الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209953 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے۔

(لا یملکونَ الشفاعة اِلّا من اتخذ عند الرحمٰن عَهْدًا ) (1)

کوئی شخص بھی شفاعت کرنے کا حق نہیں رکھتا مگر جس نے خدا سے شفاعت کا عہد لے لیا ہو۔

( یَوْمَئِذٍ لا تنفع الشفاعة الّا من اذن له الرحمٰن و رَضِیَ لَه' قَوْلاً ) (2)

قیامت کے دن کسی کے بارے میں کسی کی شفاعت سودمند نہیں ہوگی، مگر اس شخص کی شفاعت جس کو خدا نے اجازت دی ہو اور جس کے قول سے راضی ہو۔

دوسری بات یہ کہ جس کی شفاعت کی جائے اس کے اندر شفاعت کرنے والے کے ذریعہ فیض الٰہی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہو یعنی خدا سے ایمانی رشتہ اور شفاعت کرنے والے سے اس کا روحانی رشتہ منقطع نہ ہو۔ لہٰذا کفار جن کا خدا سے ایمانی رابطہ نہیں ہے یا مسلمانوں میں سے بعض گناہگار افراد کہ جن کا شفاعت کرنے والے سے کوئی رابطہ نہیں ہے جیسے بے نمازی، قاتل وغیرہ کی شفاعت نہیں ہوگی۔

قرآن بے نمازیوں اور منکرین معاد کے لیے فرماتا ہے :

(فَمٰا تَنْفَهُم شفاعة الشافعین) (3)

اس وقت شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے کام نہیں آئے گی۔

ظالموں اور ستمگاروں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔

ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع (4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ مبارکہ مریم ، آیت نمبر 87 (2)سورہ مبارکہ طٰہٰ ، آیت نمبر109 (3)۔ سورہ مبارکہ مدثر، آیت نمبر 48 (4)۔ سورہ مبارکہ مؤمن، آیت نمبر 18

۶۱

ظالموں کا نہ کوئی سچا دوست ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا جس کی بات مانی جائے۔

فلسفہ شفاعت :

جو افراد گمراہی اور معصیت میں پڑے ہیں ان کے لیے شفاعت توبہ کی طرح امید کی ایک کرن ہے کہ وہ گناہوں کو چھوڑیں اور باقی زندگی خدا کی اطاعت و فرماں برداری میں بسر کریں،کیونکہ ایک گناہگار انسان کو جب اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ محدود شرائط کے ساتھ شفاعت کرنے والے کی شفاعت حاصل ہوسکتی ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ان شرطوں کا پاس اور لحاظ کرکے معین کی ہوئی حدود سے آگے نہ بڑھے۔

شفاعت کا نتیجہ :

بعض مفسرین اسلام کی نظر یہ ہے کہ شفاعت کے ذریعہ گناہ بخشے جاتے ہیں جبکہ بعض کے نکتہ نظر سے شفاعت درجات میں بلندی کا سبب ہے۔

سوالات

1۔شفاعت سے کیا مراد ہے ؟

2۔شفاعت کی حدود بیان کیجئے ؟

3۔شفاعت کا فلسفہ کیا ہے ؟

4۔شفاعت کانتیجہ کیا ہے ؟

۶۲

دوسرا حصہ ( احکام )

۶۳

سبق نمبر11 ( تقلید )

خداوند عالم نے ہماری سعادت اور دنیا و آخرت میں نجات کے لئے تمام احکام و قوانین کو اپنے نبی (ص) کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا اور آپ (ص) نے اس امانت عظمیٰ کو ائمہ طاہرین کوودیعت اعطا فرمایا ہے اور حضرت کے جانشین اور خلفائے برحق نے اپنی عمر کے تمام نشیب و فراز میں اس ذمہ داری کو پہنچانے کی کوشش فرمائی ہے جو آج تک ان تمام ادوار کو طے کرتے ہوے ہمارے سامنے حدیثوں اور روایتوں کی کتابوں میں موجود ہیں ۔

اس زمانہ میں چونکہ امام زمانہ تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں اور وظائف کو حضرت سے دریافت کر سکیں ،لہذا مجبور ہیں کہ حدیثوں اور قرآنی آیات سے احکام کا استنباط کریں اور اگر اس پر بھی قادر اور دست رسی نہیں رکھتے تو ضروری ہے کہ کسی مجتہد اعلم (سب سے زیادہ علم رکھنے والا )کی تقلید کریں ۔

روایات و احادیث میں کھری کھوٹی ، صحیح و غلط وضعی جعلی سب ہی موجود ہیں روایات کے اس سمندر سے گوہر کا الگ کرنا ہر ایک کے بس کا م نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو اس بحر بیکراں میں غواصی کر رہے ہوں ، جو اس سمندر کے طغیان اور طوفان سے خوب واقف ہوں جنھوں نے اس کو حاصل کرنے کے لئے رات و دن نہ دیکھا ، عمر کے لمحات کو نہ شمار کیا ہو ، علوم کے سمندر کی تہہ میں بیٹھے ہوں اس

۶۴

کی راہوں سے خوب واقف ہوں اس میں سے گوہر و موتی نکالنے میں ان کے لئے کوئیمشکل کام نہ ہو ، ایسے افراد کو مجتہد کہتے ہیں ۔

لہذا ہم مجبور ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو طے کرنے کے لئے ان کے دامن کو تھامیں کیونکہ اس کام کے ماہر وہی ہیں ، مریض ڈاکٹر ہی کے پاس تو جائے گا ، یہ ایک عقلی قاعدہ ہے جس چیز کے متعلق معلوم نہیں اس علم کے ماہر و متخصص سے ہی اس کے بارے میں پوچھا جائے اور حضرات ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بھی دور دراز رہنے والوں کے لئے قریب کے عالم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔

البتہ تقلید میں یہ چیز ذہن نشین رہے ، کہ ایسے مجتہد کی تقلید کی جائے جو تمام مجتہدین میں اعلم ( جو احکام خدا کو سمجھنے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہو ) عادل و پرہیز گار ہو پس اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ، مجتہدین اکثر موارد میں اتفاق نظر رکھتے ہیں ، سوائے بعض جزئیات کے کہ جس میں اختلاف پایا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ ان جزئیات میں ان کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اس مقام پر یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم کے پاس فقط ایک حکم موجود ہے اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں پایا جاتا وہی حق ہے، اور حکم حقیقی و واقعی فتویٰ کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتا ہے ، مجتہدین بھی نہیں کہتے ہیں کہ خدا کے نظریات و احکام ہمارے نظریات و خیالات کے تابع ہیں یا ہمارے حکم کی تبدیلی سے خدا کا حکم بدل جاتا ہے۔

پھر آپ ہم سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے :اگر حکم خدا ایک ہے تو پھر مجتہدین کے فتوے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے ؟

ایسی صورت میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ : فتویٰ میں اختلاف ان وجوہ

۶۵

میں سے کسی ایک کی بنا پر ممکن ہے ۔

پہلا : کبھی ایک مجتہد حکم واقعی کو سمجھنے میں شک کرتا ہے تو اس حال میں قطعی حکم دینا ممکن نہیں ہوتا لہذا احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے مطابق احتیاط فتویٰ دیتا ہے تاکہ حکم الٰہی محفوظ رہے ، اور مصلحت واقعی بھی نہ نکلنے پائے ۔

دوسرا : کبھی اختلاف اس جہت سے ہوتا ہے ، کہ دو مجتہدین جس روایت کو دلیل بنا کر فتویٰ دیتے ہیں وہ روایت کو سمجھنے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں ، ایک کہتا ہے امام اس روایت میں یہ کہنا چاہتے ہیں اور دوسرا کہتا ہے امام کا مقصود دوسری چیز ہے ، اس وجہ سے ہر ایک اپنی سمجھ کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔

تیسرا : حدیث کی کتابوں میں کسی مسئلہ کے اوپر کئی حدیثیں موجود ہیں جو باہم تعارض رکھتی ہیں فقیہ ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دے کراس کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔

یہاں ممکن ہے کہ مجتہدین کا نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہو، ایک کہے فلاں اور فلاں جہت سے یہ روایت اس روایت پر مقدم ہے اور دوسرا کہے ، فلاں و فلاں جہت سے یہ روایت اس روایت پر ترجیح رکھتی ہے پس ہر ایک اپنے مد نظر روایت کے مطابق فتویٰ دیتا ہے ۔

البتہ اس طرح کے جزئی اختلافات کہیں پر ضرر نہیں پہونچاتے بلکہ محققین اور متخصصین و ماہرین کے نزدیک ایسے اختلافی مسائل پائے جاتے ہیں آپ کئی انجینیر ، اور مہارت رکھنے والے کو نہیں پا سکتے جو تمام چیزوں میں ہم عقیدہ و اتفاق رای رکھتے ہوں ۔

۶۶

ہم مذکورہ مطالب سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں :

1 : تقلید کرنا کوئی نئی بات نہیں ، بلکہ ہر شخص جس فن میں مہارت نہیں رکھتا ہے اس فن میں اس کے متخصص وماہر کے پاس رجوع کرتا ہے ، جیسے گھر وغیرہ بنوانے کے معاملہ میں انجینیراور بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ،پس احکام الٰہی حاصل کرنے کے لئے مرجع تقلید کی طرف رجوع کریں اس لئے کہ وہ اس فن کے متخصص و ماہر ہیں ۔

2۔ مرجع تقلید : من مانی اور ہوا و ہوس کی پیروی میں فتویٰ نہیں دیتے بلکہ تمام مسائل میں ان کا مدرک قرآن کی آیات و احادیث پیغمبر (ص) اور ائمہ طاہرین ہوتی ہے ۔

3 : تمام مجتہدین ، اسلام کے کلی مسائل بلکہ اکثر مسائل جزئی میں بھی ہم عقیدہ اور نظری اختلاف نہیں رکھتے ہیں ۔

4 : بعض مسائلِ جزئیہ جس میں اختلاف ِنظر پایا جاتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ مجتہدین اختلاف کرنا چاہتے ہیں بلکہ تمام مجتہدین چاہتے ہیں کہ حکم واقعی خدا جو کہ ایک ہے اس کو حاصل کرکے مقلدین تک پہنچائیں ، لیکن استنباط اور حکم واقعی کے سمجھنے میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے پھراس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ جو کچھ سمجھا ہوا ہے اس کو بیان کر یں ا ور لکھیں جب کہ حکم واقعی ایک حکم کے علاوہ نہیں ہے ۔ مقلدین کے لئے بھی کوئی صورت نہیں ہے مگر اعلم کے فتوے پر عمل کریںاور یہی انکا وظیفہ شرعی ہے

5 : جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ دنیا کا ہر متخصص و محقق و ماہر چاہے جس فن کے بھی ہوں ان کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے ، لیکن لوگ امر عادی سمجھتے ہوئے اس پر خاص توجہ نہیں دیتے ہیں اور اس سے اجتماعی امور میں کوئی رخنہ اندازی بھی نہیں ہوتی ہے ۔

مجتہدین کے بعض جزئیات میں اختلافی فتوے بھی اس طرح کے ہیں ، اس کو امر غیر

۶۷

عادی نہیں شمار کرنا چاہیے ۔

6 : ہمیں چاہیے کہ ایسے مجتہد کی تقلید کریں جو تمام مجتہدین سے اعلم ہو ، اور احکام الٰہی کے حاصل کرنے میں سب سے زیادہ مہارت رکھتا ہو نیز عادل و پرہیز گار جو اپنے وظیفہ و ذمہ داری پر عمل کرتا ہو اور قانون و شریعت کی حفاظت کے لئے کوشاں ہو۔

سوالات

1۔ تقید سے کیا مراد ہے ؟

2۔ کیسے مجتہد کی تقلید کی جائے؟

3۔مجتہدین کے فتوے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے ؟

۶۸

درس نمبر12 ( طہارت و نجاست )

نمازکو انجام دینے سے پہلے نماز گزار کو جن مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے ان میں سے ایک طہارت ہے۔طہارت سے مراد صفائی نہیں کیونکہ ممکن ہے کوئی چیز صاف ہو لیکن اسلامی احکام کی نگاہ سے پاک نہ ہوطہارت سے مراد یہ ہے کہ نماز گزار اپنے بدن ولباس کو ناپاک چیزوں (نجاسات ) سے پاک رکھے اور نجاسات سے پاکی کے لئے ان کی پہچان اورنجس چیزوں کو پاک کرنے کے طریقے سے آگاہ ہونا ضروری ہے، لہٰذا پہلے اسے بیان کرتے ہیں البتہ نجاسات کو جاننے سے پہلے اسلام کے ایک کلی قاعدہ کی طرف توجہ ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ

'' دنیا میں9چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں، مگریہ کہ کوئی چیزان9چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائے۔ ''

وہ 9 چیزیں یہ ہیں : ا۔پیشاب 2۔پائخانہ 3۔ منی 4۔خون 5۔مردار

6۔ کتّا 7۔سور 8۔کافر(جو کسی بھی آسمانی دین پر عقیدہ نہیں رکھتا ) 9۔مست کردینے والے مشروبات

مندرجہ بالا 9چیزوں کو ''نجاسات '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

۶۹

پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟

گزشتہ یہ بیان ہوا کہ دنیا میں چند چیزوں کے علاوہ تمام چیزیں پاک ہیں ،لیکن ممکن ہے پاک چیزیں بھی نجس چیزوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہوجائیں، اس صورت میں کہ ان دو ( پاک ونجس)میں سے کوئی ایک چیز گیلی ہواور اس کی رطوبت دوسری چیزمیں منتقل ہوجائے۔

نجس چیز کیسے پاک ہوتی ہے؟

تمام نجس چیزیں پاک ہوجاتی ہیں اور پاک کرنے والی چیزیں جنہیں مطہرات کے

نام سے یاد کیاجاتاہے حسب ذیل میں :

1۔پانی۔ 2۔ زمین۔ 3۔سورج 4۔ اسلام۔

5۔استحالہ 6۔ اانتقال 7۔تبعیت 8۔ نجاست کازائل ہونا

9۔نجاست کھانے والے جانور کا استبراء 10۔مسلمان کا غایب ہونا ۔

1۔پانی

برتنوں کو پاک کرنے کا طریقہ

نجس برتن کو قلیل پانی کے ساتھ تین مرتبہ دھویا جائے ۔لیکن کر اور جاری پانی میں ایک بار کافی ہے ۔

برتنوں کے علاوہ دوسری چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ

٭۔جو چیز نجس ہوگئی ہے عین نجاست دور کرنے کے بعد ایک بار اسے کر یا جاری پانی میں ڈبودیا جائے یا کر سے متصل پانی کی ٹوٹی یا دھار کے نیچے رکھ دیا جائے اس طرح کہ پانی تمام نجس شدہ جگہوں تک پہنچ جائے تو وہ پاک ہو جائے گی ۔ اور اگر لباس وغیرہ ہے تو

۷۰

بنا بر احتیاط واجب پانی میں ڈبونے کے بعد اسے نچوڑایا جھاڑاجاے ،البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نچوڑنا اور جھاڑنا پانی کے باہر ہو بلکہ پانی کے اندر بھی کافی ہے۔

٭جو چیز پیشاب کی وجہ سے نجس ہوگئی ہے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے کے بعد قلیل پانی دو مرتبہ اس پر ڈالنے سے وہ پاک ہوجائے گی ۔اور جو چیز دوسری نجاسات کی وجہ سے نجس ہو جائے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے کے بعد ایک مرتبہ دھوئی جائے تو وہ پاک ہو جائے گی ۔

٭جس چیز کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ جو پانی اس پر ڈالا جارہا ہے وہ اس سے جدا ہو اور اگر نچوڑنے کے قابل ہے مثلاًلباس وغیرہ تو اسے نچوڑا اور جھاڑا جائے ۔تاکہ پانی اس سے جدا ہو جائے ۔

٭نجس چٹائی کارپٹ وغیرہ کو جب (گھروں میں سپلائی شدہ )ٹوٹی کے پانی سے پاک کیا جائے تو غسالہ کے پانی کا جدا ہونا ضروری نہیں ہے ۔بلکہ پانی کے نجس جگہ پہنچ جانے ۔عین نجاست کے برطرف ہونے اور پانی ڈالتے وقت ہاتھ کے ذریعہ سے غسالہ (دھون )کو اپنی جگہ سے حرکت دینے سے طہارت حاصل ہو جائے گی ۔

٭۔تندو رکا ظاہر جو نجس پانی ملی مٹی سے بنایا گیا ،دھونے سے پاک ہوجائے گا اور تندور کے ظاہری حصے کی پاکی کہ آٹا جس کے ساتھ لگتا ہے،روٹی پکنے کے لئے کافی ہے۔

٭۔وہ نجس لباس جو پاک کرتے وقت پانی کو رنگین کردیتے ہیں چنانچہ لباس کا رنگ دینا ،پانی کو مضاف کرنے کا باعث نہ بنے تو نجس لباس پر ڈالنے سے وہ ہو جائیں گے

٭۔وہ نجس لباس جو پانی پھیرنے کے لئے کسی برتن میں رکھے جاتے ہیں اگر ٹوٹی کا

۷۱

پانی ان پر اس طرح ڈالا جائے کہ پانی ساری جگہ جائے تو کپڑے ،برتن ،پانی اور کپڑوں سے جدا ہونے والے دھاگے وغیرہ جو پانی کے ساتھ باہر نکل آتے ہیں وہ سب پاک ہیں (البتہ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ کپڑوں وغیرہ کے حوالے سے احتیاط یہ ہے کہ پانی میں غوطہ دینے کے بعد انہیں نچوڑیا جھاڑلیا جائے ۔ )

2۔زمین: زمیں پر چلتے ہوئے اگر پائوں کے تلوے یا جوتے کا تلا نجس ہوجائے تو پاک اور خشک زمین پر دس قدم چلنے سے پاک ہوجاتے ہیں۔ بشرطیکہ نجاست دور ہوجائے۔

یاددہانی :

تارکول والی زمین پاؤں کے تلؤؤں یا جوتوں کی تہوں کوپاک نہیں کرتی

3۔سورج :زمین،اور تمام غیر منقول اشیاء جیسے ،درخت ، نباتات،عمارت اور وہ چیزیں جو عمارت میں نصب کی جاتی ہیں، جیسے دروازہ اور کھڑکی وغیرہ.کو پاک کردیتا ہے

4۔اسلام :کافر، اگر مسلمان ہوجائے توتمام بدن پاک ہوجاتاہے

5۔استحالہ:اگر نجس چیز مکمل طور سے کسی دوسری چیز میں تبدیل ہوجائے تو وہ پاک ہوجائے گی ۔جیسے انسان یا حیوان کا پائخانہ مٹی بن جائے یا جل کر راکھ ہوجائے ۔

6۔انتقال:اگر کسی انسان یا حیوان کا خون کسی ایسے جانور میں منتقل ہوجائے کہ جو خون جھندہ نہ رکھتاہو(یعنی ذبح کے وقت اسکا خون اچھل کر نہ نکلتا ہو) جیسے مچھر وغیرہ اور کہا جائے کہ یہ خون اس جانور کا ہے تو یہ خون پاک ہے ۔

7۔تبعیت:ایک نجس چیز دوسری نجس چیز کے پاک ہونے سے پاک ہوجاتی ہے ۔جیسے اگر شراب سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اسکا برتن بھی خود بخود پاک ہوجاتاہے

۷۲

8 ۔عین نجاست کا برطرف ہونا:دومواقع پر عین نجاست کے برطرف ہونے سے نجس چیز پاک ہوجاتی ہے اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں :

الف: حیوان کا بدن، مثلا ایک پرندہ کی چونچ نجاست کھانے کی وجہ سے نجس ہوگئی ہوتو نجاست برطرف ہونے پر پاک ہوجاتی ہے۔

ب۔ انسان کے بدن کا اندرونی حصہ، جیسے منھ، ناک اور کان کا اندرونی حصہ ۔مثلاً اگر مسوڑوں سے خون آئے، اور یہ خون آب دہن میں مل کر ختم ہوجائے توانسان کا منھ پاک ہے اوراس میں پانی ڈالنے کی ضروت نہیں۔

9۔نجاست کھانے والے جانور کا استبراء :نجاست خوار جانور کو ایک معین مددت تک خالص پاک غذاکھلانے سے اس کا استبراء ہوجاتا ہے ۔

10۔مسلمان کا غایب ہونا ۔جب یقین ہو کہ کسی مسلمان کا جسم ، لباس یا اسکی کویء چیز نجس ہے کچھ مددت کے بعد دیکھے کہ وہ چیز کو جوپہلے نجس تھی اب اسے پاک چیز کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔تو اسے پاک ہی تصور کرنا چاہیے ۔البتہ اس میں شرط یہ ہے کہ وہ شخص جسکی چیز ہے وہ اسکے نجس ہو نے کے بارے میں باخبر ہو اور طہارت اور نجاست کے احکام سے آگاہ ہو۔

سوالات

1۔طہارت سے کیا مراد ہے ؟

2۔نجاسات کے نام بتایئے

3۔پاک چیز کیسے نجس ہوجاتی ہے؟

۷۳

4۔مطہرات کے نام بتائیے

5۔نجس برتن کو کیسے پاک کرتے ہیں ؟

6۔نجس لباس اور فرش کو پاک کرنے کا طریقہ بیان کیجئے

7۔ زمین کن چیزوں کو پاک کرتی ہے ؟

۷۴

درس نمبر13 ( وضو )

نماز گزار کو نماز پڑھنے سے پہلے ، وضو کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو اس عظیم عبادت کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔

بعض مواقع پر''غسل'' کرنا چاہئے، یعنی پورے بدن کو دھونا اور اگر وضو یا غسل کرنے سے معذور ہوتو، ان کی جگہ پر ایک دوسرا کام بنام''تیمم'' بجالائے

وضو کا طریقہ :

وضو میںمستحب یہ ہے کہ سب سے پہلے دومرتبہ کلائی تک ہاتھ دھویں پھرتین مرتبہ کلّی کریں اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالیں اس کے بعد واجب یہ ہے کہ چہرے کو دھوئیں پھردائیں ہاتھ کواور پھر بائیں ہاتھ کوکہنیوںسے لیکر انگلیوں کے سرے تک دھوئیں ، ان اعضاء کو دھونے کے بعد، ہتھیلی میں بچی رطوبت سے سرکا مسح کریں یعنی بائیں ہاتھ کو سرپر کھینچ لیں اور اس کے بعد دائیں پائوںکا اور پھر بائیں پائوں کا مسح کریں۔ ا ب وضو کے اعمال سے مذید آگاہی کے لئے درج ذیل خاکہ ملا حظہ فرمائیں :

اعمال وضوکی وضاحت :

٭ چہرہ دھونے کی حدود :

٭لمبائی میں پیشانی کے اوپر بال اگنے کی جگہ سے لیکر ٹھوڑی کے آخر تک

چوڑائی میں چہرے کا وہ حصہ جو انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے درمیان واقع ہے۔

۷۵

٭ ۔ اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے ۔

٭اگر چہرے پر بال ہوں تو بالوں کے اوپر ہی دھولینا کافی ہے اور ضروری نہیں ہے کہ وضو کا پانی چہرے کی جلد تک پہنچے ،البتہ اگر بال اس قدر کم ہوں کہ چہرے کی جلد واضح نظر آئے تو پھر جلد تک پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے ۔

دھونے کا معیار یہ ہے کہ پانی تمام عضو تک پہنچے ،اگرچہ ہاتھ پھرنے کے ذریعہ سے ہی ہو اور فقط گیلے ہاتھ کے ساتھ اعضا ء کومسح کردینا کافی نہیں ہے۔

٭ سرکا مسح:1۔ مسح کی جگہ: سرکا اگلا ایک چوتھائی حصہ جو پیشانی کے اوپر واقع ہے۔

2۔ مسح کی واجب مقدار: جس قدر بھی ہوکافی ہے(اس قدر کہ دیکھنے والا یہ کہے کہ مسح کیاہے)۔

3۔ مسح کی مستحب مقدار: چوڑائی میں جڑی ہوئی تین انگلیوں کے برابر اور لمبائی میں ایک انگلی کی لمبائی کے برابر۔

4۔ ضروری نہیں ہے کہ مسح، سرکی کھال پر کیا جائے بلکہ سرکے اگلے حصے کے بالوں پر بھی صحیح ہے۔ اگر سرکے بال اتنے لمبے ہوں کہ کنگھی کرنے سے بال چہرے پر گرجائیں تو سرکی کھال پر یا بالوں کی جڑ پر مسح کیا جائے گا ۔

5۔ سرکے دیگر حصوں کے بالوں پر مسح جائز نہیں ہے اگرچہ وہ بال سرکے اگلے حصے یعنی مسح کی جگہ پر ہی کیوں نہ جمے ہوئے ہوں۔

٭ پا ؤں کا مسح :

1۔مسح کی جگہ: پائوں کا اوپر والاحصہ۔

2۔ مسح کی واجب مقدار: لمبائی میں انگلیوں کے سرے سے پائوں کے اوپر والے حصے

۷۶

کی ابھار تک اور چوڑائی میں جس قدر بھی ہو کافی ہے اگر چہ ایک انگلی کے برابر ہو۔

3۔ مسح کی مستحب مقدار: پائوں کا اوپر والا پورا حصہ ہے۔

سراور پاؤںکے مسح کے مشترک مسائل :

1۔ مسح میں ہاتھ کو سراور پائوںپر کھینچنا چاہئے اور اگر ہاتھ کو ایک جگہ قرار دے کر سریاپائوں کو اس پرکھنچ لیا جائے تو وضو باطل ہے، لیکن اگر ہاتھ کو کھینچتے وقت سریا پائوں میں تھوڑی سی حرکت پیدا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

2۔ اگر مسح کے لئے ہتھیلی میں کوئی رطوبت باقی نہ رہی ہو تو ہاتھ کو باہر کے کسی پانی سے تر نہیں کرسکتے ،بلکہ وضو کے دیگر اعضاء سے رطوبت کو لے کر اس سے مسح کیا جائے گا۔

3۔ ہاتھ کی رطوبت اس قدر ہونا چاہئے کہ سراور پائوں پر اثر کرے۔

4۔مسح کی جگہ (سر اور پائوں کا اوپر والا حصہ)خشک ہونا چاہئے،اس لحاظ سے اگر مسح کی جگہ تر ہو تو اسے پہلے خشک کرلینا چاہئے، لیکن اگر رطوبت اتنی کم ہو کہ ہاتھ کی رطوبت کے اثر کے لئے مانع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

بیان ہونے والے شرائط کے ساتھ وضو صحیح ہے،اور ان میں سے کسی ایک کے نہ ہونے پر وضو باطل ہے۔

وضو کے پانی اور اس کے برتن کے شرائط

1۔نجس او رمضاف پانی سے وضو کرنا باطل ہے،خواہ جانتا ہو کہ پانی نجس یامضاف ہے یا نہ جانتا ہو، یا بھول گیا ہو۔

2۔وضو کا پانی مباح ہونا چاہئے،اس لحاظ سے درج ذیل مواقع پر وضو باطل ہے :

٭ اس پانی سے وضو کرنا،جس کا مالک راضی نہ ہو(اس کا راضی نہ ہونا معلوم ہو )

٭ اس پانی سے وضو کرنا،جس کے مالک کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ راضی ہے یا

۷۷

نہیں۔

٭ اس پانی سے وضو کرنا جوخاص افراد کے لئے وقف کیا گیا ہو،جیسے:بعض مدرسوں کے حوض اور بعض ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے وضو خانے

٭ جب پانی کا محکمہ موٹر کے ساتھ پانی کھینچنے سے منع کردے تو اس صورت میں موٹرلگانا اور اس استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اوراس موٹر سے حاصل شدہ پانی سے وضو کرنا درست نہیں ہے ۔

٭ رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں میں رہنے والے افراد جو سہولیات (پانی وغیرہ )سے استفادہ کرنے کے بعد واجبات ادانہ کریں تو ان کا وضو باطل ہے ۔

3۔اگر وضو کا پانی غصبی برتن میں ہو اور اس سے وضو کر لیا جائے تو وضو باطل ہے۔

اعضائے وضو کے شرائط

1۔دھونے اور مسح کرنے کے وقت ،اعضاء وضو کا پاک ہونا ضروری ہے۔

2۔اگر اعضائے وضو پر کوئی چیز ہو جو پانی کے اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہو یا مسح کے اعضاء پر ہو،اگر چہ پانی پہنچنے میں مانع بھی نہ ہو،وضو کے لئے اس چیز کو پہلے ہٹانا چاہئے۔

3۔ بال پین کی لکیریں،رنگ ،چربی اور کریم کے دھبے،جب رنگ جرم کے بغیر ہوں،تو وضو ء کے لئے مانع نہیںہیں،لیکن اگرجرم دار ہوں تو (کھال پر جسم حائل ہو نے کی صورت میں )اول اسے برطرف کرنا چاہئے۔

کیفیت وضو کے شرائط

1۔ترتیب:وضو کے اعمال ا س ترتیب سے انجام دئے جائیں :

۷۸

٭ چہرہ کا دھونا ٭ دائیںہاتھ کا دھونا ٭ بائیںہاتھ کا دھونا

٭ سر کا مسح ٭ دائیں پیر کا مسح ٭ بائیں پیر کامسح

٭اگر اعمال وضو میں ترتیب کی رعایت نہ کی جائے تو وضو باطل ہے،

2۔موالات،یعنی اعمال وضو کا پے در پے بجالانا ،

3۔اگر وضو کے اعمال کے درمیان اتنا وقفہ کیا جائے کہ جب کسی عضو کو دھونا یا مسح کرنا چاہے تو اس سے پہلے والے وضو یا مسح کئے ہوئے عضو کی رطوبت خشک ہوچکی ہو،تو وضو باطل ہے۔

دوسروں سے مدد حاصل نہ کرنا

1۔جو شخص وضو کو خود انجام دے سکتا ہو،اسے دوسروں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہئے، لہٰذا اگر کوئی دوسرا شخص اس کے ہاتھ اور منھ دھوئے یا اس کا مسح انجام دے ، تو وضو باطل ہے۔

2۔جو خود وضو نہ کر سکتا ہو،اسے نائب مقرر کرنا چاہئے جو اس کا وضو انجام دے سکے، اگر چہ اس طرح اجرت بھی طلب کرے،تو استطاعت کی صورت میں دینا چاہئے، لیکن وضو کی نیت کو خود انجام دے۔

جن چیزوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے :

1۔ نماز اورنمازکے بھولے ہوئے اجزاء کی ادائیگی کے لئے (نماز میت کے علاوہ )

2۔ طواف خانہ کعبہ کے لئے ۔

یاد دہانی :

٭بدن کے کسی بھی حصے کو قرآن مجید کی لکھائی ،خداوندمتعال کے مخصوص اسماء و صفات ،

۷۹

اور بنا بر احتیاط واجب انبیاء اورائمّہ (ع) کے اسماء گرامی کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانا حرام ہے۔

وضو کیسے باطل ہوتا ہے؟ (مبطلات وضو )

1۔انسان سے پیشاب،یا پاخانہ یا ریح خارج ہوجائے۔

2۔نیندآجائے ،جب کان نہ سن سکیں اور آنکھیں نہ دیکھ سکیں۔

3۔وہ چیزیں جو عقل کو ختم کردیتی ہیں،جیسے:دیوانگی،مستی اور بیہوشی انسان پر طاری ہو جائے ۔

4۔عورتوںکواگر خون استحا ضہ آجائے۔

5۔جوچیز غسل کا سبب بن جاتی ہے،جیسے جنابت، مس میت وغیرہ۔

توجہ

عورت اور مرد کے درمیان وضو کے افعال اور کیفیت کے حوالے سے صرف یہ فرق ہے کہ مردوں کے لیے مستحب ہے کہ کہنیوں کو دھو تے وقت باہر سے شروع کریں اور عورتیں اندر سے شروع کریں ۔

سوالات

1۔ جوخود وضو انجام دینے سے معذور ہو، اس کا فرض کیا ہے؟

2۔ وضوکی ترتیب وموالات میں کیا فرق ہے؟

3۔ کن چیزوں کے لئے وضو کرنا واجب ہے ؟

4۔ کیا قرآن کی جلد یا حاشیہ کو بدن کے کسی حصے سے مس کرنے کے لئے وضو کرنا ضروری ہے ؟

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

اکسانے والی ایسی گھٹیا بات کی جسے سن کر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرہ اقدس سے غصہ کے آثار ظاہر ہوئے_ جنگ احد میں وہ بھاگ گئے، حنین میں بھی بھاگ گئے حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطرہ در پیش ہے_ لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور فقط اپنی جان بچانے کی سوچی_ادھر خیبر میں ان کا فرار تو اور بھی باعث تعجب ہے کیونکہ وہاں ان کے ساتھ ان کا بچاؤ کرنے والے بھی تھے_ رہا غزوہ خندق تو وہاں وہ عمرو بن عبدود کے مقابلے پرنکلنے کی جرا ت ہی نہ کرسکے_ادھر جنگ احدمیں جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا_ کون ہے جو اس تلوار کو لے اوراس کا حق ادا کرے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے وہ تلوار مانگی لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کو نہ دی بلکہ اسے ابودجانہ کے حوالے فرمایا_ ان کے علاوہ اور بھی مثالیں ملتی ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے _ان میں سے بعض واقعات کی طرف ہم آئندہ صفحات میں اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_

عجیب بات تو یہ ہے کہ حضرت عمر حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان تینوں نے کسی ایک شخص کو بھی ( میدان جنگ میں ) قتل نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے (دو بدو) جنگ کی ہے ، اور اس بارے میں مذکور واقعات کو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ صحیح نہیں ہیں_ اسی طرح انہوں نے راہ خدا میں کوئی بھی زخم نہیں کھا یا حتی کہ ان کی انگلیوں سے بھی خون کے قطرے تک نہیں ٹپکے جبکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بزرگ صحابہ نے راہ خدا میں مصیبتیں بھی اٹھائیں اور شہید بھی ہوئے_ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنوںمیں تو بہادر بنتے تھے لیکنبوقت جنگ ہرگز بہادر نہیں تھے_

۳_ہم قبل ازیں اشارہ کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے سال وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا پیغام لے کر مکہ والوں کے پاس جانے کی ہمت نہ کرسکے اور بہانہ یہ بنایا کہ اگراس کو ایذاء دی گئی تو بنی عدی اس کی مدد نہیں کریں گے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص مذکورہ کارکردگی اوربہادری کا حامل رہا ہو اسے بنی عدی یا کسی اور کی ضرورت ہی کیاتھی؟

۴_فتح مکہ کے دوران ابوسفیان اور عباس مسلمانوں کے جھنڈوں کا جائزہ لے رہے تھے انہوں نے

۲۸۱

حضرت عمر کو گزرتے دیکھا جبکہ ان کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی اس وقت ابوسفیان نے عباس سے کہا: '' اے ابوالفضل یہ کون ہے جو بات کر رہا ہے؟ ''عباس نے جواب دیا :''یہ عمر بن خطاب ہے''_ابوسفیان بولا : ''واللہ بنی عدی کو ذلت وپستی اور قلت عدد کے بعد عزت مل گئی''_ عباس بولا :''اے ابوسفیان اللہ جس کسی کا مقام جس طریقے سے چا ہے بلند کردیتا ہے اور عمر بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے جس کا مقام اسلام کی بدولت بلند ہوا ہے''_(۱)

۵_یہ لوگ اسی بات پر متفق ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سارے لوگوں سے زیادہ شجاع تھے_ بلکہ (جلدہی ذکر ہوگا کہ) ان میں سے بعض حضرات نے اس بات کا دعوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابوبکر تمام صحابہ سے زیادہ شجاع تھے( جبکہ بعدمیں ہم یہ دیکھیں گے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے) ہجرت کے واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار میں چھپ گئے اور حضرت ابوبکر ڈرکے مارے روتے رہے حالانکہ وہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے جن کی حفاظت اور حمایت کی ذمہ داری خدانے لے رکھی تھی_اور اس بات کے ثبوت میں بہت سے معجزات بھی دیکھنے میں آئے ہیں_ خدانے بھی قرآن میں حضرت ابوبکر کے حزن وغم کا ذکر کیا ہے جبکہ حضرت ابوبکر کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کے بعد سب سے زیادہ بہادر شخص تھے_ پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ دو تو ڈریں لیکن حضرت عمر نہ ڈریں؟

پھر حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ سے مدینہ کیوں نہیں پہنچایا؟

نیز حضرت عمرنے یہ کیسے گوارا کرلیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس قدرمشکلات اور مصیبتیں جھیلتے رہیں یہاں تک کہ بعد میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود ہی مشکلات کے گرداب سے نکلنے میں کامیاب ہوئے بلکہ حضرت عمر میں اتنی شجاعت اور طاقت تھی تو پھر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ اس سورما کو چاہیئےتھا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت وحفاظت کرتا اور قریش کی ایذاء رسانیوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ رکھتا_

ان باتوں کے علاوہ ہم نہیں سمجھ سکے کہ تاریخ نے حضرت حمزہ کے بارے میں اس قسم کے مردانہ اقدام کا

___________________

۱_ مغازی الواقدی ج ۲ ص ۸۲۱ و از کنز العمال ج ۵ ص ۲۹۵ از ابن عساکر اور واقدی_

۲۸۲

ذکر کیوں نہیں کیا جبکہ حضرت حمزہعليه‌السلام اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر تھے_ انہوں نے ہی ابوجہل کا سر پھوڑا تھا اور مسلمانوں کو ان کے قبول اسلام سے سرفرازی حاصل ہوئی تھی_

نیز کیا وجہ تھی کہ حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اوربنی ہاشم کو شعب ابیطالب میں چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے قریب المرگ ہوگئے تھے اور کوئی شخص ان تک کھانے کا سامان پہنچانے کی جرا ت نہ کرتا تھا جبکہ مذکورہ لوگوں کے نزدیک حضرت عمر شعب ابوطالب کے محاصرے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے( اگرچہ ہم قبل ازین قطعی طور پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عمر ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے مسلمان ہوئے تھے)_

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی معقول اور قابل قبول جواب ان لوگوں کے پاس موجود نہیں_

حقیقت

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دھمکی امیرالمومنین علیعليه‌السلام نے اس وقت دی تھی جب وہ ہجرت کر رہے تھے اورضجنان کے مقام پر ان کی سات مشرکین سے مڈبھیڑ ہوگئی تھی_ اس قصے کا تفصیلی ذکر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد امیرالمومنین علیعليه‌السلام کی ہجرت کے بیان میں ہوگا_ لیکن حضرت علیعليه‌السلام کے دشمن ان کی یہ فضیلت برداشت نہ کرسکے خاص کراس حقیقت کے بعد کہ وہ اپنی یہ شجاعت شب ہجرت بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوکر ثابت کرچکے تھے_

وہ حضرت علیعليه‌السلام کے بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونے کا انکار تو نہیں کرسکے اس لئے اپنی عادت کے مطابق انہوں نے آپعليه‌السلام کی دوسری فضیلت پرڈاکہ ڈال کر کسی اورکی طرف اس کی نسبت دے دی_ غار والے واقعے میں حضرت ابوبکرکی شان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا (جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا)_ بلکہ وہ تو سوائے اس کے کسی بات پر راضی نہ ہوئے کہ حضرت عمر کی فضیلت خود حضرت علیعليه‌السلام کی زبانی بیان کی جائے جیساکہ ہمیں اس قسم کے موقعوں پر ان کے اس وطیرہ کا باربار مشاہدہ کرنے کی عادت ہوچکی ہے_ کیونکہ یہ طریقہ دلوں پر زیادہ اثر

۲۸۳

کرتا ہے_ شکوک وشبہات سے دورتراورزیادہ قابل قبول ہوتا ہے_

لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے( نقذف بالحق علی الباطل فیدمغه فاذا هو زاهق ) (۱) یعنی ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں یوں باطل ذلیل ہوکر نابود ہوجاتا ہے_ چنانچہ ایساہی ہوا_

ہجرت مدینہ کا راز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا اور یہ امر خود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کا مقدمہ تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا :''خداوند عالم نے تمہارے لئے غم خوار بھائیوں اور امن وسکون سے رہنے کیلئے گھروں کا بندو بست کیا ہے''_ پس مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی _کچھ چھپ چھپا کرچلے گئے اور کچھ اعلانیہ_ انہوں نے اس مقصد کیلئے اپنے وطن، اپنے تعلقات اور بہت سوں نے مال و دولت اور معاشرتی حیثیت کی قربانی دی_ یہ سب کچھ انہوں نے اپنے دین اور عقیدے کی راہ میں انجام دیا_

بالفاظ دیگر دین اور نظریے کی حیثیت ہر چیز سے زیادہ اہم اور بالاتر ہے_ پس وطن، مال اور جاہ و مقام وغیرہ کی اس وقت کوئی قیمت نہیں رہتی جب دین کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ دین حق کی حفاظت میں ہی وطن، مال اور دیگر چیزوں کی حفاظت کاراز پوشیدہ ہے _اگر دین حق محفوظ نہ رہے تو ہر چیز اگر ایک مصیبت یا بہت سے موقعوں پر انسان کیلئے خطرناک نہیں تو کم از کم زوال پذیر ضرور ہوجاتی ہے_

قریش اور ہجرت

ہجرت حبشہ کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے ہجرت اور اس کے مقابلے میں قریش کی پالیسی سے متعلق تھوڑی سی گفتگو کی تھی_ چنانچہ یہاں اس کا اعادہ نہیں کرتے_یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قریش نے ہجرت

___________________

۱_ سورہ انبیاء آیت ۱۸_

۲۸۴

حبشہ کی اس قدرسخت مخالفت کی تھی یہاں تک کہ مسلمانوں کوارض حبشہ سے واپس لانے کی کوشش کی تو پھر ہجرت مدینہ کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہوگا ؟جبکہ انہیں مسلمانوںکی اس ہجرت میں اپنے مفادات، اپنے وجوداوراپنے مستقبل کیلئے زبردست خطرات نظر آرہے تھے_

چنانچہ قریش نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ہجرت سے روکنے کی کوشش کی_ اگر کوئی مسلمان ان کے ہاتھ لگتا تو وہ اس کو قید کرتے اسے اپنے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش اور اس کے خلاف ظلم وتشددکے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے_ لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی_ دوسری طرف قریش اکثر مسلمانوں کا صفایاکرنے سے بھی اپنے آپ کو عاجز پاتے تھے کیونکہ اکثر مہاجرین کا تعلق مکی قبائل سے تھا اور ان میں سے کسی کا بھی قتل خود قریش کے درمیان خانہ جنگی کا باعث بن جاتا اور اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ یہ کام کسی صورت میں بھی قریش کے مفادمیں نہ تھا_

ہمارے ان عرائض کی تائید ابوسلمہ کے واقعے سے ہوتی ہے چنانچہ جب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ وہاں سے نکلا تو بنی مغیرہ کے بعض مردوں نے اس کا رخ کیا اور اس کی بیوی کو چھین لیا کیونکہ اس کی بیوی کا تعلق ان کے قبیلے سے تھا_ اس بات کے نتیجے میں ابوسلمہ کا قبیلہ بنی عبدالاسد جوش میں آگیا اور انہوں نے سلمہ (ابوسلمہ کے بیٹے) کو اس کی ماں سے چھین لیا_ یہ واقعہ تاریخ اور رجال کی کتابوں میں معروف ہے_(۱)

قریش اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ اس بڑی ہجرت کے بعد خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اس لئے ہجرت کرجائیں گے تاکہ وہاں زیادہ وسیع اور گہری بنیادوں پر مکمل آزادی کے ساتھ قیادت و رہبری اور ہدایت کا عمل انجام دے سکیں اور مدینہ والے بھی تمام تر وسائل کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کریں گے_ بنابر ایں انہیں سوائے اس بات کے کسی اور چیز کی فکر نہ تھی کہ ہر ممکنہ طریقے اور حیلے سے اس عمل کا راستہ روکا جائے_

___________________

۱_ البدایة ج ۳ ص ۱۶۹، السیرة النبویہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۱۲ اور السیرة النبویة ابن کثیر ج ۲ ص ۲۱۵ ، ۲۱۶_

۲۸۵

دوسری فصل

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت

۲۸۶

سازش:

قریش کے رؤسا''دار الندوة'' میں جمع ہوئے_ اس اجتماع میں بنی عبد الشمس، بنی نوفل، بنی عبدالدار، بنی جمح، بنی سہیم، بنی اسد، اور بنی مخزوم وغیرہ کے رؤسا موجود تھے_انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی مجلس میں کوئی تہامی شامل نہ ہو کیونکہ تہامیوں کی ہمدردیاں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں_(۱)

انہوں نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ ان کے درمیان ہاشمیوں یا ان سے مربوط افراد کا کوئی جاسوس موجود نہ ہو_(۲)

روایات کے مطابق ابلیس بھی نجدی شیخ کی صورت میں ان کے درمیان موجود تھا(۳) _ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے_ بعض شرکاء نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوہے میں جکڑ کر قید کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان کو یہ خطرہ نظر آیا کہ کہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مددگار آپ کو چھڑا نہ لیں_ پھر یہ تجویز پیش ہوئی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وطن سے نکال کر کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے لیکن اس میں یہ خامی دیکھی کہ اس سے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے دین کی اشاعت میں مدد مل سکتی ہے_ آخر کار ابوجہل یا شیطان کی تجویز کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ ہر قبیلے سے ایک مضبوط اور باہمت جوان چن لیا جائے جو اپنی قوم میں شریف النسب، صحیح النسب اور ممتاز ہو_ ان میں سے ہر ایک کوایک ایک شمشیر آبدار تھمائی جائے تاکہ وہ اپنی تلواریں لیکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور ہوں اور مل کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کریں_ اس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوجائیں گے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کی ذمہ داری سارے قبائل میں تقسیم ہوجائے گی _ کیونکہ بنی عبد مناف ان سب قبائل کا مقابلہ نہیں کرسکتے نتیجتاً وہ دیت قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے جو تمام قبائل مل کر انہیں دیں گے اور یوں معاملہ صاف ہوجائے گا_

___________________

۱،۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۱ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۵ نیز رجوع کریں نور الابصار ص ۱۵_

۳_ تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۶۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۵ نیز تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۱ و ۳۲۲_

۲۸۷

واضح ہے کہ ان دس افراد کیلئے جو شرائط رکھی گئیں تھیں ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی قبیلہ دوسرے قبیلے کو اس امرمیں تنہا نہ چھوڑے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ امر قریش پر ضرب لگانے کیلئے بنی ہاشم کی قوت میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا خواہ وہ ضربت کتنی ہی محدود پیمانے پر کیوں نہ ہوتی_

اس کے علاوہ یہ شرائط اس بات کا باعث بنتیں کہ اس جرم کے ارتکاب کیلئے آمادہ ہونے والے زیادہ اطمینان اور شجاعت کے ساتھ اس خطرناک مہم کو انجام دیتے جس میں شک وتردید اور بزدلی کی کوئی گنجائشے باقی نہ رہتی_

بہرحال خدانے وحی کے ذریعے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس سازش سے باخبر کیا اور یہ آیت نازل فرمائی: (واذ یمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون و یمکر اللہ واللہ خیرالماکرین)(۱) یعنی جب کافروں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف سازش کی تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قید کریں یا قتل کریں یا نکال باہر کریںتو وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے_ خدائی مکر کسی دوسرے کی چال کو پوشیدہ طریقہ سے ناکام بنانے والی تدبیر کا نام ہے_

علیعليه‌السلام کی نیند اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت:

مورخین کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو قریش نے منتخب کیا تھا وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے دروازے پر جمع ہوئے یعنی بعض روایات کی بنا پر عبد المطلب کے دروازے پر جمع ہوئے(۲) اور گھات لگا کر بیٹھ گئے اور آپکے سونے کا انتظار کرنے لگے وہ افراد یہ تھے: حکم ابن ابی العاص، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن حارث، امیہ بن خلف، زمعة بن اسود، ابولہب، ابوجہل، ابوالغیطلہ، طعمہ بن عدی، ابی ابن خلف، خالد بن ولید، عتبہ، شیبہ، حکیم بن حزام، اور حجاج کے بیٹے نبیہ و منبہ_(۳)

___________________

۱_ سورہ انفال آیت ۳۰ _

۲_ بحار ج ۱۹ ص ۷۳ از الخرائج والجرائح

۳_ ان کے ناموں کا ذکر السیرة الحلبیة ج ۲ و بحارالانوار ج ۱۹ ص ۷۲ و ۳۱ اور مجمع البیان وغیرہ میں کہیں مکمل طور پر اور کہیں جزوی طور پر ہوا ہے _

۲۸۸

یوں قریش نے اپنے ان پندرہ قبائل میں سے دس یا پندرہ افراد بلکہ اس سے بیشتر کا انتخاب کیا (بنابر اختلاف اقوال) تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوایک ساتھ وار کر کے قتل کر دیں_ ایک ضعیف قول کی بنا پر ان کی تعداد سوتھی(۱) لیکن ہماری نظر میں یہ روایت حقیقت سے دور ہے کیونکہ دیگر روایات کی مخالف ہے_

خلاصہ یہ کہ وہ جمع ہوگئے اور اللہ نے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے مکر سے آگاہ فرمایا_

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علیعليه‌السلام کو قریش کے منصوبے سے آگاہ فرمانے کے بعد حکم دیا کہ وہ رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سو جائیں_ حضرت علیعليه‌السلام نے عرض کیا ''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میرے وہاں سونے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچ جائے گی''_

فرمایا ہاں_ یہ سن کر حضرت علیعليه‌السلام خوشی سے مسکرائے اور زمین پر سجدہ ریز ہوگئے تاکہ اللہ کا شکرادا کریں_ یوں وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بستر پر سوگئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حضرمی چادر اوڑھ لی_ اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ رات کے پہلے حصے میں خارج ہوئے جبکہ قریش کے افراد گھر کے اردگرد گھات لگائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منتظر بیٹھے تھے_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ آیت پڑھتے ہوئے نکلے( وجعلنا من بین ایدیهم سدا ومن خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لایبصرون ) (۲) یعنی ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے اب انہیں کچھ نہیں سوجھتا_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دست مبارک میں ایک مشت مٹی تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ مٹی ان کے سروں پر پھینک دی_ اور ان کے درمیان سے گزرگئے_ اور انہیں احساس تک نہ ہوا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غار ثور کی راہ لی_

ادھر امیرالمؤمنینعليه‌السلام سوئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر آئے اور کہا :''اے اللہ کے رسول''_ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ سونے والے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے فرمایا :''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ چاہ میمونہ کی طرف

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۸۰ اور نور الابصار ص ۱۵

۲_ سورہ ی س آیت ۹ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۰_۸۱

۲۸۹

چلے گئے ہیں پس ان کی خدمت میں پہنچ جاؤ''_ چنانچہ حضرت ابوبکر چلے گئے اور حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے _(۱)

کہتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت علیعليه‌السلام کو پتھر مارنے شروع کئے جس طرح وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مارتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم درد سے تڑپتے اور پیچ وتاب کھاتے رہے_ آپ نے اپنے سر کو کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اورصبح تک اس سے باہر نہ نکالا_ پھر مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے_ جب حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو تلوار سونتے اپنی طرف آتے

___________________

۱_ آخری جملوں کیلئے رجوع کریں مناقب خوارزمی حنفی ص ۷۳ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۳۳ و تلخیص مستدرک (ذہبی) حاشیہ کے ساتھ ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے، مسند احمد ج ۱ ص ۳۲۱ و تذکرة الخواص (سبط ابن جوزی) ص ۳۴، شواہدالتنزیل ج ۱ ص ۹۹_۱۰۰،۱۰۱، تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰، تفسیر برہان ج ۱ ص ۲۰۷ ابن صباغ مالکی کی کتاب فصول المہمة ص ۳۰، و نسائی کی خصائص امیرالمومنین مطبوعہ نجف ص ۶۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵ مجمع الزوائد ج ۹ _ص ۱۲۰ از احمد (اس کے سارے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں سوائے ایک راوی کے جو ثقہ ہے و از طبرانی درکبیر و اوسط_ بحار ج ۱۹ ص ۷۸_۹۳ از طبری و احمد، عیاشی اور کفایة الطالب، فضائل الخمسة ج ۱ ص ۲۳۱، ذخائر العقبی ص ۸۷ اور کفایة الطالب ص ۲۴۳ اس کتاب میں مذکور ہے کہ ابن عساکر نے اسے اربعین طوال میں ذکر کیا ہے_

نیز رجوع کریں : الامام علی بن ابیطالب در تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق المحمودی ج ۱ ص ۱۸۶ و ۱۹۰ محمودی نے اسے اپنے حاشیے میں احمد بن حنبل کی کتاب الفضائل (حدیث نمبر ۲۹۱) نیز غایة المرام (ص ۶۶) سے طبرانی ج ۳ (ورق نمبر ۱۶۸ ب) کے واسطے سے نقل کیا ہے علاوہ بریں کفایة الطالب کے حاشیے میں ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۳ سے نقل ہوا ہے_ رہے آخری جملے تو وہ احادیث و تاریخ کی مختلف کتب میں موجود ہیں_

بحار ج ۱۹ ص ۶۱ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱ میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر اور ہند بن ہالہ کو حکم دیا کہ وہ غار کے راستے میں ایک معینہ مقام پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انتظار کریں_ اور بحار ج ۱۹ ص ۷۳ میں الخرائج و الجرائح سے منقول ہے حضور روانہ ہوئے جبکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھ رہے تھے_ پھر حضرت ابوبکر کو دیکھا جو رات کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں نکلے تھے_ وہ قریش کے منصوبے سے آگاہ ہوچکے تھے چنانچہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوبکر کو اپنے ساتھ غار کی طرف لے گئے_

اگر اس بات کو صحیح تسلیم کرلیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے منصوبے سے کیوں آگاہ نہیں کیا؟ مگر یہ کہ کہا جائے وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اطلاع دینے آئے تھے_ اس سے بھی اہم سوال یہ کہ قریش نے حضرت ابوبکر کو اپنے منصوبے سے کیونکر آگاہ کیا جبکہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ معمولی سے روابط رکھنے والے سے بھی اس کو چھپانے کی زبردست کوشش کرتے تھے جبکہ دیار بکری وغیرہ کا صریح بیان اس سے قبل گزر چکا ہے_

۲۹۰

دیکھا جبکہ خالد بن ولید آگے آگے تھا تو حضرت علیعليه‌السلام اس پرجھپٹ پڑے اور اس کے ہاتھ پر مارا خالد بچھڑے کی طرح اوپر نیچے چھلانگیں لگانے اور اونٹ کی طرح بلبلانے لگا_

آپعليه‌السلام نے اس کی تلوار چھین لی اورمشرکین پر حملہ آور ہوئے_ مشرکین چوپایوں کی طرح خوفزدہ ہو کر گھرسے باہر بھاگ نکلے_ پھر انہوں نے غورسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو حضرت علیعليه‌السلام ہیں_ وہ بولے'' کیا تم علیعليه‌السلام ہو؟''_ انہوں نے فرمایا:'' ہاں میں علیعليه‌السلام ہوں'' مشرکین نے کہا: ''ہمیں تم سے کوئی غرض نہ تھی_ یہ بتاؤ کہ تمہارا ساتھی کہاں گیا؟'' فرمایا :''مجھے کوئی خبر نہیں''_(۱)

قریش پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں

قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئےور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تعاقب میںسخت جان اور تا بعدار سواریوں پر سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے_ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشانات دیکھتے گئے_ یہاں تک کہ کھوجی (جو قدموں کے نشانات معلوم کرنے کا ماہر ہوتا ہے) اس جگہ پہنچا جہاں ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہوئے تھے_ اس نے مشرکین کو بتایا کہ وہ جس شخص کو تلاش کر رہے ہیں یہاں سے ایک اور شخص بھی اس کے ساتھ ہوگیا ہے_ بہرحال وہ قدموں کے نشانات دیکھتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے لیکن اللہ نے انہیں لوٹا دیا کیونکہ مکڑی نے غار کے دھانے پر جالا بن لیا تھا_ اور ایک جنگلی کبوترنے غار کے اندر داخل ہونے کے راستے میں ہی انڈے دے دیئے تھے اور اسی طرح کی دوسری باتیں جو تاریخ میں مذکورہیں_ چنانچہ ان لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ یہ غار متروکہ ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہوا وگرنہ مکڑی کا جالاکٹ جاتا اور انڈے ٹوٹ جاتے، اور جنگلی کبوتر بھی غار کے دھانے پر بسیرا نہ کرتا(۲) _

ادھر امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے رات تک انتظار فرمایااور پھر رات کی تاریکی میں ہند ابن ابی ہالہ کو ساتھ لیکر چلے گئے یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس غار میں داخل ہوگئے_ پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ہند کو حکم دیا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور

___________________

۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۲_۸۳_

۲_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۸ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۷ اور البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۱ و ۱۸۲_

۲۹۱

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھی کیلئے دو اونٹ خرید کرلائے_

اس وقت حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں نے اپنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے دو سواریوں کا بندوبست کر رکھا ہے آپ انہیں ساتھ لیکر یثرب کا سفر کیجئے''_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' قیمت اداکئے بغیرمجھے ان دونوں کی ضرورت ہے نہ ان میں سے ایک کی''_

ابوبکر نے عرض کیا :''پس آپ قیمت دیکر ان کو لیجئے''_

آپ کے حکم سے حضرت علیعليه‌السلام نے حضرت ابوبکر کو قیمت ادا کردی(۱) _

اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داریاں نبھانے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتیں ادا کرنے کی نصیحت کی کیونکہ قریش اور حج کے ایام میں مکہ آنے والے عرب حجاج اپنا مال و متاع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس بطور امانت رکھتے تھے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام مکے میں پکار پکار کر یہ اعلان کریں ''جس کسی کی کوئی امانت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہو وہ آکر ہم سے وصول کرے''_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس وقت یعنی جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تعاقب ختم ہوچکا تو حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا:''یا علیعليه‌السلام وہ لوگ آپ کے خلاف کوئی ایسی حرکت نہ کرپائیں گے جو آپ کو ناپسند ہویہاں تک کہ آپ میرے پاس پہنچ جائیں گے_ پس میری امانتیں کھلے عام ادا کرو، میں اپنی بیٹی فاطمہ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں اور آپ دونوں کواللہ کے حوالے کرتا ہوں اور اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں کی حفاظت کا طلبگار ہوں''_

ہجرت کا خرچہ

پھر حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپعليه‌السلام کو حکم دیا کہ اپنے اور فواطم (فاطمہ کی جمع ہے) یعنی فاطمہ زہراعليه‌السلام ، فاطمہ بنت اسد (مادر حضرت علیعليه‌السلام ) اور فاطمہ بنت زبیر جن کا ذکر ہجرت علیعليه‌السلام کے بیان میں ہوگااور ان کے علاوہ بنی ہاشم کے ان افراد کیلئے جو ہجرت کا عزم رکھتے ہوںسواریاں خرید لیں_

___________________

۱_ بحارالانوار ج۱۹ ص ۶۲ ، امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت ابوبکر سے قیمت ادا کئے بغیر سواریوں کا نہ لینے کا واقعہ سیرت النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لکھی جانے والی تقریباً تمام کتابوں میں ملے گا_ نیز مراجعہ ہو : وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷_

۲۹۲

ابو عبیدہ کا بیان ہے: میں نے ابوعبداللہ (یعنی ابن ابی رافع) سے کہا کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس قدر خرچ کرنے پر قادر تھے؟

اس نے جواب دیا میرا باپ مجھ سے یہی بات (جو تونے بتائی) نقل کیا کرتا تھا اور میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا_ میرے باپ نے جواباً کہا_ تو پھر حضرت خدیجہ (س) کا مال کہاں چلاگیا_ میرے باپ نے کہا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایاہے : ''خدیجہ کے مال نے مجھے جتنا فائدہ پہنچایا ہے کسی اور مال نے نہیں پہنچایا'' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ حضرت خدیجہ کے مال سے لوگوں کا قرض ادا کرتے اور قیدیوں کو چھڑاتے تھے، ضعیفوں کی مدد کرتے تھے، سختیوں کے وقت خرچ کرتے تھے، مکہ میں اپنے فقیر اصحاب کو سہارا دیتے تھے اور ہجرت کا ارادہ رکھنے والوں کی بھی اعانت فرماتے تھے(۱) _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تین دن غار کے اندر گزارنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_(۲)

امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بستر پر جورات گزاری اس کا تذکرہ آپعليه‌السلام نے یوں کیا ہے_

وقیت بنفسی خیر من وطا الحصا---- ومن طاف بالبیت العتیق وبالحجر

محمد لما خاف ان یمکروا به---- فوقاه ربی ذوالجلال من المکر

وبت اراعیهم متی ینشروننی---- وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر

وبات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله فی الغار آمنا---- هناک وفی حفظ الاله وفی ستر

اقام ثلاثا ثم زمت قلائص---- قلا ئص یفرین الحصا ایما یفری

اشعار کاترجمہ:

میں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اس شخص کی حفاظت کی جوزمین پر چلنے والوں اور کعبہ و حجر اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر تھا_ جب محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دشمنوں کی چال سے خطرہ محسوس ہوا تو خدانے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے مکر سے محفوظ رکھا_ میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے قتل کر دیں گے_ میں نے

___________________

۱ _ لیکن اسی روایت کو خواہشات نفسانی کے پیروکاروں نے روایت کرکے حضرت خدیجہ کے نام کو حضرت ابوبکر کے نام سے بدل دیا ہے تا کہ اس کے لئے ایک فضیلت ثابت کرسکیں جس کی کوئی بھی روایت، نص اور کوئی حقیقت تایید نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس ،واقعات اس کے برخلاف دلالت کرتے ہیں_

۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۱_۸۲ و البحار ج ۱۹ ص ۶۱_۶۲_

۲۹۳

اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار میں امن وسکون کے ساتھ اور خدا کی پناہ میں رات گزاری، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غار میں تین دن گزارے پھر جوان اونٹوں پر سفر شروع ہوا_ یہ اونٹ ریگزاروں کو اس طرح طے کر رہے تھے جو دیکھنے کے قابل تھا_

جذبہ قربانی کے بے مثال نمونے

علامہ سید ہاشم معروف الحسنی کہتے ہیں ''جان نثاری وقربانی کی تاریخ کا عمدہ ترین قصہ یہیں سے شروع ہوتا ہے_ ٹھیک ہے کہ بہادر اور سورما لوگ دشمن کے سامنے جنگوں میں ڈٹ جاتے ہیں اور اپنے ہاں موجود اسلحے اور سامان جنگ کے ساتھ اپنے حامیوں اور مدد گاروں کے جھرمٹ میں لڑتے ہیں_ کبھی میدان جنگ ہی ان کو ثابت قدم رہنے پر مجبور کرتا ہے، اور وہ بھی اکیلے نہیں، لیکن کسی انسان کا اپنی مرضی اور خوشی سے کسی اسلحے یا سامان کے بغیر موت کے مقابلے میں یوں جانا گویا وہ کسی نرم ونازک بدن والی خوبرو عورت سے معانقہ کیلئے نکلا ہو اور ایسے بستر پر سونا جو خطرات میں گھرا ہوا ہو_ حالانکہ ایمان، خدا پر توکل اوراپنے رہبر کی سلامتی کی آرزو کے علاوہ اس کے ہمراہ کچھ بھی نہ ہوجیساکہ حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپعليه‌السلام کے ابن عم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو اپنے بستر پر رات گزارنے کیلئے کہا تاکہ وہ خود قریش کی سازشوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ وہ بات ہے جس کی مثال بہادری اور مردانگی کی تاریخ میں نہیں ملتی اور عقیدہ و ایمان کی راہ میں لڑی جانے والی جنگوں میں کسی نے اس کا ثبوت نہیں دیا_ پھر کہتے ہیں کہ شب ہجرت علیعليه‌السلام کا سونا پہلا واقعہ نہ تھا_ شعب ابوطالب میں محاصرے کے دوران بھی ابوطالبعليه‌السلام علیعليه‌السلام کو بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلایا کرتے تھے تاکہ اگر کوئی قاتلانہ اقدام ہو تو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بجائے علیعليه‌السلام کو نقصان ہو_ انہوں نے اس کام سے کبھی بھی گریز نہ کیا بلکہ وہ برضا و رغبت ایسا کرتے تھے_(۱)

___________________

۱_ سیرت المصطفی ص ۲۵۲_۲۵۰_

۲۹۴

بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا اور مسئلہ خلافت

یہاں تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا ناصبی اور علیعليه‌السلام و محبان علیعليه‌السلام کا دشمن ہونا مشہور ہے، یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کا بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا ان کی خلافت کا واضح اشارہ ہے_ چنانچہ وہ کہتا ہے:

''شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کے اس اقدام کو بعد میں ان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دیکھنے والے کو اس بات کے واضح اشارات ملتے ہیں کہ اس رات جس منصوبے پر عمل ہوا وہ حضرت علیعليه‌السلام کے حوالے سے کوئی اتفاقی یا عارضی بات نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے خاص آثار ونتائج کی حامل حکمت کارفرما تھی_ بنابریں ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ:

کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا اس رات حضرت علیعليه‌السلام کو اپنی شخصیت کے روپ میں پیش کرنا اس بات کا اشارہ نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علیعليه‌السلام کے درمیان ایک قسم کی یگانگت موجود ہے جو ان دونوں کے درمیان موجود رشتہ داری والی یگانگت سے ما وراء ہے_ کیا ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حضرت علیعليه‌السلام ہی وہ ہستی ہیں جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسند پر بیٹھنے کے لئے آمادگی رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی نمائندگی کرنے والے اور آپ کے قائم مقام ہیں_ میرا خیال ہے کہ کسی نے ہم سے قبل مذکورہ واقعے کا اس زاویے سے جائزہ نہیں لیا یہاں تک کہ حضرت علیعليه‌السلام کے شیعوں نے بھی اس نکتے کو ہماری طرح نہیں سمجھا'' _(۱)

قریش اور علیعليه‌السلام :

۱_آخر میں ہم اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قریش نے حضرت علیعليه‌السلام پر اپنے چچا زاد بھائی کی جگہ بتانے کے سلسلے میں زورنہیں دیا اور اصرار سے کام نہیں لیا، اس کی وجہ بس یہی تھی کہ وہ اس کام کو

___________________

۱_ عبدالکریم خطیب کی کتاب علی ابن ابیطالب ص ۱۰۵ کی طرف رجوع کریں _

۲۹۵

بے فائدہ سمجھتے تھے کیونکہ جو شخص اس حدتک مخلص ہو اوراس طرح کی بے مثال اور تاریخی قربانی دے وہ ان کے سامنے ہرگز اپناراز فاش نہیں کرسکتا تھا _اس راز کی حفاظت کیلئے تو اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا_ اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیعليه‌السلام کو چھوڑ دیا اور مایوسی کے عالم میں وہاں سے چلے گئے_(۱)

۲_پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں علیعليه‌السلام کا طرزعمل انسانیت کااعلی ترین نمونہ تھا_انہوں نے لوگوں کو اخلاص وقربانی کے مفہوم اورایمان کی حقیقت سے روشناس کرایاکیونکہ وہ اپنی شہادت کو ہر صورت میں قطعی دیکھ رہے تھے_ ان کے خیال میں وہ یا تو اس لئے قتل ہوجاتے کیونکہ مشرکین انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھ رہے تھے یا پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، (جنہوں نے قریش کے باطل نظریات کو جھٹلایا تھا، ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی تھی اور ان کی صفوں کو پراکندہ کر دیا تھا) کو بچانے کے جرم میں بطور انتقام قتل کردیئے جاتے_ قریش اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ علیعليه‌السلام کو کس قدر چاہتے ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاں ان کا کیا مقام ہے_ ان کا قتل حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچازاد بھائی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جان نچھاور کرنے والے مخلص انسان کا قتل تھا_(۲) اور حقیقت کے واضح ہونے کے بعد ان کا حضرت علیعليه‌السلام کو چھوڑ دینا یا تو خوف کے سبب تھا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ حضرتعليه‌السلام نے خالد بن ولید کا کیا حشر کیا تھا _ اور یا اس وجہ سے تھا کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ پہلے اپنے اصلی اور اہم دشمن کا کام تمام کردیں، ان کو ختم کرنے کے لئے ابھی وقت بہت ہے_

قریش اور شب ہجرت علیعليه‌السلام کا کارنامہ

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''ہجرت کی رات حضرت علیعليه‌السلام نے قریش کو جو کھلا چیلنج دیا اور ان کو جس طرح ذلیل کیا، نیز اس کے بعد تین دن تک جس طرح ان کے درمیان چلتے پھرتے رہے ،اس داغ کو قریش کبھی بھی نہ بھلا سکتے تھے_

___________________

۱_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین مصنفہ محمد صادق صدر ص ۱۰۶_۱۰۵_

۲_ رجوع کریں حیات امیرالمومنین ص ۱۰۷ اور ۱۰۸ _

۲۹۶

اگر اس دن ان کو قتل کرنے میں قریش کو ایسے فتنے کا خطرہ محسوس نہ ہوتا جو ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیتا اور دوسری طرف سے وہ یہ دیکھ لیتے کہ اس طرح وہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں اپنے مقصد کو بھی حاصل نہیں کرسکیں گے تو وہ انہیں قتل کر کے ضرور دل کی بھڑاس نکال لیتے _یوں وہاں قریش ان سے دست بردار ہوئے لیکن بعد میں ان کا حساب چکانے کیلئے روز شماری کرنے لگے''_(۱)

جی ہاں درحقیقت یہ ایک سخت حساب تھا جو حضرت علیعليه‌السلام کو چکانا تھا_ خصوصاً اس بات کے پیش نظر کہ انہوں نے بعد میں ان کے بزرگوں اور سرداروں کو خاک مذلت میں ملادیا تھا اور اپنے چچازاد بھائی کے شمشیرزن بازو کی حیثیت سے بوقت ضرورت کبھی یہاں اور کبھی وہاں متکبر اور جابر لوگوں پر کاری ضرب لگاتے رہے تھے_ قریش نے حضرت علیعليه‌السلام سے مذکورہ سخت حساب چکانے کا سلسلہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعدہی شروع کردیا، یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل وکفن اور دفن سے بھی پہلے_

موازنہ

امیرالمومنینعليه‌السلام کے بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رات گزارنے کے نتیجے میں قریش نے یہ موقع گنوادیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جو سازش تیار کی تھی وہ ناکامی سے دوچار ہوئی_ اس کے علاوہ اس عمل سے دین اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور کلمہ حق کو فروغ حاصل ہوا_

اس واقعے کا ذبح اسماعیل علیہ السلام پر قیاس کرنا صحیح بات نہیں ہے کیونکہ حضرت اسماعیلعليه‌السلام نے تو ایک مہربان اور شفیق باپ کے آگے سرتسلیم خم کیا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے اپنی جان ان دشمنوں کے حوالے کردی جو ان پر رحم نہ کرتے اور جن کے دل کی بھڑاس ان کا خون بہائے بغیر نہیں نکل سکتی تھی_ نیز ان کا غصّہ جان لیوا شماتت، سخت ترین تشدد اور ایذاء رسانی کے بغیر نہ نکل سکتا تھا_

اسکافی نے جاحظ کی تصنیف عثمانیہ کے جواب میں اس واقعے پر تبصرہ کیا ہے_ (اس کا کلام شرح نہج

___________________

۱_ علی ابن ابیطالب (از عبدالکریم خطیب) ص ۱۰۶ _

۲۹۷

البلاغہ معتزلی کی تیرہویں جلد میں مرقوم ہے)_ وہاں رجوع کریں اگر ہم اس نکتے کی تشریح کرنے بیٹھیں تو ہماری بحث طولانی ہوجائے گی_

ارادہ الہی

کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کچھ اس طرح سے فرماتا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار میں چھپنے پر مجبور نہ ہوتے اور نہ حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سونا پڑتا_ وہ یوں کہ اللہ اپنی قدرت کی واضح نشانیوں اور حیرت انگیز معجزات کے ذریعے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرتا_

اس کا جواب منفی ہے کیونکہ خدا کی منشا یہ ہے کہ سارے امور حسب معمول اور طبیعی اسباب کے مطابق انجام پائیں (ہاں انسان کی طاقت سے باہر معاملات میں اس کی رہنمائی اور عنایات شامل حال ہوں) تاکہ یہ ہم سب کیلئے بھی نمونہ عمل اور مفید درس ثابت ہوں_ ہم بھی دین وعقیدے کی راہ میں جدوجہد کریں اور آسمانی معجزات کے منتظر نہ رہیں_ اسی صورت میں اللہ کا وعدہ (لینصرن اللہ من ینصرہ) اور( ان تنصروا الله ینصرکم ) عملی شکل اختیار کرے گا_

مصلحت اندیشی اور حقیقت

مشرکین مکہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہوئے وہ یہ کہ ایک طرف تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو جھٹلاتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تہمتیں لگاتے تھے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجنون، ساحر، شاعر اور کاہن کہہ کر پکارتے تھے_ لیکن دوسری طرف اپنے اموال اور اپنی امانات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سپرد کرتے تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو معتمد اور امین سمجھتے تھے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچازاد بھائی (علیعليه‌السلام ) کو مکہ چھوڑ جانے پر مجبور ہوئے کہ وہ تین دن تک اعلان عام کرتے رہیں تا کہ لوگ آکر اپنی امانتیں واپس لے جائیں_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت پر ان کا ایمان نہ لانا ہٹ دھرمی اور تکبر و عناد کے باعث تھا، نہ اس لئے کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام کو دلی طور پر غلط سمجھتے تھے ارشاد

۲۹۸

الہی ہے:( وجحدوا بها واستیقنتها انفسهم ) (۱) _

یعنی انہوں نے آیات الہی کا انکار کیا جبکہ قلبی طورپراس کو مانتے تھے_ بالفاظ دیگر وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی دعوت کے اس لئے منکر تھے کہ وہ بزعم خود اس طرح سے اپنے ذاتی مفادات اور مستقبل کی حفاظت کرنا چاہتے تھے یا اس لئے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کرنے کے خواہشمند تھے یا اپنی امتیازی حیثیت اور مراعات کی حفاظت کے طالب تھے یا حسد اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایسا کررہے تھے_

حضرت علیعليه‌السلام کو ان حساس اور خطرناک حالات میں لوگوں کی امانتیں لوٹانے کیلئے مکے میں چھوڑ جانا ایک ایسے انسان کامل کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جو اپنے اصولوں پر کاربند اور اپنے نظریات کا پاسبان ہو _ایسا کامل انسان جو خدا کے معین کردہ راستے سے بال برابر بھی منحرف نہ ہوتا ہو اور بہانوں کی تلاش میں نہ پھرتا ہو_ بلکہ وہ اپنے عظیم اصولوں اور مقاصد کیلئے جیتا ہو اور اصولوں کو ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ قرار نہ دیتا ہو_

ہاں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امین کہہ کر پکارتے تھے اور یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واضح ترین صفات میں سے ایک صفت تھی حتی بعثت سے پہلے بھی_ یہی امین ہیں جو اب ان کی امانتیں واپس کررہے ہیں جبکہ وہ ان کے خون کے درپے ہیں لیکن یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کی امانتوں کا خیال رکھنے سے نہیں روکتی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے_ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی امانتیں واپس نہ کرتے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پورا پورا بہانہ حاصل تھا_

ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس عظیم صفت کی کوئی خاص اہمیت اہلسنت کی احادیث کے اندر دیکھنے میں نہیں آتی حالانکہ یہ صفت (حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانتداری) انسانیت کی بنیاد ہے_ بالکل اسی طرح جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے بعد سے احادیث ''حکمت'' خلفاء کی خواہش پر عمداً محو کی گئیں_ وگرنہ وہ چیز کہاں گئی جس کے بارے میں خدانے سات آیتوں میں یہ خبردی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داری لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینا ہے_ ہم جانتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں کو کتاب کی تعلیم دی جس کی خدانے حفاظت کی اور اب تک باقی

___________________

۱_ سورہ نمل آیت ۱۴

۲۹۹

ہے_( انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون ) (۱) یعنی ہم نے ہی قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں_

لیکن ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ حکمت کہاں گئی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امت کو سکھائی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ علماء و محدثین کے نزدیک ان میں سے فقط تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ احادیث رہ گئی ہیں وہ بھی فقہ احکام، اخلاق اور حکمت سب کے بشمول(۲) _ ان میں سے کتنی احادیث فقط حکمت سے مربوط ہیں اس کا حشر آپ کے سامنے ہے_

البتہ ہم آئمہ معصومینعليه‌السلام کی احادیث میں کثیر مقدار میں حکمت کی باتیں پاتے ہیں_ ان کی ایک بڑی تعداد امانت اور صداقت کے متعلق ہے_ انہوں نے امانت کو عملی اخلاق کا بنیادی محور قرار دیا ہے اور اسے زبردست اہمیت دی ہے_

زمین اور عقیدہ

ہم نے دیکھ لیا کہ اسلام کی نظر میں انسان کا حقیقی مقصد زمین نہیں بلکہ خود اسلام ہے کیونکہ جب کسی سرزمین پرزندگی گزارنا اور اس کی حفاظت کرنا ذلت وخواری، محرومیت اور عظیم دینی اہداف (جو انسان کی سعادت کا باعث ہیں) کے پورا نہ ہونے کا باعث بنے تو بہتری، اصلاح، مستقبل کی تعمیر اور حقیقی سعادت وعزت کے حصول کے پیش نظر اس سرزمین کو چھوڑ کر کہیں اور جانا چاہیئے_ پس پہلے تو خود انسان اور پھر تمام باقی چیزیں اسلام کی خاطر اور اس کی خدمت کیلئے ہیں_

درس ہجرت

ہجرت کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مسلمانوں پرایک دوسرے کی مدد واجب ہے_ نیز نسلی تعصبات

___________________

۱_ سورہ حجر آیت ۹ _

۲_ مناقب شافعی ج۱ ص ۴۱۹ نیز عن الوحی المحمدی ص ۲۴۳_

۳۰۰

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417