الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209969 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

۱_ حکومت فقط خداکی

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان لوگوں کے مطالبے پر ان کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حکومت ان کوملے گی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو یہ جواب دیا کہ حکومت کا فیصلہ خداکے اختیار میں ہے جسے چا ہے عطا کرے_ بالفاظ دیگر یہ بات ممکن نہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایسا وعدہ فرماتے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر ہوتا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ روش عصر حاضر کے سیاستدانوں کی روش کے بالکل برعکس ہے جو خوبصورت وعدوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کتراتے_ پھر جب وہ اپنے مقاصد کو پالیتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمالیتے ہیں تو سارے وعدے بھول جاتے ہیں_

لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے باوجود اس کے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مددگاروں کی شدید ضرورت تھی بالخصوص ایسے بڑے قبیلے جو تعداد اور وسائل کے لحاظ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع اور مدد کرنے کے قابل تھے، اگرچہ یہ وعدہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے نہایت سودمند ہوتا لیکن اس کے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا وعدہ کرنے سے انکار فرمایا جس کا پورا کرنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بس سے باہر تھا_

(ب) ان لوگوں کے جواب میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس ارشاد سے کہ حکومت اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے ، اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیعیان اہلبیتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عقیدے کی تائید ہوتی ہے کہ خلافت ایسا منصب نہیں ہے جس کااختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ یہ ایک آسمانی منصب ہے جس کا اختیار فقط خداکے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے_

۲_ ہدف کی بلندی اور تنگ نظری

بدیہی بات ہے کہ اس قبیلے کی طرف سے مذکورہ طریقے پر مدد کی پیشکش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد رضائے الہی کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرنا نہ تھا اور نہ ان کا یہ موقف ایمان راسخ اور پختہ عقیدے کی بنیادوں پر استوار تھا_ نیز ان میں ثواب آخرت کا شوق تھا نہ ہی عقاب الہی کا خوف_

۲۲۱

ان کے اس موقف کا بنیادی ہدف تنگ نظری پر مبنی سودا بازی تھا _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کے ذریعے عرب پر فیصلہ کی طاقت اور عزت و حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے_

بنابریں واضح ہے کہ بعد میں جب وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان کے مفادات کی حد ختم ہوچکی اور ان کے سارے مقاصد حاصل ہوچکے یا یہ کہ ان کی دنیاوی سودا بازی ناکام ہوئی ہے تو پھر ان کی حمایت بھی ختم ہوجاتی بلکہ عین ممکن تھا کہ جب وہ اپنے مفادات اور خودساختہ امتیازی حیثیت کی راہ میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رکاوٹ پاتے تو پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہی خلاف ہوجاتے_

ان باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اس قسم کا طرزفکر رکھنے والے افراد پر اعتماد کرنا اعتمادکرنے والے کو بلا اور عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث نہ سہی تو کم ازکم کسی سراب کو حقیقت سمجھنے کی مانند ضرور ہے_

۳_ دین وسیاست

بعض محققین نے ایک نکتے کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ کہ بنی عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ فرد (بیحرہ بن فراس) کو جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے بارے میں بتایا گیا نیز ان کے ساتھ گزرنے والے واقعے سے آگاہ کیاگیا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ دین صرف عبادت گاہوں میں گھس کر ترک دنیا کرنے یانماز و دعا اور ورد و اذکار پر اکتفا کرنے کا دین نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دین ہے جو تدبیر و سیاست اور حکومت کو بھی شامل کئے ہوئے ہے_ اسی لئے اس نے کہا اگر یہ جوان (یعنی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اپنے جامع مشن کے ساتھ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کرجاتا_

اس شخص سے قبل انصار کے رئیس اسعد بن زرارہ نے بھی اس نکتے کا ادراک کرلیا تھا_ جب وہ مکہ آیا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین ان کے معاشرتی مسائل کی اصلاح نیز ان کے اور قبیلہ اوس کے درمیان موجود سنگین اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بنا پر ہجرت ہوئی(۱) _

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: بحارالانوار ج۱۹ ص ۹ و اعلام الوری ص ۵۷ از قمی_

۲۲۲

اس حقیقت کوتو خود ان لوگوں نے بھی سمجھ لیا تھا جنہوں نے اسلام کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ حکومت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کومل جائے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں رد کردیا تھا_

ایک طرف سے اسلام اور دعوت قرآنی کے بارے میں ان لوگوں کی فکر تھی جو انصار کے قبول اسلام اور پھر ہجرت اور ان کی بیعت (بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ) نیز بیعت کرنے والوں کیلئے ضامنوں اورنقیبوں کے انتخاب کا سبب بنی اور دوسری طرف دین و سیاست کو جدا سمجھنے والوں کی سوچ ہے اور ان دونوں میں کس قدرفاصلہ ہے_ یہ بات یقینا استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ ہے اور باہر سے در آمد شدہ مسیحی طرزفکر کا شاخسانہ ہے_

۴_ قبائل کو دعوت اسلام دینے کے نتائج

گذشتہ باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ :

(الف) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا لوگوں سے ملکر بہ نفس نفیس گفتگو فرمانااس بات کا موجب تھا کہ لوگوں کے اذہان میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کی حقیقی تصویر اتر جائے_ نیز ان بے بنیاد اور خود غرضی پر مشتمل دعووں اور افواہوں کی تردید ہوجائے جو قریش اور ان کے مددگار پھیلاتے تھے_ مثال کے طورپر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شاعر، کاہن، ساحر، اور مجنون وغیرہ کہنا_

(ب) بنی عامر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبائل کو دعوت اسلام دینا دین کی ترویج اور دور در از علاقوں تک اس کی شہرت کے پھیلنے کا باعث بنا کیونکہ فطری بات تھی کہ جب لوگ اپنے وطن واپس لوٹتے تو ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے جن کو انہوں نے اس سفرکے دوران سنا اور دیکھا تھا_ پھران دنوں مکہ میں اس نئے دین کے ظہور کی خبر سے زیادہ سنسنی خیز خبر کوئی اور نہ تھی_

حضرت سودہ اور عائشہ سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی

کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعثت کے دس سال بعد زمعہ کی بیٹی سودہ کے ساتھ شادی کی نیز حضرت

۲۲۳

ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ سے بھی نکاح فرمایا_

ہم تاریخ اسلام میں سودہ کا کوئی اہم کردار نہیں دیکھتے، نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی زندگی میں نہ اس کے بعد، اور ان لوگوں کی ساری توجہ حضرت عائشہ پر ہی مرکوز رہی ہے یہاں تک کہ انہوں نے ماہ شوال میں عقد کرنے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ شوال میں عقد کیا تھا(۱) جبکہ خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باقی عورتوں کے ساتھ شوال کے علاوہ دیگر مہینوں میں عقد کیا تھا_ بہرحال یہاں ہم حضرت عائشہ کی شادی سے مربوط تمام اقوال و نظریات پر روشنی نہیں ڈال سکتے کیونکہ فرصت کی کمی کے باعث یہ کام دشوار بلکہ نہایت مشکل ہے_

بنابریں ہم فقط دونکتوں کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کی شادی سے متعلق ہیں_

البتہ حضرت عائشہ سے متعلق کچھ اورپہلوؤں سے آگے چل کر بحث ہوگی_ ان دونوں نکتوں میں سے ایک حضرت عائشہ کی عمر کا مسئلہ ہے اور دوسرا ان کے حسن و جمال اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر و منزلت کا _

۱_ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ سے چھ یا سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا_ پھر ہجرت مدینہ کے بعد ۹سال کی عمر میں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر منتقل ہوئیں_ یہی بات خود حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے_(۲)

لیکن ہم درج ذیل دلائل کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ حضرت عائشہ کی عمر اس سے کہیں زیاہ تھی_

___________________

۱_ نزھة المجالس ج ۲ص ۱۳۷ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۹، الاصابة ج ۴ ص ۳۵۹، تاریخ طبری ج ۲ ص ۴۱۳، تہذیب التہذیب ج ۱۲، اسد الغابة ج ۵ اور دوسری کتب بطور مثال شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۹ ص ۱۹۰ لیکن ص ۱۹۱ پر خود اپنے کو رد کیا ہے اور کہا ہے وہ سنہ ۵۷ہجری میں فوت ہوئیں اور ان کی عمر۶۴سال ہے_ اس کا مطلب ہے ہجرت کے وقت ان کی عمر فقط سات سال تھی_

۲۲۴

(الف) ابن اسحاق نے حضرت عائشہ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ چھوٹی تھیں اور اس نے فقط اٹھارہ افراد کے بعد اسلام قبول کیا_(۱)

بنابریں اگر ہم بعثت کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سات سال بھی قرار دیں تو نکاح کے وقت ان کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت بیس سال ہوگی_

(ب) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے وہ عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ عورتوں میں سے کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے_ ان دونوں اقوال کے درمیان تناقض کو دور کرنے کے سلسلے میں طحاوی کہتا ہے ممکن ہے کہ دوسری حدیث فاطمہ کے بلوغ اور اس مرتبے کی اہلیت پیدا ہونے سے قبل کی ہو جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کیلئے بیان کیا_ کچھ آگے چل کر کہتا ہے کہ ہر وہ فضیلت جو دوسری عورتوں کیلئے بیان ہوئی ہو اور فاطمہ کے حق میں اس کے ثابت ہونے کا احتمال ہو وہ ممکن ہے اس وقت بیان ہوئی ہو جب وہ چھوٹی تھیں اور اس کے بعد وہ بالغ ہوئیں_(۲)

اس سے کچھ قبل طحاوی نے قاطعانہ طور پر کہا تھاکہ وفات کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر ۲۵سال تھی_(۳)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ولادت بعثت سے دو سال قبل ہوئی جبکہ فرض یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ حد بلوغت کو پہنچیں تو اس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چھوٹی بچی تھیں_(دوسرے لفظوں میں حضرت عائشہ کی

___________________

۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۷۱، تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۱و ۳۲۹ابن ابی خیثمہ سے اس کی تاریخ میں ابن اسحاق سے اور البدء و التاریخ ج ۴ ص ۱۴۶ _

۲_ مشکل الآثارج ج ۱ص ۵۲ _

۳_ مشکل الآثارج ۱ ص ۴۷_بعض علماء نے عائشہ کی فضیلت سے متعلق اس حدیث کو عائشہ کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مزاح قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جملے تفضیل اور بیان فضیلت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں _ خاص کر جب ہم اس بات کو بھی خاطر نشین کرلیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھانے پینے کے معاملے میں اتنے اہتمام کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لذت سے بھر پور کھانوں کے خواہش مند تھے کہ تفضیل جیسے حساس مسئلہ پر ایسی مثال پیش کریں_

۲۲۵

پیدائشے بھی بعثت سے کئی سال قبل ہوئی یوں حضرت عائشہ وقت ہجرت کم از کم پندرہ سال کی ہوں گی_ مترجم)

(ج) ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشےہ۵۸ہجری میں چل بسیں_( بعض لوگوں کے خیال میں ۵۷ہجری میں ان کی وفات ہوئی )تقریبا ۷۰سال کی عمرمیں_(۱)

ادھر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے تین یا چار یا پانچ سال قبل ہوئی_اور ادھر حضرت عائشہ سے مروی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے شادی کی تو میں نو سال کی تھی_(۲)

ہماری گذشتہ معروضات اور اس بات کے پیش نظر کہ لفظ سبع (سات) اور تسع (نو) کے درمیان اکثر اشتباہ ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں الفاظ کے نقطے نہیں ہوتے تھے اور مذکورہ عدد بھی اسی وجہ سے مشکوک ہے نیز عام طور پر عورتیں اپنی عمر کم بتانے کی خواہاں ہوتی ہیں شاید یہی روایت حقیقت سے نزدیک ترہو_

بہرحال ابن قتیبہ کا کلام اور اس کے بعد والے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائشے یا بعثت کے سال ہوئی یا اس سے قبل البتہ ہماری معروضات کی روشنی میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے_

خلاصہ یہ کہ جب ہم مذکورہ امور کو مدنظر رکھتے ہیں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت عائشہ سے بعثت کے دسویں سال نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال سے کہیں زیادہ تھی یعنی ۱۳سے لیکر ۱۷سال کے درمیان تھی_

جعلی احادیث کا ایک لطیف نمونہ

اس مقام پر دروغ گوئی کی عجیب و غریب مثال ابوہریرہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور یہیں بس گئے تو آپ نے لوگوں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میرے لئے نکاح کا بندوبست کرو_ جبرئیل جنت کا ایک کپڑا لیکر اترے جس پر ایک ایسی خوبصورت تصویر نقش تھی جس سے زیادہ خوبصورت شکل کسی نے نہ دیکھی تھی_ جبرئیل نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے یہ حکم سنایا کہ اس تصویر کے

___________________

۱_ المعارف ابن قتیبہ ص ۵۹ مطبوعہ ۱۳۹۰ھ_

۲_ رجوع کریں حدیث الافک صفحہ ۹۳_

۲۲۶

مطابق شادی کریں_ پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اے جبرئیل میں کیونکر اس جیسی صورت رکھنے والی سے شادی کرسکتا ہوں؟''_ جبرئیل نے کہا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابوبکر کی بیٹی سے شادی کریں ''_ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' اے ابوبکر خدا نے مجھے تیرا داماد بننے کا حکم دیا ہے''_ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی تین بیٹیاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا نے مجھے اس لڑکی یعنی عائشہ سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے'' _چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے شادی کی_(۱)

اس روایت کی سندپر جو اعتراضات ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ:

(الف) ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کیونکر ایسا کام کرتے جسے احترام ذات کے قائل صاحبان عقل انجام نہیں دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ اے لوگو میری شادی کرادو_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (معاذ اللہ)چھوٹے بچے تو نہیں تھے جو شرم و حیا اور عقل و شعور سے عاری ہوں_ عجیب نکتہ تو یہ ہے کہ (روایت کی رو سے) لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو سنی ان سنی کر کے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نا انصافی کی یہاں تک کہ جبرئیل نے آکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشکل حل کردی_

(ب) کیا یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ کاحسن و جمال اس قدرزیادہ تھاکہ اس سے بہتر صورت کسی نے نہ دیکھی ہو؟_ انشاء اللہ آنے والے معروضات، طالبان حق و ہدایت کیلئے کافی اور قانع کنندہ ثابت ہوںگے_

(ج) نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال قبل مکہ میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی اس سلسلے میں مورخین کا اجماع محتاج بیان نہیں_

(د) حضرت ابوبکر کی تین بیٹیا ں جن کو انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا تھا معلوم نہیں کونسی تھیں_ کیونکہ اسماء تو زبیر کی بیوی تھی جب وہ مدینہ آئی تو حاملہ تھی جس سے عبداللہ پیدا ہوا_ حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مکہ میں شادی کی اور ام کلثوم تو حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں_ان تینوں کے علاوہ تو ان

___________________

۱_ تاریخ بغداد خطیب ج ۲ ص ۱۹۴ میزان الاعتدال ذہبی ج ۳ ص ۴۴ خطیب اور ذہبی نے اس حدیث کی تکذیب کی ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن حسن، الغدیر ج ۵ ص ۳۲۱_

۲۲۷

کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں_(۱)

ان باتوں کے علاوہ حضرت ابوبکرکو صدیق کا لقب انکے چاہنے والوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد دیا تھا جس کی طرف ہم غار کے واقعے میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے_

حضرت عائشہ کا جمال اور انکی قدر ومنزلت

(اہل سنت کے تاریخی منابع کے مطابق)

حضرت عائشہ کے حسن وجمال اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی قدر ومنزلت اور محبوبیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کاملاً نہیں توکم از کم غالباً خود حضرت عائشہ سے مروی ہے یاان کے بھانجے عروہ سے_ ہمیں تو یقین ہے کہ یہ باتیں سرے سے ہی غلط ہیں_ یہاں ہم اپنی کتاب حدیث الافک (جو چھپ چکی ہے) میں مذکور نکات کو بعض اضافوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:

(الف) حضرت عائشہ کے حسن و جمال اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس ان کی قدر و منزلت اور محبوبیت کی بات غالباً خودحضرت عائشہ سے منقول ہے جیساکہ روایات میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے توکیا یہ خوبیاں صرف عائشہ یا ان کے بھانجے کو ہی معلوم تھیں کوئی اور ان سے واقف نہ تھا ؟ _

(ب) جنگ جمل کے بعد ابن عباس جب حضرت عائشہ سے روبرو ہوئے تو انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ نہ تو وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں اور نہ خاندانی شرافت و نجابت کے لحاظ سے ممتاز تھیں(۱) نیز (جیساکہ آگے جلد ذکر ہوگا) حضرت عمر نے حضرت عائشہ کے بجائے صرف زینب کے حسن کی تعریف کی ہے_

(ج) ''علی فکری'' کہتا ہے ابن بکار کی یہ روایت ہے کہ ضحاک بن ابوسفیان کلابی ایک بدصورت آدمی تھا جب اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی تو عرض کیا:'' میری دو بیویاں ہیں جو اس حمیرا سے زیادہ خوبصورت

___________________

۱_ نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۷۵_۲۷۸_

۲_ الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۳۳۷ مطبوعہ ہند_

۲۲۸

ہیں (حمیرا سے مراد حضرت عائشہ ہے اور یہ واقعہ آیت حجاب کے نزول سے قبل کا ہے) کیا میں ان دونوں میں سے ایک سے دستبردار نہ ہو جاؤں تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے شادی کرلیں؟''_ اس وقت حضرت عائشہ بیٹھی سن رہی تھیں، بولیں :''اس کا حسن زیادہ ہے یا تمہارا؟'' بولا:'' میرا حسن اور مرتبہ اس سے زیادہ ہے''_جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت عائشہ کے اس سوال پر ہنس پڑے (کیونکہ وہ شخص نہایت بدصورت تھا)_(۱)

(د) اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ عباد بن عوام نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا: '' حضرت عائشہ کیسی تھیں ؟ ''اس نے کہا : ''وہ کالی تھیں'' یحیی نے کہا : '' ہم نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا : '' ہاں'' پوچھا : '' کیسی تھیں ؟ '' کہا : '' کالی تھیں''(۲) پس یہ جو کہاجاتاہے کہ وہ گلابی رنگت کی تھیں اور پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے جملہ'' یا حمیرا'' کو بطور ثبوت پیش کیا جاتاہے یہ سب مشکوک ہوجائے گا_ اور شاید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کا حضرت عائشہ کو حمیرا کہنا ملائمت اور دلجوئی کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ چونکہ عربوں کی مثال ہے''شر النساء الحمیرا ء المحیاض'' (۳) سب سے بری عورت زیادہ، ماہواری کا خون دیکھنے والی عورت ہے _ اسی لئے عائشہ کے لئے جناب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مذاق میں یہ لفظ استعمال فرماتے ہوں_

(ھ) جو شخص ازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ جان لیتا ہے کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج اور لونڈیوں سے حسد کرتی تھیں اور اس بات کا بھی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ساری بیویاں نہ سہی تو کم از کم ان کی اکثریت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے زیادہ قدر و منزلت رکھتی تھیں_ اگرچہ ہم یہ دعوی نہ بھی کریں کہ وہ حسن و جمال میں بھی حضرت عائشہ سے آگے تھیں_ کیونکہ فطری بات ہے بدصورت آدمی خوبصور ت آدمی سے حسد کرتا ہے_ رہا خوبرو آدمی تو اسے بدشکل شخص سےحسد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے_ اسی طرح یہ بھی انسانی طبیعت کے خلاف ہے کہ وہ خوبرو شخص کے مقابلے میں بدصورت کی طرف زیادہ مائل ہو_ چنانچہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کی ماں کایہ قول نقل ہوا ہے''اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی

___________________

۱_ المسیر المھذب ج ۲ ص ۸_۹_ ۲_ الضعفاء الکبیر عقیلی ج۲ ص ۱۵۵_

۳_ علامہ زمخشری کی ربیع الابرار ج۴ ص ۲۸۰ و روض الاخیار ص ۱۳۰_

۲۲۹

خوبصورت عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں لیکن وہ اس کے خلاف باتیں نہ بنائیں''_

اگر ہم تسلیم بھی کریں کہ حضرت عائشہ ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قدر و منزلت رکھتی تھیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسروں سے زیادہ ان کو چاہتے تھے تو پھر دوسری بیویوں سے نفرت کرنے اور حسد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ حسد تو ہمیشہ اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس سے خود حاسد محروم ہو_ حاسد چاہتا ہے کہ محسود اس چیز سے محروم ہوجائے اور وہ خود اسے حاصل کرلے_

ذیل میں ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے خلاف حضرت عائشہ کے حسد کے بعض نمونے پیش کریں گے_

۱_ حضرت خدیجہ علیہا السلام

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی عورت سے اتنی نفرت نہیں کی جس قدر خدیجہ سے کی ہے_ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں نے اس کے ساتھ زندگی گزاری ہو بلکہ یہ تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں زیادہ یاد کرتے تھے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی گوسفندبھی ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بطور ہدیہ بھیجتے تھے_(۱) یہ قول مختلف عبارات میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہے_

ایک دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ کاذکر کیا تو ام المومنین عائشہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:'' وہ تو بس ایک بوڑھی عورت تھی جس سے بہتر عورت خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو عطاکی ہے''_ مسلم کے الفاظ یہ ہیں ''جس کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذکر کرتے ہیں وہ تو قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا تھی_ جس کے لبوں کے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے _ خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے''_ یہ سن کر

___________________

۱_ صحیح بخاری ج ۹ ص ۲۹۲ اور ج ۵ ص ۴۸ اور ج ۷ ص ۴۷ اور ج ۸ ص ۱۰ صحیح مسلم ج ۷ ص ۳۴_۱۳۵ اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸، المصنف ج ۷ ص ۴۹۳، الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۸۶ صفة الصفوة ج ۲ ص ۸، بخاری و مسلم سے، تاریخ الاسلام ذہبی ج ۲ ص ۱۵۳البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸_

۲۳۰

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرکے اگلے بال کھڑے ہوگئے_ پھر فرمایا :''خدا کی قسم ایسانہیں، اللہ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا ...''_(۱)

عسقلانی اور قسطلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں سے حسد کرتی تھیں لیکن حضرت خدیجہ سے ان کا حسد زیادہ تھا_(۲)

مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو حضرت خدیجہ کی زندگی کے بعد حضرت عائشہ کی حالت ہے_ پتہ نہیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیا حال ہوتا؟ نیز جب ام المومنین کے حسد نے مُردوں کوبھی نہ چھوڑا تو زندوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسا رہا ہوگا؟

۲_ زینب بنت جحش

حضرت عائشہ نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے زینب ہی فخرمیں اس کا مقابلہ کرتی تھی_نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے زینب سے شادی کا ارادہ کیا تو دور و نزدیک کے لوگوں نے اس کی خبرلی کیونکہ اس کے حسن و جمال کی خبر ان تک پہنچی تھی_(۳)

مغافیر کے مشہور واقعے میں حضرت زینب کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی کہانی مشہور ہے_یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ یہی واقعہ آیہ تحریم(۴) کے نزول کا باعث بنا ہے_ اگرچہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آیہ تحریم کسی اور مناسبت سے نازل ہوئی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۳۴ لیکن اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جواب ذکر نہیں کیا، اسد الغابة ج ۵ ص ۴۳۸ نیز ص ۵۵۷ و ۵۵۸ ،الاصابة ج ۴ ص ۲۸۳ استیعاب ج ۴ ص ۲۸۶، صفة الصفوة ج ۲ ص ۸مسند احمد ج ۶ ص ۱۱۷بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ مطبوعہ ۱۳۰۹ ہجری ، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۸ نیز اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ص ۹۶_

۲_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۰۲، ارشاد الساری ج ۶ ص ۱۶۶ و ج ۸ ص ۱۱۳ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۳۱۴ و طبقات ابن اسد ج ۸ ص ۷۲ و در المنثور ج ۵ ص ۲۰۲ ابن سعد و حاکم سے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۶ نیز حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۱ از بخاری و مسلم_

۲۳۱

حضر ت عمر ابن خطاب نے بھی زینب بنت جحش کے جمال کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے کہا '' نہ تمہیں عائشہ والا مرتبہ حاصل ہے اور نہ زینب والاحسن_''(۱) یعنی اگر حضرت عائشہ کے پاس حسن ہوتا تو اسے حضرت زینب پر ضرور مقدم کیا جا تا البتہ ہمیں پہلے جملے میںبھی شک ہے اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی ام المومنین کے ساتھ ایک سیاست تھی یا راویوں نے اپنی خواہشات کے تحت اس کا اضافہ کیا ہے(۲) _ اس کی وجہ پہلے بیان شدہ حقائق ہیں اورآئندہ بھی اس بارے میں گفتگو ہوگی_

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت زینب کو بہت پسند فرماتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکثر اس کانام لیاکرتے تھے_(۳)

۳_ ام سلمہ رحمہا اللہ

حضرت ام سلمہ سب سے زیادہ با جمال تھیں_(۴)

امام باقرعليه‌السلام سے مروی ہے کہ (ام سلمہ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں_ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے بارے میں مغافیر کا واقعہ ام سلمہ کی وجہ سے پیش آیا_(۵) خود حضرت عائشہ کا بھی اعتراف ہے کہ ام سلمہ اور زینب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب تھیں_(۶)

حضرت عائشہ کہتی ہیں:'' جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تومیں اس کے حسن کے بارے میں ملنے والی خبروں کے باعث سخت محزون ہوئی اور میری پریشانی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ جب

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۳۷_۱۳۸_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۷۳و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۴۷ _

۳_ المواھب اللدنیة ج ۱ص ۲۰۵و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲ _

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۲۲در المنثور ج ۶ص ۲۳۹ _

۵_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۱ _ ۶_ الاصابہ ج۴ ص ۴۵۹ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۶۶_

۲۳۲

میں نے اسے دیکھا تو جیسے سنا تھا اس سے کئی گنا زیادہ حسین پایا''_(۱) ابن حجر نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ غیرمعمولی حسن اور عقل رکھتی تھیں_(۲)

۴_ صفیہ بنت حیی بن اخطب

ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں:'' وہ حسین ترین عورتوں میں سے تھیں''_(۳) جب وہ مدینہ آئیں تو مدینہ کی عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھنے کیلئے آئیں_ حضرت عائشہ بھی نقاب اوڑھے ان کے ہمراہ تھیں_ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اے عائشہ اسے کیسا پایا ''تو وہ بولیں:'' ایک یہودیہ پایا''_ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عائشہ کو اس امر سے منع فرمایا_(۴) جب وہ قید ہوئی تھیں تو لوگ ان کی تعریف کرنے اور کہنے لگے:'' ہم نے ایسی عورت کو قید میں دیکھا جس کی مانند کسی کو نہیں دیکھا تھا_''(۵) جب حضرت صفیہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں کھانے کا ایک ظرف بھیجا (اس وقت آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے) تو حضرت عائشہ لرزنے لگی یہاں تک کہ ان کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے اس برتن کو ٹھوکر ماری اور دور پھینک دیا_(۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے متعلق تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ عائشہ اور حفصہ سے بہت بہتر ہے(۷)

۵_ جویریہ بنت حارث

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پر کشش اور خوبصورت عورت تھیں جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تو اس کا دل

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ص ۴۵۹_ ۲_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ و ۴۶۳ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۷ _

۳_ الاصابة ج ۴ص ۳۴۷ اور طبقات ابن سعد ج ۸ص ۹۰ _ ۴_ و طبقات ابن سعد ج ۸ص ۸۸ _

۵_ مسند احمد ص ۲۷۷ ج ۶ بخاری باب الغیرة ، باب النکاح کے ذیل میں لیکن اس میں حضرت عائشہ کا نام نہیں لیا گیا_

۶_ اسد الغابہ ج۵ ص ۴۹۱_ ۷_ الاصابہ ج۴ ص ۲۶۵ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۴ ص ۲۵۹ نیز صفة الصفوة ج۲ ص۵۰_

۲۳۳

موہ لیتی تھیں_ وہ لکھنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آتی تھیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں :''خدا کی قسم جونہی میں نے اسے دیکھا نفرت کا احساس ہوا اور اپنے دل میں کہا، اس کی جو خصوصیت میں نے دیکھی ہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی دیکھیں گے_ پھر جب وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس پہنچی ''(۱)

۶_ ماریہ قبطیہ

حضرت عائشہ کا کہنا ہے :''میں نے ماریہ قبطیہ سے زیادہ کسی کے ساتھ حسد نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خوبصورت اورگھونگھر یالے بالوں والی تھی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو وہ پسند آگئی_ جب وہ پہلی مرتبہ آئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس کو حارثہ بن نعمان کے گھر رکھا_ یوں وہ ہماری ہمسایہ بن گئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شب و روز اس کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کے پیچھے پڑگئے اور وہ خوفزدہ ہوگئی اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے عالیہ کے ہاں بھیج دیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس وہاں جایا کرتے تھے_ یہ بات ہمارے اوپر اور زیادہ سخت گزری''_(۲)

امام باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماریہ کو چھپا دیا تھا_ یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج پر گراں گزری اور ان سے حسد کرنے لگیں البتہ حضرت عائشہ کی طرح نہیں''_(۳)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت ماریہ کو پسند فرماتے تھے _وہ گھونگھر یالے بالوں والی(۴) سفید، حسین اور نیک سیرت خاتون تھیں_(۵) انصار کے درمیان ابراہیم کو دودھ پلانے کے بارے میں کھینچا تانی ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ حضرت ماریہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت کیلئے دیگر کاموں سے فارغ البال رہے کیونکہ وہ ماریہ کے بارے میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلچسپی سے

___________________

۱_ الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۵۳بدایہ و نہایہ ج ۳ ص ۳۰۳_۳۰۴ و وفاء الوفاء سمھودی ج ۳ ص ۸۲۶ _

۲_ طبقات ابن سعد ج ۱قسم ۱ ص ۸۶ سیرت حلبیہ ج ۳ ص ۳۰۹ _ ۳_ طبقات ابن سعد ج ۱حصہ ۱ ص ۸۶ اور الاصابة ج ۴ ص ۴۰۵ _

۴_ تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ ص ۳۵۵ و طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ ۱ ص ۸۶ اور البدایة و النہایة ج ۳ ص ۳۰۳ _

۵_ ذخائر العقبی ص ۵۴ ، الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج۱ ص ۴۲ اور طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۵۳_

۲۳۴

سے آگاہ تھے_(۱)

ماریہ سے حضرت عائشہ کے حسد میں اضافے کی ایک وجہ شاید ماریہ کا ابراہیم کو جنم دینا ہو_ یہاں تک کہ انہوں نے جسارت کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور ابراہیم کے درمیان شباہت کی نفی کی اس کے باوجود کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلے میں بہت تاکید اور اصرار کیا تھا(۲) _ بات یہاں تک بڑھی کہ آیہ تحریم کے نزول کی نوبت آئی جیساکہ سیوطی وغیرہ نے ذکر کیا ہے_

۷_ سودہ بنت زمعہ

حضرت عائشہ کہتی تھیں عورتوں میں فقط سودہ بنت زمعہ سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میں چاہتی ہوں، کاش اسکی کھال کے اندرمیں ہوتی، اسکی خامی بس یہ ہے کہ وہ حاسد ہے_(۳)

نیز اس کرتوت کا بھی مطالعہ فرمائیں جو حضرت حفصہ نے حضرت سودہ کے ساتھ کیا تھا اور جس پر حضرت عائشہ اور حفصہ دونوں حضرت سودہ پر ہنستیں اور مذاق اڑاتیں(۴)

۸_ اسماء بنت نعمان

حضرت اسماء اپنے زمانے کی خوبصورت ترین اور جوان ترین عورت تھی_ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اسماء سے حسد کرتی تھیں_ انہوں نے اسماء کے خلاف سازش کی_ سازش حضرت عائشہ اور حفصہ نے ملکر کی یہاں تک کہ اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے طلاق دے دی_(۵)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج۱ ص ۸۸ ، الدرالمنثور ج۶ ص ۲۴۰ از ابن مردویہ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ قاموس الرجال ج ۱۱ ص ۳۰۵ از بلاذری، السیرة الحلبیہ ج۳ ص ۳۰۹ ، مستدرک حاکم ج۴ ص ۳۹ ، تلخیص مستدرک (اسی کے حاشیہ پر ) بیہقی نیز تاریخ یعقویب ج۲ ص ۸۷ مطبوعہ صادر_ ۲_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۳۷ البدایة و النہایة ج ۸ ص ۷۰_ ۳_ حیاة الصحابہ ج۲ ص ۵۶۰ اور مجمع الزوائد ج۴ ص ۳۱۶_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۰۴ تاریخ اسلام ذہبی ج ۲ ص ۴۱۵_۴۱۶ سازش کرنے والی کا نام نہیں آیا_

۵_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۰۶ اور تاریخ الاسلام ذہبی ج۲ ص ۴۱۶_

۲۳۵

۹_ ملیکہ بنت کعب

وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی بنا پر معروف تھیں_ حضرت عائشہ نے اس کے پاس آکر کہا:'' تجھے اپنے باپ کے قاتل سے شادی کر کے شرم نہیں آئی؟''_اس نے خدا کے ہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے پناہ مانگی_ چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھی طلاق دے دی_(۱)

۱۰_ ام شریک

اس خاتون نے اپنے نفس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے وقف کیا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا تب حضرت عائشہ نے کہا:'' جو عورت اپنے نفس کو کسی مرد کیلئے وقف کر دے اس میں کوئی بھلائی نہیں''_ ام شریک نے کہا:'' پھر میں وہی عورت ہوں''_ پس خدا نے اسے مومنہ کے نام سے یاد کیا اور فرمایا:( وامرا ة مومنة ان وهبت نفسها للنبی ) یعنی اگر کوئی مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کیلئے وقف کردے_ جب یہ آیت اتری تو حضرت عائشہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش کو جلد پورا کرے گا''_(۲)

۱۱_ شراف بنت خلیفہ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بنی کلاب سے ایک عورت کی خواستگاری فرمائی اور حضرت عائشہ کو بھیجا تاکہ اسے دیکھے چنانچہ وہ گئیں اور واپس آگئیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا:'' اسے کیسا پایا؟''_حضرت عائشہ بولیں:'' کوئی کام کی چیز نہیں پائی''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' بتحقیقتونے اسے کام کی عورت پایا ہے_ تو نے اس کے چہرے پر خال دیکھا ہے جس سے تیرے بدن کے سارے بال کھڑے ہوگئے (یعنی تیرے اوسان خطا ہوگئے)''_ پس وہ بولیں:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی''_(۳)

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۲ _ ۲_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۱۵_

۳_ طبقات ابن سعد ج ۸ص ۱۱۵ _

۲۳۶

۱۲_ حفصہ بن عمر

بلکہ عائشہ تو اپنی سہیلی حفصہ سے بھی حسد کرتی تھی _ اور کہا جاتاہے کہ واقعہ مغافیر ان دونوں کے درمیان پیش آیا تھا(۱) _

نتیجہ

یہ تھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کے ساتھ حضرت عائشہ کا رویہ _ مذکورہ مشکلات کا قابل ملاحظہ حصہ بظاہر ان ازواج کے حسن و جمال کے باعث حضرت عائشہ کاحسد تھا (جیساکہ بیان ہو چکا ہے) حضرت عائشہ کی پیداکردہ مشکلات اور ان کے تجاوزات کادسواں حصہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی اور زوجہ کے بارے میں دیکھنے میں نہیں آتا سوائے ایک یا دو روایتوں کے جو خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیویوں میں سے فقط حضرت عائشہ نے (بغض و حسد اور مشکلات کا) جو طوفان مچا رکھا تھا وہ اس بات کا غماز ہے کہ اس کے پیچھے ایک خاص وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ان ازواج کے مقابلے میں احساس کمتری یا احساس محرومیت کا شکار تھی، کم ازکم حسن و جمال کے معاملے میں_

ان حقائق کے پیش نظر عروہ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے مذکور ان تمام دعوں اور روایات کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے جن سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے نزدیک عائشہ کے مقام و مرتبے کا اظہار ہوتا ہے اور اگر ساقط نہ بھی ہوں تو کم از کم یہ دعوے اور روایات مشکوک ضرور ہوجاتی ہیں_

رہی واقعہ افک والی بات تو وہ بھی باطل ہے_ ہم نے اس مسئلے کے بارے میں ایک الگ کتاب لکھ کر تفصیلی بحث کی ہے_ یہ کتاب کچھ ہی مدت پہلے چھپ چکی ہے_

یہاں پر یہ آخری نکتہ بھی بیان کرتے چلیں کہ (اہل سنت کی کتابوں میں)حضرت عائشہ سے ایسی بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ( ان کے بقول) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ بوس و کنار، حالت حیض میں (نعوذ باللہ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس کے ساتھ ہم بستری اور دونوں کے ایک ہی برتن میں غسل

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: حیاة الصحابہ ج۲ ص ۷۶۲ از بخاری ، مسلم و تفسیر ابن کثیر ج۴ ص ۳۸۷ نیز از جمع الفوائد ج۱ ص ۲۲۹ و از طبقات ابن سعد ج۸ ص ۸۵_

۲۳۷

کرنے کا ذکر ہے_ اور دیگر ایسی احادیث بھی مذکور ہیں جن میں( معاذ اللہ) جنسیات، دل ربائی اور لطف اندوزی کا رنگ پایا جاتا ہے _ جبکہ (اہل سنت کے منابع میں) حضرت عائشہ کے علاوہ دیگرازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس قسم کی حادیث بہت ہی کم دیکھنے کو ملیں گے _ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط نہیں تھے_ کیونکہ اس کی نہ تو ذہنی، ثقافتی اور عملی سطح اتنی تھی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشہ کے درمیان پل کا کام کرتی اور جس کے ذریعہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اور مضبوط بناسکتی اور نہ ہی اس کے اغراض ،اہداف اور مقاصد، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اغراض ، اہداف اور مقاصد سے میل کھاتے تھے_

اور اس کے بعد

ان عرائض کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت عائشہ کی جسارتوں، زیادتیوں نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی حضرت علیعليه‌السلام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دیگر ازواج کے حوالے سے اس کی ایذا رسانیوں کو سہنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت عائشہ کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ان تمام تلخیوں پر صبر سے کام لیتے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر تھا گھریلو یا ازدواجی ماحول کے تقاضوں کے مطابق نہیں_ اس امر کی تائید حضرت عمر کی اس بات سے ہوتی ہے جوانہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے کہی_ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے خلاف ایکا کرلیا تھا_ اور آنحضرت نے (جواباً) اپنی تمام بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی_ حضرت عمر نے حفصہ سے کہا تھا:'' اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تجھے نہیں چاہتے_ اگر میں نہ ہوتا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تجھے طلاق دے دیتے''_(۱)

یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ اس دور میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حقیقت کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو کیونکہ (دور خلفا میں) سرکاری مشینری نے حضرت عائشہ کی رکاب تھام رکھی تھی اور ان کی قدر و منزلت کو بڑھانے میں مصروف تھی کیونکہ سرکاری مشینری حضرت عائشہ سے زبردست فائدے حاصل کررہی تھی_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۸۹،اس کی مزید وضاحت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کثرت ازواج کے سبب کی گفتگو میں آئیگی جو واقعہ احد سے پہلے کی بحث ہے_

۲۳۸

ان کے مقام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ان کیلئے تمغوں (خودساختہ کارناموں) کا ڈھیر لگانے کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اور با قاعدہ سازش کارفرماتھی_ اور حضرت عائشہ بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم سے اپنی زوجیت اور ام المؤمنین کے لقب سے حد سے زیادہ فائدہ اٹھارہی تھیں_ اسی طرح وقت کی حکومتوں کی ضروریات سے بھی نامحدود فوائد حاصل کررہی تھیں_ یہ تمام باتیں، ہمارے لئے اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ کیوں حضرت عائشہ لوگوں کے درمیان ( اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کے کنوارے پن کی بناپر اس سے شادی کی ہے ) اپنے آپ کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی دیگر ازواج کی نسبت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ قریب اور با اثر مشہور کرتی تھیں_

مدینے میں دخول اسلام

مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ مدینے میں سب سے پہلے اسلام کب داخل ہوا؟ پہلا مسلمان کون تھا؟ اور کیسے اسلام وہاں پہنچا؟ لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں اسلام کا ورود کئی مرحلوں پر مشتمل ہے_ سب سے پہلے اسعد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد القیس مسلمان ہوئے_ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان شعب ابیطالب میں محصورتھے _اس کے بعد پانچ یا آٹھ یا چھ افراد مسلمان ہوئے_ پھر عقبہ کی پہلی بیعت ہوئی اور بعدازاں عقبہ کی دوسری بیعت_ مغلطای وغیرہ کے بیانات سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے_(۱)

اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اسعد بن زرارہ خزرجی اور ذکوان بن عبد القیس خزرجی ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ آئے اس وقت قریش نے بنی ہاشم کا شعب ابیطالب میں محاصرہ کر رکھا تھا_ ان کے آنے کا مقصد قبیلہ اوس کے خلاف عقبہ بن ربیعہ کو اپنا حلیف بنانا تھا لیکن عقبہ نے انکار کیا اور کہا: ''ہمارے اور تمہارے گھروں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور ہم ایسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے''_ جب اس مشکل کے بارے میں سوال ہوا تو عقبہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

___________________

۱_ سیرة مغلطای ص ۲۹ _

۲۳۹

نے ان کے جوانوں کو خراب اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے_ پھر عقبہ نے اسے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رابطہ سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساحر ہیں اور اپنے کلام سے اس کو مسحور کردیں گے_ پھر اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ طواف کے دوران اپنے کانوں میں روئی ڈال لے تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بات سنائی نہ دے _اس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ساتھ حجر اسماعیل میں بیٹھے ہوئے تھے_ یہ لوگ ایام حج میں خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے شعب ابیطالب سے خارج ہوئے تھے_

اسعد طواف کیلئے آیا اور اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو حجر اسماعیل کے پاس تشریف فرما دیکھا_ اس نے سوچا مجھ سے زیادہ جاہل کون ہوگا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکہ میں رونما ہونے والے اس واقعے سے آگاہ ہوئے بغیر میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں اور ان کو اس سلسلے میں کچھ نہ بتاسکوں؟ چنانچہ اس نے روئی اپنے کانوں سے نکال کردور پھینک دی_ پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ گفتگو کی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اسے دعوت اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگیا_ اس کے بعد ذکوان نے بھی اسلام قبول کرلیا_

ایک اور روایت کہتی ہے کہ جب اسعد بن زرارہ نے ذکوان کے ساتھ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ سے عرض کی:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے والدین آپ پر فدا ہوں، میں یثرب کا باشندہ ہوں اورقبیلہ خزرج سے میرا تعلق ہے_ اوسی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہیں_ شاید خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ہمارے تعلقات کو بحال کردے، میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سب سے زیادہ صاحب شرف پاتا ہوں_ میرے ساتھ میری قوم کا ایک فرد موجود ہے_ اگر وہ اس دین میں داخل ہوا تو مجھے امید ہے کہ خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے ہماری مشکل کو حل کردے گا_ اللہ کی قسماے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم یہودیوں کی زبانی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں سنتے آئے تھے وہ ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کی خوشخبری دیتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات و علامات بتاتے تھے_ مجھے امید ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دار ہجرت ہمارے ہاں ہوگا_یہودیوں نے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے_ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچایا_ اللہ کی قسم میں تو اسلئے آیا تھا کہ قریش کو اپنا حلیف بنالوں لیکن اللہ نے اس سے بہتر چیز عطا کی''_

اس کے بعد ذکوان آیا_ اسعد نے اس سے کہا :''یہ اللہ کا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کے بارے میں یہودی ہمیں خوشخبری دیتے تھے اور اس کی صفات و علامات بیان کرتے تھے، آؤ مسلمان ہوجاؤ''_ یہ سن کر ذکوان بھی

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

اکسانے والی ایسی گھٹیا بات کی جسے سن کر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرہ اقدس سے غصہ کے آثار ظاہر ہوئے_ جنگ احد میں وہ بھاگ گئے، حنین میں بھی بھاگ گئے حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطرہ در پیش ہے_ لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور فقط اپنی جان بچانے کی سوچی_ادھر خیبر میں ان کا فرار تو اور بھی باعث تعجب ہے کیونکہ وہاں ان کے ساتھ ان کا بچاؤ کرنے والے بھی تھے_ رہا غزوہ خندق تو وہاں وہ عمرو بن عبدود کے مقابلے پرنکلنے کی جرا ت ہی نہ کرسکے_ادھر جنگ احدمیں جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا_ کون ہے جو اس تلوار کو لے اوراس کا حق ادا کرے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے وہ تلوار مانگی لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کو نہ دی بلکہ اسے ابودجانہ کے حوالے فرمایا_ ان کے علاوہ اور بھی مثالیں ملتی ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے _ان میں سے بعض واقعات کی طرف ہم آئندہ صفحات میں اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_

عجیب بات تو یہ ہے کہ حضرت عمر حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان تینوں نے کسی ایک شخص کو بھی ( میدان جنگ میں ) قتل نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے (دو بدو) جنگ کی ہے ، اور اس بارے میں مذکور واقعات کو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ صحیح نہیں ہیں_ اسی طرح انہوں نے راہ خدا میں کوئی بھی زخم نہیں کھا یا حتی کہ ان کی انگلیوں سے بھی خون کے قطرے تک نہیں ٹپکے جبکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بزرگ صحابہ نے راہ خدا میں مصیبتیں بھی اٹھائیں اور شہید بھی ہوئے_ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنوںمیں تو بہادر بنتے تھے لیکنبوقت جنگ ہرگز بہادر نہیں تھے_

۳_ہم قبل ازیں اشارہ کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے سال وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا پیغام لے کر مکہ والوں کے پاس جانے کی ہمت نہ کرسکے اور بہانہ یہ بنایا کہ اگراس کو ایذاء دی گئی تو بنی عدی اس کی مدد نہیں کریں گے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص مذکورہ کارکردگی اوربہادری کا حامل رہا ہو اسے بنی عدی یا کسی اور کی ضرورت ہی کیاتھی؟

۴_فتح مکہ کے دوران ابوسفیان اور عباس مسلمانوں کے جھنڈوں کا جائزہ لے رہے تھے انہوں نے

۲۸۱

حضرت عمر کو گزرتے دیکھا جبکہ ان کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی اس وقت ابوسفیان نے عباس سے کہا: '' اے ابوالفضل یہ کون ہے جو بات کر رہا ہے؟ ''عباس نے جواب دیا :''یہ عمر بن خطاب ہے''_ابوسفیان بولا : ''واللہ بنی عدی کو ذلت وپستی اور قلت عدد کے بعد عزت مل گئی''_ عباس بولا :''اے ابوسفیان اللہ جس کسی کا مقام جس طریقے سے چا ہے بلند کردیتا ہے اور عمر بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے جس کا مقام اسلام کی بدولت بلند ہوا ہے''_(۱)

۵_یہ لوگ اسی بات پر متفق ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سارے لوگوں سے زیادہ شجاع تھے_ بلکہ (جلدہی ذکر ہوگا کہ) ان میں سے بعض حضرات نے اس بات کا دعوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابوبکر تمام صحابہ سے زیادہ شجاع تھے( جبکہ بعدمیں ہم یہ دیکھیں گے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے) ہجرت کے واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار میں چھپ گئے اور حضرت ابوبکر ڈرکے مارے روتے رہے حالانکہ وہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے جن کی حفاظت اور حمایت کی ذمہ داری خدانے لے رکھی تھی_اور اس بات کے ثبوت میں بہت سے معجزات بھی دیکھنے میں آئے ہیں_ خدانے بھی قرآن میں حضرت ابوبکر کے حزن وغم کا ذکر کیا ہے جبکہ حضرت ابوبکر کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے بعد سب سے زیادہ بہادر شخص تھے_ پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ دو تو ڈریں لیکن حضرت عمر نہ ڈریں؟

پھر حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ سے مدینہ کیوں نہیں پہنچایا؟

نیز حضرت عمرنے یہ کیسے گوارا کرلیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس قدرمشکلات اور مصیبتیں جھیلتے رہیں یہاں تک کہ بعد میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود ہی مشکلات کے گرداب سے نکلنے میں کامیاب ہوئے بلکہ حضرت عمر میں اتنی شجاعت اور طاقت تھی تو پھر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ اس سورما کو چاہیئےتھا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت وحفاظت کرتا اور قریش کی ایذاء رسانیوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ رکھتا_

ان باتوں کے علاوہ ہم نہیں سمجھ سکے کہ تاریخ نے حضرت حمزہ کے بارے میں اس قسم کے مردانہ اقدام کا

___________________

۱_ مغازی الواقدی ج ۲ ص ۸۲۱ و از کنز العمال ج ۵ ص ۲۹۵ از ابن عساکر اور واقدی_

۲۸۲

ذکر کیوں نہیں کیا جبکہ حضرت حمزہعليه‌السلام اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر تھے_ انہوں نے ہی ابوجہل کا سر پھوڑا تھا اور مسلمانوں کو ان کے قبول اسلام سے سرفرازی حاصل ہوئی تھی_

نیز کیا وجہ تھی کہ حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اوربنی ہاشم کو شعب ابیطالب میں چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے قریب المرگ ہوگئے تھے اور کوئی شخص ان تک کھانے کا سامان پہنچانے کی جرا ت نہ کرتا تھا جبکہ مذکورہ لوگوں کے نزدیک حضرت عمر شعب ابوطالب کے محاصرے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے( اگرچہ ہم قبل ازین قطعی طور پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عمر ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے مسلمان ہوئے تھے)_

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی معقول اور قابل قبول جواب ان لوگوں کے پاس موجود نہیں_

حقیقت

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دھمکی امیرالمومنین علیعليه‌السلام نے اس وقت دی تھی جب وہ ہجرت کر رہے تھے اورضجنان کے مقام پر ان کی سات مشرکین سے مڈبھیڑ ہوگئی تھی_ اس قصے کا تفصیلی ذکر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد امیرالمومنین علیعليه‌السلام کی ہجرت کے بیان میں ہوگا_ لیکن حضرت علیعليه‌السلام کے دشمن ان کی یہ فضیلت برداشت نہ کرسکے خاص کراس حقیقت کے بعد کہ وہ اپنی یہ شجاعت شب ہجرت بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوکر ثابت کرچکے تھے_

وہ حضرت علیعليه‌السلام کے بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونے کا انکار تو نہیں کرسکے اس لئے اپنی عادت کے مطابق انہوں نے آپعليه‌السلام کی دوسری فضیلت پرڈاکہ ڈال کر کسی اورکی طرف اس کی نسبت دے دی_ غار والے واقعے میں حضرت ابوبکرکی شان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_ بلکہ وہ تو سوائے اس کے کسی بات پر راضی نہ ہوئے کہ حضرت عمر کی فضیلت خود حضرت علیعليه‌السلام کی زبانی بیان کی جائے جیساکہ ہمیں اس قسم کے موقعوں پر ان کے اس وطیرہ کا باربار مشاہدہ کرنے کی عادت ہوچکی ہے_ کیونکہ یہ طریقہ دلوں پر زیادہ اثر

۲۸۳

کرتا ہے_ شکوک وشبہات سے دورتراورزیادہ قابل قبول ہوتا ہے_

لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے( نقذف بالحق علی الباطل فیدمغه فاذا هو زاهق ) (۱) یعنی ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں یوں باطل ذلیل ہوکر نابود ہوجاتا ہے_ چنانچہ ایساہی ہوا_

ہجرت مدینہ کا راز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا اور یہ امر خود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کا مقدمہ تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا :''خداوند عالم نے تمہارے لئے غم خوار بھائیوں اور امن وسکون سے رہنے کیلئے گھروں کا بندو بست کیا ہے''_ پس مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی _کچھ چھپ چھپا کرچلے گئے اور کچھ اعلانیہ_ انہوں نے اس مقصد کیلئے اپنے وطن، اپنے تعلقات اور بہت سوں نے مال و دولت اور معاشرتی حیثیت کی قربانی دی_ یہ سب کچھ انہوں نے اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں انجام دیا_

بالفاظ دیگر دین اور نظریے کی حیثیت ہر چیز سے زیادہ اہم اور بالاتر ہے_ پس وطن، مال اور جاہ و مقام وغیرہ کی اس وقت کوئی قیمت نہیں رہتی جب دین کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ دین حق کی حفاظت میں ہی وطن، مال اور دیگر چیزوں کی حفاظت کاراز پوشیدہ ہے _اگر دین حق محفوظ نہ رہے تو ہر چیز اگر ایک مصیبت یا بہت سے موقعوں پر انسان کیلئے خطرناک نہیں تو کم از کم زوال پذیر ضرور ہوجاتی ہے_

قریش اور ہجرت

ہجرت حبشہ کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے ہجرت اور اس کے مقابلے میں قریش کی پالیسی سے متعلق تھوڑی سی گفتگو کی تھی_ چنانچہ یہاں اس کا اعادہ نہیں کرتے_یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قریش نے ہجرت

___________________

۱_ سورہ انبیاء آیت ۱۸_

۲۸۴

حبشہ کی اس قدرسخت مخالفت کی تھی یہاں تک کہ مسلمانوں کوارض حبشہ سے واپس لانے کی کوشش کی تو پھر ہجرت مدینہ کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہوگا ؟جبکہ انہیں مسلمانوںکی اس ہجرت میں اپنے مفادات، اپنے وجوداوراپنے مستقبل کیلئے زبردست خطرات نظر آرہے تھے_

چنانچہ قریش نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ہجرت سے روکنے کی کوشش کی_ اگر کوئی مسلمان ان کے ہاتھ لگتا تو وہ اس کو قید کرتے اسے اپنے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش اور اس کے خلاف ظلم وتشددکے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے_ لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی_ دوسری طرف قریش اکثر مسلمانوں کا صفایاکرنے سے بھی اپنے آپ کو عاجز پاتے تھے کیونکہ اکثر مہاجرین کا تعلق مکی قبائل سے تھا اور ان میں سے کسی کا بھی قتل خود قریش کے درمیان خانہ جنگی کا باعث بن جاتا اور اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ یہ کام کسی صورت میں بھی قریش کے مفادمیں نہ تھا_

ہمارے ان عرائض کی تائید ابوسلمہ کے واقعے سے ہوتی ہے چنانچہ جب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ وہاں سے نکلا تو بنی مغیرہ کے بعض مردوں نے اس کا رخ کیا اور اس کی بیوی کو چھین لیا کیونکہ اس کی بیوی کا تعلق ان کے قبیلے سے تھا_ اس بات کے نتیجے میں ابوسلمہ کا قبیلہ بنی عبدالاسد جوش میں آگیا اور انہوں نے سلمہ (ابوسلمہ کے بیٹے) کو اس کی ماں سے چھین لیا_ یہ واقعہ تاریخ اور رجال کی کتابوں میں معروف ہے_(۱)

قریش اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ اس بڑی ہجرت کے بعد خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اس لئے ہجرت کرجائیں گے تاکہ وہاں زیادہ وسیع اور گہری بنیادوں پر مکمل آزادی کے ساتھ قیادت و رہبری اور ہدایت کا عمل انجام دے سکیں اور مدینہ والے بھی تمام تر وسائل کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کریں گے_ بنابر ایں انہیں سوائے اس بات کے کسی اور چیز کی فکر نہ تھی کہ ہر ممکنہ طریقے اور حیلے سے اس عمل کا راستہ روکا جائے_

___________________

۱_ البدایة ج ۳ ص ۱۶۹، السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۱۲ اور السیرة النبویة ابن کثیر ج ۲ ص ۲۱۵ ، ۲۱۶_

۲۸۵

دوسری فصل

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت

۲۸۶

سازش:

قریش کے رؤسا''دار الندوة'' میں جمع ہوئے_ اس اجتماع میں بنی عبد الشمس، بنی نوفل، بنی عبدالدار، بنی جمح، بنی سہیم، بنی اسد، اور بنی مخزوم وغیرہ کے رؤسا موجود تھے_انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی مجلس میں کوئی تہامی شامل نہ ہو کیونکہ تہامیوں کی ہمدردیاں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں_(۱)

انہوں نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ ان کے درمیان ہاشمیوں یا ان سے مربوط افراد کا کوئی جاسوس موجود نہ ہو_(۲)

روایات کے مطابق ابلیس بھی نجدی شیخ کی صورت میں ان کے درمیان موجود تھا(۳) _ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے_ بعض شرکاء نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوہے میں جکڑ کر قید کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان کو یہ خطرہ نظر آیا کہ کہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مددگار آپ کو چھڑا نہ لیں_ پھر یہ تجویز پیش ہوئی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وطن سے نکال کر کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے لیکن اس میں یہ خامی دیکھی کہ اس سے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے دین کی اشاعت میں مدد مل سکتی ہے_ آخر کار ابوجہل یا شیطان کی تجویز کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ ہر قبیلے سے ایک مضبوط اور باہمت جوان چن لیا جائے جو اپنی قوم میں شریف النسب، صحیح النسب اور ممتاز ہو_ ان میں سے ہر ایک کوایک ایک شمشیر آبدار تھمائی جائے تاکہ وہ اپنی تلواریں لیکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور ہوں اور مل کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کریں_ اس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوجائیں گے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کی ذمہ داری سارے قبائل میں تقسیم ہوجائے گی _ کیونکہ بنی عبد مناف ان سب قبائل کا مقابلہ نہیں کرسکتے نتیجتاً وہ دیت قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے جو تمام قبائل مل کر انہیں دیں گے اور یوں معاملہ صاف ہوجائے گا_

___________________

۱،۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۱ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۵ نیز رجوع کریں نور الابصار ص ۱۵_

۳_ تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۶۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۵ نیز تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۱ و ۳۲۲_

۲۸۷

واضح ہے کہ ان دس افراد کیلئے جو شرائط رکھی گئیں تھیں ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی قبیلہ دوسرے قبیلے کو اس امرمیں تنہا نہ چھوڑے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ امر قریش پر ضرب لگانے کیلئے بنی ہاشم کی قوت میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا خواہ وہ ضربت کتنی ہی محدود پیمانے پر کیوں نہ ہوتی_

اس کے علاوہ یہ شرائط اس بات کا باعث بنتیں کہ اس جرم کے ارتکاب کیلئے آمادہ ہونے والے زیادہ اطمینان اور شجاعت کے ساتھ اس خطرناک مہم کو انجام دیتے جس میں شک وتردید اور بزدلی کی کوئی گنجائشے باقی نہ رہتی_

بہرحال خدانے وحی کے ذریعے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس سازش سے باخبر کیا اور یہ آیت نازل فرمائی: (واذ یمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون و یمکر اللہ واللہ خیرالماکرین)(۱) یعنی جب کافروں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف سازش کی تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قید کریں یا قتل کریں یا نکال باہر کریںتو وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے_ خدائی مکر کسی دوسرے کی چال کو پوشیدہ طریقہ سے ناکام بنانے والی تدبیر کا نام ہے_

علیعليه‌السلام کی نیند اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت:

مورخین کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو قریش نے منتخب کیا تھا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے دروازے پر جمع ہوئے یعنی بعض روایات کی بنا پر عبد المطلب کے دروازے پر جمع ہوئے(۲) اور گھات لگا کر بیٹھ گئے اور آپکے سونے کا انتظار کرنے لگے وہ افراد یہ تھے: حکم ابن ابی العاص، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن حارث، امیہ بن خلف، زمعة بن اسود، ابولہب، ابوجہل، ابوالغیطلہ، طعمہ بن عدی، ابی ابن خلف، خالد بن ولید، عتبہ، شیبہ، حکیم بن حزام، اور حجاج کے بیٹے نبیہ و منبہ_(۳)

___________________

۱_ سورہ انفال آیت ۳۰ _

۲_ بحار ج ۱۹ ص ۷۳ از الخرائج والجرائح

۳_ ان کے ناموں کا ذکر السیرة الحلبیة ج ۲ و بحارالانوار ج ۱۹ ص ۷۲ و ۳۱ اور مجمع البیان وغیرہ میں کہیں مکمل طور پر اور کہیں جزوی طور پر ہوا ہے _

۲۸۸

یوں قریش نے اپنے ان پندرہ قبائل میں سے دس یا پندرہ افراد بلکہ اس سے بیشتر کا انتخاب کیا (بنابر اختلاف اقوال) تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوایک ساتھ وار کر کے قتل کر دیں_ ایک ضعیف قول کی بنا پر ان کی تعداد سوتھی(۱) لیکن ہماری نظر میں یہ روایت حقیقت سے دور ہے کیونکہ دیگر روایات کی مخالف ہے_

خلاصہ یہ کہ وہ جمع ہوگئے اور اللہ نے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے مکر سے آگاہ فرمایا_

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علیعليه‌السلام کو قریش کے منصوبے سے آگاہ فرمانے کے بعد حکم دیا کہ وہ رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سو جائیں_ حضرت علیعليه‌السلام نے عرض کیا ''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میرے وہاں سونے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچ جائے گی''_

فرمایا ہاں_ یہ سن کر حضرت علیعليه‌السلام خوشی سے مسکرائے اور زمین پر سجدہ ریز ہوگئے تاکہ اللہ کا شکرادا کریں_ یوں وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بستر پر سوگئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حضرمی چادر اوڑھ لی_ اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ رات کے پہلے حصے میں خارج ہوئے جبکہ قریش کے افراد گھر کے اردگرد گھات لگائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منتظر بیٹھے تھے_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ آیت پڑھتے ہوئے نکلے( وجعلنا من بین ایدیهم سدا ومن خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لایبصرون ) (۲) یعنی ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے اب انہیں کچھ نہیں سوجھتا_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دست مبارک میں ایک مشت مٹی تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ مٹی ان کے سروں پر پھینک دی_ اور ان کے درمیان سے گزرگئے_ اور انہیں احساس تک نہ ہوا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غار ثور کی راہ لی_

ادھر امیرالمؤمنینعليه‌السلام سوئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر آئے اور کہا :''اے اللہ کے رسول''_ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ سونے والے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے فرمایا :''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ چاہ میمونہ کی طرف

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۸۰ اور نور الابصار ص ۱۵

۲_ سورہ ی س آیت ۹ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۰_۸۱

۲۸۹

چلے گئے ہیں پس ان کی خدمت میں پہنچ جاؤ''_ چنانچہ حضرت ابوبکر چلے گئے اور حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے _(۱)

کہتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت علیعليه‌السلام کو پتھر مارنے شروع کئے جس طرح وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مارتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم درد سے تڑپتے اور پیچ وتاب کھاتے رہے_ آپ نے اپنے سر کو کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اورصبح تک اس سے باہر نہ نکالا_ پھر مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے_ جب حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو تلوار سونتے اپنی طرف آتے

___________________

۱_ آخری جملوں کیلئے رجوع کریں مناقب خوارزمی حنفی ص ۷۳ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۳۳ و تلخیص مستدرک (ذہبی) حاشیہ کے ساتھ ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے، مسند احمد ج ۱ ص ۳۲۱ و تذکرة الخواص (سبط ابن جوزی) ص ۳۴، شواہدالتنزیل ج ۱ ص ۹۹_۱۰۰،۱۰۱، تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰، تفسیر برہان ج ۱ ص ۲۰۷ ابن صباغ مالکی کی کتاب فصول المہمة ص ۳۰، و نسائی کی خصائص امیرالمومنین مطبوعہ نجف ص ۶۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵ مجمع الزوائد ج ۹ _ص ۱۲۰ از احمد (اس کے سارے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں سوائے ایک راوی کے جو ثقہ ہے و از طبرانی درکبیر و اوسط_ بحار ج ۱۹ ص ۷۸_۹۳ از طبری و احمد، عیاشی اور کفایة الطالب، فضائل الخمسة ج ۱ ص ۲۳۱، ذخائر العقبی ص ۸۷ اور کفایة الطالب ص ۲۴۳ اس کتاب میں مذکور ہے کہ ابن عساکر نے اسے اربعین طوال میں ذکر کیا ہے_

نیز رجوع کریں : الامام علی بن ابیطالب در تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق المحمودی ج ۱ ص ۱۸۶ و ۱۹۰ محمودی نے اسے اپنے حاشیے میں احمد بن حنبل کی کتاب الفضائل (حدیث نمبر ۲۹۱) نیز غایة المرام (ص ۶۶) سے طبرانی ج ۳ (ورق نمبر ۱۶۸ ب) کے واسطے سے نقل کیا ہے علاوہ بریں کفایة الطالب کے حاشیے میں ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۳ سے نقل ہوا ہے_ رہے آخری جملے تو وہ احادیث و تاریخ کی مختلف کتب میں موجود ہیں_

بحار ج ۱۹ ص ۶۱ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱ میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر اور ہند بن ہالہ کو حکم دیا کہ وہ غار کے راستے میں ایک معینہ مقام پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انتظار کریں_ اور بحار ج ۱۹ ص ۷۳ میں الخرائج و الجرائح سے منقول ہے حضور روانہ ہوئے جبکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھ رہے تھے_ پھر حضرت ابوبکر کو دیکھا جو رات کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں نکلے تھے_ وہ قریش کے منصوبے سے آگاہ ہوچکے تھے چنانچہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوبکر کو اپنے ساتھ غار کی طرف لے گئے_

اگر اس بات کو صحیح تسلیم کرلیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے منصوبے سے کیوں آگاہ نہیں کیا؟ مگر یہ کہ کہا جائے وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اطلاع دینے آئے تھے_ اس سے بھی اہم سوال یہ کہ قریش نے حضرت ابوبکر کو اپنے منصوبے سے کیونکر آگاہ کیا جبکہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ معمولی سے روابط رکھنے والے سے بھی اس کو چھپانے کی زبردست کوشش کرتے تھے جبکہ دیار بکری وغیرہ کا صریح بیان اس سے قبل گزر چکا ہے_

۲۹۰

دیکھا جبکہ خالد بن ولید آگے آگے تھا تو حضرت علیعليه‌السلام اس پرجھپٹ پڑے اور اس کے ہاتھ پر مارا خالد بچھڑے کی طرح اوپر نیچے چھلانگیں لگانے اور اونٹ کی طرح بلبلانے لگا_

آپعليه‌السلام نے اس کی تلوار چھین لی اورمشرکین پر حملہ آور ہوئے_ مشرکین چوپایوں کی طرح خوفزدہ ہو کر گھرسے باہر بھاگ نکلے_ پھر انہوں نے غورسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو حضرت علیعليه‌السلام ہیں_ وہ بولے'' کیا تم علیعليه‌السلام ہو؟''_ انہوں نے فرمایا:'' ہاں میں علیعليه‌السلام ہوں'' مشرکین نے کہا: ''ہمیں تم سے کوئی غرض نہ تھی_ یہ بتاؤ کہ تمہارا ساتھی کہاں گیا؟'' فرمایا :''مجھے کوئی خبر نہیں''_(۱)

قریش پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں

قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئےور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تعاقب میںسخت جان اور تا بعدار سواریوں پر سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے_ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشانات دیکھتے گئے_ یہاں تک کہ کھوجی (جو قدموں کے نشانات معلوم کرنے کا ماہر ہوتا ہے) اس جگہ پہنچا جہاں ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہوئے تھے_ اس نے مشرکین کو بتایا کہ وہ جس شخص کو تلاش کر رہے ہیں یہاں سے ایک اور شخص بھی اس کے ساتھ ہوگیا ہے_ بہرحال وہ قدموں کے نشانات دیکھتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے لیکن اللہ نے انہیں لوٹا دیا کیونکہ مکڑی نے غار کے دھانے پر جالا بن لیا تھا_ اور ایک جنگلی کبوترنے غار کے اندر داخل ہونے کے راستے میں ہی انڈے دے دیئے تھے اور اسی طرح کی دوسری باتیں جو تاریخ میں مذکورہیں_ چنانچہ ان لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ یہ غار متروکہ ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہوا وگرنہ مکڑی کا جالاکٹ جاتا اور انڈے ٹوٹ جاتے، اور جنگلی کبوتر بھی غار کے دھانے پر بسیرا نہ کرتا(۲) _

ادھر امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے رات تک انتظار فرمایااور پھر رات کی تاریکی میں ہند ابن ابی ہالہ کو ساتھ لیکر چلے گئے یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس غار میں داخل ہوگئے_ پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ہند کو حکم دیا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور

___________________

۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۲_۸۳_

۲_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۸ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۷ اور البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۱ و ۱۸۲_

۲۹۱

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھی کیلئے دو اونٹ خرید کرلائے_

اس وقت حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں نے اپنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے دو سواریوں کا بندوبست کر رکھا ہے آپ انہیں ساتھ لیکر یثرب کا سفر کیجئے''_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' قیمت اداکئے بغیرمجھے ان دونوں کی ضرورت ہے نہ ان میں سے ایک کی''_

ابوبکر نے عرض کیا :''پس آپ قیمت دیکر ان کو لیجئے''_

آپ کے حکم سے حضرت علیعليه‌السلام نے حضرت ابوبکر کو قیمت ادا کردی(۱) _

اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داریاں نبھانے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتیں ادا کرنے کی نصیحت کی کیونکہ قریش اور حج کے ایام میں مکہ آنے والے عرب حجاج اپنا مال و متاع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس بطور امانت رکھتے تھے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام مکے میں پکار پکار کر یہ اعلان کریں ''جس کسی کی کوئی امانت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہو وہ آکر ہم سے وصول کرے''_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس وقت یعنی جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تعاقب ختم ہوچکا تو حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا:''یا علیعليه‌السلام وہ لوگ آپ کے خلاف کوئی ایسی حرکت نہ کرپائیں گے جو آپ کو ناپسند ہویہاں تک کہ آپ میرے پاس پہنچ جائیں گے_ پس میری امانتیں کھلے عام ادا کرو، میں اپنی بیٹی فاطمہ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں اور آپ دونوں کواللہ کے حوالے کرتا ہوں اور اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں کی حفاظت کا طلبگار ہوں''_

ہجرت کا خرچہ

پھر حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپعليه‌السلام کو حکم دیا کہ اپنے اور فواطم (فاطمہ کی جمع ہے) یعنی فاطمہ زہراعليه‌السلام ، فاطمہ بنت اسد (مادر حضرت علیعليه‌السلام ) اور فاطمہ بنت زبیر جن کا ذکر ہجرت علیعليه‌السلام کے بیان میں ہوگااور ان کے علاوہ بنی ہاشم کے ان افراد کیلئے جو ہجرت کا عزم رکھتے ہوںسواریاں خرید لیں_

___________________

۱_ بحارالانوار ج۱۹ ص ۶۲ ، امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت ابوبکر سے قیمت ادا کئے بغیر سواریوں کا نہ لینے کا واقعہ سیرت النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لکھی جانے والی تقریباً تمام کتابوں میں ملے گا_ نیز مراجعہ ہو : وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷_

۲۹۲

ابو عبیدہ کا بیان ہے: میں نے ابوعبداللہ (یعنی ابن ابی رافع) سے کہا کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس قدر خرچ کرنے پر قادر تھے؟

اس نے جواب دیا میرا باپ مجھ سے یہی بات (جو تونے بتائی) نقل کیا کرتا تھا اور میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا_ میرے باپ نے جواباً کہا_ تو پھر حضرت خدیجہ (س) کا مال کہاں چلاگیا_ میرے باپ نے کہا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایاہے : ''خدیجہ کے مال نے مجھے جتنا فائدہ پہنچایا ہے کسی اور مال نے نہیں پہنچایا'' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت خدیجہ کے مال سے لوگوں کا قرض ادا کرتے اور قیدیوں کو چھڑاتے تھے، ضعیفوں کی مدد کرتے تھے، سختیوں کے وقت خرچ کرتے تھے، مکہ میں اپنے فقیر اصحاب کو سہارا دیتے تھے اور ہجرت کا ارادہ رکھنے والوں کی بھی اعانت فرماتے تھے(۱) _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تین دن غار کے اندر گزارنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_(۲)

امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بستر پر جورات گزاری اس کا تذکرہ آپعليه‌السلام نے یوں کیا ہے_

وقیت بنفسی خیر من وطا الحصا---- ومن طاف بالبیت العتیق وبالحجر

محمد لما خاف ان یمکروا به---- فوقاه ربی ذوالجلال من المکر

وبت اراعیهم متی ینشروننی---- وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر

وبات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله فی الغار آمنا---- هناک وفی حفظ الاله وفی ستر

اقام ثلاثا ثم زمت قلائص---- قلا ئص یفرین الحصا ایما یفری

اشعار کاترجمہ:

میں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اس شخص کی حفاظت کی جوزمین پر چلنے والوں اور کعبہ و حجر اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر تھا_ جب محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دشمنوں کی چال سے خطرہ محسوس ہوا تو خدانے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے مکر سے محفوظ رکھا_ میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے قتل کر دیں گے_ میں نے

___________________

۱ _ لیکن اسی روایت کو خواہشات نفسانی کے پیروکاروں نے روایت کرکے حضرت خدیجہ کے نام کو حضرت ابوبکر کے نام سے بدل دیا ہے تا کہ اس کے لئے ایک فضیلت ثابت کرسکیں جس کی کوئی بھی روایت، نص اور کوئی حقیقت تایید نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس ،واقعات اس کے برخلاف دلالت کرتے ہیں_

۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱_۸۲ و البحار ج ۱۹ ص ۶۱_۶۲_

۲۹۳

اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار میں امن وسکون کے ساتھ اور خدا کی پناہ میں رات گزاری، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غار میں تین دن گزارے پھر جوان اونٹوں پر سفر شروع ہوا_ یہ اونٹ ریگزاروں کو اس طرح طے کر رہے تھے جو دیکھنے کے قابل تھا_

جذبہ قربانی کے بے مثال نمونے

علامہ سید ہاشم معروف الحسنی کہتے ہیں ''جان نثاری وقربانی کی تاریخ کا عمدہ ترین قصہ یہیں سے شروع ہوتا ہے_ ٹھیک ہے کہ بہادر اور سورما لوگ دشمن کے سامنے جنگوں میں ڈٹ جاتے ہیں اور اپنے ہاں موجود اسلحے اور سامان جنگ کے ساتھ اپنے حامیوں اور مدد گاروں کے جھرمٹ میں لڑتے ہیں_ کبھی میدان جنگ ہی ان کو ثابت قدم رہنے پر مجبور کرتا ہے، اور وہ بھی اکیلے نہیں، لیکن کسی انسان کا اپنی مرضی اور خوشی سے کسی اسلحے یا سامان کے بغیر موت کے مقابلے میں یوں جانا گویا وہ کسی نرم ونازک بدن والی خوبرو عورت سے معانقہ کیلئے نکلا ہو اور ایسے بستر پر سونا جو خطرات میں گھرا ہوا ہو_ حالانکہ ایمان، خدا پر توکل اوراپنے رہبر کی سلامتی کی آرزو کے علاوہ اس کے ہمراہ کچھ بھی نہ ہوجیساکہ حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپعليه‌السلام کے ابن عم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو اپنے بستر پر رات گزارنے کیلئے کہا تاکہ وہ خود قریش کی سازشوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ وہ بات ہے جس کی مثال بہادری اور مردانگی کی تاریخ میں نہیں ملتی اور عقیدہ و ایمان کی راہ میں لڑی جانے والی جنگوں میں کسی نے اس کا ثبوت نہیں دیا_ پھر کہتے ہیں کہ شب ہجرت علیعليه‌السلام کا سونا پہلا واقعہ نہ تھا_ شعب ابوطالب میں محاصرے کے دوران بھی ابوطالبعليه‌السلام علیعليه‌السلام کو بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلایا کرتے تھے تاکہ اگر کوئی قاتلانہ اقدام ہو تو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بجائے علیعليه‌السلام کو نقصان ہو_ انہوں نے اس کام سے کبھی بھی گریز نہ کیا بلکہ وہ برضا و رغبت ایسا کرتے تھے_(۱)

___________________

۱_ سیرت المصطفی ص ۲۵۲_۲۵۰_

۲۹۴

بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا اور مسئلہ خلافت

یہاں تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا ناصبی اور علیعليه‌السلام و محبان علیعليه‌السلام کا دشمن ہونا مشہور ہے، یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کا بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا ان کی خلافت کا واضح اشارہ ہے_ چنانچہ وہ کہتا ہے:

''شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کے اس اقدام کو بعد میں ان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دیکھنے والے کو اس بات کے واضح اشارات ملتے ہیں کہ اس رات جس منصوبے پر عمل ہوا وہ حضرت علیعليه‌السلام کے حوالے سے کوئی اتفاقی یا عارضی بات نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے خاص آثار ونتائج کی حامل حکمت کارفرما تھی_ بنابریں ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ:

کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا اس رات حضرت علیعليه‌السلام کو اپنی شخصیت کے روپ میں پیش کرنا اس بات کا اشارہ نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علیعليه‌السلام کے درمیان ایک قسم کی یگانگت موجود ہے جو ان دونوں کے درمیان موجود رشتہ داری والی یگانگت سے ما وراء ہے_ کیا ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حضرت علیعليه‌السلام ہی وہ ہستی ہیں جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسند پر بیٹھنے کے لئے آمادگی رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی نمائندگی کرنے والے اور آپ کے قائم مقام ہیں_ میرا خیال ہے کہ کسی نے ہم سے قبل مذکورہ واقعے کا اس زاویے سے جائزہ نہیں لیا یہاں تک کہ حضرت علیعليه‌السلام کے شیعوں نے بھی اس نکتے کو ہماری طرح نہیں سمجھا'' _(۱)

قریش اور علیعليه‌السلام :

۱_آخر میں ہم اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قریش نے حضرت علیعليه‌السلام پر اپنے چچا زاد بھائی کی جگہ بتانے کے سلسلے میں زورنہیں دیا اور اصرار سے کام نہیں لیا، اس کی وجہ بس یہی تھی کہ وہ اس کام کو

___________________

۱_ عبدالکریم خطیب کی کتاب علی ابن ابیطالب ص ۱۰۵ کی طرف رجوع کریں _

۲۹۵

بے فائدہ سمجھتے تھے کیونکہ جو شخص اس حدتک مخلص ہو اوراس طرح کی بے مثال اور تاریخی قربانی دے وہ ان کے سامنے ہرگز اپناراز فاش نہیں کرسکتا تھا _اس راز کی حفاظت کیلئے تو اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا_ اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیعليه‌السلام کو چھوڑ دیا اور مایوسی کے عالم میں وہاں سے چلے گئے_(۱)

۲_پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں علیعليه‌السلام کا طرزعمل انسانیت کااعلی ترین نمونہ تھا_انہوں نے لوگوں کو اخلاص وقربانی کے مفہوم اورایمان کی حقیقت سے روشناس کرایاکیونکہ وہ اپنی شہادت کو ہر صورت میں قطعی دیکھ رہے تھے_ ان کے خیال میں وہ یا تو اس لئے قتل ہوجاتے کیونکہ مشرکین انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھ رہے تھے یا پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، (جنہوں نے قریش کے باطل نظریات کو جھٹلایا تھا، ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی تھی اور ان کی صفوں کو پراکندہ کر دیا تھا) کو بچانے کے جرم میں بطور انتقام قتل کردیئے جاتے_ قریش اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ علیعليه‌السلام کو کس قدر چاہتے ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاں ان کا کیا مقام ہے_ ان کا قتل حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچازاد بھائی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جان نچھاور کرنے والے مخلص انسان کا قتل تھا_(۲) اور حقیقت کے واضح ہونے کے بعد ان کا حضرت علیعليه‌السلام کو چھوڑ دینا یا تو خوف کے سبب تھا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ حضرتعليه‌السلام نے خالد بن ولید کا کیا حشر کیا تھا _ اور یا اس وجہ سے تھا کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ پہلے اپنے اصلی اور اہم دشمن کا کام تمام کردیں، ان کو ختم کرنے کے لئے ابھی وقت بہت ہے_

قریش اور شب ہجرت علیعليه‌السلام کا کارنامہ

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''ہجرت کی رات حضرت علیعليه‌السلام نے قریش کو جو کھلا چیلنج دیا اور ان کو جس طرح ذلیل کیا، نیز اس کے بعد تین دن تک جس طرح ان کے درمیان چلتے پھرتے رہے ،اس داغ کو قریش کبھی بھی نہ بھلا سکتے تھے_

___________________

۱_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین مصنفہ محمد صادق صدر ص ۱۰۶_۱۰۵_

۲_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین ص ۱۰۷ اور ۱۰۸ _

۲۹۶

اگر اس دن ان کو قتل کرنے میں قریش کو ایسے فتنے کا خطرہ محسوس نہ ہوتا جو ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیتا اور دوسری طرف سے وہ یہ دیکھ لیتے کہ اس طرح وہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں اپنے مقصد کو بھی حاصل نہیں کرسکیں گے تو وہ انہیں قتل کر کے ضرور دل کی بھڑاس نکال لیتے _یوں وہاں قریش ان سے دست بردار ہوئے لیکن بعد میں ان کا حساب چکانے کیلئے روز شماری کرنے لگے''_(۱)

جی ہاں درحقیقت یہ ایک سخت حساب تھا جو حضرت علیعليه‌السلام کو چکانا تھا_ خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ انہوں نے بعد میں ان کے بزرگوں اور سرداروں کو خاک مذلت میں ملادیا تھا اور اپنے چچازاد بھائی کے شمشیرزن بازو کی حیثیت سے بوقت ضرورت کبھی یہاں اور کبھی وہاں متکبر اور جابر لوگوں پر کاری ضرب لگاتے رہے تھے_ قریش نے حضرت علیعليه‌السلام سے مذکورہ سخت حساب چکانے کا سلسلہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعدہی شروع کردیا، یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل وکفن اور دفن سے بھی پہلے_

موازنہ

امیرالمومنینعليه‌السلام کے بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رات گزارنے کے نتیجے میں قریش نے یہ موقع گنوادیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جو سازش تیار کی تھی وہ ناکامی سے دوچار ہوئی_ اس کے علاوہ اس عمل سے دین اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور کلمہ حق کو فروغ حاصل ہوا_

اس واقعے کا ذبح اسماعیل علیہ السلام پر قیاس کرنا صحیح بات نہیں ہے کیونکہ حضرت اسماعیلعليه‌السلام نے تو ایک مہربان اور شفیق باپ کے آگے سرتسلیم خم کیا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے اپنی جان ان دشمنوں کے حوالے کردی جو ان پر رحم نہ کرتے اور جن کے دل کی بھڑاس ان کا خون بہائے بغیر نہیں نکل سکتی تھی_ نیز ان کا غصّہ جان لیوا شماتت، سخت ترین تشدد اور ایذاء رسانی کے بغیر نہ نکل سکتا تھا_

اسکافی نے جاحظ کی تصنیف عثمانیہ کے جواب میں اس واقعے پر تبصرہ کیا ہے_ (اس کا کلام شرح نہج

___________________

۱_ علی ابن ابیطالب (از عبدالکریم خطیب) ص ۱۰۶ _

۲۹۷

البلاغہ معتزلی کی تیرہویں جلد میں مرقوم ہے)_ وہاں رجوع کریں اگر ہم اس نکتے کی تشریح کرنے بیٹھیں تو ہماری بحث طولانی ہوجائے گی_

ارادہ الہی

کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کچھ اس طرح سے فرماتا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار میں چھپنے پر مجبور نہ ہوتے اور نہ حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سونا پڑتا_ وہ یوں کہ اللہ اپنی قدرت کی واضح نشانیوں اور حیرت انگیز معجزات کے ذریعے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرتا_

اس کا جواب منفی ہے کیونکہ خدا کی منشا یہ ہے کہ سارے امور حسب معمول اور طبیعی اسباب کے مطابق انجام پائیں (ہاں انسان کی طاقت سے باہر معاملات میں اس کی رہنمائی اور عنایات شامل حال ہوں) تاکہ یہ ہم سب کیلئے بھی نمونہ عمل اور مفید درس ثابت ہوں_ ہم بھی دین وعقیدے کی راہ میں جدوجہد کریں اور آسمانی معجزات کے منتظر نہ رہیں_ اسی صورت میں اللہ کا وعدہ (لینصرن اللہ من ینصرہ) اور( ان تنصروا الله ینصرکم ) عملی شکل اختیار کرے گا_

مصلحت اندیشی اور حقیقت

مشرکین مکہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہوئے وہ یہ کہ ایک طرف تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو جھٹلاتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تہمتیں لگاتے تھے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجنون، ساحر، شاعر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے_ لیکن دوسری طرف اپنے اموال اور اپنی امانات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سپرد کرتے تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو معتمد اور امین سمجھتے تھے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچازاد بھائی (علیعليه‌السلام ) کو مکہ چھوڑ جانے پر مجبور ہوئے کہ وہ تین دن تک اعلان عام کرتے رہیں تا کہ لوگ آکر اپنی امانتیں واپس لے جائیں_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت پر ان کا ایمان نہ لانا ہٹ دھرمی اور تکبر و عناد کے باعث تھا، نہ اس لئے کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کو دلی طور پر غلط سمجھتے تھے ارشاد

۲۹۸

الہی ہے:( وجحدوا بها واستیقنتها انفسهم ) (۱) _

یعنی انہوں نے آیات الہی کا انکار کیا جبکہ قلبی طورپراس کو مانتے تھے_ بالفاظ دیگر وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے اس لئے منکر تھے کہ وہ بزعم خود اس طرح سے اپنے ذاتی مفادات اور مستقبل کی حفاظت کرنا چاہتے تھے یا اس لئے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کرنے کے خواہشمند تھے یا اپنی امتیازی حیثیت اور مراعات کی حفاظت کے طالب تھے یا حسد اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایسا کررہے تھے_

حضرت علیعليه‌السلام کو ان حساس اور خطرناک حالات میں لوگوں کی امانتیں لوٹانے کیلئے مکے میں چھوڑ جانا ایک ایسے انسان کامل کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جو اپنے اصولوں پر کاربند اور اپنے نظریات کا پاسبان ہو _ایسا کامل انسان جو خدا کے معین کردہ راستے سے بال برابر بھی منحرف نہ ہوتا ہو اور بہانوں کی تلاش میں نہ پھرتا ہو_ بلکہ وہ اپنے عظیم اصولوں اور مقاصد کیلئے جیتا ہو اور اصولوں کو ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ قرار نہ دیتا ہو_

ہاں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امین کہہ کر پکارتے تھے اور یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واضح ترین صفات میں سے ایک صفت تھی حتی بعثت سے پہلے بھی_ یہی امین ہیں جو اب ان کی امانتیں واپس کررہے ہیں جبکہ وہ ان کے خون کے درپے ہیں لیکن یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کی امانتوں کا خیال رکھنے سے نہیں روکتی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی امانتیں واپس نہ کرتے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پورا پورا بہانہ حاصل تھا_

ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس عظیم صفت کی کوئی خاص اہمیت اہلسنت کی احادیث کے اندر دیکھنے میں نہیں آتی حالانکہ یہ صفت (حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتداری) انسانیت کی بنیاد ہے_ بالکل اسی طرح جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد سے احادیث ''حکمت'' خلفاء کی خواہش پر عمداً محو کی گئیں_ وگرنہ وہ چیز کہاں گئی جس کے بارے میں خدانے سات آیتوں میں یہ خبردی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داری لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینا ہے_ ہم جانتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں کو کتاب کی تعلیم دی جس کی خدانے حفاظت کی اور اب تک باقی

___________________

۱_ سورہ نمل آیت ۱۴

۲۹۹

ہے_( انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون ) (۱) یعنی ہم نے ہی قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں_

لیکن ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ حکمت کہاں گئی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امت کو سکھائی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ علماء و محدثین کے نزدیک ان میں سے فقط تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ احادیث رہ گئی ہیں وہ بھی فقہ احکام، اخلاق اور حکمت سب کے بشمول(۲) _ ان میں سے کتنی احادیث فقط حکمت سے مربوط ہیں اس کا حشر آپ کے سامنے ہے_

البتہ ہم آئمہ معصومینعليه‌السلام کی احادیث میں کثیر مقدار میں حکمت کی باتیں پاتے ہیں_ ان کی ایک بڑی تعداد امانت اور صداقت کے متعلق ہے_ انہوں نے امانت کو عملی اخلاق کا بنیادی محور قرار دیا ہے اور اسے زبردست اہمیت دی ہے_

زمین اور عقیدہ

ہم نے دیکھ لیا کہ اسلام کی نظر میں انسان کا حقیقی مقصد زمین نہیں بلکہ خود اسلام ہے کیونکہ جب کسی سرزمین پرزندگی گزارنا اور اس کی حفاظت کرنا ذلت وخواری، محرومیت اور عظیم دینی اہداف (جو انسان کی سعادت کا باعث ہیں) کے پورا نہ ہونے کا باعث بنے تو بہتری، اصلاح، مستقبل کی تعمیر اور حقیقی سعادت وعزت کے حصول کے پیش نظر اس سرزمین کو چھوڑ کر کہیں اور جانا چاہیئے_ پس پہلے تو خود انسان اور پھر تمام باقی چیزیں اسلام کی خاطر اور اس کی خدمت کیلئے ہیں_

درس ہجرت

ہجرت کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مسلمانوں پرایک دوسرے کی مدد واجب ہے_ نیز نسلی تعصبات

___________________

۱_ سورہ حجر آیت ۹ _

۲_ مناقب شافعی ج۱ ص ۴۱۹ نیز عن الوحی المحمدی ص ۲۴۳_

۳۰۰

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417