاتیں_ کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کو مکے کی اسی قدر ضرورت تھی جس قدر مکے کو اس دعوت کی_

اسلئے مکے سے قریب ہی ایسے مقام کا انتخاب ضروری تھا جہاں سے بوقت ضرورت مکے پر اقتصادی وسیاسی بلکہ فوجی دباؤ بھی ڈالاجاسکتا ہو کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکے پر تسلط حاصل کرنے کی ضرورت تھی_

۲۷۳

ادھرمدینہ ہی وہ مناسب جگہ تھی جہاں اس مطلوبہ دباؤ کے سارے لوازمات موجود تھے_ مدینہ اہل مکہ کو اقتصادی بحران میں مبتلا کرسکتا تھا_کیونکہ مدینہ مکہ کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ تھا، اور قریش کا گزارہ بھی بنیادی طور پرتجارت پرہی تھا_

چنانچہ پہلے بیان ہوچکا کہ مشرکین قریش نے بیعت عقبہ کے وقت عبداللہ بن ابی سے کہا تھا ''ہماری ناپسندیدہ ترین جنگ جو چھڑ سکتی ہے وہ تم لوگوں سے ہی ہے''_

نیز اس بات کا بھی تذکرہ ہوچکا ہے کہ جب قریش نے بیعت عقبہ کے بعد سعد بن عبادہ کو پکڑکر سزادی تو حارث بن حرب اور جبیر ابن مطعم نے آکر نجات دی_ کیونکہ وہ ان کے مال تجارت کی حفاظت کرتا تھا_

واضح ہے کہ جب اکیلے حضرت ابوذر کے ہاتھوں قریش کی جو شامت آئی سوآئی تو پھر اہل مدینہ کی طرف سے مستقبل میں ان کی جو شامت آتی وہ زیادہ شدید اور دور رس اثرات کی حامل ہوتی_

۲_ان بیانات کی روشنی میں ہم پر واضح ہوا کہ مدینے کی طرف ہجرت کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا کیونکہ اگر طائف کی طرف ہجرت کی جاتی تو کوئی فائدہ نہ ہوتا چنانچہ ہم دیکھ چکے کہ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں ہجرت کی تواہل طائف نے منفی جواب دیا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل طائف کے خیال میں مکہ والے ان پر اقتصادی دباؤ ڈال سکتے تھے اور مکہ والوں کو ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی جس قدر انہیں اہل مکہ کی_ نیز آئندہ (کم از کم مستقبل قریب میں) ان کیلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سیاسی طور پر اہل مکہ کی متابعت کرتے اور ان کے زیر تسلط رہتے_ رہے عرب کے دیگر قبائل تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آزما چکے تھے کہ وہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت قبول کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کیلئے آمادہ نہ تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں اگرنقصان دہ نہیں پایا تھا تو کم از کم اس نتیجے پر ضرور پہنچے تھے کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کسی کام نہیں آسکتے_

ادھر یمن، فارس، روم اور شام کے علاقوں پر نظر کریں تو وہ ان دو بڑی سلطنتوں کے آگے سر تسلیم خم تھے جن سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کو سوائے مشکلات اور عظیم خطرات کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا_

ہم نے اس کتاب کے باب اول کے اواخر میں اسلام کی اشاعت اور کامیابی کے اسباب کا ذکر کرتے

۲۷۴

ہوئے اس سلسلے میں کچھ بحث کی تھی_ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کسری کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے اپنا ایلچی بھیجا تھا تو اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے خلاف ایک خطرناک کاروائی کرنے کی کوشش کی تھی_ رہی حبشہ کی بات توواضح ہے کہ حبشہ ایسا ملک نہیں تھا جو اقتصادی، سیاسی اور عسکری نقطہ نظر سے (بلکہ فکری وسماجی حوالے سے بھی) ایک عالمگیر اور جامع انقلاب کی قیادت کرسکتا_

لہذا صرف اور صرف مدینہ ہی باقی رہ جاتا تھا_ چنانچہ ہجرت کیلئے اسی سر زمین کا انتخاب ہوا_

۳_مذکورہ اسباب کے علاوہ مدینہ زرعی نقطہ نظر سے مکے کی نسبت زیادہ خود کفیل تھا_ بالفاظ دیگر اگر ان کو کسی قسم کے تجارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا (اگرچہ مکہ والے ایسا نہیں کرسکتے تھے) تو وہ اغیار کی خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کئے بغیر اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا گزارہ کر سکتے تھے اگرچہ بمشکل ہی سہی_

زرعی پہلو کے علاوہ دیگر پہلوؤں سے بھی مدینے کو ترجیح حاصل تھی_ نیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی دعوت کیلئے وسیع فعالیت اور ہمہ گیر جد وجہد کی ضرورت تھی کیونکہ یہ عالمی سطح پر ایک جامع انقلاب کی قیادت کرنے والی تھی_ علاوہ بریں اس دعوت کو داخلی طور پر اقتصادی استحکام کی ضرورت تھی تاکہ اس کی بدولت اس دعوت کے علمبرداروں کو اپنے دین کی اشاعت اور اپنے مشن کے پھیلاؤ کی جدوجہد کا موقع میسر ہوسکتا_

۴_چونکہ حج اسلام کے اہم ترین احکام میں سے ایک تھا بنابریں جب تک مکے پر بت پرستوں کا تسلط رہتا حج کی افادیت جاتی رہتی_ نیز عرب قبائل کے درمیان قریش کا وسیع اثر ونفوذ باقی رہتااوران قبائل کے دلوں میں مشرکین مکہ کو ایک قسم کا تقدس بھی حاصل رہتا_ بنابریں مکے کوان کے ہاتھوں سے چھڑانا ضروری تھا تاکہ لوگوں کے نزدیک ان کو جو روحانی مقام حاصل تھا اس کاخاتمہ ہوجاتا اور اس نئے دین کیلئے لوگوں کے دلوں کے دروازے پوری طرح کھل جاتے اورمسلمان کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل آزادی کے ساتھ اس عظیم دینی فریضے کو ادا کرسکتے_

اس بات کی دلیل طبرانی وغیرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ذی الجوشن ضبابی کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے اس وقت تک اسلام کو قبول کرنے سے انکار کیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے کعبے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا

۲۷۵

غلبہ نہ دیکھ لے_ ایک اور روایت میں مرقوم ہے کہ اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا:''میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جھٹلایا اور نکال باہر کیا نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مقابلہ کیا_ اب میں دیکھتا ہوں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا کرتے ہیں_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان پر فتح حاصل ہوئی تو میں مسلمان ہوجاؤں گا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کروں گا، لیکن اگر انہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرغلبہ حاصل ہوا تو پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت نہیں کرونگا''_(۱)

علاوہ ازیں مکہ سے قریب ترین اور مناسب جگہ مدینہ تھی_ مدینہ اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی افرادی قوت کابھی حامل تھا_ اورمکے والوں کے خلاف اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دینے پر قادر تھا_ مکے کے قریبی علاقوں میں سے مدینے کے علاوہ کوئی بھی علاقہ ان خصوصیات کا حامل نہ تھا_

۵_گذشتہ معروضات کے علاوہ مدینہ والے اصل میں یمن کے تارکین وطن تھے اور یمن قدیم زمانے کی ابتدائی تہذیب وتمدن کاکچھ حد تک حامل رہا تھا_ بنابریں وہ عرب نہیں تھے کہ ان کے دل قساوت سے لبریز ہوتے_ نیز قریش کی طرح اس علاقے میں ان کیلئے اقتدار یابڑے مفادات کا مسئلہ بھی در پیش نہ تھا_ نہ ہی وہ کسی خاص قسم کے نفسیاتی ماحول میں زندگی گزارتے تھے جس طرح قریش والے عدنانیوں کے درمیان اپنی خاندانی حیثیت، مکہ کی سرداری اور بیت اللہ کے متولی ہونے کے باعث ایک خاص قسم کے نفسیاتی ماحول میں رہ رہے تھے_

ان باتوں کے ساتھ ساتھ عدنانیوں اور قحطانیوں کے درمیان واضح اختلاف کا مسئلہ بھی تھا_ قحطان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو دشمنوں کے حوالے کرنے کیلئے (دینی یا نظریاتی جذبات سے قطع نظر) آمادہ نہیں ہوسکتے تھے_ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی وفات کے بعد بھی اس اختلاف کے آثار دیکھنے میں آتے ہیں اسی بنا پر حضرت عمرنے بیت المال کی تقسیم میں عدنانیوں کو قحطانیوں پر ترجیح دی_ اس بات نے امویوں کیلئے اس روش سے استفادہ کرنے نیز یمنیوں اور قیسیوں کے درمیان فتنوں کی آگ بھڑکانے کا راستہ ہموار کیا_

___________________

۱_ مجمع الزوائد ج ۲ ص ۶۸ یہاں یوں مذکور ہے، اسے عبداللہ بن احمد اور اس کے والد نے نقل کیا ہے لیکن اس کا متن ذکر نہیں کیا_ طبرانی سے بھی اسے نقل کیا ہے_ (ان دونوں کے راوی بخاری کے راوی ہیں) نیز ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے_

۲۷۶

جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی نظر میں اولاد اسماعیل کو اولاد اسحاق پر کوئی ترجیح حاصل نہ تھی_ (بہرحال یہ اس بحث کا مقام نہیں)_

۶_پھراہل مدینہ نے انحراف وگمراہی کا مزہ نہایت اچھی طرح سے چکھا تھا_ جنگوں نے ان کو تباہ وبرباد کر ڈالا تھا_ وہ مستقل طور پر خوف ودہشت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے_ یہاں تک کہ وہ شب وروز مسلح رہتے تھے اور اپنے بدن سے اسلحوں کوجدا نہ کرتے تھے (جس کا ذکر ہو چکا ہے)_ یہ بھی بیان ہوچکا کہ خزرج والے قریش کو اپنا حلیف بنانے کیلئے مکہ بھی گئے تھے لیکن قریش نے ان کی بات نہ مانی_ اہل مدینہ اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ اس گھٹن کی فضا سے نکلیں_ یہاں تک کہ اسعد بن زرارہ نے اس امر پر اپنے غم وافسوس کا اظہار کیا _چنانچہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے یوں عرض کیا:'' ہمارا تعلق یثرب کے قبیلہ خزرج سے ہے_ ہمارے اور اوسی بھائیوں کے درمیان تعلقات منقطع ہیں_اگر اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ان تعلقات کو بحال کردیتا ہے تو کیا ہی اچھی بات ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ صاحب عزت اور کوئی نہیں ''_ (ان باتوں کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے) _

اس کے علاوہ مدینے میں اسلام کے پہنچنے کے بعد وہاں کے مسلمانوں کی حفاظت اور اعانت ضروری تھی تاکہ اس دین کی حمایت اور اعلاء کلمہ حق کا سلسلہ جاری رکھ سکتے_

۷_آخری نکتہ یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ظہور کا زمانہ قریب ہونے کے بارے میں یہودیوں کی پیش گوئیوں کے باعث سارے لوگ اس دین کو قبول کرنے کیلئے آمادہ تھے_ لیکن ان کو مناسب فرصت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی_ان حالات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا انہیں کیسے نظر انداز کرسکتے تھے_ اور ان کیلئے قبول اسلام کا موقع فراہم کرنے سے کیسے چشم پوشی کرسکتے تھے جبکہ اہل یثرب بیعت عقبہ کر کے خود ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو مدینہ آنے کی دعوت دے رہے تھے_

یہ تھے وہ نکات جن کی طرف فرصت کی کمی کے سبب صرف اشارہ کرناہی ہم نے کافی سمجھا_

۲۷۷

مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کا قیام

چونکہ ہجرت کی وجہ سے مسلمانوں کو بظاہر بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کیلئے اعلی سطح پر ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کی ضرورت تھی بنابریں ہجرت کی تیاری کے طورپر مواخات (بھائی چارے) کا اقدام عمل میں آیا، جس کا مقصد انسانی روابط کو مصلحتوں اور مفادات کی سطح سے بلند کر کے ایک ایسے برادرانہ رابطے کی شکل دینا تھا جو خدا پر ایمان کی بنیادوں پر استوار ہو_

تاکہ اس کی بدولت مسلمانوں کے باہمی تعلقات حقیقت سے قریب تر، منظم تر اور نفسیاتی رجحانات سے دورتر ہوں جو بسااوقات مدد کرنے والے یا مدد لینے والے کے ذہن میں ایسے خیالات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جن سے روابط میں (کم از کم نفسیاتی طور پر) پیچیدگی پیدا ہوتی ہے_

بہرحال رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مہاجرین کے در میان حق اور ہمدری کی بنیادوں پر بھائی چارہ قائم کیا_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے در میان، حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے درمیان حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے د ر میان، حضرت زبیر اور حضرت ابن مسعود کے درمیان حضرت عبادة بن حارث اور حضرت بلال کے درمیان، حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے درمیان، حضرت ابوعبیدہ اور حضرت سالم (غلام ابوحذیفہ) کے درمیان، حضرت سعید بن زید اور حضرت طلحہ کے درمیان اور حضرت علیعليه‌السلام اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا: ''اے علیعليه‌السلام کیا تم نہیں چاہتے کہ میںتمہارا بھائی قرار پاؤں؟'' عرض کیا :''کیوں نہیں اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تو راضی ہوں''_ فرمایا:'' پس تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی''_(۱) (اس دوران عثمان کے حبشہ میں ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جیساکہ ہجرت کے بعد والے مواخات کی بحث میں اس کا تذکرہ ہوگا انشاء اللہ ) _

ہم انشاء اللہ جلدہی بتائیں گے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان

___________________

۱_ سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۲۰ نیز دحلان کی سیرت نبویہ ج ۱ ص ۱۵۵ از استیعاب نیز تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۳، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۴ اور تلخیص مستدرک ذہبی_

۲۷۸

بھائی چارہ قائم کیا تھا_ وہاں ہم حدیث مواخات کے بعض مآخذ کابھی ذکر کریں گے نیز ابن تیمیہ وغیرہ کی طرف سے حدیث مواخات کے انکار اور اس کے جواب کا بھی تذکرہ کریں گے_ اس کے علاوہ حدیث مواخات پراپنی صوا بدید کے مطابق مناسب تبصرہ بھی کریں گے انشاء اللہ _

مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کا آغاز

کہتے ہیں کہ عقبہ کی دوسری بیعت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تین ماہ پہلے ہوئی تھی_ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عقبہ کی پہلی بیعت مدینہ والوں سے لی تو چونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب مشرکین کی ایذاء رسانیوں کے باعث مکہ میں ٹھہرنے اور ان کے مظالم کو برداشت کرنے پر قادر نہ تھے_ بنابریں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا نہیں مدینہ جانے کی اجازت دی_

لیکن خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکے میں ہی حکم خدا کے منتظر رہے_ یوں مسلمان مختلف ٹولیوں کی شکل میں خارج ہوئے_ یہاں تک کہ خدانے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی ہجرت کی اجازت دی (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_

بے مثال نمونہ:

یہاں اس حقیقت کو ملاحظہ کرنا ضروری ہے کہ حقیقی مسلمانوں نے اپنے وطن( جس میں ان کی پرورش ہوئی اور زندگی گزری )اور دنیا کے تمام مال ومتاع (جو انہیں حاصل ہوا) نیز اپنے معاشرتی و خاندانی رشتوں کو انہوں نے کس طرح قربان کردیا اور دین کے بدلے تمام لوگوں (یہاں تک کہ اپنے باپ بھائیوں اور بیٹوں) کے ساتھ دشمنی مول لی_ یوں وہ اپنے ہدف، اپنے دین اور اپنے عقیدے کی راہ میں وطن سے نکلے اور ایسے مستقبل کی طرف بڑھے جس کے بارے میں ان کو علم تھا کہ وہ خطرات اور حادثات سے بھر پور ہوگا_ یہ بے مثال اور حیرت انگیز نمونہ ہمیں ہجرت میں دکھائی دیتا ہے_ خواہ ہجرت مدینہ ہو یا ہجرت حبشہ_

۲۷۹

عمر ابن خطاب کی ہجرت

ایک چیز جس کی طرف یہاں ہماری توجہ مبذول ہوتی ہے وہ حضرت عمر ابن خطاب کے قبول اسلام کی کیفیت سے متعلق کہی گئی بات ہے_ چنانچہ بعض لوگ حضرت علیعليه‌السلام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:''جہاں تک میں جانتا ہوں تمام مہاجرین نے چھپ کر ہجرت کی سوائے عمر بن خطاب کے_ کیونکہ جب حضرت عمر نے ہجرت کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنی تلوار گلے میں لٹکائی_ اور کمان دوش پر ڈالی اپنے ہاتھوں میں چند تیر اٹھائے ایک نوک دار ڈنڈا بھی ساتھ لیا_ کعبہ کی طرف چل پڑے قریش کی ایک جماعت کعبہ کے احاطے میں بیٹھی تھی پھرحضرت عمر نے کعبہ کا سات بارطواف کیااور مقام ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھی _اس کے بعد ایک ایک کر کے لوگوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور کہا_ خدا بگاڑدے ان چہروں کو_ خدا ان ناکوں کو خاک میں ملا دے _ (یعنی ان کو ذلیل وخوار کرے گا) پس جویہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس کے سوگ میں روئے یا اس کا فرزند یتیم ہوجائے_ یا اس کی بیوی بیوہ ہوجائے_ تو اس وادی کے اس پار میرے سامنے آئے''_ پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ '' کوئی بھی عمر کے پیچھے نہیں گیا اور اس نے اپنا سفر جاری رکھا''_(۱)

ہمیں یقین حاصل ہے کہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی کیونکہ حضرت عمر اس قسم کی شجاعت کے مالک نہ تھے _ اس کی دلیل درج ذیل امور ہیں:

۱_حضرت عمر کے قبول اسلام کے متعلق بخاری وغیرہ سے نقل کیا جاچکا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ڈرکے مارے اپنے گھر میں چھپے رہے_ یہاں تک کہ عاص بن وائل آیا اور انہیں امان دی _اس کے بعد حضرت عمر اپنے گھر سے نکلے_

۲_جنگوں میں حضرت عمر کا عام طور پر جوبزدلانہ رویہ رہا اس کے پیش نظر اس قسم کی باتوں کی تصدیق کرنے کی جرا ت ہم میں پیدا نہیں ہوسکتی_ چنانچہ جنگ بدر کے موقع پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم اور مسلمانوں کو بزدلی پر

___________________

۱_ منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج ۴ ص ۳۸۷ از ابن عساکر، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۱_ ۲ اور نور الابصار ص ۱۵ میں بھی اس کی جانب اشارہ کیا گیا ہے نیز کنز العمال ج۱۴ ص ۲۲۱ و ۲۲۲ از ابن عساکر_

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ آیت مقداد اور زبیر کے بارے میں اتری تھی_ جب وہ خبیب کی لاش سولی سے اتارنے مکہ گئے تھے_(۳)

۵) آیت میں اس شخص کی تعریف ہوئی ہے جو اپنی جان کو راہ خدا میں فدا کرے نہ اس شخص کی جو اپنا مال قربان کرے جبکہ صہیب والی روایت مؤخر الذکر سے متعلق ہے نہ کہ اول الذکر کے متعلق_

۶)جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں فقط صہیب نے ہی راہ خدا میں اپنا مال نہیں دیا تھا لہذا یہ اعزاز فقط ان کے ساتھ کیسے مختص ہوسکتا ہے_

۷) یہی لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ہجرت کے بعد حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی مہاجر مکے میں نہ رہا مگر وہ جو کسی کی قید میں یا کسی مشکل میں مبتلا تھے_(۴)

۸) وہ روایت جو کہتی ہے کہ صہیب بوڑھے تھے اور مشرکین کیلئے بے ضرر تھے خواہ ان کے ساتھ ہوں یا دوسروں کے ساتھ، وہ صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ صہیب کی وفات سنہ ۳۸ یا ۳۹ ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی_(۱) بنابریں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۳۱ یا ۳۲ سال بنتی ہے_ اس لحاظ سے وہ اپنی جوانی کے عروج پر تھے اورانکی عمر وہ نہ تھی جو مذکورہ جعلی روایت بتاتی ہے_

یہ ساری باتیں ان تضادات کے علاوہ ہیں جو صہیب سے مربوط روایات کے درمیان موجود ہیں_علاوہ ازیں ان روایات میں سے بعض میں صہیب کے حق میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہوا _نیز یہ روایات یا تو خود صہیب سے ہی مروی ہیں یا ایسے تابعی سے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا زمانہ نہیں دیکھا مثال کے طور پر عکرمہ، ابن مسیب اور ابن جریح_ ہاں فقط ایک روایت ابن عباس سے مروی ہے جو ہجرت سے صرف تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے_

___________________

۱_ سیرہ حلبی ج ۳ ص ۱۶۸ _

۲_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۳ اور سیرہ مغلطای ج ۳۱ _

۳_ الاصابة ج ۲ ص ۱۹۶ _

۳۲۱

یاد رہے کہ صہیب کا تعلق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حکمراں طبقے کے حامیوں اور امیرالمؤمنینعليه‌السلام علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے تھا_ وہ اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (علیھم السلام) سے عداوت رکھتا تھا_(۱) شاید صہیب کی ہجرت کے ذکر سے ان کا مقصد یہ ہو کہ جو فضیلت صرف حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کے لئے ہی ثابت ہے اسے صہیب کے لئے بھی ثابت کریں یوں وہ ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے شیطانوں نے انہیں یہ مکھن لگا یا کہ علیعليه‌السلام تو خسارے میں رہے جبکہ آپعليه‌السلام کے دشمن فائدے میں رہے_

ہ:رہا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ سورہ بقرہ مدنی ہے_ اگر وہ آیت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہوتی تو اس سورہ کو مکی ہونا چاہیئے تھا_ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مذکورہ آیت شب ہجرت ہی اتری تھی (جب حضرت علیعليه‌السلام بستر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوئے تھے) تو ظاہر ہے کہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غار میں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی نہ تھا_ بنابر ایں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مدینہ پہنچ کر وہاں ساکن ہونے سے پہلے نزول آیت کے اعلان کا موقع ہی نہ مل سکا_ اس کے بعد مناسب موقعے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے چچازاد بھائی اور وصی کی اس عظیم فضیلت کے اظہار کی فرصت ملی_ اس لحاظ سے اگر اس آیت کو مدنی اور سورہ بقرہ کا جز سمجھ لیا جائے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ جبکہ سورہ بقرہ ،جیساکہ سب جانتے ہیں ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا_اس کے علاوہ اگر کسی مکی آیت کو کسی مدنی سورہ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے کیا؟

ادھر حلبی کا یہ بیان کہ یہ آیت دوبار نازل ہوئی، ایک بے دلیل بات ہے بلکہ مذکورہ دلائل اس بات کی نفی کرتے ہیں_

ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدائے تعالی نے واقعہ غار میں حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا جیساکہ

___________________

۱_ رجوع کریں قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۳۵_۱۳۷ (حالات صہیب) _

۳۲۲

''شواھد النبوة'' نامی کتاب میں یوں منقول ہے: ''جب اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی اجازت دی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیلعليه‌السلام سے پوچھا میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ حضرت جبرئیلعليه‌السلام نے کہا ابوبکر صدیق''_(۱)

لیکن ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ:

الف: حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دینے کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے_ اس کے سبب اور وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں_

کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ غار ثور میں ہوا (جیساکہ یہاں ذکر ہوا) اور کوئی کہتا ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معراج کے سفر سے واپس آکر لوگوں کو بیت المقدس کے بارے میں بتایا اور حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب ملا_(۲)

تیسرے قول کے مطابق بعثت نبوی کے دوران جب حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب حاصل ہوا_(۳)

چو تھا قول یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آسمانوں کی سیر فرمائی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں بعض جگہوں پر حضرت ابوبکر کا لقب ''صدیق'' لکھا ہوا دیکھا(۴) پھر نہیں معلوم کون سی بات صحیح ہے_

ب: ہمارے ہاں متعدد روایات موجود ہیں جو سند کے لحاظ سے صحیح ''یا حسن'' ہیں_ ان کا ذکر دسیوں مآخذ میں موجود ہے_ یہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ ''صدیق'' سے مراد امیر المؤمنین علیعليه‌السلام ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر_ ان میں سے چند ایک کاہم یہاں ذکر کرتے ہیں_

۱) امام علیعليه‌السلام سے سند صحیح (امام بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق) کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ''میں خدا کا بندہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھائی ہوں، میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میرے بعد اس بات کا دعوی کوئی

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۳، شواہد النبوة سے اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ _

۲،۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ اور ج ۱ ص ۲۷۳ وغیرہ واقعہ معراج میں اس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے بعض مآخذ کا بھی_

۴ _ کشف الاستار ج۳ ص ۱۶۳، مسند احمد ج ۴ ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۱ ، تہذیب التہذیب ج۵ ص ۳۸ اور الغدیر ج۵ ص ۳۲۶ ، ۳۰۳ از تاریخ الخطیب_

۳۲۳

نہ کرے گا مگر وہ جو سخت جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی ہے''_(۱)

بظاہر حضرت علیعليه‌السلام کی مراد یہ ہے کہ آپعليه‌السلام سن رشد کو پہنچنے کے بعد اور بعثت سے قبل کے زمانے سے اسلام کے عام ہونے اور'' فاصدع بما تؤمر '' والی آیت کے نزول تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ دین حنیف کے مطابق عبادت کرتے تھے_ یوں ابن کثیر کایہ کہنا کہ'' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھتے؟ لہذا یہ بات بالکل نامعقول ہے''(۲) باطل ہوجاتا ہے_

۲) قرشی نے شمس الاخبار میں ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے شب معراج حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق اکبر کا لقب دیا_(۳)

۳) ابن عباس سے منقول ہے کہ صدیق تین ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام_ ان میں سے تیسرا سب سے افضل ہے_

اسی مضمون سے قریب قریب وہ روایت ہے جو سند حسن کے ساتھ ابولیلی غفاری سے منقول ہے جیساکہ

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ و تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے میں نیز الاوائل ج ۱ ص ۱۹۵، فرائد السمطین ج ۱ ص ۲۴۸ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور ج ۱ ص ۳۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶، الخصائص (نسائی) ص ۴۶ (ثقہ راویوں سے) سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۴ (صحیح سند کے ساتھ) تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶، الکامل (ابن اثیر) ج ۲ ص ۵۷، ذخائر العقبی ص ۶۰ از خلفی و الارحاد و المثانی (خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ کوپرلی لائبریری) و معرفة الصحابة (مصنفہ ابونعیم خطی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای) ج ۱ تذکرة الخواص ص ۱۰۸ (ازاحمد در مسندالفضائل) حاشیہ زندگی نامہ امام علیعليه‌السلام (تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق محمودی) ج ۱ص ۴۴_۴۵ نقل از کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ورق نمبر ۱۵۵الف کنزالعمال ج ۱۵ ص ۱۰۷ (طبع دوم) از ابن ابی شیبہ و نسائی و ابن ابی عاصم (السنة میں) و عقیلی و حاکم و ابونعیم نیز عقیلی کی کتاب الضعفاء ج ۶ صفحہ نمبر ۱۳۹ سے علاوہ ازیں معرفة الصحابة (ابونعیم) ج ۱ ورق نمبر ۲۲ الف و تہذیب الکمال (مزی) ج ۱۴ ورق نمبر ۱۹۳ ب اور از تفسیر طبری، مسند احمد (الفضائل میں حدیث نمبر ۱۱۷ ) سے وہ احقاق الحق ج ۴ ص ۳۶۹ اسی طرح میزان الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۷ ج ۲ ص ۱۱ اور ۲۱۲ سے، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ میں مذکورہ مآخذ میں سے کئی ایک نیز ریاض النضرة ص ۱۵۵_۱۵۸ اور ۱۲۷ سے منقول ہے نیز مراجعہ ہو اللآلی المصنوعة ج۱ ص ۳۲۱_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶ _

۳_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳_۳۱۴_

۳۲۴

سیوطی نے بھی اس کی تصریح کی ہے_(۱) اسی طرح حسن بن عبد الرحمان بن ابولیلی سے بھی منقول ہے_(۲)

بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا صدیقین کو فقط تین افراد میں منحصر کرنا اس بات کے منافی ہے کہ حضرت ابوبکر کو بھی صدیق کانام دیا جائے_ اس طرح سے تو تین کی بجائے چار ہوجائیں گے یوں حصر غلط ٹھہرے گا_

۴) معاذہ کہتی ہیں ''میں نے علیعليه‌السلام سے (بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے )سنا کہ انہوں نے فرمایا:''میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میں ابوبکر کے مسلمان ہونے سے پہلے مومن تھا اور ابوبکر کے قبول اسلام سے پہلے اسلام لا چکا تھا''(۳) بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپعليه‌السلام حضرت ابوبکر کے لوگوں کے درمیان معروف ہونے والے

___________________

۱_ جامع الصغیر ج ۲ ص ۵۰ از کتاب معرفة الصحابة (ابونعیم) ابن نجار، ابن عساکر و صواعق محرقہ (مطبوعہ محمدیہ) ص ۱۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۵۵، شواہدالتنزیل ج ۲ ص ۲۲۴ و ذخائرالعقبی ص ۵۶ و فیض القدیر ج ۴ ص ۱۳۷، تاریخ ابن عساکر حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۸۲ اور ج ۱ ص ۸۰، کفایہ الطالب ص ۱۲۳_۱۸۷ اور ۱۲۴، الدرالمنثور ج ۵ ص ۲۶۲ از تاریخ بخاری، ابوداؤد، ابونعیم، دیلمی، ابن عساکر اور رازی (سورہ مومن کی تفسیر میں)، منافب خوارزمی ص ۲۱۹ و مناقب امام علی (ابن مغازلی) ص ۲۴۶_۲۴۷ و معرفة الصحابة (ابونعیم) قلمی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای، نیز کفایة الطالب کے حاشیہ میں کنز العمال (ج۶ ص ۱۵۲) سے بواسطہ طبرانی، ابن مردویہ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۲ و گذشتہ مآخذ میں سے چند ایک کا محمودی نے تاریخ ابن عساکر میں امام علیعليه‌السلام کے حالات زندگی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، رجوع کریں ج ۱ ص ۷۹_۸۰، مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے منقول ہے نیز از سیف الیمانی المسلول ص ۴۹ و الفتح الکبیرج ص ۲۰۲ و غایة المرام ص ۴۱۷ _۶۴۷و مناقب علی امام احمد کی کتاب الفضائل میں حدیث نمبر ۱۹۴_۲۳۹ نیز مشیخ-ة البغدادیة (سلفی) ورق نمبر ۹ ب اور ۱۰ ب و الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ مذکورہ مآخذ سے نیز حاشیہ شواہد التنزیل از الروض النضیر ج ۵ ص ۳۶۸ سے منقول ہے_

۲_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۲۱۹ _

۳_ ذخائر العقبی ص ۵۶ از ابن قتیبہ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، انساب الاشراف (محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) ج ۲ ص ۱۴۶ و الآحاد المثانی (قلمی نسخہ نمبر ۲۳۵ کتابخانہ کوپرلی) البدایة و النہایة ج ۷ ص ۳۳۴، المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۳_۷۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ جو گزشتہ مآخذ میں سے بعض نیز ابن ایوب اور عقیلی سے بواسطہ کنز العمال ج ۶ ص ۴۰۵ چاپ اوّل مروی ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۳ ص ۱۲۲ از استیعاب ج ۲ ص ۴۶۰ و از مطالب السئول _ ص ۱۹ (جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اکثر اوقات اس بات کا تکرار فرماتے تھے)، نیز الطبری ج ۲ ص ۳۱۲ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ اور ۱۵۷ اور عقد الفرید ج ۲ ص ۲۷۵ سے_ ابن عباس اور ابویعلی غفاری والی بات کے بارے میں رجوع کریں_ الاصابة ج ۴ ص ۱۷۱ اور اس کے حاشیے الاستیعاب ج ۴ ص ۷۰ ۱ اور میزان الاعتدال ج ۲ ص ۳ اور ۴۱۷ کی طرف_

۳۲۵

لقب کی نفی کرنا چاہتے ہیں_

۵) حضرت ابوذر اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا :''ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو علیعليه‌السلام سے یہ فرماتے سنا کہ انت الصدیق الاکبر وانت الفاروق الذی یفرق بین الحق والباطل یعنی تمہی صدیق اکبر ہو اور تمہی حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے والے فاروق ہو''_(۱) اسی روایت سے تقریبا مشابہ روایت ابولیلی غفاری سے مروی ہے_

۶) حضرت ابوذراور حضرت سلمان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کا ہاتھ پکڑکرفرمایا:'' یہ سب سے پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لے آیا_ یہی شخص سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا_ صدیق اکبر یہی ہے اوریہی اس امت کا فاروق ہے جو حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرے گا''_(۲)

۷) ام الخیر بنت حریش نے صفین میں ایک طویل خطبے میں امیرالمومنینعليه‌السلام کو ''صدیق اکبر'' کے نام سے یاد کیا ہے_(۳)

۸) محب الدین طبری کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق کانام دیا_(۴)

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، فرائد السمطین ج ۱ ص ۱۴۰ نیز تاریخ ابن عساکر (حالات زندگی امام علیعليه‌السلام باتحقیق محمودی) ج ۱ ص ۷۶_۷۸ (کئی ایک سندوں کے ذریعہ سے) اس کے حاشیے جاحظ کی کتاب عثمانیہ کے جواب میں (جو اس کے ساتھ مصر میں چھپی ہے) اسکافی سے ص ۳۹۰ پر منقول ہے_ نیز رجوع کریں اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۳۲۴ وملحقات احقاق الحق ج ۴ ص ۲۹_۳۱ اور ۳۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ از حاکمی و از شمس الاخیار (قرشی) ص ۳۰ و از المواقف ج ۳ ص ۲۷۶ و از نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۵ و از حموینی

۲_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۰۲ از طبرانی اور بزار، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ و ج۱۰ ص۴۹ از بزار اور کفایة الطالب ص ۱۸۷ بواسطہ ابن عساکر، شرح نہج البلاغة( معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور اکمال کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ بیہقی، ابن عدی، حذیفہ، ابوذر اور سلمان سے منقول نیز الاستیعاب ج۲ ص ۶۵۷ والاصابہ ج۴ ص ۱۷۱ سے بھی منقول ہے _

۳_ العقد الفرید مطبوعہ دار الکتاب ج ۲ ص ۱۱۷، بلاغات النساء ص ۳۸، الغدیر ج۲ ص۳۱۳ میں ان دونوں سے نیز صبح الاعشی ج ۱ ص ۲۵۰ اور نہایة الارب ج ۷ ص ۲۴۱ سے نقل کیا گیا ہے_

۴_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۳۲۶

۹) خجندی کا کہنا ہے کہ وہ (حضرت علیعليه‌السلام ) یعسوب الامہ اور صدیق اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے_(۱)

۱۰) ایک اور روایت میں مذکور ہے ''پس عرش کے اندر سے ایک فرشتہ انہیں جواب دیتا ہے اے انسانو یہ کوئی مقرب فرشتہ نہیں نہ کوئی پیغمبراور نہ عرش کو اٹھانے والا ہے_ یہ تو صدیق اکبر علیعليه‌السلام ابن ابیطالب ہیں ...''(۲)

۱۱) قرآن کی آیت (اولئک ہم الصدیقون) حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں نازل ہوئی_ اسی طرح (الذی جاء بالصدق وصدق بہ) والی آیت نیز( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین ) والی آیت بھی حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہیں_(۳)

۱۲) انس کی ایک روایت میں مذکور ہے ''واما علیعليه‌السلام فہو الصدیق الاکبر''(۴)

یعنی حضرت علیعليه‌السلام ہی صدیق اکبر ہیں_

گذشتہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ''صدیق'' کا لقب امام علیعليه‌السلام ہی کے ساتھ مختص ہے کسی اور کیلئے اس کا اثبات ممکن نہیں_

علاوہ ان باتوں کے علامہ امینی نے ''الغدیر'' کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۲۱، ۳۳۴اور ۳۵ نیز ساتویں جلد کے صفحہ نمبر ۲۴۴، ۲۴۵ اور ۲۴۶ پر ایسی روایات کا تذکرہ کیا ہے جن کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق کہلائے گئے ہیں_ اس کے بعد جواباً حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے میں

___________________

۱_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۲_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۳۴ چاپ دوم_

۳_ بطور مثال رجوع کریں : شواھد تنزیل ج ۱ ص ۱۵۳_۱۵۴_۱۵۵ ، اور ج ۲ ص ۱۲۰ اس کے حاشیوں میں متعدد مآخذ مذکور ہیں_ نیز حالات امام علیعليه‌السلام در تاریخ دمشق بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۴۱۸ اور اس کے حاشیے ملاحظہ ہوں_ نیز مناقب ابن مغازلی ص ۲۶۹، غایة المرام ص ۴۱۴، کفایة الطالب ص ۳۳۳، منہاج الکرامة (حلی)، دلائل الصدق (شیخ مظفر) ج ۲ ص ۱۱۷، درالمنثور ج ۵ ص ۳۲۸ اور دسیوں دیگر مآخذ_

۴_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۳۲ _

۳۲۷

کسی قسم کاشک باقی نہیں رہتا کیونکہ بڑے بڑے ناقدین اور محدثین مثال کے طور پر ذہبی، خطیب، ابن حبان، سیوطی، فیروز آبادی اور عجلونی وغیرہ نے ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کی تصدیق کی ہے_ جو حضرات اس مسئلے سے آگاہی کے خواہشمند ہوں وہ الغدیر کی طرف رجوع کریں جس میں تحقیق کی پیاس بجھانے اورشبہات کا ازالہ کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے_

یہ القاب کب وضع ہوئے؟

بظاہر یہ اور دیگر القاب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی چوری ہوئے یہاں تک کہ امیرالمومنین امام علیعليه‌السلام منبر بصرہ سے یہ اعلان کرنے اور بار بار دہرانے پر مجبورہوئے کہ آپ ہی صدیق اکبر ہیں نہ کہ ابوبکر اور جوبھی اس لقب کا دعویدار ہو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے لیکن طویل عرصے تک امت کے اوپر حکم فرما اور ان کے افکار واہداف پر مسلط رہنے والی سیاست کے باعث یہ القاب انہی افراد کیلئے استعمال ہوتے رہے اور کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس عمل سے روکتی یا کم از کم مثبت اور پرامن طریقے سے اس پر اعتراض کرتی_

دو سواریاں

کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کو ہجرت کرنا شروع کی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی خدا کی طرف سے اجازت کی امید رکھتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی جان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے وقف کردی اور آٹھ سو درہم میں دو سواریاں خریدیں_ (وہ ایک مالدار شخص تھے) اور انہیں چار ماہ(۱) یا چھ ماہ(۲) تک (اختلاف اقوال کی بنا پر) پھول کے پتے یا درختوں کے جھاڑے ہوئے پتے کھلاتے رہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الوفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷ ، الثقات (ابن حبان) ج۱ ص ۱۱۷ ، المصنف (عبدالرزاق) ج۵ ص ۳۸۷ اور بہت سے دیگر مآخذ _ حضرت ابوبکر کے صاحب مال ہونے کے متعلق مراجعہ ہو سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۱۲۸_

۲_ نور الابصار ص ۱۶ از الجمل ( علی الھزیمہ) و کنز العمال ج۸ ص ۳۳۴ از بغوی( سند حسن کے ساتھ عائشہ سے)_

۳۲۸

پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں سواریاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیش کیں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیمت اداکئے بغیر ان کو لینے سے انکار کیا_ لیکن ہماری نظر میں چار ماہ یا چھ ماہ تک سواریوں کو چارہ کھلاتے رہنے والی بات صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اپنی ہجرت سے فقط تین ماہ قبل اصحاب کو ہجرت کا حکم دیا تھا_ بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحقیق کی رو سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےہجرت سے اڑھائی مہینے قبل ایسا کیا(۱) ، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیعت عقبہ ہجرت سے دوماہ اور چند دن پہلے ہوئی تھی(۲) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو اس کے بعد ہجرت کا حکم دیا جیساکہ معلوم ہے_ بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی طرف سے اصحاب کو ہجرت کا حکم ملنے کے بعد چھ یا چار ماہ تک حضرت ابوبکر کیونکر ان سواریوں کو پالتے رہے؟

۲) ایک روایت صریحاً کہتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے تین اونٹ خریدے اور اریقط بن عبداللہ کو مزدوری دیکر ان اونٹوں کو غار سے نکلنے کی رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں بھیجا_(۳) البتہ ممکن ہے انہوں نے یہ اونٹ حضرت ابوبکر سے خریدے ہوں اور ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اریقط کے ہمراہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے پاس بھیجے ہوں_

حقیقت حال

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے قیمت ادا کئے بغیر حضرت ابوبکر سے وہ سواریاں نہیں لیں تو انہیں اس میں خلیفہ اول کی سبکی نظر آئی_ اس کے مقابلے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے اس کے بدلے حضرت ابوبکر کیلئے یہ فضیلت تراشی کہ وہ اس قدر طویل عرصے تک ان سواریوں کو چارہ کھلاتے رہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۸۳اور ۱۷۷ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۵_ ۵۵_

۲_ سیرة مغلطای ص ۳۲ وفتح الباری ج ۷ ص ۱۷۷ نیز ملاحظہ ہوالثقات لابن حبان ج ۱ ص ۱۱۳ و غیرہ _

۳_ تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۱۳۸ (امام علیعليه‌السلام کے حالات میں محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) اور در منثور نیز تیسیر المطالب ص۷۵ البتہ اس میں آیاہے کہ آپعليه‌السلام نے تین سواریاں کرایہ پر لیں_

۳۲۹

ان معروضات کی روشنی میںیہ معلوم ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان دو سواریوں کو خریدنا یا امیرالمؤمنین کا تین سواریاں خریدنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خرچے پر سفر کیا نہ کہ اپنے خرچے پر_

خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابوبکر کے گھرکے عقبی دروازے سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوگئے جیساکہ سیرت ابن ہشام وغیرہ میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے(۱) _ بخاری میں مذکور ہے کہ (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت ابوبکر کے پاس گئے اور وہاں سے غار ثور کی طرف روانہ ہوئے)(۲) _

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ:

۱_ حلبی نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے: ''زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے گھرسے ہی (غار کی طرف) روانہ ہوئے'' _(۳)

۲_ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر آئے تو حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے ہوئے پایااور حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی روانگی سے مطلع کیا اور فرمایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بئر میمون (ایک کنویں کا نام) کی طرف چلے گئے ہیں_ پس وہ راستے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے_ بنابریں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں ابوبکر کے گھر کے عقبی دروازے سے غار کی طرف روانہ ہوئے ہوں؟ اور وہ بھی ظہر کے وقت؟

۳_ان تمام باتوں سے قطع نظر ساری روایات کہتی ہیں کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے دروازے پر صبح تک بیٹھے رہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کے ابتدائی حصّے کی تاریکی میں ان کے درمیان سے نکل گئے جبکہ حضرت علیعليه‌السلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے رہے_ یہ اس بات کے منافی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت خارج ہوئے_

۴_ یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کے گھر سے خارج ہوئے ہوں جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ۱۰۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۴ و البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸_

۲_ ملاحظہ ہو: تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۱۵۳ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۰ نیز بخاری، ارشاد الساری ج۶ ص ۱۷ کے مطابق_ ۳_ سیرة حلبیة ج ۲ ص ۳۴ عن سبط ابن الجوازی_

۳۳۰

کہ کھوجی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قدموں کے نشانات دیکھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچا تو کہنے لگا یہاں سے ایک اور شخص بھی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مل چکا ہے بلکہ بعض حضرات نے تو صریحاً یہ کہا ہے کہ مشرکین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ابوبکر ابن قحافہ کے نشان قدم تھے_(۱) وہ یونہی چلتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے_

ان عرائض سے معلوم ہوتا ہے کہ در منثور اور السیرة الحلبیة میں منقول یہ بات درست نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس رات انگلیوں کے بل چلتے رہے تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشان ظاہر نہ ہوں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاؤں گھس گئے_ (گویا مسافت اس قدر زیادہ تھی) اور حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھالیا یہاں تک کہ غار کے دھانے تک پہنچ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتارا_ ایک اور روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اونٹ جدعاء پر سوار ہوکر حضرت ابوبکر کے گھر سے غار تک گئے_(۲)

قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش

کہتے ہیں کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ (کی گرفتاری) کیلئے سو اونٹوں اور حضرت ابوبکر کیلئے بھی اس قدر اونٹوں کی شرط رکھی(۳) _ جاحظ وغیرہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے_

اسکافی معتزلی نے اس کا جواب یوں دیا ہے ''قریش حضرت ابوبکر کی گرفتاری کے واسطے مزید سو اونٹوں کا نذرانہ کیوں پیش کرتے حالانکہ انہوں نے اس کی التجائے امان کو ٹھکرایا تھا_اور وہ قریش کے درمیان بے یار ومددگار تھے_ وہ ان کے ساتھ جو چا ہتے کرسکتے تھے_ بنابریں یا تو قریش دنیاکے احمق ترین افراد تھے یا عثمانی ٹولہ روئے زمین کی تمام نسلوں سے زیادہ جھوٹا اور سب سے زیادہ سیہ رو تھا_ اس واقعے کا ذکر نہ سیرت کی کسی کتاب میں ہے نہ کسی روایت میں نہ کسی نے اسے سنا تھا اور نہ ہی جاحظ سے قبل کسی کو اس کی خبر تھی''_(۴)

___________________

۱_ بحارالانوار ۱۹ ص ۷۴ از الخرائج نیز رجوع کریں ص ۷۷ اور ۵۱ ، اعلام الوری ص ۶۳ و مناقب آل ابیطالب ج ۱ ص ۱۲۸ اور تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۶ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ سیرت حلبی ج ۲ص ۳۴ _۳۸ اور تارخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۸ والدر المنثور_

۳_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۹_

۴_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج۱۳ ص ۲۶۹_

۳۳۱

یہاں ہم اس بات کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ جب (ان لوگوں کے بقول) حضرت ابوبکر کے قبیلے نے پہلے ان کی حمایت کی تھی تو اب ان کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ نیز جب وہ قریش کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے (اس بات کا ذکر حبشہ کی طرف ابوبکر کی ہجرت کے حوالے سے گزر چکا ہے) تو پھر قریش والے ان کیلئے سو اونٹوں کی شرط کیوں رکھنے لگے جس طرح خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے سو اونٹوں کی شرط رکھی تھی؟ قریش نے حضرت ابوبکر کی کڑی نگرانی کیوں نہیں کی اورانکے پیچھے جاسوس کیوں نہیں چھوڑے یا جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر شبخون مارنے کی کوشش کی تھی ان پر بھی شبخون مارنے کیلئے افراد روانہ کیوں نہ کئے؟ اسی طرح قریش حضرت ابوبکر کے پیچھے اس قدر دولت کیونکر داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ وہ شخص جس کے باعث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے چنگل سے نکل گئے تھے، علیعليه‌السلام تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان بے خطر رہ رہے تھے اور کسی شخص نے انہیں چھیڑا اور نہ ہی کسی قسم کی نا خوشگوار گفتگو کی_ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی منزلت کو بلند کر کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہمدوش قرار دینا ہے اور ساتھ ساتھ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حضرت علیعليه‌السلام کے سونے کے سارے اثرات کو مٹانا ہے تاکہ حضرت ابوبکر کی عظمت اور منزلت کے سامنے حضرت علیعليه‌السلام کی طرف کسی کی توجہ ہی مبذول نہ ہو_

تا صبح انتظار کیوں

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مشرکین نے شب ہجرت صبح تک انتظار کیوں کیا؟ اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ دیوار پھلانگنے کا تھا_ لیکن گھر سے ایک عورت چیخی_ یہ سن کر ان میں سے کسی نے کہا''اگر لوگ کہیں کہ ہم نے اپنی چچا زاد بہنوں کے گھر کی دیوار پھاند لی ہے تو یہ عربوں کے درمیان شرمناک بات ہوگی_(۱)

یا شاید اس کی وجہ یہ ہو (جیساکہ کہا گیا ہے) کہ ابولہب رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل پر راضی نہ تھا کیونکہ اس میں

___________________

۱_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۸، الروض الانف ج۲ ص ۲۲۹ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۲۷ مع حاشیہ اور ملاحظہ ہو: تاریخ الہجرة النبویہ (ببلاوی) ص ۱۱۶_

۳۳۲

عورتوں اور بچوں کو خطرہ تھا(۱) _ ممکن ہے کہ ان دونوں باتوں کے پیش نظر انہوں نے صبح تک انتظار کیا ہو_ یا اس لئے بھی کہ لوگ (دن کی روشنی میں) دیکھ لیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سارے قبائل نے ملکر قتل کیا ہے یوں یہ بات بنی ہاشم کے خلاف ایک بہانہ ہوتی اور بنی ہاشم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا انتقام نہ لے سکتے(۲) _

حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات

کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر روانہ ہوئے تو اپناسارا مال جو پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم پر مشتمل تھا ساتھ لے کر چلے_ ان کے والد ابوقحافہ (جن کی بینائی چلی گئی تھی) اپنے بیٹے کے اہل خانہ کے پاس آئے اور کہا خدا کی قسم میں تو یہ مشاہدہ کررہا ہوں کہ اس نے اپنے مال اور اپنی جان کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ان کی بیٹی اسماء بولی :'' نہیں بابا وہ ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ کرگئے ہیں'' _ (اسماء کہتی ہے) پس میں نے کچھ پتھر اٹھائے اور ان کو گھرکے ایک روشن دان میں رکھا جہاں میرا بابا اپنا مال رکھتا تھا _پھر میں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑکر کہا اے بابا اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ_ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا:'' کوئی بات نہیں اگر اس نے تمہارے لئے یہ چھوڑا ہے تو اچھا کیا ہے_ یہ تمہارے لئے کافی ہوگا حالانکہ واللہ اس نے ہمارے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ بوڑھے کو تسلی دوں''_(۳)

یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ کو خدا پرستی کے جرم میں ایذائیں دی جاتی تھیں_ پس حضرت ابوبکر نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر غار میں تھے تو عامر ابوبکر کی دودھ دینے والی بکریاں لیکر ان کے پاس آیا تھا وہ ان کو چراتا تھا_ اور شام کو ان کے پاس آتا تاکہ ان کیلئے دودھ دوہ لے_

___________________

۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۵۰_

۲_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۸ _ ۲۶_

۳_ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۳، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۷۹ و الاذکیاء از ابن جوزی ص ۲۱۹، حیات الصحابة ج۲ ص ۱۷۳_۱۷۴، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۵۹ طبری اور احمد سے نقل کیا ہے_ ابن اسحاق کے علاوہ اس کے سارے راوی صحیح بخاری والے راوی ہیں اور ابن اسحاق نے بھی خود اپنے کانوں سے سننے پر تاکید کی ہے_

۳۳۳

ادھر اسماء بنت ابوبکر شام کے وقت ان کیلئے مناسب کھانا لیکر آتی تھی(۱) _

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر چالیس ہزار درہم خرچ کئے_ ایک جگہ دینار کا لفظ آیا ہے(۲) _ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی ہم نشینی اور مدد کے ذریعے میرے اوپر اتنا احسان نہیں کیا جس قدر ابوبکر نے کیا اور اتنا مجھے کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے_یہ سن کر حضرت ابوبکر رو پڑے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اور میرا مال کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سوا کسی اور کیلئے ہیں؟(۳)

یا یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے ابوبکر سے زیادہ اپنے مال یا اہل کے ذریعے مجھ پر احسان نہیں کیا اور ایک اور روایت میں مذکور ہے مجھ پر کسی نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے ابوبکر سے زیادہ احسان نہیں کیا_ اگر اللہ کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو دوست منتخب کرتا_ لیکن اسلام والی برادری اور محبت موجود ہے_ تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیئے گئے سوائے حضرت ابوبکر کے دروازے کے(۴) _

حدیث غار میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم نے ان دونوں کیلئے جلدی میں زاد راہ تیار کیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں ان کیلئے کھانے کا سامان رکھا_ واقدی کہتے ہیں اس دستر خوان میں ایک پکی ہوئی بکری تھی_ اسماء بنت ابوبکر نے اپنا کمربند پھاڑکر اس کے دو حصے کئے_ ایک حصے سے تھیلی کا منہ بند کیااور دوسرے حصے سے پانی کی مشک کا منہ بند کیا_ اسی وجہ سے اسے ذات النطاقین کا لقب ملا(۵) _

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ و التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷ ، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ والتراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۳_ ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲ و لسان المیزان ج۲ ص ۲۳ ، اس کے دیگر مآخذ کا ذکر بعد میں ہوگا_

۴_ مراجعہ ہو صحیح بخاری ( مطابق ارشاد الساری) ج۶ ص ۲۱۴، ۲۱۵ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، الجامع الصحیح (ترمذی )ج۵ ص ۶۰۸ ، ۶۰۹ ، نیز عامر بن فہیرہ والی حدیث سے قبل کی حدیث میں مذکور منابع_

۵_سیرت حلبیہ ج۲ ص ۳۳ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و ۳۳۰_

۳۳۴

ترمذی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی بیٹی دی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دار ہجرت (مدینہ) پہنچایا اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہے_ ایک اور روایت میں مذکور ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کا ہم پر کوئی حق تھا اسے ہم نے ادا کردیا سوائے ابوبکر کے جس کا ہمارے اوپر حق ہے اور قیامت کے دن اللہ اسے اس کی جزا دے گا_(۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ یہ ساری باتیں مشکوک ہیں بلکہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں_

۱_ عامر بن فہیرہ

ابن اسحاق واقدی اور اسکافی وغیرہ کا کلام اس بارے میں ذکر ہوچکا کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر کا آزاد کردہ غلام نہ تھا_ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی اس کو خرید کر آزاد کیا تھانہ کہ حضرت ابوبکر نے_

۲_ نابینا ابوقحافہ

جو روایت یہ کہتی ہے کہ اسماء نے اس جگہ پتھر رکھے تھے جہاں اس کا باپ اپنا مال رکھتا تھا تاکہ ابوقحافہ اس کو چھو کر مطمئن ہوجائے، اس روایت کی نفی درج ذیل امور سے ہوتی ہے_

الف: فاکہی ابن ابوعمر کہتا ہے کہ سفیان نے ابوحمزہ ثمالی سے ہمارے لئے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار کی طرف روانہ ہوئے تو میں جستجو کی غرض سے نکلا کہ شاید کوئی مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بتائے_ پس میں حضرت ابوبکر کے گھر آیا_ وہاں میں نے ابوقحافہ کو پایا وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا لئے میری طرف بڑھا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ یہ کہتے ہوئے میری طرف دوڑا'' یہ ان گمراہوں میں سے ہے جس

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے سلسلے میں تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۲۳ _ ۳۳۰ سیرت حلبی ج۲ ص ۳۲،۳۳،۴۰اور ۳۹، الجامع الصحیح (ترمذی) ج۵ ص ۶۰۹، السیرة النبویة ( ابن ہشام) ج۲، صحیح بخاری باب ہجرت ، فتح الباری ج۷ صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، الدرالمنثور والفصول المہمة ( ابن صباغ) ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ، لسان المیزان ج/۲ ص ۲۳ اور البدایة والنہایة ج۵ ص ۲۲۹ و مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۲ از طبرانی اور الغدیر _ان کے علاوہ بہت سارے دیگر مآخذ موجود ہیں جن کے ذکر کی گنجائشے نہیں ، ان کی طرف رجوع کریں_

۳۳۵

نے میرے بیٹے کو میرا مخالف بنا دیا ہے''_(۱)

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابوقحافہ اس وقت تک نابینا نہ ہوا تھا_ اس حدیث کی سندبھی ان لوگوں کے نزدیک معتبر ہے_

ب: ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ حضرت ابوبکر نے کس وجہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑا_ ان پر حضرت ابوبکر کی طرف سے یہ کیسا ظلم تھا؟ نیز ابوقحافہ (جو ان کے بقول نابینا تھا) کو کہاں سے علم ہوا کہ وہ سارا مال ساتھ لے کر چلے گئے تھے جو وہ یہ کہتا: ''اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ہے''؟

ج: یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسماء نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟ کیا وہ اس وقت زبیر کی بیوی نہ تھی؟ اور کیا اس نے زبیر کے ساتھ پہلے ہی مدینہ کی طرف ہجرت اختیار نہ کی تھی؟ کیونکہ اس وقت مکہ میں حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کسی مشکل یا مصیبت میں مبتلا تھے_اس وقت حضرت ابوبکر کی بیویاں کہاں گئی تھیں؟

۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے

رہایہ دعوی کہ اسماء شام کے وقت کھانا لیکر غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر کے پاس جاتی تھی نیز اس نے ان دونوں کیلئے زاد سفر تیار کیا تھا اور اسی نے ان کیلئے دو سواریاں بھیج دی تھیں، اس طرح اس کو ذات النطاقین کا لقب ملا تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں_

اولًا: یہ کہ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر کے چلے جانے کے تین دن بعد تک بھی کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جن نے اپنے اشعار میں اس کا اعلان کیا تو لوگوں کو علم ہوا _ اگر کوئی یہ کہے کہ تین دن سے مراد غار سے خارج ہونے کے بعد والے تین دن ہیں_ تو یہ بھی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۶۰ _۲۶۱ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قحافہ کی نظر میں اس کا بیٹا دین سے نکلا ہوا انسان تھا اور یہ کہ حضرت ابوبکر عبداللہ و غیرہ کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ روایت اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے _

۳۳۶

درست نہیں، کیونکہ ان لوگوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ غار سے خارج ہونے کے دو دن بعد ان کو علم ہوا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ چلے گئے ہیں_(۱) حلبی شافعی نے اسی طرح ذکر کیا ہے_ اور اس کی صحت وسقم کی ذمہ داری خود اسی کی گردن پر ہوگی_

مغلطای کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکے سے خارج ہونے کا علم حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو نہ تھا چنانچہ وہ دونوں غار ثور میں داخل ہوئے_(۲)

ثانیاً: منقول ہے کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام ہی نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سامان خورد و نوش غار تک پہنچاتے تھے(۳)

بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو پیغام بھیجا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے زاد راہ اور سواری کا بندوبست کریں_ چنانچہ حضرت علیعليه‌السلام نے اس کی تعمیل میں سواری اور زاد راہ کا بندوبست کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ارسال کی_ ادھر حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا تو اس نے زاد سفر اور دو سواریاں بھیجیں یعنی اس کے اور عامر بن فہیرہ کیلئے جیساکہ روایت میں مذکور ہے اور شاید حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے یہ سواری بھی خرید لی ہو_(۴) جیساکہ حضرت علیعليه‌السلام نے شوری والے دن اسی بات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے غار میں کھانا بھیجتا تھا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبروں سے مطلع کرتا تھا؟ وہ بولے:'' نہیں''_(۵)

یہاں سے یہ قول بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابوبکر غار میں ان دونوں کے پاس مکہ کی خبریں پہنچایا کرتا تھا_(۶)

___________________

۱_ السیرة الحلبی ج ۲ ص ۵۱_

۲_ سیرت مغلطای ص ۳۲ _

۳_ تاریخ دمشق (حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی) ج ۱ ص ۱۳۸ نیز اعلام الوری ص ۱۹۰ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۸۴ از اعلام الوری نیز تیسیر المطالب فی امالی الامام علی بن ابی طالب ص ۷۵__

۴_ اعلام الوری ص ۶۳ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۰ اور ص ۷۵ از اعلام الوری و از خرائج و از قصص الانبیاء _

۵_ احتجاج طبرسی ج ۱ ص ۲۰۴ _

۶_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۹، سیرت ابن ہشام اور کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۱۰ از بغوی اور ابن کثیر _

۳۳۷

ثالثاً: نطاق اور نطاقین والی حدیث بھی ایک طرف سے تو اختلاف روایات کا شکار ہے(۱) اور دوسری طرف سے مقدسی نے پہلے قول کو ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے'' کہا جاتا ہے کہ جب چادر والی آیت اتری تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمربند پر ڈالا اور اس کے دو برابر حصے کر دیئے_ ایک حصے سے اپنا سر چھپا لیا''_(۲)

یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماء نے حجاج سے کہا میرے پاس ایک کمربند تھی جس کے ذریعے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کھانے کو بھڑوں سے محفوظ رکھتی تھی اور عورتوں کیلئے ایک کمربند کی بھی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہی ہے_(۳)

حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث

حدیث باب اور ابوبکر سے دوستی والی حدیث''لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا '' (اگر مجھے کسی سے دوستی کرنی ہوتی تو ابوبکر کو دوست بنالیتا) کے سلسلے میں ہم تفصیلی گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ (ابن ابی الحدید) معتزلی کے بیان کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_ اس نے کہا '' ان احادیث کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے مریدوں نے اپنے پیر کی شان میں احادیث گھڑی ہیں مثال کے طور پر'' لوکنت متخذا خلیلا '' والی حدیث _انہوں نے یہ حدیث، بھائی چارے والی حدیث کے مقابلے میں گھڑی ہے_ نیز سد ابواب والی حدیث جو درحقیقت حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں تھی لیکن حضرت ابوبکر کے پرستاروں نے اس کو ابوبکر کے حق میں منتقل کردیا''_(۴)

علاوہ ازیں یہ حدیث ان کی نقل کردہ اس حدیث کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے

___________________

۱_ اس تضاد کے بعض پہلوؤں سے آگاہی کیلئے الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیے پر) ج ۴ ص ۲۳۳ کی طرف رجوع کریں _

۲_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۷۸ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۳۳ _

۴_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۱ ص ۴۹ و الغدیر ج ۵ ص ۳۱۱ _

۳۳۸

ابوبکر کو اپنا دوست چن لیا تھا جیساکہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے_(۱) اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کس کو ما نیں اور کس کو نہ مانیں؟

سد ابواب والی حدیث کے بارے میں شاید ہم کسی مناسب جگہ پر بحث کریں_ اسی طرح دوستی والی حدیث کے بارے میں حدیث مواخاة پر بحث کے دوران گفتگو ہوگی انشاء اللہ تعالی_

۵_ حضرت ابوبکر کی دولت

حضرت ابوبکر کی دولت اور ان کی چالیس ہزار درہم یا دینار نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر خرچ کرنے وغیرہ کے بارے میں عرض ہے کہ اسماء اور ابوقحافہ کے درمیان ہجرت کے دوران ہونے والی مذکورہ گفتگو اور دیگر باتوں کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں گزشتہ پانچ صفحوں میں ذکر شدہ عرائض کے علاوہ ہم درج ذیل نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

الف: وہ حدیث جس میں مذکور تھا کہ ''اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے جتنا احسان ابوبکر نے مجھ پر کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا اوریہ کہ ہمارے ساتھ احسان کرنے والے ہرفرد کا حق ہم نے ادا کردیا ہے سوائے ابوبکر کے جس کے احسان کا بدلہ خدادے گا'' یہ حدیث درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:

۱_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہما کی فدا کاریوں، مالی قربانیوں اور راہ اسلام میں ان کی امداد نیز جان مال اور اولاد کے ذریعے آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بدلہ کب دیا ؟ اسلام کی راہ میں ان دونوں نے جس قدر مال خرچ کیا اور قربانی دی کیاوہ تمام دوسرے انسانوں کی طرف سے اسلام کی راہ میں دی گئی قربانیوں اور دولت سے زیادہ نہ تھی؟ اس کے علاوہ اس دین کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کی واضح خدمات تھیں جن سے سوائے کسی سرکش اور ضدی دشمن کے کوئی انکار نہیں کرسکتا_

___________________

۱_ ریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۶ ،ارشاد الساری ج۶ ص ۸۶ از حافظ السکری ، الغدیر ج۸ ص ۳۴ مذکورہ دونوں مآخذ سے و از کنز العمال ج۶ ص۱۳۸_۱۴۰ طبرانی اور ابونعیم سے_

۳۳۹

۲_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر منت والی حدیث بھی عجیب ہے کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں کسی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت خدیجہعليه‌السلام بلکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے اموال موجود تھے_(۱) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہجرت کے وقت تک ان کو مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے اور شروع شروع میں حضرت ابوطالب کا بوجھ کم کرنے کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کا بھی خرچہ برداشت کرتے تھے_ منقول ہے کہ حضرت عمر نے اسماء بنت عمیس کی سرزنش کی اور کہا کہ مجھے تو ہجرت نصیب ہوئی لیکن تجھے نصیب نہیں ہوئی_ اسماء نے جواب دیا ''تم لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مال کے ساتھ اپنے بھوکوں کو کھلانے اور اپنے جاہلوں کی ہدایت میں مشغول تھے''_ اس کے بعد اسماء نے اس کی شکایت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے دو ہجرتوں سے سر افراز ہوئے جبکہ ان لوگوں نے فقط ایک ہجرت کی ہے_(۲)

۳_ یہاں یہ بتانا کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ ایک یا دو اونٹ ہجرت کے وقت قیمت کے بغیر قبول نہ فرمائے اور قیمت کی ادائیگی بھی فوراً کی، جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سخت ترین حالات سے دوچار تھے_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس مقام پر حضرت ابوبکر کاہدیہ قبول نہ فرمایا تو یہی حال حضرت ابوبکر کی طرف سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مال خرچ کرنے کے بارے میں مروی دیگر روایات کا بھی ہے_

۴_ ان باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے مکہ میں کوئی لشکر ترتیب نہیں دیا اور نہ کوئی جنگ کی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لشکر کی تیاری نیز سواریوں اور سامان حرب پر وسیع پیمانے پر خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عیش وعشرت پر بھی مال خرچ نہ فرماتے تھے_

___________________

۱_ ابتدائے بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابوطالب شعب ابوطالب میں بنی ہاشم پر اپنا مال خرچ کرتے تھے_ رہی بات حضرت خدیجہعليه‌السلام کی دولت تو وہ اپنی شہرت کی بنا پر محتاج بیاں نہیں حضرت خدیجہ کے اموال کے بارے میں ابن ابی رافع کا کلام پہلے گزر چکا ہے_

۲_ رجوع کریں : الاوائل ج ۱ ص ۳۱۴ و البدایة و النہایة ج ۴ ص ۲۰۵ از بخاری و صحیح بخاری ج ۳ ص ۳۵ مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ، صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۷۲، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۶ از ابونعیم اور طیالسی نیز رجوع کریں فتح الباری ج ۷ ص ۳۷۲ اور مسند احمد ج ۴ ص ۳۹۵ اور ۴۱۲ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۶۱_

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417