الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)19%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209994 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

فطرت اور عقل سلیم کا بھی تقاضا ہے) ہی حالات کے مقابلے میں آگاہانہ اور لچک دار روش اپنا نے کا صحیح طریقہ کارہے_ یہ اس صورت میں ہے کہ جب اہل باطل مادی طور پرطاقتورہوں اور اہل حق اپنا دفاع کرنے پر قادر نہ ہوں_

بیعت کی شرائط

یہاں ہم اس بات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے انہیں اسلام کی تبلیغ اور حفاظت کی راہ میں آئندہ پیش آنے والی مشکلات اور سختیوں کے بارے میں خبردار کیا تاکہ وہ لوگ شروع سے ہی آگاہ رہیں اور بغیر کسی ابہام یا شک کے آگاہی و بیداری کے ساتھ اقدام کریں تاکہ کل ان کیلئے اس قسم کے بہانے کی کوئی گنجائشے نہ رہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کے حالات اس قدر سنگین صورت اختیار کرجائیں گے_

حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کے وہم و گمان سے مکمل طور پر اس بات کونکال باہر کرنا چاہتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا نخواستہ ان کے ساتھ کوئی دھوکہ کیا ہو_ نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان میں سے ہر ایک کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سبز باغ دکھا کر کسی کو بھی پھنسانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی خوبصورت خوابوں اور امیدوں کی خیالی دنیا میں بسانا چاہتے ہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک وسیلہ ہدف کا ہی ایک حصہ تھااگرچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی مدد کے سخت محتاج تھے بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو اپنی دعوت کے پورے عرصے میں ان لوگوں کے سوا کسی قوم کو اپنا حامی نہیں پایا تھا_

نقیبوں کی کیا ضرورت تھی؟

وعدے اور عہد کی پابندی عربوں کی طبیعت میں شامل تھی ہر قبیلہ اپنے کسی فرد یا حلیف کے عہد وپیمان کو پورا کرنے کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا تھا_

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے ایمان لانے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرنے پر بیعت لی (جیساکہ بیان ہوچکا ہے) تو آپ نے ایک محدود پیمانے پر ان کو (اس بیعت کا) پابند بنانے کا ارادہ فرمایا

۲۶۱

تاکہ مستقبل میں کچھ ایسے ذمہ دار افراد موجود ہوں جن سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس عہد و پیمان کو پورا کرنے کا مطالبہ کرسکیں_ ان وعدوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری انہی نقیبوں پر آتی تھی اور انہی سے مذکورہ مطالبہ کیا جاسکتا تھا_ کیونکہ یہی لوگ اپنی اور اپنی قوم کی مرضی سے ان کے ضامن بنے تھے_

لیکن اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ان امور کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے تو ممکن تھا کہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں سے جان چھڑاتا اور نتائج کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو ان سے بری سمجھتا اور یہ خیال کرتا کہ انفرادی حیثیت سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی_

لیکن جب بعض افراد ضامن بن گئے (جن کا تعلق مختلف قبائل سے تھا) تو ذمہ داریوں کا دائرہ بھی معین اور مشخص ہوگیا اور یہ بات ممکن ہوگئی کہ ضرورت کے موقع پر بالخصوص جنگ یا دفاع کی صورت میں ان سے عہد کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکے_

یوں اس مسئلے کو لوگوں کی انفرادی خواہشات بلکہ اس سے بھی اہم مسئلہ یعنی اجتماعی مسائل میں افراتفری اور بے نظمی سے نجات مل گئی_ یوں انفرادی و اجتماعی سطح پر معاشرے کو بنانے اور منظم کرنے کا مرحلہ شروع ہوا_

مشرکین کا ردعمل

ہم یہاں مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین نے عقبہ کی دوسری بیعت کے مسئلے کو زبردست اہمیت دی_ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ والوں کو داخلی کمزوری اور اوس اور خزرج کے درمیان خانہ جنگیوں کے باعث پیدا شدہ خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں جنگ کی دھمکی دی_

جی ہاں قریش نے ان کو جنگ کی دھمکی دی حالانکہ اس قسم کی جنگ ان کیلئے زبردست اقتصادی نقصانات کا باعث بنتی کیونکہ شام (جو قریش کیلئے بہترین تجارتی منڈی تھا) کی طرف ان کے تجارتی قافلے مدینہ کے راستے سے گزرتے تھے_ اس کا مطلب یہ تھا کہ مشرکین کو اس بیعت سے زبردست خطرہ لاحق ہوگیا تھا جس

۲۶۲

کے باعث وہ دعوت اسلامی کو قبول کرنے اور اس کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ اپنے دوستانہ روابط کو بھی قربان کرنے پر مجبور ہوچکے تھے اگرچہ وہ اہل مدینہ ہی کیوں نہ ہوں جن کے ساتھ جنگ سے وہ زبردست کتراتے تھے_ چنانچہ عبداللہ بن ابی سے اس سلسلے میں ان کی گفتگو کا ذکر پہلے ہوچکا ہے_ یہاں سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ مکہ ہیں رہنے والے مسلمان ظلم و ستم کی چکی میں کس طرح پس رہے تھے_

خلافت کے اہل افراد کی مخالفت

جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بیعت کے متن میں اہل مدینہ کیلئے جو شرائط رکھی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ مدینہ والے مسئلہ خلافت میں اس کے اہل سے نزاع نہیں کریں گے_

بیعت کے متن میں اس شرط کا رکھنا فتح و شکست کے نقطہ نظر سے اسلام کیلئے تقدیر ساز تھا اور اس شرط کو نبھانے سے انکار کی صورت میں پوری بیعت سے نکل جانے کا خطرہ تھا چنانچہ بنی عامر کے مسئلے میں یہی ہوا تھا (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے)_ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی نظر میں(جن کا نظریہ اسلام کے حقیقی نظریات کاترجمان تھا)، نہایت اہمیت کا حامل تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بارے میں کسی قسم کی رو رعایت کیلئے ہرگز آمادہ نہ تھے اگرچہ عظیم ترین خطرات سے دوچار ہی کیوں نہ ہوں_ بالفاظ دیگر مسئلہ خلافت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اختیار میں نہ تھا بلکہ خدا کے اختیار میں تھا تاکہ جسے مناسب سمجھتا خلافت سے سرفراز کرتا_ یہ وہ امر تھا جس کو پہنچائے بغیر تبلیغ رسالت بے معنی ہوکررہ جاتی_

اس کے علاوہ ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابتدا سے ہی ایک خاص اور معینہ ہدف کیلئے راستہ ہموار کررہے تھے وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک طرف سے تو لوگوں کو حکومت و خلافت کے مستحق معینہ افراد سے نزاع نہ کرنے کا حکم دیں لیکن دوسری طرف سے اس مخصوص خلیفہ کی نشاندہی بھول جائیں_

یہاں اس واقعے کی کڑی کوپہلے ذکر شدہ دعوت ذوالعشیرہ، (جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب الہی سے ڈراتے وقت مذکورہ شخص کی نشاندہی کی تھی) کے واقعے سے ملانااور پھر اس واقعے کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

۲۶۳

کی ان پالیسیوں، بیانات اور اشارات خصوصاً غدیر کے واقعہ کے ساتھ جوڑنا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا ذکر بعد میں ہوگا_

ابھی تک جنگ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا

ایک اور نکتہ کی طرف بھی توجہ ضرور رہے وہ یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عقبہ میں جمع ہونے والوں کو تلواروں کے ساتھ قریش کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس اقدام کا مطلب اس دین اور اس کے مومن طرف داروں کا خاتمہ تھا_ خصوصاً ان کی قلت اور ایام حج کے پیش نظر جب لوگ ہر طرف سے مکہ میں جمع ہوئے تھے اور وہ سب قریش کے طریقہ و مسلک و مزاج پرتھے نیز دینی، نظریاتی اور فکری نقطہ نظر سے قریش کے تابع تھے_ یہاں تک کہ ان کے مفادات بھی قریش سے وابستہ تھے_ ان حالات میں انصار کیلئے اپنے دشمنوں پر خود ان کے علاقے میں فتح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہ تھا_

قریش کی نظر میں مدینہ کی بڑی اہمیت تھی خاص کر اس لحاظ سے کہ مدینہ شام کی طرف جانے والے قریش کے تجارتی قافلوں کی اہم گزرگاہ تھی_ اسی وجہ سے انہوں نے سعد بن عبادہ کو رہا کیا تھا لیکن یہی قریش انصارکے اس موقف پر خاموش نہ رہ سکتے تھے یوں قریش کے سامنے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہتا کہ تمام حاجیوں حتی مدینہ کے مشرکین کی موجودگی میں انصار پرفیصلہ کن اور مہلک وار کرتے کیونکہ جنگ کرنے کی صورت میں انصار متجاوز محسوب ہوتے اور قریش کیلئے اپنی صوابدید کے مطابق مناسب کیفیت اور کمیت کے ساتھ اس تجاوز کا مقابلہ کرنا ضروری ہوتا_

۲۶۴

پانچواں باب

مکہ سے مدینہ تک

پہلی فصل : ہجرت مدینہ کا آ غاز

دوسری فصل : ہجرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

تیسری فصل : قبا کی جانب

چوتھی فصل : مدینہ تک

۲۶۵

پہلی فصل

ہجرت مدینہ کا آغاز

۲۶۶

وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے _

آئمہ معصومینعليه‌السلام سے منقول ہے کہ ''حب الوطن من الایمان''(۱) یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے_ پہلی نظر میں اس جملے کا کوئی درست اور قابل قبول مفہوم بنتا نظر نہیں آتا کیونکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کیونکر ایمان کا حصہ قرارپائے؟ کیا اس خاک کو جس پر انسان کی ولادت ہوئی اور جس کی فضاؤں میں اس نے زندگی گزاری ہے صرف خاک ہونے کے ناطے اس قدر اہمیت اور احترام حاصل ہے کہ اس کی محبت ایمان کا حصہ قرار پائے؟ خواہ جغرافیائی طور پر اس کی حالت کتنی ہی بدتر کیوں نہ ہو؟ کیا اس محبت کے فقدان کی صورت میں انسان کا ایمان ناقص اور مطلوبہ اثرات سے عاری ہوگا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہمیں یہ نکتہ ملحوظ خاطر رکھناہوگا کہ اسلام کی نظر میں اہمیت کی حامل اس محبت سے مراد ایسی اندھی محبت نہیں ہوسکتی جس کا کوئی مقصد یا فائدہ نہ ہو یا اسلام کی مخالف سمت میں ہو بلکہ اس سے مراد ایسی محبت ہے جو اسلام کے عظیم اہداف سے ہم آہنگ ہو_ نیز حقیقی ایمان اور دینی بنیادوں پر استوار ہو_ اس قسم کی محبت ہی ایمان کا حصہ ہوسکتی ہے_

علاوہ براین وطن (جس کی محبت کو ایمان قرار دیا جارہا ہے) سے مراد وہ جگہ بھی نہیں جہاں انسان کی پیدائشے واقع ہو بلکہ اس سے مراد وہ عظیم اسلامی وطن ہے جس کی حفاظت دین اور انسانیت کی حفاظت شمار ہوتی ہو کیونکہ یہ دین کی تقویت اور اعلاء کلمة اللہ کا باعث ہے_

نیز یہی وطن اسلام کی طاقت کا مرکز ہے کیونکہ وہ امن و سکون کی آماجگاہ، نیز فکری و روحانی اور مادی

___________________

۱_ سفینة البحار ج ۲ ص ۶۶۸_

۲۶۷

تربیت گاہ ہے اور پھر یہیں سے بہتر اور مثالی مراحل کی طرف انتقال کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن اس وطن سے دوری اور استقلال اورسکون کے فقدان کی صورت میں (تعمیری) قوتیں ضائع ہوجاتی ہیں کیونکہ وہاں انسان کو اپنی حقیقت اور اپنے مستقبل کے بارے میں غوروفکر کی فرصت ہی نہیں ملتی اور اگر اس کا موقع مل بھی جائے تو مرکزیت جو منظم اور ٹھوس پیشرفت نیز استحکام اور عمل پیہم کا موقع فراہم کرتی ہے، کے فقدان کے باعث وہ اپنے فیصلوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا_

خلاصہ یہ کہ وطن، دین اور حق کے دفاع نیز برگزیدہ وبلند اہداف تکے پہنچنے کا وسیلہ ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ بنابریں اصل چیز دین اور انسان ہیں _رہا وطن اوردیگر چیزیں توان کو دین وانسانیت کی خدمت کا وسیلہ سمجھنا چاہیئے_

پس جو شخص اسلام کی حفاظت یا اس سے محبت کے پیش نظر اپنے وطن کی محافظت یا اس سے محبت کرتا ہے اسے ایمان کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے_

لیکن اگر وطن شرک وکفر وانحراف اور انحطاط انسانیت کی سر زمین ہو تو اس قسم کے وطن کی حفاظت یا اس سے محبت درحقیقت شرک کی تقویت اور حفاطت ہوگی_ اور اس محبت کا تعلق کفر وشرک سے ہوگا نہ کہ ایمان اور اسلام سے_

اس لئے قرآن اور اسلام نے ان لوگوں کو جو بلاد شرک میں رہتے ہوں (اوران کا وہاں رہنا دین وایمان کی کمزوری کا باعث ہو) حکم دیا کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے بلاد ایمان واسلام کی طرف چلے جائیں جہاں وہ اپنے دین نیز تخلیقی صلاحتیوں سے مالا مال عظیم انسانیت کی خاطرخواہ اور مؤثر حفاظت کرسکیں_ ارشاد الہی ہے( ان الذین توفاهم الملائکة ظالمی انفسهم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض الله واسعة فتهاجروا فیها فا ولئک ما واهم جهنم وسائت مصیرا ) (۱)

___________________

۱_ سورہ نساء آیت ۹۷ _

۲۶۸

یعنی فرشتے جن لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اوران سے پوچھتے ہیں تم کس حال میں تھے، وہ کہیں گے ہم زمین میں کمزور اور مجبور تھے_ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی تاکہ تم اس میں ہجرت کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے_

بلکہ اگرکسی انسان کا وطن جہاں وہ پیداہوا ہو دین حق کے مقابلے پر اور نور الہی کو بجھانے کی کوشش میں ہو تو اس کو برباد کرنا ہر ایک کے اوپر لازم ہے_ یہاں تک کہ خود اس شخص پر بھی، جس کی وہاں ولادت ہوئی ہو اور زندگی گزری ہو_(۱)

بنابریں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور اصحاب کی مکہ سے مدینہ کو ہجرت فطرت انسانی، عقل سلیم اور صحیح طرزفکر کے تقاضوں کے عین مطابق تھی_ کیونکہ صحیح فکر کے سامنے اچھے اور بلند اہداف ہوتے ہیں نیز اس کی نظر میں ہر چیز کی قدر وقیمت اتنی ہی ہوتی ہے جس قدر ان اہداف کے ساتھ سازگار اور ان تک رسائی میں مددگار ثابت ہو_

آیئےب ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ کی طرف ہجرت کن حالات میں، کن اسباب کی بناپر، اور کس طرح ہوئی؟

ہجرت مدینہ کے اسباب

مکہ سے مدینہ ہجرت کے اسباب بیان کرتے ہوئے ہم درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں:

۱_ مکہ دعوت اسلامی کیلئے مناسب جگہ نہ تھی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے مکے میں کامیابی کی جتنی گنجائشے تھی وہ حاصل ہو چکی تھی اور اب اس بات کی امید نہیں تھی کہ مزید لوگ کم ازکم مستقبل قریب میں، اس نئے دین کو اپنائیں گے_

___________________

۱_ علامہ محقق شیخ علی احمدی کا خیال ہے کہ معصومین کے قول ''حب الوطن من الایمان'' کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اپنے وطن سے محبت ہو وہ اس وطن کو انحرافات سے نجات دینے، اس کی مشکلات کو دور کرنے اور وہاں کے معاشرے کو حق و ایمان اور اسلام کی طرف رہنمائی کرنے کیلئے کوشاں ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے_

۲۶۹

جب تک لوگوں کے قبول اسلام کے باعث اس کی تقویت واعانت کی امید تھی مصائب ومشکلات کو برداشت کرنے کی معقول وجہ موجود تھی_لیکن اب مکہ اپنا سب کچھ دے چکا تھا_

مومن جوانوں اور مستضعفین کی کافی تعداد اسلام قبول کرچکی تھی_ لہذا اب مکہ میں وہی لوگ رہ گئے تھے جو اطاعت خدا کیلئے سد راہ تھے_ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے اور اس کے پھیلاؤ کو روک رہے تھے_ ان حالات میں مزید وہاں ٹھہرنا نہ صرف بے دلیل ہوتا بلکہ اسلامی دعوت کے ساتھ خیانت اور اس کے خلاف جنگ میں مدد اور اس کی شکست کا باعث ہوتا_ خاص کر ان حالات میں جبکہ قریش راہ خدا سے لوگوں کو روکنے اور نور الہی کو بجھانے کیلئے اپنی قوتوں کو مجتمع کر رہے تھے حالانکہ خدا کو بس یہ منظور تھا کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے اگرچہ مشرکین کو یہ بات نا پسند ہو_

جی ہاں اب یہ بات ناگزیر ہوگئی تھی کہ ایک نئے مرکز کی طرف منتقل ہواجائے، جہاں سکون واطمینان کے ساتھ مشرکین کے دباؤ اور ان کے زیر تسلط اور زیر اثر علاقوں سے دور رہ کر زبانی اور عملی طور پر آزادی کے ساتھ تبلیغ دین کرنے کی ضمانت فراہم ہو_

ادھر ہم مشاہدہ کرچکے ہیں کہ مشرکین رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے_ وہ مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے بلکہ اس نئے دین میں داخل ہونے والے ہر شخص کو سزائیں دیتے اور جن لوگوں کے مسلمان ہونے کا خطرہ ہوتا انہیں ڈراتے تھے_

۲_اسلام اور اس کے داعی اور نمائندہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے کسی محدود کامیابی پر اکتفا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ اسلام پوری انسانیت کا دین تھا، ارشاد الہی ہے( وما ارسلناک الا کافة للناس ) (۱) ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تمام انسانوں کیلئے (بشیر ونذیر بناکر) بھیجا ہے _

واضح ہے کہ اب تک جو کامیابیاں نصیب ہو چکی تھیں وہ اسلام کی تعلیمات کو عملًا نافذ کرنے اور اس کے سارے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ناکافی تھیں خصوصاً لوگوں کے معاشرتی واجتماعی مسائل وغیرہ کے حل

___________________

۱_ سورہ سبا آیت ۲۸ _

۲۷۰

سے متعلق پہلوؤں کے نقطہ نظرسے کہ (قانون اور نظام کی موجودگی میں)جن کو نافذ کرنے کیلئے طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے_

ادھر بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ذات کو تو دشمنوں کے شرسے بچانے کی ضمانت دے سکتے تھے لیکن وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب اور اس نئے آسمانی دین میں داخل ہونے والوں کی حفاظت کے ضامن نہیں بن سکتے تھے ،خاص کراس صورت میں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بوقت ضرورت اسلامی تعلیمات کے فروغ کو ان پر ضروری قرار دینے کی کوشش فرماتے_ کیونکہ اس صورت میں تو وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی معمولی سی حمایت بھی نہ کرپاتے_

حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے بعد تو حالات نے خودرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خلاف بھی خوفناک شکل اختیار کرلی تھی جیساکہ ہم ملاحظہ کرچکے اورآئندہ بھی ملاحظہ کریں گے_

۳_دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے مسلمان سالہاسال سے آزار اور مظالم کو سہتے چلے آرہے تھے یہاں تک کہ کچھ مسلمان اپنے دین کی حفاطت کے پیش نظر مکہ سے بھاگ کر دوسرے علاقوں میں چلے گئے

جو مسلمان مکہ میں باقی رہے قریش ان کو گمراہ کرنے کیلئے ظلم و زبردستی اور دھوکہ و فریب کے مختلف حربے استعمال کرتے رہے اور یہ مسلمان ان کا سامنا کرتے رہے_

اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر (حمزہعليه‌السلام ) نیز بعض دوسرے معدود مسلمانوں ( جنہیں اپنے قبیلوں کی حمایت حاصل تھی)(۱) کے علاوہ باقی مسلمان غالباًغریب اور بے چارے لوگ تھے جن کیلئے سختیوں پر صبر وتحمل کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا _اگر یہ لوگ آلام و مشکلات کا یونہی سامنا کرتے رہتے اور امیدکی کوئی کرن بھی نظر نہ آتی تو پھر خواہ ان کا ایمان کتنا ہی قوی کیوں نہ ہوتا، فطری بات تھی کہ ان حالات میں وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے، اس قسم کی زندگی سے اکتا جاتے اور زودگزر خواہشات ان پر غلبہ پا لیتیںیوں وہ خود بھی ہلاک ہوجاتے اور

___________________

۱_ حتی کہ یہ لوگ بھی نفسیاتی اور روحانی کرب و آزار نیز تلخ اجتماعی منافرت سے محفوظ نہ تھے بسا اوقات یہ حالت بعض مسلمانوں کیلئے (شعور و آگاہی اور تیزبینی میں دوسروں سے ممتاز ہونے کی وجہ سے) جسمانی ایذا رسانی سے بھی سخت بات تھی_

۲۷۱

دوسروں کو بھی ہلاک کرتے، کیونکہ مصائب و مشکلات کے ساتھ پوری زندگی گزارنا ان کے بس کی بات نہ تھی چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب جنگ احد میں یہ افواہ پھیلی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا شہید ہوچکے ہیں تو بعض لوگ دوبارہ مشرک ہوجانے کی سوچنے لگے اور مشرکین کے ساتھ صلح کا راستہ، ڈھونڈنے لگے_ اس بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی_

( وما محمد الا رسول قدخلت من قبله الرسل ا فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب منکم علی عقبیه فلن یضرالله شیئا، وسیجزی الله الشاکرین )

یعنی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو بس اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ان سے پہلے بھی متعدد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گزرچکے ہیں توکیا اگران کی موت واقع ہو یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پاؤں پھرجاؤگے؟ یاد رکھوتم میں سے جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا_البتہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو جزائے خیر دے گا_(۱)

۴_قریش آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کرنے کی ایک ایسی راہ موجود ہے جس میں بنی ہاشم کے سامنے ان پر کوئی واضح ذمہ داری عائدنہیں ہوگی بالفاظ دیگر بنی ہاشم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا مطالبہ نہ کرسکیں گے کیونکہ ان کے منصوبے کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دس آدمی ملکر قتل کرتے جن کا تعلق مختلف قبائل سے ہوتا_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاخون بہت سے قبائل کے درمیان تقسیم ہوجاتا کیونکہ بنی ہاشم ان سب کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے_ اگر بنی ہاشم ان سب سے لڑتے تو خود مصیبت میں پھنس جاتے_ لیکن اگر دیہ (یا خون بہا) قبول کرلیتے تو یہ قریش کیلئے اور بھی اچھا ہوتا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قتل ہوجاتے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروکاروں کو ختم کرنا بہت آسان ہوجاتا اور قریش کو کوئی خاص پریشانی پیش نہ آتی بلکہ اگر مسلمانوں کو یونہی چھوڑ دیتے تب بھی وہ خود بخود ختم ہوجاتے_

یہ تھا قریش کا خیال اور منصوبہ، یاد رہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اگرچہ خدا کا لطف و کرم تھا اور اس کی توجہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرتھی لیکن بدیہی بات ہے کہ اگر قریش اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے تو خواہ ان کو

___________________

۱_ سورہ آل عمران آیت ۱۴۴ _

۲۷۲

کامیابی ہوتی یا ناکامی نتیجتاً بنی ہاشم اور قریش کے روابط نہایت کشیدہ ہوجاتے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مکہ میں رہنے کی صورت میں حالات بدترہوجاتے_ ادھر خدا کا قانون یہ رہا ہے کہ وہ کسی شخص کو اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے جبری طور پر نہیں روکتا_ ہاں جب دین اور انسانیت کی حفاظت کیلئے نبی کی حفاظت ضروری ہو تو اس صورت میں اللہ کی عنایات نبی کے شامل حال ہوتی ہیں اور دشمن اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے عاجز رہتے ہیں_

خلاصہ یہ کہ ان حالات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کیلئے مکہ سے نکل کر کسی ایسے پرامن مقام کی طرف جانا ضروری ہوگیا تھا جہاں وہ زیادہ بہتراور جامع صورت میں اپنی دعوت کو پھیلانے اور اپنے مشن کو لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کرسکتے_

مدینہ کے انتخاب کی وجہ

رہا یہ سوال کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے دوسرے مقامات مثلاً حبشہ وغیرہ کو چھوڑ کر مدینہ کو کس بنا پر اپنی ہجرت اور اپنی دعوت کا مرکز منتخب کیا؟

اس سوال کے جواب میں کئی ایک اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے _یہاں ان میں سے درج ذیل کا تذکرہ کرتے ہیں:

۱_مکے کو لوگوں کے ہاں ایک خاص روحانی مقام حاصل تھا _بنابریں مکے پر تسلط حاصل ہوئے بغیر، نیز بت پرستوں کے اثر ونفوذ کوختم کر کے اس کی جگہ اسلام کی قوت کو جاگزین کئے بغیر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کامیابی سے ہمکنار نہ ہوتی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام کوششیں رائیگاں جاتیں_ کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کو مکے کی اسی قدر ضرورت تھی جس قدر مکے کو اس دعوت کی_

اسلئے مکے سے قریب ہی ایسے مقام کا انتخاب ضروری تھا جہاں سے بوقت ضرورت مکے پر اقتصادی وسیاسی بلکہ فوجی دباؤ بھی ڈالاجاسکتا ہو کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکے پر تسلط حاصل کرنے کی ضرورت تھی_

۲۷۳

ادھرمدینہ ہی وہ مناسب جگہ تھی جہاں اس مطلوبہ دباؤ کے سارے لوازمات موجود تھے_ مدینہ اہل مکہ کو اقتصادی بحران میں مبتلا کرسکتا تھا_کیونکہ مدینہ مکہ کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ تھا، اور قریش کا گزارہ بھی بنیادی طور پرتجارت پرہی تھا_

چنانچہ پہلے بیان ہوچکا کہ مشرکین قریش نے بیعت عقبہ کے وقت عبداللہ بن ابی سے کہا تھا ''ہماری ناپسندیدہ ترین جنگ جو چھڑ سکتی ہے وہ تم لوگوں سے ہی ہے''_

نیز اس بات کا بھی تذکرہ ہوچکا ہے کہ جب قریش نے بیعت عقبہ کے بعد سعد بن عبادہ کو پکڑکر سزادی تو حارث بن حرب اور جبیر ابن مطعم نے آکر نجات دی_ کیونکہ وہ ان کے مال تجارت کی حفاظت کرتا تھا_

واضح ہے کہ جب اکیلے حضرت ابوذر کے ہاتھوں قریش کی جو شامت آئی سوآئی تو پھر اہل مدینہ کی طرف سے مستقبل میں ان کی جو شامت آتی وہ زیادہ شدید اور دور رس اثرات کی حامل ہوتی_

۲_ان بیانات کی روشنی میں ہم پر واضح ہوا کہ مدینے کی طرف ہجرت کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا کیونکہ اگر طائف کی طرف ہجرت کی جاتی تو کوئی فائدہ نہ ہوتا چنانچہ ہم دیکھ چکے کہ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں ہجرت کی تواہل طائف نے منفی جواب دیا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل طائف کے خیال میں مکہ والے ان پر اقتصادی دباؤ ڈال سکتے تھے اور مکہ والوں کو ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی جس قدر انہیں اہل مکہ کی_ نیز آئندہ (کم از کم مستقبل قریب میں) ان کیلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سیاسی طور پر اہل مکہ کی متابعت کرتے اور ان کے زیر تسلط رہتے_ رہے عرب کے دیگر قبائل تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آزما چکے تھے کہ وہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت قبول کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کیلئے آمادہ نہ تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں اگرنقصان دہ نہیں پایا تھا تو کم از کم اس نتیجے پر ضرور پہنچے تھے کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کسی کام نہیں آسکتے_

ادھر یمن، فارس، روم اور شام کے علاقوں پر نظر کریں تو وہ ان دو بڑی سلطنتوں کے آگے سر تسلیم خم تھے جن سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کو سوائے مشکلات اور عظیم خطرات کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا_

ہم نے اس کتاب کے باب اول کے اواخر میں اسلام کی اشاعت اور کامیابی کے اسباب کا ذکر کرتے

۲۷۴

ہوئے اس سلسلے میں کچھ بحث کی تھی_ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کسری کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے اپنا ایلچی بھیجا تھا تو اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے خلاف ایک خطرناک کاروائی کرنے کی کوشش کی تھی_ رہی حبشہ کی بات توواضح ہے کہ حبشہ ایسا ملک نہیں تھا جو اقتصادی، سیاسی اور عسکری نقطہ نظر سے (بلکہ فکری وسماجی حوالے سے بھی) ایک عالمگیر اور جامع انقلاب کی قیادت کرسکتا_

لہذا صرف اور صرف مدینہ ہی باقی رہ جاتا تھا_ چنانچہ ہجرت کیلئے اسی سر زمین کا انتخاب ہوا_

۳_مذکورہ اسباب کے علاوہ مدینہ زرعی نقطہ نظر سے مکے کی نسبت زیادہ خود کفیل تھا_ بالفاظ دیگر اگر ان کو کسی قسم کے تجارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا (اگرچہ مکہ والے ایسا نہیں کرسکتے تھے) تو وہ اغیار کی خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کئے بغیر اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا گزارہ کر سکتے تھے اگرچہ بمشکل ہی سہی_

زرعی پہلو کے علاوہ دیگر پہلوؤں سے بھی مدینے کو ترجیح حاصل تھی_ نیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی دعوت کیلئے وسیع فعالیت اور ہمہ گیر جد وجہد کی ضرورت تھی کیونکہ یہ عالمی سطح پر ایک جامع انقلاب کی قیادت کرنے والی تھی_ علاوہ بریں اس دعوت کو داخلی طور پر اقتصادی استحکام کی ضرورت تھی تاکہ اس کی بدولت اس دعوت کے علمبرداروں کو اپنے دین کی اشاعت اور اپنے مشن کے پھیلاؤ کی جدوجہد کا موقع میسر ہوسکتا_

۴_چونکہ حج اسلام کے اہم ترین احکام میں سے ایک تھا بنابریں جب تک مکے پر بت پرستوں کا تسلط رہتا حج کی افادیت جاتی رہتی_ نیز عرب قبائل کے درمیان قریش کا وسیع اثر ونفوذ باقی رہتااوران قبائل کے دلوں میں مشرکین مکہ کو ایک قسم کا تقدس بھی حاصل رہتا_ بنابریں مکے کوان کے ہاتھوں سے چھڑانا ضروری تھا تاکہ لوگوں کے نزدیک ان کو جو روحانی مقام حاصل تھا اس کاخاتمہ ہوجاتا اور اس نئے دین کیلئے لوگوں کے دلوں کے دروازے پوری طرح کھل جاتے اورمسلمان کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل آزادی کے ساتھ اس عظیم دینی فریضے کو ادا کرسکتے_

اس بات کی دلیل طبرانی وغیرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ذی الجوشن ضبابی کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے اس وقت تک اسلام کو قبول کرنے سے انکار کیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے کعبے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا

۲۷۵

غلبہ نہ دیکھ لے_ ایک اور روایت میں مرقوم ہے کہ اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا:''میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جھٹلایا اور نکال باہر کیا نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مقابلہ کیا_ اب میں دیکھتا ہوں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا کرتے ہیں_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان پر فتح حاصل ہوئی تو میں مسلمان ہوجاؤں گا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کروں گا، لیکن اگر انہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرغلبہ حاصل ہوا تو پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت نہیں کرونگا''_(۱)

علاوہ ازیں مکہ سے قریب ترین اور مناسب جگہ مدینہ تھی_ مدینہ اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی افرادی قوت کابھی حامل تھا_ اورمکے والوں کے خلاف اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دینے پر قادر تھا_ مکے کے قریبی علاقوں میں سے مدینے کے علاوہ کوئی بھی علاقہ ان خصوصیات کا حامل نہ تھا_

۵_گذشتہ معروضات کے علاوہ مدینہ والے اصل میں یمن کے تارکین وطن تھے اور یمن قدیم زمانے کی ابتدائی تہذیب وتمدن کاکچھ حد تک حامل رہا تھا_ بنابریں وہ عرب نہیں تھے کہ ان کے دل قساوت سے لبریز ہوتے_ نیز قریش کی طرح اس علاقے میں ان کیلئے اقتدار یابڑے مفادات کا مسئلہ بھی در پیش نہ تھا_ نہ ہی وہ کسی خاص قسم کے نفسیاتی ماحول میں زندگی گزارتے تھے جس طرح قریش والے عدنانیوں کے درمیان اپنی خاندانی حیثیت، مکہ کی سرداری اور بیت اللہ کے متولی ہونے کے باعث ایک خاص قسم کے نفسیاتی ماحول میں رہ رہے تھے_

ان باتوں کے ساتھ ساتھ عدنانیوں اور قحطانیوں کے درمیان واضح اختلاف کا مسئلہ بھی تھا_ قحطان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو دشمنوں کے حوالے کرنے کیلئے (دینی یا نظریاتی جذبات سے قطع نظر) آمادہ نہیں ہوسکتے تھے_ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی وفات کے بعد بھی اس اختلاف کے آثار دیکھنے میں آتے ہیں اسی بنا پر حضرت عمرنے بیت المال کی تقسیم میں عدنانیوں کو قحطانیوں پر ترجیح دی_ اس بات نے امویوں کیلئے اس روش سے استفادہ کرنے نیز یمنیوں اور قیسیوں کے درمیان فتنوں کی آگ بھڑکانے کا راستہ ہموار کیا_

___________________

۱_ مجمع الزوائد ج ۲ ص ۶۸ یہاں یوں مذکور ہے، اسے عبداللہ بن احمد اور اس کے والد نے نقل کیا ہے لیکن اس کا متن ذکر نہیں کیا_ طبرانی سے بھی اسے نقل کیا ہے_ (ان دونوں کے راوی بخاری کے راوی ہیں) نیز ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے_

۲۷۶

جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی نظر میں اولاد اسماعیل کو اولاد اسحاق پر کوئی ترجیح حاصل نہ تھی_ (بہرحال یہ اس بحث کا مقام نہیں)_

۶_پھراہل مدینہ نے انحراف وگمراہی کا مزہ نہایت اچھی طرح سے چکھا تھا_ جنگوں نے ان کو تباہ وبرباد کر ڈالا تھا_ وہ مستقل طور پر خوف ودہشت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے_ یہاں تک کہ وہ شب وروز مسلح رہتے تھے اور اپنے بدن سے اسلحوں کوجدا نہ کرتے تھے (جس کا ذکر ہو چکا ہے)_ یہ بھی بیان ہوچکا کہ خزرج والے قریش کو اپنا حلیف بنانے کیلئے مکہ بھی گئے تھے لیکن قریش نے ان کی بات نہ مانی_ اہل مدینہ اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ اس گھٹن کی فضا سے نکلیں_ یہاں تک کہ اسعد بن زرارہ نے اس امر پر اپنے غم وافسوس کا اظہار کیا _چنانچہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے یوں عرض کیا:'' ہمارا تعلق یثرب کے قبیلہ خزرج سے ہے_ ہمارے اور اوسی بھائیوں کے درمیان تعلقات منقطع ہیں_اگر اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ان تعلقات کو بحال کردیتا ہے تو کیا ہی اچھی بات ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ صاحب عزت اور کوئی نہیں ''_ (ان باتوں کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے) _

اس کے علاوہ مدینے میں اسلام کے پہنچنے کے بعد وہاں کے مسلمانوں کی حفاظت اور اعانت ضروری تھی تاکہ اس دین کی حمایت اور اعلاء کلمہ حق کا سلسلہ جاری رکھ سکتے_

۷_آخری نکتہ یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ظہور کا زمانہ قریب ہونے کے بارے میں یہودیوں کی پیش گوئیوں کے باعث سارے لوگ اس دین کو قبول کرنے کیلئے آمادہ تھے_ لیکن ان کو مناسب فرصت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی_ان حالات میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا انہیں کیسے نظر انداز کرسکتے تھے_ اور ان کیلئے قبول اسلام کا موقع فراہم کرنے سے کیسے چشم پوشی کرسکتے تھے جبکہ اہل یثرب بیعت عقبہ کر کے خود ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو مدینہ آنے کی دعوت دے رہے تھے_

یہ تھے وہ نکات جن کی طرف فرصت کی کمی کے سبب صرف اشارہ کرناہی ہم نے کافی سمجھا_

۲۷۷

مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کا قیام

چونکہ ہجرت کی وجہ سے مسلمانوں کو بظاہر بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کیلئے اعلی سطح پر ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کی ضرورت تھی بنابریں ہجرت کی تیاری کے طورپر مواخات (بھائی چارے) کا اقدام عمل میں آیا، جس کا مقصد انسانی روابط کو مصلحتوں اور مفادات کی سطح سے بلند کر کے ایک ایسے برادرانہ رابطے کی شکل دینا تھا جو خدا پر ایمان کی بنیادوں پر استوار ہو_

تاکہ اس کی بدولت مسلمانوں کے باہمی تعلقات حقیقت سے قریب تر، منظم تر اور نفسیاتی رجحانات سے دورتر ہوں جو بسااوقات مدد کرنے والے یا مدد لینے والے کے ذہن میں ایسے خیالات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جن سے روابط میں (کم از کم نفسیاتی طور پر) پیچیدگی پیدا ہوتی ہے_

بہرحال رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مہاجرین کے در میان حق اور ہمدری کی بنیادوں پر بھائی چارہ قائم کیا_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے در میان، حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے درمیان حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے د ر میان، حضرت زبیر اور حضرت ابن مسعود کے درمیان حضرت عبادة بن حارث اور حضرت بلال کے درمیان، حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے درمیان، حضرت ابوعبیدہ اور حضرت سالم (غلام ابوحذیفہ) کے درمیان، حضرت سعید بن زید اور حضرت طلحہ کے درمیان اور حضرت علیعليه‌السلام اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا: ''اے علیعليه‌السلام کیا تم نہیں چاہتے کہ میںتمہارا بھائی قرار پاؤں؟'' عرض کیا :''کیوں نہیں اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تو راضی ہوں''_ فرمایا:'' پس تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی''_(۱) (اس دوران عثمان کے حبشہ میں ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جیساکہ ہجرت کے بعد والے مواخات کی بحث میں اس کا تذکرہ ہوگا انشاء اللہ ) _

ہم انشاء اللہ جلدہی بتائیں گے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان

___________________

۱_ سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۲۰ نیز دحلان کی سیرت نبویہ ج ۱ ص ۱۵۵ از استیعاب نیز تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۳، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۴ اور تلخیص مستدرک ذہبی_

۲۷۸

بھائی چارہ قائم کیا تھا_ وہاں ہم حدیث مواخات کے بعض مآخذ کابھی ذکر کریں گے نیز ابن تیمیہ وغیرہ کی طرف سے حدیث مواخات کے انکار اور اس کے جواب کا بھی تذکرہ کریں گے_ اس کے علاوہ حدیث مواخات پراپنی صوا بدید کے مطابق مناسب تبصرہ بھی کریں گے انشاء اللہ _

مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کا آغاز

کہتے ہیں کہ عقبہ کی دوسری بیعت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تین ماہ پہلے ہوئی تھی_ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عقبہ کی پہلی بیعت مدینہ والوں سے لی تو چونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب مشرکین کی ایذاء رسانیوں کے باعث مکہ میں ٹھہرنے اور ان کے مظالم کو برداشت کرنے پر قادر نہ تھے_ بنابریں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا نہیں مدینہ جانے کی اجازت دی_

لیکن خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکے میں ہی حکم خدا کے منتظر رہے_ یوں مسلمان مختلف ٹولیوں کی شکل میں خارج ہوئے_ یہاں تک کہ خدانے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی ہجرت کی اجازت دی (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_

بے مثال نمونہ:

یہاں اس حقیقت کو ملاحظہ کرنا ضروری ہے کہ حقیقی مسلمانوں نے اپنے وطن( جس میں ان کی پرورش ہوئی اور زندگی گزری )اور دنیا کے تمام مال ومتاع (جو انہیں حاصل ہوا) نیز اپنے معاشرتی و خاندانی رشتوں کو انہوں نے کس طرح قربان کردیا اور دین کے بدلے تمام لوگوں (یہاں تک کہ اپنے باپ بھائیوں اور بیٹوں) کے ساتھ دشمنی مول لی_ یوں وہ اپنے ہدف، اپنے دین اور اپنے عقیدے کی راہ میں وطن سے نکلے اور ایسے مستقبل کی طرف بڑھے جس کے بارے میں ان کو علم تھا کہ وہ خطرات اور حادثات سے بھر پور ہوگا_ یہ بے مثال اور حیرت انگیز نمونہ ہمیں ہجرت میں دکھائی دیتا ہے_ خواہ ہجرت مدینہ ہو یا ہجرت حبشہ_

۲۷۹

عمر ابن خطاب کی ہجرت

ایک چیز جس کی طرف یہاں ہماری توجہ مبذول ہوتی ہے وہ حضرت عمر ابن خطاب کے قبول اسلام کی کیفیت سے متعلق کہی گئی بات ہے_ چنانچہ بعض لوگ حضرت علیعليه‌السلام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:''جہاں تک میں جانتا ہوں تمام مہاجرین نے چھپ کر ہجرت کی سوائے عمر بن خطاب کے_ کیونکہ جب حضرت عمر نے ہجرت کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنی تلوار گلے میں لٹکائی_ اور کمان دوش پر ڈالی اپنے ہاتھوں میں چند تیر اٹھائے ایک نوک دار ڈنڈا بھی ساتھ لیا_ کعبہ کی طرف چل پڑے قریش کی ایک جماعت کعبہ کے احاطے میں بیٹھی تھی پھرحضرت عمر نے کعبہ کا سات بارطواف کیااور مقام ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھی _اس کے بعد ایک ایک کر کے لوگوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور کہا_ خدا بگاڑدے ان چہروں کو_ خدا ان ناکوں کو خاک میں ملا دے _ (یعنی ان کو ذلیل وخوار کرے گا) پس جویہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس کے سوگ میں روئے یا اس کا فرزند یتیم ہوجائے_ یا اس کی بیوی بیوہ ہوجائے_ تو اس وادی کے اس پار میرے سامنے آئے''_ پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ '' کوئی بھی عمر کے پیچھے نہیں گیا اور اس نے اپنا سفر جاری رکھا''_(۱)

ہمیں یقین حاصل ہے کہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی کیونکہ حضرت عمر اس قسم کی شجاعت کے مالک نہ تھے _ اس کی دلیل درج ذیل امور ہیں:

۱_حضرت عمر کے قبول اسلام کے متعلق بخاری وغیرہ سے نقل کیا جاچکا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ڈرکے مارے اپنے گھر میں چھپے رہے_ یہاں تک کہ عاص بن وائل آیا اور انہیں امان دی _اس کے بعد حضرت عمر اپنے گھر سے نکلے_

۲_جنگوں میں حضرت عمر کا عام طور پر جوبزدلانہ رویہ رہا اس کے پیش نظر اس قسم کی باتوں کی تصدیق کرنے کی جرا ت ہم میں پیدا نہیں ہوسکتی_ چنانچہ جنگ بدر کے موقع پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم اور مسلمانوں کو بزدلی پر

___________________

۱_ منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج ۴ ص ۳۸۷ از ابن عساکر، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۱_ ۲ اور نور الابصار ص ۱۵ میں بھی اس کی جانب اشارہ کیا گیا ہے نیز کنز العمال ج۱۴ ص ۲۲۱ و ۲۲۲ از ابن عساکر_

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

جب شام ہوئی تو حضرت ابوبکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جدا ہوئے اور مدینہ میں داخل ہوکر کسی انصاری کے ہاں چلے گئے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قبا کے مقام پر ہی کلثوم بن ہدم کے ہاں تشریف فرما رہے_(۱)

پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بھائی حضرت علیعليه‌السلام کو ایک خط لکھا اور انہیں جلدسے جلد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف آنے کا حکم دیا_ یہ خط آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوواقد لیثی کے ہاتھ ارسال فرمایا_

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا خط حضرت علیعليه‌السلام کو ملا تو آپعليه‌السلام سفر ہجرت کیلئے آمادہ ہوگئے اور اپنے ساتھ (مکہ میں) موجود بے چارے اور ضعیف مسلمانوں کو اس کی اطلاع دی اور حکم دیا کہ وہ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ جلدی سے ذی طوی کی طرف حرکت کریں_ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام حضرت فاطمہ بنت الرسول، اپنی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کو ساتھ لیکر نکلے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے آزاد کر دہ غلام ایمن بن ام ایمن اور ابوواقد بھی ان کے ساتھ ہولئے_ ابوواقد جانوروں کو ہانک رہے تھے_ اس نے جب ان سواریوں کے ساتھ تندی برتی تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس کو نرمی کا حکم دیا_ اس نے تعاقب کے خوف کا عذر پیش کیا امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے فرمایا اطمینان رکھو، بتحقیق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے فرمایا ہے (یعنی غار سے روانگی کے وقت ، جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے) ''اے علیعليه‌السلام اس کے بعد یہ لوگ تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں گے''_

ضجنان کے قریب تعاقب کرنے والے ان تک پہنچ گئے جن کی تعداد سات تھی اور وہ نقاب پہنے ہوئے تھے_ آٹھواں آدمی حارث بن امیہ کا آزاد کردہ غلام جناح تھا_

حضرت علیعليه‌السلام نے عورتوں کو اتارا اورتلوار سونت کر ان لوگوں کے پاس آئے ان لوگوں نے انہیں واپس چلنے کیلئے کہا انہوں نے فرمایا: ''اگر میں ایسا نہ کروں تو؟'' وہ بولے :''تمہیں مجبوراً چلنا پڑے گا وگرنہ تمہیں سرکے بالوں سے پکڑ کرلے جائیں گے اور یہ تمہارے لئے موت سے بھی بدتر ہوگا''_

پھر وہ سوار حملہ کرنے کیلئے سواریوں کی طرف بڑھے لیکن حضرت علیعليه‌السلام ان کے اور سواریوں کے درمیان

___________________

۱_ اعلام الوری ص ۶۶ اور بحار ج ۱۹ ص ۱۰۶ از اعلام الوری_

۳۶۱

حائل ہوگئے اتنے میں جناح نے اپنی تلوار سے وار کیا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے پہلو بچا کر اس کا وار ضائع کردیا پھرآپعليه‌السلام نے اس کے کندھے پروار کیا، تلوار تیزی سے اترتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پشت تک جاپہنچی اس کے بعد حضرت علیعليه‌السلام درج ذیل رجز پڑھتے ہوئے اپنی تلوار کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے_

خلوا سبیل الجاهد المجاهد

آلیت لا اعبد غیر الواحد

اس زحمت کش مجاہد کا راستہ نہ روکو میں نے خدائے واحد کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے_

یہ دیکھ کر وہ لوگ وہاں سے ہٹ گئے اور کہنے لگے :''اے فرزند ابوطالب ہماری طرف سے بے فکر ہوجاؤ''_ انہوں نے فرمایا:'' میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس یثرب جارہاہوں_ جس کی یہ خواہش ہو کہ میں اس کے گوشت کے ٹکڑے کروں یا اس کا خون بہادوں تو وہ میرے پیچھے آئے یا میرے نزدیک آنے کی کوشش کرے''_پھر حضرت علیعليه‌السلام اپنے دونوں ساتھیوں (ایمن اور ابوواقد) کے پاس آئے اور فرمایا:'' اپنی سواریوں کو آزاد چھوڑ دو''_ اس کے بعد وہ بے فکر ہو کر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ ضجنان پہنچ گئے_ وہاں انہوں نے تقریباً ایک دن اور ایک رات استراحت فرمائی بعض کمزور اور بے چارے مومنین وہاں پہنچ کر حضرت علیعليه‌السلام سے مل گئے ان میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی آزاد کردہ کنیز ام ایمن بھی تھیں_ اس رات انہوں نے کھڑے ہو کر بیٹھ کراور پہلوؤں کے بل لیٹ کر اللہ کی عبادت کی یہاں تک کہ جب صبح ہوگئی تو حضرت علیعليه‌السلام نے ان کے ساتھ نماز فجر پڑھی _اس کے بعد ان کے ساتھ دوبارہ سفر کا آغاز کیا اور ہرمنزل پر اس عمل کا اعادہ کرتے گئے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے_ ان کی آمد سے قبل ہی ان کی شان میں یوں وحی نازل ہوئی_( الذین یذکرون الله قیاما وقعودا وعلی جنوبهم ویتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا ما خلقت هذا باطلا فاستجاب لهم ربهم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی ) (۱) یعنی جولوگ کھڑے ہوکر، بیٹھ کر اور پہلوؤں کے بل خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت میں غور کرتے

___________________

۱_ سورہ آل عمران آیت ۱۹۱_۱۹۵ _

۳۶۲

اور کہتے ہیں خدایا تونے ان کو بے مقصد خلق نہیں کیا پس خدا نے ان کے جواب میں فرمایا: تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت_

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علیعليه‌السلام کی آمد کی خبر ملی تو فرمایا :''علیعليه‌السلام کو میرے پاس بلاؤ''عرض کیا گیا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ چلنے پر قادر نہیں ہیں ''_یہ سن کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود ان کے پاس آئے اور انہیں اپنے سینے سے لگایا_ جب ان کے سوجے ہوئے پیروں پر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر پڑی تو شفقت کی بنا پر گریہ فرمایاکیونکہ ان کے قدموں سے خون ٹپک رہا تھا_ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علیعليه‌السلام سے فرمایا:'' اے علیعليه‌السلام تم ایمان کے لحاظ سے اس امت کے سب سے پہلے مومن ہو اور اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہجرت کرنے والے سب سے پہلے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے ملحق ہونے والے سب سے آخری فرد ہو_ مجھے قسم ہے اس کی جس کے اختیار میں میری جان ہے تجھ سے محبت نہیں کرے گا مگروہ جو مومن ہوگا اور اس کا ایمان آزمایا جاچکا ہوگا اور تجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگروہ جو منافق یا کافر ہوگا''_(۱)

بنابریں یہ واضح ہوا کہ کھلم کھلا ہجرت کرنے اور ہجرت سے روکنے والوں کو قتل کی دھمکی دینے والے شخص علی ابن ابیطالب تھے نہ کہ عمرابن خطاب_ حضرت عمر کی طرف اس بات کی نسبت کے غلط ہونے سے متعلق تھوڑی سی بحث پہلے گزر چکی ہے_ یہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ امیرالمومنینعليه‌السلام کے دیگر بہت سے فضائل کی طرح ان کی اس فضیلت کو بھی دوسروں سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی ہے_

تبع اول کا خط

بعض لوگ کہتے ہیں کہ تبع اول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت سے سینکڑوں سال قبل آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لاچکا تھا_یہ واقعہ طویل ہے اور ہم اس کے ذکر سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کی صحت کے بارے میں اطمینان حاصل نہیں ہے البتہ قرطبی اور ابن حجت حموی نے (قرطبی سے) ثمرات الاوراق (ص ۲۹۰_ ۲۹۱) میں

___________________

۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳_۸۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴ _ ۶۷، ۸۳ اور ۸۵ تفسیر برہان ج ۱ ص ۳۳۲_۳۳۳ از الشیبانی (در نہج البیان) الاختصاص (شیخ مفید) المناقب (ابن شہر آشوب) ج ۱ ص ۱۸۳_۱۸۴، اعلام الوری ۱۹۰ اور امتاع الاسماع (مقریزی) ج ۱ ص ۴۸ _

۳۶۳

اس کا تذکرہ کیا ہے جو حضرات تحقیق کے طالب ہوں وہ ادھر رجوع کریں_

حضرت ابوبکر معروف بزرگ؟

بعض جگہوں میں ذکر ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ایک ہی سواری پر سوار تھے اور یہ کہ حضرت ابوبکر ایک جانے پہچانے بزرگ تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ایک غیر معروف نوجوان تھے_ لوگ حضرت ابوبکر سے ملاقات کرتے اور پھر ان سے پوچھتے تھے کہ اے ابوبکر یہ تیرے آگے کون ہے؟ احمد کے الفاظ ہیں'' یہ لڑکا کون ہے جو تیرے آگے ہے؟'' وہ جواباً کہتے تھے :''یہ مجھے راستہ دکھاتا ہے''_ لوگ یہی سمجھتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو سفر کے راستے سے آگاہ کرتے ہیں حالانکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم راہ حق دکھانے والے ہیں_

تمہید میں مذکور ہے کہ ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سواری پر حضرت ابوبکر کے پیچھے بیٹھے تھے اور جب لوگ حضرت ابوبکر سے پوچھتے تھے کہ یہ تمہارے پیچھے کون ہے؟ ''

قسطلانی نے صاف الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی عمرو بن عوف کے ہاں سے روانگی یعنی قباسے مدینے کو روانگی کے وقت کا ہے_

ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ ''جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ تشریف لائے اور مسلمانوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال کیاتو اس وقت حضرت ابوبکر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیٹھ گئے_ اس وقت حضرت ابوبکر بوڑھے تھے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جوان_ جن لوگوں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھا تھا ہ حضرت ابوبکر کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھ کر ان کے پاس آتے تو وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا تعارف کراتے تھے یہاں تک کہ جب سورج کی شعاعیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر پڑنے لگیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی چادر سے آپ پر سایہ کردیا تب جاکر لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہچانا_(۱)

___________________

۱_ ان ساری باتوں یا بعض باتوں کیلئے رجوع کریں ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۴ ، سیرت حلبی ج۲ ص ۴۱ ، صحیح بخاری مطبوعہ مشکول باب ہجرت ج۶ ص ۵۳ و سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۱۳۷ ، مسند احمد ج۳ ص ۲۸۷ ، المواہب اللدنیة ج۱ ص ۸۶ ، عیون الاخبار (ابن قتیبہ) ج۲ ص ۲۰۲ والمعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۵ ، الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ (مذکورہ مآخذ میں سے متعدد کتب نیز الریاض النضرة ج۱ ص ۷۸ _ ۸۰ اور طبقات ابن سعد ج۲ ص۲۲۲ سے منقول)_

۳۶۴

لیکن یہ باتیں درست نہیں ہوسکتیں کیونکہ:

الف: یہ امر قابل قبول نہیں کہ حضرت ابوبکر معروف تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غیر معروف_ کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکے آنے والے مختلف قبائل سے سالہا سال تک ملاقاتیں کرتے رہے تھے_ یوں آپ کا ذکر ہر جگہ پھیل چکا تھا اور اہل مدینہ کے اسّی سے زیادہ افراد صرف تین ماہ قبل آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کرچکے تھے پھر کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر تو جانی پہچانی شخصیت ٹھہریں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غیر معروف؟(۱) اس کے علاوہ حضرت ابوبکر تو قبا پہنچتے ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے جدا ہوکر مدینہ چلے گئے تھے اور مدینہ پہنچنے تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نہیں رہے تھے_

ب: اہل مدینہ نہایت بے صبری سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد کے منتظر تھے اور جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشریف لائے تو تقریباً پانچ سو سواروں(۲) نے حرّہ کے اس طرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال کیا تھا_ اس وقت عورتیں بچے اور جوان اس طرح کا ترانہ الاپ رہے تھے_

طلع البدر علینا

من ثنیات الوداع

ثنیات وداع سے آج ہمارے لئے چودہویں کا چاند نکل آیا ہے_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبا میں چند روز لوگوں سے ملتے رہے تھے پھر کیا یہ ممکن ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (بقول قسطلانی) ، قبا سے مدینہ تشریف لاتے وقت غیر معروف ہوجائیں(۳) ؟ _

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل تو ہوئے ہوں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ قبا یا مدینہ کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر اس وقت حضرت علیعليه‌السلام کہاں چلے گئے تھے؟ کیا اہل مدینہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیدار کے لئے جتھوں کی صوت میں یا اکیلے قبا نہیں آئے تھے؟ پھر انجان لوگوں کو جاننے والوں نے کیوں نہیں بتا یا اور چپ کیوں سادھ گئے؟

___________________

۱_ الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ کی طرف رجوع کریں_

۲_ الثقات ( ابن حیان) ج۱ ص ۱۳۱ و دلائل النبوة ج۲ ص ۲۳۳ وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۵۵ از تاریخ صغیر (بخاری) و سیرت حلبی ج۲ ص ۵۲ و سیرت نبویہ (دحلان) حاشیہ حلبیہ ج۱ ص ۳۲۵ اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۶_

۳_ ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۴_

۳۶۵

ج: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ابوبکر سے دوسال اور چند ماہ بڑے تھے کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے اور حضرت ابوبکر بھی اپنی خلافت کے آخر میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی عمر کو پہنچ چکے تھے (جیساکہ ان کا دعوی ہے) کیونکہ ان کی عمر وفات کے وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی عمر کے برابر یعنی ترسٹھ سال ہوچکی تھی_(۱)

بنابریں یہ کیسے معقول ہوسکتا ہے کہ وہ تو عمر رسیدہ بزرگ ہوں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا جوان؟ ہماری ان معروضات کی روشنی میں یزید بن اصم (جو دوسری صدی ہجری میں تہتر سال کی عمر میں مرے) سے مروی اس قول کا بطلان بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حضرت ابوبکر سے فرمایا'' میری عمر زیادہ ہوگی یا تمہاری؟'' انہوں نے جواب دیا ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بزرگی اور عزت وشرف مجھ سے زیادہ ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے بہتر ہیں لیکن میں عمر میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بڑاہوں''_(۲)

یہ بہانہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بر خلاف حضرت ابوبکر کے چہرے اور داڑھی میں بڑھاپے کے آثار زیادہ نمایاں تھے_(۳) یا یہ کہ حضرت ابوبکر تاجر تھے اس لئے لوگ ان کو ملک شام جانے آنے کی وجہ سے پہچان چکے تھے_ درست نہیں کیونکہ بالوں کا سفید ہونا یا نہ ہونا بڑھاپے اور جوانی کو نہیں چھپا سکتا _حتی کہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ''ما ھذا الغلام بین یدیک؟'' (یہ لڑکا کون ہے جو تیرے آگے ہے؟) غور کیجئے ایک ایسے مرد کو جس کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہوچکی ہو ''لڑکا'' کہنا کس قدر ستم ظریفی ہے؟

___________________

۱_ المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۵ جس میں اس بات کے متفق علیہ ہونے کا دعوی کیا گیا ہے ، اسدالغابة ج ۳ ص ۲۲۳، مرآة الجنان ج ۱ ص ۶۵ و ص ۶۹ ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۶۰، الاصابہ ج ۲ ص ۳۴۱ تا ۳۴۴ الغدیر ج۷ ص ۲۷۱ جس میں مذکورہ مآخذ کے علاوہ درج ذیل مآخذ سے بھی نقل ہوا ہے _ الکامل ابن اثیر ج۱ ص ۱۸۵ اور ج ۲ ص ۱۷۶ عیون الاثر ج ۱ ص ۴۳ و سیرت حلبی ج ۳ ص ۳۹۶ الطبری ج ۲ ص ۱۲۵ اور ج ۴ ص ۴۷ الاستیعاب ج ۱ ص ۳۳۵ جس میں کہا گیا ہے کہ اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ وفات کے وقت ان کی عمر ۶۳ سال تھی و سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۰۵_

۲_ الغدیر ج۷ ص ۲۷۰ از الاستیعاب ج ۲ ص ۲۲۶ الریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۷ تاریخ الخلفاء ص ۷۲ خلیفة بن خیاط، احمد بن حنبل اور ابن عساکر سے_

۳_ فتح الباری ج۷ ص ۱۹۵ ، الغدیر ج۷ ص ۲۶۰ ،۲۶۱ _

۳۶۶

اسکے علاوہ ابن عباس نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، آپ تو بوڑھے ہوگئے، فرمایا مجھے سورہ ہود اور سورہ واقعہ نے بوڑھا کردیا محدثین نے ابن مسعود اور ابن ابی جحیفہ سے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے کہ لوگوں نے کہا ''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو بوڑھے ہوگئے ہیں''_ فرمایا:'' مجھے ہود اور اس کے ساتھ والی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے''_(۱) واضح ہے کہ مذکورہ سورتیں مکی ہیں_ مذکورہ روایات کا مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے نے وقت سے پہلے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو آلیا_ اسی لئے لوگ اس کے بارے میں سوال کر رہے تھے_(۲)

رہا یہ کہنا کہ حضرت ابوبکر تاجر تھے اور شام آیا جایا کرتے تھے تو اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ایام جاہلیت میں وہ بچوں کو پڑھاتے تھے اور اس کے بعد درزی کا کام کرنے لگے_ علاوہ ازیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی تو شام کا سفر کیا کرتے تھے اور خصوصاً آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قریش اور عربوں کے درمیان حاصل بزرگی و سیادت اور اہل مدینہ کے ساتھ رشتہ داری کی بناپرلوگوں کے درمیان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پہچان بدرجہ اولی اور زیادہ ہونی چاہئے_

ان ساری باتوں کے علاوہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سالہا سال تک مکہ آنے والے قبائل کے ساتھ بنفس نفیس ملاقاتیں بھی کرتے رہے تھے_

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت کا تعارف کراتی تھیں _ چنانچہ ام معبد نے اپنے شوہر سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات کا تذکرہ کیا تو اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوپہچان لیا_ رہے حضرت ابوبکر تو ان کی صفات کا تذکرہ حضرت عائشہ وغیرہ کی زبانی اس کتاب میں پہلے گزر چکا ہے_آخر کار ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور حضرت ابوبکر ایک ہی ناقہ کے سوار کیسے ہوگئے؟ حالانکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ دو اونٹ تھے یعنی ہر کسی کے پاس اپنی سواری تھی_

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج۲ ص ۳۴۳ و تلخیص مستدرک ذہبی ( اسی صفحے کے حاشیہ میں) نیز اللمع (ابو نصر) ص ۲۸۰ و تفسیر ابن کثیر ج۲ ص ۴۳۵ و الغدیر ج۷ ص ۳۶۱ مذکورہ مآخذ اور تفسیر قرطبی ج۷ ص ۱ و تفسیر الخازن ج۲ ص ۳۳۵ نیز جامع الحافظ ترمذی و نواد ر الاصول(حکیم ترمذی) ابویعلی، طبرانی اور ابن ابی شیبہ سے _

۲_ الغدیر ج۷ ص ۲۶۱_

۳۶۷

علامہ امینی رحمة اللہ علیہ کا نقطہ نظر

علامہ امینی (قدس سرہ) کا نظریہ یہ ہے کہ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے بزرگ ہیں لیکن میں آپ سے زیادہ عمر رسیدہ ہوں'' والی بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور سعید بن یربوع المخزومی کے درمیان پیش آئی ہے سعید ۵۴ ہجری میں ایک سوبیس سال کی عمر میں چل بسے تھے_

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ سقیفہ کے دن اپنے مخالفین کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کی دلیل ان کی بزرگسالی تھی_ بنابریں ان کے چاہنے والوں نے اس دعوے کی تائید ان کے مذکورہ جعلی قول سے کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مقابلے میں عمر رسیدہ لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے مقابلے میں زیادہ برگزیدہ ہیں اور یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ایک غیر معروف جوان بلکہ ایک لڑکے تھے اور حضرت ابوبکر ایک جانے پہچانے بزرگ تھے_(۱)

مکہ میں منافقت کا کھیل

ہجرت کے بعد کے حالات کا ذکر چھیڑنے سے پہلے مکی زندگی سے مربوط ایک مسئلے کی طرف اشارہ اور اس کے بعض ظاہری پہلوؤں پر اظہار نظر مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ اس مسئلے کا ہجرت کے بعد مدنی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے_ وہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہجرت سے قبل مسلمان ہونے والے مکیوں میں منافقین بھی تھے جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور تھا یا نہیں ؟

اور کیا مکے کی فضا اس قسم کے افراد کو جو بظاہر اسلام قبول کریں اور اندر سے کافر ہی رہیں، وجود میں لانے کیلئے سازگار تھی یا نہیں؟

اس سلسلے میں علامہ طباطبائی کا حاصل کلام یہ ہے_

ممکن ہے کوئی کہے کہ نہیں مکے میں منافقین کا کوئی وجود نہ تھا کیونکہ وہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور مسلمانوں کو طاقت اور اثرونفوذ حاصل ہی نہ تھاکہ جس کے باعث لوگ ان سے مرعوب اور خائف ہوتے یا ان سے کسی

___________________

۱_ الغدیر ج ۷ ص ۲۷۱_

۳۶۸

قسم کے مادی یا روحانی فائدے کی امید رکھتے _پس وہ کیونکر ان کے قرب کے متلاشی ہوتے اور اپنی باطنی کیفیت کے برعکس ایمان کا اظہار کرتے؟

بلکہ مسلمان تو مکے میں کمزور مظلوم اور ستمدیدہ تھے_ بنابریں ہونا تو یہ چاہ ے تھا کہ قریش کے رؤسا اور بزرگان کے مقابلے میں (خواہ خوف کی بنا پر ہو یا امید ورغبت کی بنا پر) مسلمانوںکی جانب سے اندرونی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کی جاتی نہ اس کے برعکس _

اس کے برعکس مدنی زندگی میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی پوزیشن مستحکم ہوچکی تھی مسلمانوں کا اثر ونفوذ واضح ہوچکا تھا اور وہ اپنی حفاظت یا اپنا دفاع کرنے کی طاقت حاصل کرچکے تھے_ مدینہ کے ہر گھر میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اعوان و انصار اور پیروکار موجود تھے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوامر کی متابعت اور اپنی ہر قیمتی اور نفیس چیز کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم پر قربان کرتے تھے_ رہے باقی ماندہ مٹھی بھر لوگ تو وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اعلانیہ مخالفت کا دم خم نہ رکھتے تھے_ چنانچہ انہوں نے اپنی خیریت اسی میں جانی کہ بظاہر مسلمان ہوجائیں اور باطناً کافر ہی رہیں تاکہ جب بھی موقع ملے مسلمانوں کے ساتھ مکر وفریب اور سازش وحیلہ گری سے کام لے سکیں_

خلاصہ یہ کہ اس انداز میں بعض لوگوں نے ابتدائی مسلمانوں کے درمیان منافقوں کی عدم موجودگی پر استدلال کیا ہے_ لیکن یہ استدلال جیساکہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں بے بنیاد ہے_

کیونکہ مکے میں بھی منافقت کی وجوہات موجود تھیں _اور اس کام کیلئے وہاں کے ماحول میں بھی گنجائشے موجود تھی_ ان میں سے بعض اسباب کا ہم یہاں تذکرہ کرتے ہیں:

(الف): منافقت کے اسباب فقط وہی نہیں جن کا اوپر تذکرہ ہوا ہے یعنی صاحب اقتدار کا خوف یا اس سے وابستہ امید اور لالچ کیونکہ ہم مختلف معاشروں میں مختلف قسم کے لوگوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو خوبصورت نعروں پر، ہر قسم کی دعوت پر لبیک کہنے کیلئے آمادہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ ان کی امیدوں اور آرزوؤں کے ساتھ سازگار ہو، ان کی خواہشات کی برآوری کی امید دلاتی ہو اور اس میں ان کی رغبتوں کا سامان ہو_ پس وہ اس کی حمایت کرتے ہیں اگرچہ وہ ظالم ترین طاقتوں کے زیرسایہ ہی کیوں نہ ہوں اور

۳۶۹

خود، ان کی حالت انتہائی کمزور اور ضعیف کیوں نہ ہو_ یوں وہ اس کی خاطر اپنے وجود کو بہت سے خطرات میں جھونک دیتے ہیں نیز مشکلات اور سختیوں کو جھیلتے ہیں فقط اس امید میں کہ شاید کسی دن ان کی امیدوں کی کلی کھل جائے اور ان کے اہداف حاصل ہوجائیں جن کے خواب وہ دیکھا کرتے ہیں ،مثال کے طور پر حصول اقتدار اور حصول ثروت وجاہ ومقام وغیرہ_

جی ہاں وہ یہ سب کر گزرتے ہیں اگرچہ وہ اکثر وبیشتر اس دعوت پر فقط اتنا ہی ایمان رکھتے ہیں جتنا ان کے مذکورہ بالا اہداف واغراض کے حصول کیلئے ضروری ہو اور واضح ہے کہ اس قسم کا لالچی منافق دعوت کی کامیابی کی صورت میں اس دعوت کیلئے بدترین دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر اسے یہ احساس ہو کہ دعوت اس کی تمام آرزؤوں کو پورا نہیں کرسکتی (اگرچہ کسی مصلحت کے تحت ہی سہی) تو وہ منحرف اور خائن ہوجاتا ہے(۱) اس کے علاوہ وہ اس دعوت کو انحراف کی طرف لے جانے نیز اسے سابقہ روش اور راہ مستقیم سے ہٹاکر ان غلط راہوں کی طرف لے جانے پر زیادہ قادر ہوتا ہے جن راہوں کی تاریکی اور ظلمت سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی خواہشات تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکے_ پھر ان کاموں کی توجیہہ کے سارے بہانے بھی اسی کے پاس ہی ہوتے ہیں خواہ اس کی توجیہات کتنی ہی کمزور اور بے بنیاد کیوں نہ ہوں_

لیکن اگر دعوت کو ناکامی کا سامنا ہو تو وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرچکنے کی صورت میں اپنے ہم خیال لوگوں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ان لوگوں کے ساتھ تو بس مذاق کر رہے تھے_ بقول قرآن (اناکنامعکم انمانحن مستھزؤون) ان باتوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مدینے میں اگر منافقت عام طور پر حفاظتی مقاصد یا مخصوص مفادات وروابط کے بچاؤ کے پیش نظر تھی تو مکہ والی منافقت اسلام ومسلمین کیلئے یقیناً زیادہ خطرناک، زیادہ نقصان دہ اور زیادہ پریشان کن ہوگی جیساکہ ہم پہلے وضاحت کرچکے ہیں_

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _

۳۷۰

خلاصہ یہ کہ اس بات کا قوی احتمال ہے کہ مکہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعض پیروکار اسلام کے مخلص نہیں تھے بلکہ ان کو فقط اپنی ذات سے غرض تھی_اس بات کی تائید اس حقیقت کو خاص کرملاحظہ کرنے سے ہوتی ہے کہ اسلام نے اپنی دعوت کے روز اول سے ہی قطعی وعدوں کا اعلان کیا تھا کہ اس کے علمبردار بہت جلد زمین کے حکمراں اور قیصر وکسری کے خزانوں کے مالک بن جائیں گے_(۱)

چنانچہ جب عفیف کندی نے عباس بن عبدالمطلب سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علیعليه‌السلام اور خدیجہعليه‌السلام کی نماز کے بارے میں پوچھا تو عباس نے جواب دیا:'' یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں_ اس کا دعوی ہے کہ خدانے اسے بھیجا ہے اور قیصر و کسری کے خزانے بہت جلد اس کے ہاتھ لگ جائیں گے''_ عفیف افسوس کرتا تھا کہ وہ اس دن مسلمان کیوں نہ ہوا تاکہ وہ علیعليه‌السلام کے بعد مسلمانوں میں دوسرے نمبر پر ہوتا_(۲)

نیز جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قوم کی شکایت کا سبب پوچھا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں ان کو ایک کلمے (یعنی مقصد) پر متحد کرناچاہتا ہوں جس کے نتیجے میں عرب ان کے مطیع اور عجم ان کے خراج گزار بن جائیں_(۳)

اسی طرح یہ بھی منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بکر بن وائل سے قبائل کو دعوت اسلام دینے کے سلسلے میں فرمایا: ''اور تم خدا سے یہ عہد کروگے کہ اگر تم زندہ رہو تو ان (عجم)کے گھروں میں داخل ہوگے ان کی عورتوں سے نکاح کروگے اور ان کے بیٹوں کو غلام بنالوگے''_

شیبان بن ثعلبہ سے بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقریباً اسی قسم کی بات اس وقت کی جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے قریبی رشتہ

___________________

۱_ المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _

۲_ ذخائر العقبی ص ۵۹، دلائل النبوة ج ۱ ص ۴۱۶، لسان المیزان ج ۱ ص ۳۹۵ ابویعلی اورخصائص نسائی سے، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۵۷ مطبوعہ صادر اور تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۷ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۳ _

۳_ سنن بیہقی ج ۹ ص ۸۸ و مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۴۳۲ حاکم اور ذہبی نے تلخیص میں اسے صحیح قرار دیا ہے نیز تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۲۸ و حیات الصحابہ ج ۱ ص ۳۳ کہ ترمذی نیز تفسیر طبری، احمد، نسائی اور ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے_

۳۷۱

داروں کو عذاب الہی سے ڈرایا_(۱)

اس نکتے کی خوب وضاحت اس بات سے ہوتی ہے جو قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ کے ایک فرد نے اس وقت کہی جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کو دعوت اسلام دینے آئے تھے_ اس نے کہا ''اللہ کی قسم اگر یہ قریشی جوان میرے ہاتھ آتا تو میں اس کے ذریعے عرب کو ہڑپ کرجاتا'' اس کے بعض مآخذ کا پہلے تذکرہ ہوچکا ہے_

مختصر یہ کہ جب مذکورہ منافقت کا مقصد ذاتی اغراض کیلئے اس دعوت کے قبول کرنے کو آلہ کار قرار دینا ہو تو (اس منافق کیلئے) سوائے اس کے چارہ نہیں کہ وہ اس دعوت کی وہاں تک حفاظت کرے جہاں تک وہ اپنے مفادات ومقاصد کی حفاطت پر مجبور ہو، یعنی جب تک وہ اس دعوت کے ذریعے اپنی آرزؤوں کی تکمیل اور اپنے مقاصد تک رسائی کی امید رکھتا ہوگا تب تک وہ اس دعوت اورتحریک کی حفاظت کرے گا_

یہیں سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ضروری نہیں منافق اس دعوت (جس پر وہ ایمان نہیں رکھتا) کے خلاف مکروسازش کرنے اور اس کو خراب وبرباد کرنے کی کوشش کرے بلکہ بسا اوقات اس کا پورا لگاؤ اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس کیلئے مال و متاع اور جاہ و حشمت کی قربانی دیتا ہے ہاں اس صورت میں کہ بعد میں اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی اسے توقع ہو_ لیکن جان کی قربانی نہیں دیتا اس حقیقت کا مشاہدہ مکے کے بعض مسلمانوں کی حالت سے بخوبی ہوتا ہے جو دعوت اسلامی کی حمایت اس وقت تک کرتے رہے جب تک موت سے روبرو نہ ہونا پڑا لیکن جب موت کا مرحلہ پیش آیا تو وہ جنگوں سے بھاگ جاتے، پیٹھ پھیرتے اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے تھے_ اس نکتے کا مشاہدہ بہت سے موقعوں پر ہوتا ہے البتہ بعض اوقات اس قسم کے لوگوں میں سے بعض کے اوپر بتدریج جذبہ دینی غالب آتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ منزل اطمینان کو پہنچ جاتے ہیں بعد میں ہم غزوہ احد پر بحث کے دوران اس جانب انشاء اللہ اشارہ کریں گے_ بحث کا نتیجہ یہ نکلاکہ :

(الف):بعض لوگوں کا بنیادی ہدف اور ان کا معیار ذاتی مفاد ہوتا ہے_ بنابریں جب تک دین کے ذریعے

___________________

۱_ رجوع کریں : الثقات ج ۱ ص ۸۸، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۱۴۰، ۱۴۲ اور ۱۴۵ کہ دلائل النبوة (ابن نعیم) حاکم اور بیہقی سے نقل کیا ہے_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۷۲ و ۸۰ از البدایة و النہایة اور کنز العمال ج ۱ ص ۲۷۷ سے منقول ہے_

۳۷۲

ان کے مفادات حاصل ہوتے رہیں وہ بھی اس دین کا ساتھ دیتے ہیں لیکن جونہی وہ دین کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ اور ان کیلئے باعث خطر سمجھتے ہیں تو پھر وہ اس کے خلاف مکر وسازش اور اسے تباہ وبرباد کرنے کیلئے کسی قسم کی سعی وکوشش سے دریغ نہیں کرتے اور ہر قسم کا وسیلہ اپناتے ہیں_

(ب): دوسرے سبب کی طرف علامہ طباطبائی نے یوں اشارہ کیا ہے کہ یہ بات ممکن ہے کہ کوئی شخص ابتدائے بعثت میں ایمان لے آئے پھر وہ کسی ایسے امر سے روبرو ہو جس کے باعث اس کاایمان متزلزل ہو، وہ دین میں شک کرے اور مرتد ہوجائے لیکن اس کی نظر میں اہمیت کے حامل بعض مفادات مثال کے طور پر دشمنوں کی شماتت سے بچاؤ یا خاندانی، قبائلی اور تجارتی روابط کی حفاظت یا نسلی تعصب اور غیرت وغیرہ جن کے باعث سارے یا کچھ مسلمانوں سے رابطہ ضروری ہو یا کسی خاص قسم کے جاہ ومقام یا اس سے مربوط کسی اور مسئلے کی بنا پر اس کی پردہ پوشی کرتا ہو_(۱)

بسا اوقات ہم تاریخ میں ایسے افراد کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس امر میں اکثر شک کیا کرتے تھے اور یوں وہ مذکورہ حقیقت کی تائید کرتے ہیں_ یہاں تک کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر وہ ایسے شک کا شکار ہوئے جس کا شکار مسلمان ہونے کے بعد کبھی بھی نہ ہوئے تھے_(۲)

ادھر غزوہ احد میں جب انہوں نے سنا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہید ہوگئے تو وہ معرکہ جنگ سے فرار اختیار کرگئے اور ان میں سے بعض تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی طرف (دوستی کا) ہاتھ بڑھاتے ہیں کیونکہ وہ ہماری قوم کے ہی افراد اور ہمار ے چچازاد بھائی ہیں_(۳)

(ج): مسلمانوں کی مکی زندگی کے دوران منافقوں کی موجودگی پر دلالت کرنے والی بعض آیات کی طرف علامہ طباطبائی نے بھی اشارہ کیا ہے مثال کے طور پر خداوند متعال کا یہ ارشاد:( لیقول الذین فی

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _

۲_ مغازی واقدی ج ۲ ص ۶۰۷ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۲۷ جنگ احد کے واقعے میں اس سلسلے میں مزید گفتگو مآخذ کے ذکر کے ساتھ ہوگی_

۳۷۳

قلوبهم مرض والکافرون ما ذا اراد الله بهذا مثلاً ) (۱) یعنی تاکہ دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب مثال سے کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ یہ آیت ایک مکی سورہ کی ہے_

نیز اللہ تعالی کا یہ ارشاد( ومن الناس من یقول آمنا بالله فاذا اوذی فی الله جعل فتنة الناس کعذاب الله ولئن جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم اولیس الله باعلم بما فی صدور العالمین ولیعلمن الله الذین آمنوا ولیعلمن المنافقین ) (۲)

یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے لیکن جب راہ خدا میں اسے تکلیف دی گئی تو اس نے لوگوں کی طرف سے ڈالی ہوئی آزمائشے کو عذاب الہی کے برابر قرار دیا_ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا ہم تو تمہارے ساتھ تھے کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں_ اللہ تو ضروریہ جانتا ہے کہ ایمان والے کون ہیں اور منافق کون؟_

یاد رہے کہ سورہ عنکبوت بھی مکی ہے_ یہ آیت راہ خدا میں ایذاء رسانی اور آزمائشے کے بارے میں گفتگو کرتی ہے یہ باتیں مکہ کی ہیں نہ کہ مدینہ کی_ اس آیت میں اللہ کا یہ فرمان (ولئن جاء نصر من ربک) یعنی اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی اس آیت کے مدنی ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ فتح ونصرت کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں_

یہاں اس نکتے کا اضافہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس آیت میں بطور عام مستقبل کے منافقین کی بھی تصویر کشی فرما رہا ہے_

اس کے بعدعلامہ طباطبائی کہتے ہیں: ''اس بات کا احتمال کہ شاید فتنہ (آزمائشے) سے مراد ہجرت کے بعدمکہ میں مسلمانوں کو پیش آنے والی مشکلات ہوں تو اس کی گنجائشے ہے کیونکہ ہجرت کے بعد مکہ میں ستائے جانے والے لوگ ہجرت سے قبل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر ایمان لاچکے تھے اگرچہ انہیں بعد میں اذیت دی گئی''_(۳)

___________________

۱_ سورہ مدثر آیت ۳۱ _

۲_ سورہ عنکبوت، آیت ۱۱_

۳_ تفسیر المیزان ج ۲۰ ص ۹۰_۹۱_

۳۷۴

مذکورہ باتوں پر ایک اہم تبصرہ

علامہ طباطبائی آخر میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ ''ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے وقت تک منافقین کا کوئی نہ کوئی تذکرہ سنتے رہتے ہیں_ ان میں سے تقریباً اسّی افراد تبوک میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو چھوڑ گئے_ ادھر عبداللہ بن ابی، جنگ احد میں تین سو افراد کے ساتھ جدا ہوگیا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ان منافقین کا بلا واسطہ ذکر ختم ہوگیا اور اسلام و مسلمین کے خلاف ان کی سازشوں، مکاریوں اور حیلوں کے بارے میں کوئی بات سننے میں نہیں آئی_ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے ساتھ ہی یہ سارے منافقین عادل، متقی، پرہیزگار اور انسان کامل بن گئے؟

اگر یہی بات ہو تو کیا ان کے درمیان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی موجودگی ان کے مومن ہونے کی راہ میں رکاوٹ تھی؟ جبکہ اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رحمة للعالمین بناکر بھیجا تھا؟ (ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ان غلط باتوں سے جو نزول بلا اور غضب کا باعث ہوں) یا یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی رحلت کے ساتھ ہی یہ منافقین بھی (جن کی تعداد سینکڑوں بتائی جاتی ہے) مرگئے؟ کیا بات ہے کہ تاریخ اس سلسلے میں ہمیں کچھ نہیں بتاتی؟

یا نہیں بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ان منافقین کو حکومت کے اندر وہ چیز ملی جو ان کی نفسانی خواہشات سے ہم آہنگ نیز ان کے ہوا و ہوس اور مفادات کے ساتھ سازگار تھی؟ یا اس کی کوئی اور وجہ اور حقیقت تھی؟'' یہ فلسفہ میری سمجھ میں تو نہیں آتا_ شاید ہوشیار اور زیرک لوگ اس کو سمجھتے ہوں_

۳۷۵

چوتھی فصل

مدینہ تک

۳۷۶

آغاز:

مدینہ پہنچنے کے بعد اسلامی معاشرہ کی تشکیل، حکومت کی بنیادیں مضبوط کرنے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کرنے کا کام شروع ہوا_ یوں اسلامی دعوت انفردای اصلاح کے مرحلے سے نکل کر معاشرتی اصلاح، اسلامی عقائد واحکام کے عملی نفاذ اور پوری دنیا سے جاہلیت کے تمام آثار کو مٹانے کے مرحلے میں داخل ہوئی_

اگر ہم اس سلسلے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اقدامات کا تذکرہ کریں تو اس مختصر کتاب میں ان کا تفصیلی ذکر ممکن نہ ہوگا_ نیز ہم آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عطرآگین سیرت کے بنیادی واقعات پر بحث کرنے سے رہ جائیں گے_ اس بناپر ہم یہ کام دوسروں کیلئے چھوڑتے ہیں اور ان چیزوں کے اجمالی بیان پر اکتفا کرتے ہیں جو کسی محقق کیلئے ضروری ہوتی ہیں_ ہم جزئیات اور تفصیلات فقط اسی حد تک بیان کریں گے جو ہماری نظر میں ضروری اور معقول ہوں_

اہل مدینہ کے گیت اور(معاذ اللہ) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا رقص؟

کہتے ہیں کہ اہل مدینہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی آمد سے اتنے خوش ہوئے کہ اس قدر کسی اور سے خوش نہیں ہوئے تھے_ حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ پہنچے تو عورتیں اور لڑکیاں یہ گیت گارہی تھیں:

طلع البدر علینا

من ثنیات الوداع

وجب الشکر علینا

ما دعا لله داع

ایها المبعوث فینا

جئت بالامر المطاع

۳۷۷

آج ثنیات وداع نامی جگہ سے چودہویں کا چاند طلوع ہوا_

جب تک کوئی دعا کرنے والا دعا گو موجود ہے ہم پر خدا کا شکر لازم ہے_

اے وہ جو ہماری طرف بھیجا گیا ہے تیرا پیغام واجب الاطاعت ہے_

تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دائیں طرف مڑے اور قبا میں پہنچ کر اتر گئے_(۱)

ایک روایت کی رو سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنی آستینوں کے ساتھ ناچنے لگے ( معاذ اللہ)_(۲)

قبا میں چند دن ٹھہرنے کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_ اس وقت بنی نجار کی

عورتیں دف بجا بجاکر گارہی تھیں_

نحن نساء من بنی النجار

یا حبذا محمد من جار

ہم بنی نجارکی عورتیں ہیں، خوش نصیب ہیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے پڑوسی بن گئے_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے فرمایا: ''کیا آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں؟ ''وہ بولیں:'' ہاں اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اللہ کی قسم میں بھی تم سے محبت رکھتا ہوں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا_(۳) حلبی کہتا ''ہے یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شادی کے علاوہ دیگر موقعوں پر بھی دف (ڈھولکی) کے ساتھ گانا سننا جائز ہے''_(۴) ابن کثیر نے صحیحین کی آئندہ آنے والے روایتوں سے استدلال کیا ہے کہ شادیوں اور مسافروں کی آمد کے موقع پر گانا بجانا جائز ہے_(۵)

___________________

۱_ تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۴۱_۳۴۲ از الریاض النضرة ، و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۵۴، و دلائل النبوةبیہقی ج ۲ ص ۲۳۳، و وفاء الوفاء سمہودی ج ۱ ص ۲۴۴ و ج ۴ ص۱۱۷۲ و ۲۶۲ و فتح الباری ج ۷ ص ۲۰۴_

۲_ نہج الحق الموجود فی دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۹، (یعنی حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم اپنی آستینوں کو نعوذ باللہ تھرکانے لگے _ از مترجم) فضل بن روز بہان نے بھی اس پراعتراض نہیں کیا بلکہ وہ اس کی توجیہ اور تاویل پیش کرنے لگے( گویا وہ اسے بالکل قبول کرتے ہیں)_

۳_ وفاء الوفاء ج ۱ ص ۲۶۳ ، فتح الباری ج ۷ ص ۲۰۴ و دلائل النبوة بیہقی ج ۲ ص ۲۳۴ و ۲۳۵ و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۴۱ و سیرت حلبی ج ۳ ص ۶۱ اور البدایة و النہایةج ۳ ص ۲۰۰ _ ۴_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۴۱ _ ۵_ البدایة و النہایة ج ۱ ص ۲۷۶_

۳۷۸

لیکن یہ باتیں غلط ہیں:

جسکی وجوہات کچھ یوں ہیں:

(الف): ثنیات الوداع کا محل وقوع مدینے کی جانب نہیں بلکہ شام کی جانب ہے اور مکہ سے مدینہ کی طرف آنے والے کو نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہاں سے اس کا گزر ہوتا ہے مگر یہ کہ کوئی شام کا رخ کرے(۱) بلکہ سمہودی کے بقول ''میں نے مکہ کی جانب کسی سفر میں ثنیات الوداع کا تذکرہ نہیں دیکھا_(۲)

''جن لوگوں نے اسے مکے کی جانب قرار دیا ہے بظاہر ان کی دلیل ان عورتوں کا مذکورہ جملہ ہے جو ہجرت کے موقع پر کہا گیا''_(۳) ثنیة الوداع کے شام اور خیبر کی جانب واقع ہونے کی تائید تبوک کی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے تشریف لے جانے اور وہاں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لوٹنے سے ہوتی ہے_ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خیبر اور شام سے لوٹے موتہ، غزوہ عالیہ اور غزوہ غابہ کی طرف گئے، نیز اسب مضمر (وہ گھوڑا جسے گھڑ دوڑ میں شرکت سے پہلے دبلا اور بدن کا چھریرا بنانے کیلئے ایک مدت تک باندھ کر رکھتے ہیں) کی مدت کے بارے میں گھڑ دوڑ والی حدیث میں مذکورہ بات سے بھی اس امرکی تائید ہوتی ہے_(۴)

سمہودی نے مذکورہ بات کو صحیح قرار دینے کی کوشش اس طرح کی ہے کہ ان لوگوں کے بقول قبا سے مدینہ آتے وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انصار کے گھروں سے گزرے یہاں تک کہ بنی ساعدہ کے گھروں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گزر ہوا جو شام کی جانب واقع ہے پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہر مدینہ میں داخل نہیں ہوئے مگر اسی طرف سے_(۵)

___________________

۱_ زاد المعاد ج ۳ ص ۱۰ اور رجوع کریں وفاء الوفاء سمہوری ج ۴ ص ۱۱۷۰ نیز التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۰_

۲_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۲_

۳_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۲_

۴_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۶۸و ۱۱۷۲ و ۱۱۶۹ اور ج۳ ص ۸۵۷ و۸۵۸ از بخاری ، ابن ابی شیبہ ، طبرانی اوسط میں ، ابویعلی ، ابن حبان ، ابن اسحاق ،ابن سعد اور بیہقی و غیرہ نیز ملاحظہ ہو حیاة الصحابہ ج۱ ص ۶۰۳ و ۲۰۷ اور السنن الکبری ج۹ ص ۱۷۵ و ۸۵_

۵_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۰_

۳۷۹

یہ بات قابل تعجب ہے کیونکہ بنی ساعدہ کے گھروں سے گزرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینے سے ان کی جانب سے داخل ہوئے کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبا کی جانب سے داخل ہوئے ہوں اور پھر اونٹنی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو انصار کے گھروں کے درمیان پھرایا ہو_ (جیساکہ اس نے صریحاً بیان کیا ہے) یہاں تک کہ وہ بنی ساعدہ کے گھروں تک پہنچی ہو_

سمہودی کے اس احتمال کی نفی''طلع البدر علینا'' والی روایت میں ان کے اس صریحی بیان سے ہوتی ہے کہ اہل مدینہ نے اس شعر کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال کیا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ دائیں طرف قبا کی جانب مڑے جیساکہ بیان ہوچکا ہے، بنابریں یہ شعر مکہ سے مدینہ تشریف آوری کے موقع پر کہا گیا نہ کہ قبا سے مدینہ آمد پر_

ان ساری باتوں کی روشنی میں حقیقت یہ ہے کہ مدینہ والوں نے اس شعر کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال مکہ سے تشریف آوری کے موقعے پر نہیں بلکہ تبوک سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد کے موقع پر کیا_

(ب): حلبی کا اس روایت کی بنیاد پر گانے بجانے کو جائز قرار دینا قابل تعجب امر ہے کیونکہ روایت فقط اتنا کہتی ہے کہ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد پر شعر پڑھا _ اس میں کوئی حرام چیز تو داخل نہیں تھی اور شعر پڑھنا کوئی کار حرام نہیں ہے بلکہ روایت میں ان اشعار کو لے میںپڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے_ اسی لئے ان کے کسی عالم کا بیان ہے کہ ''حرام اور غلط موسیقی کے حامیوں کا اس (طلع البدر والی روایت) کو دلیل بناکر ہر قسم کی موسیقی کو جائز قرار دینا بالکل اسی طرح ہے جس طرح انگور اور (نشے سے خالی )انگور کے پانی کے حلال ہونے کو دلیل بناکر (اس سے تیار شدہ) نشہ آور شراب کو بھی حلال قرار دیا جائے_ اس قسم کا قیاس ان لوگوں کے قیاس کی مانند ہے جو کہتے تھے کہ تجارت اور ربا ایک جیسے ہیں''_(۱)

اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ نامحرم عورت کی آواز کو سننا حرام ہے تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ حرمت کا یہ حکم اس وقت نازل ہوچکا تھا کیونکہ اسلام کے اکثر احکام تدریجاً نازل ہوئے جیساکہ شراب کے بارے

___________________

۱_ زاد المعاد (ابن قیم) ج ۳ ص ۱۷_۱۸_

۳۸۰

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417