الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 210003 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

اکسانے والی ایسی گھٹیا بات کی جسے سن کر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرہ اقدس سے غصہ کے آثار ظاہر ہوئے_ جنگ احد میں وہ بھاگ گئے، حنین میں بھی بھاگ گئے حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطرہ در پیش ہے_ لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور فقط اپنی جان بچانے کی سوچی_ادھر خیبر میں ان کا فرار تو اور بھی باعث تعجب ہے کیونکہ وہاں ان کے ساتھ ان کا بچاؤ کرنے والے بھی تھے_ رہا غزوہ خندق تو وہاں وہ عمرو بن عبدود کے مقابلے پرنکلنے کی جرا ت ہی نہ کرسکے_ادھر جنگ احدمیں جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا_ کون ہے جو اس تلوار کو لے اوراس کا حق ادا کرے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے وہ تلوار مانگی لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کو نہ دی بلکہ اسے ابودجانہ کے حوالے فرمایا_ ان کے علاوہ اور بھی مثالیں ملتی ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے _ان میں سے بعض واقعات کی طرف ہم آئندہ صفحات میں اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_

عجیب بات تو یہ ہے کہ حضرت عمر حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان تینوں نے کسی ایک شخص کو بھی ( میدان جنگ میں ) قتل نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے (دو بدو) جنگ کی ہے ، اور اس بارے میں مذکور واقعات کو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ صحیح نہیں ہیں_ اسی طرح انہوں نے راہ خدا میں کوئی بھی زخم نہیں کھا یا حتی کہ ان کی انگلیوں سے بھی خون کے قطرے تک نہیں ٹپکے جبکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بزرگ صحابہ نے راہ خدا میں مصیبتیں بھی اٹھائیں اور شہید بھی ہوئے_ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنوںمیں تو بہادر بنتے تھے لیکنبوقت جنگ ہرگز بہادر نہیں تھے_

۳_ہم قبل ازیں اشارہ کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے سال وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا پیغام لے کر مکہ والوں کے پاس جانے کی ہمت نہ کرسکے اور بہانہ یہ بنایا کہ اگراس کو ایذاء دی گئی تو بنی عدی اس کی مدد نہیں کریں گے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص مذکورہ کارکردگی اوربہادری کا حامل رہا ہو اسے بنی عدی یا کسی اور کی ضرورت ہی کیاتھی؟

۴_فتح مکہ کے دوران ابوسفیان اور عباس مسلمانوں کے جھنڈوں کا جائزہ لے رہے تھے انہوں نے

۲۸۱

حضرت عمر کو گزرتے دیکھا جبکہ ان کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی اس وقت ابوسفیان نے عباس سے کہا: '' اے ابوالفضل یہ کون ہے جو بات کر رہا ہے؟ ''عباس نے جواب دیا :''یہ عمر بن خطاب ہے''_ابوسفیان بولا : ''واللہ بنی عدی کو ذلت وپستی اور قلت عدد کے بعد عزت مل گئی''_ عباس بولا :''اے ابوسفیان اللہ جس کسی کا مقام جس طریقے سے چا ہے بلند کردیتا ہے اور عمر بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے جس کا مقام اسلام کی بدولت بلند ہوا ہے''_(۱)

۵_یہ لوگ اسی بات پر متفق ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سارے لوگوں سے زیادہ شجاع تھے_ بلکہ (جلدہی ذکر ہوگا کہ) ان میں سے بعض حضرات نے اس بات کا دعوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابوبکر تمام صحابہ سے زیادہ شجاع تھے( جبکہ بعدمیں ہم یہ دیکھیں گے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے) ہجرت کے واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار میں چھپ گئے اور حضرت ابوبکر ڈرکے مارے روتے رہے حالانکہ وہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے جن کی حفاظت اور حمایت کی ذمہ داری خدانے لے رکھی تھی_اور اس بات کے ثبوت میں بہت سے معجزات بھی دیکھنے میں آئے ہیں_ خدانے بھی قرآن میں حضرت ابوبکر کے حزن وغم کا ذکر کیا ہے جبکہ حضرت ابوبکر کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے بعد سب سے زیادہ بہادر شخص تھے_ پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ دو تو ڈریں لیکن حضرت عمر نہ ڈریں؟

پھر حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ سے مدینہ کیوں نہیں پہنچایا؟

نیز حضرت عمرنے یہ کیسے گوارا کرلیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس قدرمشکلات اور مصیبتیں جھیلتے رہیں یہاں تک کہ بعد میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود ہی مشکلات کے گرداب سے نکلنے میں کامیاب ہوئے بلکہ حضرت عمر میں اتنی شجاعت اور طاقت تھی تو پھر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ اس سورما کو چاہیئےتھا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت وحفاظت کرتا اور قریش کی ایذاء رسانیوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ رکھتا_

ان باتوں کے علاوہ ہم نہیں سمجھ سکے کہ تاریخ نے حضرت حمزہ کے بارے میں اس قسم کے مردانہ اقدام کا

___________________

۱_ مغازی الواقدی ج ۲ ص ۸۲۱ و از کنز العمال ج ۵ ص ۲۹۵ از ابن عساکر اور واقدی_

۲۸۲

ذکر کیوں نہیں کیا جبکہ حضرت حمزہعليه‌السلام اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر تھے_ انہوں نے ہی ابوجہل کا سر پھوڑا تھا اور مسلمانوں کو ان کے قبول اسلام سے سرفرازی حاصل ہوئی تھی_

نیز کیا وجہ تھی کہ حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اوربنی ہاشم کو شعب ابیطالب میں چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے قریب المرگ ہوگئے تھے اور کوئی شخص ان تک کھانے کا سامان پہنچانے کی جرا ت نہ کرتا تھا جبکہ مذکورہ لوگوں کے نزدیک حضرت عمر شعب ابوطالب کے محاصرے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے( اگرچہ ہم قبل ازین قطعی طور پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عمر ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے مسلمان ہوئے تھے)_

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی معقول اور قابل قبول جواب ان لوگوں کے پاس موجود نہیں_

حقیقت

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دھمکی امیرالمومنین علیعليه‌السلام نے اس وقت دی تھی جب وہ ہجرت کر رہے تھے اورضجنان کے مقام پر ان کی سات مشرکین سے مڈبھیڑ ہوگئی تھی_ اس قصے کا تفصیلی ذکر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد امیرالمومنین علیعليه‌السلام کی ہجرت کے بیان میں ہوگا_ لیکن حضرت علیعليه‌السلام کے دشمن ان کی یہ فضیلت برداشت نہ کرسکے خاص کراس حقیقت کے بعد کہ وہ اپنی یہ شجاعت شب ہجرت بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوکر ثابت کرچکے تھے_

وہ حضرت علیعليه‌السلام کے بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونے کا انکار تو نہیں کرسکے اس لئے اپنی عادت کے مطابق انہوں نے آپعليه‌السلام کی دوسری فضیلت پرڈاکہ ڈال کر کسی اورکی طرف اس کی نسبت دے دی_ غار والے واقعے میں حضرت ابوبکرکی شان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_ بلکہ وہ تو سوائے اس کے کسی بات پر راضی نہ ہوئے کہ حضرت عمر کی فضیلت خود حضرت علیعليه‌السلام کی زبانی بیان کی جائے جیساکہ ہمیں اس قسم کے موقعوں پر ان کے اس وطیرہ کا باربار مشاہدہ کرنے کی عادت ہوچکی ہے_ کیونکہ یہ طریقہ دلوں پر زیادہ اثر

۲۸۳

کرتا ہے_ شکوک وشبہات سے دورتراورزیادہ قابل قبول ہوتا ہے_

لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے( نقذف بالحق علی الباطل فیدمغه فاذا هو زاهق ) (۱) یعنی ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں یوں باطل ذلیل ہوکر نابود ہوجاتا ہے_ چنانچہ ایساہی ہوا_

ہجرت مدینہ کا راز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا اور یہ امر خود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کا مقدمہ تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا :''خداوند عالم نے تمہارے لئے غم خوار بھائیوں اور امن وسکون سے رہنے کیلئے گھروں کا بندو بست کیا ہے''_ پس مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی _کچھ چھپ چھپا کرچلے گئے اور کچھ اعلانیہ_ انہوں نے اس مقصد کیلئے اپنے وطن، اپنے تعلقات اور بہت سوں نے مال و دولت اور معاشرتی حیثیت کی قربانی دی_ یہ سب کچھ انہوں نے اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں انجام دیا_

بالفاظ دیگر دین اور نظریے کی حیثیت ہر چیز سے زیادہ اہم اور بالاتر ہے_ پس وطن، مال اور جاہ و مقام وغیرہ کی اس وقت کوئی قیمت نہیں رہتی جب دین کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ دین حق کی حفاظت میں ہی وطن، مال اور دیگر چیزوں کی حفاظت کاراز پوشیدہ ہے _اگر دین حق محفوظ نہ رہے تو ہر چیز اگر ایک مصیبت یا بہت سے موقعوں پر انسان کیلئے خطرناک نہیں تو کم از کم زوال پذیر ضرور ہوجاتی ہے_

قریش اور ہجرت

ہجرت حبشہ کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے ہجرت اور اس کے مقابلے میں قریش کی پالیسی سے متعلق تھوڑی سی گفتگو کی تھی_ چنانچہ یہاں اس کا اعادہ نہیں کرتے_یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قریش نے ہجرت

___________________

۱_ سورہ انبیاء آیت ۱۸_

۲۸۴

حبشہ کی اس قدرسخت مخالفت کی تھی یہاں تک کہ مسلمانوں کوارض حبشہ سے واپس لانے کی کوشش کی تو پھر ہجرت مدینہ کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہوگا ؟جبکہ انہیں مسلمانوںکی اس ہجرت میں اپنے مفادات، اپنے وجوداوراپنے مستقبل کیلئے زبردست خطرات نظر آرہے تھے_

چنانچہ قریش نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ہجرت سے روکنے کی کوشش کی_ اگر کوئی مسلمان ان کے ہاتھ لگتا تو وہ اس کو قید کرتے اسے اپنے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش اور اس کے خلاف ظلم وتشددکے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے_ لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی_ دوسری طرف قریش اکثر مسلمانوں کا صفایاکرنے سے بھی اپنے آپ کو عاجز پاتے تھے کیونکہ اکثر مہاجرین کا تعلق مکی قبائل سے تھا اور ان میں سے کسی کا بھی قتل خود قریش کے درمیان خانہ جنگی کا باعث بن جاتا اور اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ یہ کام کسی صورت میں بھی قریش کے مفادمیں نہ تھا_

ہمارے ان عرائض کی تائید ابوسلمہ کے واقعے سے ہوتی ہے چنانچہ جب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ وہاں سے نکلا تو بنی مغیرہ کے بعض مردوں نے اس کا رخ کیا اور اس کی بیوی کو چھین لیا کیونکہ اس کی بیوی کا تعلق ان کے قبیلے سے تھا_ اس بات کے نتیجے میں ابوسلمہ کا قبیلہ بنی عبدالاسد جوش میں آگیا اور انہوں نے سلمہ (ابوسلمہ کے بیٹے) کو اس کی ماں سے چھین لیا_ یہ واقعہ تاریخ اور رجال کی کتابوں میں معروف ہے_(۱)

قریش اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ اس بڑی ہجرت کے بعد خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اس لئے ہجرت کرجائیں گے تاکہ وہاں زیادہ وسیع اور گہری بنیادوں پر مکمل آزادی کے ساتھ قیادت و رہبری اور ہدایت کا عمل انجام دے سکیں اور مدینہ والے بھی تمام تر وسائل کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کریں گے_ بنابر ایں انہیں سوائے اس بات کے کسی اور چیز کی فکر نہ تھی کہ ہر ممکنہ طریقے اور حیلے سے اس عمل کا راستہ روکا جائے_

___________________

۱_ البدایة ج ۳ ص ۱۶۹، السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۱۲ اور السیرة النبویة ابن کثیر ج ۲ ص ۲۱۵ ، ۲۱۶_

۲۸۵

دوسری فصل

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت

۲۸۶

سازش:

قریش کے رؤسا''دار الندوة'' میں جمع ہوئے_ اس اجتماع میں بنی عبد الشمس، بنی نوفل، بنی عبدالدار، بنی جمح، بنی سہیم، بنی اسد، اور بنی مخزوم وغیرہ کے رؤسا موجود تھے_انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی مجلس میں کوئی تہامی شامل نہ ہو کیونکہ تہامیوں کی ہمدردیاں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں_(۱)

انہوں نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ ان کے درمیان ہاشمیوں یا ان سے مربوط افراد کا کوئی جاسوس موجود نہ ہو_(۲)

روایات کے مطابق ابلیس بھی نجدی شیخ کی صورت میں ان کے درمیان موجود تھا(۳) _ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے_ بعض شرکاء نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوہے میں جکڑ کر قید کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان کو یہ خطرہ نظر آیا کہ کہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مددگار آپ کو چھڑا نہ لیں_ پھر یہ تجویز پیش ہوئی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وطن سے نکال کر کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے لیکن اس میں یہ خامی دیکھی کہ اس سے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے دین کی اشاعت میں مدد مل سکتی ہے_ آخر کار ابوجہل یا شیطان کی تجویز کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ ہر قبیلے سے ایک مضبوط اور باہمت جوان چن لیا جائے جو اپنی قوم میں شریف النسب، صحیح النسب اور ممتاز ہو_ ان میں سے ہر ایک کوایک ایک شمشیر آبدار تھمائی جائے تاکہ وہ اپنی تلواریں لیکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور ہوں اور مل کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کریں_ اس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوجائیں گے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کی ذمہ داری سارے قبائل میں تقسیم ہوجائے گی _ کیونکہ بنی عبد مناف ان سب قبائل کا مقابلہ نہیں کرسکتے نتیجتاً وہ دیت قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے جو تمام قبائل مل کر انہیں دیں گے اور یوں معاملہ صاف ہوجائے گا_

___________________

۱،۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۱ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۵ نیز رجوع کریں نور الابصار ص ۱۵_

۳_ تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۶۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۵ نیز تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۱ و ۳۲۲_

۲۸۷

واضح ہے کہ ان دس افراد کیلئے جو شرائط رکھی گئیں تھیں ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی قبیلہ دوسرے قبیلے کو اس امرمیں تنہا نہ چھوڑے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ امر قریش پر ضرب لگانے کیلئے بنی ہاشم کی قوت میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا خواہ وہ ضربت کتنی ہی محدود پیمانے پر کیوں نہ ہوتی_

اس کے علاوہ یہ شرائط اس بات کا باعث بنتیں کہ اس جرم کے ارتکاب کیلئے آمادہ ہونے والے زیادہ اطمینان اور شجاعت کے ساتھ اس خطرناک مہم کو انجام دیتے جس میں شک وتردید اور بزدلی کی کوئی گنجائشے باقی نہ رہتی_

بہرحال خدانے وحی کے ذریعے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس سازش سے باخبر کیا اور یہ آیت نازل فرمائی: (واذ یمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون و یمکر اللہ واللہ خیرالماکرین)(۱) یعنی جب کافروں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف سازش کی تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قید کریں یا قتل کریں یا نکال باہر کریںتو وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے_ خدائی مکر کسی دوسرے کی چال کو پوشیدہ طریقہ سے ناکام بنانے والی تدبیر کا نام ہے_

علیعليه‌السلام کی نیند اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت:

مورخین کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو قریش نے منتخب کیا تھا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے دروازے پر جمع ہوئے یعنی بعض روایات کی بنا پر عبد المطلب کے دروازے پر جمع ہوئے(۲) اور گھات لگا کر بیٹھ گئے اور آپکے سونے کا انتظار کرنے لگے وہ افراد یہ تھے: حکم ابن ابی العاص، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن حارث، امیہ بن خلف، زمعة بن اسود، ابولہب، ابوجہل، ابوالغیطلہ، طعمہ بن عدی، ابی ابن خلف، خالد بن ولید، عتبہ، شیبہ، حکیم بن حزام، اور حجاج کے بیٹے نبیہ و منبہ_(۳)

___________________

۱_ سورہ انفال آیت ۳۰ _

۲_ بحار ج ۱۹ ص ۷۳ از الخرائج والجرائح

۳_ ان کے ناموں کا ذکر السیرة الحلبیة ج ۲ و بحارالانوار ج ۱۹ ص ۷۲ و ۳۱ اور مجمع البیان وغیرہ میں کہیں مکمل طور پر اور کہیں جزوی طور پر ہوا ہے _

۲۸۸

یوں قریش نے اپنے ان پندرہ قبائل میں سے دس یا پندرہ افراد بلکہ اس سے بیشتر کا انتخاب کیا (بنابر اختلاف اقوال) تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوایک ساتھ وار کر کے قتل کر دیں_ ایک ضعیف قول کی بنا پر ان کی تعداد سوتھی(۱) لیکن ہماری نظر میں یہ روایت حقیقت سے دور ہے کیونکہ دیگر روایات کی مخالف ہے_

خلاصہ یہ کہ وہ جمع ہوگئے اور اللہ نے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے مکر سے آگاہ فرمایا_

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علیعليه‌السلام کو قریش کے منصوبے سے آگاہ فرمانے کے بعد حکم دیا کہ وہ رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سو جائیں_ حضرت علیعليه‌السلام نے عرض کیا ''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میرے وہاں سونے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچ جائے گی''_

فرمایا ہاں_ یہ سن کر حضرت علیعليه‌السلام خوشی سے مسکرائے اور زمین پر سجدہ ریز ہوگئے تاکہ اللہ کا شکرادا کریں_ یوں وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بستر پر سوگئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حضرمی چادر اوڑھ لی_ اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ رات کے پہلے حصے میں خارج ہوئے جبکہ قریش کے افراد گھر کے اردگرد گھات لگائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منتظر بیٹھے تھے_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ آیت پڑھتے ہوئے نکلے( وجعلنا من بین ایدیهم سدا ومن خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لایبصرون ) (۲) یعنی ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے اب انہیں کچھ نہیں سوجھتا_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دست مبارک میں ایک مشت مٹی تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ مٹی ان کے سروں پر پھینک دی_ اور ان کے درمیان سے گزرگئے_ اور انہیں احساس تک نہ ہوا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غار ثور کی راہ لی_

ادھر امیرالمؤمنینعليه‌السلام سوئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر آئے اور کہا :''اے اللہ کے رسول''_ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ سونے والے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے فرمایا :''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ چاہ میمونہ کی طرف

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۸۰ اور نور الابصار ص ۱۵

۲_ سورہ ی س آیت ۹ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۰_۸۱

۲۸۹

چلے گئے ہیں پس ان کی خدمت میں پہنچ جاؤ''_ چنانچہ حضرت ابوبکر چلے گئے اور حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے _(۱)

کہتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت علیعليه‌السلام کو پتھر مارنے شروع کئے جس طرح وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مارتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم درد سے تڑپتے اور پیچ وتاب کھاتے رہے_ آپ نے اپنے سر کو کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اورصبح تک اس سے باہر نہ نکالا_ پھر مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے_ جب حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو تلوار سونتے اپنی طرف آتے

___________________

۱_ آخری جملوں کیلئے رجوع کریں مناقب خوارزمی حنفی ص ۷۳ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۳۳ و تلخیص مستدرک (ذہبی) حاشیہ کے ساتھ ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے، مسند احمد ج ۱ ص ۳۲۱ و تذکرة الخواص (سبط ابن جوزی) ص ۳۴، شواہدالتنزیل ج ۱ ص ۹۹_۱۰۰،۱۰۱، تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰، تفسیر برہان ج ۱ ص ۲۰۷ ابن صباغ مالکی کی کتاب فصول المہمة ص ۳۰، و نسائی کی خصائص امیرالمومنین مطبوعہ نجف ص ۶۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵ مجمع الزوائد ج ۹ _ص ۱۲۰ از احمد (اس کے سارے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں سوائے ایک راوی کے جو ثقہ ہے و از طبرانی درکبیر و اوسط_ بحار ج ۱۹ ص ۷۸_۹۳ از طبری و احمد، عیاشی اور کفایة الطالب، فضائل الخمسة ج ۱ ص ۲۳۱، ذخائر العقبی ص ۸۷ اور کفایة الطالب ص ۲۴۳ اس کتاب میں مذکور ہے کہ ابن عساکر نے اسے اربعین طوال میں ذکر کیا ہے_

نیز رجوع کریں : الامام علی بن ابیطالب در تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق المحمودی ج ۱ ص ۱۸۶ و ۱۹۰ محمودی نے اسے اپنے حاشیے میں احمد بن حنبل کی کتاب الفضائل (حدیث نمبر ۲۹۱) نیز غایة المرام (ص ۶۶) سے طبرانی ج ۳ (ورق نمبر ۱۶۸ ب) کے واسطے سے نقل کیا ہے علاوہ بریں کفایة الطالب کے حاشیے میں ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۳ سے نقل ہوا ہے_ رہے آخری جملے تو وہ احادیث و تاریخ کی مختلف کتب میں موجود ہیں_

بحار ج ۱۹ ص ۶۱ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱ میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر اور ہند بن ہالہ کو حکم دیا کہ وہ غار کے راستے میں ایک معینہ مقام پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انتظار کریں_ اور بحار ج ۱۹ ص ۷۳ میں الخرائج و الجرائح سے منقول ہے حضور روانہ ہوئے جبکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھ رہے تھے_ پھر حضرت ابوبکر کو دیکھا جو رات کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں نکلے تھے_ وہ قریش کے منصوبے سے آگاہ ہوچکے تھے چنانچہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوبکر کو اپنے ساتھ غار کی طرف لے گئے_

اگر اس بات کو صحیح تسلیم کرلیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے منصوبے سے کیوں آگاہ نہیں کیا؟ مگر یہ کہ کہا جائے وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اطلاع دینے آئے تھے_ اس سے بھی اہم سوال یہ کہ قریش نے حضرت ابوبکر کو اپنے منصوبے سے کیونکر آگاہ کیا جبکہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ معمولی سے روابط رکھنے والے سے بھی اس کو چھپانے کی زبردست کوشش کرتے تھے جبکہ دیار بکری وغیرہ کا صریح بیان اس سے قبل گزر چکا ہے_

۲۹۰

دیکھا جبکہ خالد بن ولید آگے آگے تھا تو حضرت علیعليه‌السلام اس پرجھپٹ پڑے اور اس کے ہاتھ پر مارا خالد بچھڑے کی طرح اوپر نیچے چھلانگیں لگانے اور اونٹ کی طرح بلبلانے لگا_

آپعليه‌السلام نے اس کی تلوار چھین لی اورمشرکین پر حملہ آور ہوئے_ مشرکین چوپایوں کی طرح خوفزدہ ہو کر گھرسے باہر بھاگ نکلے_ پھر انہوں نے غورسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو حضرت علیعليه‌السلام ہیں_ وہ بولے'' کیا تم علیعليه‌السلام ہو؟''_ انہوں نے فرمایا:'' ہاں میں علیعليه‌السلام ہوں'' مشرکین نے کہا: ''ہمیں تم سے کوئی غرض نہ تھی_ یہ بتاؤ کہ تمہارا ساتھی کہاں گیا؟'' فرمایا :''مجھے کوئی خبر نہیں''_(۱)

قریش پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں

قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئےور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تعاقب میںسخت جان اور تا بعدار سواریوں پر سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے_ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشانات دیکھتے گئے_ یہاں تک کہ کھوجی (جو قدموں کے نشانات معلوم کرنے کا ماہر ہوتا ہے) اس جگہ پہنچا جہاں ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہوئے تھے_ اس نے مشرکین کو بتایا کہ وہ جس شخص کو تلاش کر رہے ہیں یہاں سے ایک اور شخص بھی اس کے ساتھ ہوگیا ہے_ بہرحال وہ قدموں کے نشانات دیکھتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے لیکن اللہ نے انہیں لوٹا دیا کیونکہ مکڑی نے غار کے دھانے پر جالا بن لیا تھا_ اور ایک جنگلی کبوترنے غار کے اندر داخل ہونے کے راستے میں ہی انڈے دے دیئے تھے اور اسی طرح کی دوسری باتیں جو تاریخ میں مذکورہیں_ چنانچہ ان لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ یہ غار متروکہ ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہوا وگرنہ مکڑی کا جالاکٹ جاتا اور انڈے ٹوٹ جاتے، اور جنگلی کبوتر بھی غار کے دھانے پر بسیرا نہ کرتا(۲) _

ادھر امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے رات تک انتظار فرمایااور پھر رات کی تاریکی میں ہند ابن ابی ہالہ کو ساتھ لیکر چلے گئے یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس غار میں داخل ہوگئے_ پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ہند کو حکم دیا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور

___________________

۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۲_۸۳_

۲_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۸ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۷ اور البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۱ و ۱۸۲_

۲۹۱

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھی کیلئے دو اونٹ خرید کرلائے_

اس وقت حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں نے اپنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے دو سواریوں کا بندوبست کر رکھا ہے آپ انہیں ساتھ لیکر یثرب کا سفر کیجئے''_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' قیمت اداکئے بغیرمجھے ان دونوں کی ضرورت ہے نہ ان میں سے ایک کی''_

ابوبکر نے عرض کیا :''پس آپ قیمت دیکر ان کو لیجئے''_

آپ کے حکم سے حضرت علیعليه‌السلام نے حضرت ابوبکر کو قیمت ادا کردی(۱) _

اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داریاں نبھانے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتیں ادا کرنے کی نصیحت کی کیونکہ قریش اور حج کے ایام میں مکہ آنے والے عرب حجاج اپنا مال و متاع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس بطور امانت رکھتے تھے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام مکے میں پکار پکار کر یہ اعلان کریں ''جس کسی کی کوئی امانت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہو وہ آکر ہم سے وصول کرے''_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس وقت یعنی جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تعاقب ختم ہوچکا تو حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا:''یا علیعليه‌السلام وہ لوگ آپ کے خلاف کوئی ایسی حرکت نہ کرپائیں گے جو آپ کو ناپسند ہویہاں تک کہ آپ میرے پاس پہنچ جائیں گے_ پس میری امانتیں کھلے عام ادا کرو، میں اپنی بیٹی فاطمہ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں اور آپ دونوں کواللہ کے حوالے کرتا ہوں اور اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں کی حفاظت کا طلبگار ہوں''_

ہجرت کا خرچہ

پھر حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپعليه‌السلام کو حکم دیا کہ اپنے اور فواطم (فاطمہ کی جمع ہے) یعنی فاطمہ زہراعليه‌السلام ، فاطمہ بنت اسد (مادر حضرت علیعليه‌السلام ) اور فاطمہ بنت زبیر جن کا ذکر ہجرت علیعليه‌السلام کے بیان میں ہوگااور ان کے علاوہ بنی ہاشم کے ان افراد کیلئے جو ہجرت کا عزم رکھتے ہوںسواریاں خرید لیں_

___________________

۱_ بحارالانوار ج۱۹ ص ۶۲ ، امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت ابوبکر سے قیمت ادا کئے بغیر سواریوں کا نہ لینے کا واقعہ سیرت النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لکھی جانے والی تقریباً تمام کتابوں میں ملے گا_ نیز مراجعہ ہو : وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷_

۲۹۲

ابو عبیدہ کا بیان ہے: میں نے ابوعبداللہ (یعنی ابن ابی رافع) سے کہا کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس قدر خرچ کرنے پر قادر تھے؟

اس نے جواب دیا میرا باپ مجھ سے یہی بات (جو تونے بتائی) نقل کیا کرتا تھا اور میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا_ میرے باپ نے جواباً کہا_ تو پھر حضرت خدیجہ (س) کا مال کہاں چلاگیا_ میرے باپ نے کہا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایاہے : ''خدیجہ کے مال نے مجھے جتنا فائدہ پہنچایا ہے کسی اور مال نے نہیں پہنچایا'' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت خدیجہ کے مال سے لوگوں کا قرض ادا کرتے اور قیدیوں کو چھڑاتے تھے، ضعیفوں کی مدد کرتے تھے، سختیوں کے وقت خرچ کرتے تھے، مکہ میں اپنے فقیر اصحاب کو سہارا دیتے تھے اور ہجرت کا ارادہ رکھنے والوں کی بھی اعانت فرماتے تھے(۱) _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تین دن غار کے اندر گزارنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_(۲)

امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بستر پر جورات گزاری اس کا تذکرہ آپعليه‌السلام نے یوں کیا ہے_

وقیت بنفسی خیر من وطا الحصا---- ومن طاف بالبیت العتیق وبالحجر

محمد لما خاف ان یمکروا به---- فوقاه ربی ذوالجلال من المکر

وبت اراعیهم متی ینشروننی---- وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر

وبات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله فی الغار آمنا---- هناک وفی حفظ الاله وفی ستر

اقام ثلاثا ثم زمت قلائص---- قلا ئص یفرین الحصا ایما یفری

اشعار کاترجمہ:

میں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اس شخص کی حفاظت کی جوزمین پر چلنے والوں اور کعبہ و حجر اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر تھا_ جب محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دشمنوں کی چال سے خطرہ محسوس ہوا تو خدانے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے مکر سے محفوظ رکھا_ میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے قتل کر دیں گے_ میں نے

___________________

۱ _ لیکن اسی روایت کو خواہشات نفسانی کے پیروکاروں نے روایت کرکے حضرت خدیجہ کے نام کو حضرت ابوبکر کے نام سے بدل دیا ہے تا کہ اس کے لئے ایک فضیلت ثابت کرسکیں جس کی کوئی بھی روایت، نص اور کوئی حقیقت تایید نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس ،واقعات اس کے برخلاف دلالت کرتے ہیں_

۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱_۸۲ و البحار ج ۱۹ ص ۶۱_۶۲_

۲۹۳

اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار میں امن وسکون کے ساتھ اور خدا کی پناہ میں رات گزاری، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غار میں تین دن گزارے پھر جوان اونٹوں پر سفر شروع ہوا_ یہ اونٹ ریگزاروں کو اس طرح طے کر رہے تھے جو دیکھنے کے قابل تھا_

جذبہ قربانی کے بے مثال نمونے

علامہ سید ہاشم معروف الحسنی کہتے ہیں ''جان نثاری وقربانی کی تاریخ کا عمدہ ترین قصہ یہیں سے شروع ہوتا ہے_ ٹھیک ہے کہ بہادر اور سورما لوگ دشمن کے سامنے جنگوں میں ڈٹ جاتے ہیں اور اپنے ہاں موجود اسلحے اور سامان جنگ کے ساتھ اپنے حامیوں اور مدد گاروں کے جھرمٹ میں لڑتے ہیں_ کبھی میدان جنگ ہی ان کو ثابت قدم رہنے پر مجبور کرتا ہے، اور وہ بھی اکیلے نہیں، لیکن کسی انسان کا اپنی مرضی اور خوشی سے کسی اسلحے یا سامان کے بغیر موت کے مقابلے میں یوں جانا گویا وہ کسی نرم ونازک بدن والی خوبرو عورت سے معانقہ کیلئے نکلا ہو اور ایسے بستر پر سونا جو خطرات میں گھرا ہوا ہو_ حالانکہ ایمان، خدا پر توکل اوراپنے رہبر کی سلامتی کی آرزو کے علاوہ اس کے ہمراہ کچھ بھی نہ ہوجیساکہ حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپعليه‌السلام کے ابن عم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو اپنے بستر پر رات گزارنے کیلئے کہا تاکہ وہ خود قریش کی سازشوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ وہ بات ہے جس کی مثال بہادری اور مردانگی کی تاریخ میں نہیں ملتی اور عقیدہ و ایمان کی راہ میں لڑی جانے والی جنگوں میں کسی نے اس کا ثبوت نہیں دیا_ پھر کہتے ہیں کہ شب ہجرت علیعليه‌السلام کا سونا پہلا واقعہ نہ تھا_ شعب ابوطالب میں محاصرے کے دوران بھی ابوطالبعليه‌السلام علیعليه‌السلام کو بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلایا کرتے تھے تاکہ اگر کوئی قاتلانہ اقدام ہو تو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بجائے علیعليه‌السلام کو نقصان ہو_ انہوں نے اس کام سے کبھی بھی گریز نہ کیا بلکہ وہ برضا و رغبت ایسا کرتے تھے_(۱)

___________________

۱_ سیرت المصطفی ص ۲۵۲_۲۵۰_

۲۹۴

بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا اور مسئلہ خلافت

یہاں تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا ناصبی اور علیعليه‌السلام و محبان علیعليه‌السلام کا دشمن ہونا مشہور ہے، یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کا بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا ان کی خلافت کا واضح اشارہ ہے_ چنانچہ وہ کہتا ہے:

''شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کے اس اقدام کو بعد میں ان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دیکھنے والے کو اس بات کے واضح اشارات ملتے ہیں کہ اس رات جس منصوبے پر عمل ہوا وہ حضرت علیعليه‌السلام کے حوالے سے کوئی اتفاقی یا عارضی بات نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے خاص آثار ونتائج کی حامل حکمت کارفرما تھی_ بنابریں ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ:

کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا اس رات حضرت علیعليه‌السلام کو اپنی شخصیت کے روپ میں پیش کرنا اس بات کا اشارہ نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علیعليه‌السلام کے درمیان ایک قسم کی یگانگت موجود ہے جو ان دونوں کے درمیان موجود رشتہ داری والی یگانگت سے ما وراء ہے_ کیا ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حضرت علیعليه‌السلام ہی وہ ہستی ہیں جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسند پر بیٹھنے کے لئے آمادگی رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی نمائندگی کرنے والے اور آپ کے قائم مقام ہیں_ میرا خیال ہے کہ کسی نے ہم سے قبل مذکورہ واقعے کا اس زاویے سے جائزہ نہیں لیا یہاں تک کہ حضرت علیعليه‌السلام کے شیعوں نے بھی اس نکتے کو ہماری طرح نہیں سمجھا'' _(۱)

قریش اور علیعليه‌السلام :

۱_آخر میں ہم اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قریش نے حضرت علیعليه‌السلام پر اپنے چچا زاد بھائی کی جگہ بتانے کے سلسلے میں زورنہیں دیا اور اصرار سے کام نہیں لیا، اس کی وجہ بس یہی تھی کہ وہ اس کام کو

___________________

۱_ عبدالکریم خطیب کی کتاب علی ابن ابیطالب ص ۱۰۵ کی طرف رجوع کریں _

۲۹۵

بے فائدہ سمجھتے تھے کیونکہ جو شخص اس حدتک مخلص ہو اوراس طرح کی بے مثال اور تاریخی قربانی دے وہ ان کے سامنے ہرگز اپناراز فاش نہیں کرسکتا تھا _اس راز کی حفاظت کیلئے تو اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا_ اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیعليه‌السلام کو چھوڑ دیا اور مایوسی کے عالم میں وہاں سے چلے گئے_(۱)

۲_پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں علیعليه‌السلام کا طرزعمل انسانیت کااعلی ترین نمونہ تھا_انہوں نے لوگوں کو اخلاص وقربانی کے مفہوم اورایمان کی حقیقت سے روشناس کرایاکیونکہ وہ اپنی شہادت کو ہر صورت میں قطعی دیکھ رہے تھے_ ان کے خیال میں وہ یا تو اس لئے قتل ہوجاتے کیونکہ مشرکین انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھ رہے تھے یا پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، (جنہوں نے قریش کے باطل نظریات کو جھٹلایا تھا، ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی تھی اور ان کی صفوں کو پراکندہ کر دیا تھا) کو بچانے کے جرم میں بطور انتقام قتل کردیئے جاتے_ قریش اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ علیعليه‌السلام کو کس قدر چاہتے ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاں ان کا کیا مقام ہے_ ان کا قتل حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچازاد بھائی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جان نچھاور کرنے والے مخلص انسان کا قتل تھا_(۲) اور حقیقت کے واضح ہونے کے بعد ان کا حضرت علیعليه‌السلام کو چھوڑ دینا یا تو خوف کے سبب تھا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ حضرتعليه‌السلام نے خالد بن ولید کا کیا حشر کیا تھا _ اور یا اس وجہ سے تھا کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ پہلے اپنے اصلی اور اہم دشمن کا کام تمام کردیں، ان کو ختم کرنے کے لئے ابھی وقت بہت ہے_

قریش اور شب ہجرت علیعليه‌السلام کا کارنامہ

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''ہجرت کی رات حضرت علیعليه‌السلام نے قریش کو جو کھلا چیلنج دیا اور ان کو جس طرح ذلیل کیا، نیز اس کے بعد تین دن تک جس طرح ان کے درمیان چلتے پھرتے رہے ،اس داغ کو قریش کبھی بھی نہ بھلا سکتے تھے_

___________________

۱_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین مصنفہ محمد صادق صدر ص ۱۰۶_۱۰۵_

۲_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین ص ۱۰۷ اور ۱۰۸ _

۲۹۶

اگر اس دن ان کو قتل کرنے میں قریش کو ایسے فتنے کا خطرہ محسوس نہ ہوتا جو ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیتا اور دوسری طرف سے وہ یہ دیکھ لیتے کہ اس طرح وہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں اپنے مقصد کو بھی حاصل نہیں کرسکیں گے تو وہ انہیں قتل کر کے ضرور دل کی بھڑاس نکال لیتے _یوں وہاں قریش ان سے دست بردار ہوئے لیکن بعد میں ان کا حساب چکانے کیلئے روز شماری کرنے لگے''_(۱)

جی ہاں درحقیقت یہ ایک سخت حساب تھا جو حضرت علیعليه‌السلام کو چکانا تھا_ خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ انہوں نے بعد میں ان کے بزرگوں اور سرداروں کو خاک مذلت میں ملادیا تھا اور اپنے چچازاد بھائی کے شمشیرزن بازو کی حیثیت سے بوقت ضرورت کبھی یہاں اور کبھی وہاں متکبر اور جابر لوگوں پر کاری ضرب لگاتے رہے تھے_ قریش نے حضرت علیعليه‌السلام سے مذکورہ سخت حساب چکانے کا سلسلہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعدہی شروع کردیا، یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل وکفن اور دفن سے بھی پہلے_

موازنہ

امیرالمومنینعليه‌السلام کے بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رات گزارنے کے نتیجے میں قریش نے یہ موقع گنوادیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جو سازش تیار کی تھی وہ ناکامی سے دوچار ہوئی_ اس کے علاوہ اس عمل سے دین اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور کلمہ حق کو فروغ حاصل ہوا_

اس واقعے کا ذبح اسماعیل علیہ السلام پر قیاس کرنا صحیح بات نہیں ہے کیونکہ حضرت اسماعیلعليه‌السلام نے تو ایک مہربان اور شفیق باپ کے آگے سرتسلیم خم کیا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے اپنی جان ان دشمنوں کے حوالے کردی جو ان پر رحم نہ کرتے اور جن کے دل کی بھڑاس ان کا خون بہائے بغیر نہیں نکل سکتی تھی_ نیز ان کا غصّہ جان لیوا شماتت، سخت ترین تشدد اور ایذاء رسانی کے بغیر نہ نکل سکتا تھا_

اسکافی نے جاحظ کی تصنیف عثمانیہ کے جواب میں اس واقعے پر تبصرہ کیا ہے_ (اس کا کلام شرح نہج

___________________

۱_ علی ابن ابیطالب (از عبدالکریم خطیب) ص ۱۰۶ _

۲۹۷

البلاغہ معتزلی کی تیرہویں جلد میں مرقوم ہے)_ وہاں رجوع کریں اگر ہم اس نکتے کی تشریح کرنے بیٹھیں تو ہماری بحث طولانی ہوجائے گی_

ارادہ الہی

کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کچھ اس طرح سے فرماتا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار میں چھپنے پر مجبور نہ ہوتے اور نہ حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سونا پڑتا_ وہ یوں کہ اللہ اپنی قدرت کی واضح نشانیوں اور حیرت انگیز معجزات کے ذریعے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرتا_

اس کا جواب منفی ہے کیونکہ خدا کی منشا یہ ہے کہ سارے امور حسب معمول اور طبیعی اسباب کے مطابق انجام پائیں (ہاں انسان کی طاقت سے باہر معاملات میں اس کی رہنمائی اور عنایات شامل حال ہوں) تاکہ یہ ہم سب کیلئے بھی نمونہ عمل اور مفید درس ثابت ہوں_ ہم بھی دین وعقیدے کی راہ میں جدوجہد کریں اور آسمانی معجزات کے منتظر نہ رہیں_ اسی صورت میں اللہ کا وعدہ (لینصرن اللہ من ینصرہ) اور( ان تنصروا الله ینصرکم ) عملی شکل اختیار کرے گا_

مصلحت اندیشی اور حقیقت

مشرکین مکہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہوئے وہ یہ کہ ایک طرف تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو جھٹلاتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تہمتیں لگاتے تھے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجنون، ساحر، شاعر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے_ لیکن دوسری طرف اپنے اموال اور اپنی امانات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سپرد کرتے تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو معتمد اور امین سمجھتے تھے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچازاد بھائی (علیعليه‌السلام ) کو مکہ چھوڑ جانے پر مجبور ہوئے کہ وہ تین دن تک اعلان عام کرتے رہیں تا کہ لوگ آکر اپنی امانتیں واپس لے جائیں_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت پر ان کا ایمان نہ لانا ہٹ دھرمی اور تکبر و عناد کے باعث تھا، نہ اس لئے کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کو دلی طور پر غلط سمجھتے تھے ارشاد

۲۹۸

الہی ہے:( وجحدوا بها واستیقنتها انفسهم ) (۱) _

یعنی انہوں نے آیات الہی کا انکار کیا جبکہ قلبی طورپراس کو مانتے تھے_ بالفاظ دیگر وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے اس لئے منکر تھے کہ وہ بزعم خود اس طرح سے اپنے ذاتی مفادات اور مستقبل کی حفاظت کرنا چاہتے تھے یا اس لئے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کرنے کے خواہشمند تھے یا اپنی امتیازی حیثیت اور مراعات کی حفاظت کے طالب تھے یا حسد اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایسا کررہے تھے_

حضرت علیعليه‌السلام کو ان حساس اور خطرناک حالات میں لوگوں کی امانتیں لوٹانے کیلئے مکے میں چھوڑ جانا ایک ایسے انسان کامل کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جو اپنے اصولوں پر کاربند اور اپنے نظریات کا پاسبان ہو _ایسا کامل انسان جو خدا کے معین کردہ راستے سے بال برابر بھی منحرف نہ ہوتا ہو اور بہانوں کی تلاش میں نہ پھرتا ہو_ بلکہ وہ اپنے عظیم اصولوں اور مقاصد کیلئے جیتا ہو اور اصولوں کو ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ قرار نہ دیتا ہو_

ہاں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امین کہہ کر پکارتے تھے اور یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واضح ترین صفات میں سے ایک صفت تھی حتی بعثت سے پہلے بھی_ یہی امین ہیں جو اب ان کی امانتیں واپس کررہے ہیں جبکہ وہ ان کے خون کے درپے ہیں لیکن یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کی امانتوں کا خیال رکھنے سے نہیں روکتی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی امانتیں واپس نہ کرتے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پورا پورا بہانہ حاصل تھا_

ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس عظیم صفت کی کوئی خاص اہمیت اہلسنت کی احادیث کے اندر دیکھنے میں نہیں آتی حالانکہ یہ صفت (حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتداری) انسانیت کی بنیاد ہے_ بالکل اسی طرح جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد سے احادیث ''حکمت'' خلفاء کی خواہش پر عمداً محو کی گئیں_ وگرنہ وہ چیز کہاں گئی جس کے بارے میں خدانے سات آیتوں میں یہ خبردی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داری لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینا ہے_ ہم جانتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں کو کتاب کی تعلیم دی جس کی خدانے حفاظت کی اور اب تک باقی

___________________

۱_ سورہ نمل آیت ۱۴

۲۹۹

ہے_( انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون ) (۱) یعنی ہم نے ہی قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں_

لیکن ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ حکمت کہاں گئی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امت کو سکھائی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ علماء و محدثین کے نزدیک ان میں سے فقط تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ احادیث رہ گئی ہیں وہ بھی فقہ احکام، اخلاق اور حکمت سب کے بشمول(۲) _ ان میں سے کتنی احادیث فقط حکمت سے مربوط ہیں اس کا حشر آپ کے سامنے ہے_

البتہ ہم آئمہ معصومینعليه‌السلام کی احادیث میں کثیر مقدار میں حکمت کی باتیں پاتے ہیں_ ان کی ایک بڑی تعداد امانت اور صداقت کے متعلق ہے_ انہوں نے امانت کو عملی اخلاق کا بنیادی محور قرار دیا ہے اور اسے زبردست اہمیت دی ہے_

زمین اور عقیدہ

ہم نے دیکھ لیا کہ اسلام کی نظر میں انسان کا حقیقی مقصد زمین نہیں بلکہ خود اسلام ہے کیونکہ جب کسی سرزمین پرزندگی گزارنا اور اس کی حفاظت کرنا ذلت وخواری، محرومیت اور عظیم دینی اہداف (جو انسان کی سعادت کا باعث ہیں) کے پورا نہ ہونے کا باعث بنے تو بہتری، اصلاح، مستقبل کی تعمیر اور حقیقی سعادت وعزت کے حصول کے پیش نظر اس سرزمین کو چھوڑ کر کہیں اور جانا چاہیئے_ پس پہلے تو خود انسان اور پھر تمام باقی چیزیں اسلام کی خاطر اور اس کی خدمت کیلئے ہیں_

درس ہجرت

ہجرت کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مسلمانوں پرایک دوسرے کی مدد واجب ہے_ نیز نسلی تعصبات

___________________

۱_ سورہ حجر آیت ۹ _

۲_ مناقب شافعی ج۱ ص ۴۱۹ نیز عن الوحی المحمدی ص ۲۴۳_

۳۰۰

سے مکمل طور پر مبرا ہوکر اغیار کے مقابلے میں متحد ہونا بھی ضروری ہے_ اور یہ کہ ان کے باہمی تعاون والفت اور آپس کی رحمدلی و ہمدردی کی بنیاد دین اور عقیدہ ہو نہ کہ نسلی و خاندانی تعلقات یا مفادات پر مبنی روابط وغیرہ_

علاوہ ازیں واقعہ ہجرت ہمیں حسن تدبیر، باریک بینی اور صحیح منصوبہ بندی کا بھی درس دیتا ہے جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پیش نظر رکھاکیونکہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں کو کسی نے آکر یہ خبر دی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھرسے نکل گئے ہیں تو اس وقت جس چیزنے ان کو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بستر پر موجودگی کے بارے میں مطمئن رکھا وہ علیعليه‌السلام کا بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رات گزارنا تھا_(۱)

ابوطالبعليه‌السلام اور حدیث غار

بعض روایات میں مذکور ہے کہ جب قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خلاف سازش کی تو ابوطالب علیہ السلام نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا:'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو علم ہے کہ انہوں نے کیا سازش کی ہے؟'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا:'' وہ چاہتے ہیں کہ مجھے قید کریں یا قتل کریں یا وطن سے نکال باہر کریں''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے عرض کیا ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کس نے خبردی؟ ''فرمایا: ''میرے رب نے''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام بولے: ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا رب سب سے بہترین رب ہے''_(۲)

لیکن واضح ہے کہ یہ روایت درست نہیں ہوسکتی کیونکہ قریش کی سازش ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے عقبہ کی دوسری بیعت کے بعد ہوئی تھی یعنی بعثت کے تیر ہویں سال_ حالانکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام بعثت کے دسویں سال وفات پاچکے تھے یعنی شعب ابیطالب سے مسلمانوں کے خارج ہونے کے بعد_

___________________

۱_ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ _

۲_ درمنثور ج ۳ ص ۲۷۹ نے سنید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ سے نقل کیا ہے _

۳۰۱

آیت غار

خداوند عالم نے فرمایا( الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه الذین کفروا ثانی اثنین اذهما فی الغار اذ یقول لصاحبه لاتحزن ان الله معنا فانزل الله سکینته علیه وایده بجنود لم تروها وجعل کلمة الذین کفروا السفلی وکلمة الله هی العلیا والله عزیز حکیم ) (۱)

یعنی تم نے اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد نہ کی تو کوئی پروا نہیں_ اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے، جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا_ جب وہ دومیں سے دوسرا تھا، دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا'' غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے''_ پس اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جوتم کو نظر نہ آتے تھے اوراس نے کا فروں کا بول نیچا کردیا اور اللہ کا تو بول بالاہی ہے اور اللہ زبردست دانا و بینا ہے_

کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت درج ذیل وجوہات کی بنا پر حضرت ابوبکر کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے_

(الف) آیت نے حضرت ابوبکر کو ''ثانی اثنین'' (دو میں سے دوسرا) کے الفاظ سے یاد کیا ہے بنابریں حضرت ابوبکر فضیلت کے لحاظ سے دو افراد میں سے ایک ٹھہرے اور اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ حضرت ابوبکر حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے قرین قرار پائیں_

(ب) آیت کی رو سے حضرت ابوبکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھی قرار پائے_ اس عظیم موقعے پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی بن جانا بہت بڑا اعزاز ہے_

(ج) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا، خدا ہمارے ساتھ ہے_ یعنی اللہ کی نصرت اور اس کا نظر کرم ان دونوں پر ہے_ بنابریں جو شخص اللہ کی طرف سے ہونے والی مدد میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شریک ٹھہرے اس کا شمار عظیم ترین لوگوں میں ہوگا_

___________________

۱_ سورہ توبہ آیت ۴۰ _

۳۰۲

(د) اللہ تعالی نے فرمایا ''اور اللہ نے اس پر سکون قلب نازل کیا''_ پس یہ سکون قلب جس پر نازل ہوا وہ حضرت ابوبکر تھے اس لئے کہ اس کی ضرورت ابوبکر کو تھی( کیونکہ ان کا دل گھبرا گیا تھا) نہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تو علم تھا ہی کہ اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ رکھے گا_(۱)

لیکن یہ ساری باتیں نادرست ہیں کیونکہ:

الف: حضرت عائشہ کہتی ہیں_ خدانے ہمارے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس کے کہ اس نے میرے عذر کا ذکر کیا_(۲)

ہماری تحقیق کی رو سے ثابت ہوا ہے کہ حضرت عائشہ کے عذر کے بارے میں بھی کسی آیت کا اترنا صحیح نہیں ہوسکتا جیساکہ ہم نے اپنی کتاب ''حدیث الافک'' میں ذکر کیا ہے_

ب: حضرت ابوبکر کے بارے میں ثانی اثنین ''کہنے سے کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ان الفاظ میں عدد بیان کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں دوسرا فرد کوئی بچہ یا جاہل یا مؤمن یا فاسق وغیرہ بھی ہوسکتا ہے_ نیز واضح ہے کہ قرآن کی رو سے فضیلت کا معیار فقط تقوی ہے نہ کہ عدد میں دوسرے نمبر پر قرار پانا_ جیساکہ فرمایا ہے( ان اکرمکم عند الله اتقاکم ) یعنی تم میں سب سے زیادہ صاحب عزت، اللہ کے ہاں وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو_

شیخ مظفر (رحمة اللہ علیہ) اضافہ کرتے ہیں کہ اگر دو کا بیان فضیلت و شرف کے نقطہ نظر سے ہو تو پھر حضرت ابوبکر کا مقام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام سے بھی زیادہ ہوگا_ کیونکہ آیت کی رو سے حضرت ابوبکر پہلے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسرے (ثانی) ہیں_(۳)

___________________

۱_ رجوع ہو ، دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۴ و ۴۰۵ _

۲_ بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ ج ۳ ص ۱۲۱ و تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۵۹ و فتح القدیر ج ۴ ص ۲۱ و الدر المنثور ج ۶ ص ۴۱ نیز ملاحظہ ہو الغدیر ج۸ ص ۲۴۷_

۳_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۴_

۳۰۳

ج:علاوہ بریں یہ بات بھی واضح ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کس قدر سخت حالات سے دوچار تھے اور یہ کہ اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت یا حمایت کرنے والا کوئی نہ تھا_ رہا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی تو وہ نہ صرف یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت نہیں کر رہا تھا بلکہ پریشانی اور خوف و ہراس کے باعث آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے ایک سنگین بوجھ بن چکا تھا_ بنابریں وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بوجھ ہلکا کرنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اعانت کرنے کی بجائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے دلجوئی کا محتاج تھا_ کم ازکم یہ بات تو مسلم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و حفاظت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درپیش مشقتوں میں تخفیف کے سلسلے میں حضرت ابوبکر نے کچھ بھی نہ کیا، ہاں اس نے تعداد میں اضافہ کیا یوں ایک کی بجائے دو افراد ہوگئے_

د: رہا حضرت ابوبکر کو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مصاحب قرار دینا تو اس میں بھی فضیلت کا کوئی پہلو نظر نہیں آتاکیونکہ مصاحبت سے تو فقط اتنا ثابت ہوتا ہے کہ وہ دونوں باہم اور ایک مقام پر جمع تھے اور یہ امر عالم وجاہل، صغیر وکبیر، مومن وغیر مومن وغیرہ کے درمیان بھی واقع ہوسکتا ہے_ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:( وما صاحبکم بمجنون ) (۱) یعنی اے اہل مکہ، تمہارا ساتھی مجنون نہیں ہے_ نیز فرمایا ہے( قال له صاحبه وهو یحاوره اکفرت بالذی خلقک ) (۲) یعنی اس کے ساتھی نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے پیدا کیا_

بنابریں مصاحبت برائے مصاحبت کوئی فضیلت نہیں رکھتی_

ھ: ادھر خدا کا قول (ان اللہ معنا) حضرت ابوبکر کو تسلی دینے کیلئے آیا تھا تاکہ ان کاحزن جاتا رہے_ یوں حضرت ابوبکر کو بتایا جارہا ہے کہ خداوند عالم انہیں مشرکین کی نظروں سے محفوظ رکھے گا_ اس میں فضیلت کا کوئی پہلو موجود نہیں_ بلکہ اس میں یہ خبردی جارہی ہے کہ اللہ ان کو دشمنوں کے شرسے نجات دے گا_ یعنی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حفاظت کے پیش نظر حضرت ابوبکر کی بھی حفاظت کرے گا_یہ بالکل اس آیت کی طرح ہے'' و ما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم '' یعنی جب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں خدا انہیں

___________________

۱_ سورہ تکویر آیت ۲۲ _

۲_ سورہ کہف آیت ۳۷ _

۳۰۴

عذاب میں مبتلاء نہیں کرے گا _ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی وجہ سے یا کسی مومن کی موجودگی سے عذاب الہی سے مشرکین کی نجات ان کی فضیلت کا باعث نہیں بنتی _

و: مورخین کے بقول حضرت ابوبکر محزون ہوئے تھے جبکہ وہ خدا کی واضح نشانیاں اور ایسے صریح معجزات دیکھ چکے تھے جن سے انسان کو یقین ہوجاتاہے کہ اللہ اپنے نبی کی حفاظت کرے گا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دشمنوں کے شرسے نجات دے گا_ حضرت ابوبکر کو معلوم تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قریش کے (شمشیر زنوں کے) درمیان سے گزرکر نکلے تھے لیکن وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھ سکے تھے_ نیز غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا بنانا اور کبوتر کا انڈے دے کر بیٹھ جانا بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا_ اس کے علاوہ اور چیزوں کا بھی مشاہدہ کیا تھا مثال کے طور پر یہ کہ حضورعليه‌السلام فرمایا کرتے تھے ''کہ اللہ جلد ہی ان کے ہاتھوں قیصر وکسری کے خزانوں کے دروازے کھول دے گا_ اپنے دین کو غالب کرے گا_ اور اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرے گا'' بنابریں ان حالات میں ان کا محزون ہونا اور اللہ کی مدد پر بھروسہ نہ کرنا جبکہ وہ خداکی جانب سے اس قدر معجزات کا مشاہدہ کرچکے تھے، ایک غیر پسندیدہ اور ممنوع عمل ہونا چاہیئے اور ممنوعیت بھی مولی ہونے کے اعتبار سے(۱) ہونی چاہیئے یعنی جناب کا رونا ناجائز تھا_ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک اللہ کی جلالت وعظمت کا احساس ان کے دل میں راسخ نہیں ہوا تھا_

کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرا حزن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی علی ابن ابیطالب کے بارے میں ہے کہ کہیں ان کو کچھ ہوانہ ہو''_ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا ہمارے ساتھ ہے''_(۲)

ز: رہا یہ دعوی کہ خدا کی نصرت ان دونوں کے شامل حال ہوئی تھی لہذا وہ اس مدد میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حصہ دار تھے اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے تو یہ بھی غلط ہے اور قرآن کی آیت صریحاً اس بات کی نفی کرتی ہے کیونکہ آیت نے تو اللہ کی مدد کو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مختص قرار دیا ہے (شاید اس لئے کہ اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار کے شر سے نجات دی)_

___________________

۱_ نہی مولوی وہ ہے جس کی مخالفت باعث عقاب ہو (مترجم) _

۲_ کراجکی کی کتاب کنز الفوائد ص ۲۰۵ _

۳۰۵

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے( الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه ) یعنی اگر تم لوگوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد نہ کی تو کوئی بات نہیں، اللہ اس کی مدد کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا_ یہاں ضمیر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹتی ہے_ بنابریں اللہ کی مدد فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ مختص ہوئی ہے_ ابوبکر تو بس طفیلی کی حیثیت رکھتے تھے_اللہ کی مدد کا حضرت ابوبکر کے شامل حال ہونا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ایک مقام پر موجود ہونے کی وجہ سے تھا_ اور یہ بات حضرت ابوبکر کی کسی فضیلت کو ثابت نہیں کرتی_(۱) بالفاظ دیگر اللہ کا حضرت ابوبکر کی حفاظت کرنا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حفاظت کے پیش نظر تھا، جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں_

ح: نزول سکینہ (اطمینان قلبی) کے بارے میں بھی ان کا یہ دعوی باطل ہے کہ سکون حضرت ابوبکر پر نازل ہوا تھا_ حقیقت یہ ہے کہ سکینہ (سکون قلب) کا نزول فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر ہوا کیونکہ اس سے قبل اور اس کے بعد کی ساری ضمیریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی طرف پلٹتی ہیں اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے_( تنصروہ، نصرہ، یقول، اخرجہ، لصاحبہ، ایدہ کے الفاظ میں)_ بنابریں ایک ضمیر کا کسی اور کی طرف پلٹنا خلاف ظاہر ہے اور قرینہ قطعیہ کا طالب ہے_

جاحظ کا بیان اور اس پر تبصرہ

جاحظ اور دوسروں نے مذکورہ باتوں پر تنقیدکی ہے_(۲) اور کہا ہے: ''کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو اطمینان قلبی کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ اس کا نزول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ہوتا''_ گویا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اس بات کے بہانے، لفظ کو اس کے ظاہری مفہوم سے جدا کریں_

لیکن ان کا دعوی غلط ہے کیونکہ:

الف: خدانے سورہ توبہ کی آیت ۲۶ میں جنگ حنین کے بارے میں فرمایا ہے:( ثم انزل الله سکینته

___________________

۱_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۵ _

۲_ العثمانیة ص ۱۰۷ _

۳۰۶

علی رسوله وعلی المؤمنین ) یعنی اللہ نے اپنا سکینہ (اطمینان قلبی) اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مومنین پر نازل کیا_ نیز سورہ فتح کی آیت ۲۶ میں ارشاد فرمایا ہے_( فانزل الله سکینته علی رسوله و علی المؤمنین ) یعنی پس اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مومنین پر سکینہ نازل کیا_

اسی طرح اللہ نے مومنین پرنزول سکینہ کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے:( هوالذی انزل السکینة فی قلوب المومنین لیزدادوا ایماناً ) (۱) یعنی اللہ ہی ہے کہ جس نے مومنین کے دلوں میں اطمینان نازل کیا تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو_

نیز یہ بھی فرمایا:( فعلم ما فی قلوبهم فانزل السکینة علیهم واثابهم فتحا قریبا ) (۲) یعنی اللہ نے ان کے دل کی بات جان لی پس ان پر اطمینان قلبی نازل کیا اور ان کو بطور انعام قریبی فتح عنایت کی_

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کو سکون کی نعمت سے محروم کرنے کا راز کیا تھا؟ حالانکہ خدانے یہاں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور دیگر مقامات پر نبی کریم اور مومنین پر اسے نازل فرمایا ہے؟ میری عرض یہ ہے کہ شاید اس کاجواب یوں دیا جائے کہ یہاں فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اس کا نزول کافی تھا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نجات میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم سفر کی بھی نجات تھی لیکن یہ ایک کمزور جواب ہے کیونکہ ''سکینہ'' اطمینان قلب کا موجب ہے اور پریشانی کے زائل ہونے کا باعث ہے_ نجات پانے اور بچ جانے سے اس کا کوئی سروکار نہیں_ یوں مذکورہ سوال تشنہ جواب ہی رہ جاتا ہے_

ب: سکینہ (اطمینان قلب) اللہ کی ایک نعمت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ نزول نعمت کے وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی ضد (نعمت کے فقدان) سے متصف ہوں_ اسی لئے ایک نعمت کے بعد دوسری نعمت نازل ہوتی ہے_

ج: انہیں کہاں سے علم حاصل ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو نزول سکینہ کی ضرورت نہ تھی؟ جبکہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی_بنابریں یہ آیت بھی جنگ حنین کے بارے میں اترنے والی آیت کی طرح ''سکینہ'' کیلئے یہ اعلان کر رہی ہے کہ شدید خطرہ اب ٹل چکا ہے_

___________________

۱_ سورہ فتح آیت ۴ _

۲_ سورہ فتح آیت ۱۸ _

۳۰۷

نیز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ حضرت ابوبکر کے حزن، خوف و ہراس اور رونے کی وجہ کچھ اور ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگرچہ یہ جانتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آخر کار اس خطرے سے نجات مل جائے گی لیکن حضرت ابوبکر کی روش مشکلات اور مسائل پیدا کرے گی اور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے ان مقاصد اور اہداف تک پہنچنے میں تاخیر کا باعث بنیں گے جن کا مرحلہ ابھی دور تھا_

د: علامہ طباطبائی کا نظریہ یہ ہے کہ اس آیت سے قبل اللہ کی طرف سے ان حالات میں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کا ذکر ہوا ہے جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کوئی فرد ایسا نہ تھا جو آپ کی مدد کرسکتا_ اس مدد کی ایک صورت نزول سکینہ اور خدائی لشکروں کے ذریعے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تقویت تھی_لفظ (اذ) کا تین بار تکرار اس بات کی دلیل ہے_ ان میں سے ہرایک پہلے والے کی کسی نہ کسی صورت میں توضیح کرتا ہے_ یہ لفظ اس مقام پر کبھی نصرت الہی کا وقت بیان کرنے کیلئے، کبھی آپ کی حالت بیان کرنے کیلئے اورکبھی اس حالت کا وقت بیان کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے_ بنابریں خدائی لشکروں کے ذریعے اس شخص کی تائید کی گئی جس پر سکون کا نزول ہوا تھا_(۱)

محقق محترم سید مہدی روحانی کہتے ہیں: ''چونکہ حضرت ابوبکر نے غم نہ کھانے اور خوف نہ کرنے کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کی، اس لئے سکینہ کا نزول فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر ہوا_ اور ابوبکر (اطمینان قلبی سے) محروم ہی رہے_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر اللہ کے اس فضل وکرم کے اہل ہی نہ تھے''_

شیخ مفید کا بیان اور اس کا جواب

شیخ مفید اور دیگر افراد کہتے ہیں کہ اگر حضرت ابوبکر کا حزن اطاعت خدا کیلئے تھا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اطاعت الہی سے منع کریں_ بنابریں ایک راہ رہ جاتی ہے وہ یہ کہ مذکورہ عمل حرام تھا، اسی لئے

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۹ ص ۲۸۰ مطبوعہ بیروت_

۳۰۸

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس سے منع کیا_(۱)

حلبی وغیرہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ خدانے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا ہے (ولایحزنک قولہم) ان لوگوں کی باتوں سے محزون نہ ہو، یہاں خدا کے نبی کو حزن و پریشانی سے منع کرنا بس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خوشخبری دینے کیلئے تھا_ بالکل یہی حال نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ابوبکر کو منع کرنے کا تھا_(۲)

ہمارے خیال میں حلبی کا جواب غیر مناسب ہے_ اسکی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کا حزن اور اللہ کی مدد پر ان کاشک کوئی مستحسن اور قابل تعریف امر نہ تھا جسکی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا(ان اللہ معنا) کہنا اشارہ کر رہا ہے_ ان کو تو اللہ کی طرف سے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کا یقین حاصل ہوناچاہیئے تھا کیونکہ وہ ان واضح معجزات اور صریح نشانیوں کو دیکھ چکے تھے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ اللہ اپنے نبی کو جلد ہی مشرکین کے شر سے نجات دے گا_

بنابریں یہ کہنا درست نہیں کہ یہ آیت ان کی تعریف و تمجید میں نازل ہوئی_ پس اس سے اس کا ظاہری مفہوم ہی مراد لینا چاہیئے کیونکہ ظاہری معنی سے ہٹ کر کسی اور معنی میں استعمال کیلئے قرینے کی ضرورت ہوتی ہے_ بلکہ ہم نے جو کچھ عرض کیا وہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہی ظاہری معنی ہی مراد ہے_

حضرت ابوبکر کے حزن کو نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حزن کے مشابہ قرار نہیں دیا جاسکتا_ جس کی طرف اللہ نے یوں اشارہ کیا ہے_( ولایحزنک قولهم ) یعنی ان کی باتیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دلگیر و محزون نہ کریں_ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تو بس اس لئے محزون ہوتے تھے کیونکہ آپ اپنی قوم کی ہٹ دھرمی اور کفر وطغیان کے باعث اپنی دعوت اور دین اسلام کی راہ میں مشکلات اور رکاوٹوں کا مشاہدہ کرتے تھے لہذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت موسیعليه‌السلام کو خدا کی جانب سے جو ممانعت ہوئی ہے وہ نہی تحریمی نہیں ہے بلکہ اس نہی کا مقصد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کی بشارت دینا ہے کہ دین اسلام کو جلد فتح نصیب ہوگی نیز یہ بتاناہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمنوں کی

___________________

۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنین علیعليه‌السلام ص ۱۱۹ و کنز الفوائد کراجکی ص ۲۰۳_

۲_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۸_

۳۰۹

بات پر توجہ نہ دیں اور ان کا غم نہ کھائیں کیونکہ وہ اس کے لائق نہیں ہیں_ لہذا یہاں نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حزن وغم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایمان کی گہرائی اور فنا فی اللہ ہونے کی علامت ہے_ اس حزن کا قیاس اس شخص کے حزن پر نہیں کیا جاسکتا جو فقط اپنی ذات کیلئے محزون ہوتا ہو_

قرآن کی آیات ہمارے عرائض پر صریحاً دلالت کرتی ہیں چنانچہ ایک آیت کہتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی قوم کو کفر کی طرف لپکتے دیکھ کر محزون ہوتے تھے_ ارشادہوتا ہے( ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر ) (۱) یعنی کفر کی طرف سبقت کرنے والوں کو دیکھ کر آپ غمگین نہ ہوں_

اور دوسری آیت کہتی ہے کہ آپ کا حزن ان کی طرف سے اپنی تکذیب کے باعث تھا فرمایا ہے( قدنعلم انه لیحزنک الذی یقولون فانهم لایکذبونک ) (۲) یعنی ہم جانتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں سے محزون ہوتے ہیں_

نیز ارشاد ہے:( ومن کفر فلا یحزنک کفره ) (۳) یعنی جو کافر ہوجائے اس کے کفر سے محزون نہ ہوں_ایک اور آیت یہ کہتی ہے کہ آپ اس لئے محزون ہوتے تھے کیونکہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو پوجتے تھے_ چنانچہ ارشاد ہوا( فلا یحزنک قولهم انا نعلم ما یسرون وما یعلنون ) (۴) اس کے علاوہ دیگر آیات بھی موجود ہیں جو صاحب نظر افراد سے پوشیدہ نہیں_

خلاصہ یہ کہ ان آیات کی مثال اس آیت کی طرح ہے_( فلا تذهب نفسک علیهم حسرات ) (۵) یعنی ان لوگوں پر افسوس کرتے کرتے خواہ مخواہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان نہ گھلے_

ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اگر ہم حضرت ابوبکر کے حزن کی علت کو نہ بھی جان سکیں تب بھی ان کے حزن کو معصوم نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حزن کی طرح قرار نہیں دے سکتے بلکہ ہمیں تو نہی الہی کے

___________________

۱_ سورہ آل عمران ۱۷۶ و سورہ مائدہ ۴۱ _

۲_ سورہ انعام آیت ۳۳ _ ۳_ سورہ لقمان آیت ۲۳ _

۴_ سورہ ی س آیت ۷۶ _ ۵_ سورہ فاطر آیت ۸ _

۳۱۰

ظاہری معنی کوہی لینا چاہیئے یعنی ''حرمت حزن'' کیونکہ ظاہری معنی سے صرف نظر کرنے کیلئے قرینے اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے_

ایک جواب طلب سوال

آیات ومعجزات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود جب حضرت ابوبکر محزون ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور صاحب یقین صابروں کا اجر حاصل کرنے کیلئے صبر نہ کرسکے تو پھر اگر انہیں اس رات امیرالمومنینعليه‌السلام کی جگہ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا پڑتا تو پتہ نہیں ان کا کیا حال ہوتا؟ کیا وہ ان مشکل لمحات میں قریش کے مکر کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دیتے اور ان کی طاقت وجبروت کے آگے ہتھیار نہ ڈال دیتے، یوں حالات بالکل پیچھے کی طرف پلٹ جاتے_

یہ سوال خود بخود سامنے آیا ہے اور شاید اس کا کم از کم مستقبل قریب میں شافی جواب ہرگز نہ مل سکے_

سوال دیگر: کیا اس کے بعد ہم اس دعوے کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اصحاب میں سب سے زیادہ شجاع تھے؟

غزوہ بدر کی بحث کے دوران اس (دو سرے) سوال سے مربوط بعض پہلوؤں کا ذکر آئے گا انشاء اللہ تعالی_ لہذا اس بحث کو وہاں پر موقوف کرتے ہیں_

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محافظت کی سخت مہم

لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا یہ قول کس حد تک صحیح ہے کہ غار کی طرف جاتے ہوئے حضرت ابوبکر کبھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے آگے چلنے لگ جاتے تھے کبھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے، نیز کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے عرض کیا:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب مجھے دشمن کے گھات کا خطرہ یاد آتا ہے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آگے ہوجاتا ہوں اور جب ان کے تعاقب کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو پیچھے چلا جاتا ہوں پھر کبھی دائیں اور کبھی بائیں چلنے لگتا ہوں مجھے آپ کے بارے میں (دشمن کا) خطرہ محسوس

۳۱۱

ہوتا ہے''_(۱)

یہ کلام نادرست ہے کیونکہ (ان معجزات الہیہ کا مشاہدہ کرنے کے باوجود جنہیں اس روایت کے راویوں نے ہی نقل کیا ہے) حضرت ابوبکر کا محزون ہونا اور خوف کھانا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی کدورت خاطر کا باعث بنا یہاں تک کہ آپ خدا کی طرف سے نزول سکینہ کے محتاج ہوئے_

اس بات سے قطع نظر، دشمن کی طرف سے گھات کا خوف معقول نہیں کیونکہ قریش مطمئن تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے محاصرے میں ہیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے مکر وفریب سے بچ کرہرگز نہیں نکل سکتے پھر حضرت ابوبکر کے پاس کونسا اسلحہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنی یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی طرح حفاظت کرتے؟

ان باتوں کے ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کرتا چلوں کہ حضرت ابوبکر احد، حنین اور خیبر میں بھاگ گئے تھے_ جس کا ہم آگے چل کر انشاء اللہ مشاہدہ کریں گے_ ان کے علاوہ حضرت ابوبکر کی جانب سے کسی شجاعانہ اقدام کا کوئی نام ونشان دکھائی نہیں دیتا_البتہ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ در اصل جناب ابوبکر دائیں بائیں اور آگے پیچھے اس لئے پھرتے تھے کہ انہیں دلی اطمینان اور مقام امن کی تلاش تھی جو انہیں تو نہیں مل سکی لیکن واقعہ کو تحریف کرکے دوسرے رخ کے ساتھ پیش کیا گیا_

حضرت ابوبکر کی پرزور حمایت کا راز

ہمیں تو تقریباً یقین حاصل ہے کہ ان کوششوں کا مقصد حضرت ابوبکر کی شان میں اس فضیلت کی کمی کو پوری کرنا ہے جو بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونے کی وجہ سے حضرت علیعليه‌السلام کو حاصل ہوئی اور جس پر اللہ تعالی نے فرشتوں سے اظہارمباہات کیا تھا_ جیساکہ ہم آگے چل کر ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالی_

من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله :

روایت ہے کہ اللہ تعالی نے جبرئیلعليه‌السلام اور میکائیلعليه‌السلام سے کہا میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۴ _

۳۱۲

دیا_ اور ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ قرار دی اب تم دونوں میں سے کون ہے جو اپنے ساتھی کو اپنے اوپر ترجیح دے تاکہ وہ زیادہ زندہ رہے؟ جواباً ان دونوں نے زندہ رہنے، کی خواہش کی_ اس وقت پروردگارعالم نے ان سے فرمایا کیا تم دونوں علی ابن ابیطالبعليه‌السلام جیسے نہیں بن سکتے؟ میں نے اس کے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا_ پس وہ اس پر اپنی جان قربان کرنے کیلئے اس کے بستر پر سوگیا اور اس کی زندگی کو اپنی زندگی پر ترجیح دی ہے اب تم دونوں زمین پر اترجاؤ اور دشمنوں سے اس کی حفاظت کرو_ چنانچہ وہ دونوں زمین پر اترآئے_ جبرئیلعليه‌السلام ان کے سرکی جانب اور میکائیل ان کے پیروں کی طرف، جبرئیلعليه‌السلام یہ پکار رہے تھے ''شاباش ہو آپ جیسے افراد پر یا علیعليه‌السلام ابن ابیطالب _اللہ تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر ومباہات کرتا ہے_ اس وقت اللہ کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی:

( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ، والله رؤوف بالعباد ) (۱)

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۰۷ اور روایت کیلئے رجوع کریں اسد الغابة ج ۴ ص ۲۵ و المستجاد (تنوخی) ص ۱۰ و ثمرات الاوراق ص ۳۰۳ و تفسیر البرہان ج ۱ ص ۲۰۷ و احیاء العلوم ج ۳ ص ۲۵۸ و تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۹ و کفایة الطالب ص ۲۳۹ و شواہد التنزیل ج ۱ _ص ۹۷ و نور الابصار ص ۸۶ و فصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۱ و تذکرة الخواص ص ۳۵ از ثعلبی و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ اور ۳۲۶، بحار ج ۱۹ ص ۳۹ و ۶۴ اور ۸۰ ثعلبی سے کنز الفوائد سے نیز از فضائل احمد ص ۱۲۴_۱۲۵، از الروضة ص ۱۱۹، المناقب خوارزمی ص ۷۴، ینابیع المودّة ص ۹۲ از ابن عقبہ ، نیز حبیب السیر ج۲ ص ۱۱ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ تاریخ اور سیرت کی اکثر کتابوں میں مذکور ہے _ التفسیر الکبیر ج۵ ص ۲۰۴ ، الجامع لاحکام القرآن ج۳ ص ۲۱ ، سیرت حلبی ج۳ ص ۱۶۸ ، سیرہ نبویہ دحلان ج۱ ص ۱۵۹ ، فرائد السمطین ج۱ ص ۳۳۰ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص۴ نیز اسی کے حاشیہ پر تلخیص مستدرک ذہبی بالکل اسی صفحہ پر ، مسند احمد ج۱ ص ۳۳۱ ، دلائل الصدق ج۲ ص ۸۱ _ ۸۲ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۶۰ ، اللوامع ج۲ ص ۳۷۶ ، ۳۷۵ ، ۳۷۷ از مجمع البیان ، المبانی، ابونعیم ،ثعلبی و غیرہ و از البحر المحیط ج۲ ص ۱۱۸ نیز معارج النبوة ج۱ ص ۴ و مدارج النبوة ص ۷۹ ، روح المعانی ج۲ ص ۷۳ از امامیہ و دیگر افراد، نیز از مرآة المؤمنین ص ۴۵ ، امتاع الاسماع ص ۳۸ ، مقاصد الطالب ص ۷ و سیلة النجاة ص ۷۸ ، المنتقی کا زرونی ص ۷۹ مخطوط و دیگر معروف و غیر معروف کتب_ اور امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۴ سے نقل کیا ہے_ ابن شہر آشوب کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو ثعلبی نے نیز ابن عاقب نے ملحمہ میں، ابوالسعادات نے فضائل عشرہ میں اور غزالی نے احیاء العلوم اور کیمیاء السعادة میں (عمار سے) روایت کیا ہے علاوہ ازیں ابن بابویہ، ابن شاذان، کلینی، طوسی، ابن عقدہ، برقی، ابن فیاض، عبدلی، صفوانی اور ثقفی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس، ابورافع اور ھند ابن ابوھالہ سے روایت کیا ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۲ ص ۴۸ ( گذشتہ بعض منابع سے )نیز نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۹ (از سلفی) محمودی نے شواہد تنزیل کے حاشیہ میں، مذکورہ مآخذ میں سے نیز ابوالفتوح رازی (ج ۲ ص ۱۵۲) و غایة المرام باب ۴۵ ص ۳۴۶ سے نقل کیا ہے اسی طرح سیرت مغلطای ص ۳۱، المستطرف اور کنوز الحقائق ص ۳۱ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے_

۳۱۳

لوگوں میں و ہ بھی ہے جو رضائے الہی کی طلب میں اپنی جان کا سودا کرتا ہے_ ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے_

اسکافی کہتے ہیں کہ: تمام مفسرین نے روایت کی ہے کہ( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ) والی آیت شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کے بستر (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) پر سونے کے بارے میں اتری ہے_(۱)

جھوٹے کامنہ کالا

یہیں سے فضل ابن روزبہان کے اس جھوٹ کا بھی پول کھل جاتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت زبیر اور مقداد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو اس لئے مکہ بھیجا تھا کہ وہ خبیب بن عدی کو پھانسی کے تختے سے اتاریں_ اس تختے کے اردگرد چالیس مشرکین موجود تھے لیکن ان دونوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے اتارا چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی_

اس بات کی تکذیب اسکافی کے مذکورہ بالا بیان کے علاوہ ان مآخذ سے بھی ہوتی ہے جن کا ذکر اس آیت کے حضرت علیعليه‌السلام کی شان میں اترنے کے بیان میں ہوا ہے_

شیخ مظفر فرماتے ہیں کہ مفسرین نے اس بات (فضل کی بات ) کا ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ سیوطی رازی اور کشاف نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ رازی نے اپنی تفسیر میں ان کے تمام اقوال کو جمع کیا ہے اور سیوطی نے ان کی تمام روایات کو_

الاستیعاب میں ''خبیب'' کے حالات زندگی میں مذکور ہے کہ جس شخص کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے (خبیب) کی لاش اتارنے کیلئے بھیجا وہ عمر بن امیہ ضمری تھے_(۲) اس پرمزید تحقیق آئندہ بیان ہوگی_

___________________

۱_ رجوع کریں شرح نہج البلاغة ج ۱۳ ص ۲۶۲ _

۲_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۸۲ _

۳۱۴

ابن تیمیہ کیا کہتا ہے:

ابن تیمیہ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان میں اس آیت کے نزول سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدثین اور سیرت نگاروں کا اس کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے اس کے علاوہ حضرت علیعليه‌السلام کو صادق (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کے اس قول سے ''کہ ان کی طرف سے تجھے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی'' اطمینان قلبی حاصل ہوگیا تھا_ بنابریں جان کی قربانی یا فداکاری کا مسئلہ ہی در پیش نہ تھا_ یہ آیت سورہ بقرہ میں مذکور ہے جس کے مدنی ہونے پر سب کا اتفاق ہے بلکہ کہا گیا ہے کہ یہ آیت صہیب کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے ہجرت کی_(۱)

ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ:

الف: اگر حضرت علیعليه‌السلام کی بہ نسبت یہ آیت مدنی ہے تو صہیب کے متعلق بھی تو یہ آیت مدنی ہے_ بات تو ایک ہی ہے_

ب: اسکافی معتزلی نے جاحظ کے دعوے ''کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے علیعليه‌السلام سے فرمایا (تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی'' کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے یہ واضح طورپر جھوٹ اور جعلی حدیث ہے جوبات معروف ہے اور منقول بھی_ وہ یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا :''میرے بسترپر سوجاؤاور میری حضرمی چادر اوڑھ لو_ آئندہ یہ لوگ (مشرکین) مجھے نہ پاسکیں گے_ اور میرا بستر نہ دیکھ سکیں گے شاید یہ لوگ تمہیں دیکھ کر صبح تک مطمئن ہوجائیں_ پس جب صبح ہوجائے تو میری امانت کی ادائیگی کے پیچھے چلے جانا''_

جاحظ نے جوبات کی ہے اسے کسی نے نقل نہیں کیا فقط ابوبکر اصم (بہرے) نے اسے گھڑا ہے اور جاحظ نے اس سے اخذ کیا ہے جبکہ اس کی کوئی بنیادہے ہی نہیں_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۷ _

۳۱۵

اگر (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے منسوب) یہ بات صحیح ہوتی تو حضرت علیعليه‌السلام کو مشرکین کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچتی_ حالانکہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ انہیں مارا گیا اور انہیں پہچاننے سے قبل ان کی طرف پتھر پھینکے گئے، یہاں تک کہ وہ درد سے پیچ وتاب کھاتے رہے اور انہوں نے ان سے کہا ہم نے تمہارا پیچ وتاب کھانا دیکھا_(۱)

اسکے علاوہ پہلے گزر چکا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر رات گزارنے کے بعد غار میں ملاقات کے دوران امانتوں کو واپس کرنے اور مکہ میں اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو اس وقت فرمایا تھا کہ ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور یہ اطمینان دلایا تھا کہ تمہارا یوں اعلان کرنا مشکلات اور مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنے گا_

ج: ہماری بات کی دلیل یہ ہے کہ:

۱) اگر ابن تیمیہ کی بات درست ہوتی تو پھر ان کا اپنے اس اقدام پر فخر کرنے کا کیامطلب رہ جاتا ہے؟ چنانچہ روایت ہے کہ جب حضرت عائشہ نے اپنے باپ اور غارمیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ ان کی مصاحبت پر فخرکیا تو عبداللہ بن شداد بن الہاد نے کہا:'' تیرا علی بن ابیطالبعليه‌السلام سے کیا مقابلہ جو تلواروں کے سائے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ پر سوگئے''_ یہ سن کر حضرت عائشہ خاموش ہوگئی اور ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا_(۲)

۲) حضرت انس سے منقول ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اپنے نفس کو قتل ہونے کیلئے آمادہ کرلیا تھا_(۳)

۳) بلکہ علیعليه‌السلام نے خود اس بات کی تصریح فرمائی اور ان اشعار کے ذریعے ہرقسم کے شبہات دور کردیئے جن کا تذکرہ ہوچکا ہے انہوں نے فرمایا تھا:

وقیت بنفسی خیر من وطئی الثری

میں نے اپنی جان پیش کر کے اس شخص کو بچایا جو اس زمین پر چلنے والوں میں سب سے بہتر تھا_

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۶۳ _

۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۶۲ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۵۶ (از امالی)

۳_ امالی شیخ طوسی اور بحارالانوار

۳۱۶

نیز یہ بھی فرمایا_

وبت اراعیهم متی یثبتوننی

وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر

وبات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله فی الغار آمنا

هناک وفی حفظ الاله وفی ستر(۱)

میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے گرفتار کرتے ہیں_ میں نے اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا ادھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار میں امن وسکون سے اور اللہ کی پناہ میں چھپ کر رات گزاری_

د:امام علیعليه‌السلام ہی سے نقل ہوا ہے کہ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے اپنے بستر پر سونے اور اپنی جان کے بدلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کا حکم دیا_ پس میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت میں اس کام کی طرف شتاب کیا_ میں اندر سے خوش تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بدلے میں قتل ہو جاؤں گا_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے سفر پر نکل پڑے اور میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پرسوگیا_ قریش کے مرد اس یقین کے ساتھ کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کریں گے_ جب گھر میں داخل ہوئے جہاں میں موجود تھا _میرا اور ان کا آمنا سامنا ہواتو میں نے اپنی تلوار سے ان کی خبرلی اور جس طرح میں نے ان سے اپنا دفاع کیا اسے اللہ اور لوگ بخوبی جانتے ہیں''_ پھر انہوں اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا:'' کیا میرا بیان درست نہیں؟'' وہ بولے ''کیوں نہیں اے امیرالمومنینعليه‌السلام ''_(۲)

یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے علیعليه‌السلام کو مارا اور کچھ دیر قید رکھا اور پھر چھوڑ دیا_(۳)

ابن تیمیہ کا یہ دعوی کہ جبرئیل کی طرف سے ان کی حفاظت اور اس بارے میں نزول آیت والی روایت تمام محدثین اور سیرت نگاروں کے نزدیک جھوٹی ہے،یہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ ابن تیمیہ کے

___________________

۱_ نور الابصار ص ۸۶، شواہد التنزیل ج ۱ ص ۱۰۲، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۴، تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے پر، نیز امالی شیخ ج ۲ ص ۸۳ تذکرة الخواص ص ۳۵ و فرائد السمطین ج ۱ ص ۳۳۰ و مناقب خوارزمی ص ۷۴_۷۵ و فصول المہمة (ابن صباغ) ص ۳۱، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۶۳ اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ نیز اس شعر کے منابع بھی بہت زیادہ ہیں جن کی جستجو کی گنجائشے نہیں ہے_

۲_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۴۵ میں، خصال ج ۲ ص ۱۴_۱۵ سے نقل ہوا ہے _

۳_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ _

۳۱۷

علاوہ کسی نے بھی اس روایت کو نہیں جھٹلایا ہے _بنابریں اس نے ان لوگوں کی طرف ایسی بات کی نسبت دی ہے جن کا خود ان کو علم نہیں اور وہ اس سے بری ہیں بلکہ حاکم اور ذہبی کی طرف سے اس روایت کو صحیح قرار دینے کی بات آپ پہلے پڑھ چکے ہیں_ اس کے علاوہ ایسے بہت سے لوگوں کا بھی ذکر ہوچکا ہے جنہوں نے بڑے بڑے علماء اور حفاظ سے اس روایت کو بغیر کسی ردوکد کے نقل کیا ہے لیکن ممکن ہے کہ ابن تیمیہ کے شیطان نے اس پر وحی کی ہو کہ وہ ان لوگوں کی طرف ایسی چیز منسوب کرے جس سے وہ بری ہیں_

ھ: حلبی نے ابن تیمیہ کے اعتراض کا یوں جواب دیا ہے_''اس نے امتاع میں یہ نہیں بتایا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام سے مذکورہ بات کہی تھی_ بنابریں ان کا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کیلئے اپنی جان کی قربانی پیش کرنا تو واضح ہے اور دوسری طرف سے یہ ممکن ہے کہ مذکورہ آیت ایک دفعہ حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اور ایک دفعہ حضرت صہیب کے بارے میں اتری ہواس صورت میں حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں لفظ شراء سے مراد بیچنا ہوگا یعنی انہوں نے اپنی جان نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان کے بدلے بیچ دی اور حضرت صہیب کے بارے میں اس لفظ سے مراد ''خریدنا'' ہوگا_ صہیب نے مال دے کر اپنی جان خرید لی_ رہا اس آیت کا مکی ہونا تو یہ بات سورہ بقرہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں کیونکہ سورتوں کا مکی یا مدنی ہونا آیات کی اکثریت کے پیش نظر ہوتا ہے_(۱)

لیکن حلبی کے اس جواب کی بعض باتیں قابل تنقید ہیں کیونکہ لفظ شراء ''کو ایک دفعہ بیچنے'' کے معنی میں اور ایک دفعہ خریدنے کے معنی میں استعمال کرناقابل قبول نہیں کیونکہ لفظ مشترک کے ایک سے زیادہ معانی میں استعمال کا موجب بنتا ہے جبکہ علماء کی ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے_ علاوہ ازیں صہیب کو اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے دوسروں پر کوئی ترجیح حاصل نہیں ہوتی_ کیونکہ بہت سے مہاجرین ہجرت کے باعث اپنے اموال سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے_ وہ ان کو مشرکین کے پاس چھوڑ کر راہ خدا میں مکہ سے نکل گئے تھے_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۷ _

۳۱۸

صہیب کا واقعہ اور ہمارا نقطہ نظر

نقل کرتے ہیں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار کی طرف حرکت کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابوبکر کو دو یا تین بار صہیب کے پاس بھیجا_ انہوں نے صہیب کو نماز پڑھتے پایا چنانچہ انہیں اچھا نہ لگا کہ وہ نماز توڑ دیں_ جب واقعہ ہوچکا تو صہیب حضرت ابوبکر کے گھر آئے اور اپنے دونوں بھائیوں (ابوبکر اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کے بارے میں پوچھا_ چنانچہ انہیں واقعے کے بارے میں بتایا گیا_ نتیجتاً وہ اکیلے ہی ہجرت کیلئے آمادہ ہوگئے لیکن مشرکین نے انہیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے اپنا مال ومتاع ان کے حوالے کردیا_ جب قباء کے مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ مل گئے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا صہیب فائدے میں رہا صہیب فائدے میں رہا_ یا فرمایا اس کی تجارت سود مند رہی چنانچہ خداوند عالم نے یہ آیت اتاری( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ) (۱)

اس روایت کے الفاظ مختلف ہیں جیساکہ تفسیر درمنثور اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے _یہاں اتنا کہناہی کافی ہے کہ ان میں سے ایک روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت اتری جب مشرکین نے صہیب کو سزا دینے کیلئے پکڑ لیا_ اور صہیب نے کہا میں ایک بے ضرربوڑھا آدمی ہوں خواہ میرا تعلق تم سے ہو یا تمہارے غیر سے_ کیا تم میرا مال لیکر مجھے اپنے دین کے معاملے میں آزاد نہیں چھوڑ سکتے؟ نتیجتاً انہوں نے ایسا ہی کیا_(۲)

ایک اور روایت نے اس کا تذکرہ اس واقعے کی طرح کیا ہے جو حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ ہجرت کے وقت پیش آیا یعنی جب مشرکین انکی دھمکی سے ڈر کر واپس چلے گئے تھے_(۳)

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ (صہیب کے ذکر میں)، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۳ و ۲۴، الدر المنثور ج ۱ ص ۲۰۴ از ابن سعد، ابن ابی اسامہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم و ابونعیم '' الحلیة '' میں اسی طرح ابن عساکر، ابن جریر، طبرانی، حاکم، بیہقی در الدلائل اور ابن ابی خیثمہ سے (عبارات میںکچھ اختلاف ہے) _

۲_ السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۱۶۸ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۱۶۸ _

۳۱۹

لیکن یہ قصہ صحیح نہیں کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان حالات میں صہیب کے پاس تین بار حضرت ابوبکر کو بھیجنا معقول بات نہیں خصوصاً ان حالات میں جبکہ انہی کے بقول مشرکین رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ حضرت ابوبکرکو بھی تلاش کررہے تھے اور انہیں تلاش کرنے والے کیلئے سو اونٹوں کاانعام مقرر کیا تھا(۱) _( اگرچہ ہماری نظر میں یہ بھی درست نہیں جیساکہ آپ آئندہ صفحات میں مشاہدہ کریں گے) لیکن بہرحال اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ قریش کی کوشش اس لئے تھی کہ حضرت ابوبکر کے ذریعے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا سراغ لگایا جائے_

۲) حالت نماز میں صہیب کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا پیغام پہنچانے سے ان کی نماز کیوں ٹوٹتی کیونکہ حضرت ابوبکر کیلئے یہ ممکن تھا کہ اپنی بات صہیب سے کہتے اور ان کی نماز توڑے بغیر لوٹتے یا ایک دو منٹ ٹھہر کر اس کا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر لیتے_ پھر اس قسم کا اتفاق نہایت ہی کم ہوتا ہے_لہذا کیسے ہوسکتاہے کہ وہ دو یا تین بار آئیں اور صہیب پھر بھی مشغول نماز ہوں_

۳) کیا وجہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے صہیب کو تو اہمیت دی لیکن دوسرے بے چارے مسلمانوں کو نظر انداز کردیا؟ (جن کے اوپر قریش ہرقسم کا تشدد روا رکھتے تھے) اور ان کے پاس تین بار تو کیا ایک بار بھی کسی کو نہ بھیجا؟ کیا یہ بات امت کے بارے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عادلانہ رویہ اور عطوفت ومہربانی سے ہم آہنگ ہے؟ ہاں مگر یہ کہا جائے کہ شاید صہیب کے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر مشرکین کی کڑی نظر تھی یا یہ کہ صہیب دوسروں سے زیادہ گرفتار بلا تھے یا اسی طرح کے دیگر احتمالات جن کی طرف بعض لوگوں نے اشارہ کیا ہے_

۴) ہم بعض ایسی روایات بھی پاتے ہیں جن کے مطابق حضرت ابوبکر نے (نہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے) صہیب سے کہا تھا اے صہیب تیری تجارت سود مند رہی(۱) جیساکہ ابن ہشام نے بھی اس واقعے کو ذکر کیا ہے لیکن اس نے نزول آیت کا تذکرہ نہیں کیا_(۲)

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۹ البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ اور ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۸_

۲_ مجمع البیان ج ۶ ص ۳۶۱، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۳۵، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۴ نیز ملاحظہ ہو صفین (منقری) ص ۳۲۵__

۳_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۱ _

۳۲۰

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417